retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Monthly Archive: January 2019

راجہ مہاراجہ ، سامراج ، انشے سیریل ، چوتھا انشا Maharajas, IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 4th EPISODE

Narration by: Shariq Ali
January 26, 2019
retina

Maharajas were the puppet rulers of India, whose strings were in the hands of British Raj. The story continues in the developing world by local rulers and superpowers

 

 

راجہ مہاراجہ ، سامراج ، انشے سیریل ،  چوتھا انشا ، ویلیوورسٹی ،  شارق علی

میں اور انوری بہت خوش تھے کیونکہ اگلے دن ایک شادی میں شرکت کرنا تھی اور خبر گرم تھی کہ راجہ صاحب ہاتھی پر بیٹھ کر آیں گے . بانو امی اور سوفی میں گفتگو جاری تھی ، بولیں.  ہاتھی  تو ہم دونوں کا دیکھا ہوا تھا کہ ان دنوں آگرے کی سڑکوں پر کبھی کبھار ہاتھی کی سواری نکلتی دکھائی دے جانا بہت غیر معمولی نہ تھا.  زیادہ اشتیاق خود راجہ صاحب اور ان کے مہاوت کو دیکھنے کا تھا .  اگلے دن زردوزی کے کام والے کرتے  اور چوڑی دارپاجامے پہن کر شادی میں شریک ہوئے تو لطف آ گیا. قسم قسم کے کھانے اور مٹھائیاں . ہاتھی بھی شاندار اور ہماری توقع سے کہیں زیادہ توانا . پھولوں کے ہاروں سے سجا اور ماتھے پر چاندی کا جھومر بھی . کسی نے بتایا کہ ہفتے بھر میں منوں گننے اور پیپل  کے پتے کھا جاتا ہے . انوری کو ہاتھی اور مجھے زرق برق لباس پہنے مہاوت بہت اچھا لگا . راجہ صاحب نے دونوں کو  بہت مایوس کیا. بہت بھاری بھرکم لباس فاخرہ کے باوجود کمر جھکی ہوئی اور  اتنے دبلے کے بسنت کی ہوا چلے تو پھر سے اڑ جایں . اس پر رنگ بھی سانولا . سب لان میں پڑی کرسیوں پر بیٹھ چکے تو پروف بولے .  مقامی فوج کی تشکیل کے علاوہ انگریز  نے مقامی حکمرانوں یعنی راجہ مہاراجاؤں کو بھی اپنے ساتھ ملایا۔ ان سے ایسے معاہدے کرکے کہ وہ اپنی حکمرانی جاری رکھ سکتے ہیں لیکن انگریز کے ماتحت مقامی فوج ان کی حفاظت پر مامور رہے گی.  یوں تھوڑے سے ٹیکس یا لگان کے بدلے میں وہ اپنا  راج محفوظ رکھ سکتے ہیں.  یہ ایک سامراجی چال تھی. اس محفوظ حکمرانی کا جال انگریز نے آہستہ آہستہ پورے ہندوستان میں پھیلا دیا.  بظاھر تو سارے راجے مہاراجے انگریز کے زیرتسلط اپنا بھرم قائم رکھے ہوے تھے لیکن اصل حکمران ٹیکس لگانے والا انگریز تھا. وہ یہ حکمرانی مقامی فوج کے زور پر کرتا تھا.  وقت گزرنے کے ساتھ حکمران طبقہ جس میں انگریز،  راجہ مہاراجہ اور اعلی مقامی فوجی افسران شامل تھے ایک دوسرے سے ثقافتی طور پر بھی قریب آتے چلے گئے. انگریزی زبان ،  برطانوی رسم و رواج مثلا لباس اور طور طریقے مقامی حکمرانوں اور اعلیٰ فوجی افسروں کی زندگی کا حصّہ بننے لگے . رمز نے کہا . آج بھی کسی فوجی میس کی تقریب میں چلے جائیے تو  برطانوی انداز واضح طور پر دکھائی دیں گے . یہی صورتحال خان بہادر قسم کے حکمران طبقہ کی تقریبات کی بھی ہے .  ایسا کیوں ہے ؟ پروف بولے . انگریز  نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت حکمران طبقے کے نو عمر بچوں کو برطانیہ بھیج کر مقامی کٹھ پتلی حکمران تیار کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا ۔  مہاراجاؤں کے آٹھ دس سالہ بچوں کو برطانیہ  بھیجا جاتا. وہیں ان کی سکولنگ ہوتی.  وہ آکسفورڈ میں پڑھتے اور پوری طرح برٹش بن کر واپس آتے تاکہ وہ یہ ڈرامہ جاری رکھ سکیں اور اصل اقتدار انگریز کے پاس ہی رہے. انگریز ماہرین تعمیرات نے ان راجہ مہاراجاؤں کے محل ڈیزائن کئے اور  برطانوی طرز کی اندرونی آرائش ترتیب دی . یوں انہوں نے مقامی حکمرانوں کو اپنے ثقافتی رنگ میں رنگا .  جب پورے ہندوستان میں یہ نظام پھیل گیا تو انگریز نے اس وعدے کی پاسداری سے بےوفائ کرنا شروع کردی.  اب وہ چھپ کر نہیں بلکہ کھل کر اور سامنے آکر حکمرانی کرنا چاہتا تھا۔  انگریز نے یہ کام بھی بہت چالاکی سے کیا.  پہلے قدم میں اس نے مہاراجہ سے ساری سیاسی طاقت کھینچ کر اپنے ہاتھ میں کرلی لیکن انھیں محلات اور اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے علامتی طور پر اپنا خطاب قائم رکھنے کا اختیار دیا.  مہاراجاؤں کی ظاہری شان و شوکت ویسی ہی .  آباء و اجداد کی شاندار تصویریں دیواروں پر آویزاں اور محلات کی آرائش میں وہ ہی بادشاہ بنے نظر آتے تھے لیکن درحقیقت ان کی کوئی حیثیت نہ  تھی.  سارا اختیار اور طاقت انگریز بہادر کے ہاتھ میں تھی ——- جاری ہے

|     |

فوجی راج ، سامراج ، تیسرا انشا Military rule, IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 3RD EPISODE

Narration by: Shariq Ali
January 20, 2019
retina

The local army was the right hand of British imperialists before independence and ruled in South Asia as the domestic imperialist power thereafter

 

 

فوجی راج ، سامراج ، تیسرا انشا ، ویلیوورسٹی ، شارق علی

تاج محل کیسا تھا ان دنوں ؟  میں نے بانو امی کے ہاتھ کا بنا لذیز سوجی کا حلوہ نگلتے ہوے اٹھلا کر پوچھا. بولیں . تاج محل ہمارے لئے کوئی عجوبہ نہیں بلکہ مستقل ساتھ کا احساس تھا . میرے لئے تو آگرے کا تاج محل کے بغیر تصور بھی ممکن نہیں . جب لوگ کہتے ہیں کہ اس کی عمارت کو خطرہ ہے تو مجھے لگتا ہے جیسے پورے ہندوستان کو خطرہ ہے . عمارت تو دلکش ہے ہی لیکن ہمارے  بچپن کی ساری حیرانی عمارت تک پوھنچنے سے پہلے ہی مغلیہ طرز کے حسین باغوں کو دیکھ کر شروع ہو جاتی تھی.  مزہ بھی بہت آتا کیونکہ ان باغوں میں ہمیں گھومنے بلکہ دوڑنے کی بھی خوب آزادی تھی. انہی باغوں میں بیٹھ کر گھر سے لا ے لذیز کھانے کھاے جاتے.  ساتھ ہی بہتے  دریا میں ہمارے بھای بلا خوف و خطر میل ڈیڑھ میل کی تیراکی کرتے اور ہم اونچے چبوترے پہ کھڑے انھیں دیکھا کرتے. میں تو کہتی ہوں زندگی کی طرح تاج محل کا حسن بھی توازن ہی ہے . سفید سنگ مرمر کی  حسین عمارت کے ارد گرد چار قابل دید مینار. بیان کیا کروں . وہاں جا کر دیکھو گے تو سمجھو گے . رمز نے پروف سے پوچھا . انیس سو سینتالیس کی آزادی کے بعدکیا سامراجیت کا خاتمہ ہو گیا تھا ؟ بولے . جب ہم انگریز سے آزاد ہوے تو یہ ایک قدم آگے کی پیش رفت ضرور تھی لیکن بدقسمتی سے کہیں کم کہیں زیادہ اس خطّے کے ملکوں میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار کو ہر صورت اپنے ہاتھ میں رکھنے کی سامراجی عادت اپنا لی کیونکہ برطانوی نظام کی جڑیں بہت گہری تھیں . آج بھی ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں میں رائج حکم ، ہدایات اور عملداری کی زبان اور طریقہ کار برطانوی نظام کے ما تحت ہے . انھوں نے انگریزی اور مقامی زبان کو ملا کر ایک ایسی فوجی زبان اور ذہنیت تشکیل دی تھی جس کی حکمرانی آج تک قائم ہے۔ سترہ سو اٹھاون میں قائم ہوئی مدراس رجمنٹ اس نظام کا سب سے پہلا قدم تھا.  مدراس رجمنٹ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لو بیشتر جنگیں جو اب تک لڑی گئیں ان میں سے اکثریت برطانوی مفادات کی حفاظت  کے لئے تھیں. آج بھی سرحد کے دونوں جانب نوجوان فوجی افسران ان رائج برطانوی روایات کے بارے میں نا پسندیدگی یا منفی جذبات نہیں رکھتے کیونکہ وہ انہیں خالص فوجی روایات سمجھتے ہیں.   تو گویا آج بھی وہ تاریخ کا شعور نہ ہونے کی وجہ سے برطانوی طرز کی مقامی سامراجی ذہنیت کے آلہ کار بنے ہوے ہیں اور اپنے ہی معصوم عوام پر ظلم سے بھرپور حاکمانہ اختیار کو درست سمجھتے ہیں . سوفی کیک کا ٹکڑا اٹھاتے ہوے بولی.  اخلاقی جواز کے بغیر حکمرانی کیسی؟ پروف بولے . پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے زیر تسلط علاقوں میں بسنے والے فوجیوں نے دنیا بھر میں برطانوی مفادات کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں دی تھیں. آخر کیوں ؟ کیا ان کے پاس برٹش راج کے مفادات کی حفاظت کا کوئی اخلاقی جواز موجود تھا ؟ یہ کڑوا سچ ہے  کے انہوں نے کرائے کے سپاہی کی حیثیت سے یہ خدمات سرانجام دیں . دولت ، جاگیر اور خطابات کے لئے یہ جنگ لڑی . سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا آج بھی اس خطے کی فوجیں برٹش راج کی تلخ یادوں کو زندہ کیے ہوئے ہیں؟ کیا وہ سامراجی طاقت بن کر اپنے ہی عوام پر اپنی مرضی اور اپنے مفادات کا تحفظ تھوپنا چاہتے ہیں؟ حالاں کہ آزادی کے بعد ان کی سوچ اور طرز عمل میں عوام کے مفادات کا خیال  اولین ہونا چاہیے تھا . یہ ایک المیہ ہے کہ آزادی سے پہلے فوج برٹش امپیریلزم  کی دست راست تھی اور آزادی کے بعد انہوں نے ایک مقامی امپیریلزم تخلیق کر لیا اور خود انگریز کی جگہ مفاد پرست اشرافیہ کے ساتھ مل کر حکمرانی کے منصب پر بیٹھ گئے ۔ آج کے نوجوان فوجی افسر اپنے سینئر افسران کی دیکھا دیکھی اختیار اور مفادات کو  جو انگریز سامراج نے انہیں ظلم کرنے پر  بطور انعام عطا کئے تھے ، اپنا جائز حق تسلیم کرتے ہیں —– جاری ہے ،  ویلیوورسٹی ، شارق علی

|     |

کالے صاحب ، سامراج ، انشے سیریل ، دوسرا انشا Kalay Saheb, IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 2nd EPISODE

Narration by: Shariq Ali
January 19, 2019
retina

British had insufficient manpower to rule India. A ruling system was devised headed and paid by British called Kalay Sahebs. Comprised of local landlords, mercenaries and native bureaucracy

 

 

کالے صاحب ، سامراج ، انشے سیریل ، دوسرا انشا ، ویلیوورسٹی، شارق علی

پروف  انگریز سامراج کے آغاز کی بات کر رہے تھے. بولے.  پندرھویں صدی کی سفاکانہ غلام تجارت اور یورپ کے ساحلوں پر قزاقی کے تجربے اور روشن خیالی کے پھیلاؤ  نے یورپی اقوام کو سائنسی اور فوجی خاص طور پر بحری قوت کے لحاظ سے طاقتور بنا دیا تھا. جب غلام تجارت پر پابندیاں لگنی شروع ہوئیں تو انہوں نے کم ترقی یافتہ دنیا کے وسائل کی بندر پانٹ کو اخلاقی جواز دینا شروع کیا کہ وہ ان ملکوں پر تسلط سے پسماندہ اقوام کی ثقافتی ترقی اور عیسایت کی ترویج کا سبب بنیں گے. حالانکہ اصل محرک لالچ تھا تاکے دولت اور وسائل پر قبضہ کیا جاسکے.  وقت نے ثابت کیا کہ ہندوستان سے برطانیہ نے جو دولت،  افرادی قوت اور پیداواری صلاحیت حاصل کی یہ اسی لوٹ مار کا نتیجہ تھا کہ وہ  پوری دنیا پر حکمرانی کے قابل ہو سکا.  اس میں شک نہیں کہ برطانوی ذہنی صلاحیت اور تنظیم نے اور ساتھ ہی ساتھ سیاسی سوجھ بوجھ، ظلم اور عیاری نے آنے والے طویل عرصے تک اس حکمرانی کو قائم  رکھا لیکن بنیادی طاقت ہندوستان کے وسائل تھے جو غصب کیۓ گئے ۔ سب سے پہلے تو برطانیہ نے میڈیٹرینین کے اردگرد کے علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کی۔ پھر افریقہ کے کئی علاقوں پرجھنڈا گاڑا اور پھر وہ بحر ہند میں موریشس پر قابض ہوئے۔۔ پھر موجودہ سری لنکا پر اور آخرکار سنگاپور پر. دیکھتے ہی دیکھتے  پوری دنیا یہ جان گئی کہ برطانیہ جو بذات خود ایک چھوٹا سا ملک ہے ایک عالمی طاقت بن کر ابھر رہا ہے جس کو چیلنج کرنا ممکن نہیں ۔ سوفی نے بات بدلتے ہوے بانو امی سے پوچھا. اس زمانے کا فیشن اور شاپنگ ؟ مسکرا کر بولیں. فیشن اور شاپنگ تو دور کی بات ہے  خواتین کا اکیلا بازاروں میں نکلنا معیوب بلکہ نا ممکن تھا.  صرف مینا بازاروں میں سخت پردے میں آزادی سے خریداری کی جا سکتی تھی.  ایک بار میں اور انوری جو میری چھوٹی بہن ہے  نے والد سے ضد کی بازار گھمانے  لے چلیں . ہم دونوں کیوں کہ کم عمر تھے اس لئے یہ پابندیاں ابھی ہم پر عائد نہ ہوئیں تھیں . کریم اللہ جو ہمارا گھریلو ملازم بلکہ اب تو خاندان کا فرد  تھا اور برسات میں  موڈ میں انے پر غضب کی کچوریاں بناتا تھا، ہمیں بازار لے جانے کے لئے بگھی گھر کی دہلیز تک لے آیا.   بازار کی چہل پہل دیکھنا اور اپنی مرضی سے ایک ہی تھان سے بنا دونوں بہنوں کا ایک سا پھولدار جوڑا خریدنا اور ملکہ وکٹوریہ کا مجسمہ دیکھنا ہم دونوں کے لئے  ایک انوکھا تجربہ تھا. گھر واپسی کے راستے میں تھے تو ہٹو بچو انگریز سرکار کی سواری کا شور مچا. بگھی ایک طرف کھڑی ہوئی تو میں نے بند چلمن کو نیوڑھا کے دیکھا.   آگے پیچھے  بھاگتے نیکر پہنے سپاہی اور تین گھڑ سوار . آگے تو گورا چٹا انگریز تھا  اور ذرا پیچھے ہم تم جیسے افسر . حیرت ہوئی کہ یہ انگریز سرکار ہے یا ڈپٹی کلکٹر کی سواری. رمز بولا حیرت کی بات تو ہے اتنا چھوٹا ملک اور اتنا بڑا قبضہ ؟ پروف بولے . اصل میں یہ تمام فتوحات انتہائی نازک توازن پر قائم تھیں. وجہ یہ تھی کہ برطانیہ کی افرادی قوت بہت محدود تھی اور  وہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے خطوں پر براہ راست حکمرانی کے قابل نہ تھا . برطانوی ذہن  نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک مربوط نظام تشکیل دیا،  کالے صاحب کا نظام ۔  انہوں نے مقامی لوگوں کو اپنے حق میں جنگ کرنے اور حکمرانی کرنے کے لیے خطابات ، انعامات اور جاگیروں سے نواز کر ایک ایسی مقامی فوج اور بیوروکریسی تشکیل دی جس کی مدد سے وہ  اتنے بڑے وسیع علاقے پر حکمرانی کو عملی طور پر ممکن بنا سکے. یعنی بیشتر فوج مقامی ہندوستانی سپاہیوں اور افسروں پر مشتمل اور انتظامی مشینری مقامی مگر ان کی سربراہی برطانوی افسران کی۔  مقامی وسائل کی لوٹ مار اور مقامی مفاد پرست افراد کو ذہانت کے ساتھ استعمال کرنے کی وجہ سے آنے والے دو سو برس برطانیہ نے نہ صرف ہندوستان بلکہ بیشتر دنیا  پر کامیاب حکمرانی کی……جاری ہے

|     |

سامراج ، ابتدا ، انشے سیریل ، پہلا انشا Imperialism, Introduction, Inshay Serial, 1st episode

Narration by: Shariq Ali
January 16, 2019
retina

Let’s look at the British Raj on the subcontinent from the eyes of Bano Ammi, a common citizen born in undivided India. Prof takes you through a historical journey simultaneously.  Lots of insight about Colonial and postcolonial era

 

 

سامراج ، ابتدا ، انشے سیریل ، پہلا انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

پروفیسر گل کی والدہ بانو امی فہم آبادکیا آئیں ہمارے معمولات زندگی میں انقلاب آگیا.  اب شام کی محفلیں ٹی ہاؤس کے بجائے پروفیسر گل کے بنگلے پر ہونے لگیں . جلد ہی وہ پورے کیمپس کی ہردلعزیز بزرگ بن گئیں.  عمر پچاسی کے قریب لیکن ذہنی طور پر بالکل تروتازہ. کھچڑی بال ، مہربان مسکراہٹ، درمیانہ قد اور دبلی پتلی،  بچپن تقسیم سے پہلے کے ہندوستان میں گزرا تھا.  اس حوالے سے بہت سی حسین یادیں وہ اکثر سنایا کرتیں. اس شام سوفی کے استفسار پر بولیں . میری پیدائش تقسیم سے پہلے کے آگرہ میں ہوئی. والد جنھیں ہم میاں کہتے تھے جوتوں کے دو کارخانوں اور کئی دکانوں اور مکانوں کے مالک تھے.  گھر میں خوشحالی تھی لیکن آنکھ کھولتے ہی پہلی محرومی والدہ کی کم عمری ہی میں وفات تھی . ابا اور بڑے بھای بہنوں کی محبت اور عم زادوں کے ساتھ دھما چوکڑی  نے کبھی اس کمی کو شدت سے محسوس تو نہ ہونے دیا لیکن پھر بھی محرومی کا یہ  احساس اندر ہی اندر کہیں دور تک بس گیا اور ساری عمر ساتھ رہا . میں تھی بھی بہت چٹاخ پٹاخ اور گڑیا سی لڑکی.  والد کو بہت پیاری تھی.  اس دور کے مسلم گھرانوں کے روایتی مذہبی ماحول کی بندشوں کے باوجودمیرا بچپن گھر کے وسیع دالان میں بارشیں نہاتے، آم کے درختوں پر جھولا جھولتے اور چھت پر آے بندروں کی ٹولیوں سے اٹھکیلیاں کرتے گزرا .   آج بھی دریا  کے کنارے تاج محل اور فتح پور سیکری کی تاریخی عمارتوں کے درمیان کسی آزاد پرندے کی طرح گزرا ہنستا کھیلتا بچپن خوب یاد ہے . پہلی بار کسی کمی کا احساس ہوا تو وہ اسکول جانے کی اجازت سے انکار تھا.  میری تعلیم کا بندوبست گھر ہی پر کیا گیا. عربی کی روائتی تعلیم اور اردو میں ہر قسم کی لکھنے پڑھنے کی مہارت کے بعد یہ سفر ذاتی طور پر بھائیوں کی اسکول کالج کی کتابوں کو پڑھتے رہنے اور پھر تمام عمر ہر موضوع پر کتابیں پڑھنے سے جاری رہا . شاید اسکول جانا میری زندگی کی سب سے بڑی آرزو تھی جو والد کی محبت ملنے کے باوجود پوری نہ ہوسکی ۔لیکن میں نے اپنے بھائیوں کی سکول اور کالج کی کتابیں جس شوق سے پڑھیں شاید انھوں نے خود بھی نہ پڑھی ہوں گی.  اس محرومی کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے اپنی اولاد کو علم حاصل کرنے کی محبت ورثے میں دی.  تمھارے پروفیسر گل سامنے کی مثال ہیں۔ رمز نے کہا . بانو امی کی کہانی انگریز سامراج کے زیر نگیں ہندوستان میں بسنے والی ایک عام زندگی کی بھر پور نمائندہ ہے. ہم اسے تفصیل سے سننا چاہیں گے . لیکن پروف کیا ہی اچھا ہو اگر آپ انگریز سامراج کے تاریخی پس منظر کی کہانی بھی ساتھ ساتھ سناتے چلے جایں . آخر وہ کون سے اسباب اور وجوہات تھیں جن کی بنا پر برطانیہ جیسے چھوٹے سے ملک نے پورے ہندوستان بلکہ دنیا کے ایک بڑے حصّے پر حکمرانی کی؟  اتنے وسیع و عریض علاقے پر حکمرانی کے لئے تو ان کے پاس افرادی قوت بھی مہیا نہیں تھی. پھر کیسے وہ ہم سب کو غلام رکھ سکے ؟ سوفی بولی . سامراجیت نے اس خطے کے عام لوگوں کی زندگی ، ان کی  ثقافت،  زبان اور معاشرت پر کیا اثرات مرتب کیے ؟. پروفیسر گل نے کہا.  بہت اچھا خیال ہے.  یہ گفتگو ہندوستان اور پاکستان میں بسنے والے بہت سے لوگوں کے لئے اپنے ماضی کو سمجھنے اور اس سے  سیکھنے کا بھرپور موقع فراہم کرے گی . پھر چاے کا بڑا سا گھونٹ لے کر بولے . انگریز سامراجی سلطنت جس پر کبھی سورج غروب نہ ہوتا تھا ہندوستان ہی سے شروع ہوئی۔ یہیں انگریز نے دُنیا پر حکمرانی کے طریقے سیکھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ معاہدہ جس نے اس خطے کی دو سو سالہ قسمت کا فیصلہ کیا وہ یہاں سے ہزاروں میل دور پیرس میں طے  پایا . کئی  برس طویل آپس کی یورپی جنگوں کے بعد برطانیہ ، فرانس ، اسپین اور پرتگال کے نمائندے  فروری سن سترہ سو تریسٹھ میں پیرس ٹریٹی میں اس بات پر متفق ہوے کہ برسوں سے جاری آپس کی جنگ کا خاتمہ کیا جاۓ  اور بقیہ غیر ترقی یافتہ دنیا کی بندر بانٹ کر لی جاے ۔ کینیڈا سے افریقہ تک پھیلی ایک وسیع دنیا کو آپس میں تقسیم کر لیا جاۓ . ان مذاکرات میں برطانیہ کی نمائندگی ڈیوک آف بیڈفورڈ نے کی ، ایک مغرور اور مفاد پرست انگریز جس  نے کبھی ہندوستان کا سفر نہ کیا تھا.  اس کی عیار سیاسی سوجھ بوجھ نے ان امن مذاکرات سے برطانیہ کے لئے بے حد دوررس مفادات حاصل کر لئے.  برطانیہ کو  ہندوستان پر تسلط کا حق مل گیا . اسی فیصلے نے بالآخر برطانیہ کو عالمی سامراجی طاقت بنایا—— جاری ہے

|     |

پرسکون نیند ، فکر انگیز انشے Sound sleep, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
January 9, 2019
retina

Sound sleep is essential for health and wellbeing. It ensures physical and mental health and quality of life

 

 

پرسکون نیند ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

پرسکون نیند اچھی صحت کے لئے بے حد اہم ہے.  چند سادہ سے اصول اپنا کر ہم اسے حاصل کرسکتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ جاگنے اور سونے کے اوقات منظم ہونے چاہییں۔ اور کچھ رعایت کے ساتھ یہ اصول چھٹی کے دنوں پر بھی لاگو ہوتا ہے .  وجہ یہ ہے کہ ہمارا جسمانی اورذہنی نظام جس میں ہمارا سونا اور جاگنا شامل ہے ایک اندرونی گھڑی کے ماتحت ہوتا ہے۔ اگر ہمارے سونے اور جاگنے میں باقاعدگی ہو گی تو ہمارا جسم اور ذہن قدرتی طور پر ہم آہنگ رہے گا ۔ بہتر ہوگا کہ ہم سونے سے ذرا پہلے سونے کی تیاری میں کچھ وقت صرف کریں۔ جیسے دھیمی روشنی کا استعمال اور دانت صاف کرنے کے بعد کسی دلچسپ اور پرلطف کتاب کا مطالعہ۔ ایسے ٹی وی پروگرام یا فلم دیکھنے سے پرہیز کیجیے کہ جو آپ کے جذبات اور احساسات کو بھڑکا سکتی ہیں کیوں کہ اس سے  پرسکون نیند میں خلل پڑنے کا امکان ہے۔ رات میں ایک لمبی نیند لینا ان لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہے جو دن میں کئی بار چھوٹی چھوٹی نیند لینے کے عادی ہوں۔ دوپہر کو یا چھوٹے چھوٹے وقفوں میں سونے کی عادت سے چھٹکارا حاصل کیجیے۔ ہلکی ورزش نہ صرف صحت کے لئے اچھی عادت ہے بلکہ پرسکون نیند کے لئے بھی بہت مددگار ہوتی ہے۔ اگر لمبی نیند آپ کے لئے ایک مشکل مرحلہ ہے تو اپنے کمرے کے ماحول پر ذرا نظر کیجیے.  کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کا کمرہ سونے کے اوقات میں بہت گرم یا بہت ٹھنڈا ہوتا ہے؟  اس میں روشنی کا انتظام مناسب نہیں.  مثلا بہت تیز روشنی موجود ہے. یا کھڑکیاں کھلی ہونے کی وجہ سے شور بہت زیادہ ہے.  یا کسی اور کے خراٹے آپ کو جاگنے پر مجبور کرتے ہیں.  آپ ان میں سے کسی بھی مسئلے پر مناسب کارروائی کرکے پر سکون نیند کے لئے کمرے کا ماحول بہتر بناسکتے ہیں. جس بستر اور تکیے کا استعمال آپ سونے کے دوران کرتے ہیں کیا وہ جسمانی طور پر آپ کے لئے آرام دہ ہے ؟ اگر نہیں تو اس سلسلے میں مناسب تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں . اب آپ سے اجازت —- وییلوورسٹی، شارق علی

|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,311 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina