retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Yearly Archive: 2020

یہ دیوارگرا دو ، دنیا گر ، انشے سیریل ، دسواں انشا Berlin wall, DUNYAGAR, URDU PODCAST SERIAL, EPISODE 11

Narration by: Shariq Ali
February 24, 2020
retina

Story of a historic moment in recent history. Read, listen, reflect and enjoy!

 

 

یہ دیوارگرا دو ، دنیا گر ، انشے سیریل ، دسواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

پروف بولے۔ نو نومبر کا دن تھا اور سن تھا انیس سو نواسی۔ میں امتحان کی تیاری میں مصروف تھا۔ برلن کے گلی محلوں میں عوامی ہجوم درجنوں پھر سینکڑوں اور اب بڑھ کر ہزاروں تک پوھونچ چکا تھا . طویل فاصلوں کے باوجود دنیا بھر کے دور بیٹھے طالب علم الحاق کی حمایت میں نعرے لگاتے جرمن نوجوانوں کے ساتھ تھے .  پڑھتے پڑھتے تھک گیا تو سوچا خبریں دیکھ لی جایں . ایک پر جوش منظر آنکھوں کے سامنے تھا. رات کے پس منظر میں ٹی وی سکرین پر لاتعداد لوگ روشنی کے لیمپ ، ہتھوڑے اور بیلچے تھامے سامنے کی کونکریٹ دیوار پر پے در پے وار کر رہے تھے۔ پیچھے اُن کا حمایتی ہجوم ایک دوسرے کا ہاتھ  تھامے نعرے لگا رہا تھا  ، کچھ دیوانے بارہ فٹ اونچی  فصیل عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سامنے مسلح گارڈ ہتھیاروں سمیت محض تماشائی بنے کھڑے تھے۔ اتنے ہجوم کے سامنے وہ بے بسی کی تصویر تھے. سرکاری اعلان تو اگلی صبح عوام کو سرحد کے دونوں پار جانے کی مکمل آزادی کا تھا  ۔ لیکن اسی رات شہر کے دونوں جانب کی عوام دیوار گرانے جمع ہو چکی تھی  ۔ وہ سرحد جو محض برلن شہر کی نہیں دو دنیاؤں کی تقسیم تھی۔  لیکن وہ دیوار کیوں گرانا چاہتے تھے؟  میں نے پوچھا۔ بولے . جب کوئی حکومت عوام کی مرضی کے خلاف ان کی مشترکہ ثقافت ، جذباتی رشتوں ، آرزوؤں اور امنگوں کے درمیان رکاوٹ کھڑی کرتی ہے تو بلآخر اس ریت کی فصیل کو پاش پاش ہونا ہی ہوتا ہے . تیس سالہ سرد جنگ کے دوران کھنچے آہنی پردے کی علامت دیوار برلن کا انجام بھی ایسا ہی ہوا تھا. یہ تعمیر کب کی گئی ؟  سوفی نے پوچھا ۔ بولے. برلن شہر کو دو حصّوں میں تقسیم کرتی ستائیس میل لمبی ، چار فٹ چوڑی اور بارہ فٹ اونچی یہ دیوار انیس سو اکسٹھ میں مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ حکومت نے تعمیر کروائی تھی. مقصد مشرقی جرمنی سے لوگوں کو مغربی جرمنی کی جانب فرار ہونے سے روکنا تھا .  یہ دو دنیاؤں کی سرحد تھی . ایک جانب مشرقی یورپ کے کمیونسٹ ممالک اور سوویت یونین تھا اور دوسری جانب یورپ کی لبرل مغربی جمہوریتیں. لیکن اس کی ضرورت ہی کیا تھی؟ رمز نے کہا . بولے . دوسری جنگ عظیم کے بعد فاتح قوتوں یعنی برطانیہ ، فرانس ، امریکا اور سوویت یونین نے جرمنی کو چار حصّوں کی عملداری میں تقسیم کر دیا تھا . اور یوں مغربی جرمنی مغربی ممالک اور مشرقی جرمنی سوویت یونین کے قبضے میں آیے . برلن اگرچہ مشرقی حصے میں تھا لیکن دارلحکومت ہونے کے ناطے اس کی بھی تقسیم ہوئی . ابتدا میں منصوبہ تو یہ تھا کہ بالآخر دونوں حصے متحد ہوکر ایک ملک بن جایں گے لیکن سرد جنگ کے سیاسی تناؤ کی وجہ سے کئی سالوں تک ایسا نہ ہو سکا . دیوارکی تعمیر سے پہلے تقریبآ پینتیس لاکھ افراد مشرقی برلن سے فرار ہو کر مغربی جرمنی پوھنچے تھے .  کمیونسٹ حکومت کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ اس طرح نہ صرف ان کی بدنامی ہو رہی ہے  بلکہ معیشت پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے . لوگوں کے فرار ہونے کی وجہ ؟ صوفی نے پوچھا . بولے . کمزور معیشت ، بے روزگاری ،  انسانی حقوق کو کچلتے سخت قوانین اور آزادی اظہارکا نہ ہونا بنیادی وجوہات تھیں. انیس سو اکسٹھ میں تو یہ صرف ایک خاردار باڑھ تھی پھر اسے باقاعدہ فوجی سرحدی دیوار میں تبدیل کر دیا گیا جس پر حفاظتی چوکیاں قائم تھیں. کمیونسٹ اسے فاشسٹ قوّتوں سے بچاؤ کی دیوار کہتے تھے اور مغرب کے لوگ دیوار پشیمانی . دیوار کی تعمیر کے بعد بھی کوئی پانچ ہزار افراد یہ دیوار پھلانگ کر مغربی جرمنی کو فرار ہوے . محافظوں کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کا اختیار تھا.  تقریبا دو سو لوگ اس کوشش میں مارے بھی گئے . ڈیفکٹرز کے لئے  مغربی جرمنی میں داخل ہونے کا سب سے آسان راستہ برلن شہر ہی تھا کیونکے دیوار عبور کرتے ہی وہ مغربی قوتوں کی عملداری میں ہوتے تھے۔ پھر کمیونسٹ حکومت اس دیوار کو ختم کرنے کا فیصلہ کیوں کیا ؟ میں نے کہا . بولے. اسی کی دہائی کے آخر میں کمیونسٹ ممالک خاص طور پر سوویت یونین معاشی اعتبار سے کمزور ہوا تو اس کی گرفت مشرقی جرمنی پر کمزور ہوتی چلی گئی. ادھر جرمنی کے الحاق کا عوامی مطالبہ دن بدن زور پکڑ رہا تھا اور صدر ریگن نے بھی گورباچوف سے یہی مطالبہ اپنی تقریر میں کیا .  بلآخر کمیونسٹ حکومت کو عوامی رائے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے . لوگوں کو آزادانہ برلن شہر کے دونوں حصّوں میں آنے جانے کی آزادی مل گئی .  تین اکتوبر انیس سو نوے کو مشرقی اور مغربی جرمنی ایک متحدہ ملک بن گئے اور یوں دنیا میں سرد جنگ کا خاتمہ ہوا….. جاری ہے

|     |

Beyond stars. Grandpa and me. 1st episode. Podcast serial by Valueversity

Narration by: Shariq Ali
February 23, 2020
retina

Brief Introduction

This podcast serial takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality. He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought-provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. The setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen-year-old and a retired but full of life scholar in his seventies runs side by side. In this first episode, Mamdu wonders how vast is our universe and Grandpa explains. Listen, read, reflect and enjoy!

 

Living like a free bird in Phoolbun۔ If you are fifteen like me and disgusted with the life of a boarding school, you can surely imagine my excitement۔ Phoolbun is a scenic village where we spend our family holidays۔ Facing our small cottage, there are far-flung fields in this beautiful valley. Just behind the cottage is the hill covered with pine trees called Koh e Ramz. It seems as if Koh Ramz is a genie keeping its shadow on our cottage to guard us against all evils. I like everything here in Phoolbun except snails speed internet connection. No chance of playing online video games with friends. Impossible. Though never mentioned, I am sure Grandpa is very happy with the internet situation. If you ever have to come to visit us, first of all, you will pass through the vegetable fields۔ Then a series of few neem trees and finally, you will reach a huge mango tree, which is the favourite place for all the parrots in Phoolbun. This tree is just outside our wooden cottage surrounded by all sorts of beautiful flowers in our lawn.  Then you will come across ancient-looking but comfortable wooden chairs in our veranda. Grandpa and I often have long chats while sitting in these chairs. All sorts of conversations on all kinds of topics. But we never talk about the tragic car accident in which my mum and dad died together and left me and Grandpa alone in this world. That night when we were both quiet and staring at the starry sky. I said to Grandpa. Maybe these shining stars are our loved ones who have left the world but still want to keep an eye on us. He said. This was the belief of some ancient nations. If we look at the reality with intent and wish, assumptions are born. On the other hand, if we use evidence, observation and logic, the approach is scientific. Now we know that the stars are countless suns scattered throughout the universe. The assumption that these are our loved ones is untrue.  How vast is this universe Grandpa? I asked. He replied. There may be no boundaries. Furthermore, it is expanding day by day. The extent to which scientific instruments can touch the observable universe is only a small fraction of the entire universe. Even if it has a limit, it is beyond our comprehension at present. That is why we do not know what its shape is. Round, oval or any other shape. How many years are equal to one light-year Grandpa? He smiled and said. The light-year is a measure of distance, not time. The distance the light rays travels in a year is called a light-year. The earth is only eight light minutes away from the sun. The closest star to us is Proxima Centauri۔ It is four light-years away from earth۔ And just the edge of our observable universe at a distance of forty billion light-years ——- to be continued

 

 

|     |

نادان مفروضہ ، فکر انگیز انشے Appeal to ignorance, Thought-provoking Podcasts

Narration by: Shariq Ali
February 17, 2020
retina

My conclusion must be true because there is no evidence to disprove it.  When we say this, we shift the burden of proof away from us though we are the one who made this claim. This is a fallacy that hinders human wisdom

 

 

نادان مفروضہ ، فکر انگیز انشے ، دنیاگر

 ہم پروف کے گھر کے لان میں بیٹھے شام کی چاہے پی رہے تھے . رمز اچانک بولا . اگر میرا کوئی معتبر دوست مجھ سے کہے کہ کل رات میری ملاقات مریخ سے آئی ہوئی مخلوق سے ہوئی تو کیا مجھے  اس کی بات کا اعتبار کرناچاہیے؟ پروف بولے . بات دوستی کی نہیں سائینس کی ہے۔ اور سائنس میں انسانی گواہی یا انکڈوٹل ایویڈنس سب سے کمزور شہادت تصور ہوتی ہے. کسی عدالت کی طرح سائینس میں عینی شاہد کی گواہی کو مضبوط نہیں سمجھا جاتا . لیکن کیوں؟ کہنے لگے . دوسری جماعت میں کھیلا ہوا وہ کھیل یاد کرو جس میں ایک بچہ دوسرے کے کان میں کوئی مختصر سی کہانی کہتا ہے.  پھر ایک سے دوسرے کو  منتقل ہوتے یہ کہانی آخری بچے تک پہنچتی ہے تو  پہلے اور آخری بچے کی کہانی میں زمین آسمان کا فرق نکلتا ہے. سوفی بولی . کوئی اور مثال؟ کہنے لگے . تم نے کتابوں میں یا سوشل میڈیا پر آپٹیکل الوژن کی بہت سی مثالیں دیکھی ہون گی.  یہ سب اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ انسانی مشاہده  قابل اعتبار نہیں . یہ حقیقت ہے کہ ہم انسان ڈیٹا کلیکشن کے لحاظ سے ایک کم تر درجے کا آلہ ہیں ۔ انسانی مشاہدے کی گواہی کسی فوٹوشاپ تصویر سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ اسی لیے تمھارے دوست کی بات کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا.  ہاں اگر وہ مریخی مخلوق کا دیا کوئی تحفہ یا ان کی خلائی گاڑی سے اٹھائی جانے والی کوئی چیز پیش کرے تو ساری دنیا کے سائنسدان اس قابل اعتبار گواہی کو مشاہداتی کسوٹی پر ضرور پرکھنا چاہیں گے . اور خلائی مخلوق؟ میں نے بات بڑھائی . بولے . سائنسدان وثوق سے خلائی مخلوق کے بارے میں انکار یا اقرار تو نہیں کرسکتے لیکن یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اس موجودہ لمحے تک ہمارے پاس کوئی ایسی گواہی موجود نہیں جو قابل اعتبار ہو اور ہمیں خلائی مخلوق کے وجود کے بارے میں کچھ بتا سکتی ہو ۔ عقلمندی یہی ہے کہ نادان مفروضوں سے دور رہا جائے. سوفی بولی . نادان مفروضہ،  مطلب ؟ پروف نے کہا. کسی وضاحت کو بغیر کسی ثبوت کے سچ قبول کر لینا یا کسی اصول کو بغیر مشاہدہ کیے سچ مان لینا سائنسدانوں کے نزدیک نادان مفروضہ ہے. اگر  ہم کسی بات سے لا علم ہوں تو یہ کہنا بالکل ٹھیک ہو گا کہ ہم نہیں جانتے اور بس . بات یہاں ختم ہو جانی چاہیے . خرابی کا آغاز تب ہوتا ہے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ  مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ یہ کیا ہے مگر میرا اندازہ ہے یا میں نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے یا روایتی عقیدہ یہ ہے کہ اس بات کی وضاحت کچھ اس طرح سے ہے . ایسی بات کرنا نادان مفروضے جیسی سنگین غلطی کا آغاز ہوتا ہے . یہ بات دانشمندی کی جانب ہماری پیش رفت میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے . جیسا کہ جب انسان اس غلط فہمی کا شکار تھا کہ زمین گول نہیں چپٹی ہے یا یہ کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے یا ہماری زمین مرکز کائنات ہے تو زندگی جیسے تیسے جاری تو رہی لیکن یہ نادان مفروضے انسانی دانشمندی اور ترقی میں حائل ہوتے رہے .  میں نے کہا . لیکن ہم اس جال میں پھنستے ہی کیوں ہیں ؟ کہنے لگے . انسانی نفسیات کچھ ایسی ہے کہ ہمیں ہر بات کا جواب درکار ہوتا ہے . کائناتی حقیقت کا سنگدل سچ یہ ہے کہ ہم انسانوں کو بہت سی باتوں سے لا علم ہوتے ہوے بھی زندگی گزارنی پڑتی ہے . جب ہم  انسانی جبلت کے تحت نادان مفروضے کی غلطی کرتے ہیں تو کوئی غیر انسانی عمل نہیں کرتے . لیکن ایسا کرنا دانشمندی میں رکاوٹ ضرور ثابت ہوتا ہے . نہ جاننا تکلیف دہ ضرور ہے لیکن اس تکلیف کو صبرواستقامت سے برداشت کرنا چاہیے.  سائنسدان نہ جاننے کی مشکل پر صبر کرنا جانتے ہیں. جبکہ عام لوگ اس تکلیف سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے کسی مذہبی عالم ، کسی سیاستدان ، کسی مطلب پرست تاریخ نویس یا منافع بخش اشتہار کے گھڑے ہوے نادان مفروضے کا سہارا لینے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ اور سائنسدان ؟ رمز نے پوچھا . بولے .  اُن کے ذہن میں جاننے اور نہ جاننے کے درمیان ایک واضح لکیر ہوتی ہے جب کہ ایک شاعر ، ناول نویس یا فلمی ہدایتکار اس لکیر کی بہت آسانی کے ساتھ خلاف ورزی کرتا ہے بلکہ اس کے کام کی سجاوٹ اور کامیابی کے لئے بعض اوقات ایسا کرنا ضروری بھی ہوتا ہے اور اسے اس کی اجازت بھی ہوتی ہے . لیکن سائنسدان محض اپنے کام کی سجاوٹ کے لئے کبھی ایسی غلطی نہیں کرتے۔ وہ نہ جاننے کا بلاتکلف اعتراف کرتے ہیں اور جاننے کی سمت  بلا خوف و خطر اپنے قدم آگے بڑھاتے ہیں۔ وہ مفروضات سے نہیں بلکہ مشاہدات اور منطق کا ہاتھ تھام کر سچائی کی سمت بڑھنا چاہتے ہیں. یاد رکھو کہ ہم اتنا ہی جانتے ہیں جتنا کہ ہم جانتے ہیں۔ لیکن ہمیں مزید جاننے کے محترم کام میں مسلسل مصروف رہنا چاہیے ….جاری ہے

|     |

George Orwell. An orange is trodden by the dirty boot

Narration by: Shariq Ali
retina

This podcast serial takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa. Mamdu is fifteen with an original mind bubbling with all sorts of questions to explore life and reality. He is blessed with the company of his grandpa who replies and discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought-provoking facts from science, philosophy, art, history and almost everything in life. The setting is a summer vacation home in a scenic valley of Phoolbun and a nearby modern city of Nairangabad. Day to day adventures of a fifteen-year-old and a retired but full of life scholar in his seventies runs side by side.

In this first episode, Mamdu learns about George Orwell. Listen, read, reflect and enjoy!

 

 

Grandpa was in a nostalgic mood. He said “when I was a student in London and living in a box room in Hampstead area as a paying guest, my only leisure pass time was to go to the west lane in search of second-hand books. My scholarship was so meagre that if I buy a book then I could not afford to have fruit or dessert for the entire week. Once I bought the novel animal farm and coming back to my room having it in my hand, my old landlady told me that probably in 1929, George Orwell used to work as an assistant in a book shop in Hampstead area. Who was George Orwell? I asked. He said. World-renowned journalist and a famous novelist. He was born in Bengal in 1903.  He was only one year old when he travelled with his father back to England. Even in the absence of parental support, he turned out to be a very bright student of Eaton College. After graduation, he took his first job in British police and was posted in Burma in 1922. This was his first exposure to the ugliness and cruelty of imperialism. He resigned from his job and took up the pen as a weapon. For the rest of his life, he kept on exposing the crimes against humanity and became the voice of resistance against imperialism. Then for many years, he remained jobless in London and Paris. He barely survived hand to mouth with meagre earnings from his writings. Probably he contracted tuberculosis while he was living malnourished and poor in the Hampstead area. What is the theme of animal farm grandpa? He smiled and replied. Has it come to your mind ever that what does animal think when they suffer human cruelty? If they became determined to revolt, what extreme they can go to? Manor farm animals revolted on the principle that all animals are equal. As the story progresses, the contradictions of this principle become obvious. The story is thought-provoking but makes you sad at the same time. Orwell, in a very simple and skilful way, depicts the contradictions of the Russian Revolution, Stalin era atrocities and the human condition while apparently telling an animal story. Yani Aapa joined in the conversation and said. As a socialist, he considered it necessary to join the Spanish Civil War. There he saw the Communist Party betraying its own workers. Meanwhile, a fascist shot hit his neck but he survived. Then he achieved some financial well being when he started writing reviews in the New England Weekly. Later on, he worked in the BBC Eastern service. The task was to launch a propaganda campaign in order to gain Indian support for British imperialism. He remembers this period with sorrow and embarrassment. He says “The income was great but it felt like an orange that has been trodden by a very dirty boot”. Following his conscience voice, he quit this job as well. In 1945, the publication of Animal Farm made him world-famous. In 1949 he wrote his second famous book, Nineteen eighty-four. He left the world at the age of forty-seven. Tuberculosis killed him which he contracted during his days of poverty…. to be continued

|     |

Music icon Amir Khusro, Grandpa and me. Podcast Serial

Narration by: Shariq Ali
January 27, 2020
retina

Music icon of Indian subcontinent Amir Khusro. Listen, read, reflect and enjoy his story!

This podcast serial takes you through the adventures of a teenage boy and the wisdom of his Grandpa.  Mamdu is fifteen and blessed with the company of his grandpa who discusses everything in an enlightened but comprehensible manner. Fictional creativity blends with thought-provoking facts in the background of the scenic countryside of Phoolbun and modern city of Nairangabad

 

 

Music icon Amir Khusro, Grandpa and me. Podcast Serial by Valueversity

Uncle Patel and Yani Apa were waiting for us at Nairangabad railway station. Uncle used to be once Grandpa`s student, then his assistant and now a very close friend.  Yani Apa is the only daughter and companion he has after the death of his wife a few years back. Our stay is at their residence during this holiday. Though she is seven years older than me and a 4th-year medical student, it did not take long for us to become very close friends. Good looking, well mannered and very well-read. Eyes as bright as stars and smile like a fresh rose. Besides being a medical student, her interest in poetry, literature music and current affairs is immense. Grandpa was staying in the guest room and I was temporarily set up in the study on a sofa bed. This made me so familiar with all of her favourite books stored on the nearby shelf.  An excellent selection of nicely organized medical, literary and current affair books.  In the opposite corner, a wide low coffee table type thing called Takhat had a pair of the tabla and classical musical instrument sitar on its top.  Playing the sitar is Yani Apa\s passion. That evening, while she was gently playing with the strings of sitar casually.  I just turned the page of a poetry book and said. How nice this couplet is. Whenever I see the beautiful fingers of my beloved, a melody emerges as if a sitar is played at a remote place. Then I asked  Yani Apa. When was the sitar invented? She replied.  In the 13th century in the city of Delhi, Amir Khusro was the first one who introduced this musical instrument in the court of King Allauddin Khilji. It may have been modified from an Iranian musical instrument called Sehtar that simply means three strings. And what about tabla? I inquired. She said.  Tabla is a modernised form of an ancient Indian drum called Pakhawaj. The credit again goes to Amir Khusro. Playing of sitar and tabla is a kind of conversation between two musical instruments. This combination can create magic. Please tell me more about Amir Khusro? I asked. She Replied. He was born in 1253 in Uttar Pradesh, a province of northern India, and therefore he is sometimes called Khusro Dehlvi. He was a brilliant musician and a scholar at the same time. Nizamuddin Auliya was his spiritual leader. It was an intimate spiritual relationship between Khusro and Nizamuddin. A  trendsetter and unquestionably the icon and symbol of Indian subcontinent music. Though he was fluent in Arabic, Persian and Sanskrit but preferred to do his poetry in the local language called Hindavi.  He invented the classical musical forms of Khayal and Tarana. He was the one who invented the Sufi form of music called Qavali. Equally successful as a poet, he did tremendous work in ghazal, Masnavi, Qattat, Rubai, and Dobait  His musical compositions captured the hearts and minds of ordinary people. Being associated with the court of Delhi, he was and still more popular in Northern India and all over Pakistan, but no doubt he had a universal soul. His riddles, songs, musical compositions, anecdotes and stories are extremely popular amongst common people of Indo Pak. He died in 1325 at the age of 72 and is buried alongside his spiritual guru Nizamuddin

Written, translated, narrated and produced by Shariq Ali

Valueversity

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,730 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina