retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Monthly Archive: August 2018

انسان دوستی ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Humane, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
August 30, 2018
retina

We, humans, are an interconnected reality. Those who understand this fact shows kindness, care, and sympathy towards others especially the sufferers

 

 

انسان دوستی ، فکر انگیز انشے ، شارق علی
ایسی دُنیا جس میں بیشتر لوگ خوف اور غصے کو بیدار کرنے میں مصروف رہتے ہوں ۔ انسان دوستی کسی تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں ۔ یہ خود ہمارے لیے بھی صحت مندی اور خوش کا باعث  بنتی ہے۔ اس سے میری مراد ہے، دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھنا ، خود اپنے آپ کو اُن کی جگہ پررکھ کر محسوس کرنا اور اُن کی مدد کرنا۔  انسان دوست ہونے کی پہلی شرط یہ ہے کہ ہم دوسروں کو سُننا جانتے ہوں۔ ان میں سچی دلچسپی رکھتے ہوں.  اگر کوئی ہم سے مخاطب ہو اور ہم اس دوران کچھ اضطراری حرکتوں میں مصروف رہیں یا دل ہی دل میں کوئی اور بات سوچ رہے ہوں تو یہ بات گفتگو کرنے والے پر بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ ہماری آنکھیں اور ہماری  جسمانی بولی صاف کہے دیتی ہے کہ ہم  متوجہ نہیں۔ سُننے سے مراد ہے دوسروں کے انداز فکر کو سمجھنا،  اس پر دیانتداری اور ٹھنڈے دل سے غور کرنا ۔ ان کے جذبات کا احترام کرنا اور اپنے رویے میں خوش دلی سے اس کا اظہار کرنا. انسان دوستی دو طرفہ عمل ہے۔  جب ہم انسان ایک دوسرے کی بات سُنتے ہیں اور پرخلوص انداز میں اپنے اندرونی جذبات کا اظہار کرتے ہیں تو یہ عمل ایک درمیانی پُل کا کام کرنا ہے۔ خیال رہے کہ ایسا اُن ہی لوگوں کے ساتھ ممکن ہے جن پر ہمیں اعتماد ہو اور جو جذباتی طور پر ہمارے لئے اہم ہوں یا جن سے ہم دوستی یا تعلق قائم کرنا چاہیں۔ انسان دوست ہونے کے لیے اپنی  اندرونی کیفیات سے واقف ہونے کے علاوہ بیرونی ماحول سے آگاہی بھی بہت ضروری ہے ۔ ماحول میں موجود آوازیں، خوشبوئیں، مناظر اور دیگر موجود لوگوں کے جذبات انتہائی اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ زندگی کی درست تصویر ہمارے ذہنی ماحول اور ہمارے رویے کو انسان دوست بناتی ہے ۔ ایک انسان دوست دوسروں کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے گریز کرتا ہے کیونکہ ہم سب تبدیل ہوتی ہوئی حقیقت ہیں اور ہم سب میں بہتری کی گنجائش ضرور موجود رہتی ہے۔ اسی لئے تعصبات سے دور رہنا ضروری ہے . رنگ، نسل، مذہب، عقیدہ اور زبان، انسان دوستی میں رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے ورنہ ہم خوشی سے دور ہو جاتے ہیں. اگر ہمارے سوچنے کا انداز مثبت ہے، ہمارا رویہ مددگاراوراندازِ گفتگو تعمیری ہے تو بہت سے لوگ خود بخود ہم سے قریب ہونے لگتے ہیں ۔ اگر ہم نئے لوگوں میں، نئی صورت حال میں، نئی دُنیائوں میں دلچسپی رکھتے ہیں ، اُنہیں سمجھنا چاہتے ہیں، اُن سے سیکھنا چاہتے ہیں۔  تو گویا ہم انسان دوستی کے سفر پر رواں دواں ہیں۔ اس کے مقابلے میں اگر ہم ایک مخصوص طرزِ فکر اور عقیدے پر اصرار کرتے ہیں تو گویا ہم نے خود اپنی ذہنی ترقی کے راستے محدود کرلیے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے سماج اور معاشرے میں دلچسپی لیتے ہیں ، اس کی فلاح و بہبود میں حصہ بٹاتے ہیں۔ ایک شہری کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہیں اور حال میں کیے گئے اپنے عمل کو مستقبل سے جوڑ سکتے ہیں اور خود اپنے ذہنی تعصبات کے خلاف سوالات اُٹھا سکتے ہیں وہ انسان دوستی کا مفہوم سمجھتے ہیں۔ ہماری پروازِ خیال اگر صرف ہماری ذاتی آرزوئوں اور خواہشوں تک محدود ہے تو یہ بات انتہائی افسوسناک ہے ۔ لیکن اگر ہم ارد گرد بسنے والوں اور موجودہ دُنیا سے اپنے تعلق کو جوڑ سکتے ہیں اور اس کی بہتری میں حصہ بٹا سکتے ہیں تو یہ بات خود ہمیں بھی مسرت بہم پہنچائے گی اورصحت مند رکھے گی۔ اپنے خاندان کے افراد ، اپنے دوستوں، اپنے ارد گرد بسنے والوں بلکہ دُنیا کے تمام لوگوں کو اہم سمجھئے، اُنہیں توجہ اور محبت دیجیے .  یقین مانیے ایسا کرنے سے آپ کو محبت اور احترام حاصل ہوگا.  اب آپ سے اجازت — ویلیوورسٹی، شارق علی

 

|     |

انکساری، فکر انگیز انشے، شارق علی Humility, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
August 20, 2018
retina

It is the confidence in your own identity and ability that makes you respectful toward others. Humility is choosing not to draw attention to yourself but to highlight the abilities of others

 

 

انکساری، فکر انگیز انشے، شارق علی
انکساری کا مطلب خود کو کم اہمیت دینا نہیں بلکہ اس سے مراد ہے خلوص دل سے دوسروں لوگوں اور زندگی میں دلچسپی لینا اور ہردم اپنے بارے میں سوچنے اور گفتگو کرنے سے پرہیز کرنا . اگر ہم اپنے بارے میں مطمئن اور پر سکون ہوں تو یہ ایک قدرتی انسانی رویہ ہے . لیکن ان لوگوں کے لیے انکساری بے حد مشکل ہے جو اندرونی نا آسودگی کے سبب اپنی ذات کے ہر پہلو کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے عادی ہوتے ہیں ۔  انکساری ہمیں بہتر زندگی اور انسانی تعلقات کی حقیقی خوشی سے متعارف کرواتی ہے ۔ عزت و احترام اور زندگی میں ترقی کے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے . اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ہماری ذات زندگی کے ہر پہلو میں بہترین نہیں۔ اُن لوگوں کی طرف دیکھنے اور ان سے سیکھئے میں کوئی حرج نہیں جو کسی مخصوص پہلو میں ہم سے بہتر ہیں۔ خاص طور پر زندگی کے ان شعبوں میں جن میں ابھی ہمارے سیکھنے  کے لئے گنجائش باقی ہے. بعض اوقات ہم دوسروں پر فیصلہ صادر کرنے میں تو عجلت سے کام لیتے ہیں لیکن خود اپنے عمل پر نظر ڈالنے سے گریز کرتے ہیں۔ انکساری حاصل کرنے کے لئے  کچھ دیر ہی کے لیے سہی  لیکن کبھی کبھار اپنی کمزوریوں پر نظر ڈالنا بے حد ضروری ہے.  ممکن ہے آپ نے کسی بڑے ادارے سےکوئی  ڈگری حاصل کر رکھی ہو۔ ذرا اس شخص کا تصور کیجئے جو آپ جتنا ہی ذہین، محنتی اور سمجھ دار تھا مگر صرف اپنے حالات اور قسمت کی وجہ سے کسی بڑے ادارے میں تعلیم پانے سے محروم رہا۔ کیا آپ اپنی ڈگری کو محض اپنی ذاتی قابلیت کا نتیجہ قرار دے سکتے ہیں؟ کیا حالات اور ارد گرد کے لوگوں نے آپ کی  مدد نہ کی ہوتی تو آپ یہ کامیابی حاصل کرسکتے تھے؟  تو گویا شکر گزاری بھی ہمیں انکساری کی سمت لے جاتی ہے. منکسر ہونے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ ہم غلطی  کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ غلطی کرنا کوئی بری بات نہیں ، لیکن غلطی پر اصرار کرنا،  بلکہ بعض اوقات اس پر فخر کرناانتہائی احمقانہ بات ہے۔  غلطیوں سے سیکھنا اُور اُنہیں تسلیم کرکے آگے بڑھ جانا انکساری ہی کی ایک صورت ہے جس سے ہمیں دوسروں کا احترام بھی حاصل ہوتا ہے.  خود اپنی تعریف کرنا یا اپنے بارے میں گفتگو کرتے چلے جانا انتہائی بورمشغلہ ہے۔  اچھی کارکردگی  کے باوجود اگر ہم  سادہ اور پرخلوص گفتگو کرنے کے عادی ہوں تو نہ صرف  لوگ ہماری بات غور سے سنیں گے بلکہ ہماری قدر و منزلت ان کی نگاہوں میں کہیں زیادہ ہوگی۔  کوئی اچھا کام کرنے کے بعد ساری کامیابی کا تاج خود اپنے سر پر پہن لینا درست نہیں ۔  ایسے موقعوں پر اپنے مددگاروں کے بارے میں تشکر کا رویہ رکھنا بہت ضروری ہے . دوسروں کی صلاحیت کا برملا اعتراف اور اظہار کرنا سچی انکساری ہے. دوسروں سے موازنے کی عادت چھوڑ کر اگر ہم  اپنے آپ کو بہتر بنانے پر توجہ دیں  اور یہ یقین رکھیں کہ ہم میں سے ہر شخص انفرادی صلاحیت کے اعتبار سے  منفرد ہے تو یہ بات ہمیں مثبت ذہنی اطمینان مہیا کرے گی۔ اس بات پر مسلسل پریشان ہونا چھوڑ دیجیے کہ دوسرے آپ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، بلکہ یہ سوچئے کہ آپ کا رویہ مناسب اور درست ہے یا نہیں ؟ یعنی وہ اچھا عمل اور سوچ جو ہم نے اپنی تربیت اور پڑھی ہوئی کتابوں سے سیکھی ہے۔ کیا ہم اس کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں یا نہیں؟ اگر ہم مسلسل سیکھنے اور دوسروں کی مدد لیے  تیاررہتے ہیں. ان  کا احترام  کرتے ہیں اور کسی کے لیے کوئی اچھی بات کہنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے اور دوسروں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں تو یقینا ہماری طبیعت میں انکسار موجود ہے۔ اب آپ سے اجازت۔ اپنا خیال رکھیے گا —- ویلیوورسٹی، شارق علی

 

|     |

واٹس اپ اور گلی محلے ، فکر انگیز انشے Whatsapp and community service, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
August 15, 2018
retina

Whatsapp can be a very useful tool to collaborate and serve your community. Listen to this and think about it

 

 

واٹس اپ اور گلی محلے ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

ہم جہاں بھی رہتے ہیں اس جگہ سے پیار ہونا قدرتی بات ہے . ہم میں سے ہر ایک فطری طور پر یہ چاہے گا کہ ساتھ رہنے والے ہمارے دوست، خاندان والے اور اردگرد کے لوگ مسائل سے آزاد ہوں اور بہتر زندگی گزار سکیں ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اپنے گلی محلے سے محبت کا اظہار کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ پہلی بات تو یہ کہ ہم  جہاں کہیں بھی رہتے ہوں اس کے بارے میں لاتعلقی اختیار نہ کریں۔ اگر ہمارے سامنے کوئی مسئلہ ، کوئی ایسی صورت حال آتی ہے جس میں مددگار ہونا ممکن ہے تو ایسے موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے ۔  اگر کوئی بوڑھا شخص وزنی سامان اُٹھائے چلا جارہاہے۔ یا بیبی چیئر سمیت کسی ماں کو سیڑھی اُترنے چڑھنے میں مدد کی ضرورت ہے، کوئی فقیر یا کوئی بیمار ہماری توجہ کا طالب ہے تو اُسے ہر گز نظر انداز نہ کیجئے، جو کچھ مدد فراہم کی جا سکتی ہے ضرور کیجئے۔ اپنے گلی محلے میں چکر لگاتے ٹھیلے والوں کو ، مقامی دکانوں کو، چھوٹے چھوٹے کام کرنے والے کارکنوں کو اپنا تعاون اور عزت دیجئے۔ مقامی دکانوں پر خریداری کو ترجیح دیجئے۔  اگر کوئی محلہ کمیٹی موجود ہے جو صفائی ستھرائی اور حفاظت کا اہتمام کرتی ہے تو اس میں ضرور شرکت کیجئے اور اگر نہیں تو آپ ایسی کمیٹی کے قیام کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ اپنے قریبی دوستوں سے رائے اور مشورہ لے سکتے ہیں۔  پھر مل بیٹھ کر یہ بھی سوچا جاسکتا ہے کہ بجلی اور پانی کے ناجائز اور غیر ضروری استعمال کو کس طرح کم کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ اپنے گلی محلے میں دوسرے لوگوں، خاص طور پر اپنے پڑوسیوں کی ضروریات سے آگاہ ہیں تو یہ بات کار اور موٹر سائکل کے استعمال کو زیادہ کار آمد بنا سکتی ہے۔ مثلاً کسی ایک اسکول میں جانے والے کئی بچے، باری باری ایک ساتھ ایک ہی گاڑی میں آ جا  سکتے ہیں۔  اپنے ارد گرد کے لوگوں سے واقف ہونا اُن سے ملنا، اُن کے ساتھ خوشگوار وقت گزارنا ، اُن کے مسائل اور اُن کی خوشیوں میں دیانت داری سے شریک ہونا بہت سے مسائل کا حل ثابت ہوسکتا ہے۔  تھوڑا سا مشاہدہ اور تحقیق آپ کو اپنے محلے کی ضروریات سے آگاہ کرسکتی ہے۔  ہوسکتا ہے کہ محلے کے کسی شخص یا خاندان کو خریداری کے لیے آپ کی مدد درکار ہو.  اگر آپ اس کی مدد کرسکتے ہیں تو ضرور کیجئے۔  محلے کی بہتری کے لیے کوئی سماجی تنظیم بنا نے میں بھی کوئی حرج نہیں.  آپ با آسانی محلے کا واٹس ایپ گروپ بنا کر  اظہارِ خیال اور مسائل کے حل کی تدابیر کرسکتے ہیں، ممکن  ہے کوئی ریٹائرڈ استاد محلے کے بچوں کو امتحان کی تیاری کروا سکے، کوئی ڈاکٹر طبی مشورے دے سکے، کوئی سرکاری افسر محلے کے مسائل کو حل کرنے میں مددگار ہوسکے۔  اگر آپ اپنی سوچ کو باہمی مدداور مسائل کے حل پر مرکوز کریں گے تو ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آئے گا۔  مل جل کر محلے کی بہتری کے اہداف متعین کیے جا سکتے ہیں۔  پھر آپ کوئی منصوبہ بندی تشکیل دے سکتے ہیں۔  جس میں تمام لوگوں کے تعاون سے محلے کے مسائل کو حل کیا جاسکے۔ آپ یہ حکمتِ عملی بھی اختیار کرسکتے ہیں کہ ان مسائل کے حل کے لیے بارسوخ لوگوں اور مشہور شخصیات سے کیسے رابطہ قائم کیا جائے، اُن کی مدد کیسے حاصل کی جائے۔  واٹس ایپ گروپ پر منظم ہونے کے بعد ایسی ٹیمیں بنائیں جاسکتی ہیں جو یا تو صفائی ستھرائی پر یا آوارہ گھومتے جانوروں پر یا ضعیف اور معذور افراد کی مدد پر یا کسی بھی مسئلے کے اچانک سامنے آجانے پر اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا سکیں۔ پھر اسی واٹس ایپ گروپ کے حوالے سے گلی محلے کے لوگوں کے مل بیٹھنے کا بہانہ بھی ڈھونڈا جاسکتا ہے۔ مثلاً حلیم کی کوئی دعوت، موسیقی یا تعلیمی نوعیت کا کوئی پروگرام، یا کوئی کھیل کود یا مینا بازار۔ جس میں نا صرف ایک دوسرے سے ملا جاسکتا ہے  بلکہ کسی خاص مسئلے کے حوالے سے چندہ بھی کیا جاسکتا ہے۔  ایک دوسرے کے ساتھ ملنا جلنا اور یگانگت مسائل کے حل کی جانب پہلا اور اہم قدم ہے ۔ ہوسکتا ہے ایسی ہی کسی خوشگوار تقریب کے بعد  یہ فیصلہ ہو کہ ہم اپنے گلی محلے کی صفائی کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔ اگر کوئی پبلک پارک یا بچوں کا میدان موجود ہے تو اس کی آرائش کا کیا بہتر انتظام کرسکتے ہیں۔ ان چند تجاویز کے ساتھ اب آپ سے اجازت۔  اپنا خیال رکھیے گا— شارق علی ، ویلیو ورسٹی

|     |

علمی سخاوت ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Knowledge Philanthropy, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
August 12, 2018
retina

Knowledge philanthropists are those who wish to share their knowledge, skills, and experience for the benefit of humanity without any expectations for the reward. These are the ones who are making this world a better place to live

 

 

علمی سخاوت ، فکر انگیز انشے ، شارق عل

علم اور دانشمندی حاصل کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہم اپنے اردگرد کی دُنیا کو سمجھ لینے کے بعد اپنے دل میں موجود خوف اور تعصب سے چھٹکارا پا لیتے ہیں . اگلا قدم  ہے اپنی دانشمندی ، علم اور مہارت سے انسانیت کو فائدہ پوھنچانا . تحریر ، تقریر یا عملی مہارت دوسروں کو سکھانے کے ذریعے سے انسانیت کی خدمت علمی سخاوت یا نالج فلانتھروپی کہلا تی ہے .  اس سے مراد اپنی رائے یا نظریات کو دوسروں پر تھوپنا نہیں ہے  بلکہ اس کا مطلب ہے دوسروں کو اپنے علم میں اس طرح شریک کر لینا کہ یہ دُنیا ایک بہتر دُنیا بن سکے.  یہ گویا ایک طرح کا تحفہ دینا ہے تاکہ وصول کرنے والے عام لوگ خود اپنے آپ کو اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے بارے میں سوچ سکیں اور  درکار مہارت حاصل کرسکیں۔ زندگی کے تجربات سے بھرپو لطف اٹھا سکیں اور اپنے  مسائل سے بہترطور پر نبرد آزما ہوسکیں.  ثقافتی، مذہبی اور سیاسی اختلافات اور زندگی کی بدلتی ہوئی صورت حال کو کشادہ دلی کے ساتھ قبول کرسکیں۔ علمی سخاوت کے لیے خلوصِ نیت انتہائی اہم ہے۔  اگر ہم شہرت، سماجی اہمیت یا دولت کے حصول  کے لیے ایسا کرتے ہیں تو بہت جلد یہ بات کھل کرسب کے سامنے آ جاتی ہے . ایسا کرنا علمی خود غرضی کہلاے گی ۔ علمی سخاوت تو  محبت کرنے کا عمل ہے۔  صلے اور ستائش سے بلند ہوکر محبت کرنے کا عمل. اس کا واحد مقصد دوسروں کی زندگی کو بہتر بنانا ہے.  اُن کے لیے آسانی پیدا کرنا۔ لیکن یہ قدرت کا انعام ہے کہ  ایسا کرنے والے کو  اس عمل سے  طمانیت اور تسکین حاصل ہوتی ہے . مزے کی بات یہ ہے کہ صرف عالم یا دانشور ہی نہیں بلکہ ہم میں سے ہر انسان علمی سخاوت کے ذریعے انسانیت کی خدمت کر سکتا ہے.  پچھلے دنوں میرے گھر کا نلکا لیک ہونے لگا ۔ میں نے یو ٹیوب پر کسی پلمبر کی بنائی ہوئی ویڈیو دیکھ کر  چند منٹوں میں ہی اس مسلے کو حل کر لیا . یوں تو دُنیا کی تاریخ میں ایسے سخی لوگ ہمیشہ موجود رہے ہیں اور یہی لوگ انسانی ترقی کا بنیادی سبب بھی تھے ۔ لیکن آج کے اس معلوماتی انقلاب کے دور میں علمی سخاوت اپنا عروج دیکھ رہی ہے . ہمیں اپنے تجربے اور مہارت کے ذریعے سے دوسروں کا ہاتھ ضرور تھامنا چاہیے . ہم سوشل میڈیا جیسے فیس بک یا یوٹیوب کی مدد سے یہ کام بہت آسانی سے کر سکتے ہیں . یاد رہے کے کی جانے والی بات کارآمد ہو اور پیشکش کا انداز دلچسپ تاکے لوگ متوجہ ہو سکیں.  کسی خاص موضوع پراظہار خیال سے پہلے اپنی علمی قابلیت یا تجربے کے مناسب ذکر میں کوئی حرج نہیں . لیکن یاد رکھیے علم سے میری مراد ہے کار آمد معلومات اور حقائق کا بیان.  ذاتی رائے یا نظریے کا بیان علم کے زمرے میں نہیں آتا ۔ علم روز مرہ زندگی کے مسائل سے متعلق بھی ہوسکتا ہے اور فلسفہ ، سائنس ، شاعری، ادب اورموسیقی کے حوالے سے بھی.  لیکن اسکی بنیادی شرط ہے دوسروں کے لئے اس میں فائدہ مندی کے پہلو کا موجود ہونا . دوسروں تک معلومات پہنچانے سے پہلے یہ  ضروری ہے کہ ہم اس کے معیار پر گہری نظر ڈال لیں ۔ بات کتنی کار آمد ہے؟  جو پیرایۂ اظہار اختیار کیا گیا ہے۔ کیا وہ دلچسپ، عام فہم  اور مہذب ہے یا نہیں ؟ جس ذریعے سے ہم یہ بات پہنچا رہے ہیں کیا وہ  متعلقہ لوگوں تک رسائی حاصل کر سکے گا ؟ کیا کہی گئی بات مستند ہے؟ کہیں  یہ بات منفی اثرات تو پیدا نہیں کرے گی ؟ علمی سخاوت کا بنیادی مقصد ہے دانشمندی کا فروغ .  اس لئے کہی گئی یا لکھی گئی بات کے ہر پہلو کوٹھوک بجا کر اس پر غور و فکر کرلینا ، اس کے اثرات کی پیش بندی کرلینا بے حد ضروری ہے ۔  کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے خوف، اپنے تعصبات اور منفی نظریات کو علم سمجھ کر دوسروں تک پوھنچانے لگیں. لیکن دوسری جانب  مکمل خلوص اور دیانت داری سے کوئی کوشش کرنے کے بعد آپ اس بات سے نیاز ہوجائیں کہ دوسرے لوگ آپ کی اس سخاوت کے بارے میں کیا رائے رکھیں گے۔  اپنی مہارت ، علم، تجربے اور مشاہدے میں دوسرے لوگوں کو شریک کرنے اور انھیں فائدہ پوھنچانے سے بالکل نہ جھجھکیے ،  علمی سخاوت اختیار کیجیے اور اپنا خیال رکھیے —– ویلیوورسٹی

|     |

اچھوتا خیال، فکر انگیز انشے Creative idea, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
August 5, 2018
retina

Creativity is the ability to perceive the world in new ways, to discover hidden patterns and to find connections between seemingly unrelated phenomena in order to generate solutions. Here are a few suggestions to get creative ideas

 اچھوتا خیال، فکر انگیز انشے، شارق علی

کسی اچھوتے خیال تک پہنچنے کے لیے ہمیں منفرد طرزِ فکر اور بھرپور تخلیقی جوش کی ضرورت ہوتی ہے.  اگر ہم اظہار رائے، مثبت بحث و مباحثہ، بھرپور غور و فکر اور اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو تحریر کرلینے کے عادی ہوں تو اچھوتے خیال تک پوھنچنے کا امکان نسبتاً زیادہ ہے. تخلیقی جوش سے میری مراد ہے نئے خیالات کے لیے خوش آمدیدگی ۔ ایسے لوگ اپنے شعبے میں معتبر اور قابل لوگوں کے لیکچر سننے، خود اپنے ذاتی مشاہدات پر غور و فکر کرنے، حتیٰ کے اپنے آرام، صحت اور غذا کا خیال رکھنے میں بھی پر جوش ہوتے ہیں .  بعض لوگ کسی اچھوتے خیال کے تعاقب میں ہوں تو قلم اُٹھا کر صفحے پر مسلسل لکھنا شروع کردیتے ہیں ۔ نفسیات دانوں کے خیال میں اگر آپ کا ذہن قلم کے ذریعے سے براہِ راست صفحے پر اپنی سوچ درج کرنے لگے تو اس بات کا امکان ہوتا  ہے کہ کوئی اچھوتا حل یا خیال آپ کے لاشعور سے نکل کر آپ کے بالکل سامنے آجائے۔ تو گویا بنا سوچی سمجھی تحریر ایک طرح کی تکنیک ہے اپنے لاشعور تک پوھنچنے کی۔  ایک دوسرا طریقہ جو بعض ماہرین کی رائے میں کارآمد ہے وہ یہ کہ ایک صفحے کے بیچ میں آپ جو مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اُسے درج کرلیجیے اور اس کے ارد گرد اپنے ذہن میں آنے والی ہر قسم کی سوچیں چھوٹے چھوٹے دائروں میں نکتہ وار درج کرتے  چلے جائیے.  پھر یہ الگ الگ شاخیں آپس میں جڑنا شروع ہوجائیں گی اور ممکن ہے کے مرکزی مسلے کے حل کے  لیے آپ کو وہ اچھوتا خیال میسر آجائے جس کی آپ کو تلاش ہے۔  بعض ماہرین ایک اور راستہ اختیار کرتے ہیں. اُسے کردار کی تبدیلی یا رول سٹورمنگ کہا جاتا ہے . آپ جس مقصد، موضوع یا مسلے پر غور و فکر کر رہے ہیں اسے سامنے رکھتے ہوئے خود کو اپنے ذہن میں کسی مختلف کردار میں تبدیل کرلیں.  یعنی اپنے کسی دوست، ساتھی یا اپنے والد یا والدہ وغیرہ کے کردار میں . پھر اس نئے کردار میں ڈھل کر نے سرے سے غور و فکر کا آغاز کیجئے.  آپ کو سوچنے کا ایک نیا انداز میسر  آے گا جو ہو سکتا ہے کہ آپ کو کسی حل تک پوھنچا دے ۔ آپ کوئی ایسا کردار بھی بن سکتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے بہت ذہین تھا۔ مثلاً آئن اسٹائن.  پھر اس کے ذہن سے اس مسلے کے حل کو تلا ش کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے کامیاب ثابت ہو . گویا اچھوتے خیال تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی ذہنی حد بندیوں کو توڑ سکیں . مسئلے کو سامنے رکھ  ک ذرا دیر کے لیے تصور کر سکیں کے ہم سب کچھ کرسکتے ہیں۔ صرف ایسا تصور کر لینے سے کچھ ایسے نئے امکانات نظر آنا شروع ہوںگے کہ جو کارآمد حل کی جانب مثبت پیش رفت ثابت ہوں گے ۔  تخلیقی سوچ کے لیے ہم خیال لوگوں کے ساتھ اظہارِ رائے کرنا، اُن کی رائے کو سُننا اور اُن کے مشاہدات اور تجربوں سے سیکھنا بہت ضروری ہے، ایسے لوگوں سے سیکھنے کی کوشش کرنا چاہیے جو عام ڈگر سے ہٹ کر زندگی گزارتے ہیں.  اور خود اپنی زندگی میں بھی اکثر و بیشتر خود کو روز مرہ کی قید سے آزاد کر لینا چاہیے . ایک جیسی مصروفیات کے بجائے نئی جگہوں پر جانا، نئے لوگوں سے ملنا، نئی کتابیں پڑھنا، نئے موضوعات پر غور و فکر کرنا چاہیے. ایسا کرنا ہماری تخلیقی صلاحیتوں کو  نیا جوش فراہم کرے گا. ہم خوش قسمت ہیں کے معلوماتی انقلاب کے اس ولولہ انگیز دور میں جی رہے ہیں جس میں انٹرنیٹ اوریو ٹیوب پردُنیا کے ماہر ترین لوگوں سے سیکھنا ممکن ہے . ہم ان کی سوچ اور کام سے واقف ہو سکتے ہیں. ٹیڈ ٹاکس پر  دُنیا کی  بڑی بڑی یونیورسٹیز میں ہونے والی تحقیق سے آگاہی حاصل کر سکتے ہیں . عالمی شہرت یافتہ پروفیسرز کے لیکچرز سُن سکتے ہیں۔ مسلسل سیکھنا ہماری تخلیقی صلاحیتوں میں اضافے اور اچھوتے خیال تک پوھنچنے کی بنیادی شرط  ہے . ان چند گزارشات کے بعد آپ سے اجازت. اپنا خیال رکھیے گا۔
ویلیوورسٹی،، شارق علی

|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,311 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina