retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Tag Archive: "hindi"

Gali Mohallay Ki Khidmat Kaisay ? گلی محلے کی خدمت کیسے ؟ اردو / ہندی پوڈ کاسٹ ویلیو ورسٹی How to serve your community? Urdu / Hindi Podcast

Narration by: Shariq Ali
April 8, 2017
retina

ساؤ پاؤلو میں اجنبی، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چھبیسواں انشا Stranger of Sao Paulo. Grandpa & me. Urdu/Hindi Pod cast serial. Episode 26

Narration by: Shariq Ali
December 13, 2015
retina

Enjoy the discovery of Brazil with Pedro Alvares Cabral in this story. A country of Amazon river, rainforests and anaconda

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

ساؤ پاؤلو میں اجنبی، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چھبیسواں انشا، شارق علی

انکل پٹیل کل رات ہی برازیل کے سفر سے لوٹے تھے. ناشتے کی میز پر دادا جی، یانی  آپا اور میں سفر کی روداد کے لئے ہمنہ تن گوش تھے. انکل نےکہا. دبئی سے فرینکفرٹ اور وہاں سے فورٹالیزا براستہ ساؤ پاؤلو . گھر سے چلے اٹھائیس گھنٹے ہو چکے تھے. کہر آلود صبح میں اونچی عمارتوں سے ٹکرا جانے کے خدشے کو شکست دیتا اور ائیرپورٹ کے گرد تین چکر لگانے کے بعد جب ہمارا جہاز کامیابی سے رن وے پر اترا تو مجھ سمیت سب مسافروں نے تالیاں بجا کر پائلٹ کو داد دی. ساؤ پاؤلو کے سادہ سے ائیرپورٹ پر سامان کے آخری لمحے تک انتظار اور مایوسی کے بعد ایئر لائن کے دفتر پھنچا تو فرینکفرٹ میں سامان پیچھے رہ جانے کی معزرت کے ساتھ ایک تھیلا اور ١٥٠ یو ایس ڈالر ہرجانہ وصول پایا. فورٹالیزا کی فلائٹ پانچ گھنٹے بعد تھی . انتظارگاہ کی بینچ پر بیٹھ کر تھیلا کھولا تو ایک ٹی شرٹ ، نیکر ، موزے کی جوڑی اور ٹوائیلیٹری بیگ میں موجود صابن، ٹوتھ پیسٹ، ریزر اور ٹوتھ برش سے ملاقات ہوئی. تھیلا سر کے نیچے رکھ کر نیم دراز ہونے ہی کو تھا  کے لمبا اورکوٹ اور سر پر جہازی ٹوپی پہنے ایک بوڑھا بینچ پر ساتھ آ بیٹھا اور بولا. تیرہ بحری جہازوں پر لادنے کے لئے مصالحہ جات  کا ذخیرہ فراہم کر سکیں گے آپ؟ میں بینچ پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا. نیند ہرن ہو چکی تھی. میرا جواب سنے بغیر ہی اجنبی بولا. میں پیڈرو ہوں، پیڈرو الواریس کبرال . ایک پرتگالی مہم جو. چھ  مہینے پہلے واسکو ڈی گاما تمھارے ملک ہندوستان سے ایک کامیاب مصالحہ جاتی مہم سے واپس پرتگال پہنچا ہے. اور اب مجھے تیرہ بحری جہازدے کر ایشیا اور افریقہ کے ساحلوں پر اس تجارت پر پرتگالی تسلط قائم کرنے کے لئے روانہ کیا گیا ہے .راستے میں یہاں جنوبی امریکا کی زرخیز زمین پر لنگر انداز ہونے کے بعد ہم نے پرتگالی پرچم لہرا دیا ہے . اجنبی کی باتوں میں اس قدر اعتماد تھا کے مجھے تردید کرنا مناسب نہ لگا . بلکہ میں نے اس سے سوال کیا . یہ نو دریافت ملک کیسا لگا آپ کو. اجنبی اطمینان سے بولا. مجھے یقین ہے کہ آج یعنی پندرھویں صدی میں دریافت ہونے والا یہ ملک مستقبل میں پرتگالی عظمت کی علامت بن کر ابھرے گا. ہم افریقی غلاموں کو یہاں بسا کر زرخیز زمین سے کپاس، تمباکو اور شکر حاصل کریں گے اور جہازوں میں بھر کر پرتگال لے جائیں  گے. پھر وہ رکا اور مجھ سے کہے لگا . اور تم یہاں کیسے؟ میں نے جواب دیا  جنوبی امریکا کے  سب سے بڑے ملک میں دنیا کے دوسرے بڑ ے دریا ایمازون کی ٤٠٠٠ میل لمبائی اور ١٥ میل چوڑائی اور اس کے دامن میں گھنے برساتی جنگل جو دنیا بھر کی آکسیجن کا بیس فیصد پیدا کرتے ہیں، ایک ایسی کشش ہے جو مجھے یہاں کھینچ لائی ہے.  اٹھارویں صدی میں دنیا بھر میں سونے کا سب سے بڑا ذخیرہ بھی بہت سے مہم جوو ں کو یہاں لایا ہو گا  لیکن کون جانے ان میں سے کتنے  ٢٠ فٹ لمبے اژدہوں ایناکونڈا کا شکار بن گئے ہوں. آپ یہاں ہیں نانا جی. میں سارا ائیرپورٹ ڈھونڈھ چکی ہوں. دبلی پتلی پرتگالی نقوش والی لڑکی نے ہماری گفتگو میں شریک ہوتے ہوۓ کہا. پھر میری طرف مڑکر بولی . معاف  کیجئے گا جناب. میرے نانا کی یاد داشت درست تو ہے مگر گڈ مڈ ………جاری ہے

تانگے کا کرایہ، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، پچیسواں انشا Pay for taxi, ride in spaceship. Grandpa & me. Urdu/Hindi Pod cast serial. Episode 25

Narration by: Shariq Ali
December 9, 2015
retina

This story is about history of writing and the information revolution we all are passing through

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

 

تانگے کا کرایہ،  دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، پچیسواں انشا، شارق علی

دادا جی کے ہاتھ میں کتاب تھی اور میرے کنڈ ل. مسکرا کر بولے. صفحہ نہ پلٹا سکو تو کتاب پڑھنے میں کیا مزہ. یانی آپا گلدان میں پھول سجاتے ہوے بولیں. ممدو کے ہاتھ میں کتاب نہیں لائبریری ہے دادا جی . پھر پوچھا. کتنی کتابیں ہیں تمھارے کنڈل میں؟ میں نے کہا پندرہ سو اور ڈکشنری الگ. لفظ پر انگلی رکھیے اور تفصیل حاضر. دادا جی بولے. مان گئے بھئی . اب تو تحریر کے پنجرے میں بند خیال کی چڑیا تا نگے پر نہیں سپیس شپ میں سفر کرتی ہے. سنائیے نا تحریر کے ارتقا کی کہانی؟ میں اٹھلایا. کہنے لگے . بلا شبہ بول تحریر سے زیادہ قدیم ہیں. ممکن ہے پہلا انسان، ذہن میں آیا مربوط خیال اور بدن اور آواز کی ہم آہنگ با معنی بولی، ایک ساتھ دنیا میں آئے ہوں. تحریر بہت بعد میں ایجاد ہوئی. تیس ہزار سال پرانی اسپین اور فرانس کے غاروں میں بنی تصویریں ایک نوعیت کی پہلی تحریریں ہیں. قدیم انسانی گروہ بنے تو ملکیت ثابت کرنا ضروری ہو گیا تاکہ  اشیا کا تبادلہ ہو سکے. شکار، فصل، جانور، یا زمین کا ٹکڑا . تحریر اسی ضرورت کے تحت ایجاد ہوئی. ٤٠٠٠ ق م کے میسوپوٹیمیا میں ملکیتی تختیوں کے یقینی آثار ملتے ہیں. پھر ایسی تصویری زبان تحریر ہوئی جو اشیا کی سیدھی سادھی شکلیں تھی . پھر شکلوں کی ترتیب اور توڑ جوڑ سے مربوط مفہوم کا بیان ہوا. آخرکار حروف تہجی ایجاد ہوۓ جوصوتی اظہار سے جڑے ہوۓ تھے. میسوپوٹیمیا، ببیلونیا، دریائے نیل، سب تہذیبوں نے حروف تہجی اور زبان کے ارتقا میں حصّہ بٹا  یا ہے. یا نی آپا نے لان کے رخ والی کھڑکی کھولی تو تازہ ہوا کا جھونکا اندر آیا. دادا جی نے گہرا سانس لیا اور بولے. اولین تحریروں کی سب سے قدیم یادگار اول یا دویم فرعون کا نام نار.مر مٹی کی تختی پر ٣١٠٠ ق م میں لکھا گیا تھا. ٢٤٠٠ ق م میں پیپرس ایجاد ہو کر جب ٦٥٠ ق م میں یونان پھنچا تو باقاعدہ کتابیں لکھی جانے لگیں. ادھر چین میں ٤٠٠ قاف میم میں ریشم سے بنے پارچوں پر تحریریں لکھی گئیں. اسکندریہ کی لائبریری کا قیام جو ٢٩٥ ق م میں ہوا، نے تحریری علم محفوظ کرنے میں اہم پیش رفت کی. بندرگاہ پر لنگر انداز ہر ملک کے جہازوں پر لازم تھا کے لکھی ہوئی سب تحریریں لائبریری میں نقل کے لئے پیش کریں. یا نی آپا نے گرم چائے دادا جی کو تھماتے ہوۓ  کہا. ١٠٠ ص ع  میں چین میں سبزیوں سے بنی کاغذ کی ابتدائی صورت سامنے آئی. پانچ سو برس بعد یعنی ٦١٠ ص ع  میں کاغذ کی صنعت چین سے نکال کر جاپان اور پھر ٧٠٠ ص ع  میں ایشیا تک پوھنچی. گٹنبرگ نے ١٤٣٩ ص ع  میں پرنٹنگ پریس بنا کر چھپی ہوئی کتابوں کے ذریعے علم عام آدمی تک پھنچا کر انقلاب برپا کر دیا.اور پھرآج کی دنیا  توعلمی انقلاب کی ایک ولولہ انگیز دنیا ہے. کمپیوٹر، ڈیجیٹل کمیونیکشن اور ان سب کی بنیاد مائکروچپ کی مدد سے اب حروف، تصویر یا آواز کی صورت میں معلومات تک رسائی، اس کا برتنا، اسے محفوظ کرنا اور دوسروں تک پھنچانا جس قدر سستا اور آسان اب ہے پہلے کبھی نہ تھا. گویا سواری سپیس شپ پر اور کرایا تانگے سے بھی کم…….جاری ہے

ریت پر سفر، دادا اور دلدادہ ،انشے سیریل ، چوبیسواں انشا Ahmed Shamim, a journey of love. Grandpa & me. Urdu/Hindi Pod cast serial. Episode 24

Narration by: Shariq Ali
December 6, 2015
retina

Ahmed Shamim (1927-1982) was a freedom fighter, a lover and an Urdu poet. This story is about his love and his well known poem “A moment of lost journey” (Rait Per Sufer Ka Lamha)

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

ریت پر سفر، دادا اور دلدادہ ،انشے سیریل ، چوبیسواں انشا ،  شارق علی

آتشدان میں لگی آگ کی حدّت نے  کمرہ بہت آرام دہ بنا دیا تھا. دادا جی،  میں اور یانی آپا سمارٹ ٹی وی پرباری باری اپنی پسند کی ویڈیو دیکھتے اور تبصرے سے محظوظ ہوتے. یا نی آپا کی با ری پر نیرہ نور کی گا ئی ہوئی احمد شمیم کی نظم کا خوبصورت بول کبھی ہم خوبصورت تھے ختم ہوا تو میں نے کہا. اس نظم میں مجھے بچپن تو صاف دکھائی دیتا ہے لیکن ریت پر سفر کہیں بھی نہیں. پھر اس کا عنوان ریت پر سفر کا لمحہ کیوں ہے؟ دادا جی بولے . شاعر کی کہانی معلوم ہو تو نظم سمجھنا آسان ہو جاتا ہے. تو پھر سنا یے؟  دادا جی بولے. تقسیم ہوئی تو احمد شمیم  سری نگر کا ہونہار طالب علم اور کشمیر تحریک آزادی کا رکن تھا. انڈین سیکورٹی فورسز کے بار بار تشدد نے اسے اپنی ماں اور خاندان چھوڑ کر پاکستان آنے پر مجبور کیا. پہلے آزاد کشمیر ریڈیو میں فری لانس صحافی اور پھر انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں سرکاری ملازمت کرتے کرتے ڈائریکٹر. اس کی نظمیں بچھڑی ہوئی ماں، کشمیری بچپن اور آزادی کا خواب کبھی نہ بھول سکیں. یانی آپا نے آتشدان ذرا دھیما کر دیا اور بولیں. ١٩٥٠ میں قرآن پڑھانے والی بزرگ خاتون جنھیں وہ ماں جی کہتا تھا، کے یہاں پینگ گیسٹ کے طور پر رہتے ہوے اس نے کم گو اور اکثر سوچ میں گم رہنے والی مونیرا کو دیکھا. بات کرنے کی جسارت بے گھر کر سکتی تھی . وہ خاموش رہا. مونیرا بچھڑ گئی. اور وہ ترقی پسند تحریک کا رکن بن کر حکومتی تشدد کا نشانہ بنا. ١٩٦١ میں اتیفاقاً مونیرا اسے دوبارہ ملی. محبّت نے بے سروسامانی اور اختلافات کے طوفان کو شکست دے دی. مونیرا ان دنوں کی یاد میں احمد شمیم کے خطوط پر مبنی کتاب” ہوا نامہ بر ہو” میں لکھتی ہے مال روڈ پر لوگوں کا ہجوم تھا. ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے اپنی نی دنیا تخلیق کر رہے تھے. سا ری دنیا اور سا رے  دکھوں سے بے نیاز. یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم صدیوں سے ایک ساتھ چل رہے ہوں، ہم امر ہوں، ہر روپ میں ان مٹ. ہم ہی کائنات ہوں. وہ کہ رہے تھے تم میرا خواب ہو، ایک ایسی لڑکی جو دکھ اٹھانے کی بہت استعداد رکھتی ہے” تقسیم نے اسے ایک اور زخم دیا. ١٩٦٣ میں اس کی ماں رخصت ہوئیں تو وہ مٹی  دینے سری نگر نہ جا سکا. وہ سوچتا تھا مضبوط پاکستان کشمیر کی آزادی کی ضمانت ہو گا. ١٩٧١ نے یہ یقین بھی چکنا چور کر دیا. سقوط ڈھاکہ کی رات اسے دل کا پہلا دورہ پڑا. ساری قربانیاں رائیگاں دکھائی دیں. ١٩٨٢ میں وہ آخری ریڈیو انٹرویو میں کہتا ہے ریت پر سفر کرنے والے پیچھے آنیوالوں کے لئے کوئی ورثہ نہیں چھوڑتے. تیز ہوائیں قدموں کے نشان تک مٹا دیتی ہیں. بےسود سفر اور گم کردہ منزل. اس کی نظم ریت پر سفر کا لمحہ. کھوئے ہوے بچپن، بچھڑی ہوئی ماں، بکھرے خواب، درون ذات کی ویرانی اور  اس کے سفر کی رائیگانی  کا نوحہ ہے. ١٩٨٢ ہی میں دل کا دوسرا دورہ جان لیوا ثابت ہوا………..جاری ہے

دانش چین، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، بائسواں انشا Chinese Wisdom, Grandpa & me. Urdu/Hindi Pod cast serial. Episode 22

Narration by: Shariq Ali
November 29, 2015
retina

This story is about Confucius, a Chinese teacher and philosopher who influenced China and to some extent the entire world from 200 BC till now.

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

 

دانش چین،  دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، شارق علی

جنگل سے گزرتا ہوا نزدیک ترین راستہ خاصا تنگ تھا.ہمارے دونوں جانب درختوں کی ٹنڈ منڈ شاخیں تھیں اور پیروں تلے سوکھے زرد پتے. بابل راستے سے واقف تھا اور سب سے آگے. پھر فیروزی جوگر، نیلی جینس. میرون ٹاپ اور پونی ٹیل میں فیروزی میچنگ کلپ لگاے یا نی آپا. سب سے پیچھے میں. ہماری منزل جھیل کا وہ کنارہ تھا جہاں دادا جی اور انکل صبح ہی سے  فشنگ میں مصروف تھے. بابل تو آپ کو یاد ہی ہو گا. پھول بن میں میرا گہرا دوست جو کھیتوں میں اپنے باپ کی مدد کرتا ہے. پھول بن  پہنچنے پر یا نی آپا کی بابل سے فوری دوستی مجھے اچھی لگی تھی. پھر بھی جب وہ اسے مجھ سے تیز تیرنے یا درختوں پر تیزی سے چڑھ  جانے پر تعریفی نظروں سے دیکھتیں ہیں تو مجھے سینے پر بوجھ سا محسوس ہوتا ہے. جنگلی راستہ کشادہ ہوا تو ہم ساتھ ساتھ چلنے لگے. یا نی آپا نے بابل سے کہا. پڑھنے لکھنے کا شوق غربت کو ہرا  سکتا ہے. ٥٥١ ق م میں چین میں پیدا ہو کر تین سال کی عمر میں یتیم ہو جانے والے غریب کنفیوشس کی کہانی اس کی بہترین مثال ہے. ان دنوں باقاعدہ تعلیم صرف امیروں کو میسر تھی. اس غریب چرواہے نے تعلیم یافتہ امیروں کی ملازمت کر کے، ان کے ساتھ شہروں شہروں گھوم کر اور شاہی دربار تک رسائی میں شریک هو کر خود کو تعلیم سے آراستہ کیا تھا. وہ پہلے منشی بنا اور پھر ممتاز عالم . تیئس سال کی عمر میں اس نے استاد کی حیثیت سے تعلیم دینا شروع کی. پھر وہ شہر کا قاضی مقرر ہوا. جرائم کم ہوے تو اسے قدیم چین کے صوبے لو کا وزیرانصاف بنا دیا گیا  اور یوں پورے صوبے میں اخلاقی قدروں اور قانون کی بالادستی قائم ہوئی.چھپن سال کی عمر میں اپنے شاگردوں کے ساتھ وہ تعلیم دینے دور دراز علاقوں کے سفر پر روانہ ہوا. چین کی ثقافت پر اس کے اثرات ٢٠٠ ق م  سے لے کر ١٩١١ ص ع  تک بہت گہرے ہیں.  ہم جھیل کے کنارے پھنچے تو دادا جی بھی فشنگ راڈ زمین پر گاڑھ  کر ہمارے پاس گھاس پر آ بیٹھے اور بولے. کنفیوشس نے کوئی تحریر نہیں چھوڑی لیکن اس کے شاگردوں نے اس کی تعلیمات انالیکٹکس کی صورت میں چار سو قبل مسیح  ہی میں محفوظ کر لیں تھیں. اس نے کبھی مذہبی رہنما ہونے کا دعوه نہیں کیا. نہ ہی اس کی تعلیمات کوئی مذہب ہیں. وہ با عزت اور پر وقار انسانی رویئے کو با کردار معاشرے کی بنیاد قرار دیتا ہے. وہ کہتا ہے کہ حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ عوام کے لئے دیانتداری، قانون کی پابندی، امن پسندی اور دانشمندی کی مثال بن کر بہتر معاشرے کی تشکیل کریں. وہ نظم و ضبط اور اخلاقی اصولوں پر سختی سے کاربند ہونا ضروری سمجھتا ہے چاہے لوگ ہمیں احمق ہی کیوں نہ سمجھیں. موجودہ دنیا کی سیاست، نظام حکومت، مذہب اور ثقافت میں کنفیوشس کی تعلیمات کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور دکھائی دیتا ہے. اس کا سنہری اصول یہ تھا کے وہی  حسن سلوک اختیار کرو جس کی تمہیں توقع ہے. وہ بہتر سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوا………جاری ہے

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

16,950 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina