retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Monthly Archive: September 2018

منظم زندگی، فکر انگیز انشے Get organized, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
September 26, 2018
retina

The lack of organization and personal management is one of the biggest stumbling blocks in a successful and happy life.  Let’s look for ways to organize ourselves

 

http://https://www.youtube.com/watch?v=THAM6_nyoWk&feature=youtu.be

 

منظم زندگی، فکر انگیز انشے ، شارق علی
اگر ہم ااکثر یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے پاس وقت کم ہے اور مصروفیت زیادہ. آمدنی کم ہے اوراخراجات زیادہ تو ہمیں ایک منظم زندگی درکار ہے . اس جانب پہلا قدم یہ ہے کہ ہم ذہنی طور پر منظم ہوں. سب سے پہلے اس کڑوے سچ کی تلاش کریں کہ اس غیر منظم زندگی کا بنیادی سبب کیا ہے؟ کیا کچھ مخصوص لوگ اور مصروفیات ہمارا بہت سا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں؟ یعنی زندگی میں موجود کوڑا کرکٹ کو پہچانا جاے . مراد یہ ہے کہ ایسی مصروفیات کی نشان دہی کی جا یے جو ہمارا وقت اور توجہ تو بہت لیتی ہیں لیکن مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کرتیں۔ اپنے کام پر بغور نظر ڈالیے ، اپنے مشاغل پر ، اپنے دوستوں، ملنے جلنے والوں پر اور مجموعی طور پر اپنے سوچنے کے انداز پر۔ پھر یہ آپ کی ہمّت پر منحصر ہے کے آپ اس کوڑا کرکٹ سے کس طرح اور کتنی جلدی چھٹکارا پاتے ہیں . اگلا قدم ہے خود کو منظم کرنا . کام یا گھریلو زندگی، آغاز کہیں سے بھی کیا جا سکتا ہے .اپنی مصروفیات کو منظم کرنے کے لئے کسی کیلنڈر ، ڈائری یا اگر اسمارٹ فون موجود ہے تو کسی پرسنل آرگنائزر ایپ کا استعمال بہت فائدہ مند ہوگا ۔ پہلے تواُس میں یہ درج کر لیجئے کہ آپ کی موجودہ مصروفیات میں کیا کچھ ضروری یا نسبتاً کم یا غیر ضروری ہے ۔ ضروری کاموں کو اُن کی مخصوص تاریخ کے ساتھ کہ جب تک اُنہیں ضرور مکمل ہو جانا چاہیے درج کر لیجئے۔. مثلاَ ڈاکٹر سے ملاقات ، دوست کی سالگرہ یا شادی میں شرکت وغیرہ . پھر اس بھرے ہوئے کیلنڈر کو بغور دیکھئے۔ ایک ہفتہ کے اندر آپ کی مخصوص مصروفیات کیا ہوتی ہیں؟ بیچ میں کتنی فُرصت مہیا ہے؟ آرام کا کتنا وقت ملتا ہے اور پھر ہر مصروفیت کا کارآمد ہو نا یعنی اُس سے مطلوبہ نتائج کا حاصل ہو نا ممکن ہوپاتا ہے یا نہیں؟ پھر توجہ دن بھر کی مصروفیات پر کیجئے۔ اس کے لئے پرسنل آرگنائیزر کا استعمال بہت کارآمد ہے . اگر آپ آرگنائیزر ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں اور اُسے دیکھنے اور اُس پر وقت ضرورت لکھنے کی عادت ڈال لیں تو یہ بہت فائدہ مند ہو گا ۔ روزانہ یا ہفتہ وارضروری کاموں کی فہرست بنائیے۔ کام کی نوعیت، وقفوں کا تعین اور کتنی مدت میں یہ کام خوش اسلوبی سے انجام پا سکتا ہے. پھر اپنے آرام، اپنے غوروفکر کے لیے بھی وقت نکالیے۔ بہت صاف اور سادہ الفاظ میں ہدایات لکھئے اور ہر کام مکمل ہو جانے کے بعداُسے نشان زد کیجئے۔ایسا کرتے ہوے آپ کی نظر سے وہ تمام مصروفیات بھی گزریں گی کہ جو آپ کو انجام دینا ہیں اور یہ اطمینان بھی ہو گا کہ آپ کیا کچھ کر چکے ہیں ۔ مصروفیات کی فہرست بالکل ایک ہی طرح روزانہ مرتب کیجئے کیونکہ کسی نظام کو باربار تبدیل کرنا مناسب نہیں۔ یہ سیکھئے کہ کامو ں کو بار بار ملتوی کرنا ٹھیک نہیں بلکہ کام کو بروقت انجام دینا انتہائی ضروری ہے. اپنی توجہ کو اُس کام پر اور اُس کے لیے طے کیے ہوے وقت پر مرکوز رکھیے ۔ چاہے اس کے لیے بہت محنت اور تیزی سے کام کرنا پڑے ۔ بیچ میں ابھرتی ایسی تمام مصروفیات کو رد کر دیجئے جن سے آپ کی توجہ بھٹکے۔ ہر کام کو آرگنائیزر میں درج کرنا،پہلے پہل تو آپ کو فضول محسوس ہو گا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس عادت کے مثبت اثرات آپ کے منظم ہونے کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔ اگر دن کا آغاز اچھی نیندکے بعد جاگنے سے ہو، ایک صحت مند ناشتہ کیا جاے، پھر نہا دھوکر، مناسب لباس پہن کر، اپنے وقت پر، کام کے لیے روانہ ہوا جاے ، تندہی سے اپنا کام کیا جاے اور رزق حلال کمایا جاے تو ایسی زندگی بہت با وقار ہو گی. بہت کار آمد، کامیاب اور بے حد حسین ہوگی . آخر میں ایک اہم بات. اپنی زندگی اور اپنی ذات کو بے پناہ مصروفیت کے تشدد سے محفوظ رکھیے ۔ صرف اُس کام کے لیے حامی بھریئے جو آپ بجا طور پر انجام دے سکتے ہیں اور باقی تمام کام جو کوئی دوسرا شخص بہتر کر سکتا ہے۔ اُسے کرنے دیجئے۔ اپنے مزاج کو تکمیلیت پسند بنانے کے بجائے خود کو غلطیوں اور خامیوں کے لیے گنجائش دینا سیکھئے۔ اب آپ سے اجازت —– ویلیو ورسٹی، شارق علی

www.valueversity.com

 

|     |

جائز انکار ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Saying No, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
September 23, 2018
retina

Be kind to yourself and learn how to stop saying yes when you want to say no in this podcast

http://https://www.youtube.com/watch?v=IxR3-wsKVw8&feature=youtu.be

 

جائز انکار ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

اگر آپ کسی غیر مناسب یا بے وقت مطالبے پر انکار میں مشکل محسوس کرتے ہیں تو اس انشے سے ضرور فائدہ اٹھائیے ۔ کسی بھی ایسی صورت حال میں کہ جس میں ہم خود اپنی ذات پر بوجھ اُٹھائے بغیر دوسروں کے لیے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں ہمارا جواب ہاں میں ہونا چاہیے.  لیکن عملی زندگی کے دوران ہر بار ایسا ممکن نہیں ہوتا اور بعض صورتوں میں انکار ہی مناسب جواب ہوتا ہے۔ ایسی کسی بھی صورتحال میں اضطراری طور پر فیصلہ کرنے کے بجائے کچھ وقت مانگ لینا زیادہ بہتر ہے تاکہ ضروری سوچ و بچار کی جا سکے ۔ سب سے پہلے تو یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ایک انسان ہونے کے ناطے سے ہرکام کرلینا ہم میں سے کسی کے لئے بھی ممکن نہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری روز مرہ مصروفیات پہلے ہی سے اس قدر زیادہ ہیں کہ مزید کسی وعدے کی گنجائش موجود نہیں۔  جب یہ بات واضح ہے تو خود کو سمجھائیے کہ ایسی صورت حال میں انکار کردینے سے آپ خود غرض نہیں ہوجاتے اور اگر دوسرے لوگ ایسا تاثر لیں گے تو وہ غلط ہوں گے۔ پھر یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہم ایک ساتھ تمام لوگوں کو خوش نہیں کرسکتے اور اگر کچھ لوگ ہم  سے وقتی طور پر مایوس ہوں بھی جایں تو یہ بالکل نارمل بات ہوگی۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم  اپنی جسمانی اور ذہنی صحت برقرار رکھ سکیں ۔ اپنے خاندان اور اپنے دوستوں کو جائز وقت دے سکیں ۔ تو گویا انکار کرنا بجائے خود کوئی منفی بات نہیں۔ بلکہ بعض صورتوں میں یہ زیادہ مثبت راستہ  ہے۔ زندگی میں حاصل شدہ وقت کو اہم کاموں میں صرف کرنا بے حد ضروری ہے۔  ذرا سوچیے کہ جب ہم  اضطراری طور پر کسی کام کے لیے رضا مند ہوجاتے ہیں اور وہ کام ہماری اہم مصروفیات سے متصادم ہوتا ہے تو ہم کس قدر ذہنی وجسمانی اذیت سے گذرتے ہیں۔  یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ہمارے لئے ذاتی طور پر کسی بھی صورت حال میں انکار کرنا کیوں مشکل محسوس ہوتا ہے ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم دوسروں کو ہمیشہ خوش رکھنا چاہتے ہیں۔ خود کو خود غرض کہلوانا نہیں چاہتے ، انکار کی صورت میں رشتوں کے ٹوٹ جانے کے خوف میں مبتلا ہیں۔ اس نوعیت کا غور و فکر آپ کو درست فیصلہ کرنے میں مدد دے گا ۔  یہ بات سمجھنا بھی اہم ہے کہ لوگ کس طرح آپ کو حامی بھرنے پر مجبور کرلیتے ہیں ۔ بعض لوگ دھونس، دھمکا کر، بعض گلے شکوے کرکے، مظلوم بن کے یا آپ میں احساسِ جرم بیدار کرکے یا آپ کی خوشامد کرکے آپ کو حامی بھرنے پر مجبور کرلیتے ہیں۔ ضروری ہے کہ آپ ان تمام طریقوں سے آگاہ ہوں اور غیر ضروری طور پر حامی بھرنے پر مجبور نہ کیے جائیں۔ اس اُمید کے ساتھ کہ میری یہ بتائی ہوئی چند باتیں آپ کے لیے مددگار ہوں گی۔ میں آپ سے اجازت چاہوں گا—— ویلیوورسٹی، شارق علی

 

|     |

غصّے پر قابو ، فکر انگیز انشے Anger management, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
September 21, 2018
retina

Anger is a positive emotion if used in a controlled manner in the right direction at the right time. Uncontrolled anger can become a serious health and social issue

 

 

غصّے پر قابو ، فکر انگیز انشے، شارق علی

ہم سب جانتے ہیں کہ غصہ حرام ہوتا ہے لیکن اس پر قابو رکھنا ہم میں سے کسی کے لئے بھی آسان نہیں.  روز مرہ کی زندگی میں اکثر ایسے مقام آتے ہیں جہاں غصّہ ایک فطری رد عمل کے طور پر ابھرتا ہے .  مثلاً سڑک پرکسی دوسرے ڈرائیور کی بد عملی یا کسی بچے کا بات ماننے سے مسلسل انکار . ایسی صورت میں غصہ آنا قدرتی بات ہے لیکن اس کا اظہار مناسب موقع  پر اورصحیح انداز میں کرنا بے حد ضروری ہے ۔  غصّہ منفی نتائج کا سبب بنتا ہے جب ہم خود  پر قابو نہ رکھ سکیں اور کسی غلط موقع پر یا مشتعل انداز میں غصّے کا اظہار  کچھ یوں کر بیٹھیں کہ اہم انسانی رشتوں کے حوالے سے ہمیں بھاری قیمت چکانی پڑے . مسلسل غصّہ ہماری صحت کی خرابی کا سبب بھی بن سکتا ہے .   جیسا کہ بزرگ کہتے ہیں پہلے سوچو پھر بولو۔  کوئی بات خاص طور پر غصے میں کوئی بھی بات کہنے سے ذرا پہلے اگرہم توقف سے کام لیں تو ہمیں سوچنے کا موقع ملے گا اور ممکن ہے ہم اس بات کو غیر مناسب سمجھ کر رد کردیں.  غصے کی کیفیت میں توقف نہ صرف ہمیں سوچنے کا موقع دیتا ہے بلکہ سامنے والے کو بھی مناسب طرز عمل اختیار کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ جب ہم خود پر قابو پاچکے ہوں تو اپنے غصے کا اظہار ضرورکرنا چاہیے لیکن مہذب انداز میں. مخاطب کو بتانا چاہیے کے ہمارے تحفظات کیا ہیں، ہماری  توقعات کیا ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ دوسرے کے جذبات اور انا پر کوئی سنگین حملہ نہ ہو۔ غصے کا مہذب اظہارتو ضروری ہے لیکن اپنے دل میں کسی قسم کا بغض رکھنا مناسب نہیں ۔ ایسا کرنا خود کو سزا دینا ہے ۔ کڑواہٹ کو اپنے اندر جگہ دینا خود پرکیا جانیوالا ظلم ہے . یہ بات عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ صحتمند غذا  کا استعمال اور باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں۔ وہ اپنے تناو اور غصے کو بہتر طور پر قابو میں رکھ سکتے ہیں۔  کوئی ہلکا پھلکا کھیل یا محض تیز قدموں کی چہل قدمی اس سلسلے میں کارآمد ہو سکتی ہے .  اس بات کی نشاندہی تو آسان ہے کے ہمیں کونسی بات غصّہ دلاتی ہے . اگر بچہ اپنا کمرہ صاف نہیں رکھتا یا دروازہ زور سے بند کرتاہے یا رات کے کھانے میں ہمیشہ تاخیر ہوجاتی ہے. لیکن ذرا گہرائی میں جا کر بات کی تہہ تک پوھونچنا اور بنیادی مسلہ حل کرنا ضروری ہے نہ کہ بار بار غصّہ کیے چلے جانا . غصے کے اظہار کا ایک بہتر طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہم استعمال کیے ہوئے جملوں میں ’’میں‘‘ اور ’’مجھے ‘‘ کے الفاظ زیادہ استعمال کریں اور ان الفاظ کے ساتھ مخاطب کے احترام اور اس کے جذبات کا خیال رکھیں۔ مثلاً یہ کہ مجھے یہ بات غصہ دلاتی ہے کہ کھانا کھانے کے بعد ہم ٹیبل کو صاف کرنے اور پلیٹیں دھونے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے۔  بجائے اس کے کہ تم میرے ساتھ کبھی کام میں ہاتھ نہیں بٹاتے اور مجھے ہر کام تنہا کرنا پڑتا ہے.  گویا  مسئلے کی جانب نشان دہی کرتے ہوے دوسرے شخص کی انا اور اس کے جذبات کو اس بیان سے الگ رکھنا بہتر نتائج پیدا کرتا ہے۔   غصہ پیدا کرنے والی صورت حال ہمیں سیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے اور ہمیں اس کا بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ ظرافت اور حسِ مزاح کا استعمال طنز سے کہیں بہتر ہے۔ طنزیہ گفتگو سے بہتر نتائج حاصل نہیں ہوتے ۔ بہت سے لوگ یکدم اشتعال میں آجانے کی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں ۔ ایسی صورتحال کو قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ایسے میں بالکل خاموشی اختیار کر لینی چاہیے . اندرونی تنائو کو ختم کرنے کے لیے گہری سانس لینا یا اندر ہی اندر خود کو پرسکون رہنے کی تلقین کرنا کارآمد ہو سکتا ہے۔  ایسی صورت حال سے علحدہ ہو کر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچ و بچار کرنا بہت مفید ہوتا ہے تاکہ وقتی اشتعال سے باہر  نکلا جا سکے .  ہم میں سے بیشتر لوگ تو ان تجاویز کی مدد سے اپنے غصے پر قابو پاسکتے ہیں ۔ لیکن اگر غصّہ آپ کے لئے ایک  سنگین مسلہ ہے اس تو اس بات میں بھی  کوئی حرج نہیں کہ کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کر لیا جاے . اپنی صحت اور اپنی خوشیوں کا خیال رکھیے ۔ آپ سے اجازت—– ویلیوورسٹی ، شارق علی

|     |

اچھی زندگی ، فکرانگیز انشے Good life, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
September 6, 2018
retina

Socrates was the first one who pointed out the importance and gave us a philosophical description of the good life. It is a journey of personal reflection and values clarification

 

 

اچھی زندگی ، فکرانگیز انشے ، شارق علی

انسانی تاریخ میں بہت سے فلسفیوں اور مصلحین نے اپنے طور پر اچھی زندگی کی وضاحت کی ہے اور یہ کسی حد تک ہمارے لئے فائدہ مند بھی ہے. لیکن کیونکہ زندگی ہر انسان کا انفرادی سفر ہے اس لئے میرے خیال میں اچھی زندگی کی وضاحت ذاتی اقدار کی دریافت سے شروع ہوتی ہے . یہ  محض والدین کی ہدایات پر بلا سوچے سمجھے عمل پیرا ہونے سے حاصل نہیں ہوتی . نہ ہی معاشرے میں قبولیت اور احترام کی شدید آرزو کے تعاقب میں اندھی سماجی فرمانبرداری سے . بلکہ یہ کٹھن راستہ ذاتی سوچ و بچار سے ہو کر گزرتا ہے. ایسی زندگی صرف دکھتی نہیں بلکہ محسوس ہوتی ہے . ہمارے دل و ذہن کو وہ ہی اچھا محسوس ہو گا جو ہماری اقدار سے ہم آہنگ ہو . ممکن ہے جن قدروں پر ہم یقین رکھتے ہوں وہ معاشرے میں رائج تصورات سے مختلف ہوں بلکہ بعض اوقات متصادم بھی ۔  ہوسکتا ہے کہ معاشرہ اور دوسرے لوگ ہمارے ذاتی تصور کو یکسر غلط کہیں، اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کریں۔ اس صورت میں یہ بات تو ٹھیک ہے کہ ہمیں اپنی اقدارپر دوبارہ غور و فکر کرنا چاہیے۔ اس پرایک بار پھر  تنقیدی نگاہ ڈالنی چاہیے۔ لیکن اگر اچھی زندگی کے بارے میں ہماراذاتی عقیدہ پھر بھی درست محسوس ہوتا ہو تو پھر ہمیں دوسروں کی زیادہ پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ کسی بھی عمل کے اچھے یا بُرے ہونے کا رشتہ اس کے انجام سے جُڑا ہوتا ہے۔ ہم کسی ایسے عمل کو اچھا نہیں کہہ سکتے کہ جو خود ہمارے لیے یا دوسروں کے لیے بُرے نتائج حاصل کرے۔   اچھا راستہ وہ ہے جس کی منزل اجتماعی فلاح ہو۔  اگر ہم کسی ٹیم کا حصہ ہیں اور ہماری  توجہ انفرادی کامیابی پر مرکوز ہے اور  یہ بات ٹیم کی کامیابی سے ہم آہنگ نہیں تو اجتماعی فلاح کے حوالے سے یہ بات  اچھی نہیں ہو گی . توازن اور اچھائی میں گہرا تعلق ہے۔  شدت پسندی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو محدود کردیتی ہے ۔  توازن کا راستہ سب سے بہتر راستہ ہے.  مثال کے طور پر انکساری بہت اچھی چیز ہے لیکن اگر آپ اس قدر منکسر المزاج ہیں کہ ہر آدمی آپ کو پیروں تلے روند کر گزر سکتا ہے تو یقینا یہ کوئی اچھی بات نہیں ، اس کے اثرات آپ کی جسمانی اور جذباتی صحت پر پڑیں گے۔  ذمے دار ہونا اچھی بات ہے لیکن اگر آپ کی تمام زندگی اپنی ذمے داریاں نبھاتے گزر گئی  اور آپ خود اپنا خیال نہ  رکھ سکے اور نہ ہی اُن غریب ضرورتمندوں کا کہ جو آپ کا خاندان تو نہیں تھے مگر آپ کی مدد کے طلب گار اور حقدار ضرورتھے ۔ تو پھر ایسا ذمے دار رویہ کوئی اچھی بات نہیں ۔  مثبت طرزِ فکر اچھی بات ہے۔ لیکن بار بار مثبت طرزِ فکر کا ذکر کرکے وہی غلطیاں دوہرانا اچھی بات نہیں۔   اچھا انسان دوسروں کے رویوں سے جلدی بد گمان نہیں ہوتا۔ وہ انھیں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے عدم تشدد اور بات چیت کے ذریعے سے، کھلے دل و دماغ سے اور صورتِ حال کو پوری طرح سمجھ لینے کے بعد وہ کوئی فیصلہ کرتا ہے۔  اچھی زندگی گزار نا اہم ہے اس لئے کہ یہی فطرت سے ہم آہنگ اوردرست راستہ ہے.  ہماری روح اور ہمارا جسم اچھی زندگی ہی سے پھلتا پھولتا ہے۔  مہربانی، محبت ، مثبت طرزِ فکر، ایک دوسرے کا احترام اور اجتماعی فلاح کو اہمیت دینا ایسی زندگی کی علامتیں ہیں.  اچھی زندگی یہ ہے کہ ہم مسلسل سیکھتے رہیں.  ایسی صورت حال سے بھی جو یا تو بہت مبہم تھی یا بہت پیچیدہ ،  اپنی غلطیوں سے ،  اردگرد کے لوگوں سے،  اپنی تاریخ سے، حالاتِ حاضرہ سے، بدلتی ہوئی صورتِ حال سے . اچھی زندگی یہ ہے کہ دوسروں کی مدد کی جاے اور اگر وہ راضی ہوں تو اُن کا ہاتھ پکڑ کر درست سمت کی طرف اُنہیں متوجہ کیا جاے —– ویلیوورسٹی، شارق علی

|     |

گُل خان موچی، سیج ، انشے سیریل، سینتالیسواں انشا Gul Khan shoemaker, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 47

Narration by: Shariq Ali
September 1, 2018
retina

One billion human beings in our present day world are suffering from the lack of basic necessities such as food, water, shelter, education, medical care, and security. Do we care?

 

 

گُل خان موچی، سیج ، انشے سیریل، سینتالیسواں انشا ، شارق علی

پیرس کے قیام کا تیسرا دن تھا۔ زیرِ زمین میٹرو کے اسٹیشن سے باہر آئے تو ۱۸۹۴ء سے قائم بے حد مہنگا اور عالمی شہرت یافتہ ڈپارنمنٹل اسٹور گلیریا لفایا تے ہمارے  بالکل سامنے تھا۔ یہ فرانس کی امیر ترین اور فیشن ایبل شاپنگ کی علامت اور نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ پروفیسر گِل فرانس سے کل ہی لوٹے تھے۔ ٹی ہائوس میں محفل گرم  تھی۔ بولے، شیشے کا بڑا سا دروازہ کھول کر داخل ہوے تو سوٹڈ بوٹڈ سیکورٹی اسٹاف نے مہذب تلاشی لی۔ فانوسوں سے آراستہ کوریڈور کے دونوں جانب شوکیسوں میں سجی بے حد مہنگی مصنوعات اور ان میں دلچسپی لیتے مقامی اور دُنیا بھر سے آے خریداروں کا رش  ۔ آرٹ ڈیکو انداز میں سجے اس ڈپارٹمنٹل اسٹور کا سب سے حسین اور شاندار حصہ رنگین شیشوں سے بنا وہ دلکش گنبد ہے جو اس کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ پیرس کا لفایاتے تین مختلف وسیع و عریض عمارتوں پر مشتمل ہے اور فرانس کے دیگر شہروں اور دُنیا کے دیگر ممالک میں موجود اسٹورز علیحدہ۔ کونسی شے ہے جو یہاں دستیاب نہیں۔ ڈھائی ہزار سے زیادہ برانڈز، گھرداری، آرائش، فیشن اور کھانے پینے کی اس قدر معیاری چیزیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جائے۔ صرف ونڈو شاپنگ کرنا ہو تو بھی گھنٹے نہیں پورا دن درکار۔ شاید دُنیا کی مہنگی ترین مصنوعات۔ چالیس پچاس ہزار یورو کی گھڑیاں تو شو کیس میں عام سجی دیکھیں۔ ایک طرف سجے ایک اٹالین جوتے کی قیمت ڈھائی ہزار یورو دیکھی تو خیال آیا کہ بس چند ہفتے پہلے ہی کی تو بات ہے جب میں کراچی میں موزے پہنے کسی ٹوٹی ہوئی دیوار سے اُٹھاے ہموار پتھر پر بیٹھا ہوا تھا اور گُل خان موچی پالش کے بعد چمکتے دمکتے جوتے میری طرف بڑھائے ہوے مسکرایا تھا۔ اُجرت پوچھی تو بولا بیس روپے۔ میں نے پچاس کا نوٹ ہاتھ پر رکھا تو شرما کر بولا ’’بنتے تو بیس ہی ہیں آگے تمہاری مرضی۔ دو گلیوں کے ملاپ کے کونے پر چار ٹیڑھی میڑھی لکڑیوں پر ٹکا پانچ بائی پانچ فٹ کے رفو شُدہ ترپال کے نیچے بالکل بیچ میں رکھا ایک فولادی فریم تھا جس پر ہر سائز کا جوتا چڑھایا اور مرمت کیا جا سکتا تھا . اس کے پیچھے بیٹھا ادھیڑ عمر گورا چٹا پشاوری ٹوپی لگائے نسوار کھاتا گُل خان موچی۔ ایک جانب ٹین کے ٹرنک میں رکھے ہر سائز اور رنگ کے برش، پالشیں، دھاگے اور چھوٹی بڑی کیلیں اور سامنے پتھر پہ بیٹھا گاہک۔ یہ تھی گُل خان موچی کی دُنیا جہاں وہ دن کے آٹھ گھنٹے اور سال کے دس مہینے رزقِ حلال کی جدوجہد میں گزارتا۔ باقی دو مہینے ملک میں بیوی بچوں کے ساتھ۔. میں گل خان موچی کی یاد ساتھ  لیے گیلریا لفایا تے سے واپسی پر سارے راستے یہ سوچتا رہا کے ممکن ہے گل خان اپنی دنیا کی سادگی میں خوش ہو . لیکن شعور مندی کیسے سکھی رہ سکتی ہے ۔ ایک ایسی دُنیا میں جس میں چھ بلین میں سے ایک بلین انسان غربت کی نچلی ترین سطح پر سو روپے روز سے کم میں گزارا کر رہے ہیں۔ جس کی بیس فیصد امیر آبادی کے قبضے میں دُنیا کے اسی فیصد قدرتی وسائل اور دولت ہے.  جس میں ہرسال ڈیڑھ کروڑ افراد بھوک اور افلاس کا شکار ہوکر مر جاتے ہیں اور اسی کروڑ کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی اور مشرقی افریقہ جہاں دُنیا کی آدھی آبادی بستی ہے،  آبادی کے بلا روک ٹوک اضافے اور سماج میں موجود افراد کی صلاحیتوں کو استعمال نہ کر سکنے کے نتیجے میں کمزور معیشت اور غربت کے بوجھ سے بے حال ہیں۔ ہماری اس دُنیا میں گیلیریا لفایاتے جیسے آراستہ امارت کدے اور لگژری شاپنگ سینٹر دلکش ہیں یا بد صورت؟ کیا یہ ہم انسانوں کی لاتعلقی اور سنگدلی کا مظہر نہیں؟— جاری ہے

|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,311 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina