retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Monthly Archive: December 2019

کاکا مراد ، دنیا گر ، انشے سیریل ، نواں انشا Tetsu Nakamura, DUNYAGAR, URDU PODCAST SERIAL, EPISODE 9

Narration by: Shariq Ali
December 29, 2019
retina

Doctor Tetsu Nakamura was targeted and killed in Afghanistan earlier this month. Valueversity pays him tribute by telling you his story

 

 

کاکا مراد ، دنیا گر ، انشے سیریل ، نواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

پیدا تو وہ انیس سو چھیالیس میں جاپان کے قدیم شہر فکوکا کے خوبصورت مرغزاروں میں ہوا تھا۔ لیکن اس بات کا کیا کیا جائے کے اس نے محبت افغانستان کے بے آب و گیاہ ویرانوں میں بسنے والے جنگ اورقحط زدہ لاچار انسانوں سے کی ۔ وہ مظلوم لوگ جنہوں نے ٹیٹسو ناکا مورا کی جاپانی شناخت ہوتے ہوئے بھی اس پشتو بولتے اور افغان لباس پہنے انسان دوست کو کاکا مراد کہ کر اپنا لیا۔ افغان حکومت نے اسے اپنا اعزازی شہری بنا لیا. انسان دوستی میں دیوانہ ایسا کہ بنجر ویرانوں کو دریاے کنر سے نہریں نکال کر لہلہاتی فصلوں میں تبدیل کرنے کی جد و جہد میں اپنی جان کی پرواہ بھی نہ کی ۔ چار دسمبر دو ہزار انیس کو دو گاڑیوں میں گھات لگائے افغان لباس پہنے سات منتظر نامعلوم مسلح افراد نے دو طرف سے امدادی قافلے کو روکا جس کی پہلی گاڑی میں وہ سوار تھا . پھر کاکا مراد کے جسم میں بہت نزدیک سے خودکار ہتھیاروں کی پانچ گولیاں اُتار دی گئیں ۔ ساتھ بیٹھا ڈرائیور اور تین محافظ بھی زد میں آ کر مارے گئے۔  شہادت کی تصدیق بلند آواز میں یہ کہ کر کی گئی کے کھیل ختم ہو گیا . پھر وہ فرار ہو گئے۔ سانس ابھی باقی تھی لیکن کاکا مراد صرف پچاس میل دور ہسپتال تک نہ پہنچ پایا ۔ طالبان نے اس قتل سے لا تعلقی کا اعلان کیا. الزام آئ ایس آئ کی پراکسی پر لگا مگر ثبوت کے بغیر . کھیل آخر تھا کیا؟ انیس سو چوراسی میں یہ جاپانی رضا کار ڈاکٹر پہلی بار پشاور کے ہسپتال میں افغان المیے سے متعارف ہوا تھا ۔  ارادہ تو چھ سات سال خدمت انجام دے کر وطن واپس لوٹ جانا تھا لیکن دکھ کا رشتہ بھلا کب آسانی سے ٹوٹتا ہے۔ اگلے کئی برسوں میں افغانستان میں تین جگہ طبی مراکز قائم کر کے اور شبانہ روز کی محنت سے تھک ہار کر اس نے یہ سچ تسلیم کیا کہ بنیادی مسلہ امراض نہیں غذائی قلت ہے ۔ اس نے اپنا سفید کوٹ تہ کر کے ایک طرف رکھا اور  مٹیالی صدری پہن کر اپنے زراعتی ماہر دوست کازويا ایٹو کا شریک کار بن گیا جو دریائے کنر سے نہریں نکال کر مشرقی افغانستان کی قحط زدہ بستیوں میں زراعتی انقلاب لانے کے خواب کو اپنا مشن بنائے ہوئے تھا۔ دو ہزار آٹھ میں کازویا کو طالبان نے پہلے اغوا کیا اورپھر تشدد کرکے مارڈالا۔ کاکا مراد سہما نہیں۔ دیوانے کی دیوانگی اور بڑھ گئی۔ ویسے بھی وہ موت کو کئی بار بہت قریب سے دیکھ چکا تھا۔ ایک بار امریکی گن شپ ہیلی کاپٹر سے ہوتی فائرنگ سے بال بال بچتے ہوئے اور پھر دریائے کنر کے سیلاب میں گھرے مظلوموں کی جان بچاتے تقریباً ڈوبتے ہوئے۔ كازویا کی جگہ کمان سنبھال کر وہ اپنے کھیل میں مصروف رہا.  ننگرہار صوبے کے کھییوا ڈسٹرکٹ میں بغیر کسی جدید ٹیکنولوجی کی مدد کے مقامی لوگوں کی شبانہ روز محنت سے اس نے کنر دریا سے پچیس کلومیٹر لمبی نہر نکالی اور چھے لاکھ غریب افغانی خوش حال دہقان بن گئے ۔  کنر دریا پر  چھوٹے بڑے گیارہ ڈیم تعمیر کیے اور سولہ ہزار ہیکٹر زمین سیراب ہو گئی ۔ جلال آباد کے نواح میں گھمبیری کے علاقے کو سرسبز جنگل اور لہلہاتی فصلوں میں تبدیل کر دیا۔ وہاں دو ہسپتال اور دو مسجدیں بھی تعمیر کروائیں۔ وہ کہتا تھا افغانستان کا حل اسلحہ نہیں زراعتی انقلاب ہے۔  ایک نہر سو ڈاکٹروں کے کام سے بہتر ہے۔ ان خدمات کو عالمی پذیرائی ملی اور اسے رامون مگسے سے ایوارڈ سے نوازا گیا جو ایشیا کا نوبل امن انعام کہلاتا ہے. اس کا سب سے بڑا انعام تو یہ تھا کہ افغانستان کی پنجر زمین اور مظلوم عوام اس کی سخاوت اور فكوکا کے خوبصورت مرغزار اس کی انسان دوستی کا  احترام کرتے تھے . فکوکا میں ہونے والی آخری رسومات میں تیرہ ہزار لوگ شامل تھے۔ افغان پرچم میں لپٹے جسد خاکی کے سامنے آویزاں کاکا مراد کی  تصویر کے ساتھ ان بے گناہوں کی تصویر بھی تھی جو اس کے ساتھ شہید ہوئے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ مسکراتے ہوے کہ رہا ہو۔ کھیل ابھی جاری ہے میرے دوست.  ٹیٹیسو ناکا مورا کی تدفین کے موقع پراس کے ادارے پیشاور کائی نے اعلان کیا ہے کہ  اس کے تمام منصوبوں پر کام جاری رہے گا…. جاری ہے

|     |

ساحل شب ، آٹھواں اور آخری انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ Beach at night, A GLIMPSE OF BARCELONA, INSHAY TRAVELOGUE, Final EPISODE 8

Narration by: Shariq Ali
December 26, 2019
retina

Walking along with the beach and enjoying the fresh air and sound of waves until it becomes vibrant and festive after sunset

 

 

ساحل شب ، آٹھواں اور آخری انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ ، ویلیوورسٹی ، شارق علی

ساحل بے حد حسین اور شفاف تھا .  دور تک پھیلی سنہری نرم ریت کے شانے سے دھیرے دھیرے سر ٹکراتی اور واپس لوٹتی نیلگوں لہریں . کنارے کے ساتھ دھوپ میں سنولاتی یا اتھلے پانیوں میں تیراکی کا لطف اٹھاتی مختصر ترین لباس کا تکلف کیے خوش بدن یورپی حسینائیں اور دیگر سیاحتی آبادی۔ ذرا فاصلے پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں تیراکی کا براۓ نام لباس پہنے ریتیلے میدان میں والی بال کھیلتے ہوئے . کچھ ہماری طرح محض فلسفیانہ انداز میں ریت پر نیم دراز سستاتے ہوئے۔  مختصر مشاہدہ بھی یہ بات نظر انداز نہ کر سکتا تھا کہ ہسپانوی کلچر اس قدر آزاد خیال ہے کہ جس کا  تصور برطانیہ میں بھی ممکن نہیں. قریب ہی شاور لینے اور پیر دھونے کا انتظام تھا اور قرینے سے بنے واش رومز بھی . لیٹے لیٹے تھک گئے اور دنیا کی بے راہ روی بر غور کر چکے تو چہل قدمی کی نیت لئے اٹھ کھڑے ہوے . بارسلونا کی ساحلی تعمیرات انجینئرنگ کا کمال ہیں۔ انیس سو بانوے کے اولمپک کی تیاری کا حصہ یہ تعمیرات کنارے کے ساتھ کوئی دو کلومیٹر دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ کنارے کے ساتھ نیم دائرہ شکل میں خاصی طویل تین منزلہ پیدل گزر گاہیں تعمیر کی گئی ہیں. ہم ساحل سمندر کی ریت سے کچھ ہی اونچی تعمیر کی گئی پہلی منزل کی  پیدل گزرگاہ پر چلنے لگے . تقریبا آٹھ دس فٹ اونچی دوسری گزرگاہ بھی اس قدر کشادہ تھی کے نہ صرف بہت سے لوگ چہل قدمی اور جوگنگ کر سکیں بلکے ایک کشادہ سائکل ٹریک بھی بنا ہوا اور ساتھ ہی ریستورانوں اور دکانوں کی لمبی قطاریں بھی .  ہر شے آرام اور کشادگی کا احساس لئے ہوے  ۔ تیسری اور سب سے اونچی گزرگاہ اتنی بلند کہ دونوں جانب کے ساحلی میدانوں کو ملاتے ہوئے ایک پل بن کر  کشادہ مرینہ کے اُوپر سے گزرتی ہوئی .  مرینہ جس کے نیلے پانیوں میں سینکڑوں موٹر بوٹس اور لانچیں پارک تھیں اور ایک جانب سفید لکڑی کے تختوں سے بنی بوٹ کلب کی حسین عمارت تک آتے جاتے موٹر بوٹ سکوٹر مصروف دکھائی دے رہے تھے ۔ پل  کے ساتھ چھوٹے قد کے پھلوں سے لدے کھجوروں کے درختوں کی قطاروں سے جھانکتا مرکزی شاہراہ پر چلتا تیز رفتار ٹریفک بھی صاف دکھائی دیتا تھا . سارا منظر ایک بے حد کشادہ جیتی جاگتی حسین تصویر لگتا تھا.  سامنے گہرا نیلا سمندر، ایک جانب مرینہ میں پارک سینکڑوں سفید رنگ کی خوبصورت کشتیاں اور ارد گرد کے خوبصورت رستورانوں ، دوکانوں اور گزرگاہوں میں سیاحوں کی چہل پہل اور دوسری جانب مرکزی شاہراہ پر موجود جدید اور بلند و بالا عمارتوں کا حسین منظر۔ چلتے چلتے تھک گئے تو ایک آئس کریم شاپ کے سامنے بچھی کرسیوں پر بیٹھ کر جیلاٹو آئس کریم کا لطف اٹھانے لگے . مغرب ہوئی تو سورج سمندر سے پیچھے کی سمت ڈھلنے لگا لیکن غروب آفتاب کے رنگ سمندر کی سطح پر  دھیرے دھیرے بکھرتے رہے اور آئس کریم ہماری توجہ کی بے نیازی سے پگھلتی رہی .  پھر اس سارے منظر کو گزرگاہوں پر لگی خوبصورت روشنیوں کی جھلملاہٹ نے جگمگا دیا . دیکھتے ہی دیکھتے پورا واٹرفرنٹ روشنیوں میں نہا گیا. ریستورانوں میں شبینہ گہما گہمی انگڑائی لے کر بیدار ہونے لگی . ایک بے حد مہنگا  سوٹ پہنے فراری سے اترتے ادھیڑ عمر آدمی کو اپنے سے آدھی عمر کی میک اپ زدہ ایسکورٹ کے ہمراہ کسینو کی سمت جاتے دیکھا تو  ایک آہ بھری اور اٹھ کھڑے ہوے . کچھ دور چلے ہوں گے کہ روشنیوں اور موسیقی کے حسن سے آراستہ ریستورانوں کی قطار کے پاس سے گزرے . ایک سوٹڈ بوٹڈ دربان نے ہمیں اردو میں اپنے ریستوران میں آنے کی دعوت دے کر حیران کر دیا . اس انسیت کو بھلا کیسے ٹالا جا سکتا تھا . خوابناک نیلی رو شنیوں اور سفید پھولوں سے سجے رستوران میں سمندر کے نظارے سے آراستہ کھڑکی کے پاس تازہ پھولوں سے سجی خوبصورت ٹیبل پر شائستگی سے رکھی مسلّم گرلڈ مچھلی ، سیزر سلاد اور دیگر کھانوں اور مشروبات کی دل آویزی میں بارسلونا سے کل صبح رخصت ہو جانے کی اداسی بھی شامل تھی ….. اختتام

|     |

ہجوم کی نفسیات ، فکر انگیز انشے The Crowd, mob mentality, Thought provoking Inshay

Narration by: Shariq Ali
December 21, 2019
retina

Lawyer’s attack in Lahore showed impulsiveness, exaggeration of sentiments, incapacity to reason and absence of judgment. Gustav Le Bon described all of these in his book, The Crowd

 

 

 

ہجوم کی نفسیات ، فکر انگیز انشے ، شارق علی ، ویلیوورسٹی
پی ای سی ہسپتال پر وکیلوں کے حملے نے ہم سب کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ اس واقعے کی ویڈیو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ حملہ آور ہجوم عقل اور شعور سے مکمل طور پر ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ایسا کس طرح ممکن ہے ؟ کیا اس موضوع پر سوچ و بچار مستقبل میں قوم کی حیثیت سے تحمل آمیز رویہ اختیار کرنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے ؟ گستاف لی بون ایک فرانسیسی ڈاکٹر اور فلسفی تھا جس نے ہجوم کی نفسیات کے بارے میں ایک اہم کتاب لکھی ہے . نام ہے دی کراؤڈ ، اسٹڈی آف پاپولرمائنڈ یعنی ہجوم اور عامیانہ نفسیات کا مطالعہ. وہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ افراد جب ایک ہجوم کی صورت اختیار کرلیتے ہیں تو ان کے رویے میں غیر معمولی تبدیلی کیوں آ جاتی ہے ؟ آئیے اس کی بیان کی ہوئی فکر سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں . ہجوم سے مراد افراد کا وہ مجموعہ ہے جو کسی عقیدے ، نظریے ، مفاد ، یا خیال کے مشترک ہونے کی وجہ سے وجود پاتا ہے. حیرت کی بات یہ ہے کہ ہجوم کی نفسیات اور رویہ اس میں شامل لوگوں کی انفرادی نفسیات اور رویے سے بہت مختلف ہوتا ہے. فرد جو ہجوم سے باہر عام زندگی میں بہت مہذب تھا ہجوم کا حصّہ بن کر انتہائی وحشیانہ اقدامات اٹھاتا دکھائی دیتا ہے . لی بون کی رائے میں اس تبدیلی کی تین بنیادی وجوہات ہیں. گمنامی ، وبائی اثر اور تحریک و تجویز کی موجودگی . ان وجوہات سے واقف سیاست دان اور تاجر اخلاقی اصولوں سے بے پرواہ اکثر عوام کو ان ہی اصولوں کے تحت اپنے مفاد میں استعمال کرتے ہیں. ہجوم گمنام ہوتا ہے اور اس میں شامل افراد اس غلط فہمی میں با آسانی مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ انفرادی ذمہ داری اور جواب دہی سے عاری ہیں ۔ موجودہ دور میں موبائل کیمرے اور سی سی ٹی وی فوٹج کی موجودگی میں یہ محض خام خیالی ہے . ہسپتال پر حملہ آور ہجوم میں شامل لوگوں کی ہمت اس قدر بڑھ چکی تھی کے انہوں نے وہ کچھ کیا جس کی وہ اپنی انفرادی حیثیت میں کبھی جرات نہ کرتے ۔ شاید اخلاقی اصول یا تربیت یا قانون کی گرفت اور سزا کا خوف انھیں روکے رکھتا . لیکن کیوں کے ہجوم ان کی دانست میں گمنام تھا اس لیے اس میں شامل لوگ نتائج سے بے پروا وہ کچھ کر بیٹھے جو وہ انفرادی حیثیت میں کبھی نہ کرتے . شخصی ذمہ داری کے خوف سے آزاد وہ گمنام ہجوم کا حصہ بن کر خود کو ناقابل شکست اور قانون کی گرفت سے آزاد محسوس کرنے لگے . دوسری وجہ ہے وبائی اثر ۔ یعنی ہجوم میں شامل کسی ایک شخص کا رویہ کسی وبائی مرض کی طرح تیزی سے ہجوم کے دوسرے افراد میں پھیل جاتا ہے۔ دیکھا دیکھی کے اس عمل کو جو وبائی مرض کی طرح پھیلتا ہے بہت ساری تجارتی کمپنیاں اپنی پروڈکٹ بیچنے کے لیے بھی استعمال کرتی ہیں. اگر ایک شخص شیشے توڑنا یا آگ لگانا یا نہتے اور بے قصور لوگوں پر تشدد کرنا شروع کر د ے تو باقی لوگ بلا سوچے سمجھے اس وبائی اثر کا شکار ہو کر اس رویے کی تقلید شرو ع کر دیتے ہیں . فرد کا ذاتی مفاد بلا سوچے سمجھے ہجوم کے مفاد پر قربان ہو جاتا ہے جو ایک سنگین غلطی ہے۔ تیسری وجہ ہے تحریک و تجویز۔ انگریزی کا ایک لفظ ہے ڈیما گوگ جو دو یونانی لفظوں کا مجموعہ ہے۔ پہلا ڈیموس یعنی عوام اور دوسرا گوگوس یعنی لیڈر۔ انسانی تاریخ میں بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں جن میں کچھ بے ضمیر لوگ عوامی تعصبات سے ہم آہنگ تحریک اور تجویز کے سبب طاقتور عوامی لیڈر قرار پائے ۔ انہوں نے اپنی قوم کو جو انفرادی طور پر جرم کرنے یا کسی کو قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی ایک ایسی زومبی یا عقل و خرد سے عاری قوم میں تبدیل کر دیا جس نے انتہائی ہولناک جنگی جرائم سے ہاتھ رنگے. اپنے جیسے انسانوں پر وہ ظلم ڈھائے جن کا وہ انفرادی طور پر تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ ایسا مفاد پرست اور بے ضمیر لیڈر عوام کو ایک خاص طرز پر سوچنے اور محسوس کرنے کی تحریک اور تجویز دیتا ہے. ترغیب کے زیراثر انھیں منافرت ، تشدد اور پھر قتل و غارت گري کی سمت دھکیلتا ہے . ہٹلر، مسولینی اور آج کے دور کا ڈیما گوگ نریندر مودی ہماری نظروں کے سامنے ہے . لی بون کہتا ہے کہ ہجوم کا حصہ بننے کے بعد افراد انفرادی عقل سے عاری ہو کر ہپناٹائز اور مسمرایز چوہوں کی سی کیفیت میں اپنے ڈیما گوگ کے پیچھے بغیر سوچے سمجھے چلنے لگتے ہیں اور یوں پہلے دوسروں اور پھر خود اپنی تباہی کا باعث بن جاتے ہیں. اب آپ سے اجازت سادہ سی اس بات کے ساتھ . بلا سوچے سمجھے ہجوم کا حصہ نہ بنیے. آپ کی انفرادی عقل اور آپ کا شعور ہی آپ کا تحفظ ہے ……… شارق علی ، ویلیوورسٹی

|     |

شام کنارے ، ساتواں انشا ، ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ Barceloneta, A GLIMPSE OF BARCELONA, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 7

Narration by: Shariq Ali
December 11, 2019
retina

Long walks along the sandy beach and Olympic Marina, fantastic beachside bars and restaurants to feast on some fresh seafood, this is Barceloneta

 

 

شام کنارے ، ساتواں انشا ، ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

پارک گویل کے مرکزی گیٹ سے باہر آکر سامنے کھڑی پیلی ٹیکسی میں سوار ہونے ہی میں عافیت جانی.  تھکن اتنی زیادہ تھی کہ قریبی میٹرو اسٹیشن یا بس اسٹاپ تک جانے کی ہمت نہیں تھی۔ بوڑھے سے بے حد خوش اخلاق پابلو نامی  ہسپانوی ڈرائیور  نے جس مہارت اور تیز رفتاری سے ٹیکسی چلانا شروع کی تو بالکل اندازہ نہ ہوتا تھا کہ وہ ستر  سے تجاوز کر چکا ہے۔ پھر ہم شہر کی سڑکوں سے ہو کر ساحل سمندر کی سمت تیزی سے بڑھنے لگے. راہ چلتے لوگوں کو دیکھ کر فٹبال کے لئے اس قوم کی دیوانگی کا خیال آیا .  اسپین کی ٹیم دو ہزار آٹھ سے دو ہزار تیرہ تک فیفا رینکنگ میں سرفہرست تھی.  پھر آٹھ سو برس سے منایا جانے والا فی استا تہوار بھی تو یہیں منایا جاتا ہے  جس میں آگے دوڑتے ہجوم کا تعاقب بھاگتے ہوے سینگدار بھینسے  کرتے ہیں . میں سوچنے لگا کہ اس بوڑھے ٹیکسی ڈرائیور کے ہم نام پابلو پکاسو نے بھی تو اپنے شب و روز اسی شہر میں گزارے تھے. شاید وہ بھی ایسا ہی چاق و چوبند ہو . اس قدر کام کرنے والے لوگ کم ہوتے ہیں. کہتے ہیں اس نے پچاس ہزار تصویروں ، گرافکس ، کولاجز اورسکچیز کا اثاثہ چھوڑا تھا . یوں لگتا ہے جیسے وہ مسلسل کام کے دوران خود کو بار بار دریافت کرتا اور نئی نئی راہوں کی سمت چل نکلتا ہے.  بالآخر اس نے اپنی شناخت کیوبزم میں ڈھونڈھ لی تھی۔ وہ اٹھارہ سو اکیاسی میں ملاگا میں پیدا ہوا لیکن ماں باپ کے ساتھ بچپن ہی میں بارسلونا آ گیا اور پھر زندگی کا بیشتر حصہ اسی شہر میں گزارا . سات سال کی عمر میں والد کی سرپرستی میں اسکیچز بنانا شروع کیے اور  پندرہ سال کی عمر میں گھر پر سٹوڈیو قائم کیا.  پھر اس نے بارسلونا اور میڈرڈ کے مشہور زمانہ آرٹ سکولوں سے روایتی تعلیم مکمل کی .  پیرس کے قیام کے دوران اس نے مقامی اور عالمی سطح کے مصوروں سے غیر روایتی طور پر بھی بہت کچھ سیکھا. وہ اپنے بھرپور فنکارانہ اثاثے کی وجہ سے دنیا بھر میں یاد رکھا جائے گا . پندرہ منٹ کے سفر کے بعد ہم ایک مرکزی شاہراہ کے کشادہ چوک پر پوھنچے جس کے ارد گرد بلندوبالا جدید عمارتیں تھیں اور سامنے ساحل سمندر کے اوپر تعمیر کیا ہوا پل  جو سمندر کے کنارے سے آگے بڑھ کر خاصے گہرے پانیوں تک پہنچ رہا تھا۔ پل کے ایک جانب ساحلی میدان تھا اور  دوسری جانب مرینہ کے نیلے  پانیوں میں کھڑی سینکڑوں موٹر بوٹس . ساتھ ہی بوٹ کلب کی لکڑی سے بنی سفید رنگ کی جدید عمارت اور پیچھے دوسری جانب بھی ایک اور کشادہ ساحلی میدان ۔ ٹیکسی ڈرائیور  نے اشارہ کر کے ہمیں مرینہ کے دونوں جانب کے  ساحلوں پر تھوڑا تھوڑا وقت گزارنے کی نصیحت کی.  یہ کہ کر  دونوں کا مزاج ایک دوسرے سے ذرا مختلف ہے۔ بارسلونا کی ساحلی تعمیرات انجینیرنگ کا کمال ہیں اور آج اس کا شمار دنیا کے حسین ترین ساحلوں میں ہوتا ہے . یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کے کچھ سال پہلے تک یہی ساحل پتھریلے اور غیر آباد تھے . پھر انیس سو بانوے کے اولیمپیکس کی تیاری میں مصر سے ریت بحری جہازوں میں امپورٹ کی گئی اور شہر کے اس دو میل لمبے ساحل پر پھیلائی گئی.  ساتھ ہی واٹر فرنٹ کی تعمیر اس مہارت سے کی گئی کہ جس کی دنیا بھر میں کوئی مثال نہیں ملتی . آج یہاں نرم ریت سے ڈھکے ساحل ہیں ، سینکڑوں کشتیوں  کی قیام گاہ مرینا ہے ، طویل پیدل گزرگاہوں کے سلسلے ہیں جن کے  کنارے سجی دکانیں ، ریستوران اور نائٹ کلبز سے آراستہ شبینہ زندگی کی ہما ہمی ہے. ہم پل کی سیڑھیاں اتر کر اس دلکش ساحل سے ملاقات کے لئے بارسلونا کی حسین شام کا ہاتھ تھامے لہروں کی جانب بڑھے …… جاری ہے

|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,730 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina