retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Yearly Archive: 2020

بقا اور خوشی ، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، گیارہواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی. SURVIVAL AND BLISS, GENESIS, PODCAST SERIAL EPISODE 11

Narration by: Shariq Ali
August 4, 2020
retina

The transition of humans from nomadic hunting gathered lifestyle to settled sedentary agricultural life surely improved the survival of human society. Did it result in achieving happiness at an individual level?  

 

 

میڈنگلے ہال سے کیمبرج میں واقع ہمارے یونیورسٹی کیمپس کا فاصلہ تقریبآ چار میل ہے۔ اچھے موسم میں سائیکلوں پر کوی آدھے گھنٹے کی مسافت۔ لیکن آج کلاس میں پہونچے کی جلدی نہ تھی.  چھٹی کے دن پروف کو کیمپس کی سیر کرانا مقصود تھا ۔ ھم سڑک کے دونوں جانب قطار سے لگے بلند درختوں اور اونچے نیچے سرسبز و شاداب کھیتوں اور ان کے کنارے بھولوں سے لدی جھاڑیوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دھیرے دھیرے پیڈل چلا رہے تھے۔ سب سے آگے جیک پھر پروف. ان کے پیچھے جینز اور خوشرنگ جیکٹ اور میرون ہیلمٹ پہنے زن اور آخر میں زن کی اس خوش ذوقی کو دل ہی دل میں سراہتا لیکن اس کی توجہ سے بچتا ہوا میں۔ رات بھر کی بارش کے بعد صبح کی نرم دھوپ میں یہ سب کچھ کسی اور ہی دنیا کا منظر معلوم ہوتا تھا. میں بے حد خوش تھا . الگ سائیکل ٹریک نہ ہونے کی وجہ سے ہم سب کو بہت احتیاط سے سڑک کے بائیں جانب آگے پیچھے چلنا پڑ رہا تھا۔  آدھے راستے سے کچھ تھوڑا ہی آگے گئے ہوں گے تو ایک چھوٹے سے خوش نما پارک میں کھلے پھولوں پر نظر پڑی۔ پروف نے ھاتھ کے اشارے سے  کچھ دیر یہاں رکنے کا ارادہ ظاہر کیا . ھم سایکلیں قریب کے درخت کے نیچے کھڑی کر کے جنگ عظیم کے شہیدوں کی سنگی یادگار کے سامنے کھلے سرخ گلابوں کا رخ کیے بنچ پر بیٹھ گئے۔ زن نے پروف سے پوچھا . شعوری انقلاب کے بعد انسانی تاریخ میں کون سی بڑی تبدیلی آئ ؟ کہنے لگے . آج سے تقریبا دس سے بارہ ہزار سال پہلے دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف اوقات میں اس وقت کے انسانوں کی زندگی  میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوا۔ یہ تھا پہلا زرعی انقلاب. اس انقلاب نے اس دور کے انسانوں کے رہن سہن اور ان کے سماج میں بنیادی اور دوررس تبدیلیاں پیدا کیں۔ ہم دو ہزار سال پر محیط نسبتاً آہستگی سے انیوالی تبدیلی کو انقلاب اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس نے انسانی سماجی ارتقا میں بے حد اہم پیش رفت کی تھی . انسانی گروہوں نے خانہ بدوشی اور جنگلوں اور غاروں میں رہنا چھوڑ کر اور شکار اور پھلوں کی غذا پر بنیادی انحصار ختم کر کے دریاؤں کے کنارے آباد ہونا اور فصلیں اگانا اور جانوروں کو پالنا شروع کردیا. یہ بنیادی سماجی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی کے آغاز کے حوالے سے بے حد عظیم تبدیلی تھی. مستقل رہائش کے لئے گاؤں بسے تو زمین اور فصل کی ملکیت کا سوال اٹھا . یوں تحریر کا آغاز ہوا. ماحول کی تبدیلی اور مستقل رہائش گاہوں میں لوگ اور گوداموں میں غذا کی فراوانی محفوظ ہوئی تو ابادی میں تیزی سے اضافہ ہوا.  سبزیوں اور ایک جیسی غذا یعنی اجناس کا زیادہ استعمال شروع ہوا. اگلے سال قحط کی فکر نے اضافی غذا کو محفوظ کرنے کے انتظامات شروع کیے۔  پھر تو وہ سب لوگ جنگل کی خانہ بدوش زندگی سے جان چھڑ ا کر بے حد خوش ہوے ہوں گے؟ میں نے بات بڑھائی . کہنے لگے .  ارتقا بدلتی صورت حال میں بقا سے جڑی جد و جہد کا نام ہے.  جبکے خوشی کا تعلق انسانی شعور سے ہے . خوشی تب ہی میسر ہوتی ہے جب انصاف مہیا ہو . ہوا یوں کہ جس زر خیز زمین پر وہ فصلیں اگاتے تھے  ان پر دوسرے انسانی گروہوں کے قبضے کے ممکنہ خطرے سے حفاظت کے لئے جنگجو جتھے قائم ہوے . ان کا سردار حکمران بن گیا. آسمانی بلاؤں اور آفتوں سے بچاؤ  اور اچھی فصلوں کی امید دلانے کے لئے مذہبی عالم وجود میں اے.  اگرچے محنت میں حکمران اور مذہبی عالم شامل نہ تھے لیکن ان کسانوں کو اپنی محنت کا بیشتر حصہ ان لوگوں کو دینا پڑتا تھا . یہ اقلیتی طبقہ محنت میں تو شریک نہ تھا  لیکن طاقت کے بل بوتے پر زیادہ حصّے کا حقدار ٹہرتا تھا ، یہ ساری صورت حال سماج کے ارتقا کے  لئے تو بے حد فائدہ مند ثابت ہوئی.  لیکن انفرادی زندگی کے لحاظ سے وہ لوگ جو فصلیں اگاتے تھے اور جن کی محنت کے نتیجے میں یہ ساری خوشحالی میسّر تھی اقلیتی حکمران طبقے کے مقابلے میں بیشتر صورتوں میں بد حال اور نا خوش ہی رہے. ان دہقانوں کو غذا حاصل کرنے کے لئے خانہ بدوشی کے دنوں کے مقابلے میں اب زیادہ اور طویل مدتی محنت کرنا پڑتی تھی. جبکے وہ جنگلوں میں نسبتاً آسانی سے اپنی غذا جو زیادہ متنوع ھوتی تھی حاصل کر لیا کرتے تھے.  ابتدائی دور کے ان دہقانوں کو ایک سا مہیا اناج زیادہ مقدار میں کھا کر اور نسبتاً تنگ اور غیر صحتمند رہائش گاؤں میں زندگی گزارنے کے سبب زیادہ بیماریوں کا سامنا رہتا تھا.  اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہ تھا  کے اب ان کے پاس غذا کی فراوانی تھی اور ان کی بقاء اب زیادہ مستحکم تھی…. جاری ہے
|     |

A vagrant in Montreal. Grandpa and me. Podcast serial Episode 35

Narration by: Shariq Ali
retina

Late night in the cultural capital of Canada where John Lennon wrote his masterpiece “Give Peace a Chance” and Nadia Comaneci won the hearts of so many, here comes a vagrant. Enjoy the story!

 

 

Uncle Patel was recounting his trip to Canada. He said. Airport coach stopped at the Chinatown bus stop in the city centre. It was almost midnight. The driver pointed to the neon sign of Travelodge in front and opened the door of the coach. I thanked him and left the coach. Along with a few childhood memories, my feet landed on the city of Montreal. In 1976 Olympics here, Nadia Komanichi won three gold medals and millions of hearts. John Lennon’s wrote his famous song “Give Peace a Chance” in this city. French-speaking Canada’s second-largest city. Where minus twenty-five degrees in winter and two months of snow is normal. Montreal the sister city of Hiroshima. Holding my bag, I entered into the Travel lodge and went to the reception. The young fair-skinned man wearing the suit first tried the French. When he saw me lost, he greeted me in English. When I started filling out the form, he saw my name and revealed that he is a Moroccan and manager here. Then smiled and upgraded my room from standard to Queens suite. He took a map out and showed me the bank, post office, shopping centre and a nearby mosque. Leaving the luggage in the room, I rushed to the dining hall and found the door closed. The reception is also empty. I was starving. I came out and crossed the road. Started walking in pursuit of some lights at the end of the street. Montreal is not only inhabited above the ground. It is also famous for its world’s largest underground system. Twenty miles long underground passages equipped with electricity and air conditioning connects. Various shopping centres, banks, government offices, post offices, universities, flats and metro stations. In the winter, half a million people use the system. On the way, a small restaurant appeared open. I sat at a nearby table after ordering pizza. A six-and-a-half-foot-tall, bald white man with red eyes approached the ear and whispered. Can you get me a pizza, please? I was recovering from the smell of his clothes and alcoholic breaths. A slender four-foot-ten-inch Chinese waitress approached us and shouted with command. How many times I have told you, Peter. Don’t bother my customers. Then she raised her finger towards the door and shouted. Out, I say get out at once. I got terrified. A punch of the vagrant could send Chinese anger to the heavens. The end of her life story. Peter bowed his head and walked out of the restaurant like a child caught during mischief. When I came out of the restaurant, I saw Peter sitting outside the door. He was half asleep in this cold night. The strong winds of compassion began to blow in my heart. Then the thought came to me. If I had taken out a purse to help him, he might stab me to death. Only to disappear in the underground world of Montreal. I dropped the idea and started to take fearful hasty steps towards the Travelodge… To be continued.

|     |

دوہری زندگی ، دسواں انشاء ، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، ویلیو ورسٹی Dual Reality, GENESIS, PODCAST SERIAL EPISODE 10

Narration by: Shariq Ali
July 31, 2020
retina

Our consciousness force us to live in a dual reality as humans. On the one hand, the objective reality of rivers, trees and lions; and on the other hand, the imagined reality of economy, nations and corporations.

 

 

میڈنگلے کے باغ میں جھیل کے کنارے بیٹھے ہم پروفیسر حراری سے گفتگو  کر رہے تھے . پروف بولے . سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ہم انسانوں میں پچھلے تیس ہزار برسوں میں کوئی جذباتی ، ذہنی اور جسمانی تبدیلی نہیں ہوی ہے۔ گویا تیس ھزار سال پہلے کا انسان بالکل ھم جیسا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ھمارے ذہنوں میں شعوری انقلاب برپا ہوا۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس دن سے لے کر آج تک ھم انسان دوہری حقیقت میں زندگی بسر کر رھے ھیں۔ وجودی اور تمثیلی حقیقت میں ایک ساتھ۔ وجودی حقیقت؟ میں نے سوالیہ انداز میں دہرایا۔ بولے۔ وجودی حقیقتیں ہمارے شعور سے باہر بھی اپنا وجود رکھتی ہیں جیسے درخت ، دریا ، پہاڑ اور انسانی جسم وغیرہ ۔ جبکہ تمثیلی حقیقتیں ہمارے اجتماعی شعور میں تو موجود ہوتی ہیں ۔ لیکن انسانی شعور سے باہر ان کا کوی وجود نہیں ہوتا۔ جیسے قومیت ، مذہب، معیشت ، ملکی قوانین ، جمھوریت یا کارپوریشن  جیسے گوگل، ٹویوٹا وغیرہ. کچھ اور وضاحت؟ زن نے کہا۔ کہنے لگے. یاد رہے  تمثیل یا کہانی جھوٹ نہیں ھوتی بلکہ اس سے مراد ہے فکشن ، لوک روایت ، ثقافتی داستان یا اجتماعی طور پر فرض کر لی گئی کوی حقیقت۔ تمثیلی حقیقت بہت سی صورتوں میں انسانی معاشرے کے لیے بے حد کارامد ھوتی ہیں۔ کسی مفروضے کو اجتماعی طور پر سچ تسلیم کرلینے سے باہمی رابطہ اور معاملات کا طے کرنا اسان ھو جاتا ھے۔ معیشت ، نظام حکومت ، کرنسی نوٹ ، قومیت اور ملکی سرحدیں بے حد کارامد لیکن محض اجتماعی طور پر فرض کر لیے گئے سچ ہیں. جیسے جیسے انسان ترقی کرتا چلا گیا  تو تمثیلی حقیقتیں زیادہ اہم ہوتی چلی گئیں۔ ذرا غور کرو  تو قانون معیشت اور قومیت میں سے کوئی بھی چیز پہاڑ دریا یا شیر کی طرح حقیقی وجود نہیں رکھتی لیکن ان سب کی موجودگی پر ھم سب کا مشترکہ یقین انہیں حقیقت بنا دیتا ہے.  پھر یہ ھماری زندگی کی ایسی ہی حقیقتیں بن جاتی ہیں جیسے دریا پہاڑ اور شیر. آج ہم اپنی بقا کے لیے یے دریا پہاڑ یا شیر سے زیادہ امریکہ ، گوگل اور بینک اکاونٹ جیسی تمثیلی حقیقتوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں.  جیک نے کہا . تو پھر جھوٹے سچے خواب اور تمثیل میں کیا فرق ہوا ؟ بولے. بنیادی فرق اجتماعی یقین کا ہے  . جیسے کسی بچے کے ذہن میں اس کا کوی فرضی دوست جس کا اس دنیا میں کوئی وجود نہیں ایک مضحکہ خیز خیال مانا جاے گا ۔ لیکن جب بہت سارے لوگ کسی تمثیلی حقیقت کو سچ مان لیتے ہیں جیسے قومیت ، حکومت یا لمیٹڈ کمپنی مثلآ ٹویوٹا تو پھر اس کا وجود تمثیلی حیثیت میں  مستحکم ہو جاتا ہے اور وہ حقیقت تسلیم کر لی جاتی ہے۔ اب اگر ایک دو یا چند افراد اس سے انکاری بھی ہو جایں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑےگا۔ لیکن اگر اکثریت اس تمثیلی حقیقت سے منکر ہو جاے تو اس کا وجود یا تو ختم ہو جاتا ہے یا نئی تمثیل کے مطابق تبدیل ہو جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کے انسان اور اس کا سکھی رہنا جو کہ اصل وجودی حقیقت اور سچائی ہے اسی طرح کی تمثیلی سچائیوں کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ پھر اورنج جوس کا بڑا سا گھونٹ لے کر بولے . امید افزا بات یہ  ہے کے تمثیلی حقیقت کو سچ مان لینے سے پیدا شدہ اجتماعی رویہ بنیادی فرضی کہانی کو تبدیل کر لینے سے تبدیل کیا جا سکتا ھے. وقت کے ساتھ اگر کہانی تبدیل ہو جاے یا کر لی جاے  تو رویہ بھی تبدیل ہو جاے گا ۔ کیونکے ایسا رویہ جینیاتی مجبوری یا وجودی حقیقت نہیں ہوتا۔ گویا شعوری حقیقت ھم انسانوں پر وجودی اور جینیاتی حقیقتوں کے شانہ بہ شانہ اثر انداز ہوتی ہے۔ جبکہ دیگر جانوروں کا رویہ جینیاتی اور وجودی حقیقت کی قید میں ہے۔ انہیں رویے میں تبدیلی کے لئے جینیاتی تبدیلی کا انتظار کرنا پڑتا ھے جسے کئی  لاکھ سال درکار ہوتے ھیں. میں نے کہا . تمثیلی کہانی میں تبدیلی کی کوئی مثال ؟ بولے . مثال کے طور پر ٹویوٹا کمپنی۔ اگرہم ٹویوٹا میں کام کرنے والے تمام افراد کو نیست و نابود کربھی دیں تو بھی ٹویوٹا کمپنی قائم رہے گی۔ اس عمارت کو گرا بھی دیں جس پر ٹویوٹا لکھا ہے تو بھی ہم اس کا وجود ختم نہ کر سکیں گے۔  کیونکہ وہ ایک وجودی حقیقت نہیں قانونی تمثیلی وجود ہے اور ھم اسے قتل نہیں کر سکتے۔ ھاں کسی جج کا فیصلہ یا  قانون میں تبدیلی اس کا وجود مکمل طور پر ختم کرسکتی ہے اور یوں وہی عمارت، اس کے ملازمین اور بنائی ھوی کاریں نئے نام اور نئی قانونی حیثیت اختیار کرلیں گی. گویا ہم سب کی باہمی رضامندی اور قانونی دستاویز پر لکھی اس رضامندی کا اظہار اوراس تمثیلی وجود کو حقیقت مان کر پر اعتماد سرمایہ کاری ٹویوٹا کمپنی کا تمثیلی وجود ھے …. جاری ہے ​
|     |

Lion or a fox- Machiavelli. Grandpa and me. Podcast serial Episode 34. Shariq Ali.

Narration by: Shariq Ali
July 28, 2020
retina

This episode is about Machiavelli and his famous book The Prince. Mamdu learns about the cruelty of politics

 

 

We were very happy to find books of choice. Today, when Grandpa and uncle decided to come to Kiranpur, I and Yani Apa also joined them. Kiranpur is a small town fifteen miles from Pholbun. We often go there to find favourite books in its book shop. On our way back, when we stayed in the municipal library for a while, there was no one there but us. While turning the pages of a book, I asked. Can a book have a negative impact? Grandpa said. This reminds me of a famous book titled The Prince. Niccolo Machiavelli (1469 to 1527) wrote this book during the renaissance period. It is amongst the ten influential books of the world. Please tell us more about it? I requested. He said. It was a kind of a job application to the Prince of Florence. Five years after the author’s death, it got published. So controversial and thus gained worldwide fame. This is a simple and practical guide for rulers. Machiavelli was an Italian historian, military, political adviser and an author. He had a keen interest in politics and history. What does he write in this book? I became curious. Grandpa replied. The heartless tactics of politics. For example, he writes that a prince should be merciful only if it is in his best interest. Otherwise, it is not the love of the people but their fear that should be the means of governing. The ruler must be a lion and a fox at the same time. The fox that can escape the conspiracy and deception. And the lion that can deal with attacking wolves. Being a lion is not enough. Realist survives and idealist perish. He says political success is more important than adherence to moral principles. To maintain power. He even advocates the assassination of the previous ruler and it’s generations. These are controversial ideas. But he gives strong historical arguments in support. According to him, morality is a secondary consideration and subject to circumstances. It is permissible to compromise on principles for success. It is as if Machiavellian thinking is blind to desire. It is deceitful and cruel. Unfortunately, the majority of politicians seem to agree with Machiavelli. An example is US President Richard Nixon who considered himself above the law. Yani Apa said. Machiavelli’s tactics are short-sighted and can only achieve temporary success. Follow the path of Socrates for long-lasting success. Adhering to the universal moral principles he describes is the key…To be continued
|     |

تعاون کی طاقت، نواں انشاء، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، شارق علی ، ویلیو ورسٹی POWER OF COOPERATION, GENESIS, PODCAST SERIAL EPISODE 9

Narration by: Shariq Ali
July 21, 2020
retina

Is it true that the secret of human race success is large-scale flexible cooperation based on mutually agreed assumptions? This collective belief on fiction has made us masters of the world.

 

 

دو دن سے مسلسل بارش ہورہی تھی اور کہیں آنا جانا ممکن نہ تھا۔  کچھ دیر کو وقفہ ھوتا بھی تو اتنا مختصر کے محض کھڑکی سے سرسبز منظر کا لطف اٹھایا جا سکتا۔ زیادہ تر وقت گپ شپ میں گزرتا۔ خوش قسمتی یہ تھی کہ پروفیسر حراری کا میڈنگلے میں قیام دو مہینوں کے لئے تھا۔ اس دوران ان کے کئی لکچر کیمبرج، آکسفورڈ اور لندن کی یونیورسٹیز میں پہلے سے طے شدہ تھے۔ ان کا یوں ہم طالب علموں کے ساتھ گھل مل جانا ھم سب کو بہت اچھا لگا تھا۔ ہم خوش قسمت تھے کہ چلتے پھرتے ان کے علم اور تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ صبح ناشتے پر ملے تو میں نے پوچھا۔ کسی خطرناک جنگل میں جہاں خونخوار جنگلی جانور جان کے دشمن ھوں خطرات سے آگاہ کرنے والی سیدھی سادھی زبان زیادہ کارامد ھو گی نہ کے داستان گوی ؟ پھر گپ شپ زبان کا استعمال ہمیں کیسے سپرپاور بناتا ہے ؟  بولے۔ بلا شبہ خطرے سے آگاہ کرنے والی زبان قدیم انسان کی بقا میں مددگار ثابت ھوی تھی۔  یوں تو چیونٹیاں اور شہد کی مکھیاں بھی آپس میں تعاون کرتی ہیں لیکن بہت ہی محدود انداز میں۔ اور حالات تبدیل ہو جایں تو کوی تبدیلی بھی ممکن نہیں۔ لیکن اگر ہم بھیڑیوں اور چمپنزیز کی مثال لیں تو ان کا باہمی تعاون شہد کی مکھیوں سے زیادہ بہتر اور لچکدار ھے۔ وہ دشمن اور حالات کے مختلف ھونے کی صورت میں اپنے تعاون کی نوعیت کو تبدیل کرنے کی صلاحیت  رکھتے ھیں۔ یعنی اگر حملہ آور چیتا ہو یا دوسرے چمپنزیز کا غول تو حکمت عملی اسی حساب سے کچھ اور ہوگی۔ لیکن ان کا آپس کا یہ باہمی تعاون سو یا زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ سو جانوروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ وہ صرف انہی پر بھروسا کرتے ہیں جنہیں وہ براہ راست حیثیت میں جانتے ہوں۔ جب کہ گپ شپ زبان نے بہت بڑے پیمانے پر اجتماعی انسانی تعاون کو ممکن بنایا جو ھماری طاقت کا اصل راز ہے۔  اس سے پہلے تاریخ میں کسی جاندار کے لیے یہ کارنامہ انجام دینا ممکن نہ ھو سکا تھا۔ جیک نے کہا۔ وہ کیسے؟ بولے۔ گپ شپ زبان کا کمال یہ ہے کہ فرض کر لی گئی حقیقت پر اتفاق کر لینے کے بعد لاتعداد اجنبیوں کے ساتھ بے حد لچک دار تعاون کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔عظیم انسانی تعاون کی کوی مثال دیکھنا چاھو تو کسی موجودہ یا گزری ھوی حکومت یا عظیم عبادت گاہ یا قدیم شہر کے کھنڈرات کو دیکھ لو۔ ان سب کی بنیاد وہ مفروضے ہیں جنہیں اجتماعی طور پر درست تسلیم کرلیا گیا ھے۔ یہ سب کچھ  ہماری زبان اور اجتماعی تصوروخیال کے نتیجے میں پیدا ھونے والے تعاون ہی سے ممکن ہو سکا ہے۔ عبادت گاہوں یا قومیت پر مبنی سلطنتوں کی جڑیں روایتی کہانیوں سے جاملتی ہیں جنھیں اجتماعی سچ سمجھ لیا گیا ہے۔ لاتعداد اجنبی ہندو جو ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں ہندوتوا کی کہانی پر یقین رکھنے کی وجہ سے بے گناہ مسلمان بستیوں کو آگ لگانے میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک دوسرے سے تعاون کر سکتے ھیں۔ مفروضات اور کہانیاں ہی کارپوریٹ دیوتا تشکیل دیتی ہیں۔ یہ فکشن ہی تو ہے جو کاغذ کے ٹکڑے جسے ہم دولت کہتے ہیں کو ہم انسانوں سے بھی زیادہ محترم بنا دیتا ہے۔ یہ گپ شپ زبان کا انعام ہے کے آج ہم انسان اس زمین پر حکمران ھیں اور ھمارے کزن چمپینزیز  یا تو چڑیا گھروں میں بند ہیں یا ریسرچ لیبارٹریوں میں قید جیسے تیسے اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ قدیم انسان  بھی اپنے بچوں سے پیار کرتا تھا۔  دوستوں کے ساتھ کھیلتا تھا ۔ دشمنوں سے مقابلہ کرتا تھا جیسا کہ چمپنزیز، لنگوروں یا ہاتھیوں کا غول بھی یہ سب کچھ کرتا ہے۔ لیکن اگر زبان کے جادو سے لاتعداد اجنبیوں سے باھمی تعاون کی طاقت نہ جاگتی تو ھم انسان کبھی بھی چاند پر قدم نہ رکھ سکتے۔ ایٹم کو ریزہ ریزہ نہ کر سکتے۔  جینیٹک  کوڈ کے راز افشاء نہ کر سکتے ۔ گزری ھوی تاریخ کے بارے میں حیرت انگیز کتابیں نہ لکھ سکتے۔ یہ سب باھمی تعاون کی طاقت ہی سے ممکن ہو سکا ہے۔۔۔۔۔ جاری ہے
|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

14,866 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina