retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Tag Archive: "africa"

Sufaid Faam Ka Bojh سفید فام کا بوجھ، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل ، تراسیواں انشا The White Man’s Burden, Grandpa & me, Urdu Hindi Podcast Serial, Episode 84

Narration by: Shariq Ali
September 27, 2016
retina

Rudyard Kipling wrote the poem “The White Man’s Burden” about the belief of the Western world that industrialisation is the way to civilise the Third World. This story travels in postcolonial Uganda to see what happened

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

سفید فام کا بوجھ، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل ، تراسیواں انشا، شارق علی

ہال کی کھلی کھڑکی سے رن وے پر کھڑے بوئنگ کے پرواز کی تیاری میں تیزی سے چلتے انجن مجھے پریشان کیے ہوۓ تھے. کھینچے ہوۓ بریک ایک لمحے کو ناکارہ ہوتے تو ہم سب اس دیؤ پیکر تیر کے ٹھیک نشانے پر تھے. عملے کی بے نیازی سے ظاہر تھا کہ یہ روز کا معمول ہے. قطار میں بیشتر کالے ، کچھ گورے، دو جاپانی اور مجھ سمیت تین ایشیائی تھے. ائیرپورٹ کی عمارت بہت سادہ بلکہ عارضی نوعیت کی تھی. حیرت ہوئی کہ یہ ہے اینٹیبے  ائیرپورٹ جس پر اسرئیلی کمانڈوز نے ١٩٧٦ میں کامیاب آپریشن کر کے یرغمال ہم وطنوں کی جان بچائی تھی. انکل پٹیل یوگنڈا کا ذکر کر رہے تھے. بولے. پاسپورٹ پر مہر لگی تو میزبان کی جیپ میں بیس میل دور درالحکومت کمپالا میں رات گزارنے ہوٹل پہنچے . راستے میں سر سبز لیکن  چھوٹی پہاڑیاں اور جھگیوں کی بستیاں ملیں . ننگ دھڑنگ بچے سرخی مائل مٹی کے میدان میں فٹ بال کھیل رہے تھے. زنانہ لباس قدامت پسند اور بوسیدہ ، سڑکوں پر زیادہ تر موٹر سائیکلیں کچھ کا ریں بھی. میزبان نے بتایا کہ چرچ میں عبادت کا اوسط دورانیہ پانچ گھنٹے ہے لیکن ملک بھر میں  شراب اور گوشت کا استعمال حد سے بڑھا ہوا. کیلے، اننناس اور ایواکیڈو حسب موسم سستے اور ذائقہ دار. غربت ایسی کہ دکھی کر دے. آدھی آبادی ایک ڈالر روز پہ گزارا کرتی ہے جبکہ گیس اور تیل کے وافر ذخائر ابھی استعمال بھی نہیں ہوۓ . کولونیلزم کے لگائے زخم اب تک تازہ ہیں. کولونیلزم کیا ہوتا ہے دادا جی ؟ میں نے پوچھا. بولے. یورپ کے لوگ ترقی یافتہ ہوۓ تو نئی دنیاؤں کی تلاش میں نکلے. ملکوں پر قابض ہو کر جب انہوں نے مقامی حقائق کو نظر انداز کیا اور مغربی سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظریات مسلط کیے تو یہ کولونیلزم کہلایا. یا نی آپا بولیں.رڈیارڈ کپلنگ نے کولونیلزم کو سفید فاموں پر بوجھ کہہ کر یہ تاثر دیا تھا کہ غلام ملکوں کی ثقافت اتنی کمزور تھی کہ معاشرے کو چلانا ممکن ہی نہیں تھا.  اور یہ بوجھ سفید فام ثقافت کو اٹھانا پڑا . اس غیر منصفانہ جواز کی بنیاد پر انڈیا، آسٹریلیا، نیو زیلینڈ، کینیڈا اور بیشتر افریقہ پر حکمرانی کی گئی. اس ظلم کی حمایت مذہبی ٹھیکےداروں نے بھی کی اور خوب عیسائیت پھیلائی . کمپالا کے بعد کہاں گئے آپ؟ میں نے اچانک پوچھا. بولے. صبح ہوئی تو اسی میل دور لیک وکٹوریہ کے شمالی کنارے پر واقع جنجا پہنچے. کہتے ہیں دریاے نیل کا ہزاروں میل لمبا سفر جنجا ہی سے شروع ہوتا ہے. ہمارا قیام جنجا نائل ریسورٹ نامی ہوٹل میں تھا. مرکزی عمارت میں سوئمنگ پول اور کئی ریستوران. ساتھ کی کشادہ پہاڑی پر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بنے آرام دہ کاٹیج جس کے لان سے نظر آتا نیچے زور و شور سے بہتا دریاۓ نیل. کمرے کی کھڑکی کھلی ہو تو بہتے دریا کی مسلسل آواز سنائی دیتی . اگلے دن جنجا گئے. چھوٹا سا با رونق قصبہ ہے، دو ایک بڑی سڑکیں، بیشتر عمارتیں خستہ حال لیکن طرز تعمیر کولونیل. کولونیل دور سے نقصان کیا پہنچا غلام ملکوں کو؟ میں نے بات بدلی . یا نی آپا بولیں. اپنے انداز میں مستحکم اور ہم آہنگ معاشرے سیاسی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہو گئے. جاگیردارانہ سوچ کولونیلزم ہی کی دین ہے.امیر اور غریب کو قدرتی اصول سمجھ کر قبول کر لینا ایسا ہی ہے جیسے انگریز حکمران اور مقامی لوگ غلام کا تصور مان لیا جائے . ذہنی آزادی تو تب ملے گی جب معاشرے میں ہر فرد مساوی قرار پائے یعنی وسائل کا برابر سے حقدار. اور ایسا بغیر انقلاب کے ممکن نہیں ممدو…….جاری ہے

غلام تجارت، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چودھویں قسط Slave Trade, Grandpa & me, Urdu/Hindi Pod cast Episode 14

Narration by: Shariq Ali
October 21, 2015
retina

Trafficking of Africans by the major European countries for about 350 years is a crime against humanity. This story is about greed and cruelty, but also about the will to survive and to be free.

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.
Listen, read, reflect and enjoy!

غلام تجارت، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل، چودھویں قسط، شارق علی

انکل کی ملازمہ نصیبن کا باپ قرض کے بدلے بوڑھے زمیندار سے اس کی شادی  پر راضی ہوا تو یانی آپا کا غصہ قابل دید تھا۔ اس شام ہمت کر کے میں نے کہا۔ شادی تو سب کی ہونی ہی ہوتی ہے، نصیبن کی شادی میں کیا حرج ہے؟ کہنے لگیں یہ شادی نہیں غلام تجارت ہے ممدو۔ کوئی با ضمیر ایسا ظلم برداشت نہیں کرسکتا۔ میں نے گفتگو کو طول دیا۔ غلام تجارت کیا ہوتی ہے یانی آپا؟ کہنے لگیں۔ یوں تو یہ ظلم آج بھی مختلف شکلوں میں جاری ہے، لیکن منظم طور پر سیاہ فام افریقی غلاموں کو امریکہ لے جاکر فروخت کرنا پندرھویں صدی میں پرتگالیوں اور کچھ ہسپانویوں نے شروع کیا تھا۔ برطانوی تاجر سولہویں صدی میں اس مذموم تجارت میں شامل ہوئے اور پھر اسے عروج  پر پہنچا کر سب سے زیادہ منافع کمایا۔ اٹھارہویں صدی تک ساٹھ لاکھ افریقی امریکہ میں بیچے گئے اور تقریبا تیس لاکھ نے راستے میں دم توڑ دیا۔ کم از کم ہر تیسرے غلام کی تجارت کے  ذمہ دار برطانوی تاجرتھے۔ وہ برطانیہ سے اسلحہ اور برانڈ ی  جہازوں پر لادتے اور افریقی ملکوں جیسے انگولا اور کونگو وغیرہ میں مقامی حکمرانوں اور تاجروں کو بیچ کر ان کے سیاسی مخالفین، قیدی اور بعض اوقات گائوں اور دیہاتوں سے سیاہ فام معصوموں کو قید کر کے غلام بنا لیتے۔ پھر انہیں سینکڑوں میل پیدل چلا کر بندرگاہوں کی ان جیلوں تک لاتے جنہیں وہ فیکٹریاں کہتے تھے۔ پھر ان بے گناہ لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح  چار مربع فٹ کے پنجروں میں جانوروں سے بھی بد تر حالت میں امریکہ لے جایا جاتا۔ سات ہفتوں کے اس سفر میں تقریبا پندرہ فی صد غلام بھوک یا بیماری یا فرار ہونے کی کوشش میں دم توڑ دیتے۔ امریکہ میں وہ ان غلاموں کو شراب اور شکر کے عوض فروخت کرتے اور یہ مال برطانیہ لا کر خوب دولت کماتے۔ یہ سچ ہے کہ اس ظالمانہ کاروبار نے برطانوی معیشت کو مضبوط کیا تھا۔ ادھر امریکہ میں ان غلاموں کے ستھ ظالمانہ سلوک کیا جاتا۔ فیصل کاٹنے کے موسم میں اڑتالیس گھنٹے مسلسل کام کی مشقت لی جاتی۔ بالآخر کچھ مفرور اور باغی غلاموں نے انگلستان میں افریقہ کے بیٹے نامی تنظیم بنائی اور اس ظلم کے خلاف خطوط لکھنے کی مہم چلا کر انسانی ضمیر کو جھنجھوڑا۔ غلام تجارت کے خلاف پہلے مظاہرے کی قیادت ٹیکی نے کی تھی جو خود ایک غلام رہ چکا تھا۔عوامی رائے ہموار ہونا شروع ہوئی تو سترہ سو ستاسی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی۔ پھر برطانوی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی مظاہروں نے برطانوی پارلیمنٹ کو غلام تجارت پر پابندی لگانے پر مجبور کردیا۔ پھر امریکہ میں بھی اس کاروبار پر پابندی لگی اور یوں ساڑھے چار سو سال تک جاری رہنے والایہ گھناونا کاروبار ختم  ہوا۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔

Is McDonald’s a solution for African hunger?

Narration by: Shariq Ali
June 29, 2011
retina

Recently I was invited to give a talk and share our (Interburns) experience of imparting surgical training in Africa. The venue was the Royal Society of Medicine (RSM) in London and the occasion was a joint meeting of Royal College of Surgeons of Ireland (RCSI) and The College of Surgeons in East, Central and Southern Africa (COSECSA).  Representatives from many global organizations active in surgical training were also present.

RSM is located in Wimpole Street London and was originally founded on 22 May 1805 in the era of King George as an institution that would bring together branches of the medical profession “for the purpose of conversation on professional subjects, for the reception of communications and for the formation of a library”. It adopted the current name of Royal Society of Medicine in 1907

After the talk, I was sitting in the expert panel along with other speakers and the discussion was about finding the ways to impart effective surgical training in Africa. There was a remarkable enthusiasm on the floor and a variety of opinions came through. It was not at all a surprise as it was a gathering of global elites on the subject of surgical training.

Few experts from USA were understandably proud and very vocal of their model of trauma training. My point was simple. Although universal principles of good practice transgress the boundaries of time and space, but meticulously prepared protocols and thoughtfully designed standards and gradually developed piles of knowledge over the years in the west cannot be applied unchanged in the developing world scenario because of the simple fact that the perspective is different.

It requires flexibility and contextual understanding of the working environment where this knowledge and skills and attitudes are going to be ultimately practiced.

Food is understandably an answer to hunger.  But Mc Donald`s is surely not the best choice for the hungry African population in Sub-Saharan desert!

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,216 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina