retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Yearly Archive: 2020

منصفانہ دنیا ، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، چودھواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی Fair world, Genesis, Podcast Serial, Episode 14, Valueversity, Shariq Ali

Narration by: Shariq Ali
October 1, 2020
retina

Cultural and economic globalization seems imminent. It results in a fair or even more unfair divide between people and countries is yet to be seen.

 

 

مرکزی کیمبرج کی مصروف سڑک کے فٹ پاتھ پر خوب چہل پہل تھی . ہم لنچ کے بعد سو جانے کی شدید خواہش کی حسرت امیز خاموشی اوڑھے آگے پیچھے چل رہے تھے۔ ٹرمپنگٹن اسٹریٹ پر مڑ کر کچھ ہی دور آگے چلے ہوں گے تو فٹزولیم میوزیم کی با رعب عمارت ھمارے سامنے تھی۔ اٹھارہ سو سولہ سے قائم یہ میوزیم عالمی ثقافتی ورثے کا خزانہ سمیٹے ہوئے ہے. ھم طالب علموں میں اس وجہ سے بے حد مقبول کیونکہ اس میں داخلہ بالکل مفت ہے. پوری دنیا سے جمع شدہ پانچ لاکھ سے زائد نوادرات جو زمانہ قدیم سے لے کر کے آج تک کے موجودہ دور کی عالمی تاریخ اور ثقافت کی بھرپور نمائندگی کرتے ہی. داخلے کی قطار میں کھڑے ہوے تو جیک نے پوچھا. .قدیم انسان کا معاشرتی منظرنامہ کیسا تھا؟.  پروف بولے آغاز تو ایک اکائی کی صورت ہی ہوا تھا ۔ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سال پہلے کے ھمارے جد ہومو سیپینز نے جب افریقہ میں خانہ بدوشی کی زندگی آغاز کی تو معاشی اور ثقافتی رنگا رنگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ وہ تو محض بقا کی جنگ تھی . غذا کی کمی جب ہجرت کی صورت انہیں دوردراز خطوں میں لے گئی تو مختلف انسانی گروہوں کے رہن سہن میں تفریق پیدا ہونی شروع ہوئی. دس ہزار سال پہلے کے زرعی انقلاب کے نتیجے میں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا . بیسویں صدی میں وہ  اس حد تک بڑھا کہ بعض ملکوں میں انسانی عمر کے مساوی عرصے میں ملک کی آبادی دوگنا ہونے لگی۔ دنیا میں موجود آبادی اور وسائل کا تناسب بگڑنے لگا۔ پھر موسمیاتی تبدیلی نے وسائل میں کمی کا رجحان اختیار کیا تو انسانوں اور ملکوں میں معاشی اور ثقافتی تقسیم واضح ہونے لگی۔ شہروں اور دیہات کی زندگی میں یہ  تفریق ابھر کر سامنے آنے لگی.. بیسویں صدی کے آخر میں عالمی تجارت کو آسان بنانے کی غرض سے بہت سے ممالک  نے ایک دوسرے کے ملکوں سے تجارتی طور پر آنے والی مصنوعات کے محصولات کو باہمی رضا مندی سے کم کیا تھا ۔ یہ عالمی معیشت کی جانب پہلا قدم تھا. ہم میوزیم میں داخل ہوے تو رش معمول سے کچھ کم تھا . ویسے تو یہاں دیکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن زن اور اس کی دیکھا دیکھی میری خصوصی توجہ کا مرکز مونے ، وان گوگ ، ریمبراں اور پکاسو کے شاہکار ہوتے ہیں. لیکن اس بار پروف نے ہمیں وین ڈائک  اور کینیلیٹو کے کام کی طرف بھی متوجہ کیا۔ ہال سے نکل کر ہم کیفے میں کچھ دیر سستانے کو بیٹھے تو زن نے پوچھا . تو کیا منصفانہ دنیا کا خواب کبھی حقیقت بن سکے گا؟ بولے. آج کی دنیا حیرت انگیز تبدیلی کا دور ہے . ہم سے پہلے کی کسی انسانی نسل نے وقت اور فاصلے کو اتنی تیزی سے سکڑتے نہیں دیکھا ۔ معیشت کے ساتھ اب ثقافتی فاصلے بھی سکڑ رہے ہیں۔ ایک مشترکہ عالمی ثقافت ھماری زندگیوں میں جگہ بنا چکی ہے۔ کوکا کولا، ٹویوٹا اور ہوواوائی کے استعمال کی طرح ہالی وڈ کی فلمیں اور افریقی موسیقی اب ھم سب کی زندگیوں کا حصہ بنتی چلی جا ریی ہیں. افراد، اشیاء معلومات اور خدمات کا جس تیزرفتاری سے تبادلہ اب ممکن ہے انسانی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی ممکن نہ تھا. انٹرنیٹ اور رابطے کی جدید ٹیکنالوجی نے تو سرمائے اور اشیا کی ترسیل کو اس قدر تیز اور آسان بنا دیا ہے کہ ھم سب عملی طور پر ایک معیشتی اکائی بن چکے ہیں . اب تمام قومیں عالمی معیشت کا حصہ شمار ہوتی ہیں۔  آج ہماری عالمی زبان ہندسے ہیں۔ ہم انسان ایک دوسرے کو بات سمجھانے  کے لیے حروف سے زیادہ ہندسوں کا استعمال کرتے ہیں. آج  دنیا بھر کا نوے فیصد سرمایہ محض الیکٹرانک ڈیٹا ہے اور صرف دس فیصد مادی وجود رکھتا ھے. یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ گلوبلائزیشن مثبت بات  ہے یا منفی..  لیکن بلا شبہ  ھماری دنیا ایک مشترکہ اکائی بننے کی جانب قدم بڑھا رھی ہے۔ ہم عالمی ثقافت کی سمت بڑھ رہے ہیں. گلوبل مارکیٹ اکانومی، عالمی ماحولیاتی خطرات کا سامنا، اور بین الاقوامی طور پر قبول شدہ بیانیے جیسے عالمی انسانی حقوق کا تصور اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آج ہم میں سے بیشتر لوگ پوری دنیا کو ایک اکآئی تصور کرتے ہیں. کیا گلوبلائزیشن منصفانہ دنیا تشکیل دے سکے گی یا بے انصافی میں مزید اضافہ ہو گا یہ بات ابھی واضح نہیں، میوزیم سے باہر نکلتے ہوے ہم  سوو ینیر شاپ کے قریب سے گزرے جس میں بھانت بھانت کی  بہت سی دلچسپ چیزیں موجود تھیں. ہماری  طالب علمانہ تنگدستی نے اس سمت جانے سے گریز کیا۔  غالباً صورتحال بھانپ کر پروف بھی اس سے بے نیاز رھے…. جاری ہے
|     |

Land of wonders Indonesia, Grandpa and me, podcast serial, episode 41, Shariq Ali, Valueversity

Narration by: Shariq Ali
September 24, 2020
retina

Enjoy the glimpse of the largest Muslim country of the world with amazing wildlife and volcanoes

 

 

Queuing at the World Trade Centre on Singapore’s Harbourfront in the morning sun. It was such a pleasant experience. Chinese, Malay, white and Asian all sorts of colours were there like a rainbow. Shortly after, our ferry was sailing on the sea. Our destination was Batam Island, Indonesia, twenty miles away. Purpose of visit for most people was duty-free shopping. And I wanted to have the glimpse of the land of wonders. to encounter the mystery. I planned to return to Singapore tonight. Seventeen and a half thousand islands scattered on either side of the equator. Inhabited islands are only around six thousand. Some of them are large islands such as Java and Sumatra. Many unnamed and uninhabited islands covered with dense forests. A country of rare wild animals, plants and the world’s largest flower Rafflesia. Largest Muslim country in the world. Hundreds of nationalities, languages, customs and a population of 250 million. When we reached Batam, I felt a bit disappointed. Bustling business activity. Pursuing Duty-Free Shopping Sales Agent. Shopping malls full of people and activities all around. I turned to the taxi counter according to my plan. A twenty-two-year-old Malay driver became a guide and driver for the day. Areef was a full-time student but used to become a tourist guide during the holidays. He told me that Archaeologist has found traces of early humans who lived in Java one million years ago. Then these human groups reached other islands. In the sixteenth century, Dutch merchants found these islands ideal for the transit. Then they made it their colony by naming it East Indies. In 1945 we became an independent country. At Areef’s suggestion, we saw the Buddhist temple of Vihara. It was very close to the Central Ferry Terminal. An important temple for Buddhists. There was a statue of Buddha in the big hall. And the goddess of mercy and other statues in the small rooms next door. Also, a small shop with Buddhist items. And the adjoining vegetarian restaurant. Fresh vegetables cooked in coconut milk with light spices mixed and boiled rice on the side. Areef said during the meal. There are several volcanoes in Indonesia, and many continue to erupt. Seventy-five per cent of the world’s volcanoes are here. Jakarta, which is the capital, has a population of 14 million. The rainforests are home to rare wildlife. Lions, leopards, elephants, orangutans, wild rhinos, and Komodo dragons. Agriculture and oil are the two main sources of income. The rupee is their currency. Liking for Badminton is to the point of insanity. Gold Medal is often won in the Olympics and World Cup. There are three mysterious lakes near the mouth of Kelimuto volcano. Their waters sometimes turn green, sometimes red and sometimes black. The combination of volcanic chemicals with water is the cause of this colourfulness… To be continued

 

 

 

|     |

امیری اور غریبی، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، تیرہواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی. The rich and poor divide, GENESIS, PODCAST SERIAL EPISODE 13. Valueversity. Shariq Ali

Narration by: Shariq Ali
September 17, 2020
retina

Is it God`s will? Or if the pie is static, and someone have a big part of it, then he/she must have taken somebody else’ slice?

 

 

ارادہ توکیمبرج کی گلیوں میں بے مقصد گھومنے کا تھا جس کا اپنا ہی لطف ہے۔  ساتھ ہی کوشش یہ بھی تھی کہ سرسری طور پر ہی سہی لیکن پروف کو یہاں کے مشہور تیرہ کالجوں میں سے کم از کم چند کے سامنے سےضرور گزارا جاے. قدیم طرز تعمیر کی نمایندہ عمارتوں کے حسن اور تاریخ کا اتنا حسین امتزاج کم ہی شہروں کے نصیب میں ہو گا جتنا کیمبرج کو حاصل ہے . کسی بھی سمت چلے جائیں ایک سے بڑھ کر ایک حسین طرز تعمیر. پھر دریا کے اس قدر قریب سے گزرنے سے اس کی گلیوں اور کوچہ و بازار کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے. کیم دریا عبور کرتے بیضوی پل سے گزر کر ھم تراشیدہ پتھروں کے فرش والی تنگ گلی سے گزرے۔  یہ گلی کنگز کالج کے کیتھڈرل کی دیوار کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی کوئی ڈیڑھ سو گز بعد ہمیں ایک کشادہ چوراہے تک لے آئی۔ یہاں سیاحوں کی چہل پہل قابل دید تھی۔ ھم کچھ دیر نکھری دھوپ اور چہل پہل کا لطف اٹھانے کے لئے کتھیڈرل کی دیوار کے سامنے بنے چھوٹے سے چبوترے پر بیٹھ گئے تو جیک نے پوچھا. قدیم سماج میں امیر اور غریب کی تقسیم کیوں کر پیدا ہوئی؟ بولے۔ یہ فرق تو تیس ہزار سال قدیم قبروں میں بھی دکھائی دیتا ہے ۔ موجودہ روس کے نواحی علاقوں میں بعض امیر قبریں نوادرات مثلا ہاتھی دانت کے تراشے ھوے ٹکڑوں اور نایاب جانوروں کی ہڈیوں کے ساتھ دریافت ہوی ہیں اور بیشتر عام غریب لوگوں کی قبریں محض زمین میں کھدے تاریک اور تنہا گڑھوں کی صورت۔ قدیم خانہ بدوشی انسانی سماج میں مساوات بلا شبہ آج سے زیادہ تھی۔ کیونکہ ملکیت کا تصور محدود تھا۔ زرعی انقلاب کے بعد ملکیت اور جائیداد کا تصور مستحکم اور برابری معدوم ہوتی چلی گئی. میری زمین ، میرے جانور ، میرا باغ میرے اوزار اور ہتھیار ۔ امیری غریبی کی یہ علامات  مستحکم ہوتی چلی گئیں. پھر یوں ہوا کے چھوٹے سے حکمران اقلیتی طبقہ نے طاقت اور دولت پر تسلط حاصل کرلیا اور اس کی نسل در نسل منتقلی اسی طبقے تک محدود ہو کر رہ گئی. دکھ کی بات یہ ہے کہ امیری غریبی کا یہ تصور وقت گزرنے کے ساتھ اس قدر مضبوط ہوتا چلا گیا کہ اسے سماج نے قانون قدرت سمجھ کر قبول کر لیا۔ صدیوں تک یورپ کے کئی ملکوں کی حکمرانی بادشاہ کے الوہی حق جیسے مضحکہ خیز خیال کی بنیاد پر قائم رہی.. پھر ہم سب چبوترے سے اٹھے اور انھیں یہاں کے خوبصورت چرچس کی جھلک دکھانے گلیوں میں دیر تک گھومے ۔ یونیورسٹی کرکٹ گراونڈ کے جوش سے متعارف کروایا اور کیم دریا کے ساتھ لگے حسین سبزہ زار میں بیٹھ کر مارکس اینڈ سپینسر کے میل ڈیل لنچ کا لطف اٹھاتے لگے تو  میں نے پوچھا. تو کیا امیری غریبی قسمت کا کھیل نہیں ؟. کہنے لگے . امیری اور غریبی قدرتی طور پر اپنا کوی وجود نہیں رکھتے۔ یہ مصنوعی حد بندیاں تو ھم انسانوں نے ایجاد کی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ بیشتر امیر لوگ امیر خاندانوں میں پیدا ہونے کی وجہ سے امیر اور غریب لوگ غربت کے ماحول میں پیدا ہونے کی وجہ سے غریب ہوتے ہیں. بیشتر صورتوں میں اس  بے انصافی میں وقت گزرنے کے ساتھ مزید اضافہ ہوتا ہے کمی نہیں.. جب انسانی تہذیب  نے سرمایہ ایجاد کیا تو یہ صرف ایک زہنی انقلاب تھا. یعنی ھم انسانوں کی وجودی حقیقت میں کوی انقلاب برپا نہ ھوا تھا۔ لیکن اس ایجاد نے ھماری اجتماعی نفسیات پر بے حد گہرے اثرات مرتب کیے ہیں . آج بھی ہم دولت کی ہوس میں محض اس لیے مبتلا ہوتے ہیں کیونکہ ہم دوسروں کو ایسا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں.. موجودہ زمانے میں بھی جب کہ پوری دنیا گلوبلائزیشن کے زریعےایک اکای بننے کی سمت میں گامزن ہے ۔ ایک اقلیتی طبقہ دنیا بھر کے وسائل پر قابض ہے.  جبکہ عوام کی اکثریت جو کئی بلین لوگوں پر مشتمل ہے بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے. اگر ہم انسان اس ساری تفریق کو اللہ کی مرضی اور قانون قدرت کا نتیجہ سمجھ کر قبول کر لیں تو اس سے بڑھ کر کوئی اور احمقانہ خیال ہو ہی نہیں سکتا۔….. جاری ہے
|     |

Prince of Lumbini – Buddha. Grandpa and me. Podcast serial by Valueversity. Episode 40. Shariq Ali

Narration by: Shariq Ali
September 10, 2020
retina

Story of the man who preached five basic moral principles.  Refrain from taking life, stealing, acting unchastely, speaking falsely, and drinking intoxicants

 

 

The middle-aged white male with intelligent eyes said Hi to me. He first confirmed the flight in Dutch English accent. Then he put the backpack aside and sat down on the bench with me. Uncle Patel was talking about his recent trip to Nepal. He continued. In front of our bench at Kathmandu airport, the top of the wooden counter said Baihrava. A small town in the foothills of the Himalayas near the India-Nepal border. This was our destination in the first place. Then I planned to go to the mountainous town of Tansen. And he had to go to Lumbini, the birthplace of Buddha, by foot for pilgrimage. The conversation revealed that mountaineering is his hobby and Buddhism his way of life. Until two days ago, he was trekking in Namache Bazaar. And arrived in Kathmandu today. When the bus arrived, we reached a 12-seater plane sitting next to each other. And climbed the four-step ladder inside the plane. A total of eight passengers, two pilots and one air hostess. When the plane took off, it felt like a noisy minibus is taking off in the air. The sound of the engine was so loud that it was difficult to have a conversation. The expert pilot dodged the mountains as if he is playing hockey. The plane reached the height and flight became smooth. Airhostess served a small paper glass containing three sips of Pepsi. By the time of landing, the landscape had changed altogether. Flat fields like outskirts of Delhi and Lahore. The airport was as small as a coach station. Outside, the car and driver was waiting for us. A skinny young man with a wide smile and prominent red-stained teeth. Evident of continuous pan chewing. When I invited the Dutch for breakfast, he agreed immediately. We drove through the small town, shops on both sides of the main street. We stopped over in a small restaurant recommended by the driver. After finishing a delicious chana bhatura breakfast, we enjoyed the refreshing Nepali tea. I asked about Buddhism and he said. Prince Sudharata was born two and a half thousand years ago in Lumbini, twenty miles from here. All comforts of life available and many slaves present to serve. When he grew up, he had a separate palace to live with his beautiful wife and son. For no clear reason, the focus of his thinking was on the sorrow of human life. Frailty with age, disability, illness, physical pain and death. The mind could not unravel the entanglement of sorrow. One day he saw a vagrant. No worldly possession but so much peace. It amazed him. The prince decided. The decision to give up the luxury of life, his dear wife and son. He travelled all over the region from village to village for so many years. He was in search of true enlightenment. He was about to give up exhausted with disappointment. He found the answers while sitting under a fig tree. He achieved Nirvana, the true enlightenment. He became a Buddha. Four golden truths and eight instructions. The fate of human life is misery. The cause of suffering is human desire. If you want freedom, hold on to the truth and fight against evil. Kill the desire for pleasure and power. Do not hurt anyone. Respect life, moral principles and natural resources. Never choose a profession that harms human beings. The rock does not move with the wind and wise man neither with praise nor accusation. Hatred can never kill hatred. Only love can do such a miracle. Conquer feeling and thinking with the practice of focusing. Balance is the key to success. Then his disciples spread the message far and wide… To be continued​
|     |

Fierce and aesthete. Bill Gates. Grandpa and me. Podcast serial by Valueversity. Episode 39. Shariq Ali.

Narration by: Shariq Ali
September 9, 2020
retina

Story of a man who can face the fiercest competition and committed to serve the humanity.

 

 

From the steps of the Lincoln Memorial, we could see the entire area ending at the Capitol Hill. A two-mile-long walkway guarded by rows of dense trees. The famous Smithsonian’s and other world-renown museums and government buildings on each side. And many national monuments between. This is National Mall and ends at Capitol Hill. Yani Apa was recounting her study tour to Washington. Our group entered the Lincoln Memorial. A white marble statue of Abraham Lincoln, who united the nation during the Civil War was in front of our eyes. The statue was so elegant and thirty-three feet high. After a brief speech of appreciation, we took group photos. We stood where Martin Luther King Jr. delivered his fiery speech. I have a dream. Did you meet Bill Gates? I asked an out of context question. No, I did not. She replied. But his story is so interesting. When she noticed I am interested, she carried on. Bill, who is now 61, was a playful boy from a prosperous Seattle family. Eager to study and well versed in science and arithmetic. Very competitive and hardcore. He learned computer programming at the age of thirteen. At that time, there were only large size computers in the world. General Electric gave his school access to a large computer. So began the fundraising campaign for television-sized monitors. Bill Gates wrote his first computer program, tic-tac-toc, using computer language basics. This made access to large computers possible and easy. Then he developed his computer version. His favourite board game Risk influenced him, which seeks to conquer the world. Then he befriended Paul Allen. Together they tried to hack government computers but caught. They had to face the probation. Later, the same government computer company hired them. 17-year-old Gates and Allen helped them to improve their software. They earned twenty thousand dollars from this project. Uncle Patel also joined the conversation and said. In the Harvard entrance exam, he scored fifteen hundred and ninety out of sixteen hundred. Steve Ballmer became his friend at Harvard. He has been Microsoft’s boss since Gates’ retirement. Meanwhile, Paul Allen left college and gave the same advice to Gates. He left Harvard to form the software company Microsoft. Then IBM invited him to write a personal computer program in 1980. Microsoft retained the licence for the operating system MS-DOS. In 1980, Microsoft had 25 employees. And now more than ninety thousand. A focused, determined and able man with childlike innocence and smile. Bill Gates is able to face the fiercest competition. That made him the richest man in the world. In 2006, he announced that he would dedicate most of his wealth and time to charitable causes. Such as polio, AIDS, and tuberculosis. He still holds the highest position and job in the world. To serve humanity… To be continued
|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

14,866 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina