retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Tag Archive: "story"

غلام تجارت، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چودھویں قسط Slave Trade, Grandpa & me, Urdu/Hindi Pod cast Episode 14

Narration by: Shariq Ali
October 21, 2015
retina

Trafficking of Africans by the major European countries for about 350 years is a crime against humanity. This story is about greed and cruelty, but also about the will to survive and to be free.

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

غلام تجارت، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چودھویں قسط، شارق علی

انکل کی ملازمہ نصیبن کا باپ قرض کے بدلے بوڑھے زمیندار سے اس کی شادی  پر راضی ہوا تو یانی آپا کا غصہ قابل دید تھا۔ اس شام ہمت کر کے میں نے کہا۔ شادی تو سب کی ہونی ہی ہوتی ہے، نصیبن کی شادی میں کیا حرج ہے؟ کہنے لگیں یہ شادی نہیں غلام تجارت ہے ممدو۔ کوئی با ضمیر ایسا ظلم برداشت نہیں کرسکتا۔ میں نے گفتگو کو طول دیا۔ غلام تجارت کیا ہوتی ہے یانی آپا؟ کہنے لگیں۔ یوں تو یہ ظلم آج بھی مختلف شکلوں میں جاری ہے، لیکن منظم طور پر سیاہ فام افریقی غلاموں کو امریکہ لے جاکر فروخت کرنا پندرھویں صدی میں پرتگالیوں اور کچھ ہسپانویوں نے شروع کیا تھا۔ برطانوی تاجر سولہویں صدی میں اس مذموم تجارت میں شامل ہوئے اور پھر اسے عروج  پر پہنچا کر سب سے زیادہ منافع کمایا۔ اٹھارہویں صدی تک ساٹھ لاکھ افریقی امریکہ میں بیچے گئے اور تقریبا تیس لاکھ نے راستے میں دم توڑ دیا۔ کم از کم ہر تیسرے غلام کی تجارت کے  ذمہ دار برطانوی تاجرتھے۔ وہ برطانیہ سے اسلحہ اور برانڈ ی  جہازوں پر لادتے اور افریقی ملکوں جیسے انگولا اور کونگو وغیرہ میں مقامی حکمرانوں اور تاجروں کو بیچ کر ان کے سیاسی مخالفین، قیدی اور بعض اوقات گائوں اور دیہاتوں سے سیاہ فام معصوموں کو قید کر کے غلام بنا لیتے۔ پھر انہیں سینکڑوں میل پیدل چلا کر بندرگاہوں کی ان جیلوں تک لاتے جنہیں وہ فیکٹریاں کہتے تھے۔ پھر ان بے گناہ لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح  چار مربع فٹ کے پنجروں میں جانوروں سے بھی بد تر حالت میں امریکہ لے جایا جاتا۔ سات ہفتوں کے اس سفر میں تقریبا پندرہ فی صد غلام بھوک یا بیماری یا فرار ہونے کی کوشش میں دم توڑ دیتے۔ امریکہ میں وہ ان غلاموں کو شراب اور شکر کے عوض فروخت کرتے اور یہ مال برطانیہ لا کر خوب دولت کماتے۔ یہ سچ ہے کہ اس ظالمانہ کاروبار نے برطانوی معیشت کو مضبوط کیا تھا۔ ادھر امریکہ میں ان غلاموں کے ستھ ظالمانہ سلوک کیا جاتا۔ فیصل کاٹنے کے موسم میں اڑتالیس گھنٹے مسلسل کام کی مشقت لی جاتی۔ بالآخر کچھ مفرور اور باغی غلاموں نے انگلستان میں افریقہ کے بیٹے نامی تنظیم بنائی اور اس ظلم کے خلاف خطوط لکھنے کی مہم چلا کر انسانی ضمیر کو جھنجھوڑا۔ غلام تجارت کے خلاف پہلے مظاہرے کی قیادت ٹیکی نے کی تھی جو خود ایک غلام رہ چکا تھا۔عوامی رائے ہموار ہونا شروع ہوئی تو سترہ سو ستاسی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی۔ پھر برطانوی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی مظاہروں نے برطانوی پارلیمنٹ کو غلام تجارت پر پابندی لگانے پر مجبور کردیا۔ پھر امریکہ میں بھی اس کاروبار پر پابندی لگی اور یوں ساڑھے چار سو سال تک جاری رہنے والایہ گھناونا کاروبار ختم  ہوا۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔

شہرزاد، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، بارہواں انشا Sheherzade, Grandpa & Me, Urdu/Hindi Pod cast, Episode12

Narration by: Shariq Ali
October 14, 2015
retina

Shahrazade having devised a scheme to save herself and others, insists that her father give her in marriage to the king Sheheryar. See what happens next in this story

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

شہرزاد، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، بارہواں انشا، شارق علی

نیرنگ آباد میں انتخابات کی گہماگہمی تھی۔ ٹی وی چینلز پر جلسوں کی براہ راست نشریات، تبصرے، مباحثے۔ رات کے کھانے کے دوران ٹی وی پر لوگوں کا جم غفیر دیکھا تو دادا جی  نے کہا۔ نا اہل حکمرانوں کو بار بار منتخب کرنے والوں سے بھلا کسے ہمدردی ہوسکتی ہے۔ کھانے کے بعد جب میں اور یانی آپا لان میں رات کی رانی کی خوشبو کا ہاتھ تھامے ٹہل رہے تھے تو میں نے پوچھا۔ عوام اس قدر بے وقوف کیوں ہوتی ہے؟ وہ بولیں۔عوام تو شہریار ہوتی ہے ممدو۔ روز مرہ کی بے وفائی سے زخمی۔حالات کی جادو گری کے سنگ دل حصار میں قید۔ اگر وہ خوش قسمت ہو تواسے شہرزاد مل جاتی ہے جو کہانی سنا کر دو بارہ محبت پر اور اپنے روز و شب سنوارنے پر قائل کرلیتی ہے ۔یہ عوام بدقسمت ہے شا ید کہ اسے ہر بار ان حکمرانوں کی دل فریب جھوٹی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں ۔یہ شہریار اور شہرزاد کون تھے یانی آپا؟ میں نے پوچھا۔ کہنے لگیں عباسیوں کا دور حکومت تھا، شاید آٹھ سو پچاس ص ع  کے لگ بھگ، جب  ایک فارسی مصنف نے کہانیوں کا ایک مجموعہ مرتب کیا تھا جسے عرف عام میں الف لیلہٰ کی ایک ہزارایک راتیں یا اریبین نائٹس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کسی زمانے میں ایک ساسانی بادشاہ شہریار نے ظالمانہ روش اپنا رکھی تھی۔وہ ہر رات جس خوبصورت حسینہ سے شادی کرتا  اسے صبح ہونے سے پہلی قتل کروادیتا تھا۔ کچھ کہتے تھے اس کی وجہ ملکہ کی بے وفائی کا انتقام تھی، اور کچھ کے خیال میں وہ کسی ظالم جادو گر کے کیے ہوئے سحر میں گرفتار تھا۔ اس کے وزیر کی بیٹی شہرزاد، جو شاعری،  فلسفہ، تاریخ اور ادب پر عبور رکھتی تھی، نے ایک دن یہ ظالمانہ روش ختم کرنے کی ٹھان لی اور شہریار کی دہلن بننے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیر بے حدپریشان ہوا، لیکن شہرزاد بہت پراعتماد تھی ۔شادی کی رات شہرزاد نے شہریار کو کہانی سنانے کی پیش کش کی ۔کہانی شروع ہوئی تو شہریار اس کہانی کے پیچ و خم سے مسحور ہو کر رہ گیا۔ صبح کی پہلی  کرن پھوٹی تو کہانی ایک دلچسپ موڑ پر تھی ۔شہرزاد نے کہانی روک کر شہریارکوصبح ہونے کا احساس دلایا۔ لیکن شہریار نے شہرزاد کا قتل اگلی رات تک کے لیے ملتوی کردیا۔ اگلی رات شہرزاد نے کہانی دوبارہ شروع کی، اور پھر یہ کہانی اس سے اگلی، اور پھر اگلی حتٰی کہ ایک ہزار ایک راتوں تک جاری رہی۔ آخری رات شہرزاد نے کہانی سنانے سے انکار کر کے قتل ہونے کی پیش کش کی ۔شہریار اس دوران شہرزاد کی محبت میں گرفتار ہوچکا تھا۔ اس نے شہرزاد کو اپنی ملکہ بنالیا اور یوں وہ ملک اس ظالمانہ روش سے آزاد ہوا۔ الہ دین کا چراغ، سند باد جہازی اور علی بابا چالیس چور ان میں سے چند کہانیاں ہیں جو شہرزاد نے شہریار کو سنائیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے

غار کے قیدی ، دادا اور دلدادہ ، انشے سیریل ، گیا رہواں انشا Allegory of Cave, Grandpa & Me, Urdu/Hindi Pod cast, Episode 11

Narration by: Shariq Ali
October 11, 2015
retina

This story is from Plato’s most famous book, The Republic. Enjoy the wisdom

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

غار کے قیدی ، دادا اور دلدادہ ، انشے سیریل ، گیا رہواں انشا ، شارق علی

میں نے سائیکل کو مہارت سے موڑ کر بریک لگایا اور اسے باغ میں اسٹینڈ پر کھڑا کرکے ہاتھ میں پکسیز کا پیکٹ لیے یانی آپا کے کمرے میں پہنچا تو وہ نیم تاریک کمرے میں کپڑے استری کرتےہوئے یوٹیوب پر استاد شجاعت حسین کا ستار سن رہی تھیں ۔ میرے ہاتھ میں اپنی پسندیدہ چاکلیٹ کا پیکٹ دیکھ کر وہ کھل اٹھیں۔ ان کے لبوں کی مسکراہٹ نے دو میل سائکل چلانے کی تھکن دور کردی۔ میں نے باغ کے رخ والی کھڑکی کھولی تو کمرہ روشنی میں نہاگیا۔ ہم مل کر چاکلیٹ سے لطف اندوز ہونے لگے تو فلسفیانہ انداز میں بولیں۔ ذہن کا دریچہ کھول دیا جائے تو علم کی روشنی ہمیں آزاد کردیتی ہے ممدو۔ میں نے کہا۔ آپ کی بات کچھ سمجھا نہیں یانی آپا ۔بولیں۔شاید تم اس استعارے کو ایک کہانی کی صورت بہتر طور پر سمجھ سکو گے۔یہ کہانی افلاطون نے اپنی کتاب ری پبلک میں لکھی ہے۔ تصور کرو کہ تم تاریک غارمیں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک ہو،  ہاتھ پیر بندھے ہوئے، پشت غار کے داہنے کی سمت جہاں سے روشنی اندر آتی ہے اور تمہارا چہرہ غار کی پتھریلی تاریک دیوار کی طرف ہے۔ تم سمیت کسی کو بھی اپنے قیدی ہونے، ہاتھ پیر بندھے ہونے کا احساس نہیں کیونکہ سب یہیں پیدا ہوئے ہیں اور صرف اسی حقیقت سے واقف ہیں۔ غار  کے دہانے سے آنے والی روشنی چٹانی دیوار پر شکلوں کے سائے بناتی ہے اور لوگ چیخ کر ان کا نام پکارتے ہیں۔ درخت، پہاڑ، پرندے وغیرہ۔ سب مطمئین کہ یہی سائے ہی اصل حقیقت، یہی اصل زندگی ہے۔ وہ کسی اور صورت حال سے واقف ہی نہیں ہیں. ۔پھر تم کسی صورت بندھے ہاتھ پیر کھول کر آزاد ہوجاتے ہو۔ پہلی بار کھڑے ہوکر روشنی کی سمت مڑ کر دیکھتے ہو ۔تمہارا سامنا سایوں سے نہیں اشیا کی حقیقی صورتوں سے ہوتا ہے۔ پھر تم غارکے دہانے سے گزر کر باہر نکل آتے ہو۔۔۔ تازہ ہوا ، دن کی روشنی۔ نئے رنگ، مہکتی خوش بوئین ۔کتنے درد ناک تھے وہ دن جب تم نے صرف سائے دیکھے تھے۔ پھر تم آسمان دیکھتے ہو اور سورج اور تمہیں غارمیں بسنے والی زندگی کے جھوٹ کا دکھ بھرا احساس ہوتا ہے۔ تم پلٹتے ہو غار کی سمت کہ قیدیوں کو سچائی بتا سکو۔ لیکن وہ ہاتھ پیر بندھے لوگ تم پر ہنستے ہیں۔ وہ جنہوں نے سایوں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ تمہارا مذاق اڑاتے ہیں۔تو ممدو جو کچھ نظر آتا ہے اس پر مطمئین مت ہونا۔ اسے مکمل سچ نہ سمجھ لینا۔ علم اور سچائی جد و جہد سے حاصؒ ہوتی ہے۔ ہاتھ پیروں کو آزاد کرلینے سے، غار کی قید  سے باہر نکل آنے سے۔ دمکتی ہوئی روشنی کا سامنا کرنے سے ۔بہت سے عظیم سچ باہر کی دنیائوں میں تمہارا انتظار کررہے ہیں ۔کبھی اور کسی صورت اندھیرے غار میں قیدیوں جیسی زندگی کو قبول نہ کرنا۔۔۔۔جاری ہے

فنکار، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، دسواں انشا An Artist, Grandpa & Me, Urdu/Hindi Pod cast, Episode 10

Narration by: Shariq Ali
October 6, 2015
retina

This story is about an artist

“I am enough of an artist to draw freely upon my imagination. Imagination is more important than knowledge. Knowledge is limited. Imagination encircles the world.”

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

 

 

 

فنکار، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، دسواں انشا

گھنٹی بجی، دادا جی نے دروازہ کھولا۔ سرکاری وردی میں ملبوس، ایک ہاتھ میں تھیلا، دوسرے میں لفافے۔ میں خوف کے مارے کونے ہی میں دبکا رہا۔ دستخط کر کے ، لفافہ کھولا اور کاغذ میری طرف بڑھاتے ہوئے دادا جی بولے ۔سارے مضامین میں اے اور حساب میں اے اسٹار۔ بھئ ہمارے ممدو نے تو آئنسٹائن کوبھی مات دے دی۔ مارے خوشی کے  میں پھولا نہ سماتا تھا ۔کچھ دیر مبارکبادوں اور مٹھائی کھانے کھلانے میں گزری ۔پھر جب سب چائے کے مگ لیے صوفوں پر بیٹھے تو میں نے پوچھا۔ کیا واقعی آئنسٹائن اسکول میں ذہین طالب علم شمار نہ ہوتا تھا؟ انکل بولے۔اٹھارہ سو اناسی میں یہودی خاندان میں پیدا ہونے والے اس لڑکے کو میونخ کے اسکول ماسٹروں نے درمیانے درجے کا طالب علم قرار دیا تھا لیکن ۔وہ بچپن ہی سے فزکس اور ریاضی میں گہری دلچسپی رکھتا تھا۔ انیس سومیں تعلیم مکمل کرکے پیٹنٹ آفس میں ملازمت کے دوران وہ فارغ وقت میں تھیوریٹکل فزکس کا مطالعہ کرتا رہتا۔ اگلے پانچ سالوں میں اس نے حیران کن سائنسی مضامین لکھے۔ جن میں تھیوری آف ریلیٹیوٹی اور مشہور عالم فارمولا ای برابر ایم سی اسکوائر شامل ہیں۔ میں نے پوچھا۔  اس فارمولے کا فائدہ؟ دادا جی بولے۔یہ فارمولا ریاضی کی زبان میں اس سچ کا اظہار ہے کہ مادہ  حرارت اور بجلی کی طرح توانائی ہی کی ایک صورت ہے. پھر ایسے آلات بنے جو ایٹم جیسے چھوٹے ذرے کو توڑ کر بیش بہا توانائی پیدا کرسکتے ہیں۔ آج دنیا میں پیدا کی جانے والی تیرہ فی صد توانائی اسی فارمولے ہی کا فیضان ہے۔ بد قسمتی سے یہ ایٹم بم کی ایجاد کا سبب بھی ہے۔ یانی آپا نے برفی کا ٹکڑا پلیٹ میں ڈالا اور بولیں۔ آئنسٹائن انیس سو نو میں زیورک یونیورسٹی کا پروفیسر بنا  کچھ ہی برس بعد پہلی جنگ عظیم شروع ہوگئی۔ انیس سو انیس میں اس کی تھیوری آف ریلیٹوٹی نے عالمی شہرت حاصل کر لی۔ سائنسی رسالوں میں اس کاکام سراہا گیا اور انیس سو اکیس میں اسے نوبل انعام ملا۔ ابتر سیاسی صورت حال کے سبب انیس سو بتیس میں اس نے نازی جرمنی کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہا۔ امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی انیس سو تینتیس کے بعد سے اس کا مستقل ٹھکانہ رہی۔  ۔انیس سو انتالیس میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی۔تو امریکی صدرروزولٹ کو اپنے خط میں اس نے ایٹم بم بنانے پر قائل کیا کہ کہیں نازی جرمنی یہ مہلک ہتھیارپہلے نہ حاصل کرلے۔ یاد رہے کہ یہ آئنسٹائن ہی تھا جس نے اقوام متحدہ برائے امن کی تجویز سب سے پہلے پیش کی تھی۔ وہ اپنی آخری سانسوں تک یونیفائڈ فیلڈ تھیوری پر کام کرتا رہا مگر کامیاب نہ ہوسکا اور انیس سو پچپن میں چھیتر سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگیا ۔۔خود اپنے الفاظ  میں وہ ایک ایسا فنکار تھا جوتخلیقی تصور کی آزادی سے لطف اندوز ہوسکا۔۔۔۔۔جاری ہے

Neem Tree Solitude

Narration by: Shariq Ali
September 3, 2013
retina

How solitude can convert a Neem Tree into a spaceship?

 

Is the extroversion-introversion axis a right approach to analyse one another?

 

Please read the brief article below and find out!

One of my bright childhood memories is about our home in Hyderabad Sindh. It had a moderate size lawn in front and the most prominent feature was a sizeable and mature Neem tree on one side of this lawn. I was 11-years-old at that time and used to be quite sporty and a voracious reader. It did not take me too long to become an expert to climb up this tree and I used to do it literally in seconds.

 

neem_tree_1

This tree had a very thick and strong, and somewhat oblique to horizontal branch of about four feet emerging from the main trunk at an acute angle. It had a natural curve to support my cylinder body in a comfortable reclining position. With lots of small branches full of Neem leaves and NIMBOLIS (Neem tree fruits) all around this big branch, it became my favourite childhood hiding place and very rightly so, as Robin Hood was on thetelevision those days and hence, was one of my role models. The other one was Captain Kirk of Star Trek and it was effortless for my childhood imagination to convert this Neem tree into a spaceship whenever required.

This Neem tree became a kind of creative den for me to sit and and indulge my colourful imagination in for hours and hours. I used to reflect on my daily childhood affairs there and used to even read books. I read many Ferozsons books (famous childhood Urdu publisher at that time) while reclining on the branch of this Neem tree. The most enjoyable read was the novel “Tarzan” for obvious reasons.

I also used to get the occasional enjoyment of seeing my elder brothers searching for me anxiously everywhere and in the lawn because of my long absence from home. They could not see me because of my high position in the tree and the leaves all around me. Indeed, this used to make it even more exciting. 

For an otherwise very active and extrovert boy, this Neem tree provided me with an opportunity to maintain some semblance of balance and some sense while steering the ship of my 11 year life. For the first time in my life, I came to know the difference of solitude and loneliness. I realised thatexternally they both look the same but all resemblance ends at the surface.

Traditionally the extroversion-introversion axis is a way of thinking about differences in personality. The distinction was originally made by Freud and has since been widely used as a concept to help us understand one another. In schools and at work places, we commonly label people as extroverts when they are assertive, self-expressive, and generally dominant, and label them as introvert when they are withdrawing, secretive, and have a more yielding personality. Solitude is usually associated with introversion and unfortunately there is a negative tinge attached to the use of both of these words. 

I disagree with the negative sense attached to the term introversion and solitude. In order to better understand extroversion and introversion, we need a historical perspective. When we, as a civilisation, were in an agricultural age, most of us lived relatively in smaller units of villages. We weresurrounded by familiar people and circumstances. Solitude and reflection was a socially accepted norm in those days. In fact, it was very much encouraged by religion and philosophical doctrines. There was no need to assert oneself as everyone knew each other and the centre of focus was character and integrity.

village

When we entered into the industrial age, we started to live in larger units of cities. We became surrounded by huge numbers of strangers and unfamiliar circumstances. It became necessary for our social survival to assert our identity and exhibit our talents to strangers. We became more familiar with team work and group dynamics and creativity moved from reflection and intuition to brain-storming and board room decision making. Focus of success shifted from character integrity to salesmanship and marketing.

Extroversion no doubt has its own merits and these are recognised and celebrated widely in our present day world.  My point is that for a peaceful and integrated world and for the harmonious future for our race, we need a balanced combination of introversion and extroversion within our leaders, and within us as human race. In order to thrive and move successfully in our present day world, we need the reflective and imaginative power of an introvert along with the brilliance of communication skills and power of familiarity of an extrovert with present day world and technology. We need the introvert qualities of achieving calm, becoming relaxed and better at listening and the timely ability to be assertive, fully awake, expressive and pragmatic decision-making skills to run the affairs of our present day world and our future.

Solitude and introversion demands a careful thought from teachers, educationists, writers, community leaders and parents to anticipate and prepare for a better world and for a better future for our kids.

 

 
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,216 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina