retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Tag Archive: "urd short story"

Pehla Pyar پہلا پیار، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چھپنواں انشا First sight love, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast serial, Episode 56

Narration by: Shariq Ali
April 28, 2016
retina

Nadia captured hearts across the globe in 1976 olympics. 18 year old Conner, an American gymnast, had kissed the 14-year-old Comaneci for a photo session. See what happens next

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

 

پہلا پیار، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چھپنواں انشا، شارق علی

موج در موج سمندر ریتیلے ساحل سے ٹکراتا تو چاندنی میں نہایا دودھیا جھاگ نیلے لباس پر سجے گوٹا کناری کی طرح چمکنے لگتا. ساحل سمندر پر شب بسری کی تجویز اور ہٹ کا انتظام انکل نے کیا تھا. رات کے کھانے کے بعد دادا جی اور انکل کرسیوں پر نیم دراز حالات حاضرہ میں محو ہوۓ تو میں اور یانی آپا ننگے پاؤں نرم ریت پر قدموں کے نشان بناتے چاندنی کا ہاتھ تھامے کچھ دور نکل آئے . موضوع گفتگو منیر نیازی کی شاعری تھا. یانی آپا نے نظم کےآخری مصرعے پڑھے . یہ نا آباد وقتوں میں، دل ناشاد میں ہو گی، محبّت اب نہیں ہو گی، یہ کچھ دن بعد میں ہو گی، گزر جائیں گے جب یہ دن تو ان کی یاد میں ہو گی. کچھ خاموش قدموں کے بعد میں نے کہا. آخر اب کیوں نہیں؟ اور کچھ دن بعد کیوں؟ مسکرا کر بولیں. بھئی نادیہ اوربا رٹ کے ساتھ تو یہی کچھ ہوا تھا. مجھے ہمہ تن گوش دیکھا تو بولیں. محبّت اس پہلے پیار سے ہو جانا چاہئیے تھی جو اٹھارہ سالہ با رٹ کونر نے ١٩٧٦ میں پری اولمپک نیو یارک مقابلہ جیتنے کے بعد کسی فوٹوگرافر کے کہنے پر چودہ سالہ نادیہ کومانیچی کے رخسار پر کیا تھا. یہ واقعہ با رٹ کو تو یاد رہا لیکن نادیہ کوبالکل نہیں. وہی  نادیہ نا  جس نے ١٩٧٦ کے مونٹریال اولمپک میں تاریخ ساز پرفیکٹ ١٠ حاصل کیا تھا تو اس کی شہرت پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی. پھر وہ ٹائمز کے کورپیج پر جلوہ افروز ہوئی. میں نے کہا. بولیں. ٹھیک. امریکی جمناسٹ با رٹ نے ١٩٨٤ اولمپکس میں دو گولڈ مڈل جیتے تھے. ١٩٨٩ میں نادیہ  کمیونسٹ حکومت سے  بغاوت کر کے سات ساتھیوں سمیت ایک امریکی شخص کی مدد سے کیچڑ اور برف سے آٹی سرحد عبور کر کے پہلےہنگری اور پھر امریکا پھنچی تو ہراساں نادیہ کو ٹی وی شو میں دیکھ کر بارٹ مدد کو پھنچا اور مونٹریال میں اس کی رہائش کا بندوبست کیا. ایک سال تک یہ دوستی محض فون پر گفتگو تک محدود رہی. کئی ملاقاتوں اور سوچ بچار کے بعد ١٩٩١ میں بارٹ نے ایمسٹرڈیم میں نادیہ کو شادی کے لئے پروپوز کیا. پھر پہلے پیار کے سولہ سال بعد ٣٤ سالہ نادیہ اور ٣٨ سالہ بارٹ  نے رومانیہ کے شہر بخارسٹ کے آرتھوڈوکس چرچ میں شادی کی تو یہ تقریب رومانیہ کے قومی ٹی وی اور وائڈ ورلڈ آف سپورٹس کے ذریعے دنیا بھر میں پھیل گئی. آج وہ دونوں رومانٹک پیر جمناسٹکس کے با نی سمجھے جاتے ہیں. منیر نیازی کی کہی نظم محبت اب نہیں ہو گی سمجھنا چاہو ممدو تو نیل ڈائمنڈ کے گانے گر دنیا میں خواب نہ ہوتے پر نادیہ اور با رٹ کا جمناسٹک رقص دیکھ لینا جو دنیا بھر میں مقبول ہے……جاری ہے

غلام تجارت، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چودھویں قسط Slave Trade, Grandpa & me, Urdu/Hindi Pod cast Episode 14

Narration by: Shariq Ali
October 21, 2015
retina

Trafficking of Africans by the major European countries for about 350 years is a crime against humanity. This story is about greed and cruelty, but also about the will to survive and to be free.

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

غلام تجارت، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چودھویں قسط، شارق علی

انکل کی ملازمہ نصیبن کا باپ قرض کے بدلے بوڑھے زمیندار سے اس کی شادی  پر راضی ہوا تو یانی آپا کا غصہ قابل دید تھا۔ اس شام ہمت کر کے میں نے کہا۔ شادی تو سب کی ہونی ہی ہوتی ہے، نصیبن کی شادی میں کیا حرج ہے؟ کہنے لگیں یہ شادی نہیں غلام تجارت ہے ممدو۔ کوئی با ضمیر ایسا ظلم برداشت نہیں کرسکتا۔ میں نے گفتگو کو طول دیا۔ غلام تجارت کیا ہوتی ہے یانی آپا؟ کہنے لگیں۔ یوں تو یہ ظلم آج بھی مختلف شکلوں میں جاری ہے، لیکن منظم طور پر سیاہ فام افریقی غلاموں کو امریکہ لے جاکر فروخت کرنا پندرھویں صدی میں پرتگالیوں اور کچھ ہسپانویوں نے شروع کیا تھا۔ برطانوی تاجر سولہویں صدی میں اس مذموم تجارت میں شامل ہوئے اور پھر اسے عروج  پر پہنچا کر سب سے زیادہ منافع کمایا۔ اٹھارہویں صدی تک ساٹھ لاکھ افریقی امریکہ میں بیچے گئے اور تقریبا تیس لاکھ نے راستے میں دم توڑ دیا۔ کم از کم ہر تیسرے غلام کی تجارت کے  ذمہ دار برطانوی تاجرتھے۔ وہ برطانیہ سے اسلحہ اور برانڈ ی  جہازوں پر لادتے اور افریقی ملکوں جیسے انگولا اور کونگو وغیرہ میں مقامی حکمرانوں اور تاجروں کو بیچ کر ان کے سیاسی مخالفین، قیدی اور بعض اوقات گائوں اور دیہاتوں سے سیاہ فام معصوموں کو قید کر کے غلام بنا لیتے۔ پھر انہیں سینکڑوں میل پیدل چلا کر بندرگاہوں کی ان جیلوں تک لاتے جنہیں وہ فیکٹریاں کہتے تھے۔ پھر ان بے گناہ لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح  چار مربع فٹ کے پنجروں میں جانوروں سے بھی بد تر حالت میں امریکہ لے جایا جاتا۔ سات ہفتوں کے اس سفر میں تقریبا پندرہ فی صد غلام بھوک یا بیماری یا فرار ہونے کی کوشش میں دم توڑ دیتے۔ امریکہ میں وہ ان غلاموں کو شراب اور شکر کے عوض فروخت کرتے اور یہ مال برطانیہ لا کر خوب دولت کماتے۔ یہ سچ ہے کہ اس ظالمانہ کاروبار نے برطانوی معیشت کو مضبوط کیا تھا۔ ادھر امریکہ میں ان غلاموں کے ستھ ظالمانہ سلوک کیا جاتا۔ فیصل کاٹنے کے موسم میں اڑتالیس گھنٹے مسلسل کام کی مشقت لی جاتی۔ بالآخر کچھ مفرور اور باغی غلاموں نے انگلستان میں افریقہ کے بیٹے نامی تنظیم بنائی اور اس ظلم کے خلاف خطوط لکھنے کی مہم چلا کر انسانی ضمیر کو جھنجھوڑا۔ غلام تجارت کے خلاف پہلے مظاہرے کی قیادت ٹیکی نے کی تھی جو خود ایک غلام رہ چکا تھا۔عوامی رائے ہموار ہونا شروع ہوئی تو سترہ سو ستاسی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی۔ پھر برطانوی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی مظاہروں نے برطانوی پارلیمنٹ کو غلام تجارت پر پابندی لگانے پر مجبور کردیا۔ پھر امریکہ میں بھی اس کاروبار پر پابندی لگی اور یوں ساڑھے چار سو سال تک جاری رہنے والایہ گھناونا کاروبار ختم  ہوا۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,216 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina