retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Monthly Archive: November 2019

پارک گوئل ، چھٹا انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ Park Guell, A GLIMPSE OF BARCELONA, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 6

Narration by: Shariq Ali
November 30, 2019
retina

A World Heritage Site since 1984, this public park  is composed of gardens and architectonic elements built by Antoni Gaudi in 1900

 

 

پارک گوئل ، چھٹا انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ ، شارق علی

دونوں اطراف خوش نما عمارتیں اور  بائیں ہاتھ پر ایک جدید ہسپتال کے سامنے بنا بے حد دلکش لان . بیس منٹ کی مسلسل  پیدل چڑھای نے ارد گرد کے منظر کی خوش گواری کے باوجود تھکاوٹ پیدا کر دی تھی . فٹ پاتھ ایک ایسکیلیٹر پر جا کر ختم ہوئی تو ہم نے سکھ کا سانس لیا ورنہ  خود اپنے قدموں مزید عمودی چڑھائی بہت مشکل ہوتی . ہماری منزل پارک گؤیل تھی . ہم آج  کے اس خوشگوار اور روشن ہسپانوی دن میں اسپین  کے دوسرے بڑے شہر کو ذرا اونچائی سے دیکھنا چاہتے تھے. اسپین جو پہلے چھوٹی چھوٹی مملکتوں میں تقسیم تھا آج یورپی یونین کا دوسرا بڑا ملک ہے . پوری دنیا میں ہسپانوی زبان چینی کے بعد دوسرے نمبر پربولی جانے والی زبان ہے .  عالمی ادب میں پہلا ناول سولہ سو پانچ میں ہسپانوی زبان ہی میں لکھا گیا تھا . بحرہ روم کے کنارے آباد اس ملک کا موسم بہت معتدل ہے.  سردیوں میں خوب بارشیں اور پورے سال میں تین ہزار گھنٹے سورج چمکتا ہے۔ زرعی پیداوار کے لئے  یہ صورتحال بہت موزوں ہے اور یہاں کی زمین بھی بہت زرخیز ہے .عربوں کی حکمرانی میں منظم نہری نظام کی وجہ سے دوسرا عالمی ذراعتی انقلاب یہیں سے شروع ہوا تھا .  آج بھی عالمی ضرورت کا پچاس فیصد زیتون کا تیل یہیں سے درآمد ہوتا ہے. مذہب کا اثر اتنا زیادہ کے تقریباً پندرہ فیصد آبادی اتوار کے دن چرچ ضرور جاتی ہے . پارک میں پوھنچے تو پیاس شدّت سے محسوس ہوئی. ادھر ادھر کسی اچھے ریستوران کی تلاش میں نظریں دوڑائیں تو مایوسی ہوئی . سنا تھا  کہ دنیا کا سب سے پہلا رستوران جو سترہ سو پچیس میں اسپین میں قائم ہوا آج تک مو جود ہے . وہ یقیناً اس پاس تو نہیں تھا ، مجبوراً  ایک بڑے سے درخت کے تنے سے ٹیک لگاے اور ٹھیلے سے خریدے مشروب ہاتھ میں تھامے ہم دور تلک پھیلے شہر اور سمندر کے نظارے سے لطف اندوز ہوتے رہے . خاصی بلند پہاڑی پر واقع یہ پارک سن انیس سو میں ایک رہائشی پروجیکٹ کے طور پر انٹونی گاوڈی  کی زیر نگرانی شروع ہوا اور  انیس سو چھبیس میں اسے  پبلک پارک کا درجہ دے دیا گیا. انیس سو چوراسی میں یونیسکو  نے اسے ماڈرنسٹ آرکیٹیکچر کی علامت کے طور پر عالمی ورثہ کا درجہ دے کر محفوظ کر لیا . سب سے منفرد بات یہ نظر آئ کہ کہیں کہیں پہاڑوں کو کاٹ کر مجسمہ سازی کے سے انداز میں ستونوں کو کچھ اس طرح سے صورت دی گئی تھی کے وہ زمین سے اگے کھجور کے درختوں جیسے لگتے تھے  . اونچائی پر ہونے کی وجہ سے پارک گوئل کو  شہر کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ صحت افزا مقام سمجھا جاتا ہے ۔  اس پارک میں ساٹھ مکانوں کی تعمیر کا منصوبہ تھا جنھیں  پیچیدہ راستوں اور تراشی ہوئی سیڑھیوں کی مدد سے ایک دوسرے سے ملایا گیا تھا .  پہاڑی مقام ہونے کی وجہ سے اس کام میں بہت سی رکاوٹیں موجود تھیں لیکن گاوڈی کے کمال فن نے اس ناممکن کو ممکن کر دکھایا تھا ، سارا پروجیکٹ اس طرح تعمیر کیا گیا تھا کہ نہ تو سورج کی روشنی میں کوئی رکاوٹ ہو اور نہ ہی نیچے  شہر اور سمندرکے نظر آتے خوبصورت مناظر نظروں سے اوجھل ہوں .  مرکزی دروازے کی سمت واپسی پر ہماری راے کچھ یہ تھی  کے  پہاڑی اونچائی سے شہر اور سمندر کے نظارے تو بے حد دلفریب ہیں لیکن وسیع علاقے پر پھیلا گاوڈی کا یہ تعمیراتی شاہکار کچھ زیادہ متاثر کن نہیں .  شاید اس لئے کہ ہم سمجھے تھے کہ یہ ایک سرسبزوشاداب باغ ہو گا . لیکن یہاں کچھ درختوں اور خال خال سبزے کے بیچ مٹیالے راستوں کے تعمیراتی سلسلوں تک جاتے بیزار کن مرحلے تھے  .  بکھری عمارتوں میں ٹوٹے ہوئے سرامک ٹائل سے بنے ڈیزائن منفرد لگے.  سرپینٹائن بینچ اور گاوڈی میوزیم کی تعمیر بھی  انوکھی تھی لیکن انھیں شاہکار یا معجزاتی کہنا ٹھیک بات نہ لگی . پھر بھی اتنی بلندی سے  بارسلونا کے کوچہ و بازار ، عمارتوں اور شہری ہما ہمی کو  ساحل سمندر سے گلے ملتے دیکھنا  ایک یادگار تجربہ ضرور رہا …… جاری ہے

|     |

لارمبلاس کی سیر ، پانچواں انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ La Rambla, A GLIMPSE OF BARCELONA, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 5

Narration by: Shariq Ali
November 15, 2019
retina

The Arabic word ‘Ramla’ means sandy riverbed.  This magnificent promenade began as a dried-out stream outside the walls of the Gothic Quarter

 

 

 

لارمبلاس کی سیر ، پانچواں انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

نیلے آسمان تلے سنہری دھوپ میں بے حد کشادہ فٹ پاتھ کے دونوں کناروں پر لگے سر سبز درختوں کی قطاریں اور کنارے پر ٹریفک کے لئے نسبتاً پتلی سڑک جس کے ساتھ فیشن ایبل دکانوں اور  پانچ ستارہ ہوٹلوں کے سلسلے ہیں . درمیان کی چوڑی پیدل گزرگاہ پر ادھر سے ادھر جاتے بھانت بھانت کے خوش لباس سیاح اور مقامی لوگ . خوش باشی ، آسودگی بلکہ فراوانی اور مسرت کی تصویر بنے.  پھولوں کی دکانیں  اور سیاحتی دلچسپی اور نوادرات سے بھرے اسٹال اور کھیل تماشے دکھاتے فنکار اور انھیں گھیرے مداح .   رونق کا یہ سلسلہ کوئی سوا کلو میٹر طویل ہے  .  ایک سرے پر کاتالونیا چوک اور دوسرا سرا  پورٹ ویل پر لگے کرسٹوفر کولمبس کی یادگار پر ختم ہوتا ہوا . تو یہ ہے بارسلونا کا مشہور زمانہ لا رمبلا . یا  ارد گرد کی دلکش گلیاں بھی شامل کر لیں تو لا رامبلاس. اس اندلسی نام میں موجود مشرقی گنگناہٹ کا سبب عرب ثقافت کی جھلک ہے . عربی میں رملہ دریا کے نرم ریتیلے ساحل کو کہتے ہیں.  تاریخی بارسلونا کی گوتھک آبادیوں سے ذرا باہر بالکل وہیں جہاں آج یہ گزرگاہ ہے پہلے ایک ندی بہا کرتی تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ سوکھ گئی.  پھر لوگ اس نرم ریتیلے ساحل پر چہل قدمی کے لیے آنے لگے .  ہم مرکزی پرومناڈ کے بازو سے نکلتی پیلے پتھروں کے فرش والی خوشنما اور پرپیچ گلی میں داخل ہوے جس کے دونوں جانب بنی تین منزلہ عمارتوں کے دریچوں میں پھولوں سے لدے گملے لٹک رہے تھے.  نچلی منزل پر ساتھ ساتھ چلتی دیدہ زیب دکانیں تھیں . کچھ دکانیں تو کسی مصورکا کشادہ سٹوڈیو بلکہ آرٹ گیلری  زیادہ معلوم ہوتی تھیں . ہم محض تانک جھانک کے لئے داخل ہوۓ تو دیوار پر لگی تصویر کے نیچے لکھا تھا انٹونی ٹیپیز سے متاثرہو کر . انیس سو ستائیس میں بارسلونا میں پیدا ہونے والے اس مصور کا شمار اسپین کے بہترین مصوروں میں ہوتا ہے.  وہ دو ہزار بارہ تک زندہ رہا.  تعلیم تو اس نے قانون کی حاصل کی لیکن تمام عمر انفرادی انداز میں پینٹ کرتے گزاری . شروع کے کام میں وین گوگ اور پابلو پکاسو کی جھلک نظر آتی ہے لیکن جیسے وہ آگے بڑھا اس کی انفرادی شناخت کام پر حاوی ہوتی چلی گئی ۔ بالکل غیرروایتی مصوری بلکہ بعض تصویروں پر سریلسٹک ہونے کا شبہ ہوتا ہے. وہ ایک جراتمند آدمی تھا .  انیس سو ستر میں ہسپانیہ کے ڈکٹیٹر فرانچسکو فرانکو  کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والا . ہم  اسی تنگ گلی میں کچھ اور آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک بیکری میں اس قدر خوش نما کیک شو کیس میں سجاے گئے ہیں کہ کوئی بد ذوق ہی انھیں کاٹ کر کھانے کا سوچ سکتا ہے .  یہ گلی بالآخر ہمیں گرینڈ تھیٹر کے مرکزی دروازے تک لے گئی جس کے سامنے ٹکٹ لینے والوں کی قطار تھی اور پیچھے بارونق چوک میں مقامی موسیقار اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے. کوئی ڈیڑھ گھنٹے کی پر رونق چہل قدمی بھوک  بیدار کرنے بلکہ خاصے اشتعال کا باعث بنی تھی . یوں تو مقامی ریستورانوں کے باھر لگے مینو میں پایلا کی رنگین تصویریں ہمیں للچانے کی ناکام کوشش کر رہی تھیں  جو یہاں کی قومی ڈش کا درجہ رکھتی ہے.   چاولوں ، ہری سبزیوں ، مختلف قسم کے سی فوڈ یا مرغی اور خرگوش کے گوشت جس میں  بعض اوقات لوبیا بھی شامل کر لیا جاتا ہے کا ملغوبہ یہ ڈش دیکھنے میں خاصی متاثر کن ہے لیکن انگریزی محاورے کے مطابق یہ ہماری چاے کی پیالی نہیں تھی .  قدم خود بخود گوگل میپ کی انگلی تھامے رمبلا ڈل روال پر واقع ہمالیہ پاکستانی ریستوران کی سمت بڑھتے رہے . پھر پردیس میں آلو چاٹ اور پاپڑ کے سٹارٹر اور گرم نان ، مٹر قیمہ ، تڑکا دال اور لاجواب لسی پر ختم ہونے والے جادو  نے کچھ دیر کے لئے لاہور کی گلیوں میں پوھنچا دیا  . واپسی میں میٹرو سٹیشن کی سمت بڑھتے ہوے ہم سوچ رہے تھے کہ بلا شبہ لارامبلاس کی سیر اس شہر کے ثقافتی مزاج سے تعارف کی حیثیت رکھتی ہے….. جاری ہے

|     |

انوکھی عبادتگاہ ، چوتھا انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ Sagrada Familia, A GLIMPSE OF BARCELONA, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 4

Narration by: Shariq Ali
November 9, 2019
retina

Antoni Gaudi was convinced that one day his architectural masterpiece would be the symbol of Barcelona, and he was right

 

 

انوکھی عبادتگاہ ، چوتھا انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

سگراڈا کے میٹرو اسٹیشن سے باہر آتے ہی دونوں جانب مشہور زمانہ کیتھیڈرل کو دیکھنے کی کوشش کی اور  ناکام ہوئے۔  پھر جیسے ہی مڑ کر بالکل  پیچھے دیکھا تو  پیلے  پتھروں سے  بنی کسی چھپے ہوے ڈائنوسار جیسی اونچی اور  بے حد منفرد عمارت کی اچانک موجودگی  نے حیرت زدہ کر دیا. وہ کسی عجوبے سے کم نہ تھی . دیدہ زیب اور باوقار .  کیتھیڈرل کا تقریباً  آدھا حصہ تو پیلے قدیم پتھروں سے بنا تھا.  بقیہ حصّے کا ڈیزائن بھی ویسا ہی لیکن نسبتاً نئے پتھروں سے جدید طرز میں تعمیر  شدہ اور کچھ حصّہ ابھی تک زیر تعمیر تھا .  عمارت بلا شبہ جدید اور قدیم تعمیراتی کمال کا حسین امتزاج تھی . ذہن پر زور ڈالنے کے باوجود مجھے اس طرز کی کوئی دوسری عمارت یاد نہ آ سکی .  پوری عبادتگاہ ایک بلند اور تکونے احرام کی مانند تھی جس میں سامنے کے رخ ایک سنگلاخ منقش اونچے سے محرابی دروازے کے ساتھ چاربلند مینار اور ارد گرد گول گھومتے مختصر راہداریوں جیسے عمارتی سلسلے جو آپس میں جڑے ہوئے تھے . تعمیر میں جابجا مذہبی نوعیت کی علامتیں اور مجسمے شامل کیے گئے تھے جس سے پورا تعمیراتی ماحول عیسائیت سے عقیدتمندی کا بھرپور اظہار بن گیا تھا . اس کتھیڈرل کے خالق انٹونیو گاوڈی کی عقیدت کا اندازہ تو اس بات سے لگا لیجیے کے وہ اپنے اسی شاہکار میں مدفون ہے . سو برس سے زیادہ عرصے سے زیر تعمیر نوکیلے میناروں والی اس عمارت کے تین واضح رخ دکھائی دے رہے تھے ۔ ایک قدیم  دوسرا جدید اور تیسرا زیر تعمیر . گرجا گھر  کے چاروں طرف دنیا بھر سے آے  اور مقامی عقیدتمندوں کا جمگھٹا تھا جو بڑی  عقیدت اور تعریفی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے . عمارت کو چاروں طرف سے گھوم کر دیکھ چکے اور تھکن محسوس ہوئی تو دروازے کے عین  سامنے چھوٹے سے باغ میں پڑی ایک بینچ پر بیٹھ گئے.  میں سوچنے لگا .  آٹھویں صدی عیسوی کے شروع سے لے کر پندرہویں صدی کے آخر تک کیٹلونیا پر تو نہیں لیکن موجودہ سپین اور پرتگال کے خاصے بڑے علاقے پر جو آئبیرین پینینسلا یا اندلس کہلاتا تھا مسلمانوں کی حکومت رہی ہے  ۔ وہ مسلمان روشن خیالی اور عروج کا زمانہ تھا اور اس قبضے سے بلا شبہ اس دور کے تاریک یورپ میں ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوئیں تھیں ۔ پہلی فتح تو بنو امیہ کے زمانے میں سات سو گیارہ صدی عیسوی میں طارق بن زیاد نے حاصل کی تھی جب وہ شمالی افریقہ کہ  کے ساحل سے سمندر عبور کرکے موجودہ جبرالٹر کے مقام پر اترا تھا .  یہ فتوحات عباسیوں کے دور میں بھی جاری رہیں اور مسلمان فرانس کی سرحدوں تک جا پہنچے تھے  لیکن وہاں فوجی مزاحمت کی وجہ سے وہ مزید پیش قدمی نہ کرسکے. ان کی عملداری اندلس تک محدود رہی جس کا مرکز قرطبہ تھا . تقریباً سات سو برس اس خطّے میں قیام کے باوجود موجودہ اسپین کی ثقافت پر مسلمان کوئی واضح مثبت اثر چھوڑنے میں ناکام رہے ہیں . ایک بڑی وجہ تو قرطبہ پر عیسائی فتح کے بعد تمام مسلمانوں کو زبردستی عیسای بنا لینا تھی . جو چند باقی بچے وہ حکومتی جبر کی تاب نہ لا سکے .  آج بارسلونا میں مذہبی عقیدے کے لحاظ  سے تیسری بڑی آبادی مسلمانوں کی ہے لیکن یہاں کوئی بھی قابل ذکر بڑی مسجد موجود نہیں. جس باغ میں ہم بیٹھے تھے اس کے بلکل سامنے ساکت پانی سے لبریز ایک حوض تھا جسے خوشنما درختوں اور جھاڑیوں نے گھیرا ہوا تھا اور ان میں رنگارنگ پھول کھلے تھے . ہم کچھ دیر وہاں بیٹھے سیاحوں کو دیکھتے رہے جو اندر جانے والوں کی لمبی قطار سے ہماری ہی طرح مایوس دکھائی دیتے تھے . پھر فیصلہ کیا گیا کہ ہم میں نہ اتنا صبر ہے  اور نہ وقت کہ ٹکٹ خرید کر اندر جانے والوں کی اس لائن کا حصّہ بنیں  ،  یہی سوچ کر کہ اب یہاں مزید وقت گزارے بغیر لا رمبلا کی جانب روانہ ہوا جاے . ہم نے قدم قریبی میٹرو سٹشن کی جانب بڑھا دیے ……….. جاری ہے

|     |

کیٹلونیا چوک ، تیسرا انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ Catalunya Square, A GLIMPSE OF BARCELONA, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 3

Narration by: Shariq Ali
November 4, 2019
retina

Though it is not a real tourist attraction and is merely the transport hub , many tourists start exploring Barcelona from this beautiful square

 

 

کیٹلونیا چوک ، تیسرا انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

جدید طرز کے ٹرین سٹیشن کی مصروف چہل پہل سے گزر کر سیڑھیاں چڑھیں اور باہر نکلے تو صبح کی روشن دھوپ اور خنک ہوا میں  ملبوس کیٹلونیا چوک ہماری نظروں کے سامنے تھا .  بےحد کشادہ میدان نما بڑا سا چوک جسے اٹھارہ سو انسٹھ میں الڈیفون سرڈا نے شہر کے سب سے اہم اور مرکزی مقام کی حیثیت  سے ڈیزائن کیا تھا. اس پچاس ہزار اسکوائر میٹر چوڑ ے چوک کے مرکز میں دائرہ نما گرینائٹ فرش کا میدان ہے جس کے ارد گرد لگے درختوں ، گھاس اور پھولوں کی کیاریوں کے ساتھ بنچیں رکھی ہیں.  جابجا نیو کلاسک طرز کے مجسمے اور فوارے لگے دکھائی دیتے ہیں .  چاروں جانب بے حد کشادہ سڑکوں پر ہر دم رواں ٹریفک اور کنارے پر  شہر کی بلندو بالا مرکزی تجارتی عمارتیں .  یہ کوئی سیاحتی مقام تو نہیں لیکن انڈر گراؤنڈ ٹرین اور بسوں کا مرکز ہونے کی وجہ سے بیشتر سیاح یہیں سے مختلف سمتوں میں بارسلونا کی سیر کا آغاز کرتے ہیں۔ یہاں کی مشہور زمانہ پیدل سیر لارمبلا کا آغاز بھی یہیں سے ہوتا ہے ۔ چھوٹی سی دکان کی خوش اخلاق ویٹرس سے آئس کریم لی اور قریبی بینچ پر بیٹھ گئے .  خیال آیا کہ انیس سو چھبیس میں اسی شہر کی ایسی ہی مصروف سڑک پر ایک حادثہ پیش آیا تھا ۔  ایک چوہتر سالہ بوڑھا ٹرام کی ٹکر لگنے سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا ۔ نام تھا اینٹونیو گاوڈی ۔ مشہور زمانہ ماہر تعمیرات جو کیٹالونیا کے شہر رئوس میں پیدا ہوا لیکن اس نے اپنا بچپن ، جوانی بلکہ تمام عمر بارسلونا ہی میں گزاری . ایک ایسا فنکار جس نے اس شہر کو اپنا کینوس بنا لیا اور اپنے تعمیراتی فن پاروں کے حوالے سے اس شہر سے اپنی دوستی کو دوام بخشا ۔ آج یونیسکو اسکی بنائی ہوئی سات عمارتوں کو عالمی ورثے کا درجہ دیتی ہے۔  سب سے زیادہ مشہور  سگراڈا فیملیا ہے.  یوں تو اس نے شروع میں آرٹ ڈیکو ، نیو گوتھک اور اورینٹل طرز تعمیر سے اثر قبول کیا لیکن پھر اس نے اپنی انفرادی شناخت انیسویں اور بیسویں صدی کے ماڈرنسٹ ماہر تعمیر کی حیثیت سے حاصل کر لی .  اس کے کارناموں میں پارک گوئل اور سگراڈا فمیلیا کا نیٹویٹی فساڈ عالمی شہرت رکھتے ہیں. کہتے ہیں وہ شروع میں مذہبی نہیں تھا لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ رومن کیتھولک عقیدے پر اس کا یقین مضبوط ھوتا چلا گیا اور اس کے فن تعمیر میں مذہبی علامتیں اور حضرت عیسی کی زندگی کے حوالے سے مجسمے اور تمثیلیں کثرت سے نظر آنے لگے . اس کا طرز تعمیر قدرت سے متاثر ہے اور وہ قدرتی مظاہر اور اُن میں عیاں اصولوں کو اپنے فن میں کچھ یوں شامل کرتا ہے کہ بعض لوگ اسے خدا کا منتخب کردہ ماہر تعمیر کہتے ہیں . بینچ  سے کچھ دور سنگ مر مر سے ڈھکے مرکزی فرش پر موسیقی اور بازی گری کا کمال دکھاتے فنکاروں کے گرد چھوٹے چھوٹے مجمعے تھے. ہم سیلفی لینے میں مصروف تھے کہ جوکر کا ماسک اور چوغہ پہنے میک اپ کیے ایک فنکار خاتون بلا اجازت ہمارے قریب آکر سیلفی میں شامل ہو گئیں۔ دو یورو ٹپ وصول کر کے وہ جیسے ہی رخصت ہوئیں تو سیلفی سٹک بیچتے گجرات سے تعلق رکھنے والے دو پاکستانی نوجوانوں نے قریب آ کر اردو میں بارسلونا کے جیب کتروں سے ہوشیار رہنے کی نصیحت کی . انہوں نے ہی ٹی ٹین ٹکٹ سے شہر بھر میں با کفایت سیر کا مشورہ دیا اور قریبی موجود ہمالیہ پاکستانی ریسٹورنٹ کے مزیدار کھانوں کا ذکر بھی کیا .  لنچ ابھی دور تھا اس لئے یہ طے پایا کے پہلے سگراڈا دیکھ لیا جاے.  پھر لا رمبلا کی سیر سے بھوک بیدار کر کے ہمالیہ ریسٹورنٹ میں دو پہر کے کھانے کا امتحان لیا جاے . یہ پروگرام ذہن میں لئے ہم میٹرو سٹیشن کی سیڑھیوں کی جانب بڑھے …….. جاری ہے

 

|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,728 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina