retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Monthly Archive: June 2018

Ahteram احترام ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Respect, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
June 30, 2018
retina

How to achieve self and mutual respect? Here are few suggestions

 

 

احترام ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

 خود اپنا احترام اور اس دُنیا میں بسنے والے دیگر تمام انسانوں کا احترام ایک اہم موضو ع ہے ۔ آئیے اس پر ذرا غور کریں . سادہ لفظوں میں احترام سے مراد ہے وہ قدر و قیمت اور اہمیت جو خود ہم اپنے آپ کو یا دوسروں کو دیتے ہیں۔ اس کا تعلق بہت سی باتوں سے  ہے۔ مثلاً ہم اُن لوگوں کا احترام کرتے ہیں جو ہمارے خیال میں زندگی میں کامیاب ہیں، اپنی زندگی بہتر انداز میں گزار رہے ہیں یا وہ ہمارے ساتھ خوش سلوکی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ دیانت دار ہیں اور خوش مزاجی کو مسلسل قائم رکھتے ہیں ۔ گویا احترام ایک مثبت جذبہ ہے جس کی بنیاد اچھے روئیے اور  بہتر اقدامات پر ہے ۔ یہ بات سمجھنا اہم ہے کے باہمی احترام کا سفر خود احترامی سے شروع ہوتا ہے. اور اس جانب پہلا قدم ہے خود شناسی.  اگر ہماری زندگی اچھے اصولوں پر کاربند ہے تو خود احترامی کا موجود ہونا قدرتی بات ہے ۔ آئیے ایسے چند اُصولوں پر نگاہ ڈالیں.  سب سے پہلا اُصول ہے دیانت داری۔ اگر ہم خود کے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ دیانت دار ہیں۔ تو یقینا ہم احترام کے حق دار ہیں۔  پھر ہم سمیت وہ تمام لوگ جو صاحبِ علم ہیں قابل احترام ہیں۔  دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ صاف ستھرے ہوں، صحت مند ہوں، اپنی غذا کا خیال رکھیں، باقاعدگی سے ورزش کرتے ہوں وہ نہ صرف اپنا بلکہ دوسروں کا بھی احترام کرتے ہیں ۔ اگر ہم مالی اعتبار سے کسی کے محتاج نہیں تو ہمیں سماج میں  احترام حاصل ہوگا۔ اگر ہم دوسروں کا نقطۂ نظر سُن سکتے ہیں، اُسے برداشت کرسکتے ہیں، ان کے مذہبی عقائد کو ان کا حق سمجھتے ہیں تو یقینا وہ بھی ہمارا احترام کریں گے۔ ہماری طرز نشست و برخاست ، ہمارا رویہ، ہمارے لین دین کا طریقہ اور روز مرہ زندگی گزارنے کا انداز اس بات کا فیصلہ کرتاہے کہ لوگ ہمارا احترام کریں یا نہ کریں۔  اگر ہم اندر سے اچھا محسوس کرتے ہیں تو یہ بات خود بخود ہمارے رویے میں جھلکے گی  اور ہم دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے ۔ اس سے ہمارے احترام میں اضافہ ہوگا۔ وہ لوگ جو اپنے رویے کی ذمہ داری کو قبول کرتے ہیں اور الزام تراشی اختیار نہیں کرتے نہ ہی اپنی کمزوریوں کے لیے تاویلیں پیش کرتے ہیں۔ کسی غلطی کی صورت میں  معذرت کرنے سے جھجکتے نہیں بلکہ کھلے دل سے اپنی ذمہ داری کو قبول کرتے ہیں۔ تو یہ بات بھی انھیں محترم بناتی ہے۔  اگر ہم مثبت رویہ رکھنے والوں کے درمیان زندگی گزاریں اور منفی رویہ رکھنے والوں سے دور رہیں تو ہم اپنے احترام میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ وہ لوگ جو زندگی گزارنے کے لئے واضح مقصد اور منصوبہ بندی رکھتے ہیں۔ اور جن کے عملی اقدامات کسی ایک خاص سمت میںآگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ اُن کے ارد گردکے لوگ خود بخود اُن کا احترام کرنے لگتے ہیں اور وہ ترقی بھی زیادہ کرتے ہیں ۔  آئیے دیکھیں کہ دوسروں کا احترام کیسے کیا جاسکتا ہے ۔ پہلے تو یہ کہ ہم  دوسروںکی بات سُننا سیکھیں ، اُن کے نقطہ نظر کو کھلے دل سے قبول کرنا سیکھیں ۔ اختلافِ رائے کی صورت میں چراغ پا ہونے کے بجائے تحمل اور برداشت کا رویہ اختیار کریں تو گویا ہم دوسروںکا احترام کرتے ہیں۔  یہ قدرتی بات ہے کہ ہم اپنے ارد گرد کے  لوگوں میں سے بعض کا احترام زیادہ کریں گے اور بعض کا کم۔  لیکن ہمیں مہذب رویے میں برابری اختیار کرنا چاہیے.  یعنی ہر شخص محض ایک فردہونے کے ناطے اہمیت اور عزت رکھتا ہے۔  آخری بات یہ کہ  احترام انسانی جذبوں میں ایک مقدس جذبہ ہے لیکن یہ ہمیں خود بخود حاصل نہیں ہوتا بلکہ ہمیں اپنی دیانت داری اور اپنے طرزِ عمل سے اسے حاصل کرنا ہوتا ہے۔  اب آپ سے اجازت .  اپنی صحت، خاندان اور خوشیوں کا خیال رکھیے

شارق علی ، ویلیوورسٹی

|     |

فیصلہ سازی ، فکر انگیز انشے Decision making, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
June 18, 2018
retina

Our decisions shape our lives.  A belief or a course of action among several alternative possibilities is not easy. This podcast gives you few suggestions for effective decision making

 

 

فیصلہ سازی ، فکر انگیز انشے ، ویلیوورسٹی، شارق علی

 ہماری زندگی چھوٹے بڑے فیصلوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ چاہے وہ شعوری طور پر کیے گئے ہوں یا لاشعوری طور پر۔ ان فیصلوں کے نتائج ہماری  زندگی کے خدوخال تشکیل دیتے ہیں ۔ آئیے فیصلہ سازی کے اہم موضوع پر ذرا غور کریں .  پہلی بات تو یہ کہ اگر کسی فیصلہ سے پہلے آپ تذبذب کا شکار ہیں تو اس خوف کو سمجھنے کی کوشش کیجئے جس نے لاشعوری طور پر آپ کو بے چین کر رکھا ہے۔ ایسے تمام خوف ایک کاغذ پر لکھ لیجئے۔ پھر اس فیصلے کے نتیجے میں خطرناک ترین نتائج کو شعوری طور پر اپنے سامنے لے آئیے اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیے اور یہ بھی کہ ایسے نتائج کے کتنے فیصد امکانات ہیں. خود سے  سوال کیجیے  کہ اگر  آپ نے یہ  فیصلہ کرلیا تو کیا یہ مستقل ہوگا یا اس میں تبدیلی کی گنجائش موجود ہے؟  کسی بھی فیصلے سے پہلے متعلقہ معلومات حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔ اسی لیے اگر گنجائش موجود ہو تو فوری فیصلے سے پر ہیز کرنا چاہیے تاکہ آ پ اس فیصلے سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرسکیں اور اچھے اور برے دونوں پہلوئوں پر غور کرچکے ہوں۔ آپ کے علم میں یہ بات بھی ہو کہ کون کونسے دیگر متبادل موجود ہیں۔ کچھ  لوگ  اپنے تمام متبادل کاغذ پر لکھ کر  ہر متبادل کے سامنے فائدے اور نقصانات کے کالم میں امکانی طور پر حاصل شدہ نمبروں کو درج کرلیتے ہیں تاکہ  سب سے بہتر متبادل کا انتخاب کیا جا سکے ۔ کسی بھی فیصلےسے پہلے توقف اور سوچ و بچار اضطراری طور پر فیصلہ کرنے سے بہت بہتر ہے . ایک مخلص دوست کی طرح خود اپنے آپ کو مشورہ دینا اور اس پر عمل درآمد کرنا بے حد کار آمد ہوتا ہے۔ یاد رکھیے  فیصلہ تو حال میں کیا جاتا ہے لیکن اس کے نتائج کے حوالے سے مستقبل پر نظر رکھنا ضروری ہے . ہر اہم فیصلے کا بیک اپ پلان ہونا بھی بہت  اہم ہے۔ یعنی اگر یہ فیصلہ ہمارے لیے مثبت ثابت نہیں ہوا تو اس صورت حال میں ہم کیا عملی اقدام اُٹھائیں گے۔ ضروری ہے کہ آپ فکری طور پر واضح ہوں کہ آپ یہ فیصلہ کیوں کررہے ہیں  اور اس کے مثبت پہلو کیا ہوں گے؟  بعض اوقات فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات ہمارے خاندان، ہمارے دوستوں اور ہوسکتا ہے معاشرے پر بھی پڑیں۔ ایسے فیصلے سے پہلے یہ جاننا اہم ہے۔ کہ ہماری ذاتی اقدار کیا ہیں اور کیا وہ دوسرے شخص یا گروہ کی  اقدار سے متصادم تو نہیں؟ کیا آپ کے کیے گئے اس فیصلے سے دوسرے لوگوں پر منفی یا مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟ درست بات یہ ہوگی کہ آپ اپنے ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی مفاد کو زیادہ اہمیت دیں ۔ ذاتی سوچ بچار کے بعد  اس فیصلے سے متعلق اپنے پرخلوص دوستوں یا اپنے خاندان کے افراد سے اظہارِ خیال کیجئے اور ان کی رائے لیجئے۔ کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ  آپ کو جذباتی طور پر معتدل مشورہ دے سکیں۔ ہوسکتا ہے کہ ایسی ہی صورت حال میں ان کا  تجربہ آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔  جب آپ یہ ساری  سوچ و بچار کرچکے ہیں تو اب فیصلہ کرنے کا وقت ہے۔ اس مرحلے پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ ذہنی طور پر اور جذباتی طور پر پرسکون رہیں، مثبت طرزِ فکر اختیار کریں اور منفی خدشات سے پرہیز کریں۔ ایک پرسکون اور غیر جذباتی ذہنی کیفیت آپ کو درست فیصلے کی طرف لے جائے گی۔ آپ کے لئے بہتر فیصلہ سازی کی نیک تمناؤں کے ساتھ اب آپ سے اجازت۔—- ویلیوورسٹی ،  شارق علی

 

|     |

تنقیدی سوچ ، فکر انگیز انشے Critical thinking, Thought-provoking Inshay

Narration by: Shariq Ali
June 13, 2018
retina

Critical thinking is an essential prerequisite for intellectual freedom. How can we teach this important topic to our kids and students? Here are few suggestions

 

 

تنقیدی سوچ ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

 تنقیدی سوچ زندگی کے مسائل کو حل کرنے میں بے حد مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس سے مراد ہے معلومات کا بغور معائنہ اور تجزیہ کرنا۔ زندگی میں معلومات چاہے ہمیں اپنے مشاہدے، تجربے یا کسی رابطے کی صورت میں حاصل ہوئی ہوں،  اہم بات یہ ہے کہ ہم معلومات کو من و عن تسلیم کرنے کے بجائے اس پر تنقیدی نظر ڈال سکیں۔ اس معلومات کے حوالے سے جائز اور مناسب سوالات اُٹھا سکیں۔  سائنس، ریاضی، تاریخ، معیشت اور فلسفہ تنقیدی سوچ کے بغیر اپنا وجود حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ کسی بھی سماج کی ترقی کے لیے اس کے شہریوں میں ایسی سوچ کاہونا بے حد ضروری ہے۔  چاہے آپ والدین ہوں یا اُستاد،  اپنے بچوں کو اور اپنے طالب علموں کو تنقیدی سوچ دینا آپ کی ذمہ داری ہے۔ بچے اپنے مشاہدے کے حوالے سے اکثر اپنے سوالات کا آغاز ’’کیوں‘‘ سے کرتے ہیں۔  ایسے ہر سوال کا جواب تمہارا کیا خیال ہے؟ سے شروع کرنے سے ہم اُن کے ذہن میں تنقیدی سوچ کا بیج بو سکتے ہیں۔ ہر مشاہدے کے بارے میں انھیں اپنی ذاتی رائے قائم کرنے سے عملی زندگی میں بے حد مدد ملے گی۔ مشاہدات کا موازنہ کرنا یا ضدین (متضاد) تلاش کرنا نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ فکر انگیز بھی۔ مثلا کسی بچے کو اگر ایک سیب اور ایک سنگترہ دیا جاے اور اس  سے کہا جاے کہ دونوں میں کیا بات مشترک ہے اور کیا مختلف ؟ تو یہ بات اس کی ذہنی کشادگی میں بہت مددگار ہوگی۔ بچے جب کہانی سُنتے ہیں تو وہ کرداروں، ماحول، کہانی کے بنیادی پلاٹ اور چھو ٹی چھوٹی جزئیات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اور دیگر سنی ہوئی کہانیوں سے اُس کا موازنہ اُن کے مشاہدے کو اور وسیع کرتا ہے۔ اگر بچے سے کہا جائے کہ وہ سُنی ہوئی کہانی اپنے الفاظ میں دوبارہ سنائیں اور اُن سے کچھ ایسے سوال کیے جائیں جن کا جواب اس کہانی میں موجود نہیں تو اس طرح اُن کا ذہن سوچنے پر مجبور ہوگا.  پھر اگر کہانی اور اس کے کرداروں کے بارے میں خود اُن کی رائے معلوم کی جائے تو وہ اپنے انفرادی خیال کے اظہار سے تنقیدی سوچ حاصل کریں گے۔  ہوسکتا ہے وہ اس کہانی کا موازنہ اپنی زندگی سے کریں، ہوسکتا ہے وہ پرانی معلومات کو نئے انداز سے عملی طور پر استعمال کرنے کی کوشش کریں ۔ اپنے بچوں اور اپنے طلبا کے ساتھ مل جل کر کسی مسئلے کا حل تلاش کرنا یا مختلف صورتحال کا موازنہ کرنا،  بہتر سے بہتر نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرنا، نہ صرف ان میں بلکہ آپ میں بھی تنقیدی سوچ بیدار کرے گی ۔ ایسی کہانیاں جن کا کوئی انجام نہ ہو یا بہت سے انجام ممکن ہوں۔ پڑھنے والے بچے کی تخلیقی صلاحیت پر  مثبت طور پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔ انسانی تاریخ میں تنقیدی سوچ کی اہمیت کی سمت متوجہ کرنے والا سب سے پہلا شخص سقراط تھا۔ اس کا راستہ دانشمندانہ سوالات کا راستہ تھا۔  اس کے سوالات سوچنے والے ذہن کو دو مختلف سمتوں بلکہ بعض اوقات کئی مختلف سمتوں میں لے جاتے اور پھر اسے ان راستوں پر چل کر خود اپنے لیے جواب تلاش کرنا پڑتا تھا۔ ہم بھی اپنے طالب علموں اور بچوں کو تنقیدی سوچ سکھانے کے لیے یہ طریقہ کار استعمال کرسکتے ہیں۔ کسی تنازعے کا فکری تجزیہ تنقیدی سوچ کو بیدار کرتا ہے۔ سب سے پہلا مرحلہ ہے اس تنازعے کو پہچاننا، اس کی صاف ستھری وضاحت کرنا، جسے ہم فلسفے کی زبان میں ’’پریمس‘‘ کہتے ہیں یا وہ بیانیہ جس پر ہمیں بحث کرنی ہے.  پھر ہم اس تنازعے کے دونوں پہلوئوں پر دیانت دارانہ غور و فکر کرتے ہیں ۔ دونوں نکتہ نظر پر دلائل کا بغور مطالعہ کرتے ہیں۔ بیانیے اور متبادل بیانیے پراپنی توجہ کو بغیر کسی تعصب اور بغیر کسی بیرونی دبائو کے منصفانہ انداز سے جانچتے ہیں۔ مباحثے کے دوران جو معلومات ہمیں فراہم کی گئی ہیں اس کے معتبر ہونے کو یقینی بناتے ہیں۔ خود سے سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم معلومات کے منبع یا سورس کی نشاندہی کرسکتے ہیں ؟ کیا وہ منبع قابلِ احترام ہے؟ کیا اُسے اس رائے زنی کے حوالے سے اس موضوع پر مہارت حاصل ہے؟ کیا اس موضوع پر تمام ماہرین کو ئی مشترکہ رائے رکھتے ہیں یا نہیں؟ ایک بات جو تنقیدی سوچ کے لیے بے حد ضروری ہے کہ ہم میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ ہم رائے، فیصلے اور حقائق میں تمیز کرسکیں. کیونکہ یہ بات بہت عام ہے کہ زندگی میں بہت سے لوگ رائے زنی اور ذاتی فیصلے صادر کرنے کو حقائق بنا کر ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں.  اور یہ ہماری تنقیدی سوچ ہی سے ممکن ہے کہ ہم اس بیرونی دبائو کا مقابلہ کرسکیں اور اپنی زندگی میں درست فیصلوں کی طرف بڑھ سکیں۔ اب آپ سے اجازت چاہوں گا۔ اپنا خیال رکھیے گا

ویلیو ورسٹی ، شارق علی

 

|     |

حسن آہن ، سیج یونیورسٹی ، انشے سیریل، چھیالیسواں انشا Iron Lady, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 46

Narration by: Shariq Ali
June 10, 2018
retina

Enjoy the glimpse of Paris in this story. Its 19th-century streets crisscrossed by River Seine. And the most beautiful landmark Eiffel Tower

I am Azm, a student at Sage University. Enjoy stories from me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

 

حسن آہن ،  سیج یونیورسٹی ، انشے سیریل، چھیالیسواں انشا، شارق علی

قطار کیا تھی ایک طویل لہریے دار سانپ تھا جو دھیرے دھیرے آگے سرک رہا تھا۔ پاس ہی غالباً غیر قانونی پناہ گزینوں کے زمین پر چادر بچھا کر آیفل کے چھوٹے بڑے ریپلیکا بیچتے عارضی اسٹال تھے۔ گشتی پولیس آتی دکھائی دی تو بھگدڑ مچ گئی ۔ سارے اسٹال غائب، سامان چادر میں لپیٹ کر یہ جا وہ جا۔  پولیس اوجھل ہوئی تو دوبارہ رونق بحال ۔ رمز پیرس کی چھٹیوں کا ذکر کررہا تھا، بولا.  بالآخر سیکورٹی سے گذر کر آیفل کے چار دیو ہیکل اور محرابی جنگلے دار فولادی ستونوں سے گھرے بڑے سے کشادہ میدان میں پہنچے۔ میدان کے مرکز میں کھڑے ہوکر اوپر دیکھو تو آیفل کی عظیم الشان تعمیراتی بلندی اور خوبصورتی کو تسلیم کرنا پڑتا ہے ۔ چار دیو نما آہنی  جنگلے دار ستون بے حد حسین جمالیاتی تناسب سے ایک دوسرے اور اپنے نقطۂ عروج کی سمت اوپر اُٹھتے ہوئے، دیکھنے والے کو فنکارانہ تخیل اور تعمیراتی کمال پر قائل کرلیتے ہیں ۔  پروفیسر گِل بولے،  پیرس بھی خوب شہر ہے،تاریخی، تعمیراتی اور ثقافتی حسن سے آراستہ۔  تھومس جیفرسن نے کہا تھا ، اگر آپ کو تاریخ، حسن اور زندگی کے بارے میں نکتہ نظر درکار ہے تو پیرس کی سیر کیجیے۔ تیسری صدی قبل مسیح میں یہ ایک رومن شہر تھا اور نام تھا لیوٹیشیا.  یہاں کے رہنے والے اس وقت بھی پیرسی کہلاتے تھے۔  پھر اسی نسبت سے یہ بعد میں پیرس کہلایا۔ اب تو امریکہ،  سویڈن،  پانامہ سمیت پوری دُنیا میںاس نام کے چھتیس (۳۶) شہر ہیں ۔ دریائے سین کی سیر کی تم نے؟  سوفی نے پوچھا۔ رمز بولا. کیوں نہیں۔ دھوپ سے نکھری مگر ڈھلتی شام میں کروز پر سوار ہونے سے ذرا پہلے، اسٹالوں پر بکتے کریبس اور آئسکریم کے مزے اُڑائے۔ پھر بڑی سی بوٹ میں بیٹھ کر دریا کے کنارے واقع بیشتر تاریخی عمارتوں کا نظارہ کیا۔ نوٹریڈم بے حد منفرد گرجا گھر ہے۔ کہتے ہیں اس کی گھنٹی کا وزن تیرہ (۱۳) ٹن سے زیادہ ہے۔  دریائے سین کے چھوٹے سے جزیرے پر تعمیر ہوئ امریکی مجسمۂ آزادی کی نقل بھی دیکھی۔  ڈھلتی شام اور بڑھتی رات میں جھلملاتے آیفل کا نظارہ سب سے زیادہ  یادگار تھا۔  یقین ہی نہیں آتا کہ سوا سو سال پہلے دو سال کی مدت میں تعمیر کی جانے والی، انقلابِ فرانس کے شہداء کی یہ حسین یادگار عالمی میلے کے لیے صرف بیس سال کی عارضی مدت کے لیے تیار کی گئی تھی۔ لیکن وائر لیس مینار ہونے کی افادیت اور عام لوگوں کی ہردلعزیزی نے اِسے آج تک قائم رکھا ہوا ہے۔ یہ چالیس سال تک دُنیا کی بلند ترین عمارت بھی رہا ہے۔ آیفل کے اوپر تک گئے تم؟ میں نے پوچھا۔ بولا، سولہ سو پینسٹھ سیڑھیاں چڑھنے کی ہمت مجھ میں تو نہیں تھی۔ اور لفٹ میں سوار ہونے کی قطار بے حد لمبی۔ بس دوسری منزل تک چڑھ سکا۔ شہر کا نظارہ وہاں سے بھی لاجواب ہے۔ سردی زیادہ ہوتو آیفل چھ انچ سُکڑنا  اور تیز ہوا میں تین انچ لہرانا  بھی جانتا ہے۔  فرانسیسی ماہرِ تعمیر گستاف آیفل باوجود خواہش کے پانامہ کینال تو تعمیر نہ کرسکا تھا۔ لیکن پھر اس نے آیفل کی تعمیر جیسا معجزہ دکھایا۔ گستاف نے تیسری منزل پر دوستوں کے ساتھ شغل میلے کے لیے ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ بھی بنایا تھا۔  اب یہ عام لوگوں کے لیے کھلا ہے۔ آیفل کے ایک گوشے میں اُن بہتر انجینئر ، سائنسدانوں اور ریاضی دانوں کے نام لکھے ہیں جنہوں نے اس کی تعمیر ممکن بنائی۔اور ایک جانب گستاف کا مجسمہ نصب ہے۔ کہتے ہیں گستاف بیتھووِن کی پانچویں سمفنی سُنتے ہوئے اس دُنیا سے رخصت ہوا تھا۔—-جاری ہے

|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,311 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina