retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Tag Archive: "education"

Hezarfen ہزارفن ، سیج، انشے سیریل، اٹھائسواں انشا Hezarfen and Galata Tower, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 28

Narration by: Shariq Ali
August 27, 2017
retina

In a bright day of 1638, he jumped from Galata tower near Bosphorus for the first flight with artificial wings in the history of aviation. He landed successfully at Uskudar, on the Asian side of Istanbul

I am Azm, a student of Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

 

ہزارفن ، سیج، انشے سیریل، اٹھائسواں انشا 

استنبول کے میٹرو اسٹیشن سیشانے سے باہرنکلے تو مصروف سڑک کے اس پار چمکتی دھوپ میں ایشیا اور یورپ کو تقسیم کرتے آبنائے بوسفورس کے نیلے پانیوں پر نگاہ پڑی۔ سڑک عبور کی اور تراشے ہوئے پتھروں سے بنی سینکڑوں برس پرانی اونچائی کو جاتی سڑک پر سامنے نظر آتے گلاٹا ٹاور کی سمت چلنے لگے۔ سوفی ترکی میں گزاری چھٹیوں کا ذکر کر رہی تھی۔ بولی۔ رستے کے دونوں جانب پر رونق دوکانیں اور ریستوران تھے۔ کوئی دو سو فٹ اونچے مینار کے گول صحن نما احاطے میں ایک نو جوان ترکی ساز کوپیز تھامے ایک نامانوس لیکن دل سوز دھن بجا رہا تھا۔ سامنے بکھرے لیرے اس کی مہارات کا ثبوت تھے۔ ٹکٹ کی قطار توقع سے کچھ کم تھی۔  سیکیورٹی چیک سے گزر کر تین چوتھائی چرھائی لفٹ میں طے کر کے ایک گول کمرے میں پہنچے۔ ایک کونے میں سولویں صدی کے شاہی تخت کا سیٹ لگا کر اور زرق برق گاون پہنا کر تصویریں کھینچی جا رہی تھیں۔ پھر بقیہ سیڑھیاں پیدل چڑھ کر آخری منزل کے شاندار ریسٹورینٹ اور ارد گرد سیاحوں سے بھری مشاہداتی گیلری سے استنبول کو دیکھا۔ پروفیسر بولے۔ چودھویں صدی میں جینویز لوگوں نے تراشیدہ پتھرون سے یہ فوجی مینار تعمیر کیا تھا۔ نوکیلے گنبد اور منفرد طرزِ تعمیر کی بلندی سے بوسفورس اور شہر کے یورپی اور ایشیائی حصوں کا نظارہ ایک خوش کن تجربہ ہے۔ گلاٹا جیل بھی رہا ہے اور فوجی رہائش گاہ بھی۔ اس کا گنبد سما کی محفلوں میں مولانا رومی کے کلام کی قرات سے بھی گونجا ہے۔ لیکن سب سے روشن حوالہ سولہ سو اڑتیس میں استنبول کے شہری ہزارفن احمت چلابی کی انجن کے بغیر صرف پر نما بازؤں کی مدد سے انسانی تاریخ کی دلیرانہ پرواز ہے۔ کچھ اور تفصیل اس کی؟ رمز نے پوچھا۔ بولے. اڑنا ہزارفن کے بچپن اور جوانی  کا جنون تھا۔ برسوں کے سائنسی مشاہدے، تجربات اور بھرپور منصوبہ بندی کے بعد اس نے یہ چھلانگ لگائی تھی۔ اس روشن دن استنبول کے شہریوں نے اسے گلاٹا کی بلندی سے پروں سمیت دلیری سے کودتے دیکھا۔ پھر وہ کامیاب پیرا گلایڈنگ پرواز کرتے ہوۓ بوسفورس کے پانیوں کو عبور کر کے استنبول کے ایشیائی حصے میں اسکودار کے مقام پر با حفاظت اتر گیا۔ فضائی تاریخ میں باقی دنیا سے دو سو برس پہلے یہ ایک عظیم کارنامہ تھا۔ اس واقع کا احوال ایک مورخ ایویلیا چلیبی نے اپنی کتاب سیاحتنامہ میں تفصیل سے لکھا ہے۔ کس طرح شہر میں اس کی کامیابی کا جشن منایا گیا۔ کیسے سلطان مراد چہارم  نے اسے ایک ہزار ااشرفیوں سے نوازا۔ وہ سلطنتِ عثمانیہ کے ما تحت ملکوں کا ہیرو بن گیا۔ سوفی بولی۔ تاریک پہلو اس واقع کا یہ ہے کے اس دور کے مذہبی عالموں نے  اس کارنامے کو رضائے الہٰی کے برعکس سمجھا۔ ان کی دلیل تھی کے خدا کا منشا انسانی پرواز ہوتا تو وہ ہمارے پر لگاتا۔ گویا  ہزارفن یہ پرواز کر کے کفر کا مرتکب ہوا۔ انہوں نے سلطان پر زور ڈال کر سزا کے طور پر اسے ملک بدر کر کے الجیریا بھیج دیا۔ یہ وہی دور تھا جب عیسائی پادریوں نے گلیلیو کو اس کی دریافتوں کی سزا گھر میں قید کر کے دی تھی۔ گویا مذہب اور سیاست ہمیشہ ہی سچ سے خوفزدہ رہے ہیں۔ دو سال کی جلا وطنی کے بعدہزارفن صرف اکتیس برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوا۔ استنبول کا ایک ہوائی اڈہ آج بھی اس کے نام سے منسوب ہے۔  گویا وہ آج بھی مصروفِ پرواز ہے۔ قیام کی آخری رات بوسفورس میں تیرتی فیری میں ڈنر کرتے ہوے گلاٹا ٹاور پر نگاہ ڈالی تو وہ رنگ برنگی روشنیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہزارفن کی یاد دلاتا عروس استنبول کے ماتھے پر دمکتا حسین جھومر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

 

غار کے قیدی ، دادا اور دلدادہ ، انشے سیریل ، گیا رہواں انشا Allegory of Cave, Grandpa & Me, Urdu/Hindi Pod cast, Episode 11

Narration by: Shariq Ali
October 11, 2015
retina

This story is from Plato’s most famous book, The Republic. Enjoy the wisdom

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

غار کے قیدی ، دادا اور دلدادہ ، انشے سیریل ، گیا رہواں انشا ، شارق علی

میں نے سائیکل کو مہارت سے موڑ کر بریک لگایا اور اسے باغ میں اسٹینڈ پر کھڑا کرکے ہاتھ میں پکسیز کا پیکٹ لیے یانی آپا کے کمرے میں پہنچا تو وہ نیم تاریک کمرے میں کپڑے استری کرتےہوئے یوٹیوب پر استاد شجاعت حسین کا ستار سن رہی تھیں ۔ میرے ہاتھ میں اپنی پسندیدہ چاکلیٹ کا پیکٹ دیکھ کر وہ کھل اٹھیں۔ ان کے لبوں کی مسکراہٹ نے دو میل سائکل چلانے کی تھکن دور کردی۔ میں نے باغ کے رخ والی کھڑکی کھولی تو کمرہ روشنی میں نہاگیا۔ ہم مل کر چاکلیٹ سے لطف اندوز ہونے لگے تو فلسفیانہ انداز میں بولیں۔ ذہن کا دریچہ کھول دیا جائے تو علم کی روشنی ہمیں آزاد کردیتی ہے ممدو۔ میں نے کہا۔ آپ کی بات کچھ سمجھا نہیں یانی آپا ۔بولیں۔شاید تم اس استعارے کو ایک کہانی کی صورت بہتر طور پر سمجھ سکو گے۔یہ کہانی افلاطون نے اپنی کتاب ری پبلک میں لکھی ہے۔ تصور کرو کہ تم تاریک غارمیں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک ہو،  ہاتھ پیر بندھے ہوئے، پشت غار کے داہنے کی سمت جہاں سے روشنی اندر آتی ہے اور تمہارا چہرہ غار کی پتھریلی تاریک دیوار کی طرف ہے۔ تم سمیت کسی کو بھی اپنے قیدی ہونے، ہاتھ پیر بندھے ہونے کا احساس نہیں کیونکہ سب یہیں پیدا ہوئے ہیں اور صرف اسی حقیقت سے واقف ہیں۔ غار  کے دہانے سے آنے والی روشنی چٹانی دیوار پر شکلوں کے سائے بناتی ہے اور لوگ چیخ کر ان کا نام پکارتے ہیں۔ درخت، پہاڑ، پرندے وغیرہ۔ سب مطمئین کہ یہی سائے ہی اصل حقیقت، یہی اصل زندگی ہے۔ وہ کسی اور صورت حال سے واقف ہی نہیں ہیں. ۔پھر تم کسی صورت بندھے ہاتھ پیر کھول کر آزاد ہوجاتے ہو۔ پہلی بار کھڑے ہوکر روشنی کی سمت مڑ کر دیکھتے ہو ۔تمہارا سامنا سایوں سے نہیں اشیا کی حقیقی صورتوں سے ہوتا ہے۔ پھر تم غارکے دہانے سے گزر کر باہر نکل آتے ہو۔۔۔ تازہ ہوا ، دن کی روشنی۔ نئے رنگ، مہکتی خوش بوئین ۔کتنے درد ناک تھے وہ دن جب تم نے صرف سائے دیکھے تھے۔ پھر تم آسمان دیکھتے ہو اور سورج اور تمہیں غارمیں بسنے والی زندگی کے جھوٹ کا دکھ بھرا احساس ہوتا ہے۔ تم پلٹتے ہو غار کی سمت کہ قیدیوں کو سچائی بتا سکو۔ لیکن وہ ہاتھ پیر بندھے لوگ تم پر ہنستے ہیں۔ وہ جنہوں نے سایوں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ تمہارا مذاق اڑاتے ہیں۔تو ممدو جو کچھ نظر آتا ہے اس پر مطمئین مت ہونا۔ اسے مکمل سچ نہ سمجھ لینا۔ علم اور سچائی جد و جہد سے حاصؒ ہوتی ہے۔ ہاتھ پیروں کو آزاد کرلینے سے، غار کی قید  سے باہر نکل آنے سے۔ دمکتی ہوئی روشنی کا سامنا کرنے سے ۔بہت سے عظیم سچ باہر کی دنیائوں میں تمہارا انتظار کررہے ہیں ۔کبھی اور کسی صورت اندھیرے غار میں قیدیوں جیسی زندگی کو قبول نہ کرنا۔۔۔۔جاری ہے

Effective education can be life saving and transformational

Narration by: Shariq Ali
June 23, 2011
retina

Dear Readers,

I would like to share the following email and the article written by one of my medical student who attended one of the Excellence in Medical Education (EME) workshop in Karachi, Pakistan. This highlights the basic philosophy of Valueversity that an effective education can be life saving and transformational.

Dear Dr. Shariq,

I had an experience where I was able to apply the principles of First Response and BLS that you taught us. It was a public place and nobody there was ready to help. I wrote my experience about it which I am also posting on your Facebook and here.
 
Please give it a read. Thank you again for inspiring us to save human life. Your contribution to society will always be remembered.
 
 
Regards,
Jahanzeb Effendi.
Final Year MBBS,
DMC.
The following is the verbatim from the above link of Jahanzeb’s article in The Express Tribune:

A little knowledge and its due application can make a difference in someone’s life.

I was enjoying a wonderful meal at the new food street on the pier with my family last week when I heard people gasp as two men carried another young man to the green sidewalk. They dropped him and disappeared. My first thought was this man had fallen into the water – but I was wrong.

I rushed to assess the casualty. Eager spectators had gathered around the young man – some of them instructing others to perform maneuvers which were extremely contraindicated in the given situation. I pushed through the crowd only to find the young man hyperventilating, followed by loss of consciousness. Before I knew it I was ‘in control.’

There seemed to be no one, out of the 200 plus people present, who knew how to handle an emergency situation – or they just did not act. Most just stood and watched what happened in the next 20 minutes – the longest 20 minutes of my life.

I shouted at someone to call an ambulance while I assessed the airway, breathing and circulation. Someone said the young man’s name was Wasim. He was a kebab maker at the restaurant, and had collapsed suddenly while cooking in the hot, humid night.

I called out to him but there was no response. Before I knew it, he had stopped breathing. My mind was racing at the protocol I have rigorously practiced on mannequins as a certified first responder. This was the moment to act. I checked the airway, it seemed clear but he was not breathing. The chin lift-head tilt did not help.

Next thing I knew, his pulse was rapidly falling. I had to make a decision within the next few seconds. Clearly, I could not deliver mouth-to-mouth since I was  and since about to start chest compressions and no one was accompanying him.

I asked one of the guys to raise Wasim’s legs to help the shock he might be in. Fortunately, and with quite a show of bravery, my uncle who was present at the scene offered to breathe him. Then followed aCPR, which went on till we had a response. Twice he gained consciousness and took a couple of breaths, but then again stopped breathing.

We did close to eight cycles of CPR till the Edhi Ambulance made its well pronounced loud entry in to the scene. Two workers came out with the stretcher and whisked him away before I could say a word.

The last I could see to my extreme disappointment was the lack of an oxygen cylinder in the ambulance. Furthermore only one person sat at the back with Wasim and I wondered how he would handle resuscitation.

As the ambulance left, everyone around me seemed to heave a sigh of relief. Some people came forward to ask me his chances of survival. Disappointed as I was, I just shook my head to most people and asked them to pray. I hoped that the closest ER of the hospital would give him the oxygen which I thought would reverse his symptoms.  My basic fears were carbon monoxide poisoning or a heat stroke. Bothcould be lethal if not managed properly in an ER.

How to react in emergency situations

This experience taught me a few things:

1. In an emergency situation, there is no use of bystanders, unless you are calling for help, or helping clear the way for traffic etcetera. If you are not useful, kindly continue to do what you were doing and do not clog and confuse the situation.

2. We have a terrible ambulance system. Our ambulances are mere taxis that help move the injured from one place to another (I mean Edhi, Chippa and KKF etc). The exception to these is the Aman Foundation Ambulances which are fully equipped including paramedics. There may be more, but not within my knowledge.

3. We lack a First Response center which uniformly co-ordinates emergency situations. For example in this case, someone called Edhi – the ambulance took 25 minutes to reach the site. This is not at all efficient. When I left the place I noticed a Chippa kiosk right around the corner – and I could not be more disappointed. Had we contacted Chippa, it would not have taken more than three minutes to reach the site. A simple helpline could designate the site of casualty and direct the closest ambulance service to reach over radio.

4. We need to train as many people as we can to deal with trauma. This incident is not the first of its kind in a public place. I am sure there has been loss of life before because of unavailability of medical care during the first few crucial minutes of trauma. As First Responders, we plan to teach the medical students of Karachi the basics of First Response and Primary Trauma Care. These Medical Students would be vectors to teach to a larger population of individuals, thus creating a safer place for the citizens.

5. Public entertainment places, like food streets, malls and dining restaurants should have first aid facilities – at least an artificial respiration material. Emergencies can take place anywhere. A common incident of choking could be life threatening if not managed properly.

Two day after the incident, a friend of mine visited the same food street. I had avoided thinking about the probable death of the young man by not reading the newspaper. But, I couldn’t resist asking her to find out his fate from the restaurant.

My heart leapt in delight when I heard the news. Wasim survived and was actually back to work, grilling kebabs at the famous eatery. I could not believe it.

I am glad a little knowledge and its due application saved someone’s life.

The Power of Purpose (Muqsadiat Ki Taqat) – Episode 5

Soch Ka Zaad-e-Safar

Narration by: Shariq Ali
June 10, 2011
retina

Listen here to listen to Episode 5

Read below for the introduction

An outstanding Urdu Podcast of a Leadership Workshop, the first of its kind. It takes its audience to the journey of self exploration while they learn to write their Mission Statement.

In this journey of our quest for self exploration, we will come across many universal values such as justice, truth, empathy and honesty.  And we will be able to recognise as to how these values shape our lives and help us find our destiny.

This work is mainly a compilation effort and I do not claim the complete originality of this intellectual effort.  In fact, I would like to acknowledge the sharing of many analogies and ideas from the leadership Gurus of our times.

Aim is purely educational and it is to finally convey these established ideas to the software of minds of the young and educated Urdu/Hindi speaking future leaders of South Asia.

This Podcast in Urdu will be released in a series of ten episodes, each one of about 10 minutes duration. The total listening time will be about one hour 35 minutes

It is recommended that after listening to each episode of approximately ten minutes at a time at your convenience, please do reflect upon the material and complete the entire workshop in days, weeks or even months. We all must learn through reflection in accordance to the preference of our unique learning speed

Please do come forward and contribute in this effort with your valuable comments. This will help us improve in our future efforts.

‘Muqsadiat Ki Taqat’ or ‘The Power of Purpose’ is a powerful leadership workshop podcast written and broadcast by Dr. Shariq Ali in Urdu.

The Power of Purpose (Muqsadiat Ki Taqat) – Episode 4

Taqdeer

Narration by: Shariq Ali
retina

Click here to listen to Episode 4

Read below for the introduction

An outstanding Urdu Podcast of a Leadership Workshop, the first of its kind. It takes its audience to the journey of self exploration while they learn to write their Mission Statement.

In this journey of our quest for self exploration, we will come across many universal values such as justice, truth, empathy and honesty.  And we will be able to recognise as to how these values shape our lives and help us find our destiny.

This work is mainly a compilation effort and I do not claim the complete originality of this intellectual effort.  In fact, I would like to acknowledge the sharing of many analogies and ideas from the leadership Gurus of our times.

Aim is purely educational and it is to finally convey these established ideas to the software of minds of the young and educated Urdu/Hindi speaking future leaders of South Asia.

This Podcast in Urdu will be released in a series of ten episodes, each one of about 10 minutes duration. The total listening time will be about one hour 35 minutes

It is recommended that after listening to each episode of approximately ten minutes at a time at your convenience, please do reflect upon the material and complete the entire workshop in days, weeks or even months. We all must learn through reflection in accordance to the preference of our unique learning speed

Please do come forward and contribute in this effort with your valuable comments. This will help us improve in our future efforts.

‘Muqsadiat Ki Taqat’ or ‘The Power of Purpose’ is a powerful leadership workshop podcast written and broadcast by Dr. Shariq Ali in Urdu.

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,216 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina