retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Monthly Archive: October 2019

آزادی ، دوسرا انشاء بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ Freedom, A GLIMPSE OF BARCELONA, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 2

Narration by: Shariq Ali
October 26, 2019
retina

The majority of Catalaunian voted for independence from Spain. Demonstrations  are still on for freedom

 

آزادی ، دوسرا انشاء بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

ہائی وے پر دوڑتی ہوئی ٹیکسی کی کھڑکی سے بارسلونا کے مضافات کا دور تک پھیلا منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔ مغرب کے جھٹپٹے میں کہیں کہیں اسٹریٹ لائٹس آن ہو چکی تھیں۔ چارلین کی کشادہ موٹر وے پر گاڑیاں ادھر سے ادھر دوڑ رہی تھیں۔ تین طرف پہاڑیوں سے گھری وادی میں زندہ شہر کی ہما ہمی سانس لے رہی تھی۔ درمیانی بلندی کی  کئی منزلہ صنعتی عمارتیں اور مضافاتی رہائشی بستیاں۔ بارسلونا فرانس کے قریب سپین کے صوبے کاتالونیا کا مرکزی شہر ہے۔  یہاں کے لوگ خود کو کیٹلونین کہتے ہیں کیونکہ ان کی تاریخ ، زبان اور ثقافت بقیہ سپین سے مختلف ہے ۔ وہ ایک آزاد ملک کا مطالبہ کرتے ہیں.  بیس منٹ کی تیز رفتار ڈرائیونگ کے بعد ہماری ٹیکسی ہالیڈے ان  کے گیٹ کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ ڈرائیور نے گوگل سرچ سے کیے اندازے سے بھی کم اجرت طلب کی تو اسے بھرپور ٹپ سے نوازا گیا اور وہ کھل اٹھا ۔  سامان اٹھاے رسپشن پر پہنچے تو استقبالیہ لڑکی نے مسکرا کر کارروائی مکمل کی ۔ دوسری منزل پر واقع کشادہ کمرہ تمام ضروری سہولیات سے آراستہ تھا۔  ایئرپورٹ سے لائی کھانے پینے کی چیزیں ٹیبل پر رکھ کر کھڑکی کا پردہ سرکایا تو ہوٹل کے ساتھ لگا روشنیوں سے جگمگاتا اور گاہکوں سے پر ریستوران نظر آیا.  جی مچل اٹھا۔  ایئرپورٹ سے خریدے سینڈوچیز پر جان بہت شرمندہ نظریں ڈالیں اور لفٹ سے نیچے اترکر برابر والے ریستوران کے مینیو کو بھوکی نظروں سے تکنے لگے۔  صرف ویجیٹیرین پیزا ہی ایمان خطرے میں ڈالے بغیر کھایا جا سکتا تھا۔ ٹیک اوے کمرے میں لایا گیا اور ڈنر سے فارغ ہو کر کتاب پڑھتے پڑھتے گہری نیند سو گئے.  صبح نہا دھو کر تازہ دم ہوئے اور ناشتے کیلئے ڈائننگ ہال میں پہنچے۔  جاپانی سیاحتی گروپ پہلے سے موجود تھا اور ہال چن من کن آوازوں کے جلترنگ سے گونج رہا تھا۔ مختلف قسموں کی چائے ، کافی ، جوسز ، ناشتے کے کثیر لوازمات اور پھلوں میں سے پسند کی چیزیں منتخب کی گئیں ۔ سب سے زیادہ مزیدار سپینش آملیٹ لگا جس کا ذائقہ آلو کے بھرتے سے ملتا جلتا تھا۔  صحت مند ناشتے سے فارغ ہو کر ہوٹل کے مین گیٹ سے نکلتے ہی دائیں ہاتھ پر پارک کے ساتھ ٹرین سٹیشن کی سمت چلے . گلیوں ، گھروں ، ٹریفک اور راہگیروں کے رویے میں کشادگی کا احساس تھا ۔ دس مِنٹ بعد مولینز ڈی رائے کے سٹیشن پوھنچے ۔ واجبی سا مصروف سٹیشن۔  دو تین اہلکار اور آٹھ دس مسافر۔ ہم بھی ٹکٹ لے کر مرکزی شہر جانے والی ٹرین کا انتظار کرنے لگے۔ چھوٹا سا پلیٹ فارم اور دو سمتوں میں لہرا کر جاتی ٹرین کی پٹڑی کے  ایک جانب سٹیشن کی عمارت اور دوسری جانب کسی کیک کی طرح کاٹے ہوئے  پہاڑ کی کوئی پانچ منزلہ عمودی چٹانی دیوار جو اونچائی پر بنے گھر کے سامنے بنے  لان کے جنگلے تک پہنچ رہی تھی ۔ کچھ دیر بعد ایک خوش نما اور جدید ٹرین پلیٹ فارم پر آکر رکی ۔ ہم کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ ٹرین مضافات سے گزر کر سٹی سنٹر کے مصروف سٹیشن کیٹیلونیا کی جانب بڑھنے لگی۔  درمیانی بلندی کی کاروباری اور رہائشی عمارتیں اور چھوٹے بڑے گھر۔ صاف ستھرے بازار اور سڑکیں۔ خوش حالی کا احساس لیکن دیگر یورپی شهروں جیسی امارت اور دبدبہ نہیں۔ آبادی کچھ کم کم ۔ کچھ سال پہلے مقامی حکومت نے اسپین سے آزادی کے ریفرنڈم کا اعلا ن کیا تھا جسے اسپین کی مرکزی حکومت نے غیر قانونی قرار دے کر روکنے کی کوشش کی تھی۔ ہزاروں گرفتاریوں کے باوجود نوے فیصد لوگوں نے آزادی کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔ اب دیکھیے یہ تنازعہ کیا رخ اختیار کرتا ہے۔ ایک اسٹیشن پر گاڑی رکی تو ایک بوڑھا آدمی کچھ سامان ہاتھ میں لیے ٹرین میں داخل ہوا۔  ٹرین چلتے ہی وہ ہر خالی سیٹ پر پیپرمنٹ کی ڈبیا اور مقامی زبان میں لکھے کارڈ رکھتا چلا گیا ۔  یہ بات بالکل واضح تھی کہ یہ بوڑھاضرورت مند ہے۔  ہم نے واپسی پر مدد کی تو اس نے شکر گزار نظروں سے دیکھا اور کہا گراسیاس۔ ٹرین کوئی آدھ گھنٹے کے بعد کاتالونیا کے مرکزی سٹیشن پر پہنچ کر کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

|     |

بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ ، خوش آمدید ، پہلا انشا Welcome, A glimpse of Barcelona, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 1

Narration by: Shariq Ali
October 19, 2019
retina

A city by the sea yet encircled by wooded mountains.  and praised for its gorgeous architecture

 

 

بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ ، خوش آمدید ، پہلا انشا، شارق علی ، ویلیوورسٹی

ڈیپارچر لاؤنج میں حسب معمول فلائٹ روانگی کے انتظار کا موسم ہے . میں اور آپ ایک نا آشنا شہر کے کوچہ و بازار، بسنے والوں ، معاشرت اور تاریخ سے متعارف ہونے کا اشتیاق دل میں لئے خاموش ہیں . کسی اجنبی سے ملاقات ٹہرے تو پہلے سے اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ یہ محبت کا آغاز ہو گا یا پچھتاوے کا.  ارد گرد بھانت بھانت کے سیاحوں کا ہجوم ہے . ادھر سے ادھر جاتے ، کرسیوں پر بیٹھے انتظار کرتے ، نیم دراز، کچھ فرش پر سوتے، دکانوں میں خریداری کرتے، ریستورانوں میں کھاتے پیتے یا محض فون کو  تکنے میں مصروف . ہر چہرہ ایک کہانی. ہر منظر زندگی کے  ڈرامے کی جھلک .  وہ سامنے دو نوجوان لڑکیوں کا آپس میں گلے مل کر دوستی کی تجدید .  ادھر کونے میں عمر رسیدہ رفاقت کا مسکرا کر محبوب شانہ تھپتھپانا  . شاید بدن کی بولی ہی ہم انسانوں کے جذبوں کی بنیادی ترجمان  ہے . ممکن ہے جب وسائل تسخیر ہو چکے ہوں، جنگیں ممکن نہ رہیں تو بدن بولی  مجسم محبت بن جاے .  خدشہ یہ ہے کہ انسانی تنگ نظری پہلے ہی کوئی کاری وار نہ کر جاے .  آفاقی محبت اور انصاف کی دریافت سے پہلے یہ دنیا ماحولیاتی یا ایٹمی تباہی کا شکار نہ ہو جاۓ . چلیے اٹھیے بارسلونا جانے والی ایزی جیٹ کی فلائٹ کی روانگی کا اعلان ہو چکا.   بوئنگ سیون تھری سیون کے طیارے میں یہ برابر کی سیٹیں خاصی آرامدہ ہیں . تو جناب آپ کو میرے ساتھ خوبصورت ساحل اور حیران کر دینے والے تعمیراتی حسن سے سجے شہر بارسلونا کو روانگی مبارک ہو . سپین کے صوبےکیٹلونیا کا دارالحکومت بارسلونا جو میڈیٹرینین کے حسین ساحل پر پیرونیز پہاڑیوں کے دامن میں آباد ہے .  انیس سو بانوے کے اولمپکس نے اس شہر کی آرائش میں بے حد اضافہ کیا تھا  . یہاں کے باغات اور ساحل سمندر کی از سرنو تعمیر اور آرائش نے اسے دنیا بھر کے سیاحوں کا محبوب شہر بنا دیا ہے  . آبادی کے لحاظ سے سپین کا دوسرا بڑا شہر ہے یہ . اس  کے کوچہ و بازار انیسویں صدی کے موڈرنسٹ ماہر تعمیرات انٹونیو گاوڈی کے کمال فن کی یاد دلاتے ہیں .  انہیں عمارتوں میں سے ایک مشہور زمانہ چرچ سگراڈا فمیلیا ہے جسے بارسلونا کی علامت کہا جائے تو غلط نہ ہو گا . لندن سے چلی یہ فلائٹ دو گھنٹے طویل ہے . آپ کچھ دیر آرام کر لیں . کیا کہا آئس ٹی پیئں گے آپ . یہ بجٹ ایئر لائن ہے جناب . نکالیے تین یورو .  دیکھیے پتہ بھی نہیں چلا اور اب طیارہ لینڈ کرنے کے لیے فضا میں چکر لگا رہا ہے .  نیچے دور تک پھیلا نیلا سمندر ہے اور کہیں کہیں  نظر آتے بحری جہاز . وہ دیکھیے ساحل سمندر کے کنارے ہلکی اونچی پہاڑیوں میں بکھری چھوٹی آبادیوں کے آثار . جہاز اور نیچے آیا تو پہاڑیوں کے دامن میں دور تک پھیلے کھیت اور سبزہ زار نظر آ نے لگے  . طیارہ موڑ مڑ کر لینڈنگ کے لئے مزید اترائی کرنے لگا تو سمندر کے کنارے آباد بار سلونا کی جدید بندرگاہ  کا منظر کھلا . اپنی اپنی برتھ پر لنگرانداز رنگ برنگے چھوٹے بڑے بحری جہازوں کی قطاریں اور اتارے ہوۓ کنٹینرز سے سجے وسیع میدان . پھر کچھ اورکھیت اور مکانات اور پھر رن وے سے پہلے گھاس کا میدان . پہیوں نے گڑگڑاہٹ کے ساتھ زمین کو چھوا اور اب ہم بارسلونا  ائیرپورٹ پر اتر چکے ہیں .  جہاز سے باہر ایک بس ہمارا انتظار کر رہی ہے . مسافر سامان سمیت بیٹھ چکے تو کوئی آدھا میل دور امیگریشن لاؤنج میں پہنچے . لائن زیادہ لمبی نہیں . تقریبا بیس منٹ بعد باری آئی . امیگریشن کے مرحلے کے بعد کسٹمز کے گرین  چینل سے گزر کر رخصتی ہال میں داخل ہوے . ہوٹل پوھنچنے سے پہلے رات کے کھانے کا انتظام بھی کر لیا جاے تو مناسب ہو گا کیونکہ بکنگ میں صرف ناشتے کا وعدہ ہے دیگر کھانوں کا نہیں .  اچھا کیا آپ نے ہال کے کونے میں بنے کیفے سے ٹونا سینڈوچ ، سلاد ، ڈينش پیسٹری اور پانی کی بوتلیں خرید کر . یہ ٹیکسی تو بہت آرام دہ ہے .  ائیرپورٹ کی حدود سے باہر نکلتے ہی ہائی وے پر فراٹے بھرنے لگی . کھڑکی سے باہر تو ذرا دیکھیے .  تین طرف ہلکی پہاڑیوں اور ایک جانب ساحل سمندر سے گھرا اسپین کا جدید شہر بارسلونا کہ رہا ہے خوش آمدید ………… جاری ہے

|     |

سائکل سوار ، گیارہواں اور آخری انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Cyclist , INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 10, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

Narration by: Shariq Ali
October 5, 2019
retina

Every Dutch person averagely owns two bikes and there is 32,000 km of cycle paths in Holland

 

 

سائکل سوار ، گیارہواں اور آخری انشاء ،  ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

پردہ سرکایا اور کھڑکی ذرا سی کھولی تو دھوپ کے ساتھ تازہ ہوا کے جھونکے نے کمرے کی خوابناکی رخصت کر دی . آج  ہالینڈ میں ہمارے قیام کا آخری روز ہے . فلائٹ شام چھ بجے کی ہے لیکن ہوٹل سے چیک آوٹ دوپہر بارہ بجے سے پہلے ضروری . پہلے تو اطمینان سے کمرے میں ہوف ڈورپ سے لاے کروزوں ، تازہ پھلوں اور کمرے میں موجود چاے اور کوفی سے ناشتے کا مرحلہ طے کیا گیا . پھر طویل رخصتی شاور کے بعد پیکنگ اور صحیح وقت پر چیک آوٹ اور سٹی ٹیکس کی ادائیگی سے فراغت پائی. سامان لگیج روم میں رکھوا کر ٹوکن لئے . ساڑھے تین بجے والی ائیرپورٹ شٹل بک کروائی اور ہوٹل سے کراۓ پر سائیکلیں لیں . ہدایات ملیں کہ صرف سائیکل ٹریک پر رہیں . ہیڈ فونز کا استعمال نہ کریں اور ہیلمٹ ضرور پہنیں . سائکلیں تو خوب لگتی ہیں یہ . تو پھر نکالیے اسٹینڈ سے اپنی نیلی اور میری سبز سائکل .  ہوٹل کے پیچھے وسیع مرغزار  کی سیر کو چلیں . جی نہیں آپ کا ان دو ڈچ لڑکیوں سے مسلسل قریب سائکل چلانا ٹھیک نہیں . بھائی وہ دونوں سہیلیاں ذاتی پکنک پر نکلی ہیں تیز دھوپ میں کیژول لباس پہنے . آپ بس میرے ساتھ سیر پر اکتفا کیجیے . وہ دیکھیے دائیں جانب کی جھیل میں کھلے کنول کے دل نشیں پھول .  دنیا بھر میں سائیکل سواری میں سر فہرست شہر تو کوپن ہیگن ہے لیکن ایمسٹرڈیم کا نمبر دوسرا ہے . یوں لگتا ہے سائکل سواری اس ملک میں رہنے والوں کی نفسیات کا حصّہ ہے . اس قدر مقبولیت کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کے پورا ملک اس مشغلے کے لئے ایک بڑا سا سر سبز اور سازگار میدان ہے . پہاڑی نشیب و فراز نہ ہونے کے برابر ہیں  . اب تو یہاں الیکٹرک سائکلیں یا  ای بائیکس بھی بہت مقبول ہو رہی ہیں .  خاص طور پر بوڑھے لوگوں میں . کیونکہ یہ آسان اور کم خرچ سفر ممکن بناتی ہیں.  ہے تو حیرت کی بات مگر سچ ہے کہ صرف ایمسٹرڈیم میں روزانہ دو سو سائیکلیں چوری ہوتی ہیں. اسی لئے بہت سے لوگ کام پر آنے جانے کے لیے پرانی سائیکلیں استعمال کرتے ہیں .  لیکن آپ کی ان سہیلیوں کی طرح چھٹیوں میں سیر کے لئے نئی نویلی سائکلوں پر نکلتے ہیں . دونوں جانب گھنے درختوں اور گھاس سے ڈھکے میدانوں میں جا بہ جا بکھری چھوٹی جھیلوں کے بیچ سے گذرتے اور  بل کھاتے سائکل ٹریکس بالاخر ہمیں ایک بڑی سی  جھیل کے ریتیلے ساحل پر لے آے ہیں. یوں لگتا ہے جیسے ہم سمندر کے کنارے آ پوھنچے ہوں .  غور و فکر کے لئے کس قدر حسین جگہ ہے یہ . ہو سکتا ہے اسپائی نوزا  نے ایسے ہی خوبصورت گوشوں میں بیٹھ کر انسانی مسرت اور اخلاقیات کے فلسفے  پر غور و فکر کیا ہو . کیا کہا . آپ متوجہ نہ تھے ؟ یورپی ساحل کی بلخصوص زنانہ چہل پہل سے آپ کی توجہ فلسفے کی طرف موڑنا کوئی آسان کام تو نہیں . اسپائی نوزا  کے پرتگالی یہودی بزرگ مذہبی منافرت سے بھاگ کر ہالینڈ میں آباد ہوے تھے .  وہ سولہ سو بتیس میں ایمسٹرڈیم  میں پیدا ہوا اور صرف سینتالیس سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گیا . پھر بھی اس کا شمار سترھویں صدی کے عظیم فلسفیوں میں ہوتا ہے . فکری انداز بے حد آزاد خیال تھا . جب اس نے کہا کہ کائناتی نظام خدا کے وجود سے جڑا ہوا ہے اور بائبل اور تورات صرف تمثیلی وضاحتیں ہیں تو یہودی عالموں بلکہ خاندان والوں نے بھی اسے صرف تیئیس سال کی عمر میں مذہب اور گھر سے بے دخل کر دیا . وہ شیشے کے عدسے گھس کر روزی کماتا رہا . اس کے خیال میں قدرت اور کائنات ہی وجود الہی ہیں. . گویا وہ وحدت الوجود کا حمایتی ہے. وہ کہتا ہے کائنات میں نہ خیر ہے نہ شر بلکہ محض وجود ہے.  یہ انسانی ذہن کی کارستانی ہے جس نے الفاظ کی مدد سے صحیح اور غلط کا تعین کر رکھا ہے . اس کی راے میں انسان اپنی فطرت کے تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہو تو وہ آزادی اور خوشی سے قریب تر ہو جاتا ہے اور جب وہ دوسرے لوگوں یا سماج  کے زیر اثر زندگی گزارتا ہے تو وہ حقیقی مسرت سے دور ہو جاتا ہے . مسرت اپنے بنائے ہوئے خیر کے تصور یا خدا سے قریب تر ہونے کے سوا کچھ اور نہیں . چلیے اٹھیے اب سائکلیں اٹھا کر واپسی کی فکر کریں . کیا کہا بھوک سے بے حال ہیں آپ . فکر نشتہ .  میں نے ہوٹل سے متصل بولنگ ارینا میں ایک گھنٹے کا بولنگ مقابلہ اور ساتھ ہی لنچ کا بہترین انتظام کر رکھا ہے آپ کے لئے . پھر ہوٹل پوھنچ کر سائکلیں واپس اور سامان اٹھا کر شٹل سروس میں ائیرپورٹ روانگی…….. اختتام

|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,728 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina