retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Tag Archive: "pod cast"

ساؤ پاؤلو میں اجنبی، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چھبیسواں انشا Stranger of Sao Paulo. Grandpa & me. Urdu/Hindi Pod cast serial. Episode 26

Narration by: Shariq Ali
December 13, 2015
retina

Enjoy the discovery of Brazil with Pedro Alvares Cabral in this story. A country of Amazon river, rainforests and anaconda

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

ساؤ پاؤلو میں اجنبی، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چھبیسواں انشا، شارق علی

انکل پٹیل کل رات ہی برازیل کے سفر سے لوٹے تھے. ناشتے کی میز پر دادا جی، یانی  آپا اور میں سفر کی روداد کے لئے ہمنہ تن گوش تھے. انکل نےکہا. دبئی سے فرینکفرٹ اور وہاں سے فورٹالیزا براستہ ساؤ پاؤلو . گھر سے چلے اٹھائیس گھنٹے ہو چکے تھے. کہر آلود صبح میں اونچی عمارتوں سے ٹکرا جانے کے خدشے کو شکست دیتا اور ائیرپورٹ کے گرد تین چکر لگانے کے بعد جب ہمارا جہاز کامیابی سے رن وے پر اترا تو مجھ سمیت سب مسافروں نے تالیاں بجا کر پائلٹ کو داد دی. ساؤ پاؤلو کے سادہ سے ائیرپورٹ پر سامان کے آخری لمحے تک انتظار اور مایوسی کے بعد ایئر لائن کے دفتر پھنچا تو فرینکفرٹ میں سامان پیچھے رہ جانے کی معزرت کے ساتھ ایک تھیلا اور ١٥٠ یو ایس ڈالر ہرجانہ وصول پایا. فورٹالیزا کی فلائٹ پانچ گھنٹے بعد تھی . انتظارگاہ کی بینچ پر بیٹھ کر تھیلا کھولا تو ایک ٹی شرٹ ، نیکر ، موزے کی جوڑی اور ٹوائیلیٹری بیگ میں موجود صابن، ٹوتھ پیسٹ، ریزر اور ٹوتھ برش سے ملاقات ہوئی. تھیلا سر کے نیچے رکھ کر نیم دراز ہونے ہی کو تھا  کے لمبا اورکوٹ اور سر پر جہازی ٹوپی پہنے ایک بوڑھا بینچ پر ساتھ آ بیٹھا اور بولا. تیرہ بحری جہازوں پر لادنے کے لئے مصالحہ جات  کا ذخیرہ فراہم کر سکیں گے آپ؟ میں بینچ پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا. نیند ہرن ہو چکی تھی. میرا جواب سنے بغیر ہی اجنبی بولا. میں پیڈرو ہوں، پیڈرو الواریس کبرال . ایک پرتگالی مہم جو. چھ  مہینے پہلے واسکو ڈی گاما تمھارے ملک ہندوستان سے ایک کامیاب مصالحہ جاتی مہم سے واپس پرتگال پہنچا ہے. اور اب مجھے تیرہ بحری جہازدے کر ایشیا اور افریقہ کے ساحلوں پر اس تجارت پر پرتگالی تسلط قائم کرنے کے لئے روانہ کیا گیا ہے .راستے میں یہاں جنوبی امریکا کی زرخیز زمین پر لنگر انداز ہونے کے بعد ہم نے پرتگالی پرچم لہرا دیا ہے . اجنبی کی باتوں میں اس قدر اعتماد تھا کے مجھے تردید کرنا مناسب نہ لگا . بلکہ میں نے اس سے سوال کیا . یہ نو دریافت ملک کیسا لگا آپ کو. اجنبی اطمینان سے بولا. مجھے یقین ہے کہ آج یعنی پندرھویں صدی میں دریافت ہونے والا یہ ملک مستقبل میں پرتگالی عظمت کی علامت بن کر ابھرے گا. ہم افریقی غلاموں کو یہاں بسا کر زرخیز زمین سے کپاس، تمباکو اور شکر حاصل کریں گے اور جہازوں میں بھر کر پرتگال لے جائیں  گے. پھر وہ رکا اور مجھ سے کہے لگا . اور تم یہاں کیسے؟ میں نے جواب دیا  جنوبی امریکا کے  سب سے بڑے ملک میں دنیا کے دوسرے بڑ ے دریا ایمازون کی ٤٠٠٠ میل لمبائی اور ١٥ میل چوڑائی اور اس کے دامن میں گھنے برساتی جنگل جو دنیا بھر کی آکسیجن کا بیس فیصد پیدا کرتے ہیں، ایک ایسی کشش ہے جو مجھے یہاں کھینچ لائی ہے.  اٹھارویں صدی میں دنیا بھر میں سونے کا سب سے بڑا ذخیرہ بھی بہت سے مہم جوو ں کو یہاں لایا ہو گا  لیکن کون جانے ان میں سے کتنے  ٢٠ فٹ لمبے اژدہوں ایناکونڈا کا شکار بن گئے ہوں. آپ یہاں ہیں نانا جی. میں سارا ائیرپورٹ ڈھونڈھ چکی ہوں. دبلی پتلی پرتگالی نقوش والی لڑکی نے ہماری گفتگو میں شریک ہوتے ہوۓ کہا. پھر میری طرف مڑکر بولی . معاف  کیجئے گا جناب. میرے نانا کی یاد داشت درست تو ہے مگر گڈ مڈ ………جاری ہے

غار کے قیدی ، دادا اور دلدادہ ، انشے سیریل ، گیا رہواں انشا Allegory of Cave, Grandpa & Me, Urdu/Hindi Pod cast, Episode 11

Narration by: Shariq Ali
October 11, 2015
retina

This story is from Plato’s most famous book, The Republic. Enjoy the wisdom

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

غار کے قیدی ، دادا اور دلدادہ ، انشے سیریل ، گیا رہواں انشا ، شارق علی

میں نے سائیکل کو مہارت سے موڑ کر بریک لگایا اور اسے باغ میں اسٹینڈ پر کھڑا کرکے ہاتھ میں پکسیز کا پیکٹ لیے یانی آپا کے کمرے میں پہنچا تو وہ نیم تاریک کمرے میں کپڑے استری کرتےہوئے یوٹیوب پر استاد شجاعت حسین کا ستار سن رہی تھیں ۔ میرے ہاتھ میں اپنی پسندیدہ چاکلیٹ کا پیکٹ دیکھ کر وہ کھل اٹھیں۔ ان کے لبوں کی مسکراہٹ نے دو میل سائکل چلانے کی تھکن دور کردی۔ میں نے باغ کے رخ والی کھڑکی کھولی تو کمرہ روشنی میں نہاگیا۔ ہم مل کر چاکلیٹ سے لطف اندوز ہونے لگے تو فلسفیانہ انداز میں بولیں۔ ذہن کا دریچہ کھول دیا جائے تو علم کی روشنی ہمیں آزاد کردیتی ہے ممدو۔ میں نے کہا۔ آپ کی بات کچھ سمجھا نہیں یانی آپا ۔بولیں۔شاید تم اس استعارے کو ایک کہانی کی صورت بہتر طور پر سمجھ سکو گے۔یہ کہانی افلاطون نے اپنی کتاب ری پبلک میں لکھی ہے۔ تصور کرو کہ تم تاریک غارمیں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک ہو،  ہاتھ پیر بندھے ہوئے، پشت غار کے داہنے کی سمت جہاں سے روشنی اندر آتی ہے اور تمہارا چہرہ غار کی پتھریلی تاریک دیوار کی طرف ہے۔ تم سمیت کسی کو بھی اپنے قیدی ہونے، ہاتھ پیر بندھے ہونے کا احساس نہیں کیونکہ سب یہیں پیدا ہوئے ہیں اور صرف اسی حقیقت سے واقف ہیں۔ غار  کے دہانے سے آنے والی روشنی چٹانی دیوار پر شکلوں کے سائے بناتی ہے اور لوگ چیخ کر ان کا نام پکارتے ہیں۔ درخت، پہاڑ، پرندے وغیرہ۔ سب مطمئین کہ یہی سائے ہی اصل حقیقت، یہی اصل زندگی ہے۔ وہ کسی اور صورت حال سے واقف ہی نہیں ہیں. ۔پھر تم کسی صورت بندھے ہاتھ پیر کھول کر آزاد ہوجاتے ہو۔ پہلی بار کھڑے ہوکر روشنی کی سمت مڑ کر دیکھتے ہو ۔تمہارا سامنا سایوں سے نہیں اشیا کی حقیقی صورتوں سے ہوتا ہے۔ پھر تم غارکے دہانے سے گزر کر باہر نکل آتے ہو۔۔۔ تازہ ہوا ، دن کی روشنی۔ نئے رنگ، مہکتی خوش بوئین ۔کتنے درد ناک تھے وہ دن جب تم نے صرف سائے دیکھے تھے۔ پھر تم آسمان دیکھتے ہو اور سورج اور تمہیں غارمیں بسنے والی زندگی کے جھوٹ کا دکھ بھرا احساس ہوتا ہے۔ تم پلٹتے ہو غار کی سمت کہ قیدیوں کو سچائی بتا سکو۔ لیکن وہ ہاتھ پیر بندھے لوگ تم پر ہنستے ہیں۔ وہ جنہوں نے سایوں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ تمہارا مذاق اڑاتے ہیں۔تو ممدو جو کچھ نظر آتا ہے اس پر مطمئین مت ہونا۔ اسے مکمل سچ نہ سمجھ لینا۔ علم اور سچائی جد و جہد سے حاصؒ ہوتی ہے۔ ہاتھ پیروں کو آزاد کرلینے سے، غار کی قید  سے باہر نکل آنے سے۔ دمکتی ہوئی روشنی کا سامنا کرنے سے ۔بہت سے عظیم سچ باہر کی دنیائوں میں تمہارا انتظار کررہے ہیں ۔کبھی اور کسی صورت اندھیرے غار میں قیدیوں جیسی زندگی کو قبول نہ کرنا۔۔۔۔جاری ہے

ان شے، اردو ادب کی نئی نثری صنف Inshay, a new genre of Urdu fiction

Narration by: Shariq Ali
February 19, 2015
retina

Inshay is a breath of fresh air in Urdu fiction. A brief literary prose that can be written, displayed and read in one screen shot. It still possess the capacity to grasp and convey any artistic moment attached to human condition. At the same time, being very user friendly, it does not loose the ability to be expressed, consumed and survive in the current context of information revolution. Please listen, if you understand Urdu/Hindi and also read, if you are familiar with Urdu script, the first three ever written Inshay in this post. Valueversity look forward to future generation of Inshay writers and fans emerging from the new horizons of our unique literary era. This is the need of the hour that all artistic efforts should now be compatible with the inevitability of hand held devices.

Journey of Inshay begins today with confidence and power to take Urdu story telling to the next level!

Shariq Ali

Founder of Valueversity

 

In Shay Taruf JPEG WORD

 

 

 

 

Gum Shuda JPEG WORD

 

 

Aakhri Manzil JPEG WORD

 

 

Khush Raftar JPEG WORD

 

 

 

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,023 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina