retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Tag Archive: "amazing people"

غار کے قیدی ، دادا اور دلدادہ ، انشے سیریل ، گیا رہواں انشا Allegory of Cave, Grandpa & Me, Urdu/Hindi Pod cast, Episode 11

Narration by: Shariq Ali
October 11, 2015
retina

This story is from Plato’s most famous book, The Republic. Enjoy the wisdom

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

غار کے قیدی ، دادا اور دلدادہ ، انشے سیریل ، گیا رہواں انشا ، شارق علی

میں نے سائیکل کو مہارت سے موڑ کر بریک لگایا اور اسے باغ میں اسٹینڈ پر کھڑا کرکے ہاتھ میں پکسیز کا پیکٹ لیے یانی آپا کے کمرے میں پہنچا تو وہ نیم تاریک کمرے میں کپڑے استری کرتےہوئے یوٹیوب پر استاد شجاعت حسین کا ستار سن رہی تھیں ۔ میرے ہاتھ میں اپنی پسندیدہ چاکلیٹ کا پیکٹ دیکھ کر وہ کھل اٹھیں۔ ان کے لبوں کی مسکراہٹ نے دو میل سائکل چلانے کی تھکن دور کردی۔ میں نے باغ کے رخ والی کھڑکی کھولی تو کمرہ روشنی میں نہاگیا۔ ہم مل کر چاکلیٹ سے لطف اندوز ہونے لگے تو فلسفیانہ انداز میں بولیں۔ ذہن کا دریچہ کھول دیا جائے تو علم کی روشنی ہمیں آزاد کردیتی ہے ممدو۔ میں نے کہا۔ آپ کی بات کچھ سمجھا نہیں یانی آپا ۔بولیں۔شاید تم اس استعارے کو ایک کہانی کی صورت بہتر طور پر سمجھ سکو گے۔یہ کہانی افلاطون نے اپنی کتاب ری پبلک میں لکھی ہے۔ تصور کرو کہ تم تاریک غارمیں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک ہو،  ہاتھ پیر بندھے ہوئے، پشت غار کے داہنے کی سمت جہاں سے روشنی اندر آتی ہے اور تمہارا چہرہ غار کی پتھریلی تاریک دیوار کی طرف ہے۔ تم سمیت کسی کو بھی اپنے قیدی ہونے، ہاتھ پیر بندھے ہونے کا احساس نہیں کیونکہ سب یہیں پیدا ہوئے ہیں اور صرف اسی حقیقت سے واقف ہیں۔ غار  کے دہانے سے آنے والی روشنی چٹانی دیوار پر شکلوں کے سائے بناتی ہے اور لوگ چیخ کر ان کا نام پکارتے ہیں۔ درخت، پہاڑ، پرندے وغیرہ۔ سب مطمئین کہ یہی سائے ہی اصل حقیقت، یہی اصل زندگی ہے۔ وہ کسی اور صورت حال سے واقف ہی نہیں ہیں. ۔پھر تم کسی صورت بندھے ہاتھ پیر کھول کر آزاد ہوجاتے ہو۔ پہلی بار کھڑے ہوکر روشنی کی سمت مڑ کر دیکھتے ہو ۔تمہارا سامنا سایوں سے نہیں اشیا کی حقیقی صورتوں سے ہوتا ہے۔ پھر تم غارکے دہانے سے گزر کر باہر نکل آتے ہو۔۔۔ تازہ ہوا ، دن کی روشنی۔ نئے رنگ، مہکتی خوش بوئین ۔کتنے درد ناک تھے وہ دن جب تم نے صرف سائے دیکھے تھے۔ پھر تم آسمان دیکھتے ہو اور سورج اور تمہیں غارمیں بسنے والی زندگی کے جھوٹ کا دکھ بھرا احساس ہوتا ہے۔ تم پلٹتے ہو غار کی سمت کہ قیدیوں کو سچائی بتا سکو۔ لیکن وہ ہاتھ پیر بندھے لوگ تم پر ہنستے ہیں۔ وہ جنہوں نے سایوں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ تمہارا مذاق اڑاتے ہیں۔تو ممدو جو کچھ نظر آتا ہے اس پر مطمئین مت ہونا۔ اسے مکمل سچ نہ سمجھ لینا۔ علم اور سچائی جد و جہد سے حاصؒ ہوتی ہے۔ ہاتھ پیروں کو آزاد کرلینے سے، غار کی قید  سے باہر نکل آنے سے۔ دمکتی ہوئی روشنی کا سامنا کرنے سے ۔بہت سے عظیم سچ باہر کی دنیائوں میں تمہارا انتظار کررہے ہیں ۔کبھی اور کسی صورت اندھیرے غار میں قیدیوں جیسی زندگی کو قبول نہ کرنا۔۔۔۔جاری ہے

فنکار، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، دسواں انشا An Artist, Grandpa & Me, Urdu/Hindi Pod cast, Episode 10

Narration by: Shariq Ali
October 6, 2015
retina

This story is about an artist

“I am enough of an artist to draw freely upon my imagination. Imagination is more important than knowledge. Knowledge is limited. Imagination encircles the world.”

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

 

 

 

فنکار، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، دسواں انشا

گھنٹی بجی، دادا جی نے دروازہ کھولا۔ سرکاری وردی میں ملبوس، ایک ہاتھ میں تھیلا، دوسرے میں لفافے۔ میں خوف کے مارے کونے ہی میں دبکا رہا۔ دستخط کر کے ، لفافہ کھولا اور کاغذ میری طرف بڑھاتے ہوئے دادا جی بولے ۔سارے مضامین میں اے اور حساب میں اے اسٹار۔ بھئ ہمارے ممدو نے تو آئنسٹائن کوبھی مات دے دی۔ مارے خوشی کے  میں پھولا نہ سماتا تھا ۔کچھ دیر مبارکبادوں اور مٹھائی کھانے کھلانے میں گزری ۔پھر جب سب چائے کے مگ لیے صوفوں پر بیٹھے تو میں نے پوچھا۔ کیا واقعی آئنسٹائن اسکول میں ذہین طالب علم شمار نہ ہوتا تھا؟ انکل بولے۔اٹھارہ سو اناسی میں یہودی خاندان میں پیدا ہونے والے اس لڑکے کو میونخ کے اسکول ماسٹروں نے درمیانے درجے کا طالب علم قرار دیا تھا لیکن ۔وہ بچپن ہی سے فزکس اور ریاضی میں گہری دلچسپی رکھتا تھا۔ انیس سومیں تعلیم مکمل کرکے پیٹنٹ آفس میں ملازمت کے دوران وہ فارغ وقت میں تھیوریٹکل فزکس کا مطالعہ کرتا رہتا۔ اگلے پانچ سالوں میں اس نے حیران کن سائنسی مضامین لکھے۔ جن میں تھیوری آف ریلیٹیوٹی اور مشہور عالم فارمولا ای برابر ایم سی اسکوائر شامل ہیں۔ میں نے پوچھا۔  اس فارمولے کا فائدہ؟ دادا جی بولے۔یہ فارمولا ریاضی کی زبان میں اس سچ کا اظہار ہے کہ مادہ  حرارت اور بجلی کی طرح توانائی ہی کی ایک صورت ہے. پھر ایسے آلات بنے جو ایٹم جیسے چھوٹے ذرے کو توڑ کر بیش بہا توانائی پیدا کرسکتے ہیں۔ آج دنیا میں پیدا کی جانے والی تیرہ فی صد توانائی اسی فارمولے ہی کا فیضان ہے۔ بد قسمتی سے یہ ایٹم بم کی ایجاد کا سبب بھی ہے۔ یانی آپا نے برفی کا ٹکڑا پلیٹ میں ڈالا اور بولیں۔ آئنسٹائن انیس سو نو میں زیورک یونیورسٹی کا پروفیسر بنا  کچھ ہی برس بعد پہلی جنگ عظیم شروع ہوگئی۔ انیس سو انیس میں اس کی تھیوری آف ریلیٹوٹی نے عالمی شہرت حاصل کر لی۔ سائنسی رسالوں میں اس کاکام سراہا گیا اور انیس سو اکیس میں اسے نوبل انعام ملا۔ ابتر سیاسی صورت حال کے سبب انیس سو بتیس میں اس نے نازی جرمنی کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہا۔ امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی انیس سو تینتیس کے بعد سے اس کا مستقل ٹھکانہ رہی۔  ۔انیس سو انتالیس میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی۔تو امریکی صدرروزولٹ کو اپنے خط میں اس نے ایٹم بم بنانے پر قائل کیا کہ کہیں نازی جرمنی یہ مہلک ہتھیارپہلے نہ حاصل کرلے۔ یاد رہے کہ یہ آئنسٹائن ہی تھا جس نے اقوام متحدہ برائے امن کی تجویز سب سے پہلے پیش کی تھی۔ وہ اپنی آخری سانسوں تک یونیفائڈ فیلڈ تھیوری پر کام کرتا رہا مگر کامیاب نہ ہوسکا اور انیس سو پچپن میں چھیتر سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگیا ۔۔خود اپنے الفاظ  میں وہ ایک ایسا فنکار تھا جوتخلیقی تصور کی آزادی سے لطف اندوز ہوسکا۔۔۔۔۔جاری ہے

Latest poem by Fahmida Riaz Sahiba

A Valueversity Exclusive

Narration by: Shariq Ali
August 11, 2013
retina

It is a matter of great pleasure for me to share this recent conversation with Mohatarma Fahmida Riaz Sahiba, a legendary Urdu poetess of our times. In addition to a personal comment ” Wah Shariq, buhut piari nazmain hain aap ki, which is precious for me, she has also kindly sent me her recently written poem which I am sharing with all of you.

Wah Shariq, buhut piari nazmain hain aap ki . Are you on Facebook ? If you are, please paste them on my page .
Thanks
Fahmida Riaz

Main konsi Fahmida hun ? hahahaha.lo . io nazm kal hi likhi

 

عمر تو کٹ گئ

 ایک دشت ملامت میں کھاتے ہوے جھڑکیاں

ٹھوکروں میں رہی ، دونوں بانہوں سے منہ سر بچاتے ہوے

لڑکھڑاتے ہوے راہ چلتی رہی

پھر بھی کچھ سال سے

ایسا سننے میں آنے لگا ہے

کہ اک شاعرہ ہیں بہت ہی عظیم

مدبر ، مفکر ، بہت اور کچھ ،جن کا پھیلا ہے شہرہ

بھلا کون ہین یہ ؟

کبھی جی میں آتا ہے میں بھی ملوں

کیسی لگتی ہیں دیکھوں

اان سے ان کی کتابوں پہ دستخط کرا کے رکھوں اپنے پاس

مگر۔ ۔ ۔ ایک تو

ان کی کوی کتاب

میرے گھر میں نہیں

پہلے تھیں تو کبھی،

ایک آدھ

ملنے والے مگر سب اٹھا لے گئے

ان کو کیا روکتی

دوسری بات یہ ہے

کہ مشہور و معروف لوگوں سے ملنے کی چاہت

نہ دل میں کبھی تھی ، نہ ہے اور نہ ہوگی

یوں بھی کہنے میں آتا ہے اس طرح کی

ہستیوں سے اگر آپ سچ مچ ملیں

تو مایوس ہوتے ہیں اکثر

ان کی نظمیں مگر منہ زبانی کئ یاد ہیں

سنادوں اگر آپ مجھ سے کہیں

یاد اتنی ہی کافی ہے

اتنی شناسائ اس شاعرہ سے بہت ہے مری

زندگی ان سے ملنے نہ ملنے سے ہے بےنیاز

میری ہر سمت پھیلی ہوی

Nepalese magic of leadership!

Narration by: Shariq Ali
June 6, 2011
retina

Dear Readers,

Being involved in Educational Workshops globally, I come across a lot of amazing people from all over the world. Our Interburns Leadership retreats and courses provide us a great opportunity to meet the real global leaders especially in lower and middle income (LMIC) countries and we mutually learn lessons of life from each other.

Shankar was one of the participant in our recently held retreat in Sylhut. There are many lessons to learn from his story.

I thought, its worth sharing it with all of you…

Dr Shankar Man Rai has established a surgical outreach team in Nepal with the help of US-based humanitarian organizations.He has helped gain treatment for more than 5,000 patients since 1992, many of them are children with cleft lips or palates or burns.

Shankar  is the son of a Nepalese army soldier and brother to four Gurkha Brigade soldiers who paid his way through school. Rai was the first in his family to receive an education as a boy. He hiked two hours every day at 6,000-foot elevations from his remote village to the nearest school.

Today, it still requires a three-day walk from his village to reach the nearest road and 18-hour bus ride to make it to Katmandu. But in the late 1970s, when Rai left home to go to college and then medical school in the Nepalese capital, he walked the entire way. It took 14 days, he says.

Shankar’s rural origins are the source of his dedication to the poor. Rai is a very modest man, but he has done incredible things in Nepal.Shankar says he spends two or three days a week visiting rural hospitals, performing surgeries and rounding up patients at clinics outside of Katmandu in 52 of the 75 Nepalese districts that remain open to travel. Because of his links with Global Humanitarian organization, Rai helps pay for the parents of postoperative children to come and stay at the district centers for extended speech and physiotherapy.

Shankar and his team are opening a small unit for Burn Care in Nepal. He has asked for the Interburns help. We are proud to help him. He along with some members of his team are due to go to Indore, our Interburns Training Centre for the SE Asia region, for a brief observational trip and training for his staff. Attached are some pics of Shankar (see above).

Climb up to Mt Everest with Greg Healey!

Narration by: Shariq Ali
June 3, 2011
retina

Click for Greg’s expedition pics

Dear friends, 

Greg has now made it to Mount Everest. Following message was written while he was attempting it!
Think of a man and his determination and a journey in the uninhabited icy vastness, step by step, to conquer the mightiest peak of planet earth, the Mount Everest.  
 
At this moment and time, while you are reading this, Greg Healey is busy climbing the northface of Mount Everest. Each of his step and thought is well directed and purposeful. Share few moments with him in the following video
 
httpv://www.youtube.com/watch?v=WxuCfDRpUXA
 
His expedition is supporting three charities. Interburns ( International Network for Training, Education and Research) is one of them. 
 
Greg share the passion with Interburns to reduce the Burns related global suffering. One of a major cause of deaths, disabilities, deformities and scarring globally and most commonly amongst the children and women of the developing world. 
Interburns is making a difference to reduce the burns related global burden of disease since 2006 and have trained 1189 burns physicians and workers from 13 different countries till present date.
 
If you wish to climb up with Greg Healey to the glory of this cause and would like to donate, however small it may be, please use the link on Greg’s website for Interburns and donate online
 
 
Greg Healey, on his way to Everest, and we at Interburns along with the unfortunate burns victims will be thankful for your generosity.

Please forward this mail to your friends and oblige. 

Interburns Members:
Dr Tom Potokar
Dr Shobha Chamania
Dr Shariq Ali
Ms Ruth Ann Fanstone
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,367 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina