retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Monthly Archive: September 2019

دراز قد ، دسواں انشا ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Tall, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 10, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

Narration by: Shariq Ali
September 29, 2019
retina

Holland is the country with the tallest average human height in the world and besides, it is so beautiful

 

دراز قد ، دسواں انشا ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

گروسری سٹور سے  باھر آے تو سامنے چوڑے کونکریٹ ٹائلوں سے ڈھکا کشادہ میدان تھا اور پس منظر میں شاپنگ سنٹر کی کئی منزلہ جدید کتھئی رنگ کی عمارت.  اوپری منزل پر رہائشی فلیٹوں کی قطار جن کی کھڑکیوں سے تازہ پھولوں سے لدے گملے لٹک رہے تھے . گروسری سٹور میں پھلوں کی افراط دیکھ کر یاد آیا تھا کہ ہالینڈ چھوٹا سا ملک ہونے کے باوجود دنیا بھر میں غذائی اشیا کی ایکسپورٹ میں دوسرے نمبر پر ہے . جا بجا سجے پھولوں کو دیکھ کر ٹیولپ کے حوالے  سے اس کی عالمی شہرت کا خیال آیا . یاد رہے ٹیولپ مقامی پھول نہیں بلکہ ترکی سے لایا سلطنت عثمانیہ کا تحفہ ہے جسے ولندیزیوں نے بہت پیار سے پال پوس کر اپنایا اور بام عروج پر پوھنچایا ہے.  آج ہالینڈ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ٹماٹر اور ٹیولپ ایکسپورٹ کرنے والا ملک ہے.  کچھ فاصلے پر میدان کے ایک کونے میں سڑک کا رخ کیے سات میٹر اونچا المونیم کے چھوٹے بڑے گولوں کی مدد سے فنکارانہ انداز میں بنایا گیا آدمی نما روبوٹ کا مجسمہ نظر آیا.  اسے ہوف ڈورپ کی علامت سمجھا جاتا ہے. ایک مقامی فنکار کا اپنے ٹاؤن کے لئے  فنکارانہ خراج تحسین . شاپنگ سینٹر میں داخل ہوے تو سجی سجائ دکانیں ویسی ہی تھیں جیسی تمام جدید شہروں میں ہوتی ہیں لیکن کشادگی اور انتظام ایسا کہ خریداروں کی بھاگ دوڑ کہیں نظر نہیں آئ . ہر طرف سکون اور شائستگی بھرا اطمینان تھا. یہاں میدان میں ہرجمعہ کو مقامی کسانوں کی ہفتہ وار مارکیٹ لگتی ہے . آرزو تو ہماری بھی تھی کے گھنٹہ دو گھنٹہ پھلوں ، سبزیوں ، پھولوں، مچھلی اور پنیر سے بھرے اسٹالوں پر گزارتے لیکن کل واپسی کی فلائٹ کا ٹائم اس کی اجازت نہ دیتا تھا. ارے وہ دیکھیے ترکش حلال ریستوران . چار چار سفید کرسیوں اور خوبصورت میز سے آراستہ اور واجبی سا مصروف. جا بجا رکھے ان ڈور پلانٹس کے گملوں نے پورا ماحول شاداب کر دیا ہے .  دھیمی مغربی موسیقی اور دیواروں پر آویزاں ریمبراں کی خوبصورت تصویروں کے فوٹو بھی . کونے میں کیش کاؤنٹر جس کے سامنے شیشے کے شوکیس میں کھانے پینے کی اشیا پرکشش انداز میں سجی ہوئی ہیں . کاؤنٹر پر کھڑی قدرے دراز قد اوردلکش صورت میزبان کو کھانے کا آرڈر ضرور دیجیے لیکن گفتگو کو بلا وجہ طول دینا مناسب نہیں.  یقین مانیے یہ حسین مسکراہٹ اور دکاندارانہ خوش مزاجی اس کے روز کا معمول ہے اور آپ کی مردانہ وجاہت سے اس کا کوئی تعلق نہیں . چلیے اس کونے کی ٹیبل پر بیٹھ کرمرغی کے ابلے ٹکڑے بھرے سیڈڈ بریڈ برگر ، سوپ اور سلاد کا انتظار کیے لیتے ہیں . جہاں تک ویٹریس کے آپ سے زیادہ لمبے ہونے  کے ملال کی بات ہے تو حوصلہ رکھیے ولندیزی دنیا میں سب سے زیادہ درازقد قوم ہیں .یہ مختلف ثقافتوں کو اپنے اندر سمولینے اور اپنی آزاد خیالی کی وجہ سے مشہور ہیں . مثال کے طور پر ہم جنس شادی کو قانونی حیثیت دینے والا یہ دنیا کا پہلا ملک ہے . بعض حالات میں خود اپنی مرضی سے اپنی جان لینا غیر قانونی نہیں .  اگر یہاں کسی کے پاس پانچ گرام سے کم کی چرس برامد ہو تو سوائے ضبطی کے کوئی اور سزا نہیں. یہ یورپی یونین قائم کرنے والے چھ ابتدائی ملکوں میں شامل تھا  . دیوار پر لگی ریمبراں کی مشہور زمانہ پینٹنگز کے فوٹو تو ذرا دیکھیے . جی کیا کہا.  اس کا تعارف؟.  وہ سولہ سو چھ میں ہالینڈ کے شہر لیڈن میں پیدا ہوا اور تریسٹھ سال کی عمر میں ایمسٹرڈیم میں دنیا سے رخصت ہوا .وہ سامنے لگی نائٹ واچ اور مشہور زمانہ سلف پورٹریٹ اس کی وجہ شہرت ہیں . شروع جوانی ہی میں اس کی ایک آرٹسٹ کی حیثیت سے  خداداد صلاحیت سب پر ظاہر ہو گئی تھی . پچیس سال کا ہوا تو ایمسٹرڈیم آ کر پورٹریٹ بنانے کا کام پروفیشنل انداز میں شروع کیا اور خوب نام اور پیسہ کمایا …….. جاری ہے

|     |

مہم جو ، نواں انشا ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Explorer, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 9, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

Narration by: Shariq Ali
September 23, 2019
retina

Dutch explorer Abel Tasman expeditions led him to remote places such as Tasmania, New Zealand and more

 

 

مہم جو ، نواں انشا ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

ایمسٹرڈیم سینٹرل سے واپسی تک رات گہری ہو چلی تھی . ہوٹل پوھنچے تو تھکن اتنی زیادہ تھی کہ بغیر کچھ کہے سنے سو گئے. اگلے دن آنکھ کھلی تو دن چڑھ چکا تھا.  نہا دھو کر تیار ہوئے.  ہلکا پھلکا ناشتہ کیا اور ہوف ڈورپ سینٹرم کی سیر کا ارادہ لیے ہوٹل سے نکلے. بل کھاتی فٹ پاتھ پر چلتے ہوے ہائی وے کے نیچے سے گزرتی پیدل انڈر پاس سرنگ سے گزر کر میٹرو بس کے قریبی اسٹاپ پر پوھنچے . پانچ منٹ بعد لمبی سی میٹرو بس آ کر رکی تو ٹریول کارڈ پینل پر ٹچ کر کے سوار ہوے. . راستے بھر کھڑکیوں سے اعلی درجے کے رہائشی مکانات نظر آتے رہے . سامنے دلکش لان اور پھولوں سے لدی کیاریاں. مرکزی چوک کے بیچ میں پانی سے بھرا نیلا حوض جسے ہر سمت سے جھکتے اور جلترنگ بجاتے فوارے مسلسل متلاطم رکھے ہوے تھے . جدید سڑکیں، سرخ سایکل ٹریک اور فٹ پاتھ کے ساتھ لگے یکساں قامت اور تروتازہ درخت . کچھ قدرتی جھیلیں اور بیشتر تعمیر کی گئی نہریں . یقین ہی نہیں آتا تھا کہ ہوف ڈورپ کا یہ سارا علاقہ سو ڈیڑھ سو سال پہلے زیر آب تھا . ساحلی پشتے یا ڈایکس تعمیر کر کے پانی  پیچھے دھکیلا گیا تو یہ جھاڑیوں سے ڈھکا کیچڑ بھرا میدان بن گیا . پھر مسلسل چلتی پن چکیوں اور اب ماڈرن انجینیرنگ نظام سے نہروں کے ذریعے نکاسی آب مسلسل قائم رکھ کر اس سارے علاقے کو  خشک کیا گیا تو یہ زرخیز زمین بن کر رہائش اور زراعت کے قابل بن سکا . جب ملک کا ایک تہائی حصّہ سمندر سے نیچے ہو تو ملک کی بقا اور خوش حالی کے لئے ایسے ہی جذبے اور انجینیرنگ کی ایسی مہارت درکار ہوتی ہے . یہ بہادر قوم ایک ایک میٹر زمین کے لئے سمندر سے لڑتی ہے .دور اندیش اتنی کہ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی سے کمایا ہوا بیشتر سرمایا ایسے ہی ڈائیکس کی تعمیر پر خرچ کیا گیا اور یوں ہالینڈ کو ایک زرخیزاور خوش حال ملک کی شاخت ملی . کوئی پانچ سٹاپ گزرے ہوں گے کے ہوف ڈورپ سینٹرم آ گیا .  اسٹاپ پر اترتے ہی مشہور مقامی گروسری اسٹور ڈرک کا دروازہ وہ دیکھیے بالکل سامنے . کیا خیال ہے کچھ تازہ پھل اور خشک میوے نہ خرید لئے جائیں . کس قدر با رونق اور بھرا پرا اسٹور ہے یہ . تمام چیزوں خاص طور پر پھلوں کا معیار تو ذرا دیکھیے . جی خوش ہو گیا . اچھا کیا آپ نے یہ تازہ آڑو، سیب اور چیریز خرید کر . اگلے دن کے ناشتے کے لئے کروزوں، اخروٹ اور فلیورڈ دہی کا انتخاب بھی کر لیجیے  . چلیے آپ نہ تھامیے گا میں یہ شاپنگ بیگ ھاتھ میں تھامے ہوف ڈورپ کی سیر کر لوں گا . مجھے بھی ایبل تسمان جیسا مہم جو سمجھ لیجیے کچھ دیر کے لئے . کیا کہا آپ واقف نہیں ان صاحب سے .  چلیے تعارف میں کروانے دیتا ہوں .  وہ سولہ سو تین میں ہالینڈ میں پیدا ہوا تھا .  جوان ہوا تو ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت کی .  ترقی کرتے کرتے بحری کمانڈر بن گیا. سولہ سو بیالیس میں ایک مہم کا سربراہ بنایا گیا جس کا مقصد مشرق اور جنوب میں نا معلوم دنیاوں کی تلاش تھی.  اس بحری مہم کے لیے اسے دو چھوٹے بحری جہاز دیے گئے.  وہ انڈونیشیا کی بندرگاہ بٹاؤیہ جو آج کل جکارتہ کہلاتا ہے،  سے اس مہم کے لیے ساتھیوں سمیت روانہ ہوا . مشرق کی طرف مسلسل سمندری سفر کرتے ہوئے وہ انجانے زمینی کنارے تک پوھنچے جس پر بلند و بالا پہاڑ تھے . آسٹریلیا کے نزدیک یہ جزیرہ آج تسمان کی نسبت سے تسمانیہ کہلاتا ہے. پھر وہ سمندر میں مزید آگے بڑھتے ہوے بالآخر نیوزی لینڈ کے دونوں جزیروں کو دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے. نیوزی لینڈ پر تسمان کی یہ مہم جوئی ماوری اور یورپی تہذیبوں کے آمنے سامنے آنے کی کہانی ہے. بدقسمتی سے ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والی یہ تہذیبیں بلاخر تصادم اور تشدد کے راستے پر چل نکلیں تھیں . تو گویا دلچسپ لگا آپ کو یہ تعارف. چلیے ہم اور آپ بھی شاپنگ کے ساتھ صحتمند لنچ کے لئے اچھے سے ریسٹورنٹ کی تلاش کی مہم کا آغاز کرتے ہیں …………… جاری ہے

|     |

وونڈل پارک ، آٹھواں انشا ، ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Vondelpark, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 8, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

Narration by: Shariq Ali
September 18, 2019
retina

Named after an outspoken poet, this centrally placed largest park in Amsterdam welcomes about 10 million visitors each year

 

وونڈل پارک ، آٹھواں انشا ، ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

ٹھیک کہا آپ نے ،  ٹریول کارڈ زیادہ استعمال نہ کیا تو پیسے وصول نہ ہوں گے  . چلیے اس سامنے کھڑی ٹرام  میں جس کے ماتھے پر وونڈل پارک لکھا ہے سوار ہو جاتے ہیں . ایمسٹرڈیم کا سب سے بڑا ، مشہور اورخوبصورت پارک . یوں تو آٹھ لاکھ آبادی کے اس شہر میں تیس  سے زیادہ پارک ہیں لیکن وونڈل پارک اپنی مثال آپ ہے . چلتی ٹرام کی کشادہ کھڑکیوں سے بارونق سڑکوں کے منظر بھی خوب تھے . ٹرام سے اترنے کے بعد دس منٹ کا پیدل راستہ ہے پارک کے مرکزی گیٹ تک . چلیے گوگل میپ فون پر لئے آپ آگے اور میں پیچھے . ارد گرد قرینے سے بنے مکانات اور پھولوں بھری کیاریوں کے سامنے فٹ پاتھ پر چلنا بہت خوشگوار ہے . وہ  دیکھیے سڑک کے کنارے قطار سے کھڑی کاروں کے پیٹرول بھرنے کی کھڑکی سے جڑے  پلگس اور تار جو فٹ پاتھ کے ساتھ بنے  پوسٹ باکس سے ملتے جلتے چارجنگ سٹیشنوں سے بجلی حاصل کر رہے ہیں .  بجلی کی کاروں کا استعمال پورے یورپ میں بڑھ رہا ہے.  رات بھر چارج ہو کر یہ کئی دنوں کے استعمال کے قابل ہو جائیں گی . نہ شور نہ دھواں . کم خرچ بالا نشین . لیجیے ہم پارک کے مرکزی گیٹ تک پوھنچ گئے .  لوہے کے جنگلے سے بندھی سایکلوں کی تعداد تو ذرا دیکھیے . آج جیسی نکھری دھوپ نکلی ہو تو بہت سے لوگ یہاں کا رخ کرتے ہیں . یہ جو خوش اندام اور کم لباس گوری میمیں آپ کو اس پارک میں کثرت سے نظر آ رہی ہیں اور جن میں آپ لا شعوری طور ضرورت سے زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں ان کی یہاں آمد کی وجہ واللہ آپ نہیں سورج ہے  . یہ حسینائیں جھیل کنارے پارک کے سبزہ زار میں دھوپ تلے لیٹ کر جلد سنولانے کے لئے یہاں آئ ہیں .آپ اپنی توجہ چہل قدمی کرتے یا کتے ٹہلاتے بوڑھوں ، جاگنگ کرتے نوجوانوں یا سامنے کیفے میں چاے ، کوفی یا مسلم ممنوع مشروبات کا گلاس تھامے بھانت بھانت کے سیاحوں پربھی کر سکتے ہیں .  چھوٹی سی مصنوعی جھیل عبور کرتے لکڑی کے تختوں سے بنے پل پر بکھرے بے شمار پیلے پتوں کا حسن تو ذرا دیکھیے . جا بجا  لگے خوبصورت اور نایاب درختوں کا بھی جواب نہیں. وہ دیکھیے پیدل گزرگاہوں کے پاس سرخ پھولوں سے ڈھکی دائرہ وار کیاریوں کے بیچ ایک بڑا سا سنگی مجسمہ.  یہ ہے جوسٹ وین ڈن وونڈل . یہ پارک اسی کے نام منسوب ہے.  پیدا تو وہ سن پندرہ سو ستاسی میں جرمنی کے شہر کولون میں ہوا تھا لیکن مذہبی منافرت کے شکار ہو کر اس کے خاندان کو ہجرت کر کے ایمسٹرڈیم میں مستقل آباد ہونا پڑا .  اس کے والد یہاں ہوزری کا کامیاب کاروبار جمانے میں کامیاب ہو گئے تھے  . والد کی خواہش تو یہ تھی کے وہ کاروبار میں ہاتھ بٹاے  لیکن وہ نوعمری ہی سے ایمسٹرڈیم کے شاعروں اور لکھاریوں میں اٹھنے بیٹھنے لگا . حلقے کا نام تھا وائٹ لیونڈرز ۔ یہاں اسے بہت سے مایاناز لکھاریوں سے ملنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا . پھر وہ شاعری اور ڈرامہ نویسی کی سمت چل نکلا. والد کی وفات کے بعد اس نے اپنی محبوبہ ماریہ سے شادی کی جس نے بخوبی کاروبار سنبھالا.  یہ محبت اور رفاقت پچیس سال تک قائم رہی . روز مرہ کی ذمہ داریوں سے بے نیاز وہ اپنے فن کی طرف متوجہ رہا. اس نے جرمن ادب پاروں کو ولندیزی میں ترجمہ کر کے  ادبی صلاحیت میں اضافہ کیا . پہلا ڈرامہ سولہ سو دس میں لکھا جو دو سال بعد سٹیج ہوا . بنیادی خیال ہجرت کا غم تھا  . اس نے یہودیوں کی مصر سے ہجرت کے پس منظر میں اس انسانی المیے کو بیان کیا.  دھیرے دھیرے تحریروں میں صاحب اقتدار طبقے کے خلاف بغاوت کا رنگ غالب آتا چلا گیا.  سولہ سو پچیس میں ایک باغیانہ ڈرامہ اسٹیج کیا تو بہت سیاسی ہلچل مچی اور اسے روپوش ہونا پڑا . وہ ہالینڈ بلکہ پورے یورپ میں باغی لکھاری کے طور پر مشہور ہوا  . مقدمہ چلا لیکن مہربان مجسٹریٹ نے صرف مالی جرمانہ عائد کر کے رہا کر دیا .  اس کی بیوی اور دو بچوں کا انتقال ہوا تو اس نے اپنی شاہکار المیہ نظمیں لکھیں . مذہبی جبر کے خلاف لکھی گئی اس کی باغیانہ نظمیں اور ڈرامے آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ………….. جاری ہے

|     |

دام اسکوائر، ساتواں انشا ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Dam square , INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 7, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

Narration by: Shariq Ali
September 14, 2019
retina

A bustling town square in Amsterdam, surrounded by notable buildings is the most well-known and important location in the city

 

 

 

دام اسکوائر، ساتواں انشا ، ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

کنال کروز سے فارغ ہو کر دام اسکوائر کی جانب چلے . راستے کے ایک جانب ریستورانوں کی ویسی ہی بہتات تھی جیسے سامنے  فٹ پاتھ پر سیاحوں کی یا ساتھ گزرتی مصروف سڑک پر ٹراموں اور تیز رفتار ٹریفک کی . بھئی میرا تو بھوک سے برا حال ہے . یہ سامنے لبنانی کیفے کیسا رہے گا . بیٹھنے کی جگہ بھی مناسب ہے. حلال شیش کباب ، دال کا سوپ اور بہت سی میڈیٹیرانیان سلاد . ہاتھ ذرا ہولا رکھیے گا . کچھ وقفہ دے کر ساتھ کی گلی میں تازہ پھلوں اور سبزیوں کا فوری نکالا جوس بھی پیئں گے . آپ کو سفر میں تازہ دم رکھنا بھی تو ضروری ہے . کھانے سے فارغ ہو کر کوئی فرلانگ بھر چلے ہوں گے تو دام اسکوائر آ گیا  . ایک طرف شاہی محل کی بڑی سی شاندار عمارت اور  سامنے کشادہ میدان نما چوک جو کبوتروں اور سیاحوں سے پر ہے. میدان کے ارد گرد  بہت سی دیگر جدید و قدیم متاثر کن عمارتیں اور ان کے درمیان سے شروع ہوتی گلیاں جن میں آمنے سامنے دنیا بھر کی فیشن ایبل دکانوں سے بھرے بازار ہیں . یاد رہے کہ  ایمسٹرڈیم کی زمین کبھی کیچڑ بھرا میدان ہوا کرتی تھی اور یہاں  عمارتیں براہ راست زمین پر بنانا ممکن نہیں تھا .  پہلے لکڑی کے ستون گہرای تک گاڑے جاتے تھے پھران پر عمارت کھڑی کی جاتی تھی . دام اسکوائر کا یہ کئی منزلہ شاندار شاہی محل ساڑھے تیرہ ہزار لکڑی کے ایسے ہی ستونوں پر تعمیر کیا گیا ہے . سترھویں صدی میں ایک عالمی طاقت بن کر اس محل کی تعمیر پر اتنی دولت خرچ کرنا ان گمنام بحری مہم جوؤں کی وجہ سے ممکن ہوا جو فار ایسٹ اور ایشیا جانے والی انفرادی مہمات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے. لیکن جو علم اور تجربہ ان کی ناکامیوں سے حاصل ہوا وہ آنے والے دنوں میں ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے کارآمد ثابت ہوا۔ ہسپانوی،  پرتگالی اور پھر برطانوی  کیونکے مصالحوں کی تجارت اور کالونیاں بنانے میں پہلے ہی سے بہت کامیاب تھے اس لیے ہالینڈ نے حکومتی سطح پر یہ فیصلہ کیا کہ  قانونی طور پر ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کو فوج بنانے ، جنگ کرنے ، غلام بنانے اور تجارتی مونوپولی کے مکمل اختیارات دے دیۓ جایں تاکے ان کی کامیابی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو . یہ قانونی تحفظ  ہالینڈ کی معاشی ترقی میں سب سے اہم سنگ میل ثابت ہوا . ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی ہالینڈ کا ایسا معاشی انجن ثابت ہوئی جس کے ثمرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں . اختیارات کے علاوہ اس کمپنی کو بہت سے سرمائے کی بھی ضرورت تھی . ہالینڈ کے لوگوں نے سرمایہ اکٹھا کرنے کے لئے ایک منفرد طریقہ ڈھونڈا جو آج کی دنیا کے سرمایا دارانہ نظام کی بنیاد ہے.  ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ایمسٹرڈیم میں دنیا کی پہلی سٹاک مارکیٹ قائم کی یعنی وہاں کوئی بھی شہری آکر کر اس کمپنی کے حصے یا شیرز خرید سکتا تھا. عوامی سرمایہ کاری کی یہ پوری دنیا کی تاریخ میں پہلی مثال ہے . دیکھتے ہی دیکھتے ایمسٹرڈیم اور پورے ہالینڈ کے شہری بلکہ بہت سے دیگر یورپین شہریوں نے بھی آکر ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی میں سرمایا کاری کی . اس طرح آج کے حساب سے ایک سو دس ملین ڈالر کی رقم اکٹھی ہوئی . پہلے انڈونشیا زیر نگین ہوا اور وہاں کے بے گناہ مقامی لوگوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا . پھر منافع اور لالچ کا یہ خونی سفر ایشیا، افریقہ اور امریکا کے کئی ممالک تک جا پوھنچا . خدا خیر کرے . وہ خوش بدن مختصر لباس سائکل سوار میم آپ کے پہلو کو ذرا سا چھو کر گزر گئی ہے کیونکہ آپ جہاں کھڑے تصویر اتار رہے ہیں وہ فٹ پاتھ نہیں سائکل ٹریک ہے . آٹھ لاکھ آبادی اور نوے جزیروں پر مشتمل اس شہر میں کوئی دس لاکھ سائکلیں تو ہوں گی اور ساٹھ فیصد لوگ سائکل سوار . لگتا ہے تھک گئے ہیں آپ ورنہ یہاں کے بازاروں کی سیر کرواتا . خاص طور پر پھولوں، پنیر اور قدیم نوادرات کے بازار …………….. جاری ہے

|     |

کمپنی ، چھٹا انشا ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Dutch East India Company, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 6, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

Narration by: Shariq Ali
September 7, 2019
retina

Enjoy the Amsterdam canal cruise and story of beginning Dutch East India in this episode

 

 

 

کمپنی ، چھٹا انشا ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

 ایمسٹرڈیم سنٹرل ٹرین سٹیشن کی عمارت کے سامنے کا رخ کسی محل کی طرح شاندار ہے . کلاک ٹاور کے نیچے کھڑے ہو کر سامنے دیکھیے تو آتی جاتی ٹراموں ، پیدل سیاحوں کی چہل پہل اورسامنے نظر آتی نہروں کے اوپر سے گذرتے پلوں پر رکھے رنگا رنگ پھولوں بھرے گملوں کا حسن مسحور کر دیتا ہے .  نہروں میں تیرتی، ادھر سے ادھر جاتی مختلف کمپنیوں کی رنگ برنگی چھوٹی بڑی بوٹس منظر کو مزید دلکش بنا دیتی ہیں.  آن لائن خریدے ہوۓ لورز کینال کروز کے ٹکٹ پر پانچ بجے جیٹی پر پوھنچنے کی ہدایت لکھی ہے .ابھی تو آدھا گھنٹہ باقی ہے . وہ دیکھیے سامنے ہی تو ہے لوورز کروز کی جیٹی . چلیے اس وقفے میں کچھ یادگار تصویریں کھینچ لی جایں اور ذرا دیر کو اس پل پر کھڑے ہو کردور تک نظر آتے شہر کی شاندار عمارتوں اور اس ملک کی تاریخ پر سرسری نظر ڈال لی جاے . ہالینڈ ایک چھوٹا سا ملک ہے.  کہتے ہیں  کہ کسی کھلے میدان میں اونچی سی کرسی پر کھڑے ہو کر اگرچاروں طرف دیکھا جاے تو اس ملک کی ساری سرحدیں حد نگاہ میں ہوں گی . اس کے باوجود اس قدر تجارتی کامیابی اور دولتمندی.  یہ ملک سترھویں صدی میں ایک عالمی طاقت تھا . آخر کیسے ؟ شاید یہ بات آپ کو مزید حیران کرے کہ یہ ساری معاشی کامیابی صرف ایک کمپنی کی مرہون منت تھی.  ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی.  یہ سچ ہے کہ سولہویں صدی میں اس ملک کی معاشی صورت حال بے حد خراب تھی.  یہ ان دنوں ہسپانیہ کے قبضے میں تھا . اسی سالہ جنگ کے بعد یہ آزاد تو ہوا لیکن آزادی کی اس جدوجہد  نے معاشی مشکلات میں بے حد اضافہ کیا . ان دنوں ڈچ معیشت کا دار و مدار پرتگال کے شہر لزبن سے مصالحہ جات خرید کربحری سفر  کے ذریعے  اسے  پورے یورپ کے ممالک میں بیچنا تھا . جبکہ پرتگال ان دنوں فار ایسٹ اور ایشیا سے لاے مصالحوں کی تجارت میں دنیا بھر میں سر فہرست تھا. یورپی لوگ مصالحے کھانوں میں ذائقے کے لئے نہیں بلکے غذا کو دیر تک محفوظ رکھنے کے لئے استعمال کیا کرتے تھے . آزادی کی جدوجہد شروع ہوئی تو ہسپانیہ نے لزبن سے یہ تجارتی سلسلہ بند کر دیا . اوہو! پانچ بجنے میں صرف دس منٹ رہ گئے ہیں.  وہ دیکھیے لورز کنال کروز میں سوار ہونے والا گیٹ  بھی کھل چکا . لوہے کی سیڑدھیاں اتر کر ٹکٹ دکھاتے ہوے کنارے پر بندھی بوٹ میں داخل ہو کر کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھنا مناسب ہے .  ایک خوش شکل دراز قامت ڈچ نوجوان  نے اپنا تعارف اس کروز  کے کپتان اور گائیڈ کی حیثیت سے کروایا اور پہلے  حفاظتی ہدایات دیں اور تمام کوڑا مخصوص بن میں پھینکنے کی تاکید کی.  کمنٹری کے لیے ایئر فون تقسیم کیے اور مقررہ وقت پر ہماری بوٹ کنال کروز کے لئے روانہ ہوی. خراماں خراماں سفر شروع ہوا  تو ساتھ ہی ساتھ اٹھارہ زبانوں میں دلچسپ کمنٹری کی ریکارڈنگ بھی آن کر دی گئی اور اردگرد کی تاریخی عمارتوں سے تعارف کا آغاز ہوا . دریا اور اس سے جڑی نہروں میں ادھر سے ادھر جاتی رنگ برنگی اور چھوٹی بڑی کشتیوں میں سوار خوش بدن اور خوش لباس سیاح اور کناروں کے ساتھ  مخصوص ڈچ طرز تعمیر کی عمارتیں اور ہاربر پر لنگر انداز چھوٹے بڑے جہاز. ارد گرد دیکھنے کو بہت کچھ ہے . شہر کے بیچ سے گزرتی نہروں میں ثقافت اور تاریخ کی جادو نگری میں ہچکولے کھاتی سیر . نوے منٹ کی اس سیر میں بے حد دلچسپ تاریخی حقائق جاننے کا موقع ملا . کناروں پر لنگر انداز بہت سی کشتیاں رہائشی گھروں اور ریستورانوں کے طور پر استعمال ہوتی ہیں اور کھڑکیوں میں سے جھانکتے بہت سے منظر جیتی جاگتی کہانیوں کی جھلکیاں محسوس ہونے لگتے ہیں . میں سوچنے لگا سمندروں اور کشتی رانی سے یہاں کے لوگوں کی اتنی وابستگی اور مہارت اور لزبن سے تجارتی پابندی کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی ضرورت نے انہیں فار ایسٹ اور ایشیا جیسے دور دراز علاقوں کے بحری سفر پر مجبور کیا تھا . دولتمند بننے کا خواب لئے کتنے ہی ڈچ مہم جو اس ملک سے اپنے بحری جہازوں میں مصالحوں ، چاندی اور ریشم کی تلاش کے سفر پر نکلتے تھے.  انجانے اورطویل بحری سفر . ابتدا میں یہ مہمات انفرادی تھیں اور دس جانے جانے والے جہازوں میں سے آٹھ یا نو  جہاز آدھے زندہ عملے سمیت واپس ہالینڈ لوٹتے تھے اور تقریباً آدھے دوران سفر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے . پھر ان مہم جوؤں نے ایک مشترک کمپنی کی بنیاد رکھی . ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی ……………… جاری ہے

|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,586 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina