retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Tag Archive: "short story"

Yaar e Shehsawar یار شہسوار، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، تراسیواں انشا Gallant confidant, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast Serial, Episode 83

Narration by: Shariq Ali
September 22, 2016
retina

Story of the gallant confidant, who in combination with iron weapons, made Hittites the super power of their times

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

 

یار شہسوار، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، تراسیواں انشا، شارق علی

جوکی کلب کے پھولوں سے آراستہ برآمدے میں قدیم کوفی ٹیبل سے اٹھ کر ہم سر سبز و شاداب باغ کی جانب بڑھے تو میں نے پوچھا. گھوڑوں سے خاندانی دلچسپی کب سے؟ پیٹر بولا. نیو مارکیٹ ریس کورس سے یہ تعلق دو سو سال پرانا ہے. پہلے کلب کے اندرونی حسن اور گھڑ سواری کے  نوادرات سے سجے کمرے صرف ممبرز کے استعمال میں تھے. اب خصوصی مہمان اور تقریبات کی بھی اجازت ہے. انکل انگلینڈ کی کاؤنٹی نارفوک کا ذکر کر رہے تھے. بولے. پیٹر نے بتایا کہ سینکڑوں ایکڑ پر پھیلی یہ جاگیر گھوڑوں کی تربیت کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے. راولی مائل یورپ کا سب سے بڑا ریس کورس ہے اور سالانہ شب موسیقی کی وجہ سے جانا جاتا ہے. یانی آپا بولیں. انگلینڈ کی پانچویں بڑی کاؤنٹی ہے نارفوک . سو میل لمبا ساحل اور میلوں پھیلے گھنے جنگل اور سر سبز و شاداب روایتی انگلش دیہات . نورچ سب سے بڑا شہر ہے یہاں کا. پورے مغربی یورپ میں رقبے کے لحاظ  سے سب سے زیادہ میڈییول چرچ ہیں یہاں. کوئی چھ سو کے قریب. گھڑ سواری کا آغاز کب ہوا دادا جی؟ میں نے پوچھا. بولے. گھوڑوں کا ارتقائی سفر پینتیس لاکھ سال پہلے شمالی امریکا سے شروع ہوا تھا. پہلے تو یہ زیبرا کی طرح آزاد جنگلی جانور تھے. کوئی چھ ہزار ق م میں شمالی امریکا کی مقامی آبادی نے شکار سے ان کا مکمل صفایا کر دیا. صرف وہ بچے جو نرم گھانس، سیب اور گاجروں کے تعاقب میں وسطی اشیا کو ہجرت کر چکے تھے. موجودہ گھوڑے ان مہاجر گھوڑوں کی نسل ہیں. ایک لاکھ ق م  پہلے جب ابتدائی انسان وسطی اشیا پہنچے تو پہلے تو لباس، خیمے اور اوزار بنانے کے لئے گھوڑوں کا شکار ہوا. لیکن ٤٠٠٠ ق م میں پہلی بار کیسپین سمندر کے گرد بسے ہندی یورپین لوگوں نے سامان ادھر سے ادھر لے جانے کے لئے گھوڑے سدھانا شروع کئیے . ممکن ہے کچھ ان پر سوار بھی ہوۓ ہوں. پھر گھوڑا گاڑی کا استعمال عام ہونے لگا. ٢٥٠٠ کلو ق م میں مغربی اشیا کی سمیرین تہذیب میں گھوڑا گاڑیاں شہروں کے درمیان تجارت کے لئے  چلیں.پھر ہٹیٹ جنگجوؤں نے پہلی بار تیز رفتار گھوڑے جتے چیریوٹ کو جنگوں میں استعمال کیا. فولادی ہتھیار اور  چیریوٹ نے انھیں اس دور کی سپر پاور بنا دیا. پھر ١٩٠٠ ق م میں ٹرائے کی جنگ میں  چیریوٹ  استعمال ہوۓ اور ١٧٠٠ ق م  میں یہ استعمال مصر پہنچا. چین کی شینگ ڈائیسٹی نے ١٢٠٠ ق م میں چیریوٹ  استعمال کیے .  زین اور لگام تو صرف ٢٠٠ ق م  میں ایجاد اور استعمال ہوۓ . انکل نے کہا. انسانی تاریخ میں اہم جنگی ہتھیار رہے ہیں گھوڑے. چیریوٹ جنگجو پیدل سپاہ کو کچل سکتے تھے. وہ تیزی سے تھکے بغیر ادھر سے ادھر پہنچتے، پیغام رسانی، حملہ آور اور فرار ہو سکتے تھے. دادا جی بولے. پھر گھڑ سواری کا فن دنیا بھر میں پھیلا. شمالی امریکا ہزاروں سال گھوڑوں سے  محروم رہا. ہسپانوی پندرھویں صدی میں اپنے ساتھ گھوڑے لے کر پہنچے تو مقامی لوگ یہ مخلوق دیکھ کر حیران رہ گئے. ہسپانویوں نے ازٹیک تہذیب کو گھوڑوں ہی کی مدد سے شکست دی تھی ورنہ یہ جیت ممکن نہ تھی. پھر ریڈ انڈینز نے پکڑے ہوۓ ہسپانوی گھوڑے استعمال کرنے میں مہارت حاصل کی……….جاری ہے

 

ساؤ پاؤلو میں اجنبی، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چھبیسواں انشا Stranger of Sao Paulo. Grandpa & me. Urdu/Hindi Pod cast serial. Episode 26

Narration by: Shariq Ali
December 13, 2015
retina

Enjoy the discovery of Brazil with Pedro Alvares Cabral in this story. A country of Amazon river, rainforests and anaconda

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

ساؤ پاؤلو میں اجنبی، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چھبیسواں انشا، شارق علی

انکل پٹیل کل رات ہی برازیل کے سفر سے لوٹے تھے. ناشتے کی میز پر دادا جی، یانی  آپا اور میں سفر کی روداد کے لئے ہمنہ تن گوش تھے. انکل نےکہا. دبئی سے فرینکفرٹ اور وہاں سے فورٹالیزا براستہ ساؤ پاؤلو . گھر سے چلے اٹھائیس گھنٹے ہو چکے تھے. کہر آلود صبح میں اونچی عمارتوں سے ٹکرا جانے کے خدشے کو شکست دیتا اور ائیرپورٹ کے گرد تین چکر لگانے کے بعد جب ہمارا جہاز کامیابی سے رن وے پر اترا تو مجھ سمیت سب مسافروں نے تالیاں بجا کر پائلٹ کو داد دی. ساؤ پاؤلو کے سادہ سے ائیرپورٹ پر سامان کے آخری لمحے تک انتظار اور مایوسی کے بعد ایئر لائن کے دفتر پھنچا تو فرینکفرٹ میں سامان پیچھے رہ جانے کی معزرت کے ساتھ ایک تھیلا اور ١٥٠ یو ایس ڈالر ہرجانہ وصول پایا. فورٹالیزا کی فلائٹ پانچ گھنٹے بعد تھی . انتظارگاہ کی بینچ پر بیٹھ کر تھیلا کھولا تو ایک ٹی شرٹ ، نیکر ، موزے کی جوڑی اور ٹوائیلیٹری بیگ میں موجود صابن، ٹوتھ پیسٹ، ریزر اور ٹوتھ برش سے ملاقات ہوئی. تھیلا سر کے نیچے رکھ کر نیم دراز ہونے ہی کو تھا  کے لمبا اورکوٹ اور سر پر جہازی ٹوپی پہنے ایک بوڑھا بینچ پر ساتھ آ بیٹھا اور بولا. تیرہ بحری جہازوں پر لادنے کے لئے مصالحہ جات  کا ذخیرہ فراہم کر سکیں گے آپ؟ میں بینچ پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا. نیند ہرن ہو چکی تھی. میرا جواب سنے بغیر ہی اجنبی بولا. میں پیڈرو ہوں، پیڈرو الواریس کبرال . ایک پرتگالی مہم جو. چھ  مہینے پہلے واسکو ڈی گاما تمھارے ملک ہندوستان سے ایک کامیاب مصالحہ جاتی مہم سے واپس پرتگال پہنچا ہے. اور اب مجھے تیرہ بحری جہازدے کر ایشیا اور افریقہ کے ساحلوں پر اس تجارت پر پرتگالی تسلط قائم کرنے کے لئے روانہ کیا گیا ہے .راستے میں یہاں جنوبی امریکا کی زرخیز زمین پر لنگر انداز ہونے کے بعد ہم نے پرتگالی پرچم لہرا دیا ہے . اجنبی کی باتوں میں اس قدر اعتماد تھا کے مجھے تردید کرنا مناسب نہ لگا . بلکہ میں نے اس سے سوال کیا . یہ نو دریافت ملک کیسا لگا آپ کو. اجنبی اطمینان سے بولا. مجھے یقین ہے کہ آج یعنی پندرھویں صدی میں دریافت ہونے والا یہ ملک مستقبل میں پرتگالی عظمت کی علامت بن کر ابھرے گا. ہم افریقی غلاموں کو یہاں بسا کر زرخیز زمین سے کپاس، تمباکو اور شکر حاصل کریں گے اور جہازوں میں بھر کر پرتگال لے جائیں  گے. پھر وہ رکا اور مجھ سے کہے لگا . اور تم یہاں کیسے؟ میں نے جواب دیا  جنوبی امریکا کے  سب سے بڑے ملک میں دنیا کے دوسرے بڑ ے دریا ایمازون کی ٤٠٠٠ میل لمبائی اور ١٥ میل چوڑائی اور اس کے دامن میں گھنے برساتی جنگل جو دنیا بھر کی آکسیجن کا بیس فیصد پیدا کرتے ہیں، ایک ایسی کشش ہے جو مجھے یہاں کھینچ لائی ہے.  اٹھارویں صدی میں دنیا بھر میں سونے کا سب سے بڑا ذخیرہ بھی بہت سے مہم جوو ں کو یہاں لایا ہو گا  لیکن کون جانے ان میں سے کتنے  ٢٠ فٹ لمبے اژدہوں ایناکونڈا کا شکار بن گئے ہوں. آپ یہاں ہیں نانا جی. میں سارا ائیرپورٹ ڈھونڈھ چکی ہوں. دبلی پتلی پرتگالی نقوش والی لڑکی نے ہماری گفتگو میں شریک ہوتے ہوۓ کہا. پھر میری طرف مڑکر بولی . معاف  کیجئے گا جناب. میرے نانا کی یاد داشت درست تو ہے مگر گڈ مڈ ………جاری ہے

تانگے کا کرایہ، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، پچیسواں انشا Pay for taxi, ride in spaceship. Grandpa & me. Urdu/Hindi Pod cast serial. Episode 25

Narration by: Shariq Ali
December 9, 2015
retina

This story is about history of writing and the information revolution we all are passing through

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

 

تانگے کا کرایہ،  دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، پچیسواں انشا، شارق علی

دادا جی کے ہاتھ میں کتاب تھی اور میرے کنڈ ل. مسکرا کر بولے. صفحہ نہ پلٹا سکو تو کتاب پڑھنے میں کیا مزہ. یانی آپا گلدان میں پھول سجاتے ہوے بولیں. ممدو کے ہاتھ میں کتاب نہیں لائبریری ہے دادا جی . پھر پوچھا. کتنی کتابیں ہیں تمھارے کنڈل میں؟ میں نے کہا پندرہ سو اور ڈکشنری الگ. لفظ پر انگلی رکھیے اور تفصیل حاضر. دادا جی بولے. مان گئے بھئی . اب تو تحریر کے پنجرے میں بند خیال کی چڑیا تا نگے پر نہیں سپیس شپ میں سفر کرتی ہے. سنائیے نا تحریر کے ارتقا کی کہانی؟ میں اٹھلایا. کہنے لگے . بلا شبہ بول تحریر سے زیادہ قدیم ہیں. ممکن ہے پہلا انسان، ذہن میں آیا مربوط خیال اور بدن اور آواز کی ہم آہنگ با معنی بولی، ایک ساتھ دنیا میں آئے ہوں. تحریر بہت بعد میں ایجاد ہوئی. تیس ہزار سال پرانی اسپین اور فرانس کے غاروں میں بنی تصویریں ایک نوعیت کی پہلی تحریریں ہیں. قدیم انسانی گروہ بنے تو ملکیت ثابت کرنا ضروری ہو گیا تاکہ  اشیا کا تبادلہ ہو سکے. شکار، فصل، جانور، یا زمین کا ٹکڑا . تحریر اسی ضرورت کے تحت ایجاد ہوئی. ٤٠٠٠ ق م کے میسوپوٹیمیا میں ملکیتی تختیوں کے یقینی آثار ملتے ہیں. پھر ایسی تصویری زبان تحریر ہوئی جو اشیا کی سیدھی سادھی شکلیں تھی . پھر شکلوں کی ترتیب اور توڑ جوڑ سے مربوط مفہوم کا بیان ہوا. آخرکار حروف تہجی ایجاد ہوۓ جوصوتی اظہار سے جڑے ہوۓ تھے. میسوپوٹیمیا، ببیلونیا، دریائے نیل، سب تہذیبوں نے حروف تہجی اور زبان کے ارتقا میں حصّہ بٹا  یا ہے. یا نی آپا نے لان کے رخ والی کھڑکی کھولی تو تازہ ہوا کا جھونکا اندر آیا. دادا جی نے گہرا سانس لیا اور بولے. اولین تحریروں کی سب سے قدیم یادگار اول یا دویم فرعون کا نام نار.مر مٹی کی تختی پر ٣١٠٠ ق م میں لکھا گیا تھا. ٢٤٠٠ ق م میں پیپرس ایجاد ہو کر جب ٦٥٠ ق م میں یونان پھنچا تو باقاعدہ کتابیں لکھی جانے لگیں. ادھر چین میں ٤٠٠ قاف میم میں ریشم سے بنے پارچوں پر تحریریں لکھی گئیں. اسکندریہ کی لائبریری کا قیام جو ٢٩٥ ق م میں ہوا، نے تحریری علم محفوظ کرنے میں اہم پیش رفت کی. بندرگاہ پر لنگر انداز ہر ملک کے جہازوں پر لازم تھا کے لکھی ہوئی سب تحریریں لائبریری میں نقل کے لئے پیش کریں. یا نی آپا نے گرم چائے دادا جی کو تھماتے ہوۓ  کہا. ١٠٠ ص ع  میں چین میں سبزیوں سے بنی کاغذ کی ابتدائی صورت سامنے آئی. پانچ سو برس بعد یعنی ٦١٠ ص ع  میں کاغذ کی صنعت چین سے نکال کر جاپان اور پھر ٧٠٠ ص ع  میں ایشیا تک پوھنچی. گٹنبرگ نے ١٤٣٩ ص ع  میں پرنٹنگ پریس بنا کر چھپی ہوئی کتابوں کے ذریعے علم عام آدمی تک پھنچا کر انقلاب برپا کر دیا.اور پھرآج کی دنیا  توعلمی انقلاب کی ایک ولولہ انگیز دنیا ہے. کمپیوٹر، ڈیجیٹل کمیونیکشن اور ان سب کی بنیاد مائکروچپ کی مدد سے اب حروف، تصویر یا آواز کی صورت میں معلومات تک رسائی، اس کا برتنا، اسے محفوظ کرنا اور دوسروں تک پھنچانا جس قدر سستا اور آسان اب ہے پہلے کبھی نہ تھا. گویا سواری سپیس شپ پر اور کرایا تانگے سے بھی کم…….جاری ہے

دانش چین، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، بائسواں انشا Chinese Wisdom, Grandpa & me. Urdu/Hindi Pod cast serial. Episode 22

Narration by: Shariq Ali
November 29, 2015
retina

This story is about Confucius, a Chinese teacher and philosopher who influenced China and to some extent the entire world from 200 BC till now.

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

 

دانش چین،  دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، شارق علی

جنگل سے گزرتا ہوا نزدیک ترین راستہ خاصا تنگ تھا.ہمارے دونوں جانب درختوں کی ٹنڈ منڈ شاخیں تھیں اور پیروں تلے سوکھے زرد پتے. بابل راستے سے واقف تھا اور سب سے آگے. پھر فیروزی جوگر، نیلی جینس. میرون ٹاپ اور پونی ٹیل میں فیروزی میچنگ کلپ لگاے یا نی آپا. سب سے پیچھے میں. ہماری منزل جھیل کا وہ کنارہ تھا جہاں دادا جی اور انکل صبح ہی سے  فشنگ میں مصروف تھے. بابل تو آپ کو یاد ہی ہو گا. پھول بن میں میرا گہرا دوست جو کھیتوں میں اپنے باپ کی مدد کرتا ہے. پھول بن  پہنچنے پر یا نی آپا کی بابل سے فوری دوستی مجھے اچھی لگی تھی. پھر بھی جب وہ اسے مجھ سے تیز تیرنے یا درختوں پر تیزی سے چڑھ  جانے پر تعریفی نظروں سے دیکھتیں ہیں تو مجھے سینے پر بوجھ سا محسوس ہوتا ہے. جنگلی راستہ کشادہ ہوا تو ہم ساتھ ساتھ چلنے لگے. یا نی آپا نے بابل سے کہا. پڑھنے لکھنے کا شوق غربت کو ہرا  سکتا ہے. ٥٥١ ق م میں چین میں پیدا ہو کر تین سال کی عمر میں یتیم ہو جانے والے غریب کنفیوشس کی کہانی اس کی بہترین مثال ہے. ان دنوں باقاعدہ تعلیم صرف امیروں کو میسر تھی. اس غریب چرواہے نے تعلیم یافتہ امیروں کی ملازمت کر کے، ان کے ساتھ شہروں شہروں گھوم کر اور شاہی دربار تک رسائی میں شریک هو کر خود کو تعلیم سے آراستہ کیا تھا. وہ پہلے منشی بنا اور پھر ممتاز عالم . تیئس سال کی عمر میں اس نے استاد کی حیثیت سے تعلیم دینا شروع کی. پھر وہ شہر کا قاضی مقرر ہوا. جرائم کم ہوے تو اسے قدیم چین کے صوبے لو کا وزیرانصاف بنا دیا گیا  اور یوں پورے صوبے میں اخلاقی قدروں اور قانون کی بالادستی قائم ہوئی.چھپن سال کی عمر میں اپنے شاگردوں کے ساتھ وہ تعلیم دینے دور دراز علاقوں کے سفر پر روانہ ہوا. چین کی ثقافت پر اس کے اثرات ٢٠٠ ق م  سے لے کر ١٩١١ ص ع  تک بہت گہرے ہیں.  ہم جھیل کے کنارے پھنچے تو دادا جی بھی فشنگ راڈ زمین پر گاڑھ  کر ہمارے پاس گھاس پر آ بیٹھے اور بولے. کنفیوشس نے کوئی تحریر نہیں چھوڑی لیکن اس کے شاگردوں نے اس کی تعلیمات انالیکٹکس کی صورت میں چار سو قبل مسیح  ہی میں محفوظ کر لیں تھیں. اس نے کبھی مذہبی رہنما ہونے کا دعوه نہیں کیا. نہ ہی اس کی تعلیمات کوئی مذہب ہیں. وہ با عزت اور پر وقار انسانی رویئے کو با کردار معاشرے کی بنیاد قرار دیتا ہے. وہ کہتا ہے کہ حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ عوام کے لئے دیانتداری، قانون کی پابندی، امن پسندی اور دانشمندی کی مثال بن کر بہتر معاشرے کی تشکیل کریں. وہ نظم و ضبط اور اخلاقی اصولوں پر سختی سے کاربند ہونا ضروری سمجھتا ہے چاہے لوگ ہمیں احمق ہی کیوں نہ سمجھیں. موجودہ دنیا کی سیاست، نظام حکومت، مذہب اور ثقافت میں کنفیوشس کی تعلیمات کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور دکھائی دیتا ہے. اس کا سنہری اصول یہ تھا کے وہی  حسن سلوک اختیار کرو جس کی تمہیں توقع ہے. وہ بہتر سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوا………جاری ہے

پھول والوں کی سیر، دادا اور دلدادہ ، انشے سیریل، اٹھا رواں انشا Phool Walon Ki Sair, Grandpa & me, Inshay Serial, Episode 18

Narration by: Shariq Ali
November 15, 2015
retina

This story is about a week long festival in Mehrauli, Delhi, that brings Hindus and Muslims together to offer floral chaadar and pankha to Sufi saints and Yogmaya Mandir. Can it become a symbol of communal harmony?

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

 

پھول والوں کی سیر، دادا اور دلدادہ ، انشے سیریل، اٹھا رواں انشا، شارق علی

فلم کا آخری شو دیکھ کر نکلے تو دل بہت بوجھل تھا.وہ سین بار بار آنکھوں کے سامنے آتا جب سرحد کے اس طرف مولوی اغوا شدہ کم عمرہندو لڑکی کو زبردستی مسلمان کر کے نکاح کر لیتا ہے.یا جب سرحد کے دوسری طرف  کچھ بلوائی گوشت کھا لینے کے شبے میں ایک مسلمان کو چھریوں کے پے در پے وار سے چھلنی کر دیتے ہیں. پوری رات کروٹیں بدلتے گزری. صبح ناشتے کی میز پر پہنچا تو سب پہلے ہی سے موجود تھے. رات کی فلم اور ہندو مسلم تناؤ کا ذکر چل نکلاتو دادا جی بولے. نفرت کی خاردار باڑھ حکمرانوں کے مفادات کی حفاظت کرتی ہے اور عوام کو لہو لہان. مذہبی منافرت سے پہلے معیشت اور پھر ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں، باہمی رواداری کی ایک مثال دہلی کے محلے مہرولی میں ہندو مسلم اشتراک سے سجنے والا میلہ ہے،پھول والوں کی سیر. کچھ بتائے اس میلے کے بارے میں، میں نے کہا. دادا جی بولے. ہر مون سون میں ہندو مسلم پھول فروش ہم آہنگی کی علامت کے طور پر یہ تاریخی میلا مناتے ہیں. کہتے ہیں جب برطانوی راج نے بہادرشاہ ظفر کو تاجدار مقرر کر دیا تو ان کے سوتیلے بھائی  مرزا جہانگیر نے طیش میں آ کر ریذیڈنٹ بہادر پر گولی چلا دی. گولی تو بے اثر رہی لیکن مرزا جہانگیر کو الہ باد جیل میں قید کر دیا گیا. مرزا کی والدہ نے مانت مانی کے مرزا کی رہائی پر وہ نظام الد ین اولیا کے مزار سے بختیار کاکی کی درگاہ تک پیدل جائیں گی. منت قبول ہوئی تو انہوں نے ایسا ہی کیا. یہ میلہ اسی منّت کی یادگار ہے. پھر یہ دھیرے دھیرے ہندو مسلم ہم آہنگی کی علامت بن گیا. اس میلے کو دوبارہ زندہ کرنے کا سہرا جواہر لال نہرو کے سر ہے جنہوں نے ١٩٦٢ میں اسے نئی زندگی دی. نظام الدین اولیا سے جلوس نکلتا ہے تو شنہائی کی دلفریب دھنیں بجانے والے اور رقص کرتے لوگ اس کی قیادت کرتے ہیں اور ہندو مسلم برابر سے شریک ہوتے ہیں. پھر جلوس درگا جاگ مایا کے مندر پہنچ کر پھولوں کے پنکھوں اور چادروں سے مندر کو سجاتا ہے. وہاں سے نکل کر مزید آگے بڑھتے ہوے یہ جلوس تیرھویں صدی کے صوفی بختیار کاکی کی درگاہ پر اختتام پذیر ہو جاتا ہے.اس درگاہ کوبھی پھولوں کی چادروں اور پنکھوں سے سجایا جاتا ہے. ہفتہ بھر جاری رہنے والے اس میلے میں مہرولی کے جہاز محل اور حوض شمسی میں موسیقی، کتھک ناچ، مشاعرے، قوالی اور نوٹنکی کا سماں بھی بندھتا ہے. پتنگ بازی کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں، کبڈی یا دنگل  کا  میدان جمتا ہے. آج کل دہلی کے راج بہادر کو بھی پھولوں کے پنکھے اور چادر پیش کی جانے لگی ہے تا کہ میلے کی سرپرستی برقرار رہے. میں جوان تھا تو یہ میلا دہلی کی ثقافتی رنگا رنگی اور ہم آہنگی کی علامت ہوا کرتا تھا. جانے اب محبّت کا یہ سما باقی ہے یا نہیں ……جاری ہے

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

16,950 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina