retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Tag Archive: "hindi kahani"

Tower Ay ٹاور اے، سیج ، انشے سیریل، اکتیسواں انشاء Merewether Tower, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 31

Narration by: Shariq Ali
September 16, 2017
retina

James Strachan designed the Gothic style Merewether clock tower in Karachi to keep us reminded of the passing times. Awareness of time is the distinguishing feature of human kind from the lower animals

I am Azm, a student of Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

ٹاور اے، سیج ، انشے سیریل، اکتیسواں انشاء، شارق علی

کالج جانے کے لئے ڈبلیو گیاره کا انتظار ہوتا تو بس اسٹاپ پر رکتی سب بسوں کے کنڈیکٹر ایک ہی گردان کرتے۔ ٹاور ٹاور ٹاوراے۔ جتنا نام اس عمارت کا سنا کسی اور کا نہیں۔ ہمارے جگری یار کے والد کا نزاری ہوٹل ٹاور کے قریب تھا۔ مہینے میں ایک بار مفت خوری ضروری ہوتی۔ ایک دفعہ اتوار کے روز میری ویدر ٹاور کو قریب سے دیکھا۔ پروفیسر گل زمانہ طالبِ علمی یاد کر رہے تھے۔ بولے۔ گوتھک طرز میں گزری پتھروںسے بنا چوالیس فٹ چوڑا اور ایک سو دو فٹ اونچا کلاک ٹاور۔ میونسپل انجینیئر جیمز اسٹریچن کا کراچی کو ایک اور تحفہ جو اٹھارہ سو بانوے میں تعمیر ہوا۔ سنگتراشی سے کی گئی سجاوٹ خوش زوقی اور مہارت کی مثال ہے۔ داؤدی ستارہ یا تو آرائشی اتفاق ہے یا کراچی کے یہودیوں کو اسٹریچن کا خراجِ تحسین، بڑا گھنٹا ہر گھنٹے اور چھوٹا ہر پندرہ منٹ پر بجا کرتا تھا پہلے۔ اب تو ٹریفک، دکانداروں اور راہ گیروں کے شور کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا۔ عمارت کی خستہ حالی حکومتی بے توجہی کی ویسی ہی تصویر ہے جیسا کے پورا شہر کراچی۔ کلاک ٹاور وقت کی اہمیت کا اظہار تو ہیں لیکن یہ وقت بجائے خود ہے کیا؟ سوفی نے فلسفیانہ انداز میں سوال کیا۔ پروفیسر بولے۔ یوں تو وقت بہت سادہ اور سامنے کی بات لگتی ہے۔ لیکن اس کی مطمئن وضاحت بے حد دشوار اور پراسرار ہے۔ آسانی کے لئے ہم اسے گھڑی سے ماپی جانیوالی قدر کہہ سکتے ہیں۔ یا کائنات کی وہ خصوصیت جو ایک واقع کو دوبارہ نہیں ہونے دیتی۔ فاصلے سے بے نیاز یہ تسلسل ایک ایسی لکیر ہے جو مسلسل آگے کی سمت رواں رہتی ہے۔ وہ بہتا دریا جس میں دو بار چھلانگ لگانا ممکن نہیں۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ درست لیکن وقت آج بھی ایک کائناتی اسرار ہے۔ ہم انسان وقت ناپنا سیکھ گئے ہیں لیکن اسے پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہیں۔ رمز بولا۔ قدیم انسان کے لئے وقت دائرہ وار تھا۔ صبح ،دوپہر، شام اور رات۔ بہار، گرمی، خزاں اور سردی۔ سورج اور چاند کا طلوع اور غروب۔ گھڑی ایجاد ہوئی تو یہ سیدھی لکیر بن گیا۔ بنگ بینگ سے لے کر اس جاری گفتگو تک چودہ بلین سال لمبی لکیر۔ کاش ہم وقت میں سفر کر سکتے۔ پروفیسر نے کہا۔ یہ آرزو نئی نہیں۔ بہت سی قدیم کہانیوں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاً مہابھارت میں روائتہ جنت میں براہما سے مل کر لوٹتا ہے تو زمین پر مدتیں گزر چکیں ہوتیں ہیں۔ پھر اس غار کا قصہ جس کا ذکر قرآن اور بائبل دونوں میں موجود ہے۔ ایک خدا پر ایمان رکھنے والے عبادت گزار چند نوجوان جو ظالم رومن بادشاہ دقیانوس کے سالانہ بت پرستی کے جشن سے انکاری ہو کر اور اس کے دیئے قتل کے حکم سے جان بچا کر ایک مقامی دہقان اور اس کے کتے کی مدد سے اس غار  میں پناہ لیتے ہیں۔ کتا حفاظت کے لئے باہر اور وہ غار کے اندر چند گھنٹوں کی نیند کے بعد جاگتے ہیں تو تین سو سال گزر چکے ہوتے ہیں۔ احساس تب ہوتا ہے جب ان میں سے ایک کھانا خریدنے بازار جاتا ہے اور دکاندار قدیم سکے دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ پھر نیا بادشاہ جو صاحبِ ایمان ہے ننگے پاؤں ان کی زیارت کو آتا ہے۔ کہتے ہیں اصحابِ کہف اسی غار کے آس پاس دفن ہیں۔ ترکی اور اردن دونوں ہی غار کہف کی موجودگی کے دعویدار ہیں۔ قصے کہانی چھوڑیئے۔ کیا سائنسی طور پر یہ ممکن ہے؟ میں نے کہا۔ بولے۔ اگر رفتار روشنی سے بھی زیادہ تیز ہو جائے تو شاید ایسا ممکن ہو۔ لیکن اس کے لئے بے اندازہ توانائی درکار ہو گی۔ یا پھر سائنس فکشن کے کرداروں کی طرح کوسمک اسٹرنگس، بلیک ہول، یا وارم ہول سے ہو کر گزرنے کے بعد ایسا ممکن ہو سکے۔ کہتےہیں آئینسٹائن خود سے اکثر یہ سوال کرتا تھا کہ کیا ہم کبھی روشنی کی کرن پر سوار کائنات کی مکمل حقیقت کو محض ایک نقطے کی صورت دیکھ سکیں گے؟ ۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

Hezarfen ہزارفن ، سیج، انشے سیریل، اٹھائسواں انشا Hezarfen and Galata Tower, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 28

Narration by: Shariq Ali
August 27, 2017
retina

In a bright day of 1638, he jumped from Galata tower near Bosphorus for the first flight with artificial wings in the history of aviation. He landed successfully at Uskudar, on the Asian side of Istanbul

I am Azm, a student of Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

 

ہزارفن ، سیج، انشے سیریل، اٹھائسواں انشا 

استنبول کے میٹرو اسٹیشن سیشانے سے باہرنکلے تو مصروف سڑک کے اس پار چمکتی دھوپ میں ایشیا اور یورپ کو تقسیم کرتے آبنائے بوسفورس کے نیلے پانیوں پر نگاہ پڑی۔ سڑک عبور کی اور تراشے ہوئے پتھروں سے بنی سینکڑوں برس پرانی اونچائی کو جاتی سڑک پر سامنے نظر آتے گلاٹا ٹاور کی سمت چلنے لگے۔ سوفی ترکی میں گزاری چھٹیوں کا ذکر کر رہی تھی۔ بولی۔ رستے کے دونوں جانب پر رونق دوکانیں اور ریستوران تھے۔ کوئی دو سو فٹ اونچے مینار کے گول صحن نما احاطے میں ایک نو جوان ترکی ساز کوپیز تھامے ایک نامانوس لیکن دل سوز دھن بجا رہا تھا۔ سامنے بکھرے لیرے اس کی مہارات کا ثبوت تھے۔ ٹکٹ کی قطار توقع سے کچھ کم تھی۔  سیکیورٹی چیک سے گزر کر تین چوتھائی چرھائی لفٹ میں طے کر کے ایک گول کمرے میں پہنچے۔ ایک کونے میں سولویں صدی کے شاہی تخت کا سیٹ لگا کر اور زرق برق گاون پہنا کر تصویریں کھینچی جا رہی تھیں۔ پھر بقیہ سیڑھیاں پیدل چڑھ کر آخری منزل کے شاندار ریسٹورینٹ اور ارد گرد سیاحوں سے بھری مشاہداتی گیلری سے استنبول کو دیکھا۔ پروفیسر بولے۔ چودھویں صدی میں جینویز لوگوں نے تراشیدہ پتھرون سے یہ فوجی مینار تعمیر کیا تھا۔ نوکیلے گنبد اور منفرد طرزِ تعمیر کی بلندی سے بوسفورس اور شہر کے یورپی اور ایشیائی حصوں کا نظارہ ایک خوش کن تجربہ ہے۔ گلاٹا جیل بھی رہا ہے اور فوجی رہائش گاہ بھی۔ اس کا گنبد سما کی محفلوں میں مولانا رومی کے کلام کی قرات سے بھی گونجا ہے۔ لیکن سب سے روشن حوالہ سولہ سو اڑتیس میں استنبول کے شہری ہزارفن احمت چلابی کی انجن کے بغیر صرف پر نما بازؤں کی مدد سے انسانی تاریخ کی دلیرانہ پرواز ہے۔ کچھ اور تفصیل اس کی؟ رمز نے پوچھا۔ بولے. اڑنا ہزارفن کے بچپن اور جوانی  کا جنون تھا۔ برسوں کے سائنسی مشاہدے، تجربات اور بھرپور منصوبہ بندی کے بعد اس نے یہ چھلانگ لگائی تھی۔ اس روشن دن استنبول کے شہریوں نے اسے گلاٹا کی بلندی سے پروں سمیت دلیری سے کودتے دیکھا۔ پھر وہ کامیاب پیرا گلایڈنگ پرواز کرتے ہوۓ بوسفورس کے پانیوں کو عبور کر کے استنبول کے ایشیائی حصے میں اسکودار کے مقام پر با حفاظت اتر گیا۔ فضائی تاریخ میں باقی دنیا سے دو سو برس پہلے یہ ایک عظیم کارنامہ تھا۔ اس واقع کا احوال ایک مورخ ایویلیا چلیبی نے اپنی کتاب سیاحتنامہ میں تفصیل سے لکھا ہے۔ کس طرح شہر میں اس کی کامیابی کا جشن منایا گیا۔ کیسے سلطان مراد چہارم  نے اسے ایک ہزار ااشرفیوں سے نوازا۔ وہ سلطنتِ عثمانیہ کے ما تحت ملکوں کا ہیرو بن گیا۔ سوفی بولی۔ تاریک پہلو اس واقع کا یہ ہے کے اس دور کے مذہبی عالموں نے  اس کارنامے کو رضائے الہٰی کے برعکس سمجھا۔ ان کی دلیل تھی کے خدا کا منشا انسانی پرواز ہوتا تو وہ ہمارے پر لگاتا۔ گویا  ہزارفن یہ پرواز کر کے کفر کا مرتکب ہوا۔ انہوں نے سلطان پر زور ڈال کر سزا کے طور پر اسے ملک بدر کر کے الجیریا بھیج دیا۔ یہ وہی دور تھا جب عیسائی پادریوں نے گلیلیو کو اس کی دریافتوں کی سزا گھر میں قید کر کے دی تھی۔ گویا مذہب اور سیاست ہمیشہ ہی سچ سے خوفزدہ رہے ہیں۔ دو سال کی جلا وطنی کے بعدہزارفن صرف اکتیس برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوا۔ استنبول کا ایک ہوائی اڈہ آج بھی اس کے نام سے منسوب ہے۔  گویا وہ آج بھی مصروفِ پرواز ہے۔ قیام کی آخری رات بوسفورس میں تیرتی فیری میں ڈنر کرتے ہوے گلاٹا ٹاور پر نگاہ ڈالی تو وہ رنگ برنگی روشنیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہزارفن کی یاد دلاتا عروس استنبول کے ماتھے پر دمکتا حسین جھومر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

 

Sufaid Faam Ka Bojh سفید فام کا بوجھ، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل ، تراسیواں انشا The White Man’s Burden, Grandpa & me, Urdu Hindi Podcast Serial, Episode 84

Narration by: Shariq Ali
September 27, 2016
retina

Rudyard Kipling wrote the poem “The White Man’s Burden” about the belief of the Western world that industrialisation is the way to civilise the Third World. This story travels in postcolonial Uganda to see what happened

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

سفید فام کا بوجھ، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل ، تراسیواں انشا، شارق علی

ہال کی کھلی کھڑکی سے رن وے پر کھڑے بوئنگ کے پرواز کی تیاری میں تیزی سے چلتے انجن مجھے پریشان کیے ہوۓ تھے. کھینچے ہوۓ بریک ایک لمحے کو ناکارہ ہوتے تو ہم سب اس دیؤ پیکر تیر کے ٹھیک نشانے پر تھے. عملے کی بے نیازی سے ظاہر تھا کہ یہ روز کا معمول ہے. قطار میں بیشتر کالے ، کچھ گورے، دو جاپانی اور مجھ سمیت تین ایشیائی تھے. ائیرپورٹ کی عمارت بہت سادہ بلکہ عارضی نوعیت کی تھی. حیرت ہوئی کہ یہ ہے اینٹیبے  ائیرپورٹ جس پر اسرئیلی کمانڈوز نے ١٩٧٦ میں کامیاب آپریشن کر کے یرغمال ہم وطنوں کی جان بچائی تھی. انکل پٹیل یوگنڈا کا ذکر کر رہے تھے. بولے. پاسپورٹ پر مہر لگی تو میزبان کی جیپ میں بیس میل دور درالحکومت کمپالا میں رات گزارنے ہوٹل پہنچے . راستے میں سر سبز لیکن  چھوٹی پہاڑیاں اور جھگیوں کی بستیاں ملیں . ننگ دھڑنگ بچے سرخی مائل مٹی کے میدان میں فٹ بال کھیل رہے تھے. زنانہ لباس قدامت پسند اور بوسیدہ ، سڑکوں پر زیادہ تر موٹر سائیکلیں کچھ کا ریں بھی. میزبان نے بتایا کہ چرچ میں عبادت کا اوسط دورانیہ پانچ گھنٹے ہے لیکن ملک بھر میں  شراب اور گوشت کا استعمال حد سے بڑھا ہوا. کیلے، اننناس اور ایواکیڈو حسب موسم سستے اور ذائقہ دار. غربت ایسی کہ دکھی کر دے. آدھی آبادی ایک ڈالر روز پہ گزارا کرتی ہے جبکہ گیس اور تیل کے وافر ذخائر ابھی استعمال بھی نہیں ہوۓ . کولونیلزم کے لگائے زخم اب تک تازہ ہیں. کولونیلزم کیا ہوتا ہے دادا جی ؟ میں نے پوچھا. بولے. یورپ کے لوگ ترقی یافتہ ہوۓ تو نئی دنیاؤں کی تلاش میں نکلے. ملکوں پر قابض ہو کر جب انہوں نے مقامی حقائق کو نظر انداز کیا اور مغربی سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظریات مسلط کیے تو یہ کولونیلزم کہلایا. یا نی آپا بولیں.رڈیارڈ کپلنگ نے کولونیلزم کو سفید فاموں پر بوجھ کہہ کر یہ تاثر دیا تھا کہ غلام ملکوں کی ثقافت اتنی کمزور تھی کہ معاشرے کو چلانا ممکن ہی نہیں تھا.  اور یہ بوجھ سفید فام ثقافت کو اٹھانا پڑا . اس غیر منصفانہ جواز کی بنیاد پر انڈیا، آسٹریلیا، نیو زیلینڈ، کینیڈا اور بیشتر افریقہ پر حکمرانی کی گئی. اس ظلم کی حمایت مذہبی ٹھیکےداروں نے بھی کی اور خوب عیسائیت پھیلائی . کمپالا کے بعد کہاں گئے آپ؟ میں نے اچانک پوچھا. بولے. صبح ہوئی تو اسی میل دور لیک وکٹوریہ کے شمالی کنارے پر واقع جنجا پہنچے. کہتے ہیں دریاے نیل کا ہزاروں میل لمبا سفر جنجا ہی سے شروع ہوتا ہے. ہمارا قیام جنجا نائل ریسورٹ نامی ہوٹل میں تھا. مرکزی عمارت میں سوئمنگ پول اور کئی ریستوران. ساتھ کی کشادہ پہاڑی پر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بنے آرام دہ کاٹیج جس کے لان سے نظر آتا نیچے زور و شور سے بہتا دریاۓ نیل. کمرے کی کھڑکی کھلی ہو تو بہتے دریا کی مسلسل آواز سنائی دیتی . اگلے دن جنجا گئے. چھوٹا سا با رونق قصبہ ہے، دو ایک بڑی سڑکیں، بیشتر عمارتیں خستہ حال لیکن طرز تعمیر کولونیل. کولونیل دور سے نقصان کیا پہنچا غلام ملکوں کو؟ میں نے بات بدلی . یا نی آپا بولیں. اپنے انداز میں مستحکم اور ہم آہنگ معاشرے سیاسی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہو گئے. جاگیردارانہ سوچ کولونیلزم ہی کی دین ہے.امیر اور غریب کو قدرتی اصول سمجھ کر قبول کر لینا ایسا ہی ہے جیسے انگریز حکمران اور مقامی لوگ غلام کا تصور مان لیا جائے . ذہنی آزادی تو تب ملے گی جب معاشرے میں ہر فرد مساوی قرار پائے یعنی وسائل کا برابر سے حقدار. اور ایسا بغیر انقلاب کے ممکن نہیں ممدو…….جاری ہے

Yaar e Shehsawar یار شہسوار، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، تراسیواں انشا Gallant confidant, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast Serial, Episode 83

Narration by: Shariq Ali
September 22, 2016
retina

Story of the gallant confidant, who in combination with iron weapons, made Hittites the super power of their times

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

 

یار شہسوار، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، تراسیواں انشا، شارق علی

جوکی کلب کے پھولوں سے آراستہ برآمدے میں قدیم کوفی ٹیبل سے اٹھ کر ہم سر سبز و شاداب باغ کی جانب بڑھے تو میں نے پوچھا. گھوڑوں سے خاندانی دلچسپی کب سے؟ پیٹر بولا. نیو مارکیٹ ریس کورس سے یہ تعلق دو سو سال پرانا ہے. پہلے کلب کے اندرونی حسن اور گھڑ سواری کے  نوادرات سے سجے کمرے صرف ممبرز کے استعمال میں تھے. اب خصوصی مہمان اور تقریبات کی بھی اجازت ہے. انکل انگلینڈ کی کاؤنٹی نارفوک کا ذکر کر رہے تھے. بولے. پیٹر نے بتایا کہ سینکڑوں ایکڑ پر پھیلی یہ جاگیر گھوڑوں کی تربیت کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے. راولی مائل یورپ کا سب سے بڑا ریس کورس ہے اور سالانہ شب موسیقی کی وجہ سے جانا جاتا ہے. یانی آپا بولیں. انگلینڈ کی پانچویں بڑی کاؤنٹی ہے نارفوک . سو میل لمبا ساحل اور میلوں پھیلے گھنے جنگل اور سر سبز و شاداب روایتی انگلش دیہات . نورچ سب سے بڑا شہر ہے یہاں کا. پورے مغربی یورپ میں رقبے کے لحاظ  سے سب سے زیادہ میڈییول چرچ ہیں یہاں. کوئی چھ سو کے قریب. گھڑ سواری کا آغاز کب ہوا دادا جی؟ میں نے پوچھا. بولے. گھوڑوں کا ارتقائی سفر پینتیس لاکھ سال پہلے شمالی امریکا سے شروع ہوا تھا. پہلے تو یہ زیبرا کی طرح آزاد جنگلی جانور تھے. کوئی چھ ہزار ق م میں شمالی امریکا کی مقامی آبادی نے شکار سے ان کا مکمل صفایا کر دیا. صرف وہ بچے جو نرم گھانس، سیب اور گاجروں کے تعاقب میں وسطی اشیا کو ہجرت کر چکے تھے. موجودہ گھوڑے ان مہاجر گھوڑوں کی نسل ہیں. ایک لاکھ ق م  پہلے جب ابتدائی انسان وسطی اشیا پہنچے تو پہلے تو لباس، خیمے اور اوزار بنانے کے لئے گھوڑوں کا شکار ہوا. لیکن ٤٠٠٠ ق م میں پہلی بار کیسپین سمندر کے گرد بسے ہندی یورپین لوگوں نے سامان ادھر سے ادھر لے جانے کے لئے گھوڑے سدھانا شروع کئیے . ممکن ہے کچھ ان پر سوار بھی ہوۓ ہوں. پھر گھوڑا گاڑی کا استعمال عام ہونے لگا. ٢٥٠٠ کلو ق م میں مغربی اشیا کی سمیرین تہذیب میں گھوڑا گاڑیاں شہروں کے درمیان تجارت کے لئے  چلیں.پھر ہٹیٹ جنگجوؤں نے پہلی بار تیز رفتار گھوڑے جتے چیریوٹ کو جنگوں میں استعمال کیا. فولادی ہتھیار اور  چیریوٹ نے انھیں اس دور کی سپر پاور بنا دیا. پھر ١٩٠٠ ق م میں ٹرائے کی جنگ میں  چیریوٹ  استعمال ہوۓ اور ١٧٠٠ ق م  میں یہ استعمال مصر پہنچا. چین کی شینگ ڈائیسٹی نے ١٢٠٠ ق م میں چیریوٹ  استعمال کیے .  زین اور لگام تو صرف ٢٠٠ ق م  میں ایجاد اور استعمال ہوۓ . انکل نے کہا. انسانی تاریخ میں اہم جنگی ہتھیار رہے ہیں گھوڑے. چیریوٹ جنگجو پیدل سپاہ کو کچل سکتے تھے. وہ تیزی سے تھکے بغیر ادھر سے ادھر پہنچتے، پیغام رسانی، حملہ آور اور فرار ہو سکتے تھے. دادا جی بولے. پھر گھڑ سواری کا فن دنیا بھر میں پھیلا. شمالی امریکا ہزاروں سال گھوڑوں سے  محروم رہا. ہسپانوی پندرھویں صدی میں اپنے ساتھ گھوڑے لے کر پہنچے تو مقامی لوگ یہ مخلوق دیکھ کر حیران رہ گئے. ہسپانویوں نے ازٹیک تہذیب کو گھوڑوں ہی کی مدد سے شکست دی تھی ورنہ یہ جیت ممکن نہ تھی. پھر ریڈ انڈینز نے پکڑے ہوۓ ہسپانوی گھوڑے استعمال کرنے میں مہارت حاصل کی……….جاری ہے

 

Zurd Ajnabi زرد اجنبی، دادا اوردلدادہ، انشے سیریل، بیاسیواں انشا Yellow stranger, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast Serial, Episode 82

Narration by: Shariq Ali
September 17, 2016
retina

This story is about the courage and sacrifice of 17000 chinese immigrants who built the railway across Canada between 1881 to 1884

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

زرد اجنبی، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، بیاسیواں انشا، شارق علی

تیز قدم لیکن مہذب اطمینان لئے مسافر اور سٹیشن سے زیادہ شاپنگ مال کا سا سماں. بیچ سے گزرتا راستہ اور دونوں جانب دکانیں اور ریستوران. کوفی کی تیز مہک. شیشوں سے دکھائی دیتے مختلف شکلوں اور رنگوں کے کیک، کوکیز اور دیگر لوازمات کے پیچھے خوش لباس، خوش اخلاق گاہک نمٹاتے دکاندار. ناشتہ کر چکے تو مونٹریال سے ٹورنٹو جانیوالی وایا ٹرین پکڑی. انکل پٹیل کینیڈا کا ذکر کر رھے تھے. بولے. پانچ گھنٹے کا سفر لیکن نشستیں بہت آرام دہ. ٹرین چلی تو ٹرالی کھینچتے ایک صاحب نے کھانے پینے کی چیزیں لئے چکر لگایا. کھڑکی سے منظر کہیں بور کہیں دلچسپ . زیادہ تر جنگل اور کھیت. کچھ رہائشی اور صنعتی علاقے بھی. ایک جھیل کے کنارے بنے خوبصورت مکانات. تیزی سے پیچھے بھاگتا برچ کے سفید درختوں کا جنگل. وہ تو جاڑے نہیں تھے ورنہ سب کچھ برف سے ڈھکا ہوتا. دادا جی بولے. کینیڈا ١٨٦٧ میں ملک بننا. پہلے کوبیک ، اونٹاریو، نیو برنسوک اور نووا سکوشیا الگ الگ صوبے تھے. ریلوے لائن نے دور دراز مثلاً برٹش کولمبیا کے دشوار پہاڑی علاقوں کو آپس میں ملا کر کینیڈا کو کنفیڈریشن بنایا. کوئلہ وافر دستیاب تھا یہاں اس لئے ریلوے تیزی سے پھیلی. کچھ گھنٹے سفر کے بعد انجن کو ایندھن اور عملے کو غذا کی ضرورت ہوتی تھی. اسی لئے ریلوے شیڈ اورہوٹل بنے ،لوگ آباد ہوۓ تو  ارد گرد کھیتی باڑی شروع کی.  گویا ریل شہروں تک نہیں بلکہ آبادیاں ریل کے ارد گرد قائم ہوئیں کینیڈا میں. ١٨٨١ سے ١٨٨٤ تک پیسفک کینیڈا کی تاریخ ساز ریلوے لائن بچھانے کا سہرا ١٧٠٠٠ چینی مزدوروں کے سر ھے . ان کی اجرت ایک ڈالر یومیہ تھی اور کھانے اور لباس کا انتظام بھی خود ان کے ذمّے . جبکہ سفید فام مزدور دو ڈالر روز اور سہولتیں مفت پاتے تھے. ہر مشکل کام چینیوں سے کروایا جاتا. صرف چاولوں اور سوکھی سالمن کھا کر زندہ اور جڑی بوٹیوں سے اپنا علاج کرلینے والوں نے عارضی خیموں کے باہر آگ جلا کر کینیڈا کی سردی کا مقابلہ اور مسلسل کام کیا. سرنگوں کے ڈائنامائٹ دھماکوں اور دشوار پلوں اور غذائی محرومی کی بیماری سکروی سے ان گنت چینی مزدور مارے گئے. ان گم نام زرد اجنبی چہروں نے دنیا کے اس ترقی یافتہ ملک کو اس کے موجودہ خد و خال دیے ہیں. میں نے پوچھا. کیا دنیا بھر میں ریل کی پٹریوں کی چوڑائی ایک جیسی ہوتی ہے؟ یانی آپا بولیں. بلکل. ہر جگہ ١٤٣٥ ملی میٹر چوڑی . جب رومن دنیا پر حکمران تھے تو دور تک پھیلے زیر اثر علاقوں تک رسائی کے لئے سڑکیں بنائی گئیں . سڑکوں کا رومن چیریٹ کے پہیوں کی چوڑائی کے مطابق ہونا ضروری تھا. ریل کے موجد جارج سٹیفنسن نے پہلی ریلوے لائن تعمیر کی تو رومن چیریٹ کی یہ چوڑائی برقرار رکھی. پھر یہ ایک عالمی اصول بن گیا. روم کے ان قدیم راستوں کی باقیات آج بھی موجود ہیں……. جاری ہے

 

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,023 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina