retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Monthly Archive: May 2018

اہداف ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، دسواں انشا Goal setting, POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 10

Narration by: Shariq Ali
May 31, 2018
retina

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life

کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں

 

 

اہداف ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، دسواں انشا

اپنی صلاحیت کے اعتبار سے ٹیری فوکس ایک عام ایتھلیٹ تھا، عالمی معیار کے اعتبار سے درمیانہ درجے کا میراتھون بھاگنے والا . لیکن اس نے انسانی تاریخ میں موجود سب سے زیادہ مشکل میراتھون مکمل کی۔  ایک شرمیلا سا کم گو نوجوان ، لیکن پھر اسی ٹیری فوکس نے ہزاروں لوگوں کے مجمعے کے  سامنے اپنی دوڑ کے دوران پرجوش اور بھرپور تقریریں کیں۔  ایک تنہائی پسند اور اکثر اکیلا بھاگنے والا ایتھلیٹ کہ جس نے اس بے رحم مرض سے گزر کر اور اپنے مقصدِ زندگی کو پالینے کے بعد اپنی پوری قوم کے تصور و خیال پر حکمرانی کی اور ایک لازوال ہیرو بن گیا۔ اس ساری کامیابی کے پیچھے کیا چیز کارفرما تھی۔ زندگی کی معنویت اور زندہ رہنے کا مقصد۔  جب میں ٹیری فوکس کی زندگی کی کہانی پر غور کرتا ہوں تو ایک مقصد کے تحت زندگی گزارنے کی طاقت مجھ پر واضح ہوجاتی ہے۔ اور میں یہ بات سمجھ سکتا ہوں کہ عزم اور لگن اور صاف طور پر سوچنے اور سمجھے کی صلاحیت کس طرح ایک عام انسان کے آگے بڑھنے اور شرفِ انسانیت پر اس کی درجہ وار بلندی میں حصہ دار بنتی ہے۔ ٹیری کی حیرت انگیز کامیابی کا راز یہ ہے کہ اُس کی زندگی کا مقصد اور اس مقصد کے حصول کی جانب اس کی لگن خود اس کی اپنی ذاتی مشکلوں اور پریشانیوں سے کہیں بڑھ کر تھی.  اگر ہم اس کہانی کو پوری طرح سمجھ سکیں تو شاید یہ ہمارے طرزِ احساس کو بھرپور انداز سے تبدیل کردینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ہمیں یہ بات واضح طور پر بتاتی ہے کہ کتنی بے کار ہے وہ زندگی کہ جو  صرف اور صرف اپنے لیے،  اور اپنی ضروریات کے لیے اور محض اپنی ذاتی آرزوئوں اور خواہشوں کے لیے بسر کی جائے۔  ہوسکتا ہے کہ ہماری زندگی میں سبھی کچھ ہو،  سماجی مقام،  خوشحالی اور کامیابی کے روایتی تصور کے سب ہی  تقاضے پورے ہوتے ہوں لیکن ہمیں پھر بھی زندگی میں کسی کمی کا احساس ہو .  تو یہ ہے وہ کمی کہ جسے مقصدِ زندگی کی کمی کہا جاسکتا ہے۔ زندگی گزارنے  کے عمل میں معنویت اور زندہ رہنے کے جواز کی کمی۔  ہم سب لوگوں کے مطالعے اور مشاہدے میں ٹیری فوکس جیسی ان گنت مثالیں موجود ہیں۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم سب عام لوگوں کی زندگی کا مقصد کیا ہونا چاہیے۔  ہمارے زندہ رہنے کا جواز کیا ہے؟ اس سوال کا جواب بہت سادہ اور آسان ہے۔ بالکل وہی جو ٹیری فوکس کی زندگی کا تھا.  یا ایسے ہی ان گنت باہمت لوگوں کی زندگی کا ہوتا ہے۔ اور یہ مقصد ہے زندگی میں حصہ دار بننا۔  اپنی ذات سے اوپر اُٹھ کر زندگی میں شریک ہونا اور اس دُنیامیں اپنے ہونے کا مثبت نقش چھوڑنا۔ آئیے اب بیان مقصد لکھنے کی جانب اپنا اگلا عملی قدم اٹھائیں . اور یہ ہے اپنے اہداف یعنی گولز کا تعین کرنا . اپنے مخصوص تنہا گوشے میں بیٹھ کر کچھ دیر کے لیے اپنی توجہ کو اپنی زندگی کے اُن اہداف یا گولز کی سمت مرکوز کیجئے جو آپ کے لیے اہم ہیں۔ پھر اپنی ترجیحات کے مطابق زیادہ اور نسبتاً کم اہم  کے لحاظ سے ان کی ترتیب پر غور اور فکر کیجئے۔ یہ گول ذاتی بھی ہوسکتے ہیں اور خاندانی یا سماجی بھی۔ کم مدتی، درمیانہ مدتی بھی ہوسکتے ہیں اور طویل مدتی بھی ۔ اپنی نوٹ بک میں اُنہیں ترتیب وار ایک فہرست کی صورت لکھ لیں —- جاری ہے

|     |

بحران ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ ، نواں انشا Crisis, POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 9

Narration by: Shariq Ali
May 29, 2018
retina

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life

کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں

 

بحران ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ ، نواں انشا ، شارق علی

آئیے اب ہم مقصدِ زندگی کی وضاحت کی سمت اگلا قدم اٹھائیں اور زندگی میں اہداف متعین کرنے یا گول سیٹنگ کی اہمیت پر ذرا غور کریں۔ میں ذاتی طور پر یقین رکھتا ہوں کہ ہم میں سے ہر ایک انسان کسی نہ کسی خاص مقصد ، کسی نہ کسی خاص مشن کی تکمیل کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔ زندگی کی مقصدیت کو سمجھنا شاید اس وقت بہت آسان ہوجاتا ہے جب ہم کسی بحران سے گزرتے ہیں اور اپنے آپ پر اور اپنی زندگی پر بغور نظر ڈالتے ہیں۔ اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم نعمتوں میں گھرے ہوئے ہوں اور سارے مادی وسائل ہمارے اختیار میں ہوں لیکن ہم زندگی میں معنویت کی کمی کو محسوس کریں۔ ہماری بظاہر خوشحالی اور کامیابی ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنے پر مجبور کرے۔ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟  ہماری تخلیق میں کیا دانشمندی پنہاں ہے؟ ظاہر ہے کہ ان سوالات کے درست جواب ہی زندگی میں معنویت کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں. اس بات کو پوری طرح سمجھنے کے لیے شاید ٹیری فوکس کی زندگی کی کہانی ایک بہترین مثال ہے۔ ٹیری فوکس ایک کینیڈین نوجوان ایتھلیٹ تھا جس نے شاید انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ مشکل میرا تھون کامیابی سے مکمل کی۔ ۲۶ ؍ میل روزانہ کی دوڑ مسلسل پانچ مہینوں تک . اور اس طرح اس نے تین ہزار تین سو اُنتالیس میل کا سفر بھاگ کر پورا کیا۔  لیکن اس سارے واقعے میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ٹیری فوکس لنگڑا تھا، کینسر کا شکار ایک مریض کہ جس کی ٹانگ کو کینسر ہوجانے کی وجہ سے اس کے جسم سے علیحدہ کرنا پڑا تھا۔ اس کی دوڑ کا مقصد کینسر کی ریسرچ کے لیے فنڈ اکٹھا کرنا تھا۔ اس کا منصوبہ تو اس امدادی دوڑ میں پورے کینیڈا کو عبور کرنا تھا لیکن جس وجہ سے وہ یہ دوڑ مکمل نہ کرسکا۔ وہ اس کے پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والا کینسر کا دوسرا حملہ تھا۔ لیکن یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک لنگڑا آدمی روزانہ ۲۶ ؍ میل بھاگ سکے۔ اور آخر کیوں؟ یہ بات خود اس پر بھی پوری طرح واضح نہیں ہوسکتی تھی اس لمحے سے پہلے کہ جب وہ کینسر کا مریض بن کر ایک اسپتال میں داخل ہوا۔ ایک مریض کی حیثیت سے اپنی کیفیت دیکھ کر اور اپنے ارد گرد دوسرے مریضوں کا حال دیکھ کر اس کے ذہن میں ایک انقلاب برپا ہوگیا۔ اپنی بیماری سے پہلے اُسے کینسر سے کوئی واقفیت نہیں تھی۔ لیکن اسپتال میں قیام کے دوران  وہ اس مرض کی سنگدلی سے واقف ہوا۔اور اس کے دل میں اُبھرنے والے جذبات میں جو جذبہ سب سے غالب تھا وہ تھا غصہ۔ اس کا یہ غصہ خود اپنی بدقسمتی پر نہیں تھا ۔ بلکہ اس کا یہ غصہ اس سنگدل مرض کی سمت میں مرکوز تھا۔ کس طرح یہ بے رحم مرض انسانوں کے جسم کو،  اُن کی خوشیوں اور آرزوئوں کو تہس نہس کردیتا ہے۔ اس کے دل میں اُٹھنے والے جذبات کی لہر اتنی شدید تھی کہ اس نے اسی لمحے یہ فیصلہ کیا کہ اگر وہ مرض سے شفایاب ہوا تو وہ کینسر کے خلاف جنگ میں بھرپور انداز سے شریک ہوگا،  ایسے وقت میں کہ جب وہ خود بھی اس سنگدلی کا شکار تھا اور جس لمحے وہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح بدقسمتی کا رونا رو سکتا تھا۔ مایوسی کے اندھیروں میں کھو سکتا تھا۔ بے بسی اور لاچارگی کی تصویر بن سکتا تھا۔ اپنی زندگی کے اس مایوس ترین اور مشکل مرحلے میں نہ جانے کیا ہوا کہ اس نے زندگی کی معنویت کو تلاش کر لیا.  اپنے زندہ رہنے کے مقصد کو تلاش کرلیا۔ آگاہی کی اس لمحے سے گزرنے کے بعد اس نے جو کچھ کیا وہ بہت حیرت انگیز ہے —– جاری ہے

 

 

|     |

جواز ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، آٹھواں انشا Justification, POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 8

Narration by: Shariq Ali
May 24, 2018
retina

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life

کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں

 

 

 

جواز ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، آٹھواں انشا

آئیے اب اس بات پر اپنی توجہ کو مرکوز کریں کہ آپ کا مقصدِ زندگی کیا ہے۔  اور اس پورے کائناتی عمل میں آپ کی تخلیق کے جواز کی وضاحت کس طرح ممکن ہے۔ آپ اپنی زندگی کس طرح بسر کرتے ہیں۔  اور اسے دوسروںکے لیے کیسے کارآمد بناتے ہیں۔ یہ بات نہ صرف آپ کے لیے اہم ہے بلکہ اس ساری دُنیا اور سارے کائناتی عمل کے لیے اہم ہے۔ اس کرہ ارض پر اس موجودہ لمحے میں  تقریباً چھے بلین افراد زندگی کے اس سفر میں ہمارے شریک ہیں۔  اور اتنے بہت سارے لوگوں میں اپنی انفرادی شناخت کے بارے میں کم مائیگی کا احساس رکھنا سمجھ میں آنی والی بات ہے۔ لیکن کیا اس بات سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ ہماری اس اجتماعی دُنیا نے ماضی میں بھی اور حال میں بھی انفرادی فکر سے اور انفرادی تخلیقی صلاحیت اور عمل سے استفادہ بھی کیا ہے۔ اور اس سے متاثر بھی ہوئی ہے۔ اس دُنیا کی مجموعی شکل میں اس دُنیا میں بسنے والے سبھی لوگوں کا عقیدہ اور عمل اور اُن کے خواب اور اُن کی آرزوئیں حصہ دار ہیں۔ تاریخ صرف اُن لوگوں نے تشکیل نہیں دی کہ جن کا نام کتابوں میں درج ہے بلکہ اُن لوگوں نے بھی اُس کی شکل و صورت دینے میں حصہ بٹایا ہے کہ جو گُم نام ہیں۔ یہ سارے لوگ گُم نام ضرور ہیں مگر معمولی نہیں۔ اور ان کی اہمیت اس تاریخی عمل میں کسی طور بھی کم نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جو بھی زندہ رہا ہے اس نے اپنی زندگی کے اس لمحے کا خصوصی نشان دُنیا کی اس چٹان پر ضرور کندہ کیا ہے۔ جب بھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ ہماری انفرادی زندگی اور وجود اس کائناتی عمل میں کس قدر اہم ہے تو مجھے اُس دانشور کی کہانی یاد آتی ہے جو ایک دن ساحلِ سمندر پر چہل قدمی میںمصروف تھا اور پھر  اس  نے ایک غیر معمولی منظردیکھا۔  اس نے دیکھا کہ ساحل پر اس کے چاروں طرف چھوٹی چھوٹی ان گنت مچھلیاں بکھری ہوئی ہیں جنہیں سمندری لہروں کی طغیانی نے گہرائی سے سمیٹ کر اس ریتیلے ساحل کی وسعت میں ہر طرف بکھرادیا ہے ۔ پھر اُس نے ایک کم عمر لڑکے کو دیکھا جو ایک ایک کرکے تڑپتی ہوئی ان  ننھی مچھلیوں کو اپنی ہتھیلی پر اُٹھاتا اور اپنے بدن کی پوری طاقت استعمال کرکے انہیں دوبارہ سمندر میں پھینک رہا تھا ۔ دانشور نے چند لمحے اس لڑکے کو مصروفِ عمل دیکھا اور پھر اس نے سوال کیا، ’’یہ تم کیا کررہے ہو؟‘‘ لڑکے نے جواب دیا کہ وہ ان مچھلیوں کو سمندر میں دوبارہ پھینک رہا ہے۔ کیونکہ وہ اگر ایسا نہ کرے تو خشکی میں رہنے کی وجہ سے یہ مچھلیاں مر جائیں گی۔  دانشور نے لڑکے سے کہا ، ’’اگر تم چند مچھلیوں کو اُٹھا کر سمندر میں پھینک بھی دو تو پھر بھی ہر طرف بکھری ہوئی ان ان گنت مچھلیوں کا کیا ہوگا ؟ تم ان سب کو تو نہ بچا سکو گے۔ تو پھر تمہاری یہ کوشش بے معنی نہیں ؟‘‘ لڑکے نے ایک لمحے کو  دانشور کی طرف دیکھا۔ پھر جھک کر ایک تڑپتی ہوئی مچھلی کو اپنی ہتھیلی پر اُٹھایا اور اُسے سمندر میں پوری طاقت سے پھینکنے کے بعد بولا، ’’اوروں کو فرق پڑے نہ پڑے، مگر اس مچھلی کے لیے میری یہ کوشش زندگی اور موت کا فرق ہے‘‘۔ اس چھوٹے سے واقعے کے بعد وہ دانشور واپس اپنے گھر آیا، مگر باوجود کوشش کے اپنے علمی کام پر توجہ نہ دے سکا۔ اور پھر وہ اپنا سارا اہم کام چھوڑ کر واپس ساحل کے کنارے گیا۔ اور دن بھر اس لڑکے کے ساتھ مل کر ان مچھلیوں کو دوبارہ ریتیلے ساحل سے اُٹھاکر واپس سمندر میں پھینکنے میں مصروف رہا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم مشاہیرِ عالم میں سے ہوسکیں گے یا نہیں۔ فرق پڑتا ہے تو صرف اس بات سے کہ ہم میںسے ہر ایک انسان اپنے زندہ ہونے کا اپنے خلق ہونے کاجواز رکھتا ہے.  اور یہ جواز اور مقصد زندگی کے عمل میں مثبت انداز میںحصہ دار بننا ہے—–جاری ہے

 

|     |

کار آمد ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، ساتواں انشا Be useful, POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 7

Narration by: Shariq Ali
May 20, 2018
retina

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life

کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں

 

 

کار آمد ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، ساتواں انشا ، شارق علی

اگر آپ خوش ہونا چاہیں، پُر مسرت ہونا چاہیں تو اس بات پر ایمان رکھیے کہ آپ کے زندہ ہونے میں، آپ کی اہلیت میں، آپ کی صلاحیت میں، ایک ایسا انفرادی اور خصوصی ہنر ، ایک ایسی خوبی چھپی ہوئی ہے کہ جو انسانیت کے لیے ، اجتماعی زندگی کے لیے اور اس کرہ ارض کے لیے آپ ہی کے حوالے سے میسر اور کارآمد ہوسکتی ہے۔ یہ تحفہ صرف اور صرف آپ دے سکتے ہیں۔ اور اس خوبی میں اس پوری کائنات میں کوئی بھی آپ کا متبادل نہیں۔ کوئی بھی آپ کا مدمقابل نہیں۔ اگر کوئی سب سے اہم خیال آپ کے ذہن میں آسکتا ہے تو وہ یہ ہے ، ’’میری زندگی اہم ہے‘‘۔  یہ ایمان آپ کی زندگی کو دوسروں کے لئے کارآمد بنا دے گا ۔ اگر یہ احساس ختم ہوجائے کہ ہم اہم ہیں تو یہ زندگی محض ایک خلا ہے۔ جب ہم کارآمد نہیں ہوتے تو ہم بنیادی طور پر اپنی زندگی کا، اپنے ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ ہم اپنی صلاحیتوں، اپنی ہنر مندی اور اپنے تخلیقی عمل کا انکار کرتے ہیں۔  ہم خوشی ، تسکین، شُکر اور اطمینان سے دور ہوجاتے ہیں۔  میرا یقین ہے کہ ہمارے زندہ ہونے کا مقصدیہ ہے کہ ہم کارآمد ہوں۔ اپنی ہر صلاحیت کو کام میں لائیں اپنے خیال کو اپنے عمل کو۔ لیکن یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ کارآمد ہونے سے میری مراد یہ نہیں کہ ہم اپنی زندگی کو بے انتہا مصروف بنالیں۔ بہت سے فضول اور بے مقصد کاموں کی وجہ سے خود اپنی ذات اور گھر والوں کے لیے بے رحم اور پُرتشدد بنالیں۔ بلکہ اس سے میری مراد یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کے مقصد کے مطابق پرمعنی اندازمیں اپنی صلاحیتوں اور ہنر کو کارآمد بنائیں تاکہ ہم  اپنی طے کردہ منزل تک پہنچ سکیں ۔ اگر ہم موجودہ دور کے چند مشہور لوگوں پر اور ان کی زندگی کی جدوجہد پر نظر ڈالیں،  جیسے کہ قائدِ اعظم ، مدر ٹریسا، نیلسن منڈیلا، عبدالستار ایدھی اور ایسے ہی بہت سے اور لوگ بھی ۔ تو ہم دیکھیں گے کہ  ایک دوسرے کے مقابلے میں ان لوگوں کے عقائد بہت مختلف تھے۔ ان کے کام کرنے کا پس منظر اور پیشہ ورانہ زندگی کی نوعیت ایک دوسرے سے بالکل جداگانہ تھی۔ لیکن جو چیز ان سب میں مشترک ہے۔ وہ ہے مقصدیت کی طاقت۔ اس طاقت نے ان کی زندگی کو رواں دواں رکھا۔ ان مشہور لوگوں کے ساتھ اس دنیا میں ان گنت عام لوگ بھی موجود ہیں کہ جنہوں نے اپنی زندگی میں مقصدیت کی طاقت کو استعمال کیا ہے ۔اور زندگی کے سفر کو کامیابی سے عبور کیا ہے ۔ ان میں بہت سے دکاندار ہیں، بہت سے مصور، دستکار، گھر تعمیر کرنے والے، اسکول میں بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ ہیں اور سماجی کارکن بھی ۔ آپ انہیں زندگی کے ہر شعبے میں سرگرمِ عمل اور رواں دواں پائیں گے۔ ان سب کی مشترکہ وراثت، ان سب کا مشترکہ تحفہ یہ ہے کہ آج جس زندگی میں ہم سانس لیتے ہیں۔ وہ ایک بہتر زندگی، ایک بہتر دُنیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ تاریخ کا دھارا موڑ دینے والے لوگ چند ہی ہوتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے ہر ایک اپنی زندگی کے حالات کا رُخ ضرور موڑ سکتا ہے۔ اور یہ اسی طرح کے چھوٹے چھوٹے انقلاب اور کامیابیوں ہی کا تو نتیجہ ہے کہ انسانی سماج اور تاریخ اپنی مجموعی حیثیت میں تشکیل پاتی ہے۔  اب آئیے بیان مقصد کی جانب تیسرا قدم بڑھائیں. اس دنیا میں اپنی حصے داری، اپنے کارآمد ہونے کی شناخت کیجئے . فرض کیجیے کہ  آپ مکمل طور بر با اختیار ہوں . سارے مادی وسائل آپ کی دسترس میں ہوں تو اس صورت میں آپ زندگی میں کس طرح بھرپور انداز سے  حصے دار بنیں گے ؟ سماج کے کس پہلو پر آپ کی صلاحیتیں سب سے زیادہ موثر اور مثبت اثرات ڈال سکتی ہیں؟ ایسے تمام پہلوئوں کی نشان دہی کیجئے۔ اور ایک فہرست مرتب کیجئے۔ یعنی آپ کی حصہ داری دُنیا کے لیے، آپ کے خاندان کے لیے، آپ کے ادارے کے لیے جہاں سے آپ کا روزگار وابستہ ہے، اپنے دوستوں کے لئے اور اپنے سماج کے لیے۔….. جاری ہے

|     |

خودشناسی ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، چھٹا انشا Self awareness, POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 6

Narration by: Shariq Ali
May 17, 2018
retina

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life

کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں

 

 

خودشناسی ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، چھٹا انشا ، شارق علی

اور ہوتا یوں ہے کہ خود آگاہی ہی ہمیں وہ ہمت فراہم کرتی ہے کہ جس کو بنیاد بنا کر ہم اپنی زندگی کی ذمہ داریوں کو کامیابی سے ادا کرسکنے کے قابل ہوتے ہیں۔ میں جب اس انشے ورکشاپ کے حوالے سے آپ سے مخاطب ہوں تو میرا مقصد آپ کو خود شناسی سے متعارف کرنا ہے۔ یہ صرف جھنجھوڑنے کی کوشش ہے۔ جاگنا تو خود آپ کو ہے۔ جھنجھوڑنے کا عمل وقتی طور پرناگوار بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن ایک خوشگوار دن گزارنے کا بھرپور آغاز بھی۔ سبھی لوگوں کی طرح میں اپنی زندگی میں مایوسیوں اور ناکامیوں سے دوچار بھی ہوا ہوں اور حقائق نے مجھے جھنجھوڑا بھی ہے۔ اور اس جھنجھوڑنے کے عمل نے مجھے اپنی منفی طرز فکر کی جانب متوجہ کیا. پھر اسی منفی طرزِ فکر کا دیانت دارانہ تجزیہ میری مدد کو آگے بڑھا ہے۔اور ایک بھرپور اور پرمسرت زندگی بسر کرنے کے امکان کاتعارف ثابت ہوا ہے، عین اُس لمحے جب اس بات کا امکان پیدا ہوتا ہے کہ منفی طرزِ فکر سے جنم لینے والی ایک مشکل ایک اور بڑی مشکل کو جنم دے۔ قدرت ہم سے اس جھنجھوڑنے کے عمل کے ذریعے سے مخاطب ہوتی ہے۔ اور نہ جانے کیوں یہ فیاضی اس موقع پر ہوتی ہے کہ جب ہم مسائل اور مصائب میں گھرے ہوے ہوں۔ اور مایوسی کی دلدل کے قریب پہنچ چکے ہوں۔ میں آج اس بات پر مکمل یقین رکھتا ہوں۔ کہ انسان کی ترقی اور تنزلی، کامیابی اور ناکامی، مسرت اور مایوسی اس کی سوچ کا نتیجہ ہوتی ہے اس کے طرزِ فکر سے جنم لیتی ہے۔ ہم فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم کون ہیں۔ہم کس بات پر یقین رکھتے ہیں اور ہم کیا کچھ کرسکنے کے قابل ہیں۔اور یہ سوچیں اور یہ طرزِ فکر ہمارے عمل کی سمت کو متعین کرتاہے، ہمارے رویے کو تشکیل دیتا ہے اور ہم اس رویے کے نتیجے میں اپنی زندگی میں ایسی صورتِ حال پیدا کر لیتے ہیں ایسے حالات کو تشکیل دیتے ہیں کہ جو ہماری کامیابی اور ناکامی کا باعث بنتے ہیں۔ میں یہ بات اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ ہم میں سے بیشتر لوگ اس کڑوے سچ کو نگلنے میں مشکل محسوس کریں گے کہ ہم آج جو کچھ بھی ہیں اس کی ساری ذمہ داری ہم ہی پر عائد ہوتی ہے۔ میں اپنے طالبِ علموں سے گفتگو کے دوران اس بات کو ذہن نشین کرانے میں خاصی مخالفت کا سامنا کرتاہوں اور لوگوں کے لیے اس سچ کو قابلِ قبول بنانا خاصا مشکل ثابت ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم انسانوں کے لیے اس سے بڑا کوئی چیلنج نہیں کہ ہم اپنی زندگی کی ذمہ داری کو بلا حجت و تاویل مکمل طور پر اپنا سکیں۔ ذمہ داری صرف اس بات کی نہیں کہ ہم کیا ہیں؟ بلکہ اس بات کی بھی کہ ہم کیا کچھ ہوسکتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے کسی بھی شخص کے لیے اگر وہ مکمل طور پر آزاد ہونا چاہے اور آج کی اس تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی دُنیا میں محوِ پرواز ہونا چاہے کامیابی اور سرخوشی کے ساتھ،  تو سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کی ذمہ داری کو مکمل طور پر قبول کریں۔ہم تیزی سے حقائق کے انکار اور پھر مخالفت کے تکلیف دہ عمل سے آگے بڑھیں اور سچ کے لیے قبولیت اختیار کریں۔ اور یہ وہ نقطۂ آغاز ہے کہ جہاں سے ایک ترو تازہ سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ آپ زندگی کے کس موڑ پر ہیں۔ آپ طالبِ علم ہیں یا آپ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا ہے یا آپ اپنی عملی زندگی کے درمیان میں ہیں، اپنی خاندانی اور گھریلو ذمہ داریوں کے بیچوں بیچ ہیں یا ان ذمہ داریوں اور عملی جدوجہد سے فراغت پاکر فرصت آمیز لمحے گزار رہے ہیں۔ آپ اس ترو تازہ سفر کا آغاز آج کے اس لمحے سے کر سکتے ہیں۔ اگر آپ زندہ ہیں تو نادانستہ طور پر آپ کا جسم حیاتیاتی نشوونما کے مستقل عمل کے ذریعے سے اس ترو تازہ سفر کو اختیار کیے ہوئے ہے۔بالکل اسی طرح آپ اپنے ذہن کو، اپنے طرزِ فکر کو اس تر و تازہ سفر میں شریک کرسکتے ہیں۔ منفی اور ساکت سوچوں کے بجائے مثبت، پُراُمید اور نئے طرزِ فکر کے ساتھ آرزومندی کے ایک نئے سفر پر روانہ ہوسکتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ سفر کیسا ہی کیوں نہ ہو اس کے لیے قوتِ ارادی اور محنت درکار ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کے ہم مزید آگے بڑھیں آئیے ہم عملی مشق کا دوسرا قدم اٹھائیں . اس کا عنوان ہے اپنی اقدار کو پہچانئے.  اپنی نوٹ بُک میں اپنے لئے اہم اقدار یا ویلیوز کا اندارج ترتیب وار کیجئے ۔ مثلاً آپ کی صحت، آپ کا خاندان، آپ کا سرمایہ ، آپ کے خواب، گھر، گاڑی غرض یہ کہ آپ جتنی لمبی فہرست بنانا چاہیں بنا لیں۔ پھر اُن سب پر غور و فکر کے بعد صرف پانچ اقدار کی فہرست بنائیں جو آپ کے لئے بے حد اہم ہیں . آخر میں مزید سوچ بچار کے بعد صرف ایک ایسی قدر کی نشان دہی کیجیے جو آپ کے لئے زندگی میں سب سے زیادہ اہم ہے ۔ اس ساری سوچ و بچار کے دوران آپ خود آگاہی کے خاموش سفر سے گزریں گے —- جاری ہے

|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,311 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina