retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Monthly Archive: May 2019

ایچ آئی وی سے بچاؤ کیسے؟ صحت افزا انشے HIV Prevention, Health awareness public message

Narration by: Shariq Ali
May 27, 2019
retina

A public awareness message about HIV prevention in Urdu. Valueversity and Dowdocs 85 health awareness collaborative initiative

 

ایچ آئی وی سے بچاؤ کیسے؟ صحت افزا انشے ، ویلیوورسٹی

ایچ آئی وی ایک وائرس ہے جو جسم میں داخل ہو جائے تو روز مرہ اور کینسر جیسی بیماریوں کے خلاف مدافعت ختم کر دیتا ہے اور ہم ایڈز کا شکار ہو کر مر سکتے ہیں .  یہ وائرس مریض کے جسم کی رطوبتوں مثلاً خون اور جنسی نمی میں موجود ہوتا ہے . یہ مرض احتیاطی تدابیر کے بغیر غیر شادی شدہ جنسی ملاپ ، استمعال شدہ سوئیوں کے دوبارہ استعمال ، بچے کی پیدائش اور دانت کے علاج میں بد احتیاطی سے پھیلتا ہے.   مدافعت کم ہو جاتی ہے اور  اور دست،  نمونیا ،  یا کوئی اور انفیکشن یا کینسر موت سے ہمکنار کر سکتا ہے.  غیر شادی شدہ جنسی ملاپ کے دوران احتیاطی تدابیر لازمی ہیں .  بچے کی پیدائش یا ڈاکٹر اور ڈینٹسٹ کے علاج کے دوران اس بات کو یقینی بنائیں کہ نیڈل یا انجیکشن پہلے سے استعمال شدہ نہ ہو.  جسم میں ایچ آئی وی موجود ہو تو بچے کو دودھ پلانا منع  ہے .  علاج کے دوران خون یا خون سے بنے اجزاء کے عطیے کی ضرورت ہو تو یہ بات یقینی بنائیں کہ یہ ایچ آئی وی وائرس سے پاک ہے .  مستند ڈاکٹروں اور ہسپتالوں سے علاج  بہترین بچاؤ ہے . ایڈز کا مکمل علاج دستیاب نہیں لیکن ایسی دوائیاں ضرور موجود ہیں جو مرض کی شدت کو قابو میں رکھ سکیں

ڈاکٹر شارق علی

|     |

جاں نثاری ، دنیا گر ، انشے سیریل ، پانچواں انشا Ottoman Empire Janissaries, DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 5

Narration by: Shariq Ali
May 26, 2019
retina

Janissaries were an elite corps of slaves, loyal to Ottoman Sultans, made up of kidnapped young Christian boys hardened by strict military training

 

 

جاں نثاری ، دنیا گر ، انشے سیریل ، پانچواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

نیلی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کی اورپیدل ہی توپ کاپی میوزیم کی سمت چلے.  کوئی بیس منٹ کی مسافت ہو گی . سنہری دھوپ میں  سرخ اینٹوں سے بنے پیدل راستوں پر چلتے ہوے ہاگیا صوفیاء کے عظیم گرجا گھر  کے پاس سے گزرے . راستے بھر کنارے کے ریستورانوں میں دنیا بھر سے آے ہوے سیاحوں کا رش دیکھا . پروف استنبول کا ذکر کر رہے تھے . بولے . باسفورس کے گہرے نیلے پانیوں کے ساحل پر سرسبز و شاداب پہاڑی ہے جس پر جابجا خوبصورت درخت اور پھولوں کے قطعات میں بکھری بہت سی تاریخی عمارتوں میں محفوظ نوادرات پر مشتمل ہے توپ کاپی میوزیم.  سلطنت عثمانیہ کے دور  میں یہ محل ہوا کرتا تھا.  ان گزرگاہوں پر چلتے جانے کتنی ہی کہانیوں اور رازوں کی سرگوشیاں سنائی دیں . سلطانوں کی شوکت ، درباریوں کی سازشیں،  جانثاروں کے کارنامے . پھر سلیمان اور ابراہیم کی کی رفاقت یاد آئ . دو بچپن کے دوست ، ایک سلطان دوسرا جاں نثاری غلام ..جاں نثاری غلام ؟ سوفی نے پوچھا. بولے  . اس زمانے میں عثمانی سلطنت مفتوح یورپی عیسائی بچوں کو  اپنی سرپرستی میں لے کر جاں نثاری بنا لیتی تھی . یعنی ایسے اعلی  تربیت یافتہ فوجی غلام  جو سلطان کے لئے جان ہتھیلی پر لئے پھرتے تھے . انہیں عزت و احترام ، ماہانہ تنخواہ ، پنشن، تجارت کی آزادی اور ان کے خاندان کو تحفظ حاصل ہوتا تھا .  سلطنت عثمانیہ کی یورپی وسعت اور استحکام میں دو صدیوں تک ان جاں نثاروں نے اہم کردار ادا کیا ہے . پراگلی ابراہیم وینس سے گرفتار شدہ جاں نثاری غلام تھا جسے توپ کاپی محل میں عثمانی سلطنت کے سب سے ممتاز بادشاہ سلیمان دی مگنفیسنٹ کی دوستی کا موقع ملا . ترکی کے شہر ترابزون میں پیدا ہونے والے سلیمان کا باپ سلیم اول عثمانی حکمران تھا. علمی اور جنگی تربیت اسی  محل میں ہم عمر جاں نثاری دوست پارگلی ابراھیم کے ساتھ مکمل کی . وقت کے بہترین عالموں نے تاریخ ، ریاضی ، ادب،  فلسفہ اور جنگی مہارت سکھائی.  کم عمری میں ایک صوبے کا گورنر بنا.  سیاسی داؤ پیچ اور قانونی نکات کے بارے میں عملی علم حاصل کیا .  دور تک پھیلی عثمانی سلطنت میں مختلف ثقافتوں ، زبانوں اور رسم و رواج کو سمجھنے کا موقع ملا.  والد کا انتقال ھوا تو صرف چھبیس سال کی عمر میں سلطان بنا . اس نے والد کے وزیر کو برطرف کر کے  جاں نثاری دوست پارگلی ابراھیم کو اپنا وزیر بنا لیا.  کچھ تفصیل عثمانی سلطنت کی ؟ رمز نے کہا . بولے . بارہ سو ننانوے میں  اناطولیہ کے قبائلی سردار عثمان اول کی قائم کردہ یہ سلطنت انیس سو تیئیس تک قائم رہی. مرکز ترکی تھا اور میڈیٹرینین کے ساتھ مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بسے بہت سے ممالک  . سن چودہ سو سے سولہ سو تک انہیں عروج حاصل رہا اور  مشرق وسطہ ، مغربی ایشیا ، شمالی افریقہ کے بہت سے ممالک کے علاوہ یورپ میں یونان، ہنگری ،رومانیہ پر تسلط اور ویانا پر حملے کارناموں  میں شامل تھے. سلطنت عثمانیہ کا سب سے طاقت ور حکمران سلیمان دی مگنی فسینٹ تھا.  . سلطنت کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ مذہبی رواداری تھی. حکمران خود مسلمان تھےلیکن  قبضہ کرتے کے بعد مفتوح قوموں کو مکمل آزادی حاصل ہوتی تھی کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق عبادات اور معمولات جاری رکھیں.  ایک دور عہد ٹیولپ کہلاتا ہے جس میں جنگی فتوحات نہیں بلکے طویل حالت امن میں ادب اور ثقافت کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوئی تھی . ٹیولپ کا پھول ترکی ثقافت میں حسن مکمل کی علامت سمجھا جاتا ہے.  سولہویں صدی کے اختتام پر قیادت کی نااہلی کی وجہ سے یہ سلطنت کمزور پڑنا شروع ہوی  اور ایک بیمار سلطنت بن کر انیس سو تیئیس میں پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر اس کا  مکمل خاتمہ ہوگیا.  جدید ترکی کا بانی تو انقلابی کمال اتاترک ہے . اور سلیمان ؟ میں نے پوچھا . بولے .  سلیمان کے چھیالیس سالہ اقتدار میں سلطنت کو بہت وسعت ملی .  اس نے اپنے بحری بیڑ ے اس قدر مضبوط بناے کے پورے میڈیٹرینین پر بالادستی قائم ہوگئی . وہ  نہ صرف عظیم سپہ سالار تھا بلکہ بہترین قائدانہ صلاحیتوں کا مالک بھی.  اس نے سلطنت کو معاشی اور قانونی لحاظ سے اپنے عروج پر پہنچایا. ٹیکس کا بہترین نظام قائم کیا.  اعلی تعلیمی ادارے عوام کو مہیا کیے . وہ خود ایک شاعر اور لکھاری تھا  . ماں کی طرف سے سلسلہ نسب چنگیز خان سے ملتا تھا  جو اس کی بھرپور جنگی صلاحیتوں کو  جواز فراہم کرتا ہے. یورپ کی حکمرانی کے دوران وہ عوام میں بے حد مقبول رہا . یورپی اسے میگنی فسنٹ اور ترک قانونی کے نام سے یاد کرتے ہیں کیونکے اس  نے سلطنت کو مفید قانونی فریم ورک فراہم کیا تھا ………. جاری ہے

|     |

معیشت کا غیبی ہاتھ ، دنیا گر ، انشے سیریل ، چوتھا انشا Adam Smith, the invisible, DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 4

Narration by: Shariq Ali
May 20, 2019
retina

Ideas of Adam Smith is the invisible hand that sculpted the unmatched global prosperity in the history of mankind

دنیاگر واقعات ، نظریات ، شخصیات اور ایجادات پر مبنی انشے
A serial of short stories about ideas, events, personalities, and discoveries that shaped our world

 

 

معیشت کا غیبی ہاتھ ، دنیا گر ، انشے سیریل ، چوتھا انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

کلاس ختم ہو چکی تھی لیکن ٹیٹوریل روم میں غیر رسمی گفتگو جاری تھی . پروف بولے .  پچھلے دو سو پچاس برسوں میں عالمی معاشی ترقی کی رفتار حیرت انگیز رہی ہے.  پوری دنیا تجارتی طور پر ایک دوسرے سے جڑ کر ایک اکائی بن گئی ہے . سمندروں میں تیرتے کنٹینر شپ ، فضا من اڑتے کارگو جہاز ، سڑکوں پر رواں ہیوی ڈیوٹی ٹرک، ایمیزون پر آن لائن شاپنگ  .  پچھلے دور میں یہ سب ناممکن تھا .  تب کچھ لوگ بے حد امیر تھے لیکن عوام کی اکثریت سطح غربت سے بہت نیچے تھی .  آج کی یہ  خوشحالی فری مارکیٹ اکانومی اور عالمی تجارت کی وجہ سے  ہے .  یہ سب ایک شخص کی سوچ اور خیال سے شروع ہوا تھا . ہم سب کی اٹھی سوالیہ نگاہوں کو مخاطب کر کے بولے . معاشیات کے بانی اور اخلاقی فلسفی ایڈم سمتھ کے تصورات نے جس قدر خوشحالی، اچھی صحت اور طویل زندگی عام لوگوں کو دی  ہے ،  پچھلی ڈھائی ہزار سالہ انسانی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی .  وہ سترہ سو تیئیس میں اسکاٹ لینڈ کے قصبے کرک کالڈی میں پیدا  ہوا .  بہت کم عمری میں والد کا انتقال ہوگیا،  تربیت اس کی ماں مارگریٹ نے کی . کبھی کبھار گم سم رہنے اور خود کلامی کرنے والا فلسفے ، لاطینی زبان اور ریاضی کا ذہین طالب علم جو بچپن ہی سے بھرپور مطالعے کا عادی تھا  چودہ سال کی عمر میں گلاسکو یونیورسٹی میں داخل ہوا .  گریجویشن کے بعد اوکسفورڈ یونیورسٹی میں اعلی تعلیم حاصل کی اور پھر  ایڈنبرا یونیورسٹی میں پروفیسر مقرر ہوا.  وہیں اس کی ملاقات اس دور کے مشہور فلسفی ڈیوڈ ہیوم سے ہوئی .  اگلے چند برسوں میں اس نے معاشیات اور فلسفیانہ موضوعات پر ڈیوڈ ہیوم  کے ساتھ طویل مباحثوں سے بہت سیکھا ۔ پھر وہ عالمی معیشت پر اثر انداز کیونکر ہوا ؟ سوفی نے پوچھا . بولے . اپنی دو کتابوں کے ذریعے سے .  پہلی کتاب اخلاقی فلسفے سے متعلق تھی.  نام تھا تھیوری آف مورل سنٹی منٹس.  اس کتاب سے شہرت ملی تو اسے ڈیوک آف ایڈنبرا کا اتالیق مقرر کردیا گیا . یوں پورے یورپ میں سفر کرنے اور اس دور کے عظیم دانشوروں جن میں بینجامن فرینکلن بھی شامل تھا سے ملنے اور سیکھنے کا موقع ملا . پھر اس نے معاشیات  اور فلسفے سے متعلق اپنے  افکار اور حاصل شدہ دانش کو بنیاد بنا کر  سترہ سو چھہتر میں اپنی عالمی شہرت یافتہ کتاب ویلتھ آف نیشن لکھی جو دنیا کی مؤثر ترین کتابوں میں سے ایک ہے . یہ کتاب موجودہ دور کی معاشی ترقی کی بنیاد ہے . اس میں بیان کردہ تصورات ، اصول اور وضاحتیں موجودہ معاشی نظام کو بنیادی  ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں .  کیا تھے اس کے انقلابی تصورات ؟ رمز نے پوچھا . بولے . معاشیات کا باوا آدم فری مارکیٹ اکانومی کے تصور کا بانی ہے . یعنی ایک ایسی آزاد عالمی معیشت جس میں حکومتوں کا کوئی عمل دخل نہ ہو بلکہ معاشی اصولوں کی بنیاد پر عالمی معیشت میں شامل تمام اقوام اور افراد کو آزادانہ مواقعے میسر ہوں اور وہ تجارتی اصول و ضوابط خود طے کریں.   آج کل زیادہ تر ممالک میں ملا جلا معیشتی نظام نافذ ہے یعنی کچھ حکومتی کنٹرول اور کچھ فری مارکیٹ اکونومی .  دیگر تصورات میں سے ایک ہے  پیداواری کوششوں کے حوالے سے محنت کی تقسیم کار کا اصول . یعنی اگر کسی بھی پیچیدہ پیداواری عمل کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر لیا جائے اور مختلف افراد صرف ان چھوٹے حصوں میں اپنی محنت اور صلاحیت کو مرکوز رکھیں تو یہ بات پیداواری صلاحیت اور مضبوط معیشت کے لئے فائدہ مند ہوگی،  اس طرح زیادہ پیداوار اور منافع حاصل ہو سکے گا . دوسرا تصور جو آج بھی رائج ہے وہ ہے گروس ڈومیسٹک پروڈکٹ کا اصول جسے عام طور پر صرف جی ڈی پی کہا جاتا ہے. یعنی اقوام کی دولت اس کے پاس موجود سونے اور چاندی کی مقدار نہیں وہ پیداواری اور ماہرانہ صلاحیت ہے جو وہ دنیا کو معاوضے کے عوض بہم پہنچا سکتی ہیں . وہ کہتا ہے کہ ہر فرد اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں اخلاقی اصولوں کے مطابق استعمال کرتے ہوے  خود اپنے ، خاندان اور معاشرے کے کے مفاد میں منافع بخش پیداواری مصروفیت کے ذریعے بہتر قومی معیشت میں حصے دار بن سکتا ہے . وہ معیشت کی سمت طے کرنے والے غیبی ہاتھ کا ذکر کرتا ہے.   یعنی ایسے اصول جو نظر نہیں آتے لیکن معاشی نظام پر اثر ڈالتے ہیں یعنی طلب اور رسد کا اصول . اس کے خیال میں معاشیات کا کنٹرول انہی اصولوں کے زیر اثر ہونا چاہیے حکومتوں کے نہیں . وہ سترہ سو نوے میں ایڈنبرا میں دنیا سے رخصت ہوا۔   تو پھر آج کے نوجوان معیشت دانوں کو کس چلینج کا سامنا ہے ؟ میں نے پوچھا . بولے .  یہ بنیادی سوال کہ آج کل کی اندھی منافع بخش دوڑ میں کیا  کامیابی اور ترقی اہم ہے یا اخلاقی معیارات اور منصفانہ رویہ ؟ کیا فری مارکیٹ اکانومی اب ایک عذاب بن چکی ہے کیونکہ امیر امیر تر ہو رہا ہے اور مڈل کلاس اور لوئر کلاس اپنی اپنی زندگیوں کی جدوجہد میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں؟ …… جاری ہے

|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,728 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina