retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Monthly Archive: October 2018

انسانی حقوق ، فکر انگیز انشے Human rights, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
October 28, 2018
retina

Everyone has the right to life, education, choice of religion, equal justice, freedom of opinion and expression and so on. What shall we do if see otherwise?

 

 

انسانی حقوق ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

ہم سمیت ہروہ شخص جو اس دنیا میں سانس لے رہا ہے چاہے وہ کسی بھی صنف ، نسل، قومیت ، مذہب، فرقے ، یا عقیدے سے تعلق رکھتا ہو اور اُس کی سماجی حیثیت یا پہچان کچھ بھی ہو وہ بنیادی انسانی حقوق کا حقدار ہے ۔ کسی فرد یا اکثر یتی گروہ یا حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یہ بنیادی حقوق سلب کر سکے ۔ ویسے تو اس سلسلے میں بین الاقوامی قوانین بھی موجود ہیں لیکن ہر فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان حقوق سے آگاہ ہو اور ان کا تحفظ اور دفاع کر سکے ۔ ۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ نے بنیادی عالمی حقوق کی فہرست جاری کی تھی مثلاَ زندگی، مساوات اور آذادی کا حق ، تعصب ، غلامی اور تشدد سے تحفظ ، قانون کے سامنے برابری، منصفانہ عدالتی سہولت ، اپنے ملک کے ہر گوشہ میں گھومنے کی آزادی ، شادی کرنے، خاندان کی تشکیل اور جائیداد بنانے کا حق ، اپنی سوچ کے مطابق مذہب اختیار کرنے کا حق ، سیاسی رائے رکھنے اور اُس کے اظہار کا حق، فہرست بہت طویل ہے لیکن آپ کے ذہن میں بنیادی خاکہ بن چُکا ہو گا اس لیے میں مزید تفصیل سے پرہیز کروں گا. گویا ہر شخص سیاسی، معاشی اور مذہبی ترجیحات کا حق رکھتا ہے اور اُسے اپنی پسند اور ثقافت کے مطابق زندگی گذارنے کا حق حاصل ہے ۔ ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذات اور دیگر انسانوں کے لیے ان حقوق کا تحفظ ممکن بناے.  سب سے پہلی بات تو  ہے آگاہی اور یہ عزم کہ خود اپنے لیے اور دوسروں کے لیے ان حقوق کا دفاع کیا جاے ۔ میری اس مختصر سی تحریر کا مقصد یہ ہے کہ نوجوانوں میں اس موضوع پر تفصیلی مطالعہ کے جوش کو بیدار کیا جاے. انھیں بتایا جاے کہ اگر وہ چاہیں تو کسی قابلِ اعتماد انسانی حقوق کی تنظیم میں حصہ دار بن سکتے ہیں یا ایسی تنظیموں کے تحت ہونے والے کسی خاص موضوع پر جلسے میں شرکت کر سکتے ہیں.  یا پھر گھر بیٹھے ایسی قومی اور بین الاقوامی تنظیموں کی ویب سائیٹ کو وزٹ کر سکتے ہیں ۔ اگر آپ کسی خاص موضوع کے متعلق زیادہ حساس ہیں تو آن لائن پٹیشن میں حصہ دار بن سکتے ہیں . آپ ایسے سیاسی رہنمائوں کو زیادہ اہمیت دے سکتے ہیں جو انسانی حقوق کے حوالے سے واضع ایجنڈا رکھتے ہیں . اگر آپ اپنے ارد گرد انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتا دیکھیں تو اُسے تحریری طور پر انسانی حقوق کی تنظیموں تک پہنچا سکتے ہیں  لیکن اُس واقعہ کا وقت، مقام ، اور تاریخ اور اُس واقعہ میں شامل تمام افراد کا نام لکھنا انتہائی اہم ہے تا کہ کوئی عملی قدام اُٹھانا ممکن ہو سکے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایسی بہت سی تنظیمیں موجود ہیں مثلاَ ایمنسٹی انٹرنیشنل ،  ہیومن رائیٹس ایکشن سینٹر ، چلڈرنز ڈفینس فنڈ  اور بہت ساری اور.  یہ ادارے اگر مسلہ بہت سنجیدہ ہو تو اسے اقوامِ متحدہ تک لے جا سکتے ہیں ۔ اگر آپ اس بارے میں بہت پُرجوش ہوں تو انسانی حقوق کے حوالے سے سماجی کارکن بن سکتے ہیں یا قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسی شعبے میں اعلی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں ۔ کاش ایسا ہو سکے کہ ہمارے اعلی تعلیم یافتہ نوجوان جو انسانی حقوق کے تحفظ کا شعور رکھتے ہیں سیاسی کارکن بن کر قانون ساز اسمبلیوں تک پہنچ سکیں تا کہ وہ صیح معنوں میں انسانی حقوق سے آراستہ معاشرہ تشکیل دے سکیں. موجودہ صورت حال میں اس خواب کی تعبیر میں ابھی بہت سال باقی ہیں……………ویلیوورسٹی ، شارق علی

|     |

موازنہ ، فکر انگیز انشے Comparison, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
October 26, 2018
retina

Comparing can create negative emotions such as animosity, resentment, and jealousy. Living with this attitude can compromise our happiness and sense of peace. Can we stop it?

 

موازنہ ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

آج کل کے جدید دور میں موازنہ کرنے سے باز رہنا بہت مشکل ہے ۔ کسی حد تک تو یہ بات درست ہے کہ ہم دوسروں کے مقابلے میں بہتر ہونے کے لئے خود کو پرکھیں.  لیکن اگر ایسا کرنے میں ہم محرومیوں کی طرف زیادہ توجہ دیں اور اپنی زندگی کے مثبت پہلوئوں کو نظر انداز کر دیں تو ہمیں اپنے بارے میں ناخوشگواری کا احساس ہو گا . یہ بات آہستہ آہستہ نفسیاتی کمزوری کا سبب بنے گی. ایسے منفی موازنے سے خود کو روکنا بہت ضروری ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہم موازنہ کرتے ہی کیوں ہیں؟ کہیں اس کی وجہ اعتماد اور خود احترامی میں کمی تو نہیں ؟ ذرا دیر کو  اپنے بارے میں اپنی رائے کو جانچئے ۔ کیا آپ خود کے بارے میں اچھا محسوس کرتے ہیں ؟ یا اچھا محسوس کرنے کے لیے ہمیشہ دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں؟  کیا  آپ کا  دوسروں سے موازنہ کرنے کا رُجحان مثبت ہے ؟ یعنی آپ اُن کی خوبیوں اور صلاحیتوں کو دیکھ کر اُن جیسا بننے  کی کوشش کرتے ہیں یا اُن کی زندگی کے مثبت پہلو آپ پر منفی اثرات مُرتب کرتے ہیں مثلاََ حسد یا  جھنجھلاہٹ ؟ بات سمجھنے کے لیے اگر آپ کو اپنی کیفیات قلمبند کرنا پڑیں تو ضرور کیجیے ۔ کوشش کیجیے کہ منفی موازنہ کے جذبات کی تہہ تک پہنچ سکیں ۔ ہو سکتا ہے آپ کو اپنے بچپن میں جانا پڑے ۔کیا آپ کو ہمیشہ اپنے بہن بھائیوں ، اپنے ہمجولیوں  سے موازنہ کر کے دیکھا گیا ؟ کیا آپ دوسروں کے مقابلے میں کم توجہ کی ذہنی کیفیت کا شکار رہے ہیں ؟ پھر ماضی سے آج میں آجائیے ۔ اپنی موجودہ زندگی اور اہلیت پر نظر کیجیے. ہر مثبت پہلو پر بغو ر نظر ڈالیے اور اسے بھی قلمبند کر لیجیے. وہ اہم کام جو آپ نے کیے . وہ دوستیاں جو آپ کو مُیسر آئیں ۔ وہ نعمتیں جو آپ کے ارد گرد موجود ہیں ۔ گویا زندگی کے وہ تمام پہلو جن کے لیے آپ شکر گزار ہو سکتے ہیں. یہ مثبت تجزیہ آپ کو خود سے  مہربانی کا رویہ مہیا کرے گا  ۔ زندگی کے قابو میں ہونے کا احساس دے گا  ۔ درست سمت متعین کرے گا  ۔ سوچ اور رویے میں تبدیلی کوئی آسان بات نہیں ۔ مگر یہ اہم ضرور ہے ۔ اسکی کُنجی خود ہمارے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ اگر ہم غورو فکر کے بعد عمل داری پر اور تبدیلی میں استحکام پر یقین رکھتے ہیں ۔ تو ہم ایسا کر سکتے ہیں ۔ سمجھ لیجیے کہ دوسروں کو اپنا آئیڈیل بنانا غیر حقیقی ہے ۔ کسی شخص کی کچھ خوبیوں کو اپنانے میں حرج نہیں لیکن مکمل طور پر خوبیوں کا مجموعہ کوئی بھی نہیں ہوتا . تقلید کے بجانے بہتر یہ ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو مسلسل سنوارا جاے ۔اگر ہم اپنے حالات میں مثبت پیش رفت کر رہے ہیں تو پھر ہمیں کسی سے موازنے کی کوئی ضرورت نہیں. خود اپنے رویے اور سوچ کو اپنی اقدار کی کسوٹی پر پرکھیں ۔ ضرورت ہو تو درستگی اختیار کر یں.  یہ بہت تعمیری بات ہو گی . دوسروں کی صلاحیت کو تسلیم کرنے ان سے رہنمائی حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں . لیکن دیانت داری کے ساتھ خود اپنی اقدار کی کسوٹی پر پورا اترنا ہی اصل کامیابی ہے . سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حد سے زیادہ وقت گزارنا موازنے کے حوالے سے منفی اثرات مُرتب کر سکتا ہے۔ اپنے مخلص دوستوں،  رشتہ داروں اور ہم خیالوں سے تعلق برقرار رکھنے کے لیے سوشل میڈیا کا مناسب استعمال ضرور کیجیے مگر حد سے زیادہ نہیں  . آپ سے اجازت ، اپنا خیال رکھیے گا. ——-ویلیو ورسٹی، شارق علی

|     |

کوسمک ببل باتھ ، فکر انگیز انشے Cosmic bubble bath, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
October 22, 2018
retina

How vast is our Universe? Is it only a universe and not a multi-verse bubbling like a bubble bath? Who knows! But even what we know about cosmos is exhilarating, exciting and seemingly unbelievable

http://https://www.youtube.com/watch?v=xAP28dXPdYI&feature=youtu.be

کوسمک ببل باتھ ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

میری عمر کو ئی بارہ برس کی ہو گی جب ٹیلیویژن پر دکھائی جانے والی ایک دستاویزی فلم نے مجھے مسحور کر دیا تھا . نام تھا کوسموس اور پیشکش تھی کارل سیگن کی . میرے لیے یہ محض فلم نہیں بلکہ نئی دنیائوں کی سمت ایک حیرت انگیز سفر کا آغاز تھا .  آج اتنی زندگی گذر جانے کے بعد اور اتنے بہت سے عملی تجربات اور مطالعہ کے باوجود میں اس سوال کے جواب کی تلاش میں کہ کائنات کتنی وسیع ہے آج بھی اپنی حیرانی اور اپنے تجسس کو بچپن ہی کی طرح تروتازہ محسوس کرتا ہوں ۔ ہم سب کو کسی نہ کسی طو ر اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری کائنات بہت وسیع ہے لیکن اس کی عظیم الشان وسعت کا مکمل اندازہ لگانا ہم میں سے کسی کے بس میں نہیں۔ آئیے ایک مختصر سا سفر کرتے ہیں اس سوال کی سمت میں کہ ہماری کائنات کس قدر وسیع ہے؟  شاید سادہ لفظوں میں ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا کائنات کی لا محدود وسعتوں میں ہم کسی ایسے مقام تک پہنچ سکتے ہیں کہ جہاں ہمارے سامنے ایک دیوار ہو اور اُس پر لکھا ہو  یہاں سے آگے داخلہ منع ہے.  پھر ایسے کسی مقام تک پہنچنے کے بعد ہم اپنے ذہن کو یہ بات سوچنے سے کیسے باز رکھ سکیں گے کہ آخر اس دیوار کے پیچھے کیا ہے؟  اور کہیں معاملہ ایسا تو نہیں جیسا منیر نیازی نے کہا تھا  ع  اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو– میں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا.  ہم اس بات کو شاید ایک مثال کی مدد سے بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں.  ذرا دیر کے لیے تصور کیجیے کہ ہم کولمبس سے پوچھیں کہ کیا ہماری یہ دنیا لامحدود ہے یا کسی مقام پر پہنچ کر اس کا اختتام بھی ہوتا ہے ؟ سمندر میں مسلسل سفر کرتے رہنے کے بعد کوئی ایسا مقام کہ جہاں ایک عظیم الشان آبشار ہو اور جہاں سے اچانک ساری چیزیں نیچے کی طرف گرتی ہوں.  ہماری دنیا کا آخری مقام ۔  اُس زمانے کی انسانی سمجھ اور سائنسی معلومات کے تحت کولمبس شاید ہماری اس بات کا کچھ یوں جواب دے گا.  بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ ہماری یہ دنیا لامحدود ہے ۔ اگر ہم کسی ایک مقام سے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں تو شاید ہم تما م عمر سفر کرتے رہیں اور کبھی بھی اس اختتامی آبشار تک نہ پہنچ سکیں گے ۔ کولمبس کا دیا ہوا یہ جواب اپنے طور پر بالکل درست ہو گا کیونکہ وہ اپنے سمندری جہاز میں بیٹھ کر صر ف دو ڈای منشن میں اس دنیا کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے.  لیکن یوری گگارین کے لیے کہ جو ہماری انسانی تاریخ کا پہلا خلانورد تھا اس سوال کا جواب آسان ہے ۔ وہ اپنے خلائی جہاز میں بیٹھ کر چکر لگاتی ہوئی فٹ بال نما دنیا کو دیکھ سکتا ہے، اُس کے محدود ہونے کی تصدیق کر سکتا ہے ۔ تو کیا کائنات کی صحیح وسعت کا اندازہ لگانے کے لیے ہمیں چوتھے ڈائی منشن میں جانے کی ضرورت ہو گی ؟ اور کیا یہ ہمارے بس میں ہے؟  اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے اس امکان کو درست سمجھیں کہ ہم جس کائنات میں بستے ہیں وہ ایک تین ڈائی منشن والا بلبلا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے اندر رہتے ہوئے وہ ہمارے لیے لا محدود ہو گی ۔لیکن اس بات کو بھی خارج از امکان نہیں سمجھا جا سکتا ہے کہ ہماری کائنات واقعتا اور حقیقتاً لامحدود ہے.  اس موجودہ لمحے میں بہترین سائنسی تحقیق بھی ہمیں اس سوال کا جواب فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ لیکن وہ باتیں جو ہمارے سائنسدان بہت اعتماد کے ساتھ ہمیں اپنی کائنات کے بارے میں بتاتے ہیں ۔ وہ بھی کچھ کم حیرت انگیز نہیں . مثلاً یہ بات آج اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ہماری کائنات تیرہ اعشاریہ سات بلین سال پرانی ہے اور اس اندازے میں صرف ایک فیصد غلطی کا امکان ہے۔ ہماری اس کائنات میں ایک سو پچیس بلین سے زیادہ گلکسیس یا کہکشائیں موجود ہیں اور ان کا چوہتر فیصد حصہ ڈارک انرجی  پر مشتمل ہے ۔ بائیس فیصد ڈارک میٹر پر مشتمل ہے اور کائنات کا صرف چار فیصد حصہ مادی وجود رکھتا ہے یعنی ایٹم سے بنا ہو ا ہے.  تقریباً چودہ بلین سال پہلے جب ہماری اس کائنات کا آغاز بیگ بینگ کے ذریعہ سے ہو ا تو پہلے پہل یہ صرف ( توانائی کی ایک صور ت تھی. ستاروں اور کہکشاؤں جیسی مادّی  صورت حال تک پہنچنے کے لیے اُسے  ایک بلین سال تک انتظار کرنا پڑا ۔ صرف ہماری کہکشاں میں جسے ہم ملکی وے کہتے ہیں دو سو بلین ستارے موجود ہیں ۔ ہمارے سورج کو قائم ہوئے تقریباً پانچ بلین سال ہو چکے ہیں اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ پانچ بلین سالوں میں اختتام پذیر ہو جائے گا ۔ہماری یہ دنیا کہ جس میں ہم رہتے ہیں اور بستے ہیں صرف ساڑھے تین بلین سال پُرانی ہے  اور ایک اندازے کے مطابق ہماری اس دنیا میں زندگی کی تمام صورتوں کا اختتام اگلےدو بلین سالوں میں ہو جائے گا ۔ بگ بینگ سے لے کر آج تک ہماری یہ کائنات مستقل وسعت اختیا ر کررہی ہے اور ہر سیکنڈ میں اس کی وسعت میں پچپن سے اسی کلومیٹرز کا اضافہ ہو جاتا ہے ۔ شاید آپ یہ سوچ رہے ہوں کہ سائنسدان اتنے وثوق سے یہ سب دعوے کیسے کر سکتے ہیں۔ یوں تو اس کی ایک وجہ ریاضی اور تھیوریٹیکل فزکس میں ہماری شاندا ر کامیابیاں ہیں کہ جو اس موجودہ صدی میں ممکن ہو سکیں۔ انسانی تاریخ میں ایسی ترقی کی کوئی مثال اس سے پیشتر نہیں ملتی.  لیکن ان اندازوں کے معتبر ہونے میں  حبل ٹیلیسکوپ کا بھی بڑا حصہ ہے ۔ حبل نامی یہ سپیس ٹیلیسکوپ  انیس سو نوے میں خلائی شٹل کی مدد سے خلائی مدار میں بھیجا گیا اور یہ اپنے اعلی ترین اور پیچیدہ نظام اور انفرا ریڈ کیمرے کے ذریع ہمیں ایسی معلومات فراہم کر تا ہے کہ جن تک پہنچنا ہمارے لیے اس سے پہلے ناممکن تھا ۔  کیونکہ یہ ٹیلیسکوپ ہماری زمینی فضا کی حدوں سے باہر واقع ہے اس لیے یہ انتہائی واضع اور بہت دور تک کی تصویریں لینے کے قابل ہے ۔ یہ عظیم سائنسدان ایڈون حبل کے نام سے منسوب ہے جس نے ۱۹۲۰ء  میں یہ دریافت کیا تھا کہ ہماری ملکی وے سے باہر بھی ان گنت کہکشائیں موجود ہیں.  بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ بیگ بینگ جو ہماری کائنات کے وجود میں آنے کا سبب بنا کوئی تنہا واقعہ نہیں بلکہ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ایسے بہت سے بگ بینگ بہت سی کائناتوں کے وجود میں آنے کا سبب بنے ہوں.  گویا مکمل حقیقت ایک کائنات نہیں بلکہ بہت سی کائناتیں ہیں . ایک ایسے ببل باتھ کا تصور کیجیے کہ جس میں بہت سے بلبلے بنتے چلے جارہے ہیں اور کہیں کہیں ان میں بھرپور اضافہ دیکھنے میں آتا ہے لیکن کسی کسی مقام پر بہت سے بلبلے آہستہ آہستہ سکڑتے اور غائب بھی ہوتے جا رہے ہیں ۔ اگر ہماری کائنات کے علاوہ بھی دوسری کائناتیں موجود ہیں تو کیا اُن کے کائناتی اصول ہماری موجودہ فزکس کے اصولوں سے مختلف ہیں ؟  اور پھر اس بات کا بھی تو امکان ہے کہ اس ملٹی ورس کائناتی نظام میں ہماری کائنات کے تین ڈای منشن کے بالکل قریب ہی شاید صرف ایک ملی میٹر کے فاصلے پر ایک دوسری کائنات بھی موجود ہو مگر اُسے دیکھنا  یا اُس تک پہنچنا ہمارے بس میں نہیں کیونکہ ہم  چوتھی ڈای منشن کا شعور نہیں رکھتے ۔ مختصراً اگر ہم اکیسویں صدی کے سائنسدانو ں کے لیے چیلنجز کو بیان کریں تو شاید وہ ان دو سوالوں پر مشتمل ہوں گے ۔  کیا بگ بینگ اور ہماری کائنات کا وجود اور قیام کوئی تنہا واقعہ تھا؟  اگر ایسے کئی بگ بینگ اور کئی کائناتوں کا قیام ہوا تھا تو کیا ان میں موجود  فزکس کے اصول ایک ہی ہیں یا ایک دوسرے سے مختلف ؟ ان فکر انگیز سوالوں کے ساتھ ہی  آپ سے اجازت ——- ویلیو ورسٹی، شارق علی

|     |

رومی ، محبت کا پیامبر ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Rumi, the dervish dancer, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
October 18, 2018
retina

This Urdu podcast explores the Sufi Way of Jalaluddin Rumi and his spiritual master Shams Tabrizi. Rumi is a remarkable 13th-century Sufi mystic who can be truly regarded as the bridge between east and west

 

رومی ، محبت کا پیامبر ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

کسی دانا نے کیا خوب کہا تھا کہ کھونے کے لیے زنجیریں اور پانے کے لیے ساری کائنات۔ انسانی تاریخ کے ہر دور میں زیادہ تر انسان اپنے پیروں میں روایتی سماجی تصورات یا ذاتی خواہشات اور اناء کی زنجیریں پہنے زندگی کے مختصر سفر میں قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں.  اسی انسانی ہجوم میں سے چند لوگ اپنے پائوں کی زنجیروں کو توڑ کر اور سچ اور حقیقتِ حال کی آگاہی کا شوق اپنے دِل میں لیے خود اپنے تذکیۂ نفس ، اپنی سوچ اور اپنے عمل کے ذریعہ سے اپنے دور کی فِکر اور تہذیب کے لیے ایک عظیم الشان جست اور سر افرازی کاباعث بنتے ہیں.  ان میں سے کچھ مُصلحین ہیں ، کچھ مُفکِر، کچھ انقلابی ہیں اور سائنسدان بھی . آئیے آج ترکی کے عظیم صوفی شاعر جلال الدین رومی کا ذکرکریں جنہوں نے اپنے وقت کے روایتی تصورات کی بے حس اور بلند وبالا دیواروں کو گِراکر انسانی محبت ، رواداری، خدمت ، درگزر اور آپس میں مل جل کر اور خوش رہنے جیسی عام انسانی قدروں کو روحانیت کے درجہ پر پہنچا دیا ۔ وہ جب دُنیاوی علم کو تسخیر کرتے ہوئے اُس کے ادھورے پن سے واقف ہوئے تو انہوں نے سچ کی خوش آمدیدگی کے لیے اپنے دریچۂ دِل کو وا کر دیا ۔  یہ تیرہویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے ۔ تُرکی کے شہر قُونیہ کے ایک مصروف بازار سے عالموں کے ایک گروہ کا گزر ہے ۔ کہ ایک درسگاہ سے دوسری درسگاہ تک جانے کے لیے اس بھرے پرے بازار میں عام لوگوں کے درمیان سے ہو کر گزرنا ان کی مجبوری ہے ۔ اس گروہ میں سب سے ممتاز جلال الدین رومی ہیں.  جُبہ و دستار اور عمامہ پہنے اپنے وقت کے تمام علوم پر عبور رکھنے والے جید عالم.  طالب علموں اور رفیق عالموں کے اس گروہ میں نگینہ کی طرح دمکتے ہوئے.  اچانک اس مصروف بازار میںایک شخص ان کے بلکل سامنے آکھڑا ہو تا ہے ۔ کالے رنگ کا معمولی سا لباس پہنے، ایک در ویش نما عام سا شخص، کہ جو روز مرہ کے استعمال کی ٹوکریاںاپنے ہاتھوں سے بُن کر اپنے لیے رزق حلال کابندوبست کرتا ہے۔ حقیقتِ حال اور سچ کی تلاش میں در بدر گھومنے والا ایک مسافر۔ آنکھوں سے آنکھیں ملتی ہیں اور وہ درویش جس کا نام  شمس تبریز ہے ، قونیہ کے عالم ِوقت رومی سے ایک سوال کرتا ہے ۔ یہ حقیقت حال کی آرزو میں ڈوبے ہوئے دو دلوں کی اور معرفت کے راستے پر چلنے والے اور حُب اﷲ کے دو سچے طالب علموں کی پہلی مُلاقات ہے.  پھر قُونیہ کے درودیوار ان علمی مباحث کو اور ان روحانی ملاقاتوں کو تواترسے دیکھنے لگتے ہیں ۔ روایت ہے کہ  ایک دن رومی ایک تا لاب کے کنارے اپنی ایک نایاب علمی کتاب کے مطالعے میں مصروف ہیں اور شمس تبریز اُن کے پاس آتے ہیں اور اُن سے پوچھتے ہیں یہ تم کیا کر رہے ہو ؟ جلال الدین رومی زیر لب مسکراتے ہیں اور بڑے فخریہ انداز سے جواب دیتے ہیں ۔ یہ وہ معاملات ہیں جن کی تمہیں کچھ بھی خبر نہیں۔ شمس تبریز رومی کے ہاتھ سے کتاب لے کر اُسے تالاب میں پھینک دیتے ہیںرومی تڑپ کر اُٹھتے ہیں اور تالاب میں ڈوبتی ہوئی نایاب کتاب کو بالآخر نکال لاتے ہیں لیکن وہ یہ دیکھ کر دم بخود رہ جاتے ہیں کہ اس کتاب پر پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں۔ وہ شمس تبریز کی طرف دیکھتے ہیں اور اُن سے پوچھتے ہیں یہ سب کیا ہے ۔ شمس تبریز اُن سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں، یہ وہ معاملات ہیں جن کی تمہیں کچھ بھی خبر نہیں ۔ بارہ سو سات ع میں افغانستان کے شہر بلخ میں پیدا ہونے والے جلال الدین رومی بارہ سال کی عمر میں اپنے والد اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ منگولوں کے حملے کی وجہ سے تُرکی کے شہر قُونیہ میں ہجرت کر جاتے ہیں اور اپنی علمی زندگی کے عروج پر ۱۲۴۴ء میں اُن کی ملاقات حضرت شمس تبریز سے ہوتی ہے اور اُن کی زندگی میں ایک روحانی انقلاب برپاہو جاتا ہے ۔ شمس تبریز اُن کی یہ روحانی تربیت کسی مسجد یا مدرسہ میں نہیں کرتے بلکہ قُونیہ کے مصروف کُوچہ و بازار میں عام لوگوں کے درمیان گھومتے ہوئے، اُن سے باتیں کرتے ہوئے، راہگیروں کی گہما گہمی کے درمیان مصالحہ جات کی خوشبو سے مہکتے ہوئے بازاروں میں، بکری کا دودھ پیتے ہوئے اور مٹھی بھر کھجوروں سے اپنا پیٹ بھرتے ہوئے زندگی کی گہما گہمی اور اُس کے مختلف رنگوں سے متعارف کراتے ہوئے کرتے ہیں۔ وہ اُن سے کہتے ہیں اگر تم حُب اﷲکے سچے طالب ہو تو اس کائنات کواور اس دنیا کو محبت کا گہوارا سمجھو. اسی لیے تمہیں دوسروں سے اپنی ذات سے زیادہ محبت کرنی ہے۔ اُن کے نقطہ نظر اُن کی خوشیوں کو زیادہ اہمیت دینی ہے اور اپنی انا اور اپنی خواہش کے حصار سے نکلنا ہے ا ور اپنے دل کو محبت اور خوشی کے لیے کھول دینا ہے ۔ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو اور روزمرہ کی صورت حال کو معمولی مت سمجھو بلکہ اسی معمول کی زندگی میں روحانی راز چھپے ہوئے ہیں ۔  رومی اور شمس تبریز کی یہ بڑھتی ہوئی ملاقاتیں ان کے طالب علموں اور ان کے ساتھیوں پر گراں گزرتی ہیں اور بات ذاتی مخالفت سے بڑھتے ہوئے حسد تک جا پہنچتی ہے.  پھر ایک دن اندھیرے میں شمس تبریز کے سر پر پیچھے سے ایک وار ہوتا ہے اور جب وہ ہوش میں آتے ہیں تو اپنے آپ کولق ودق صحرا کے بیچوںبیچ اور اپنے ہاتھ پیروں کو رسی سے بندھا ہوا پاتے ہیں.  وہ بالآخر اپنے ہاتھ پیروں کو رسی سے آزاد کراتے ہیں لیکن ان کا جسم زخموں سے چور چور ہے.  لیکن وہ اسی زخموں سے چور چور بدن کو اپنے رب کی حمدو ثنا میں مشغول کر دیتے ہیں وہ ہاتھ اُٹھا کر اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں کہ جس نے اُنہیں زندگی گذارنے اور محبت کرنے کا موقع فراہم کیا اور پھر وہ اپنے تمام دشمنوں، حاسدوں اور ان کے جسم کو زخمی کر دینے والے قاتلوں کو معاف کرتے ہیں. اُن کے حق میں بہتری اور فلاح کی دعا کرتے ہیں. اُن سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملتے ہیں۔  رومی جب شمس تبریز کو قُونیہ میں نہیں پاتے تو ایک روحانی اضطراب کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی تلاش میں دربدر پھرنے اور ناکامی کے بعد اُن کی مداح سرائی میں دائرہ وار رقص کرتے ہوئے دیوانہ وار شعر کہنے لگتے ہیں ۔ اُن کے طالب علم اُن کے ان شعروں کو مُرتب کرنا شروع کرتے ہیں اور اس طرح دُنیا کومثنویِ مولانا روم کی صورت میں ایک بیش بہا ادبی خزانے کا تحفہ ملتا ہے ۔ رومی کا خیال تھا کہ اﷲتعالیٰ کی معرفت سب انسانوں کے لیے میسر ہے اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس مذہب اور کس عقیدے سے تعلق رکھتے ہیں.  اسی لیے ان کے عقیدت مندوں میں یہودی بھی تھے ، کرسچن بھی، مسلمان بھی، آگ کی پوجا کرنے والے زردشتی  بھی اور بازنطینی یونانی بھی۔ رومی کا دور سیاسی خلفشار کا دور تھا.  سلجوق دورِ حکومت میں بہت سی قومیں ایک ساتھ آباد تھیں.  رومی کا پیغام اُن سب کے لیے اور آنے والے دنوں میں تمام انسانی نسل کے لیے ہم آہنگی اور محبت کا پیغام ہے ۔ وہ انسان اور اﷲ کے درمیان رشتے کو بنیادی قرار دیتے ہیں اور روایت کی دوسری تمام صورتوں کو ثانوی ۔ اور شاید اسی لیے اُنہیں ساری دنیا میں ایک روحانی مفکر کے طور پر لا زوال شہرت حاصل ہے.  رومی کے کلام کا ترجمہ انگریزی سمیت مختلف مغربی زبانوں میں ہوچکا ہے اور ایک سروے کے مطابق وہ انگریزی زبان میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے غیر ملکی شاعر ہیں.  وہ انگریزی ادب پڑھنے والوں میں اُسی قدر مقبول ہیں جس قدر شکسپیر  اور وہ آج بھی اکیسویں صدی کے بیسٹ سیلر شاعر ہیں۔ ۲۰۰۷ء میں ان کی پیدائش کے ۸؍سو برس بعد یونسکو  نے اُسے رومی کا عالمی سال  قرار دیا تھا ۔ رومی خود عقیدے کے لحاظ سے مسلمان تھے اور قرآن اور سنت اور شریعت پر عبور رکھنے والے عالم، لیکن وہ دوسرے انسانوں اور عقائد کے لیے جیسا کھلا ذہن اور دل رکھتے تھے اُس کی مثال نہیں ملتی ۔ وہ کہتے تھے کہ تم کیوں کسی قید خانے میں زندہ رہنا چاہتے ہو جب کے دروازہ کھلا ہوا ہے. شاید ہماری آج کی دنیا کو کہ جو عقائد میں بٹی ہوئی ہے رومی کے پیغام کی جس قدر ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی. اسی لیے بہت سے لوگ اُنہیں مشرق اور مغرب کے درمیان پل قرار دیتے ہیں —– ویلیو ورسٹی، شارق علی

Rumi `s global spiritual philosophy keeps him the best-selling poet of the 21st century. His popularity equals William Shakespeare in the English speaking world and his 800th birthday in 2007 was celebrated as the U.N International Year of Rumi. The story is spiritually moving and accompanied by mystical lyrics of Baba Bulleh Shah and Hazrat Amir Khusroo in the magical voices of Saeen Zahoor and Ustaad Shujaat Hussain Khan Researched, written, narrated and produced by Shariq Ali

Acknowledgement: Valueversity recognizes the excellence of Saeen Zahoor, Coke Studio and Ustaad Shujaat Hussain Khan and thankful for the use of brief audio clips For the pic above, thanks to the source Yelda Barel, Skylife, Turkish Airlines Journal No.245, Vol. 12 (2003), p. 92.

 

 

|     |

امتحان کی تیاری ، فکر انگیز انشے How to prepare for exams? THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
October 17, 2018
retina

Here are few tips for an effective exam preparatio

http://https://www.youtube.com/watch?v=2QiSe4bdNDg

امتحان کی تیاری ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

کچھ سادہ سی باتوں پر عمل کر کے مناسب وقت میں ذہنی دباؤ کے بغیر امتحان کی پر اعتماد تیاری کی جا سکتی ہے . پہلی بات تو یہ کہ تیاری بہت پہلے سے شروع کی جانی چاہیے ۔ اگر نصاب دوہرانے کے لیے وقت مہیا ہے تو ذہنی دبائو کم از کم ہوگا اور تیاری میں کسی بھی کمزوری کا احساس بہت پہلے سے ہوجائے گا اور حکمتِ عملی تبدیل کرنا ممکن ہو گا . امتحان سے خاصا پہلے تیاری کے بارے میں سوچنا شروع  کر دیں . منصوبہ بندی میں کچھ وقت صرف کریں اور ہفتے میں دو تین روز تیاری کرتے ہوئے اپنی کمزوریوں اور اُن حصوں کی نشاندہی کریں جن میں تیاری کی زیادہ ضرورت ہے. بہت پہلے سے کی گئی تیاری امتحان سے پہلے کی رات پرسکون نیند فراہم کرتی ہے کیونکہ نصاب دہرانے کا دباو زیادہ نہیں ہوتا ۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ کم از کم سرسری طور پر مکمل نصاب سے آگاہی مل جاتی ہے  . کسی غیر متوقع سوال کا مختصر طور پر ہی صحیح مگر جواب لکھا جا سکتا ہے۔  پہلے سے تیاری شروع کرنے والے اکثر اپنے ذاتی نوٹس تیار کرتے ہیں جن کا دہرانا نسبتاً آسان ہوتا ہے. لیکن اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ نوٹس تیار کرنے میں دوسروں سے مدد لی جاے۔ اُن کے بہتر تیار شدہ نوٹس سے فائدہ اُٹھایا جاے . اپنے استادوں سے ٹیسٹ میٹریل کے بارے میں گفتگو کی جاے اور اضافی معلومات حاصل کی جایں ۔ یعنی مطالعہ کے ساتھ ضروری معلومات حاصل کرنا اور  اُسی حساب سے منظم ہونا اور تیاری کے لیے باقاعدہ کاغذ پر لکھا ہوامربوط منصوبہ تیار کرنا بہت ضروری ہے . کیا کچھ پڑھا جاے؟ کب اور کیسے ؟ ٹاپک مکمل کرنے، اُسے دہرانے کی ڈیڈ لائن وغیرہ ۔ عموماً امتحان کلاس کی مصروفیت اور استادوں کے پڑھائے ہوئے نصاب ہی سے مرتب ہوتے ہیں۔  اگر آپ باقاعدگی سے اپنی کلاس کی مصروفیت میں موجود رہے ہیں اور استادوں کی بات غور سے سُنی ہے تو امتحان کی تیاری آپ کے لیے آسان ہوگی.  جو مضامین آپ کو مشکل لگتے ہیں اُنہیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ لیجیے اور اُن کی تیاری قدم بہ قدم کیجئے۔ مدد درکار ہو تو بلا جھجک ضرور حاصل کیجئے۔ ساتھیوں سے ،  استادوں سے.  اگر کوئی مشکل موجود ہے تو والدین کے ساتھ مل کر اس کا حل نکالیے۔ نصاب ایک دفعہ مکمل کرلینا کافی نہیں. اسے دوہرانا آپ کو پر اعتماد بنائے گا۔ اگر پچھلے سالوں کے پیپرز یا اسٹڈی گائیڈز میسر ہیں تو اُن سے ضرور فائدہ اُٹھائیے۔  اگر آپ امتحان کے قریب مضمون کی اسٹینڈرڈ ٹیکسٹ بُک سے ضروری حصے پڑھ سکیں تو یہ بہت اچھی بات ہوگی۔ مضمون دہرانے کے لیے فلیش کارڈ بنانا اہم ہے.  یعنی وہ باتیں جو آپ نے سیکھی ہیں اُنہیں سوالات میں تبدیل کیجیے اور پھر اس سوال کو کسی فلیش کارڈ پر لکھ لیجیے۔  پھر جب آپ دہرانے کے لیے یہ فلیش کارڈز استعمال کریں گے تو نہ صرف آپ کی یادداشت تازہ ہوگی بلکہ آپ اُن حصوں کی تیاری دوبارہ کرسکتے ہیں جو ابھی نامکمل ہیں۔ آپ ان فلیش کارڈز کو اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں اور چلتے پھرتے، گاڑی میں سفر کرتے ان فلیش کارڈز کی مدد سے اپنا مضمون دہرا سکتے ہیں. پچھلے پیپرز کو امتحانی  ماحول اور حد بندی میں پریکٹس کرنا انتہائی اہم ہے.  امتحان والی رات خوب اچھی نیند لیجیے لیکن امتحان شروع ہونے سے کم سے کم دو گھنٹے پہلے بیدار ہوجائیے تاکہ اطمینان سے تیار ہو سکیں۔ ناشتہ کرسکیں اور صحیح وقت پر کمرۂ امتحان میں پہنچ سکیں۔ کسی غیر متوقع سوال پر گھبرائیے مت اور جو کچھ بھی معلومات آپ کے پاس موجود ہیں۔ اُسے بہتر اور منظم طور پر پیش کیجیے۔  امتحان کی تیاری اکیلے یا کسی گروپ یا دوست کے ساتھ مل کر کرنا انفرادی معاملہ ہے لیکن وقفے وقفے سے ایک دوسرے سے سوال کرنا ، ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کرنا اور کسی پیچیدہ موضوع کو سمجھنا بہت فائدہ مند ہے۔  اب آپ سے اجازت۔ اپنا خیال رکھیے گا۔——- ویلیوورسٹی ، شارق علی

|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,311 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina