retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Monthly Archive: July 2020

دوہری زندگی ، دسواں انشاء ، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، ویلیو ورسٹی Dual Reality, GENESIS, PODCAST SERIAL EPISODE 10

Narration by: Shariq Ali
July 31, 2020
retina

Our consciousness force us to live in a dual reality as humans. On the one hand, the objective reality of rivers, trees and lions; and on the other hand, the imagined reality of economy, nations and corporations.

 

 

میڈنگلے کے باغ میں جھیل کے کنارے بیٹھے ہم پروفیسر حراری سے گفتگو  کر رہے تھے . پروف بولے . سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ہم انسانوں میں پچھلے تیس ہزار برسوں میں کوئی جذباتی ، ذہنی اور جسمانی تبدیلی نہیں ہوی ہے۔ گویا تیس ھزار سال پہلے کا انسان بالکل ھم جیسا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ھمارے ذہنوں میں شعوری انقلاب برپا ہوا۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس دن سے لے کر آج تک ھم انسان دوہری حقیقت میں زندگی بسر کر رھے ھیں۔ وجودی اور تمثیلی حقیقت میں ایک ساتھ۔ وجودی حقیقت؟ میں نے سوالیہ انداز میں دہرایا۔ بولے۔ وجودی حقیقتیں ہمارے شعور سے باہر بھی اپنا وجود رکھتی ہیں جیسے درخت ، دریا ، پہاڑ اور انسانی جسم وغیرہ ۔ جبکہ تمثیلی حقیقتیں ہمارے اجتماعی شعور میں تو موجود ہوتی ہیں ۔ لیکن انسانی شعور سے باہر ان کا کوی وجود نہیں ہوتا۔ جیسے قومیت ، مذہب، معیشت ، ملکی قوانین ، جمھوریت یا کارپوریشن  جیسے گوگل، ٹویوٹا وغیرہ. کچھ اور وضاحت؟ زن نے کہا۔ کہنے لگے. یاد رہے  تمثیل یا کہانی جھوٹ نہیں ھوتی بلکہ اس سے مراد ہے فکشن ، لوک روایت ، ثقافتی داستان یا اجتماعی طور پر فرض کر لی گئی کوی حقیقت۔ تمثیلی حقیقت بہت سی صورتوں میں انسانی معاشرے کے لیے بے حد کارامد ھوتی ہیں۔ کسی مفروضے کو اجتماعی طور پر سچ تسلیم کرلینے سے باہمی رابطہ اور معاملات کا طے کرنا اسان ھو جاتا ھے۔ معیشت ، نظام حکومت ، کرنسی نوٹ ، قومیت اور ملکی سرحدیں بے حد کارامد لیکن محض اجتماعی طور پر فرض کر لیے گئے سچ ہیں. جیسے جیسے انسان ترقی کرتا چلا گیا  تو تمثیلی حقیقتیں زیادہ اہم ہوتی چلی گئیں۔ ذرا غور کرو  تو قانون معیشت اور قومیت میں سے کوئی بھی چیز پہاڑ دریا یا شیر کی طرح حقیقی وجود نہیں رکھتی لیکن ان سب کی موجودگی پر ھم سب کا مشترکہ یقین انہیں حقیقت بنا دیتا ہے.  پھر یہ ھماری زندگی کی ایسی ہی حقیقتیں بن جاتی ہیں جیسے دریا پہاڑ اور شیر. آج ہم اپنی بقا کے لیے یے دریا پہاڑ یا شیر سے زیادہ امریکہ ، گوگل اور بینک اکاونٹ جیسی تمثیلی حقیقتوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں.  جیک نے کہا . تو پھر جھوٹے سچے خواب اور تمثیل میں کیا فرق ہوا ؟ بولے. بنیادی فرق اجتماعی یقین کا ہے  . جیسے کسی بچے کے ذہن میں اس کا کوی فرضی دوست جس کا اس دنیا میں کوئی وجود نہیں ایک مضحکہ خیز خیال مانا جاے گا ۔ لیکن جب بہت سارے لوگ کسی تمثیلی حقیقت کو سچ مان لیتے ہیں جیسے قومیت ، حکومت یا لمیٹڈ کمپنی مثلآ ٹویوٹا تو پھر اس کا وجود تمثیلی حیثیت میں  مستحکم ہو جاتا ہے اور وہ حقیقت تسلیم کر لی جاتی ہے۔ اب اگر ایک دو یا چند افراد اس سے انکاری بھی ہو جایں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑےگا۔ لیکن اگر اکثریت اس تمثیلی حقیقت سے منکر ہو جاے تو اس کا وجود یا تو ختم ہو جاتا ہے یا نئی تمثیل کے مطابق تبدیل ہو جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کے انسان اور اس کا سکھی رہنا جو کہ اصل وجودی حقیقت اور سچائی ہے اسی طرح کی تمثیلی سچائیوں کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ پھر اورنج جوس کا بڑا سا گھونٹ لے کر بولے . امید افزا بات یہ  ہے کے تمثیلی حقیقت کو سچ مان لینے سے پیدا شدہ اجتماعی رویہ بنیادی فرضی کہانی کو تبدیل کر لینے سے تبدیل کیا جا سکتا ھے. وقت کے ساتھ اگر کہانی تبدیل ہو جاے یا کر لی جاے  تو رویہ بھی تبدیل ہو جاے گا ۔ کیونکے ایسا رویہ جینیاتی مجبوری یا وجودی حقیقت نہیں ہوتا۔ گویا شعوری حقیقت ھم انسانوں پر وجودی اور جینیاتی حقیقتوں کے شانہ بہ شانہ اثر انداز ہوتی ہے۔ جبکہ دیگر جانوروں کا رویہ جینیاتی اور وجودی حقیقت کی قید میں ہے۔ انہیں رویے میں تبدیلی کے لئے جینیاتی تبدیلی کا انتظار کرنا پڑتا ھے جسے کئی  لاکھ سال درکار ہوتے ھیں. میں نے کہا . تمثیلی کہانی میں تبدیلی کی کوئی مثال ؟ بولے . مثال کے طور پر ٹویوٹا کمپنی۔ اگرہم ٹویوٹا میں کام کرنے والے تمام افراد کو نیست و نابود کربھی دیں تو بھی ٹویوٹا کمپنی قائم رہے گی۔ اس عمارت کو گرا بھی دیں جس پر ٹویوٹا لکھا ہے تو بھی ہم اس کا وجود ختم نہ کر سکیں گے۔  کیونکہ وہ ایک وجودی حقیقت نہیں قانونی تمثیلی وجود ہے اور ھم اسے قتل نہیں کر سکتے۔ ھاں کسی جج کا فیصلہ یا  قانون میں تبدیلی اس کا وجود مکمل طور پر ختم کرسکتی ہے اور یوں وہی عمارت، اس کے ملازمین اور بنائی ھوی کاریں نئے نام اور نئی قانونی حیثیت اختیار کرلیں گی. گویا ہم سب کی باہمی رضامندی اور قانونی دستاویز پر لکھی اس رضامندی کا اظہار اوراس تمثیلی وجود کو حقیقت مان کر پر اعتماد سرمایہ کاری ٹویوٹا کمپنی کا تمثیلی وجود ھے …. جاری ہے ​
|     |

Lion or a fox- Machiavelli. Grandpa and me. Podcast serial Episode 34. Shariq Ali.

Narration by: Shariq Ali
July 28, 2020
retina

This episode is about Machiavelli and his famous book The Prince. Mamdu learns about the cruelty of politics

 

 

We were very happy to find books of choice. Today, when Grandpa and uncle decided to come to Kiranpur, I and Yani Apa also joined them. Kiranpur is a small town fifteen miles from Pholbun. We often go there to find favourite books in its book shop. On our way back, when we stayed in the municipal library for a while, there was no one there but us. While turning the pages of a book, I asked. Can a book have a negative impact? Grandpa said. This reminds me of a famous book titled The Prince. Niccolo Machiavelli (1469 to 1527) wrote this book during the renaissance period. It is amongst the ten influential books of the world. Please tell us more about it? I requested. He said. It was a kind of a job application to the Prince of Florence. Five years after the author’s death, it got published. So controversial and thus gained worldwide fame. This is a simple and practical guide for rulers. Machiavelli was an Italian historian, military, political adviser and an author. He had a keen interest in politics and history. What does he write in this book? I became curious. Grandpa replied. The heartless tactics of politics. For example, he writes that a prince should be merciful only if it is in his best interest. Otherwise, it is not the love of the people but their fear that should be the means of governing. The ruler must be a lion and a fox at the same time. The fox that can escape the conspiracy and deception. And the lion that can deal with attacking wolves. Being a lion is not enough. Realist survives and idealist perish. He says political success is more important than adherence to moral principles. To maintain power. He even advocates the assassination of the previous ruler and it’s generations. These are controversial ideas. But he gives strong historical arguments in support. According to him, morality is a secondary consideration and subject to circumstances. It is permissible to compromise on principles for success. It is as if Machiavellian thinking is blind to desire. It is deceitful and cruel. Unfortunately, the majority of politicians seem to agree with Machiavelli. An example is US President Richard Nixon who considered himself above the law. Yani Apa said. Machiavelli’s tactics are short-sighted and can only achieve temporary success. Follow the path of Socrates for long-lasting success. Adhering to the universal moral principles he describes is the key…To be continued
|     |

تعاون کی طاقت، نواں انشاء، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، شارق علی ، ویلیو ورسٹی POWER OF COOPERATION, GENESIS, PODCAST SERIAL EPISODE 9

Narration by: Shariq Ali
July 21, 2020
retina

Is it true that the secret of human race success is large-scale flexible cooperation based on mutually agreed assumptions? This collective belief on fiction has made us masters of the world.

 

 

دو دن سے مسلسل بارش ہورہی تھی اور کہیں آنا جانا ممکن نہ تھا۔  کچھ دیر کو وقفہ ھوتا بھی تو اتنا مختصر کے محض کھڑکی سے سرسبز منظر کا لطف اٹھایا جا سکتا۔ زیادہ تر وقت گپ شپ میں گزرتا۔ خوش قسمتی یہ تھی کہ پروفیسر حراری کا میڈنگلے میں قیام دو مہینوں کے لئے تھا۔ اس دوران ان کے کئی لکچر کیمبرج، آکسفورڈ اور لندن کی یونیورسٹیز میں پہلے سے طے شدہ تھے۔ ان کا یوں ہم طالب علموں کے ساتھ گھل مل جانا ھم سب کو بہت اچھا لگا تھا۔ ہم خوش قسمت تھے کہ چلتے پھرتے ان کے علم اور تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ صبح ناشتے پر ملے تو میں نے پوچھا۔ کسی خطرناک جنگل میں جہاں خونخوار جنگلی جانور جان کے دشمن ھوں خطرات سے آگاہ کرنے والی سیدھی سادھی زبان زیادہ کارامد ھو گی نہ کے داستان گوی ؟ پھر گپ شپ زبان کا استعمال ہمیں کیسے سپرپاور بناتا ہے ؟  بولے۔ بلا شبہ خطرے سے آگاہ کرنے والی زبان قدیم انسان کی بقا میں مددگار ثابت ھوی تھی۔  یوں تو چیونٹیاں اور شہد کی مکھیاں بھی آپس میں تعاون کرتی ہیں لیکن بہت ہی محدود انداز میں۔ اور حالات تبدیل ہو جایں تو کوی تبدیلی بھی ممکن نہیں۔ لیکن اگر ہم بھیڑیوں اور چمپنزیز کی مثال لیں تو ان کا باہمی تعاون شہد کی مکھیوں سے زیادہ بہتر اور لچکدار ھے۔ وہ دشمن اور حالات کے مختلف ھونے کی صورت میں اپنے تعاون کی نوعیت کو تبدیل کرنے کی صلاحیت  رکھتے ھیں۔ یعنی اگر حملہ آور چیتا ہو یا دوسرے چمپنزیز کا غول تو حکمت عملی اسی حساب سے کچھ اور ہوگی۔ لیکن ان کا آپس کا یہ باہمی تعاون سو یا زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ سو جانوروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ وہ صرف انہی پر بھروسا کرتے ہیں جنہیں وہ براہ راست حیثیت میں جانتے ہوں۔ جب کہ گپ شپ زبان نے بہت بڑے پیمانے پر اجتماعی انسانی تعاون کو ممکن بنایا جو ھماری طاقت کا اصل راز ہے۔  اس سے پہلے تاریخ میں کسی جاندار کے لیے یہ کارنامہ انجام دینا ممکن نہ ھو سکا تھا۔ جیک نے کہا۔ وہ کیسے؟ بولے۔ گپ شپ زبان کا کمال یہ ہے کہ فرض کر لی گئی حقیقت پر اتفاق کر لینے کے بعد لاتعداد اجنبیوں کے ساتھ بے حد لچک دار تعاون کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔عظیم انسانی تعاون کی کوی مثال دیکھنا چاھو تو کسی موجودہ یا گزری ھوی حکومت یا عظیم عبادت گاہ یا قدیم شہر کے کھنڈرات کو دیکھ لو۔ ان سب کی بنیاد وہ مفروضے ہیں جنہیں اجتماعی طور پر درست تسلیم کرلیا گیا ھے۔ یہ سب کچھ  ہماری زبان اور اجتماعی تصوروخیال کے نتیجے میں پیدا ھونے والے تعاون ہی سے ممکن ہو سکا ہے۔ عبادت گاہوں یا قومیت پر مبنی سلطنتوں کی جڑیں روایتی کہانیوں سے جاملتی ہیں جنھیں اجتماعی سچ سمجھ لیا گیا ہے۔ لاتعداد اجنبی ہندو جو ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں ہندوتوا کی کہانی پر یقین رکھنے کی وجہ سے بے گناہ مسلمان بستیوں کو آگ لگانے میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک دوسرے سے تعاون کر سکتے ھیں۔ مفروضات اور کہانیاں ہی کارپوریٹ دیوتا تشکیل دیتی ہیں۔ یہ فکشن ہی تو ہے جو کاغذ کے ٹکڑے جسے ہم دولت کہتے ہیں کو ہم انسانوں سے بھی زیادہ محترم بنا دیتا ہے۔ یہ گپ شپ زبان کا انعام ہے کے آج ہم انسان اس زمین پر حکمران ھیں اور ھمارے کزن چمپینزیز  یا تو چڑیا گھروں میں بند ہیں یا ریسرچ لیبارٹریوں میں قید جیسے تیسے اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ قدیم انسان  بھی اپنے بچوں سے پیار کرتا تھا۔  دوستوں کے ساتھ کھیلتا تھا ۔ دشمنوں سے مقابلہ کرتا تھا جیسا کہ چمپنزیز، لنگوروں یا ہاتھیوں کا غول بھی یہ سب کچھ کرتا ہے۔ لیکن اگر زبان کے جادو سے لاتعداد اجنبیوں سے باھمی تعاون کی طاقت نہ جاگتی تو ھم انسان کبھی بھی چاند پر قدم نہ رکھ سکتے۔ ایٹم کو ریزہ ریزہ نہ کر سکتے۔  جینیٹک  کوڈ کے راز افشاء نہ کر سکتے ۔ گزری ھوی تاریخ کے بارے میں حیرت انگیز کتابیں نہ لکھ سکتے۔ یہ سب باھمی تعاون کی طاقت ہی سے ممکن ہو سکا ہے۔۔۔۔۔ جاری ہے
|     |

Basant. Spring kite flying festival. Grandpa and me. Podcast serial Episode 33.

Narration by: Shariq Ali
retina

Basant Festival of Kites is to celebrate the first day of spring. It is a time for families to gather together and spend the day flying kites. In Lahore, a huge crowd participate and Kite flying competitions take place. 

 

We had set up a temporary tent in the grassy ground next to the mustard field. Enjoying the fresh breeze of the early morning, we were waiting for breakfast. The tent smelled of carrot pudding and saffron sweet rice. Naseeban Boa would take the hot Poories (tortillas) out of the frying pan. And put them in the pot lying near the Omelette and spicy mashed potatoes. I was wearing a yellow T-shirt and jeans. Babul was wearing mustard colour laacha (traditional rural dress). We both were waiting for the kiting festival to start. Grandpa and Uncle entered the tent wearing yellow turbans. Following them was Yani Apa. Wearing a beautiful yellow cotton handmade dress and matching bangles in both wrists. Uncle said. See the kites brought from Nairangabad before breakfast. When we came out of the tent, there were colourful kites on the table and strings wrapped in spinning wheels. Like a bouquet decorated with flowers. I and Babul were so excited. I asked. Grandpa, when was the first kite flown? He replied. The first kite made of silk and bamboo was flown in China about three thousand years ago. Then it reached Japan and other Asian countries. In the beginning, kite-flying was to thank for the good harvest as a religious ritual. Then it became a popular sport amongst masses that continued throughout the year. Scientists also used it for various purposes. To check weather conditions, to understand flight principles. Leonardo da Vinci used it to measure the width of the river. Marconi used a flying kite in 1901. And send the first trans-Atlantic telegraphic message. Uncle said. Let`s have breakfast? Then we all did full justice to delicious breakfast. Uncle said. Ninety-nine years ago, Ranjit Singh and Queen Moran Sarkar started this festival. It was to celebrate a good harvest and start of the spring. They would have never imagined how popular this festival will become. It spread in every direction like a breeze of fresh air. Crossing all borders and drawn lines of religion and beliefs. Kites will dance in the skies and human spirit will dance on the earth to the beat of drums. Girls on the swings and songs in the air will generate waves of happiness. There will be laughter and harmony everywhere. Grandpa said. This has a tragic angle as well. Careless use of deadly and banned strings costs many innocent lives every year. It is the responsibility of the government to overcome this tragic situation. Banning public aspirations like this festival is not the answer. When we headed for the field with kites in our hands, I said. How nice that at the same time the skies of Lahore, Delhi, Amritsar and Kasur will be colourful with kites. Yani Apa said. The aspiration of common people will defeat the barbed wire divide once again. Like flowers that bloom in the spring and defeats them every year. … To be continued
|     |

زبان سنبھال کے ، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، آٹھواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی GOSSIP LANGUAGE, GENESIS, PODCAST SERIAL EPISODE 8

Narration by: Shariq Ali
July 17, 2020
retina

We humans started to rule the world because of the language and storytelling. The advent of different imaginary realities makes a complex world easier to understand and help bond social groups of very large numbers

 

 

پروفیسر حراری نے لیکچر جاری رکھا اور بولے . شاید آپ کو یہ سن کر حیرت ہو لیکن یہ سچ ہے کہ ہوموسیئپنس کی پوری دنیا پر حکمران رانی کی بنیادی وجہ بولنے کی بھرپور صلاحیت تھی ۔ رابطے کی کوئی نہ کوی بنیادی صورت تو بہت سے جانوروں میں بھی موجود ہوتی ہے . مثلا چمپینزی، وہیل ، ڈولفن حتیٰ کے چیونٹیوں میں بھی . اور تقریبآ دو لاکھ سال سے قدیم انسانوں یعنی ہومینڈس میں بھی زبان اپنی ابتدای صورت میں موجود تھی. مثلا فوکس پی ٹو جین جس کا تعلق گلے اور زبان کے چھوٹے عضلات کے خصوصی اور بھرپور استعمال سے ہوتا ہے. اور جس کی وجہ سے انسانوں کی غیر معمولی بولنے کی صلاحیت ممکن ہو پاتی ہے. وہ تو دو لاکھ سال پہلے ہی قدیم انسان میں ظاہر ہو چکی تھی. لیکن ستر سے چالیس ھزار سال کے درمیان ہومو سپیینز کی دماغی تنظیم میں کہیں کوئی ایسی تبدیلی واقع ہوئی کہ انہوں نے زبان کا استعمال کچھ اس نوعیت سے کیا جو اس سے پہلے کسی اور مخلوق کے بس کی بات نہیں تھی. حد بندیوں سے آزاد زبان کا ایسا لچکدار تخلیقی استعمال جو خیال کے لا محدود امکانات کو سمو سکے. وہ پانی پینے کے لئے کچھ دیر کو رکے. پھر بولے . اس انقلاب سے پہلے قدیم انسان جو زبان بولتے تھے اسے ماہرین “دریا کے پاس شیر” زبان کہتے ہیں۔ یعنی موجود اشیاء کے حوالے سے ایک دوسرے کو مطلع کرنا جیسے خطرات سے آگاہ کرنا وغیرہ۔ ہومو سپینز نے تاریخ میں پہلی بار زبان کا ایسا غیر معمولی استعمال کیا جو غیر موجود کو بھی حقیقت بنا دیتی ہے۔ ماہرین اسے “گپ شپ زبان” یعنی غیر موجود کے متعلق گفتگو کہتے ہیں. دریا کنارے شیر زبان میں دریا اور شیر دونوں موجود حقیقتیں ھیں اور خطرہ بھی موجود ۔ لیکن گپ شپ زبان ایک ایسی حقیقت تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے جسے نہ دیکھا اور نہ سنا اور نہ مادی لحاظ سے محسوس کیا جا سکتا ھے. اس کے باوجود اس ان دیکھی حقیقت پر ہمارا یقین اس قدر مستحکم ہو جاتا ہے کہ ہم اسے سچ ماں کر آپس میں تعاون اور مشترکہ جدوجہد پر راضی ہو جاتے ہیں . مثلاً سنہرا مستقبل ، آخرت میں جنت کا حصول ، جغرافیای سرحدیں اور قومیت پرستی . یہ فرض کرلی گئی حقیقتیں ہمارے باہمی تعاون کا سبب بن جاتی ہیں. ہم ملک کی سرحدوں کو حقیقت مان کر کے اس کی حفاظت کے لئے جان دینے اور جان لینے پر تیار ہو جاتے ہیں . غور کیجیے دریا پہاڑ اور درخت تو حقیقی وجود رکھتے ہیں لیکن باڑھ لگی سرحدیں ایک فرض کر لی گئی مضحکہ خیز بات کے سوا اور کچھ نہیں . بات صرف اتنی ہوتی ہے کہ ہم ان مفروضوں کو اجتماعی طور سچائی تسلیم کر لیتے ہیں. پروف نے سامنے پوڈیم پر رکھے کاغذات سمیٹے اور اپنے لیکچر کو اختتامی رنگ دیتے ہوے بولے . گویا دنیا پر حکمرانی کے لئے جو سب سے بنیادی اور عظیم کارنامہ ہم سپینز نے انجام دیا وہ گپ شپ یا علامتی زبان کا استعمال تھا. اور یوں قدیم انسان نے غاروں میں تصویریں بنایں۔ ایسے مجسمے بنائے جن کی حقیقی مثال موجود نہیں تھیں . جیسے بتیس ہزار سال پرانا سٹاڈل کا انسان شیر مجسمہ۔ اور یوں آرٹ اور مذہب کا آغاز کیا ، دیوتا تشکیل دیے. گپ شپ زبان کے پر اثر علامتی اظہار ہی کا فیضان ھے کے ہم سیپینز اجتماعی طور پر دوسرے تمام جانداروں کے مقابلے میں اس زمین پر سپر پاور بن کر ابھرے اور یہ حاکمیت اب تک قائم ہے . سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے بہت سے موجودہ مسائل اور ہماری بقا کو کچھ در پیش سنگین خطرات بھی اسی گپ شپ زبان کا شاخسانہ تو نہیں ؟ …. جاری ہے
|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

14,866 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina