retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Tag Archive: "literature"

Mulk e Sukhan ملک سخن، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چھیالیسواں انشا Chile, Land of poets, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast serial, Episode 46

Narration by: Shariq Ali
March 6, 2016
retina

This story is about two Nobel Prize winners in literature from Latin America. Gabriela Mistral and Pablo Neruda. Enjoy the visit to the land of poets

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!
ملک سخن، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل،  چھیالیسواں انشا، شارق علی

دائرہ وار ڈیسکوں پر مندوبین بیٹھے تھے اور مرکزی میز پہ تازہ پھولوں کا بڑا سا گلدستہ. انکل ٹورنٹو کانفرنس کا ذکر کر رہے تھے. بولے. ہر ڈیسک کے سامنے مائیک اور ملک کا نام تھا. سنجیدہ چہرے، اداس آنکھوں اور بچوں جیسی  مسکراہٹ والی کیٹیلینا کی نشست میرے برابر تھی. سامنے لکھا تھا چلی. سب شریک متفق تھے کے ہزاروں میل کی دوری اورزبان و ثقافت کی رنگا رنگی کے باوجود ترقی پذیر ممالک کے مسائل ایک جیسے ہیں. آمریت، مالی بد دیانتی، تعلیم اور صحت سے عوام کی محرومی. سب کہانیاں ایک سی تھیں. اس رات آفیشل ڈنر کے بعد ہم دونوں چائے  لئے پول کے کنارے بیٹھ گۓ تو میں نے پوچھا. کیسا ہے تمہارا ملک؟ بولی. نقشے پر دیکھو تو ارجنٹینا کے ساتھ لگی کوئی تین ہزار لمبی اور سو میل چوڑی لکیر. جھیلیں، آتش فشاں ، صحرا، جزیرے اوردو کروڑ آبادی. سینٹیاگو دارالحکومت اور کرنسی پیسو. مقامی لوگ ماپوچےصرف پانچ فیصد، باقی ہسپانوی بولتی عوام. یوں تو ایسٹر آئی  لینڈ پر اتش فشا نی چٹا نوں سے تراشے سینکڑوں موائی مجسمے  بھی چلی کی  وجہ شہرت ہیں لیکن ہم چلین اسے ملک سخن کہتے ہیں. میں نے کہا. ٹھیک ہی تو ہے. گیبریل مسٹرا ل نے ١٩٤٥ اور پُابلو نرودا نے ١٩٧١ میں نوبل پرائز اور عالمی ادب پڑھنے والوں کے دل جیتے تھے. کیٹیلینا بولی. گبریلا صرف شاعر نہیں، ماہر تعلیم، تحریک نسواں کی سرگرم رکن اور سفارتکار بھی تھی . ١٨٨٩ میں پیدا ہوئی اور باپ کے چھوڑ جانے کے بعد غربت دیکھی. پندرہ سال کی ہوئی تو اسکول میں آیا بن کر نوکری بھی کی اور تعلیم سے خود کو آراستہ بھی. استانی بنی اور نظمیں لکھتی رہی. پہلے علاقائی، پھر قومی اورآخر کارعالمی شہرت حاصل کی. منگیتر کی جوان موت نے اس کی شا عری کو غیر معمولی سوز بخشا. علمی اور ادبی قد دراز ہوا تو لیگ آف نیشنزمیں لاطینی امریکہ کی نمائندہ بن کر اٹلی اور فرانس میں وقت گزارا. کئی ملک دیکھے، یونیورسٹیوں  کی اعزازی پروفیسرشپ  ملی،مضامین لکھے اور ہسپانوی ادب میں نام کمایا. تعلیم اور شاعری دونوں شعبوں میں سراہا گیا. پھر برازیل، اسپین، پرتگال اور امریکا میں سفارت کاری کی. ١٩٤٥ میں ادب کا نوبل انعام ملا. گبریلا کی شاعری عام لوگوں کی آرزوں اور امیدوں کی ترجمان ہے. گیت گاتی، کہانیاں سناتی گبریلاغربت کے دکھوں سے آشنا تھی اور کچلے ہوۓ عوام کی محبّت سے سرشار. وہ بچوں کی کہانیوں میں یوں مخاطب ہوتی ہے. میں گبریلا ہوں،آوازوں اور لفظوں سے پیار کرنے والی. دیکھو میری سوچ اور کہانی لئے زبان سے پھسلتے لفظ تتلیوں کی طرح فضاو ں میں اڑ رہے ہیں. گبریلا کا سفر ١٩٥٧ میں ختم ہوا. پھر محبت کی روشن مشعل اس کے شاگرد پُابلو نرودا نے تھام لی. ١٩٠٤ میں پیدا ہونے والا نرودا کا بچپن لفظوں کے ساتھ جنگلوں کی آوارہ گردی، دریا کی تیراکی، گھڑ سواری اور اونچے درختوں پر گھونسلوں تک پہچنے سے بھی پیار کرتا تھا. گبریلا سے کم عمری میں متاثر نرودا نے ہر موضوع  پر نظمیں لکھیں. زندگی کی متضاد کیفیات پرنظمیں. اس کا عشق مظلوم عوام تھے اور ان کے لیۓ انصاف اور مسرّت کا حصول. اس کی نظمیں عوامی جدوجہد کی شریک ، ساتھی اور مددگارتھیں. ١٩٧١ میں اسے ادب کا نوبل انعام ملا ……….جاری ہے

شہرزاد، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، بارہواں انشا Sheherzade, Grandpa & Me, Urdu/Hindi Pod cast, Episode12

Narration by: Shariq Ali
October 14, 2015
retina

Shahrazade having devised a scheme to save herself and others, insists that her father give her in marriage to the king Sheheryar. See what happens next in this story

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

شہرزاد، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، بارہواں انشا، شارق علی

نیرنگ آباد میں انتخابات کی گہماگہمی تھی۔ ٹی وی چینلز پر جلسوں کی براہ راست نشریات، تبصرے، مباحثے۔ رات کے کھانے کے دوران ٹی وی پر لوگوں کا جم غفیر دیکھا تو دادا جی  نے کہا۔ نا اہل حکمرانوں کو بار بار منتخب کرنے والوں سے بھلا کسے ہمدردی ہوسکتی ہے۔ کھانے کے بعد جب میں اور یانی آپا لان میں رات کی رانی کی خوشبو کا ہاتھ تھامے ٹہل رہے تھے تو میں نے پوچھا۔ عوام اس قدر بے وقوف کیوں ہوتی ہے؟ وہ بولیں۔عوام تو شہریار ہوتی ہے ممدو۔ روز مرہ کی بے وفائی سے زخمی۔حالات کی جادو گری کے سنگ دل حصار میں قید۔ اگر وہ خوش قسمت ہو تواسے شہرزاد مل جاتی ہے جو کہانی سنا کر دو بارہ محبت پر اور اپنے روز و شب سنوارنے پر قائل کرلیتی ہے ۔یہ عوام بدقسمت ہے شا ید کہ اسے ہر بار ان حکمرانوں کی دل فریب جھوٹی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں ۔یہ شہریار اور شہرزاد کون تھے یانی آپا؟ میں نے پوچھا۔ کہنے لگیں عباسیوں کا دور حکومت تھا، شاید آٹھ سو پچاس ص ع  کے لگ بھگ، جب  ایک فارسی مصنف نے کہانیوں کا ایک مجموعہ مرتب کیا تھا جسے عرف عام میں الف لیلہٰ کی ایک ہزارایک راتیں یا اریبین نائٹس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کسی زمانے میں ایک ساسانی بادشاہ شہریار نے ظالمانہ روش اپنا رکھی تھی۔وہ ہر رات جس خوبصورت حسینہ سے شادی کرتا  اسے صبح ہونے سے پہلی قتل کروادیتا تھا۔ کچھ کہتے تھے اس کی وجہ ملکہ کی بے وفائی کا انتقام تھی، اور کچھ کے خیال میں وہ کسی ظالم جادو گر کے کیے ہوئے سحر میں گرفتار تھا۔ اس کے وزیر کی بیٹی شہرزاد، جو شاعری،  فلسفہ، تاریخ اور ادب پر عبور رکھتی تھی، نے ایک دن یہ ظالمانہ روش ختم کرنے کی ٹھان لی اور شہریار کی دہلن بننے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیر بے حدپریشان ہوا، لیکن شہرزاد بہت پراعتماد تھی ۔شادی کی رات شہرزاد نے شہریار کو کہانی سنانے کی پیش کش کی ۔کہانی شروع ہوئی تو شہریار اس کہانی کے پیچ و خم سے مسحور ہو کر رہ گیا۔ صبح کی پہلی  کرن پھوٹی تو کہانی ایک دلچسپ موڑ پر تھی ۔شہرزاد نے کہانی روک کر شہریارکوصبح ہونے کا احساس دلایا۔ لیکن شہریار نے شہرزاد کا قتل اگلی رات تک کے لیے ملتوی کردیا۔ اگلی رات شہرزاد نے کہانی دوبارہ شروع کی، اور پھر یہ کہانی اس سے اگلی، اور پھر اگلی حتٰی کہ ایک ہزار ایک راتوں تک جاری رہی۔ آخری رات شہرزاد نے کہانی سنانے سے انکار کر کے قتل ہونے کی پیش کش کی ۔شہریار اس دوران شہرزاد کی محبت میں گرفتار ہوچکا تھا۔ اس نے شہرزاد کو اپنی ملکہ بنالیا اور یوں وہ ملک اس ظالمانہ روش سے آزاد ہوا۔ الہ دین کا چراغ، سند باد جہازی اور علی بابا چالیس چور ان میں سے چند کہانیاں ہیں جو شہرزاد نے شہریار کو سنائیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے

ار دو کتا بوں کی محبت میں In the love of Urdu books

Narration by: Shariq Ali
November 9, 2014
retina

In the bipolar city of Karachi, it is 7 am, and at the back street of Regal Chowk, Saddar Bazar, the treasure hunters are already lined up and waiting. As soon as the BORIAN (traditional bags made up of jute) are opened, the old precious Urdu books falls on to the foot path, one after the other to form a pile. The fierce battle of finding the diamond and gold begins, followed by the psychological wrestling of bargaining between hunters and seasoned and cunning Karachiite old book sellers.

One of these treasure hunters is Rashid Ashraf Sahib. In fact, Rashid Ashraf is the Sultana Dakoo (Robin Hood) of the precious Urdu books from this bazaar. Out of his hunted treasure of more than 1200 books in many years, he has already shared around 500 of these books on Scribd, Flickr etc. for all of us to download and use.

Valueversity is so proud to talk to him about the first love of his life, Urdu books. He is the author of five books till this date and introduces his new book طرز بیاں اور` پر ا نی کتا بوں کا اتوار بازار with the listeners. This audio is in two parts. Enjoy!

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,023 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina