retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Aitmaad Ka Pul اعتماد کا پل، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل ، چوھترواں انشا Bridge of trust, Grandpa & me, Urdu/Hindi Podcast serial, Episode 74

Narration by: Shariq Ali
August 6, 2016
retina

Bridges of trust built on the firm belief of reliability, truth and strength of each other is the basis of human happiness and success for individual and societies. Explore trustworthiness in this story

This Inshay serial (Urdu/Hindi flash fiction pod cast) takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is only fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality . He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. Setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen year old and a retired but full of life 71 year old scholar runs side by side.

Listen, read, reflect and enjoy!

اعتماد کا پل، دادا اور دلدادہ، انشے سیریل ، چوھترواں انشا، شارق علی

سڑک پر تیز ٹریفک اور فٹ پاتھ پر حولدار رحمت کے پیچھے میں، پھر جوجی اور قطار بنائے ٹوٹے قدموں کی مارچ کرتے فوجی وردی پہنے بیالیس طلبہ تھے. نیشنل کیڈٹ کور کا یہ دستہ فائرنگ مشق کے لئے رائفل کلب جا رہا تھا. انکل کالج کے دنوں کا کراچی یاد کر رہے تھے. بولے. دستے کو راہگیروں کی دلچسپی،  کچھ بچوں کی ستائشی نظروں اور چند آوارہ نوجوانوں کے اوئے ٹلے کے نعروں کا سامنا تھا. پی آئ ڈی سی بلڈنگ سے دایں ہاتھ مڑ کر پل کی جانب چلے جس کے اوپر آتی جاتی گاڑیاں اور نیچے بے گھر افراد اور نشے کے عادیوں کے لئے بچی کھچی زمین پر تپتی گرمی سے بچنے کے لئے ٹھنڈی چھاؤں کا خواب آور انتظام تھا تو جوجی نے کہا. یوں تو کراچی شہرکو کیماڑی سے ملانے والا نیٹو جیٹی کا پل جو 1854 میں برٹش راج میں بنا تھا کئی کہانیوں کا مسکن ہے لیکن یہ پل جس سے ہم گزر رہے ہیں پہلے چا ند ما ری پل کہلاتا تھا. جب سے دو محبّت کرنے والوں نے یہاں سے کود کر ایک ساتھ دنیا کو الوداع کہا ہے تب سے یہ لورز برج کہلاتا ہے. یا نی آپا بولیں. اعتماد کا وہ پل جو دو دلوں کے درمیان قائم تھا کاش اس کی حدیں سماج تک بھی پہنچ سکتیں تو کہانی کا انجام کچھ اور ہوتا. اعتماد کا پل؟ میں کچھ گڑبڑایا. دادا جی بولے. پل کا مقصد دریا یا کھائی کو عبور کر کے دوریوں کو کم کرنا اور رابطے کو ممکن بنانا ہی تو ہے. باہمی اعتماد بھی انسانی رشتوں کے درمیان بلکل یہی کام کرتا ہے ممدو. اعتماد کے پل نہ صرف انسانوں بلکہ تہذیبوں کوبھی با وقار اور پائیدار بناتے ہیں. ایسے پل وہ لوگ تعمیر کرتے ہیں جن کی نیت اور عمل اچھا ہو اور جن کی قابلیت اچھے نتائج حاصل کر سکے. جو بلا روک ٹوک سچ بول سکیں. لوگوں کی عزت کریں انھیں قابل استعمال نہ سمجھیں. غلط تاثردے کر اپنی شان میں اضافہ نہ کریں. یہ سب تو مجھے ایدھی صاحب ہی میں نظر آتا ہے؟ میں نے کہا. دادا جی بولے. بالکل درست. اعتماد کے پل کی اس سے بہتر مثال ممکن نہیں. مظلوموں اور بے آسراوں کی ترجمانی کرنے والے. دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالنے والے یقیناً قابل اعتماد ہوتے ہیں. وہ وقت اور وسائل کی اہمیت کو سمجھتے ہیں. اپنے مسائل کی مکمل ذمے داری لیتے ہیں. الزام تراشی کا راستہ اختیار نہیں کرتے. انسانیت کی خدمت کا عزم اور مسلسل سیکھنے کی لگن دل میں رکھتے ہیں۔ لوگ سیاستدانوں پر کیوں اعتماد نہیں کرتے؟ میں نے پوچھا۔ انکل بولے۔ کردار اور قابلیت دونوں نہ ہوں یا جانتے بوجھتے دھوکہ دہی کو اختیار کر لیا جائے تو قابل اعتماد کیسے بنا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات کئے گئے کمزور فیصلے یا اچھی نیت کے باوجود ہوجانے والی غلطی یا صلاحیت کی کمی یا محض کوئی غلط فہمی لوگوں کے اعتماد کو مجروح کر دیتی ہے۔ اعتماد بحال کرنے کا راستہ بھی وہی ہے جو ایدھی صاحب نے اختیار کیا تھا۔ یا نی آپا بولیں۔ محبت کر سکنے کی اہلیت حاصل کر لینا ہی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم دوسروں کو اپنے جیسا انسان اور قابل احترام سمجھیں، نسل، مذہب، عقیدے ، امیری غریبی کے فرق کے بغیر۔ کسی صلہ کی توقع سے بے نیاز ہو کر۔ دوسروں کی صلاحیت کا کھل کر اعتراف کریں۔ ان کی کامیابی پر دلی خوشی محسوس کریں۔ ۔۔۔۔۔ جاری ہے


No Comments Yet

Be the first to add a Comment on this Post below.

Leave a Comment

*Required information

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,384 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina