retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Tag Archive: "Nazam Urdu Shariq Ali"

ریت پر سفر، دادا اور دلدادہ ،انشے سیریل ، چوبیسواں انشا Ahmed Shamim, a journey of love. Grandpa & me. Urdu/Hindi Pod cast serial. Episode 24

Narration by: Shariq Ali
December 6, 2015
retina

Ahmed Shamim (1927-1982) was a freedom fighter, a lover and an Urdu poet. This story is about his love and his well known poem “A moment of lost journey” (Rait Per Sufer Ka Lamha)

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

ریت پر سفر، دادا اور دلدادہ ،انشے سیریل ، چوبیسواں انشا ،  شارق علی

آتشدان میں لگی آگ کی حدّت نے  کمرہ بہت آرام دہ بنا دیا تھا. دادا جی،  میں اور یانی آپا سمارٹ ٹی وی پرباری باری اپنی پسند کی ویڈیو دیکھتے اور تبصرے سے محظوظ ہوتے. یا نی آپا کی با ری پر نیرہ نور کی گا ئی ہوئی احمد شمیم کی نظم کا خوبصورت بول کبھی ہم خوبصورت تھے ختم ہوا تو میں نے کہا. اس نظم میں مجھے بچپن تو صاف دکھائی دیتا ہے لیکن ریت پر سفر کہیں بھی نہیں. پھر اس کا عنوان ریت پر سفر کا لمحہ کیوں ہے؟ دادا جی بولے . شاعر کی کہانی معلوم ہو تو نظم سمجھنا آسان ہو جاتا ہے. تو پھر سنا یے؟  دادا جی بولے. تقسیم ہوئی تو احمد شمیم  سری نگر کا ہونہار طالب علم اور کشمیر تحریک آزادی کا رکن تھا. انڈین سیکورٹی فورسز کے بار بار تشدد نے اسے اپنی ماں اور خاندان چھوڑ کر پاکستان آنے پر مجبور کیا. پہلے آزاد کشمیر ریڈیو میں فری لانس صحافی اور پھر انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں سرکاری ملازمت کرتے کرتے ڈائریکٹر. اس کی نظمیں بچھڑی ہوئی ماں، کشمیری بچپن اور آزادی کا خواب کبھی نہ بھول سکیں. یانی آپا نے آتشدان ذرا دھیما کر دیا اور بولیں. ١٩٥٠ میں قرآن پڑھانے والی بزرگ خاتون جنھیں وہ ماں جی کہتا تھا، کے یہاں پینگ گیسٹ کے طور پر رہتے ہوے اس نے کم گو اور اکثر سوچ میں گم رہنے والی مونیرا کو دیکھا. بات کرنے کی جسارت بے گھر کر سکتی تھی . وہ خاموش رہا. مونیرا بچھڑ گئی. اور وہ ترقی پسند تحریک کا رکن بن کر حکومتی تشدد کا نشانہ بنا. ١٩٦١ میں اتیفاقاً مونیرا اسے دوبارہ ملی. محبّت نے بے سروسامانی اور اختلافات کے طوفان کو شکست دے دی. مونیرا ان دنوں کی یاد میں احمد شمیم کے خطوط پر مبنی کتاب” ہوا نامہ بر ہو” میں لکھتی ہے مال روڈ پر لوگوں کا ہجوم تھا. ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے اپنی نی دنیا تخلیق کر رہے تھے. سا ری دنیا اور سا رے  دکھوں سے بے نیاز. یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم صدیوں سے ایک ساتھ چل رہے ہوں، ہم امر ہوں، ہر روپ میں ان مٹ. ہم ہی کائنات ہوں. وہ کہ رہے تھے تم میرا خواب ہو، ایک ایسی لڑکی جو دکھ اٹھانے کی بہت استعداد رکھتی ہے” تقسیم نے اسے ایک اور زخم دیا. ١٩٦٣ میں اس کی ماں رخصت ہوئیں تو وہ مٹی  دینے سری نگر نہ جا سکا. وہ سوچتا تھا مضبوط پاکستان کشمیر کی آزادی کی ضمانت ہو گا. ١٩٧١ نے یہ یقین بھی چکنا چور کر دیا. سقوط ڈھاکہ کی رات اسے دل کا پہلا دورہ پڑا. ساری قربانیاں رائیگاں دکھائی دیں. ١٩٨٢ میں وہ آخری ریڈیو انٹرویو میں کہتا ہے ریت پر سفر کرنے والے پیچھے آنیوالوں کے لئے کوئی ورثہ نہیں چھوڑتے. تیز ہوائیں قدموں کے نشان تک مٹا دیتی ہیں. بےسود سفر اور گم کردہ منزل. اس کی نظم ریت پر سفر کا لمحہ. کھوئے ہوے بچپن، بچھڑی ہوئی ماں، بکھرے خواب، درون ذات کی ویرانی اور  اس کے سفر کی رائیگانی  کا نوحہ ہے. ١٩٨٢ ہی میں دل کا دوسرا دورہ جان لیوا ثابت ہوا………..جاری ہے

شہرزاد، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، بارہواں انشا Sheherzade, Grandpa & Me, Urdu/Hindi Pod cast, Episode12

Narration by: Shariq Ali
October 14, 2015
retina

Shahrazade having devised a scheme to save herself and others, insists that her father give her in marriage to the king Sheheryar. See what happens next in this story

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

شہرزاد، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، بارہواں انشا، شارق علی

نیرنگ آباد میں انتخابات کی گہماگہمی تھی۔ ٹی وی چینلز پر جلسوں کی براہ راست نشریات، تبصرے، مباحثے۔ رات کے کھانے کے دوران ٹی وی پر لوگوں کا جم غفیر دیکھا تو دادا جی  نے کہا۔ نا اہل حکمرانوں کو بار بار منتخب کرنے والوں سے بھلا کسے ہمدردی ہوسکتی ہے۔ کھانے کے بعد جب میں اور یانی آپا لان میں رات کی رانی کی خوشبو کا ہاتھ تھامے ٹہل رہے تھے تو میں نے پوچھا۔ عوام اس قدر بے وقوف کیوں ہوتی ہے؟ وہ بولیں۔عوام تو شہریار ہوتی ہے ممدو۔ روز مرہ کی بے وفائی سے زخمی۔حالات کی جادو گری کے سنگ دل حصار میں قید۔ اگر وہ خوش قسمت ہو تواسے شہرزاد مل جاتی ہے جو کہانی سنا کر دو بارہ محبت پر اور اپنے روز و شب سنوارنے پر قائل کرلیتی ہے ۔یہ عوام بدقسمت ہے شا ید کہ اسے ہر بار ان حکمرانوں کی دل فریب جھوٹی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں ۔یہ شہریار اور شہرزاد کون تھے یانی آپا؟ میں نے پوچھا۔ کہنے لگیں عباسیوں کا دور حکومت تھا، شاید آٹھ سو پچاس ص ع  کے لگ بھگ، جب  ایک فارسی مصنف نے کہانیوں کا ایک مجموعہ مرتب کیا تھا جسے عرف عام میں الف لیلہٰ کی ایک ہزارایک راتیں یا اریبین نائٹس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کسی زمانے میں ایک ساسانی بادشاہ شہریار نے ظالمانہ روش اپنا رکھی تھی۔وہ ہر رات جس خوبصورت حسینہ سے شادی کرتا  اسے صبح ہونے سے پہلی قتل کروادیتا تھا۔ کچھ کہتے تھے اس کی وجہ ملکہ کی بے وفائی کا انتقام تھی، اور کچھ کے خیال میں وہ کسی ظالم جادو گر کے کیے ہوئے سحر میں گرفتار تھا۔ اس کے وزیر کی بیٹی شہرزاد، جو شاعری،  فلسفہ، تاریخ اور ادب پر عبور رکھتی تھی، نے ایک دن یہ ظالمانہ روش ختم کرنے کی ٹھان لی اور شہریار کی دہلن بننے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیر بے حدپریشان ہوا، لیکن شہرزاد بہت پراعتماد تھی ۔شادی کی رات شہرزاد نے شہریار کو کہانی سنانے کی پیش کش کی ۔کہانی شروع ہوئی تو شہریار اس کہانی کے پیچ و خم سے مسحور ہو کر رہ گیا۔ صبح کی پہلی  کرن پھوٹی تو کہانی ایک دلچسپ موڑ پر تھی ۔شہرزاد نے کہانی روک کر شہریارکوصبح ہونے کا احساس دلایا۔ لیکن شہریار نے شہرزاد کا قتل اگلی رات تک کے لیے ملتوی کردیا۔ اگلی رات شہرزاد نے کہانی دوبارہ شروع کی، اور پھر یہ کہانی اس سے اگلی، اور پھر اگلی حتٰی کہ ایک ہزار ایک راتوں تک جاری رہی۔ آخری رات شہرزاد نے کہانی سنانے سے انکار کر کے قتل ہونے کی پیش کش کی ۔شہریار اس دوران شہرزاد کی محبت میں گرفتار ہوچکا تھا۔ اس نے شہرزاد کو اپنی ملکہ بنالیا اور یوں وہ ملک اس ظالمانہ روش سے آزاد ہوا۔ الہ دین کا چراغ، سند باد جہازی اور علی بابا چالیس چور ان میں سے چند کہانیاں ہیں جو شہرزاد نے شہریار کو سنائیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے

فنکار، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، دسواں انشا An Artist, Grandpa & Me, Urdu/Hindi Pod cast, Episode 10

Narration by: Shariq Ali
October 6, 2015
retina

This story is about an artist

“I am enough of an artist to draw freely upon my imagination. Imagination is more important than knowledge. Knowledge is limited. Imagination encircles the world.”

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

 

 

 

فنکار، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، دسواں انشا

گھنٹی بجی، دادا جی نے دروازہ کھولا۔ سرکاری وردی میں ملبوس، ایک ہاتھ میں تھیلا، دوسرے میں لفافے۔ میں خوف کے مارے کونے ہی میں دبکا رہا۔ دستخط کر کے ، لفافہ کھولا اور کاغذ میری طرف بڑھاتے ہوئے دادا جی بولے ۔سارے مضامین میں اے اور حساب میں اے اسٹار۔ بھئ ہمارے ممدو نے تو آئنسٹائن کوبھی مات دے دی۔ مارے خوشی کے  میں پھولا نہ سماتا تھا ۔کچھ دیر مبارکبادوں اور مٹھائی کھانے کھلانے میں گزری ۔پھر جب سب چائے کے مگ لیے صوفوں پر بیٹھے تو میں نے پوچھا۔ کیا واقعی آئنسٹائن اسکول میں ذہین طالب علم شمار نہ ہوتا تھا؟ انکل بولے۔اٹھارہ سو اناسی میں یہودی خاندان میں پیدا ہونے والے اس لڑکے کو میونخ کے اسکول ماسٹروں نے درمیانے درجے کا طالب علم قرار دیا تھا لیکن ۔وہ بچپن ہی سے فزکس اور ریاضی میں گہری دلچسپی رکھتا تھا۔ انیس سومیں تعلیم مکمل کرکے پیٹنٹ آفس میں ملازمت کے دوران وہ فارغ وقت میں تھیوریٹکل فزکس کا مطالعہ کرتا رہتا۔ اگلے پانچ سالوں میں اس نے حیران کن سائنسی مضامین لکھے۔ جن میں تھیوری آف ریلیٹیوٹی اور مشہور عالم فارمولا ای برابر ایم سی اسکوائر شامل ہیں۔ میں نے پوچھا۔  اس فارمولے کا فائدہ؟ دادا جی بولے۔یہ فارمولا ریاضی کی زبان میں اس سچ کا اظہار ہے کہ مادہ  حرارت اور بجلی کی طرح توانائی ہی کی ایک صورت ہے. پھر ایسے آلات بنے جو ایٹم جیسے چھوٹے ذرے کو توڑ کر بیش بہا توانائی پیدا کرسکتے ہیں۔ آج دنیا میں پیدا کی جانے والی تیرہ فی صد توانائی اسی فارمولے ہی کا فیضان ہے۔ بد قسمتی سے یہ ایٹم بم کی ایجاد کا سبب بھی ہے۔ یانی آپا نے برفی کا ٹکڑا پلیٹ میں ڈالا اور بولیں۔ آئنسٹائن انیس سو نو میں زیورک یونیورسٹی کا پروفیسر بنا  کچھ ہی برس بعد پہلی جنگ عظیم شروع ہوگئی۔ انیس سو انیس میں اس کی تھیوری آف ریلیٹوٹی نے عالمی شہرت حاصل کر لی۔ سائنسی رسالوں میں اس کاکام سراہا گیا اور انیس سو اکیس میں اسے نوبل انعام ملا۔ ابتر سیاسی صورت حال کے سبب انیس سو بتیس میں اس نے نازی جرمنی کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہا۔ امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی انیس سو تینتیس کے بعد سے اس کا مستقل ٹھکانہ رہی۔  ۔انیس سو انتالیس میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی۔تو امریکی صدرروزولٹ کو اپنے خط میں اس نے ایٹم بم بنانے پر قائل کیا کہ کہیں نازی جرمنی یہ مہلک ہتھیارپہلے نہ حاصل کرلے۔ یاد رہے کہ یہ آئنسٹائن ہی تھا جس نے اقوام متحدہ برائے امن کی تجویز سب سے پہلے پیش کی تھی۔ وہ اپنی آخری سانسوں تک یونیفائڈ فیلڈ تھیوری پر کام کرتا رہا مگر کامیاب نہ ہوسکا اور انیس سو پچپن میں چھیتر سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگیا ۔۔خود اپنے الفاظ  میں وہ ایک ایسا فنکار تھا جوتخلیقی تصور کی آزادی سے لطف اندوز ہوسکا۔۔۔۔۔جاری ہے

Meherban Shaam-e-Gul, An Urdu Poem by Shariq Ali

Narration by: Shariq Ali
May 23, 2012
retina

If you wish to listen and enjoy the recitation with rendition of this poem by the poet, please click the link below. Listening time is 3 minutes and 20 seconds.

Meherban Shaam-e-Gul with Rendition 220512

Acknowledgement: The background music for this recitation is used from the masterpiece by Ustaad Shujaat Hussain`s music album GHAZAL, when the night falls on the silk road. Please note that the poet and this website are very grateful and have humbly used the music recording clip in the background only. The entire credit for the excellence of original music goes to the original producers.

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,367 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina