retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Monthly Archive: July 2019

دلکش خواب ، دنیا گر ، انشے سیریل ، آٹھواں انشا Marxism, DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 8

Narration by: Shariq Ali
July 18, 2019
retina

Story of a social philosopher and a dreamer who was the sheer critic of the current industrial and economic system

 

 

دلکش خواب ، دنیا گر ، انشے سیریل ، آٹھواں انشا ، شارق علی، ویلیوورسٹی

بات کمیونزم کی چل نکلی تھی.  پروف بولے . اگر ہم سرمایہ داری نظام کے نقاد ہیں تو اس اعتبار سے مارکسسٹ ہیں .  ایک ایسے سماجی نظام کا خواب کتنا دلکش ہے جس میں پیداواری اضافے کی تقسیم مساوی ہو اور تمام خوش حال انسان مل جل کر ہنسی خوشی زندگی بسر کر سکیں.  دولت کمانے کی فکر سے آزاد اور انفرادی تخلیقی صلاحیتوں کے مطابق مصروف . مارکسزم اس خواب کو حقیقت بنا کر پیش کرتا ہے . نوجوان زینوں کا مسحور ہو جانا سمجھ میں آتا ہے . سوفی بولی . کچھ ذکر کارل مارکس کا بھی. بولے . فلسفی اورسماجی دانشور جو سرمایہ داری نظام کو انسانی خوشیوں کا قاتل قرار دیتا ہے . وہ اٹھارہ سو اٹھارہ میں جرمنی میں پیدا ہوا اور نوجوان صحافی کی حیثیت سے کام کرنے لگا . طبقاتی نظام کے خلاف آزاد سوچ رکھنے کہ جرم میں جرمنی سے بھاگ کر لندن آیا اور بقیہ زندگی وہیں علمی کام میں بسر کی . مالی مدد قریبی دوست فریڈرک اینگلز  نے کی جو خود وراثتی طور پر مالدار آدمی تھا. دونوں کی دوستی بہت گہری تھی. مارکس نے بہت سی کتابیں اور علمی مقالے لکھے  . کچھ اینگلز کے اشتراک سے بھی . لیکن وہ اپنے دور کے دانشوروں میں کوئی با عزت مقام  حاصل نہ کر سکا بلکہ نئی دنیا بسانے کے خواب کا مضحکہ اڑایا گیا.  اس کا نظریہ ہے کیا ؟ رمز نے پوچھا . بولے . مارکسزم معاشی نظریہ بھی ہے اور انسانی امنگوں کا ترجمان بھی . سرمایہ داری نظام پر اعتراض یہ ہے کہ وہ عوام کی سوچ پر اثر انداز ہوتا ہے وہ دولت ہی کو زندگی کا مرکزی نکتہ سمجھنے لگتے ہیں. انسانی محبت اور خلوص جو اصل خوشی ہیں نظر انداز کر دیے جاتے ہیں . زیادہ ملکیت ہی خوشی  ہے جیسے غلط مفروضے جڑ پکڑتے ہیں . محدود سوچ  اور مطمئن غلامانہ سیاسی طرز زندگی تخلیقی صلاحیتوں سے عاری کر دیتی ہے. اسمبلی لائن کام شخصی بیگانگی کی سمت لے جاتا ہے.  تسکین مہیا نہیں ہوتی . خیال اور عمل کے اس ڈسکنیکٹ کو اس نے ایلیینیشن کا نام دیا. کارکن عدم تحفظ کا شکار اور سرمایہ دار کے لئے منافع کارکنوں کے مفاد سے زیادہ اہم ہوتا ہے .  ٹیکنالوجی کا فائدہ سرمایادار اٹھاتا ہے. مارکس منافع کو چوری کہتا ہے . کم اجرت پر حاصل صلاحیت کو مہنگے داموں بیچنے کی چوری . اور اس کا حل ؟ میں نے پوچھا . بولے . وہ اپنی کتاب کمیونسٹ مینی فیسٹو میں ظلم و ستم کے خاتمے کا راستہ انقلاب کو بتاتا ہے . ایسا سماج جس میں ذاتی ملکیت اور وراثت نہ ہو.  انکم ٹیکس ختم ہوتا چلا جائے . ذرائع آمدورفت، ابلاغ ، تعلیم ، صحت اور تمام پیداواری فیکٹریاں مرکزی حکومت کے پاس ہوں . عوام کو مفت تعلیم ، ضروریات زندگی ، علاج  اور تخلیقی صلاحیتوں کے اعتبار سے آگے بڑھنے کا موقع مل سکے . وہ مذہب ، جمہوریت،  اور آزادی اظہار جیسے تصورات سے پیچھا چھڑانے کی حمایت کرتا ہے . ظاہر ہے بہت سے لوگ ایسا کرنا نہیں چاہیں گے اس لئے جبری سزائیں کمیونسٹ حکومت کی ضرورت بن جاتی ہیں . سوفی بولی. کوئی عملی مثال ؟ بولے . انیس سو سترہ میں لینن کا سرخ انقلاب . لینن اور اسٹالن نے جو طرز حکومت انقلاب کے بعد سوویت یونین میں قائم کی وہ کمیونزم کہلایا.   سوویت یونین کے علاوہ  چین ، شمالی کوریا ، مشرقی یورپ اور جنوبی امریکا کے کچھ ممالک کی ڈکٹیٹر حکومتوں نے بھی ان نظریات کی تقلید کا دعوہ کرتے ہوے  اپنے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور ایک تباہ کن معیشتی نظام کے زیر سایہ بھوک ، غربت اور خانہ جنگی کی صورتحال سےدوچار رہے . مارکسی نظریہ ناکام دانش نہیں. سرمایہ داری نظام کی خرابیوں کی نشاندہی میں یہ بہت کامیاب ہے،  لیکن درستگی کے حل عملی صورت میں ناکام ہوے. .جیسے مارکسزم  وسائل کو اہلیت اور ضرورت کی بنیاد پر آپس میں منصفانہ تقسیم کر لینے کا حامی ہے . عملی سوال یہ ہے کہ اہلیت اور ضرورت کا تعین کرے گا کون ؟ جواب ہے اقتدار پر قابض طبقہ ۔ گویا مارکسزم حکومت کے لامحدود اختیارات کی حمایت کرتا ہے.  یہ ایک تباہ کن خیال ہے.  اسی سے کمونسٹ ممالک میں ڈکٹیٹرشپ کی راہ ہموار ہوئی . ممکن ہے مستقبل میں سرمایہ داری نظام کو بہتر بنانے کی کوششوں میں مارکسی سوچ ہماری رہبر ہو………… جاری ہے

|     |

تاریخ ساز ، دنیا گر ، انشے سیریل ، ساتواں انشا Apartheid & Mandela,DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 7

Narration by: Shariq Ali
July 12, 2019
retina

Enjoy the fascinating story of an anti-apartheid revolutionary who became the first black head of state in a fully representative democratic election

 

تاریخ ساز ،  دنیا گر ، انشے سیریل ، ساتواں انشا ، شارق علی، ویلیوورسٹی

وہ دن یادگار ہی نہیں تاریخ ساز بھی تھا . پروف نے چاے کا کپ اٹھاتے ہوے کہا . کونسا دن ؟ میں نے پوچھا . بولے . ستائیس اپریل انیس سو چورانوے کا روشن دن . بے حد دلکش مسکراہٹ والے ایک سیاہ فام شخص نے دنیا بھر کے ٹی وی سکرین پر پرجوش عوام کی تالیوں اور نعروں میں جنوبی افریقہ کے پہلے نسلی برابری والے الیکشن میں ووٹ ڈالا اور نفرت کی دیوار گرا دی .  اس نسل پرستی کا پس منظر ؟ سوفی گفتگو میں شامل ہوئی. پروف بولے . سولہ سو پچاس میں پہلی بار جب ڈچ مہم جو اور مقامی افریقی کسانوں کا آپس میں رابطہ ہوا تو ان گنت مقامی لوگ ڈچ لوگوں کی لائی ہوئی بیماریوں کا شکار ہو کر وفات پا گئے تھے . بہت سے بے گناہوں کو ان ظالم  حملہ آوروں نے قتل کرڈالا اور اپنا پہلا شہرکیپ ٹاؤن بسایا. مالی لحاظ سے یہ سارا علاقہ بے حد فائدہ مند تھا. اٹھارویں صدی میں بالاخر انگریزوں نے اس خطّے پر قبضہ کرلیا.  اس قبضے کے باوجود بہت سے ڈچ کیپ ٹاؤن ہی میں رہ گئے اور انہوں نے مل کر  یونین آف ساؤتھ افریکا نامی سفید فام نسل پرست حکومت قائم کر لی . اکثریتی مقامی سیاہ فام آبادی  کے مقابلے میں اقلیتی اقتدار برقرار رکھنے کے لیے نسل پرستی پر مبنی نظام حکومت ان کی ضرورت تھا . انیس سو تیرہ میں پہلا نسلی قانون پاس کیا گیا  جس کے تحت مقامی لوگوں کو بعض ملازمتوں کا ملنا نا ممکن قرار دیا گیا . انیس سو اڑتالیس میں سفید فام افریکآنر نیشنل پارٹی نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور اپارتھایڈ کو قانونی اور سیاسی نظام  کے طور پر اپنا لیا. اپارتھایڈ یعنی نسلی بنیاد پر تقسیم . مقصد سیاسی طاقت، مراعات اور وسائل سفید فام اقلیت کے ہاتھ میں رکھنا تھا . مقامی لوگ بھی قبیلوں کی بنیاد پر تقسیم کیے گئے کیونکے سیاسی لحاظ سے مقامی آبادی کو جو واضح  اکثریت میں تھی خود اپنے ہی ملک میں بنیادی حقوق اور وسائل کے استعمال سے زبردستی روکنے کے لئے انھیں متحد نہ ہونے دینا ضروری تھا . نسلی بنیاد پر شناختی کارڈ بنائے گئے. مقامی لوگوں کو بعض جگہوں پر جانے  ، اہم ملازمتوں اور سہولیات پر پابندی ، مختلف نسلوں کی آپس میں شادی کو جرم اور ووٹ کے حق  سے محروم کر دیا گیا.  اس نظام کے خلاف مزاحمتی تحریکیں شروع ہوئیں . نیلسن منڈیلا سب سے توانا آواز بن کر ابھرا . کچھ اور تفصیل منڈیلا کی ؟ رمز نے کہا . بولے . انیس سو اٹھارہ میں جنوبی افریقہ کے ایک اعلی نسب قبیلے میں پیدا ہونے اور بہترین تربیت پانے والے کو یونیورسٹی سے قانون کی اعلی تعلیم حاصل کرنے کی خوش قسمتی ملی .  طالب علمی کے دور میں اس نے مزاحمتی کارکن کی حیثیت سے جدو جہد کا آغاز کیا. انیس سو چوالیس میں افریکن نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی . یہ ایک منظم سیاسی پارٹی تھی .  جلد ہی اس نے اے این سی کے یوتھ ونگ میں ممتاز مقام حاصل کر لیا .  اس  نے ساتھیوں کو قائل کر لیا کہ انہیں گاندھی اور مارٹن لوتھر کنگ کے نظریےکو اپنا کر جدوجہد جاری رکھنا چاہئے . یعنی تشدد کے بغیر پر امن سیاسی جدوجہد . انیس سو ساٹھ کے عشرے میں اسے گرفتار کر لیا گیا.  ستائیس سالہ جیل کے دوران سفید فام حکومت نے اسے لالچ بھی دیے اور دھمکایا بھی لیکن وہ اپنے اصولوں پر قائم رہا . آزادی اور اپنی قوم سے سچی محبت اس کی طاقت تھی. جیل میں رہتے ہوے بھی وہ سیاسی جدوجہد اور جنوبی افریقہ کے مسئلہ کو عالمی منظر نامے پر زندہ رکھنے میں کامیاب رہا اور ایک عظیم قائد بن کر ابھرا . انیس سو نوے میں عالمی دباؤ کی وجہ سے وہ آزاد ہوا . تمام نسلوں کے مساوی حقوق کے حامی کو انیس سو ترانوے میں امن کا نوبل انعام دیا گیا . آزاد ہونے کے بعد اس کی سیاسی جدوجہد میں بےحد تیزی آگئ.  اس ساری جدوجہد کے دوران کئی بار ایسے مواقع آے جب خانہ جنگی شروع ہوسکتی تھی.  نیلسن منڈیلا کی امن پسند اور ذہین سوچ نے تشدد کو اُبھرنے نہ دیا اور ہونے والی خانہ جنگی ٹل گئی.  بلآخر ظلم کی سیاہ رات  ڈھل گئی اور وہ انیس سو چورانوے میں پر امن ووٹ کی طاقت سےآزاد جنوبی افریقہ کا پہلا صدر بنا .  چھے بچوں اور بیس پوتے پوتیوں کے ساتھ ہنستی مسکراتی خاندانی زندگی گزارنے والا تاریخ ساز قائد ………. جاری ہے

|     |

بازیلڈن کا جیتھرو ٹل ، دنیا گر ، چھٹا انشا Agriculture Revolution, DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 6

Narration by: Shariq Ali
July 2, 2019
retina

Enjoy the story of an agricultural pioneer Jethro Tull and the first agriculture revolution 12000 years ago that shaped the human civilization

 

 

بازیلڈن کا جیتھرو ٹل ، دنیا گر ، چھٹا انشا ، شارق علی، ویلیوورسٹی

 نیلے رنگ کی ہائبرڈکارپر سکون خاموشی سمیٹے ایم ٹوینٹی فائیو موٹروے پر بازیلڈن کی سمت دوڑ رہی تھی . پروف بولے . دوسری جنگ عظیم  نے لندن کی بہت سی عمارتیں تباہ کر دی تھیں .  جنگ کے بعد وزیراعظم ایٹلی نے لندن کے نزدیک  چھوٹے قصبوں میں نئی تعمیرات کر کے انھیں وسعت دی ، یہ کمیوٹر ٹاؤن کہلاتے ہیں کیونکہ بیشتر رہائشی ٹرین سے سفر کر کے مرکزی لندن میں نوکری کے لئے جاتے ہیں . ساوتھ اینڈ  کے حسین ساحل سے صرف دس میل دور  ایسیکس کاؤنٹی میں کوئی ایک لاکھ آبادی والا بازیلڈن ایک ایسا ہی قصبہ ہے. رش معمول سے بہت کم تھا . بارش تھم چکی تھی اور چھٹتے بادلوں کے کناروں سے نکلتا سورج ارد گرد حد نظر تک  پھیلے ہرے بھرے کھیتوں  اور ان کی حد بندی کرتے سر سبز لمبے درختوں کے حسن میں اضافہ کر رہا تھا . پروف نے بات جاری رکھی . ان ہری بھری فصلوں کو دیکھ کر  جیتھرو ٹل کی یاد آتی ہے . وہ کون ؟ میں نے پوچھا . بولے .اٹھارویں صدی کے آغاز میں بازیلڈن کے رہنے والے ایک نوجوان کسان جیتھرو ٹل  نے یورپ میں پھیلنے والی روشن خیالی اور سائنسی سوچ کو اپنی ذاتی تخلیقتی صلاحیتوں  سے ہم آہنگ کر کے جدید عالمی زراعتی انقلاب کا  راستہ ہموار کیا تھا . ہزاروں برس سے سے کسان زرخیز مٹی پر تھوڑے تھوڑے فاصلے سے بیج پھینک کر نسبتاً کم پیداوار حاصل کرتے آے تھے.  جیتھرو  نے گھوڑے کی مدد سے چلنے والی ایک ایسی ڈرل ایجاد کی جو یکساں فاصلے  اور مناسب گہرائی میں بیچ بوتے چلے جانے کی صلاحیت رکھتی تھی.  اس طرح فصلوں کو سیدھی قطار میں کئی گنا اضافی پیداوار کا موقع ملا . انگلینڈ اور ہالینڈ کے کسانوں نے اٹھارویں صدی میں سائنسی طریقوں کو اپناکر دنیا بھر میں جدید زراعتی انقلاب برپا کیا تھا . پیداوار میں اتنا اضافہ جس کی انسانی تاریخ میں  مثال نہیں ملتی . جیتھرو ٹل بازیلڈن کے ایک چرچ میں ابدی نیند سو رہا ہے.  سوفی بولی . اور قدیم زراعتی انقلاب؟ پروف بولے. آثار قدیمہ سے صاف ظاہر ہے کے ایسا ہوا ضرور لیکن کوئی نہیں جانتا کیوں .  دس سے بارہ ہزار سال پہلے دنیا کے دور دراز حصوں میں بسنے والے انسانی شعور میں تقریباً ایک ساتھ یہ حیرت انگیز تبدیلی دیکھنے میں آئ .  شکار اور غذا جمع کرنے والے خانہ بدوش قدیم انسان نے زراعت اور جانوروں کی افزائش کے گر سیکھ کر گاؤں بساے اور مستقل رہائش اختیار کر لی . ممکن ہے یہ مشاہدہ کام آیا ہو کہ کسی خاص پھل کے بیچ ایک مخصوص علاقے میں پھینک دیئے جائیں تو وہاں ویسے ہی پھلوں کے پودے نکلنے لگتے ہیں. یا جانوروں کے شکار کے بجانے انھیں نگہداشت اور غذا پہنچا کر پالنا اور ان سے کام لینا زیادہ فائدہ مند ہے . اس علم اور مہارت سے غذا میں اضافہ ہوا تو انسانی تہذیب کے ابتدائی خد و خال ابھرے.  انسان نے ماحول پر قابو پانا شروع کیا.  من پسند فصلوں اور جانوروں کی افزائش  آسان ہو گئی . اب سخت موسم میں بھی آسانی سے  زندہ رہا جا سکتا تھا . شکار اور خانہ بدوشی کے عادی لوگوں کو آپ مل جل کر اجتماعی حیثیت میں زندگی کی جدوجہد کرنا تھی . تعاون کے لئے بولی کی ضرورت پیدا ہوئی ملکیت کا تصور جاگا تو تحریر وجود میں آئ . علم کی منتقلی آیندہ نسلوں کی خوش حالی کے لئے اہم ہو گئی .  پہلے یہ سلسلہ کہانیاں سنا کرہی ممکن تھا . تحریر وجود میں آئ تو علم کا محفوظ اور منتقل ہونا آسان ہو گیا .  پیشہ ورانہ مہارت کی تقسیم کا آغاز ہوا. کچھ لوگ کسان ، کچھ سپاہی اور کچھ کاریگر بن گئے. آپس کی تجارت سے گاؤں  شہری ریاستوں میں تبدیل ہونے لگے . امن اور فرصت ملی تو کھیل ، تماشے رقص و موسیقی ، ادب اور تعمیراتی مہارت ، ملکیتی جھگڑوں ، تجارت ، حکومتی اور سیاسی نظام کا آغاز ہوا .میسوپوٹیمیا کے علاقے میں انسانی تہذیب پتھر کے زمانے سے کانسی کے دور میں داخل ہوگئی . قوموں نے ہتھیار بنانا شروع کیے اور زرخیز زمین  پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے جنگوں کا آغاز ہوا .گویا تہذیبی ارتقاء کی بنیاد  اضافی غذا اور خوش حالی تھی ……. جاری ہے

|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,506 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina