retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Monthly Archive: August 2019

این فرینک کی ڈائری ، چوتھا انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Anne Frank,s Diary, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 4, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

Narration by: Shariq Ali
August 30, 2019
retina

Accounts of living under the Nazi regime of World War II by a thirteen-year-old Jewish girl is now one of the worlds literary treasure

 

 

 

این فرینک کی ڈائری ، چوتھا انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

میریٹ ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوے تو جی کھل اٹھا . بے حد کشادہ اور آرام دہ کمرے . میرا اور آپ کا کمرہ  نہ صرف ساتھ ساتھ ہے بلکہ دونوں جانب کھلتے درمیانی دروازے کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا بھی .  پیچھے کی کھڑکی سے نظر آتا یہ شاندار منظر تو ذرا دیکھیے . ہوٹل کا بے حد حسین پائیں باغ جس میں بار بی کیو کا انتظام بھی موجود ہے. چار دیواری کے پیچھے دور تک پھیلے سبزہ زار اور اس میں سے ہو کر گذرتے پگڈنڈیوں جیسے سایکل ٹریک .  کمرہ میں تمام جدید سہولتیں موجود ہیں  جیسے ٹی وی ، اے سی ، اٹیچڈ باتھ، لاکر ، مشروبات سے بھرا فرج ، چاے کوفی کا مکمل انتظام اور استری وغیرہ.  بستر اور لنن بھی بے حد آرام دہ .  اس وقت کیونکے شام کے سات بج رہے ہیں اور دن بھر کی تیاری اور سفر نے کچھ تھکا سا دیا ہے اس لئے  باہر جا کر کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کی ہمّت مجھ میں تو نہیں .  روم سروس کے اس مینیو  کی قیمتیں تو ہوش ربا ہیں  . مناسب یہ ہی ہو گا کے نیچے ریسٹورینٹ میں جا کر باقاعدہ ڈنر کے بجاے مارگریٹا پیزا کھا کرکام چلا لیا جاے . کھانے سے فارغ ہو کر  کمرے میں کتاب پڑھتے پڑھتے میں کب سویا ٹھیک سے یاد نہیں . اگلی صبح ناشتہ کیا اور  پروگرام کے مطابق پہلے میٹرو بس میں بیٹھ کر ایئرپورٹ گئے اور اٹھائیس یورو فی کس دے کر  دو دن کا ٹریول پاس بنوایا. اب ہم ٹرین اور بس میں ہر طرح کے سفر کے قابل تھے . پچھلی بار ہالینڈ آیا تھا تو میں نے ایمسٹرڈیم سینٹرل میں دن بھر کی تفریح سے خود کو خوب تھکا لیا تھا . پیدل گائیڈڈ ٹور میں مختلف تاریخی اور دلچسپ جگہوں کو کمنٹری کے ساتھ دیکھنے میں کوئی تین گھنٹے لگے تھے . اس کے بعد وان گوگ میوزیم کی تفصیلی سیر . لیکن اس بار میرا ارادہ اپنے طورپر ہوف ڈورپ اور ایمسٹرڈیم میں بغیر  منصوبہ بندی کے آوارہ گردی کرنا  اور آپ سے خوب سی باتیں کرنا ہے. یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ ہالینڈ کے بسنے والے ڈچ کہلاتے ہیں . جرمینک قبیلوں اور حملہ آور رومنوں، فرانک اور ہپسبرگ حکمرانوں کی بے حد صحتمند اور دراز قد ملی جلی نسل ہیں یہ لوگ . یہ ملک سولہویں صدی میں ہسپانیہ کے قبضے سے آزادی حاصل کر کے ریپبلک آف نیدرلینڈ بنا تھا . سترہویں صدی ان کے عروج کا زمانہ ہے . اپنی بحری برتری کی وجہ سے یہ عالمی طاقت بنے. دنیا کے دور دراز علاقوں جیسے افریقہ ، جنوبی ایشیا اور جنوبی امریکا میں کالونیاں بنائیں. فن و ثقافت میں عروج حاصل کیا . ریمبراں، ورمیر اور وان گوگ جیسے فنکار پیدا ہوے . پھر جیسا کے ہوتا ہے اسپین ، فرانس اور برطانیہ سے مسلسل جنگوں نے انہیں کمزور کر دیا ، بیسویں صدی کی دونوں عالمی جنگوں میں انہوں نے غیر جانبدار رہنے کی پوری کوشش کی لیکن دوسری جنگ عظیم میں جرمنی نے قبضہ کر لیا . یہاں سے یہودیوں کا تقریباً صفایا کر دیا گیا.  پچھتر فیصد ڈچ یہودی ہولوکاسٹ میں مارے گئے  . این فرینک کی ڈائری میں ایک مظلوم بچی نے ان دو سالوں کا احوال لکھا ہے جب وہ نازی قبضے کے دوران اپنے خاندان سمیت جان بچانے کے لئے روپوش رہی . پر مصائب زندگی کا دکھ بھرا احوال . بالاخر وہ گرفتار ہوئی اور ازیت خانے میں ماری گئی . اس کی لکھی تحریریں عالمی ادب کا اثاثہ ہیں اور ستر زبانوں میں ان کا ترجمہ ہو چکا ہے . دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو ہالینڈ کے زیر اثر بہت سی کالونیاں بھی آزاد ہوئیں ….. جاری ہے

|     |

سورج مکھی ، تیسرا انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Sunflower by Van Gogh, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 3, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

Narration by: Shariq Ali
retina

The vitality of Van Gogh’s work reminds his sad story

 

 

سورج مکھی ، تیسرا انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

 سخیفول ائیرپورٹ میں چمکتی دمکتی دکانوں کے بیچ کئی رستوران اور فاسٹ فوڈ آوٹ لٹ موجود ہیں لیکن بھوک نہ آپ کو ہے نہ مجھے شاید ہم دونوں ہی ہوٹل پوھنچنے کی جلدی میں ہیں .  ایئرپورٹ کے لمبے کوریڈور سے گزر کر ہم مرکزی دروازے سے باہر آئے تو ٹیکسیوں کی لمبی قطار ہماری منتظر تھی . ایک شاندار کالے رنگ کی چمکتی مرسڈیز ٹیکسی کے کالے سوٹ پہنے لمبے تڑنگے ڈرائیور نے آگے بڑھ کر ہمارا سامان تھام لیا . یہ  سمجھنے  کا موقع بھی نہ مل سکا کہ آخر اس قدر شاندار استقبال کیوں اور عام ٹیکسی کی قطار تو ذرا آگے دوسری جانب ہے  . بہر حال سامان رکھا جا چکا ہے اور اب ہم اس ضرورت سے زیادہ بڑی  اور شاندار ٹیکسی میں بیٹھے ہوف ڈورپ میں واقعے میریٹ ہوٹل کی جانب رواں دواں ہیں . اردگرد کا نظارہ قابل دید ہے . دور تک نظر آتے میدانی سبزہ زار اور ان کے ایک جانب بہتی سیدھی نہر. جدید سڑکوں پر دوڑتا مہذب ٹریفک اور کناروں پر بنی شاندار اور جدید عمارتیں جو انگلینڈ کی نسبتاً پرانی تاریخی عمارتوں سے کم ازکم پہلی نظر میں زیادہ بھلی محسوس ہوتی ہیں . دس یا پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد ٹیکسی ہوٹل کے مین گیٹ کے سامنے جا کھڑی ہوئی . پر فضا ہرے بھرے ماحول میں کوئ دو سو کمروں والا بارعب ہوٹل.  ڈرائیور  نے سامان باہر نکالا اور ٹیکسی کا بل پیش کیا تو اندازہ ہوا کہ لگژری ٹیکسی میں بیٹھنا کتنی بڑی غلطی تھی . بادل ناخواستہ بل کی ادائیگی کرنے کے بعد ہوٹل کا گھومتا مرکزی دروازہ دھکیل کر سامان کھینچتے ہوے سیاحوں کی رونق لئے لابی سے گزر کر ریسپشن پر جا پوھنچے .بائیں جانب شیشے کی دیوار سے جھانکتا شاندار رسٹورنٹ اور بار اور اس میں جاری چہل پہل صاف دکھائی دے رہی تھی . ایک کونے میں بلیرڈ کھیلتے خوش لباس مغربی سیاحوں کی خوش گوار چیخ پکار . قطار ذرا لمبی ہے . دائیں دیوار پر لگی ونسنٹ وان گوگ کی مشہور پینٹنگ سورج مکھی کی یہ تصویر بھی کیا خوب ہے . ایک نظر دیکھنے میں متاثر نہیں کرتی . غور سے دیکھیے تو  سورج مکھی کے چودہ پھولوں میں سے ہر ایک کا انفرادی اور مختلف فنکارانہ وجود وان گوگ کے کمال فن پر قائل کر لیتا ہے. کیا زندگی تھی اس کی . زندہ رہا تو گمنام اور بیحد دکھی . اور آج دنیا کا بیحد جانا مانا اور کامیاب مصور . اپنے انفرادی انداز میں بے مثال . دو ہزار سے زیادہ فن پاروں کا خالق .  پیدا تو وہ یہیں ہالینڈ میں ہوا تھا لیکن اس نے بیشتر یورپ کی آرٹ گیلریوں میں بہت سے عظیم فنکاروں کا کام دیکھا . وہ روز مرہ کی عکاسی کو کمال فن سمجھتا تھا .  دماغی بیماری اور شدید اداسی سے چور وہ اپنی اندرونی کیفیات کو کینوس پر اتارنے میں مصروف رہا . پھر اس تنہائی اور اداسی نے اسے صرف سینتیس سال کی عمر میں خود اپنے ہاتھوں اپنی جان لینے پر مجبور کر دیا . ریسپشنسٹ نے متوجہ کیا تو میں خیالوں  سے باھر آیا . فون سکرین پر بکنگ لیٹر دکھا کر کمرے  کی الیکٹرونک چابیاں حاصل کیں  اور کشادہ لفٹ میں سامان سمیت  داخل ہو کر دوسری منزل کا بٹن دبایا ……………… جاری ہے

|     |

سیلفی ، دوسرا انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Selfie, Inshay Travelogue, Episode 2, Four Days in Hoofddorp

Narration by: Shariq Ali
August 25, 2019
retina

Let’s go to Amsterdam together and have a selfie with Tulips

 

 

سیلفی ، دوسرا انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

اوپر ٹیکسی اپنے وقت پر پہنچ گئی .  ٹھیک دس منٹ بعد ہم اسٹینسٹڈ ایئرپورٹ پہنچے اور سیکیورٹی کے مراحل سے گزر کر ویٹنگ لاونچ میں بیٹھے متعلقہ گیٹ کے اناونس ہونے کا انتظار کرنے لگے . ایزی جیٹ کی یہ فلائٹ بلفاسٹ سے لندن آ کرایمسٹرڈیم جانے کے لئے آدھا گھنٹہ لیٹ ہے  اور ہم وقت پر پہنچ گئے ہیں. آئیے کچھ فرصت ہے تو ایک نظر ایئرپورٹ کی رونق پر ڈال لی جاے . جس پائن کی لکڑی سے بنی خوبصورت بینچ پر ہم بیٹھے ہوے ہیں وہ مسافروں کی آتی جاتی متلاطم لہروں کے بیچ کسی پر سکون جزیرے کی مانند ہے . دونوں اطراف سیاحوں کی بہتی لہروں کے کناروں پر  بے حد سجی سجای فیشن ایبل اور مشہور دکانوں کا دور تک جاتا سلسلہ ہے . آئیے پریٹ اے منگر کی دکان سے دال اور سبزیوں بھرا سینڈوچ اور سیب کا رس لے آتے ہیں. نانانا دل ہی دل میں پونڈ کو روپوں میں تبدیل کرنے کی عادت اب چھوڑ دیجیے . خود کو ازیت دینے کا فائدہ ؟ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ  تازگی اور ذائقے کا لطف اٹھایے . کیا خیال ہے ایک سیلفی نا ہو جاے ؟ ارے یہ کیا . مانیٹر پرفلائٹ اور گیٹ نمبر چمکنے لگا . جلدی کیجیے ان بجٹ ایئر لائنوں میں ہر چیز پہلے پہل کر لینا محفوظ ہوتا ہے .  چلیے آخر کار ایزی چیٹ کے کھچا کھچ بھرے بوئنگ طیارے میں ہمیں آپ کو ساتھ ساتھ سیٹ مل ہی گئی . جہاز نے ٹیکسی کرنا شروع کیا اور نارتھ سی عبور کرتے ہوے لندن سے صرف پینتالیس منٹ کی پرواز کے بعد ایمسٹرڈیم کا فضائی منظر ہماری آنکھوں کے سامنے ہے . سطح سمندر سے نیچے واقعے سر سبز و شاداب اور بے حد جدید شہر ایمسٹرڈیم  . امسٹل دریا اور اس سے جڑی ایک سو پینسٹھ نہریں شہر کی عمارتوں اور ترتیب کے حسن سے  سجے مستطیل سر سبز کھیتوں کے درمیان سے گزرتی ہیں اور ان پر تعمیر شدہ چھوٹے بڑے بہت سے پل  اسے ایک منفرد شہر بناتے ہیں. نہر کے کناروں پر آباد آہستہ آہستہ دھنستی عمارتیں جنھیں محو رقص گھروں کا حسین نام  دیا گیا ہے  اور ان نہروں کے کنارے ہچکولے کھاتے ڈھائی ہزار کشتی گھر اور ان میں چھٹیاں مناتے امیروں کے نخرے . ہماری خوش قسمتی کے آج کا دن بہت روشن ہے اور آپ کی اس شہر سے پہلی نظر میں محبت سمجھ میں آتی ہے . جہاز آہستگی سے ایمسٹرڈیم کے سخیفول ایئر پورٹ پر اترا اور متعلقہ گیٹ کے نزدیک جا کر کھڑا ہو گیا. ہارلیم جھیل کو تقریباً سو سال پہلے خالی کر کے بنایا گیا یہ ائیرپورٹ دنیا بھر میں  سطح سمندر سے نچلا ترین ہوائی اڈہ ہے.یہ دنیا کے اٹھانوے ممالک سے پروازوں کے ذریعے  جڑا ہے جس کے پرانے کنٹرول ٹاور کو اب ایک ریستوران بنا دیا گیا ہیے . سب مسافر جہاز سے باہر آئے اور ہم پاسپورٹ کنٹرول کے کے مرحلے سے تیزی سے گزر گئے کیونکہ برطانیہ ابھی تک یورپی یونین کا حصہ ہے، ساری کاروائی محض رسمی تھی. سخیفول ایک جدید ایئرپورٹ ہے جہاں ہر دم دنیا بھر کے سیاحوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے. ارے وہ دیکھیے اس خوبصورت دکان پر کیسے رنگارنگ شیشے کے بنے ٹیولپ کے پھولوں کی بہار ہے . یہاں تو سیلفی بنتی ہے …… جاری ہے

ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، جہان حیرت ، پہلا انشا Four Days in Hoofdorpp, Inshay Travelogue, World of wonders, First Episode

Narration by: Shariq Ali
August 23, 2019
retina

Let,s go to Holland together, me and you

 

 

ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، جہان حیرت ، پہلا انشا، شارق علی ، ویلیوورسٹی

اگر آپ فرصت سے ہیں تو میرے ساتھ چار روز کے لئے نیدرلینڈ کے قصبے ہوف ڈورپ چلیے . یہ ایک بے حد خوبصورت اور سر سبز و شاداب قصبہ ہے جو انیسویں صدی میں ہارلم جھیل کے پانی کو پیچھے سمندر میں دھکیل کر حاصل شدہ زمین پر قائم کیا گیا تھا . سبزہ زاروں اور درختوں کی تازگی، بہتی ندیوں اور قدرتی تالابوں کا گنگناتا پانی اور دلکش گھروں کے سامنے کیاریوں میں کھلے خوش رنگ پھول اس کی زمینی نو عمری کی گواہی دیتے ہیں . اس سفر میں کبھی دھیمے . کبھی تیز قدم . باتیں کرتے ہوئے ساتھ چلیں گے۔ ہر موضوع پر باتیں۔ سفر کا احوال بھی اور ذہن میں آنے والی وہ ساری چھوٹی موٹی باتیں بھی جو چلتے پھرتے مسافر کے ذہن میں گھومتی رہتی ہیں۔ گفتگو تو مجھے ہی کرنا پڑے گی لیکن اگر آپ ذہنی طور پر میرے ساتھ رہیں گے تو سفر دونوں کا ہو گا ، کچھ کہنا چاہیں تو کومنٹ میں ضرور کہئے گا۔ انگلینڈ کی معتدل گرمی اور سوموار کی یہ خوش گوار صبح جب بیشتر لوگ اپنے کام پر روانہ ہو چکے ہیں ہم اور آپ مکمل چھٹی کا موڈ طاری کییے ائیرپورٹ جانے کے لئے تیار ہیں . مزے کی بات یہ کہ میں بالکل تروتازہ ہوں حالانکہ ویک اینڈ پر آن کال تھا مگر خوش قسمتی سے زیادہ مصروف نہیں. ساری تیاری پہلے ہی مکمل ہے اور اگلے چار دن کی مصروفیت کا ہلکا سا خاکہ بھی جو میں نے واٹس ایپ پر پہلے ہی سے محفوظ کر لیا ہے . نیدرلینڈ کا کیونکے یہ میرا چوتھا سفر ہے اس لئے وہاں کے بیشتر میوزیم اور آرٹ گیلریاں تو پہلے ہی دیکھی جا چکیں ہیں . اس بار غیر روایتی سیاحت کے ساتھ آپ سے ادھر ادھر کی باتیں ہوں گی . گھر سے سٹینسٹیڈ ایئرپورٹ تک کوئی دس منٹ کی ڈرائیو ہے اور میں نے اوبر بلوا لی ہے . انگلستان کی سر سبز کاؤنٹی ایسکس میں واقع ہمارا چھوٹا سا قصبہ ڈنمو کہلاتا ہے . آپ یہاں دروازے کے پاس کھڑے ہو کر اوبر کا انتظار کیجیے میں ذرا گھر کی کھڑکیاں، دروازے اور چولہے بند ہیں کہ نہیں آخری بار چیک کر لوں. ویسے میں اور آپ بھی کس جہان حیرت میں زندہ ہیں . دنیا کی سب سے بڑی ٹیکسی کمپنی اوپر سے ٹیکسی کی سہولت حاصل کرتے ہیں جس کے پاس اپنی ایک ٹیکسی بھی نہیں. رہائش کا انتظام دنیا کی سب سے بڑی ہوٹل کمپنی ایئر بی این بی کی مدد سے کرتے ہیں جس کے پاس اپنا کوئی ہوٹل نہیں اور خریداری ایمیزون سے جس کی اپنی کوئی دکان نہیں ۔ فائیو جی ٹیکنالوجی بھی ہماری اوبر کی طرح سمجھیے آ ہی گئی . دیکھیے کیا گل کھلاتی ہے یہ . لیکن جہان حیرت میں سب اچھا نہیں . عوام کے لئے روزگار کا حصول بھی مشکل سے مشکل ہوتا چلا جاے گا . آرٹیفیشل انٹیلی جنس ، روبوٹکس ، ہائی سپیڈ نیٹ ورکنگ اور خود سے چلنے والی گاڑیاں سہولت کے ساتھ بیروزگاری میں اضافہ بھی کریں گی . یہ لیجیے اوبر آ گئی . بقیہ باتیں ایئرپورٹ پر………… جاری ہے 

 

|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,586 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina