retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Tag Archive: "urdu afsana"

Sufaid Faam Ka Bojh سفید فام کا بوجھ، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل ، تراسیواں انشا The White Man’s Burden, Grandpa & me, Urdu Hindi Podcast Serial, Episode 84

Narration by: Shariq Ali
September 27, 2016
retina

Rudyard Kipling wrote the poem “The White Man’s Burden” about the belief of the Western world that industrialisation is the way to civilise the Third World. This story travels in postcolonial Uganda to see what happened

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

سفید فام کا بوجھ، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل ، تراسیواں انشا، شارق علی

ہال کی کھلی کھڑکی سے رن وے پر کھڑے بوئنگ کے پرواز کی تیاری میں تیزی سے چلتے انجن مجھے پریشان کیے ہوۓ تھے. کھینچے ہوۓ بریک ایک لمحے کو ناکارہ ہوتے تو ہم سب اس دیؤ پیکر تیر کے ٹھیک نشانے پر تھے. عملے کی بے نیازی سے ظاہر تھا کہ یہ روز کا معمول ہے. قطار میں بیشتر کالے ، کچھ گورے، دو جاپانی اور مجھ سمیت تین ایشیائی تھے. ائیرپورٹ کی عمارت بہت سادہ بلکہ عارضی نوعیت کی تھی. حیرت ہوئی کہ یہ ہے اینٹیبے  ائیرپورٹ جس پر اسرئیلی کمانڈوز نے ١٩٧٦ میں کامیاب آپریشن کر کے یرغمال ہم وطنوں کی جان بچائی تھی. انکل پٹیل یوگنڈا کا ذکر کر رہے تھے. بولے. پاسپورٹ پر مہر لگی تو میزبان کی جیپ میں بیس میل دور درالحکومت کمپالا میں رات گزارنے ہوٹل پہنچے . راستے میں سر سبز لیکن  چھوٹی پہاڑیاں اور جھگیوں کی بستیاں ملیں . ننگ دھڑنگ بچے سرخی مائل مٹی کے میدان میں فٹ بال کھیل رہے تھے. زنانہ لباس قدامت پسند اور بوسیدہ ، سڑکوں پر زیادہ تر موٹر سائیکلیں کچھ کا ریں بھی. میزبان نے بتایا کہ چرچ میں عبادت کا اوسط دورانیہ پانچ گھنٹے ہے لیکن ملک بھر میں  شراب اور گوشت کا استعمال حد سے بڑھا ہوا. کیلے، اننناس اور ایواکیڈو حسب موسم سستے اور ذائقہ دار. غربت ایسی کہ دکھی کر دے. آدھی آبادی ایک ڈالر روز پہ گزارا کرتی ہے جبکہ گیس اور تیل کے وافر ذخائر ابھی استعمال بھی نہیں ہوۓ . کولونیلزم کے لگائے زخم اب تک تازہ ہیں. کولونیلزم کیا ہوتا ہے دادا جی ؟ میں نے پوچھا. بولے. یورپ کے لوگ ترقی یافتہ ہوۓ تو نئی دنیاؤں کی تلاش میں نکلے. ملکوں پر قابض ہو کر جب انہوں نے مقامی حقائق کو نظر انداز کیا اور مغربی سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظریات مسلط کیے تو یہ کولونیلزم کہلایا. یا نی آپا بولیں.رڈیارڈ کپلنگ نے کولونیلزم کو سفید فاموں پر بوجھ کہہ کر یہ تاثر دیا تھا کہ غلام ملکوں کی ثقافت اتنی کمزور تھی کہ معاشرے کو چلانا ممکن ہی نہیں تھا.  اور یہ بوجھ سفید فام ثقافت کو اٹھانا پڑا . اس غیر منصفانہ جواز کی بنیاد پر انڈیا، آسٹریلیا، نیو زیلینڈ، کینیڈا اور بیشتر افریقہ پر حکمرانی کی گئی. اس ظلم کی حمایت مذہبی ٹھیکےداروں نے بھی کی اور خوب عیسائیت پھیلائی . کمپالا کے بعد کہاں گئے آپ؟ میں نے اچانک پوچھا. بولے. صبح ہوئی تو اسی میل دور لیک وکٹوریہ کے شمالی کنارے پر واقع جنجا پہنچے. کہتے ہیں دریاے نیل کا ہزاروں میل لمبا سفر جنجا ہی سے شروع ہوتا ہے. ہمارا قیام جنجا نائل ریسورٹ نامی ہوٹل میں تھا. مرکزی عمارت میں سوئمنگ پول اور کئی ریستوران. ساتھ کی کشادہ پہاڑی پر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بنے آرام دہ کاٹیج جس کے لان سے نظر آتا نیچے زور و شور سے بہتا دریاۓ نیل. کمرے کی کھڑکی کھلی ہو تو بہتے دریا کی مسلسل آواز سنائی دیتی . اگلے دن جنجا گئے. چھوٹا سا با رونق قصبہ ہے، دو ایک بڑی سڑکیں، بیشتر عمارتیں خستہ حال لیکن طرز تعمیر کولونیل. کولونیل دور سے نقصان کیا پہنچا غلام ملکوں کو؟ میں نے بات بدلی . یا نی آپا بولیں. اپنے انداز میں مستحکم اور ہم آہنگ معاشرے سیاسی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہو گئے. جاگیردارانہ سوچ کولونیلزم ہی کی دین ہے.امیر اور غریب کو قدرتی اصول سمجھ کر قبول کر لینا ایسا ہی ہے جیسے انگریز حکمران اور مقامی لوگ غلام کا تصور مان لیا جائے . ذہنی آزادی تو تب ملے گی جب معاشرے میں ہر فرد مساوی قرار پائے یعنی وسائل کا برابر سے حقدار. اور ایسا بغیر انقلاب کے ممکن نہیں ممدو…….جاری ہے

Zurd Ajnabi زرد اجنبی، دادا اوردلدادہ، انشے سیریل، بیاسیواں انشا Yellow stranger, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast Serial, Episode 82

Narration by: Shariq Ali
September 17, 2016
retina

This story is about the courage and sacrifice of 17000 chinese immigrants who built the railway across Canada between 1881 to 1884

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

زرد اجنبی، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، بیاسیواں انشا، شارق علی

تیز قدم لیکن مہذب اطمینان لئے مسافر اور سٹیشن سے زیادہ شاپنگ مال کا سا سماں. بیچ سے گزرتا راستہ اور دونوں جانب دکانیں اور ریستوران. کوفی کی تیز مہک. شیشوں سے دکھائی دیتے مختلف شکلوں اور رنگوں کے کیک، کوکیز اور دیگر لوازمات کے پیچھے خوش لباس، خوش اخلاق گاہک نمٹاتے دکاندار. ناشتہ کر چکے تو مونٹریال سے ٹورنٹو جانیوالی وایا ٹرین پکڑی. انکل پٹیل کینیڈا کا ذکر کر رھے تھے. بولے. پانچ گھنٹے کا سفر لیکن نشستیں بہت آرام دہ. ٹرین چلی تو ٹرالی کھینچتے ایک صاحب نے کھانے پینے کی چیزیں لئے چکر لگایا. کھڑکی سے منظر کہیں بور کہیں دلچسپ . زیادہ تر جنگل اور کھیت. کچھ رہائشی اور صنعتی علاقے بھی. ایک جھیل کے کنارے بنے خوبصورت مکانات. تیزی سے پیچھے بھاگتا برچ کے سفید درختوں کا جنگل. وہ تو جاڑے نہیں تھے ورنہ سب کچھ برف سے ڈھکا ہوتا. دادا جی بولے. کینیڈا ١٨٦٧ میں ملک بننا. پہلے کوبیک ، اونٹاریو، نیو برنسوک اور نووا سکوشیا الگ الگ صوبے تھے. ریلوے لائن نے دور دراز مثلاً برٹش کولمبیا کے دشوار پہاڑی علاقوں کو آپس میں ملا کر کینیڈا کو کنفیڈریشن بنایا. کوئلہ وافر دستیاب تھا یہاں اس لئے ریلوے تیزی سے پھیلی. کچھ گھنٹے سفر کے بعد انجن کو ایندھن اور عملے کو غذا کی ضرورت ہوتی تھی. اسی لئے ریلوے شیڈ اورہوٹل بنے ،لوگ آباد ہوۓ تو  ارد گرد کھیتی باڑی شروع کی.  گویا ریل شہروں تک نہیں بلکہ آبادیاں ریل کے ارد گرد قائم ہوئیں کینیڈا میں. ١٨٨١ سے ١٨٨٤ تک پیسفک کینیڈا کی تاریخ ساز ریلوے لائن بچھانے کا سہرا ١٧٠٠٠ چینی مزدوروں کے سر ھے . ان کی اجرت ایک ڈالر یومیہ تھی اور کھانے اور لباس کا انتظام بھی خود ان کے ذمّے . جبکہ سفید فام مزدور دو ڈالر روز اور سہولتیں مفت پاتے تھے. ہر مشکل کام چینیوں سے کروایا جاتا. صرف چاولوں اور سوکھی سالمن کھا کر زندہ اور جڑی بوٹیوں سے اپنا علاج کرلینے والوں نے عارضی خیموں کے باہر آگ جلا کر کینیڈا کی سردی کا مقابلہ اور مسلسل کام کیا. سرنگوں کے ڈائنامائٹ دھماکوں اور دشوار پلوں اور غذائی محرومی کی بیماری سکروی سے ان گنت چینی مزدور مارے گئے. ان گم نام زرد اجنبی چہروں نے دنیا کے اس ترقی یافتہ ملک کو اس کے موجودہ خد و خال دیے ہیں. میں نے پوچھا. کیا دنیا بھر میں ریل کی پٹریوں کی چوڑائی ایک جیسی ہوتی ہے؟ یانی آپا بولیں. بلکل. ہر جگہ ١٤٣٥ ملی میٹر چوڑی . جب رومن دنیا پر حکمران تھے تو دور تک پھیلے زیر اثر علاقوں تک رسائی کے لئے سڑکیں بنائی گئیں . سڑکوں کا رومن چیریٹ کے پہیوں کی چوڑائی کے مطابق ہونا ضروری تھا. ریل کے موجد جارج سٹیفنسن نے پہلی ریلوے لائن تعمیر کی تو رومن چیریٹ کی یہ چوڑائی برقرار رکھی. پھر یہ ایک عالمی اصول بن گیا. روم کے ان قدیم راستوں کی باقیات آج بھی موجود ہیں……. جاری ہے

 

Aitmaad Ka Pul اعتماد کا پل، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل ، چوھترواں انشا Bridge of trust, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast serial, Episode 74

Narration by: Shariq Ali
August 6, 2016
retina

Bridges of trust built on the firm belief of reliability, truth and strength of each other is the basis of human happiness and success for individual and societies. Explore trustworthiness in this story

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

اعتماد کا پل، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل ، چوھترواں انشا، شارق علی

سڑک پر تیز ٹریفک اور فٹ پاتھ پر حولدار رحمت کے پیچھے میں، پھر جوجی اور قطار بنائے ٹوٹے قدموں کی مارچ کرتے فوجی وردی پہنے بیالیس طلبہ تھے. نیشنل کیڈٹ کور کا یہ دستہ فائرنگ مشق کے لئے رائفل کلب جا رہا تھا. انکل کالج کے دنوں کا کراچی یاد کر رہے تھے. بولے. دستے کو راہگیروں کی دلچسپی،  کچھ بچوں کی ستائشی نظروں اور چند آوارہ نوجوانوں کے اوئے ٹلے کے نعروں کا سامنا تھا. پی آئ ڈی سی بلڈنگ سے دایں ہاتھ مڑ کر پل کی جانب چلے جس کے اوپر آتی جاتی گاڑیاں اور نیچے بے گھر افراد اور نشے کے عادیوں کے لئے بچی کھچی زمین پر تپتی گرمی سے بچنے کے لئے ٹھنڈی چھاؤں کا خواب آور انتظام تھا تو جوجی نے کہا. یوں تو کراچی شہرکو کیماڑی سے ملانے والا نیٹو جیٹی کا پل جو 1854 میں برٹش راج میں بنا تھا کئی کہانیوں کا مسکن ہے لیکن یہ پل جس سے ہم گزر رہے ہیں پہلے چا ند ما ری پل کہلاتا تھا. جب سے دو محبّت کرنے والوں نے یہاں سے کود کر ایک ساتھ دنیا کو الوداع کہا ہے تب سے یہ لورز برج کہلاتا ہے. یا نی آپا بولیں. اعتماد کا وہ پل جو دو دلوں کے درمیان قائم تھا کاش اس کی حدیں سماج تک بھی پہنچ سکتیں تو کہانی کا انجام کچھ اور ہوتا. اعتماد کا پل؟ میں کچھ گڑبڑایا. دادا جی بولے. پل کا مقصد دریا یا کھائی کو عبور کر کے دوریوں کو کم کرنا اور رابطے کو ممکن بنانا ہی تو ہے. باہمی اعتماد بھی انسانی رشتوں کے درمیان بلکل یہی کام کرتا ہے ممدو. اعتماد کے پل نہ صرف انسانوں بلکہ تہذیبوں کوبھی با وقار اور پائیدار بناتے ہیں. ایسے پل وہ لوگ تعمیر کرتے ہیں جن کی نیت اور عمل اچھا ہو اور جن کی قابلیت اچھے نتائج حاصل کر سکے. جو بلا روک ٹوک سچ بول سکیں. لوگوں کی عزت کریں انھیں قابل استعمال نہ سمجھیں. غلط تاثردے کر اپنی شان میں اضافہ نہ کریں. یہ سب تو مجھے ایدھی صاحب ہی میں نظر آتا ہے؟ میں نے کہا. دادا جی بولے. بالکل درست. اعتماد کے پل کی اس سے بہتر مثال ممکن نہیں. مظلوموں اور بے آسراوں کی ترجمانی کرنے والے. دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالنے والے یقیناً قابل اعتماد ہوتے ہیں. وہ وقت اور وسائل کی اہمیت کو سمجھتے ہیں. اپنے مسائل کی مکمل ذمے داری لیتے ہیں. الزام تراشی کا راستہ اختیار نہیں کرتے. انسانیت کی خدمت کا عزم اور مسلسل سیکھنے کی لگن دل میں رکھتے ہیں۔ لوگ سیاستدانوں پر کیوں اعتماد نہیں کرتے؟ میں نے پوچھا۔ انکل بولے۔ کردار اور قابلیت دونوں نہ ہوں یا جانتے بوجھتے دھوکہ دہی کو اختیار کر لیا جائے تو قابل اعتماد کیسے بنا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات کئے گئے کمزور فیصلے یا اچھی نیت کے باوجود ہوجانے والی غلطی یا صلاحیت کی کمی یا محض کوئی غلط فہمی لوگوں کے اعتماد کو مجروح کر دیتی ہے۔ اعتماد بحال کرنے کا راستہ بھی وہی ہے جو ایدھی صاحب نے اختیار کیا تھا۔ یا نی آپا بولیں۔ محبت کر سکنے کی اہلیت حاصل کر لینا ہی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم دوسروں کو اپنے جیسا انسان اور قابل احترام سمجھیں، نسل، مذہب، عقیدے ، امیری غریبی کے فرق کے بغیر۔ کسی صلہ کی توقع سے بے نیاز ہو کر۔ دوسروں کی صلاحیت کا کھل کر اعتراف کریں۔ ان کی کامیابی پر دلی خوشی محسوس کریں۔ ۔۔۔۔۔ جاری ہے

Dabbaywalon Ka Sheher ڈبے والوں کا شہر، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، ستاسٹھواں انشا City of Dabbaywalas, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast serial, Episode 67

Narration by: Shariq Ali
June 25, 2016
retina

Who represent Mumbai? Bollywood or Dabbawala who carries the lunch box and deliver freshly made food from customer’s home to offices? Have a glimpse of the city and decide

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

ڈبے والوں کا شہر، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، ستاسٹھواں انشا، شارق علی

٢٠٠٧ کی بات ہے پروفیسررسل اور میں ممبئی کے علاقے کولابا میں انڈیا گیٹ کے پاس تاج محل پیلس پہنچے تو استقبال یوں ہوا جیسے ہم کوئی مہاراجہ ہوں. محل نما عمارت کے ساتھ لگا اونچا رہائشی ٹاور . گویا دومختلف زمانوں کے طرز تعمیر ایک ساتھ . انکل پٹیل ممبئی کو یاد کر رہے تھے. بولے. اردلی نے سامان کمرے میں پہنچایا اور وہیں چیک ان کاروائی کامدارشیروانی اور بنارسی سا ڑھی پہنے اسٹاف نے ویلکم جوس پلاتے ہوۓ مکمل  کی. سجاوٹ جیسے کوئی میوزیم ہو . راہداریوں تک میں نادر فرنیچر اور پینٹنگز. اس قیام کے اخراجات پروفیسرکے میزبانوں کے ذمے تھے . ہم کیونکہ  وفد میں شامل تھے تو ہماری بھی موج. ریستوران میں کھڑکی کے قریب ناشتے کے لئے بیٹھے تو سمندر کا نظارہ جیسے کسی بحری جہاز سے. کچھ وقت پول کے کنارے پڑے شاہانہ جھولے پر ہلکورے لیتے اور یوگا پارلر میں بھی گزارا. وہی تاج نا جو 2008میں دہشت گردی کا نشانہ بنا تھا؟ میں نے کہا۔ بولے۔ بہت دکھ ہوا تھا ہمیں خبر سن کر۔ یوں سمجھو جیسے ممکنہ محبت میں دراڑ سی پڑ جائے ۔ دادا جی بولے۔ کہتے ہیں جمسیتجی ٹاٹا کو سفید فام واٹسن ہوٹل نے کمرہ دینے سے انکار کیا تو انہوں نے 1903 میں یہ ہوٹل تعمیر کیا تھا۔ پہلی جنگِ عظیم میں اسے چھ سو بستروں کا ہسپتال بنا دیا گیا تھا۔ یانی آپا بولیں کبھی نہ سونے والا ممبئی غریب اور امیر سب کا شہر ہے۔ تاج پیلس اورمکیش امبانی کا ایک بلین کا گھر بھی یہیں اور دھاراوی کی جھگیوں میں اچھی زندگی گزارنے کے سسکتے خواب بھی۔ سلم کن آبادیوں کو کہتے ہیں دادا جی؟ میں نے پوچھا۔ بولے۔ زندگی کی وہ دردناک حقیقت ممدو جو ایسی جگہ سانسیں لیتی ہو جہاں انسانی رہائشی معیار کے مطابق زندگی ممکن ہی نہیں ہے۔ بقول جون  ایلیا۔ جو گزاری نہ جا سکی ہم سے، ہم نے وہ زندگی گزاری ہے۔ انکل نے کہا۔ یہ سچ ہے کہ تاج ممبئی کی اصل تصویر نہیں۔ چلتے پھرتے عام لوگ اور سائیکلیں چلاتے ڈبے والے اس کے صحیح ترجمان ہیں۔ گھروں سے دفتروں تک کھانا پہچانے کا خود کار دیسی نظام ہیں یہ ڈبے والے۔ باعزت اور منظم محنت اور رزق حلال کی علامت .کوئی دو لاکھ کھانے کے ڈبے پانچ ہزار ڈبے والوں کےہاتھوں ادھر سے ادھر روز پہنچتے ہیں۔ پہلی ریل 1925 میں چلی تھی یہاں۔ بعض ٹرینیں دیکھ کر لگتا ہے کہ اسی زمانے کی ہیں۔ دفتری وقت ہوا تو کھوے سے کھوا چھلنے کا مطلب سمجھ میں آیا۔ کراچی کی طرح جنت اور جہنم ایک ساتھ بستے ہیں ممبئی میں بھی ۔ ایک رخ تاج پیلس تو دوسرا جھونپڑ پٹیوں میں حاجت رفع کرنے کے ناکافی انتظامات۔ نتیجہ، جگہ جگہ غلاظت کے ڈھیر۔ میں نے موضوع بدلنا چاہا اور کہا۔ ہندی فلموں کی سبزی منڈی بولی ووڈ کا بھی تو ذکر کیجئے۔ انکل ہنس کر بولے پھر کسی اور وقت مولانا۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

Jesse جیسی، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، تریپنواں، انشاء Jesse Owens, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast serial, Episode 53

Narration by: Shariq Ali
April 13, 2016
retina

Jesse Owens is the most influential athlete of the world who overcame poverty and racism by winning four gold medals at the 1936 Berlin Olympic Games

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

جیسی، دادہ اور دلدادہ، انشے سیریل، تریپنواں، انشاء، شارق علی

سیٹ کی آواز پر گہرا سانس لیا اور بینگ ہوتے ہی پوری طاقت سے سانس باہر نکالتے ہوئے سو میٹر کی فنش لائن کی سمت دوڑا اور سینہ آگے نکال کر ڈ پ کرتے ہوئے فنش کیا۔ پریکٹس رن کے دوران بتائی ہوئی ٹپس پر عمل کیا تویانی آپا نے تھمب اپ کرکے شاباش دی ۔ انٹر اسکولزنزدیک تھےاور میرا مقابلہ قد کی بنیاد پر بڑی عمر کے لڑکوں سے تھا۔ یانی آپا جو اپنے کالج کی بہترین اتھلیٹ ہیں میری کوچ تھیں۔ پریکٹس سیشن ختم ہوا تو ٹریک سے باہر آئے۔ میرون ٹریک سوٹ اورپونی ٹیل باندھے یا نی آپا اور میں ایرینا کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ بولیں. بڑی عمر کے لڑکوں سے مقابلے کے امتیازی سلوک کا خیال آئے تو جیسی اوونزکی کہانی یاد رکھنا ممدو۔ وہی نا جس نے ہٹلر کا غرور خاک میں ملایا تھا؟ میں نے کہا ۔ بولیں۔ ہاں وہی۔ انیس سو تیرہ میں الاباما میں پیدا ہونے والا سیاہ فام جیسی ایک لیجینڈ ہے، شاید انسانی تاریخ پر سب سے گہرا اثر ڈالنے والا اتھلیٹ۔ بچپن سے برق رفتار جیسی  نےسو میٹرنو اعشاریہ چارسیکنڈ میں  بھاگ کر دنیا کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔ پھر دو سو میٹر۔ دو سو بیس گزکی ہرڈ لس اور لانگ جمپ میں انیس سوچوراسی تک قائم رہنے والا عالمی ریکارڈ۔  سیڑھیاں ختم ہوئیں تو ہم پہا ڑی پربنے جمنازیم کی عمارت کے ساتھ لگے باغ  میں گلاب کے پھولوں سے بھری کیاری کے ساتھ بینچ پر بیٹھ گئے۔ یا نی آپا نے بات جاری رکھی۔ ان دنوں امریکا میں نسلی امتیازعروج پر تھا۔ اتھلیٹک سٹارہونے کے باوجود اسے گورے ہاسٹل میں قیام کی اجازت نہ تھی۔ کھانا صرف سیاہ فام ریستورانوں میں اور اسکالرشپ کے حق سے بھی محروم۔ شام سنہری ہو چلی تھی اور ہماری بینچ سے دور تک دکھائی دیتا منظر قابل دید تھا۔ سفید لائنوں والا سرخ  بیضوی ٹریک چوکور سبز میدان کو گھیرے ہوئے تھا۔ پیچھے دیوار کے ساتھ لگے پام کے درختوں کی قطار تھی۔ دائیں طرف سنگ سرخ سے بنے یونیورسٹی کے بلڈنگ بلاکس۔ اور سامنے کئی سمتوں سے آتی سڑکوں کا ملتا، تقسیم ہوتا، پھر گلے ملتا فلائی اوور۔ جی چاہا کہ میں اور یانی آپا یونہی اس بینچ پر بیٹھے رہیں اور یہ شام کبھی ختم نہ ہو۔ انہوں نے خاموشی کو توڑا اور بولیں۔ انیس سو چھتیس میں برلن اولمپک ہوا تو ہٹلرجرمنی کا حاکم تھااور نازی سوچ اپنے عروج پر۔ اولمپک کووہ جرمن قوم کی نسلی برتری ثابت کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ جیسی  نے چار اہم اولمپک گولڈ میڈل جیت کر ان کے عزائم خاک میں ملا دیئے ۔ اس جیت نے اسے گورے اتھلیٹس کے ساتھ سفر کرنے اور ریسٹورانوں میں جانے کی آزادی دی۔ جیسی  کی یہ کامیابی امریکا میں برابری کے حقوق کی جنگ کا بھرپور آغاز تھا۔ جیسی انیس سو اسی میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔ برلن کی ایک سڑک اور اریزونا کا ایک ہسپتال اس کے نام سے منسوب ہے۔ وہ کہتا تھا کامیابی کے خواب سب دیکھتے ہیں لیکن تعبیر صرف ثابت قدم، مسلسل جدوجہد اور نظم و ضبط کی پابندی کرنے والوں کو ملتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,216 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina