retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Monthly Archive: December 2018

تبدیلی کی قبولیت ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Coping with change, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
December 10, 2018
retina

Change can be uncomfortable, stressful or even scary. We are scared of the unknown. Thinking through different possible outcomes and deciding what would be the best in a worst-case scenario is one solution. There are many others

تبدیلی کی قبولیت ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

تبدیلی قبول کرنا کسی کے لئے بھی آسان نہیں .  لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ زندگی مستقل تبدیلی کا سفر ہے. کون جانے کب ہمیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے . وہ جو ہمیں بہت عزیز ہیں نجانے ہم سے کب جدا ہو جائیں.  ہو سکتا ہے ہمیں اپنا وطن یا شہر چھوڑ کر کسی نئے مقام پر آباد ہونا پڑے، یا محض معاشرے میں ہونے والی تبدیلیاں ہمارے لیے بے چینی کا سبب بن جایں . بہتر بات یہ ہو گی کہ ہم ایسی تمام تبدیلیوں سے مثبت انداز سے نمٹ سکیں . تبدیلی قبول کرنے کا پہلا قدم  ہے ’’ ذہنی قبولیت ‘‘. یعنی ہم ذہنی طور پر تبدیلی کے لیے خود کو تیار کریں.  یہ تبھی ممکن ہے جب ہم تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ذاتی محسوسات کو تسلیم کریں. ان کا مہذب انداز میں اظہار کریں۔ اگر ہمارا کوئی عزیز ہم سے جدا ہو گیا ہے تو بلا جھجک اس بات کا غم منائیں.  اگر نوکری کے دوران جائز حق سے محروم کر دیا گیا ہے تو غصے اور مایوسی کا اظہا ر با لکل مناسب ہے. لیکن اس اظہار میں تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ اگر ہم معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں سے مطمئن نہیں تو اپنے دوستوں سے اور وہ لوگ جن پر ہم اعتماد کرتے ہیں، اپنے خیالات کا برملا اظہار کریں . لیکن ساتھ ہی ساتھ خود کو ذہنی طور پر اس بات پر تیار کریں کہ زندگی تبدیلیوں ہی کا تو نام ہے  ۔پرانا دور اور قدریں کبھی بھی برقرار نہیں رہتیں . ارتقائی عمل زندگی کا لازمی جزو ہے. ہمارا وجود کسی صورت تبدیلیوں سے آزاد نہیں رہ سکتا.  تبدیلیاں ہی نئے امکانات کو جنم دیتی ہیں.  پھر ہر تبدیلی کے تناظر کو سمجھنے کی کوشش کریں  ۔ جذباتی انداز میں نہیں بلکہ مثبت طرز فکر کے ساتھ. ایسا کرنے کے لیے ہم خود سے کچھ سوالات کر سکتے ہیں۔  مثلاً یہ کہ مجھے یہ تبدیلی کیوں پسند نہیں اور یہ بھی کہ اس تبدیلی کہ نتیجے میں وہ کون سی صورت حال ہے جس نے مجھے خوف زدہ کر رکھا ہے ؟  اور کیا یہ خوف حقیقت پسندانہ ہے ؟  پھر اپنی زندگی میں موجود خوشگوار پہلوئوں پر نظر ڈالیے.  کیا اس تبدیلی کے باجود آپ کی زندگی میں اس قدر مثبت پہلو موجود ہیں کہ آپ کو پریشان ہونے کے بجائے زندگی کا شکر گزار ہونا چاہیے ۔ اپنی زندگی میں موجود ہر اچھی بات کوذہن میں رکھیے مثلاً یہ کہ آپ کے پاس سونے کے لیے بسترموجود ہے ، کھانے کے لیے غذا اور دل لبھانے کے لیے سورج ڈوبنے کا حسین منظر ، گرم چائے کا کپ ، کچھ فرصت اور دوستوں سے گفتگو کی آسائش میسر ہے . کسی بھی نعمت کو اپنا حق مت سمجھئے بلکہ شکر گزاری کا رویہ اختیار کیجیے ۔ اس انداز فکر کے ساتھ آپ تبدیلی کے روشن پہلو کی طرف متوجہ ہو سکیں گے . اگر ایک نوکری چھوٹ گئی ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس کا مثبت نتیجہ ایک اور بہتر نوکری کی صورت میں نکلے.  اگر کوئی دوست آپ سے جدا ہوا ہے تو ہو سکتا ہے کہ یہ صورت حال آپ دونوں کے لیے بہتر ہو . تبدیلی کے نتیجے میں خود میں پیدا ہونے والی بے چینی کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ ہر تبدیلی ہمیں اپنے اندر دیکھنے کا مواقع فراہم کرتی ہے.  ہو سکتا ہے کہ کسی عزیز کی موت سے پہلے ہم  نے یہ سچ قبول نہ کیا ہو کہ زندگی عارضی ہے.  اور ہمیں دوسروں کے سہارے نہیں خود اپنے سہارے زندگی گزارنا ہوتی ہے. ہو سکتا ہے ہماری جذباتی ناہمواری زندگی کو پوری طرح سمجھنے میں ناکام رہی ہو اور یہ وقت ہے زندگی کے سچ سے آنکھیں چار کرنے کا ۔ ہو سکتا ہے تبدیلی خود آپ سے آپ کا بھر پور تعارف ثابت ہو.  آپ اپنی ذات میں سمجھوتہ کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت سے پہلی بار پوری طرح واقف ہوں۔ آپ یہ دریافت کریں کہ آپ میں صبر اور برداشت کی کس قدر حیرت انگیز صلاحیت موجود ہے.  ہو سکتا ہے تبدیلی آپ کے لیے ایک نئے سفر، ایک نئی کامیابی کا آغاز ہو.  جب آپ ذہنی طور تبدیلی کو قبول کر لیتے ہیں تو پھر مستقبل کی منصوبہ بندی اور نئے امکانات کی طرف پیش رفت آسان ہو جاتی ہے . اپنی انفرادی زندگی اور اجتماعی دنیا کو بہتر بنانا آپ کی ذمہ داری ہے. یقین رکھیے کہ تبدیلیوں کا مقصد آپ کو اور آپ کی دنیا کو بہتر بنانے کے علاوہ کچھ اور نہیں ۔ اب آپ سے اجازت چاہوں گا —— ویلیو ورسٹی ۔۔ شارق علی

|     |

شخصی اختلاف سے گذارا ، فکر انگیز انشے Ego clashes, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
December 3, 2018
retina

Ego clashes can be nasty and destructive for relationships and workplace environment. Here are few suggestions to prevent such conflicts

 

 

شخصی اختلاف سے گذارا ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

کسی ایسے شخص کے ساتھ کام کرنا یا رشتہ بحال رکھنا بعض اوقات بہت مشکل ہوتا ہے جس کی شخصیت ہماری شخصیت سے مختلف یا متنازع ہو. اس  پرسنیلٹی کلیش یا شخصی اختلاف کی وجہ سوچنے کا انداز ، روز مرہ کا رویہ یا زندگی گذارنے کے بنیادی فلسفہ میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ زندگی اور انسانی حالات کی مجبوری یہ ہے کہ بعض اوقات ہمیں ایسی مشکل صورت حال میں بھی کسی نہ کسی طور آپس میں گذارا کرنا ہوتا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ ایسی صورت حال میں دانش مندانہ طرز عمل کیا ہو گا . ہو سکتا ہے آپ کو یہ بات بہت عجیب لگے لیکن یہ بات اہم ہے کہ آپ ایسے شخص میں دلچسپی لینا شروع کردیں.  اُس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے اور اس پر غور کرنے سے آپ کو یہ آگاہی حاصل ہو گی کہ اُس شخص کے حوالے سے آپ کے اور اس کے درمیان بنیادی پرابلم کیا ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اُس شخص سے آپ کی حد سے بڑھی ہوئی توقعات بنیادی مسئلہ ہیں؟  ہو سکتا ہے کہ آپ بنیادی وجہ تک پہنچ کر جب  اُس کا تجزیہ کریں تو آپ کو یہ اختلاف بہت بچکانہ یا احمقانہ محسوس ہو یا اس کا حل بالکل سامنے دکھائی دے . لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اختلاف حقائق پر مبنی ہو. جب آپ یہ تجزیہ مکمل کرچکے ہوں تو پھر بغور اپنے طرز عمل پر نگاہ ڈالیے. کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی ماضی کے تلخ تجربہ کو یا سُنی ہوئی کسی افواہ کو بنیاد بنا کر آپ نے اُس شخص کو ناپسندیدہ قرار دے دیا ہو.  اور منفی رائے نے آپ کے طرز عمل کو منفی بنا دیا ہو . آپ ایسے شخص کو مثبت رویے کے لئے گنجائش فراہم ہی نہ کرتے ہوں ؟ ہو سکتا ہے کہ آپ کسی محفل میں بیٹھ کر اُس کی رائے کو یکسر رد کر دیتے ہوں.  کو شش کر کے اُس کی بات ذرا غور سے سنیے اور اُس میں مثبت پہلوئوں کو تلاش کیجیے.  اُس کے نکتہ ء نظر کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ در گزر سے کا م لے کر ایک انسان کی حیثیت سے اُسے ایک اور مواقع دیجیے۔ صرف اپنے سچ کو سچ نہ سمجھیے بلکہ اُس کے سچ پر بھی غور کیجیے۔  بعض اوقات غیر حقیقی اور منفی توقعات مایوسی سے دوچار کر دیتی ہیں.  ہم میں سے کوئی بھی شخص مکمل نہیں.  اگر ہم مثبت پہلوئوں پر نظر رکھیں اور ایسے منفی پہلو وٗں کو نظر انداز کردیں جو تنازعہ کا باعث ہیں تو صورت حال بہتر ہو سکتی ہے.  لوگوں کو جیسے کہ وہ ہیں ویسا ہی قبول کرنا دانشمندی ہے.  ایسا کر کے نہ صرف آپ دوسروں کو موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ خود اپنے اندر بھی منفی تنائو کو کم کرتے ہیں.  اختلاف کی صورت میں بحث و مباحثہ سے پرہیز اور اُس کی جگہ عزت و احترام میں اضافہ ایسی انقلابی تبدیلی کا باعث بنے گا کہ آپ حیران رہ جائیں گے.  اگر ہم مہذب ، خوش اخلاق اور پروفیشنل رویے کو مستحکم رکھیں اور ٹھنڈے دل ودماغ سے معاملات کو طے کریں اور یہ قبول کر لیں کہ ہم ہر قسم کے معاملات اور لوگوں کو اپنے قابو میں نہیں رکھ سکتے اور منفی صورت حال میں فوری طور پر ری ایکٹ کرنے سے پرہیز کریں تو شخصی اختلاف کی حیثیت ثانوی رہ جاتی ہے۔ ان چند تجاویز کے ساتھ اب آپ سے اجازت——- ویلیو ورسٹی، شارق علی

|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,728 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina