retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Tag Archive: "urdu kahani"

Tower Ay ٹاور اے، سیج ، انشے سیریل، اکتیسواں انشاء Merewether Tower, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 31

Narration by: Shariq Ali
September 16, 2017
retina

James Strachan designed the Gothic style Merewether clock tower in Karachi to keep us reminded of the passing times. Awareness of time is the distinguishing feature of human kind from the lower animals

I am Azm, a student of Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

ٹاور اے، سیج ، انشے سیریل، اکتیسواں انشاء، شارق علی

کالج جانے کے لئے ڈبلیو گیاره کا انتظار ہوتا تو بس اسٹاپ پر رکتی سب بسوں کے کنڈیکٹر ایک ہی گردان کرتے۔ ٹاور ٹاور ٹاوراے۔ جتنا نام اس عمارت کا سنا کسی اور کا نہیں۔ ہمارے جگری یار کے والد کا نزاری ہوٹل ٹاور کے قریب تھا۔ مہینے میں ایک بار مفت خوری ضروری ہوتی۔ ایک دفعہ اتوار کے روز میری ویدر ٹاور کو قریب سے دیکھا۔ پروفیسر گل زمانہ طالبِ علمی یاد کر رہے تھے۔ بولے۔ گوتھک طرز میں گزری پتھروںسے بنا چوالیس فٹ چوڑا اور ایک سو دو فٹ اونچا کلاک ٹاور۔ میونسپل انجینیئر جیمز اسٹریچن کا کراچی کو ایک اور تحفہ جو اٹھارہ سو بانوے میں تعمیر ہوا۔ سنگتراشی سے کی گئی سجاوٹ خوش زوقی اور مہارت کی مثال ہے۔ داؤدی ستارہ یا تو آرائشی اتفاق ہے یا کراچی کے یہودیوں کو اسٹریچن کا خراجِ تحسین، بڑا گھنٹا ہر گھنٹے اور چھوٹا ہر پندرہ منٹ پر بجا کرتا تھا پہلے۔ اب تو ٹریفک، دکانداروں اور راہ گیروں کے شور کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا۔ عمارت کی خستہ حالی حکومتی بے توجہی کی ویسی ہی تصویر ہے جیسا کے پورا شہر کراچی۔ کلاک ٹاور وقت کی اہمیت کا اظہار تو ہیں لیکن یہ وقت بجائے خود ہے کیا؟ سوفی نے فلسفیانہ انداز میں سوال کیا۔ پروفیسر بولے۔ یوں تو وقت بہت سادہ اور سامنے کی بات لگتی ہے۔ لیکن اس کی مطمئن وضاحت بے حد دشوار اور پراسرار ہے۔ آسانی کے لئے ہم اسے گھڑی سے ماپی جانیوالی قدر کہہ سکتے ہیں۔ یا کائنات کی وہ خصوصیت جو ایک واقع کو دوبارہ نہیں ہونے دیتی۔ فاصلے سے بے نیاز یہ تسلسل ایک ایسی لکیر ہے جو مسلسل آگے کی سمت رواں رہتی ہے۔ وہ بہتا دریا جس میں دو بار چھلانگ لگانا ممکن نہیں۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ درست لیکن وقت آج بھی ایک کائناتی اسرار ہے۔ ہم انسان وقت ناپنا سیکھ گئے ہیں لیکن اسے پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہیں۔ رمز بولا۔ قدیم انسان کے لئے وقت دائرہ وار تھا۔ صبح ،دوپہر، شام اور رات۔ بہار، گرمی، خزاں اور سردی۔ سورج اور چاند کا طلوع اور غروب۔ گھڑی ایجاد ہوئی تو یہ سیدھی لکیر بن گیا۔ بنگ بینگ سے لے کر اس جاری گفتگو تک چودہ بلین سال لمبی لکیر۔ کاش ہم وقت میں سفر کر سکتے۔ پروفیسر نے کہا۔ یہ آرزو نئی نہیں۔ بہت سی قدیم کہانیوں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاً مہابھارت میں روائتہ جنت میں براہما سے مل کر لوٹتا ہے تو زمین پر مدتیں گزر چکیں ہوتیں ہیں۔ پھر اس غار کا قصہ جس کا ذکر قرآن اور بائبل دونوں میں موجود ہے۔ ایک خدا پر ایمان رکھنے والے عبادت گزار چند نوجوان جو ظالم رومن بادشاہ دقیانوس کے سالانہ بت پرستی کے جشن سے انکاری ہو کر اور اس کے دیئے قتل کے حکم سے جان بچا کر ایک مقامی دہقان اور اس کے کتے کی مدد سے اس غار  میں پناہ لیتے ہیں۔ کتا حفاظت کے لئے باہر اور وہ غار کے اندر چند گھنٹوں کی نیند کے بعد جاگتے ہیں تو تین سو سال گزر چکے ہوتے ہیں۔ احساس تب ہوتا ہے جب ان میں سے ایک کھانا خریدنے بازار جاتا ہے اور دکاندار قدیم سکے دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ پھر نیا بادشاہ جو صاحبِ ایمان ہے ننگے پاؤں ان کی زیارت کو آتا ہے۔ کہتے ہیں اصحابِ کہف اسی غار کے آس پاس دفن ہیں۔ ترکی اور اردن دونوں ہی غار کہف کی موجودگی کے دعویدار ہیں۔ قصے کہانی چھوڑیئے۔ کیا سائنسی طور پر یہ ممکن ہے؟ میں نے کہا۔ بولے۔ اگر رفتار روشنی سے بھی زیادہ تیز ہو جائے تو شاید ایسا ممکن ہو۔ لیکن اس کے لئے بے اندازہ توانائی درکار ہو گی۔ یا پھر سائنس فکشن کے کرداروں کی طرح کوسمک اسٹرنگس، بلیک ہول، یا وارم ہول سے ہو کر گزرنے کے بعد ایسا ممکن ہو سکے۔ کہتےہیں آئینسٹائن خود سے اکثر یہ سوال کرتا تھا کہ کیا ہم کبھی روشنی کی کرن پر سوار کائنات کی مکمل حقیقت کو محض ایک نقطے کی صورت دیکھ سکیں گے؟ ۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

Yaar e Shehsawar یار شہسوار، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، تراسیواں انشا Gallant confidant, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast Serial, Episode 83

Narration by: Shariq Ali
September 22, 2016
retina

Story of the gallant confidant, who in combination with iron weapons, made Hittites the super power of their times

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

 

یار شہسوار، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، تراسیواں انشا، شارق علی

جوکی کلب کے پھولوں سے آراستہ برآمدے میں قدیم کوفی ٹیبل سے اٹھ کر ہم سر سبز و شاداب باغ کی جانب بڑھے تو میں نے پوچھا. گھوڑوں سے خاندانی دلچسپی کب سے؟ پیٹر بولا. نیو مارکیٹ ریس کورس سے یہ تعلق دو سو سال پرانا ہے. پہلے کلب کے اندرونی حسن اور گھڑ سواری کے  نوادرات سے سجے کمرے صرف ممبرز کے استعمال میں تھے. اب خصوصی مہمان اور تقریبات کی بھی اجازت ہے. انکل انگلینڈ کی کاؤنٹی نارفوک کا ذکر کر رہے تھے. بولے. پیٹر نے بتایا کہ سینکڑوں ایکڑ پر پھیلی یہ جاگیر گھوڑوں کی تربیت کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے. راولی مائل یورپ کا سب سے بڑا ریس کورس ہے اور سالانہ شب موسیقی کی وجہ سے جانا جاتا ہے. یانی آپا بولیں. انگلینڈ کی پانچویں بڑی کاؤنٹی ہے نارفوک . سو میل لمبا ساحل اور میلوں پھیلے گھنے جنگل اور سر سبز و شاداب روایتی انگلش دیہات . نورچ سب سے بڑا شہر ہے یہاں کا. پورے مغربی یورپ میں رقبے کے لحاظ  سے سب سے زیادہ میڈییول چرچ ہیں یہاں. کوئی چھ سو کے قریب. گھڑ سواری کا آغاز کب ہوا دادا جی؟ میں نے پوچھا. بولے. گھوڑوں کا ارتقائی سفر پینتیس لاکھ سال پہلے شمالی امریکا سے شروع ہوا تھا. پہلے تو یہ زیبرا کی طرح آزاد جنگلی جانور تھے. کوئی چھ ہزار ق م میں شمالی امریکا کی مقامی آبادی نے شکار سے ان کا مکمل صفایا کر دیا. صرف وہ بچے جو نرم گھانس، سیب اور گاجروں کے تعاقب میں وسطی اشیا کو ہجرت کر چکے تھے. موجودہ گھوڑے ان مہاجر گھوڑوں کی نسل ہیں. ایک لاکھ ق م  پہلے جب ابتدائی انسان وسطی اشیا پہنچے تو پہلے تو لباس، خیمے اور اوزار بنانے کے لئے گھوڑوں کا شکار ہوا. لیکن ٤٠٠٠ ق م میں پہلی بار کیسپین سمندر کے گرد بسے ہندی یورپین لوگوں نے سامان ادھر سے ادھر لے جانے کے لئے گھوڑے سدھانا شروع کئیے . ممکن ہے کچھ ان پر سوار بھی ہوۓ ہوں. پھر گھوڑا گاڑی کا استعمال عام ہونے لگا. ٢٥٠٠ کلو ق م میں مغربی اشیا کی سمیرین تہذیب میں گھوڑا گاڑیاں شہروں کے درمیان تجارت کے لئے  چلیں.پھر ہٹیٹ جنگجوؤں نے پہلی بار تیز رفتار گھوڑے جتے چیریوٹ کو جنگوں میں استعمال کیا. فولادی ہتھیار اور  چیریوٹ نے انھیں اس دور کی سپر پاور بنا دیا. پھر ١٩٠٠ ق م میں ٹرائے کی جنگ میں  چیریوٹ  استعمال ہوۓ اور ١٧٠٠ ق م  میں یہ استعمال مصر پہنچا. چین کی شینگ ڈائیسٹی نے ١٢٠٠ ق م میں چیریوٹ  استعمال کیے .  زین اور لگام تو صرف ٢٠٠ ق م  میں ایجاد اور استعمال ہوۓ . انکل نے کہا. انسانی تاریخ میں اہم جنگی ہتھیار رہے ہیں گھوڑے. چیریوٹ جنگجو پیدل سپاہ کو کچل سکتے تھے. وہ تیزی سے تھکے بغیر ادھر سے ادھر پہنچتے، پیغام رسانی، حملہ آور اور فرار ہو سکتے تھے. دادا جی بولے. پھر گھڑ سواری کا فن دنیا بھر میں پھیلا. شمالی امریکا ہزاروں سال گھوڑوں سے  محروم رہا. ہسپانوی پندرھویں صدی میں اپنے ساتھ گھوڑے لے کر پہنچے تو مقامی لوگ یہ مخلوق دیکھ کر حیران رہ گئے. ہسپانویوں نے ازٹیک تہذیب کو گھوڑوں ہی کی مدد سے شکست دی تھی ورنہ یہ جیت ممکن نہ تھی. پھر ریڈ انڈینز نے پکڑے ہوۓ ہسپانوی گھوڑے استعمال کرنے میں مہارت حاصل کی……….جاری ہے

 

Zurd Ajnabi زرد اجنبی، دادا اوردلدادہ، انشے سیریل، بیاسیواں انشا Yellow stranger, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast Serial, Episode 82

Narration by: Shariq Ali
September 17, 2016
retina

This story is about the courage and sacrifice of 17000 chinese immigrants who built the railway across Canada between 1881 to 1884

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

زرد اجنبی، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، بیاسیواں انشا، شارق علی

تیز قدم لیکن مہذب اطمینان لئے مسافر اور سٹیشن سے زیادہ شاپنگ مال کا سا سماں. بیچ سے گزرتا راستہ اور دونوں جانب دکانیں اور ریستوران. کوفی کی تیز مہک. شیشوں سے دکھائی دیتے مختلف شکلوں اور رنگوں کے کیک، کوکیز اور دیگر لوازمات کے پیچھے خوش لباس، خوش اخلاق گاہک نمٹاتے دکاندار. ناشتہ کر چکے تو مونٹریال سے ٹورنٹو جانیوالی وایا ٹرین پکڑی. انکل پٹیل کینیڈا کا ذکر کر رھے تھے. بولے. پانچ گھنٹے کا سفر لیکن نشستیں بہت آرام دہ. ٹرین چلی تو ٹرالی کھینچتے ایک صاحب نے کھانے پینے کی چیزیں لئے چکر لگایا. کھڑکی سے منظر کہیں بور کہیں دلچسپ . زیادہ تر جنگل اور کھیت. کچھ رہائشی اور صنعتی علاقے بھی. ایک جھیل کے کنارے بنے خوبصورت مکانات. تیزی سے پیچھے بھاگتا برچ کے سفید درختوں کا جنگل. وہ تو جاڑے نہیں تھے ورنہ سب کچھ برف سے ڈھکا ہوتا. دادا جی بولے. کینیڈا ١٨٦٧ میں ملک بننا. پہلے کوبیک ، اونٹاریو، نیو برنسوک اور نووا سکوشیا الگ الگ صوبے تھے. ریلوے لائن نے دور دراز مثلاً برٹش کولمبیا کے دشوار پہاڑی علاقوں کو آپس میں ملا کر کینیڈا کو کنفیڈریشن بنایا. کوئلہ وافر دستیاب تھا یہاں اس لئے ریلوے تیزی سے پھیلی. کچھ گھنٹے سفر کے بعد انجن کو ایندھن اور عملے کو غذا کی ضرورت ہوتی تھی. اسی لئے ریلوے شیڈ اورہوٹل بنے ،لوگ آباد ہوۓ تو  ارد گرد کھیتی باڑی شروع کی.  گویا ریل شہروں تک نہیں بلکہ آبادیاں ریل کے ارد گرد قائم ہوئیں کینیڈا میں. ١٨٨١ سے ١٨٨٤ تک پیسفک کینیڈا کی تاریخ ساز ریلوے لائن بچھانے کا سہرا ١٧٠٠٠ چینی مزدوروں کے سر ھے . ان کی اجرت ایک ڈالر یومیہ تھی اور کھانے اور لباس کا انتظام بھی خود ان کے ذمّے . جبکہ سفید فام مزدور دو ڈالر روز اور سہولتیں مفت پاتے تھے. ہر مشکل کام چینیوں سے کروایا جاتا. صرف چاولوں اور سوکھی سالمن کھا کر زندہ اور جڑی بوٹیوں سے اپنا علاج کرلینے والوں نے عارضی خیموں کے باہر آگ جلا کر کینیڈا کی سردی کا مقابلہ اور مسلسل کام کیا. سرنگوں کے ڈائنامائٹ دھماکوں اور دشوار پلوں اور غذائی محرومی کی بیماری سکروی سے ان گنت چینی مزدور مارے گئے. ان گم نام زرد اجنبی چہروں نے دنیا کے اس ترقی یافتہ ملک کو اس کے موجودہ خد و خال دیے ہیں. میں نے پوچھا. کیا دنیا بھر میں ریل کی پٹریوں کی چوڑائی ایک جیسی ہوتی ہے؟ یانی آپا بولیں. بلکل. ہر جگہ ١٤٣٥ ملی میٹر چوڑی . جب رومن دنیا پر حکمران تھے تو دور تک پھیلے زیر اثر علاقوں تک رسائی کے لئے سڑکیں بنائی گئیں . سڑکوں کا رومن چیریٹ کے پہیوں کی چوڑائی کے مطابق ہونا ضروری تھا. ریل کے موجد جارج سٹیفنسن نے پہلی ریلوے لائن تعمیر کی تو رومن چیریٹ کی یہ چوڑائی برقرار رکھی. پھر یہ ایک عالمی اصول بن گیا. روم کے ان قدیم راستوں کی باقیات آج بھی موجود ہیں……. جاری ہے

 

Dabbaywalon Ka Sheher ڈبے والوں کا شہر، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، ستاسٹھواں انشا City of Dabbaywalas, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast serial, Episode 67

Narration by: Shariq Ali
June 25, 2016
retina

Who represent Mumbai? Bollywood or Dabbawala who carries the lunch box and deliver freshly made food from customer’s home to offices? Have a glimpse of the city and decide

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

ڈبے والوں کا شہر، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، ستاسٹھواں انشا، شارق علی

٢٠٠٧ کی بات ہے پروفیسررسل اور میں ممبئی کے علاقے کولابا میں انڈیا گیٹ کے پاس تاج محل پیلس پہنچے تو استقبال یوں ہوا جیسے ہم کوئی مہاراجہ ہوں. محل نما عمارت کے ساتھ لگا اونچا رہائشی ٹاور . گویا دومختلف زمانوں کے طرز تعمیر ایک ساتھ . انکل پٹیل ممبئی کو یاد کر رہے تھے. بولے. اردلی نے سامان کمرے میں پہنچایا اور وہیں چیک ان کاروائی کامدارشیروانی اور بنارسی سا ڑھی پہنے اسٹاف نے ویلکم جوس پلاتے ہوۓ مکمل  کی. سجاوٹ جیسے کوئی میوزیم ہو . راہداریوں تک میں نادر فرنیچر اور پینٹنگز. اس قیام کے اخراجات پروفیسرکے میزبانوں کے ذمے تھے . ہم کیونکہ  وفد میں شامل تھے تو ہماری بھی موج. ریستوران میں کھڑکی کے قریب ناشتے کے لئے بیٹھے تو سمندر کا نظارہ جیسے کسی بحری جہاز سے. کچھ وقت پول کے کنارے پڑے شاہانہ جھولے پر ہلکورے لیتے اور یوگا پارلر میں بھی گزارا. وہی تاج نا جو 2008میں دہشت گردی کا نشانہ بنا تھا؟ میں نے کہا۔ بولے۔ بہت دکھ ہوا تھا ہمیں خبر سن کر۔ یوں سمجھو جیسے ممکنہ محبت میں دراڑ سی پڑ جائے ۔ دادا جی بولے۔ کہتے ہیں جمسیتجی ٹاٹا کو سفید فام واٹسن ہوٹل نے کمرہ دینے سے انکار کیا تو انہوں نے 1903 میں یہ ہوٹل تعمیر کیا تھا۔ پہلی جنگِ عظیم میں اسے چھ سو بستروں کا ہسپتال بنا دیا گیا تھا۔ یانی آپا بولیں کبھی نہ سونے والا ممبئی غریب اور امیر سب کا شہر ہے۔ تاج پیلس اورمکیش امبانی کا ایک بلین کا گھر بھی یہیں اور دھاراوی کی جھگیوں میں اچھی زندگی گزارنے کے سسکتے خواب بھی۔ سلم کن آبادیوں کو کہتے ہیں دادا جی؟ میں نے پوچھا۔ بولے۔ زندگی کی وہ دردناک حقیقت ممدو جو ایسی جگہ سانسیں لیتی ہو جہاں انسانی رہائشی معیار کے مطابق زندگی ممکن ہی نہیں ہے۔ بقول جون  ایلیا۔ جو گزاری نہ جا سکی ہم سے، ہم نے وہ زندگی گزاری ہے۔ انکل نے کہا۔ یہ سچ ہے کہ تاج ممبئی کی اصل تصویر نہیں۔ چلتے پھرتے عام لوگ اور سائیکلیں چلاتے ڈبے والے اس کے صحیح ترجمان ہیں۔ گھروں سے دفتروں تک کھانا پہچانے کا خود کار دیسی نظام ہیں یہ ڈبے والے۔ باعزت اور منظم محنت اور رزق حلال کی علامت .کوئی دو لاکھ کھانے کے ڈبے پانچ ہزار ڈبے والوں کےہاتھوں ادھر سے ادھر روز پہنچتے ہیں۔ پہلی ریل 1925 میں چلی تھی یہاں۔ بعض ٹرینیں دیکھ کر لگتا ہے کہ اسی زمانے کی ہیں۔ دفتری وقت ہوا تو کھوے سے کھوا چھلنے کا مطلب سمجھ میں آیا۔ کراچی کی طرح جنت اور جہنم ایک ساتھ بستے ہیں ممبئی میں بھی ۔ ایک رخ تاج پیلس تو دوسرا جھونپڑ پٹیوں میں حاجت رفع کرنے کے ناکافی انتظامات۔ نتیجہ، جگہ جگہ غلاظت کے ڈھیر۔ میں نے موضوع بدلنا چاہا اور کہا۔ ہندی فلموں کی سبزی منڈی بولی ووڈ کا بھی تو ذکر کیجئے۔ انکل ہنس کر بولے پھر کسی اور وقت مولانا۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

ان شے، اردو ادب کی نئی نثری صنف Inshay, a new genre of Urdu fiction

Narration by: Shariq Ali
February 19, 2015
retina

Inshay is a breath of fresh air in Urdu fiction. A brief literary prose that can be written, displayed and read in one screen shot. It still possess the capacity to grasp and convey any artistic moment attached to human condition. At the same time, being very user friendly, it does not loose the ability to be expressed, consumed and survive in the current context of information revolution. Please listen, if you understand Urdu/Hindi and also read, if you are familiar with Urdu script, the first three ever written Inshay in this post. Valueversity look forward to future generation of Inshay writers and fans emerging from the new horizons of our unique literary era. This is the need of the hour that all artistic efforts should now be compatible with the inevitability of hand held devices.

Journey of Inshay begins today with confidence and power to take Urdu story telling to the next level!

Shariq Ali

Founder of Valueversity

 

In Shay Taruf JPEG WORD

 

 

 

 

Gum Shuda JPEG WORD

 

 

Aakhri Manzil JPEG WORD

 

 

Khush Raftar JPEG WORD

 

 

 

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,023 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina