retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Yearly Archive: 2018

اخلاقی قدریں ، فکر انگیز انشے Moral values, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
December 30, 2018
retina

Defining values is the most fundamental step in the life of an individual or for building the nation.  It affects decisions, goals, and destiny

 

 

اخلاقی قدریں ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

قدروں سے میری مراد ہے وہ اخلاقی اصول جن کو بنیاد بنا کر ہم اپنی زندگی کے چھوٹے بڑے فیصلے کرتے ہیں. سوال یہ ہے کہ اجتماعی قدروں سے آگاہی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے ؟  اگر ہم ایک قوم کی حیثیت سے پرامن طور پر اور  مل جل کر رہنا چاہیں تو اجتماعی قدروں پر اتفاق رائے پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے.  ایسی قدروں سے ہمارا پہلا تعارف اپنے بچپن میں ہوتا ہے اور ہم انھیں بلا سوچے سمجھے قبول کر لیتے ہیں.  یہ بات بہت اہم ہے کہ ہم ذہنی بلوغت حاصل کرنے کے بعد دوبارہ ان پر نظر ڈالیں. خود سے سوال کریں کہ  معاشرے میں رائج  رسموں ، تعلیم اور مذہب کے نام پر جو اخلاقی اصول ہمیں دیے گئے ہیں کیا وہ عقلی اور انسانی معیارات پر پورا اترتے ہیں یا نہیں؟  مثلاً یہ کہ کیا دولت کمانا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ہمارے معاشرے میں سمجھا جاتا ہے؟  قدروں کی آگاہی آسان ہوجاتی ہے جب ہمیں سوال کرنے کی آزادی میسّر ہو.  اپنے والدین سے، اپنے بزرگوں سے،  دوستوں سے اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے. لیکن یہ اظہار خیال عقلی بنیاد پر ہو.  دلیلوں کا استعمال کیا جا ے ، الزام تراشی کا نہیں.  آپ جن لوگوں پر اعتماد رکھتے ہیں ان سے سوال کیجیے.  ان سے اظہار خیال کیجیے.  وہ کن اجتماعی اخلاقی اصولوں پر یقین رکھتے ہیں؟ پھر ان کے بیان کردہ زبانی نقطہ نظر کے علاوہ ان کی عملی ترجیحات پر بھی ذرا غور کیجئے. پھر خود اپنے قول اور فعل کے بارے میں سوچیے . کیا آپ کی ترجیحات ، پسند اور نا پسند زندگی کے مختلف ادوار میں مستحکم رہی ہے؟    جب زندگی میں اہم فیصلوں کا وقت آیا تو آپ نے کس قسم کے فیصلے کیے؟  اور ان سے پیدا ہونے والے نتائج آپ کی توقعات کے مطابق تھے یا نہیں؟ کیا وہ فیصلے سکھائے گئے خاندانی یا معاشرتی اخلاقی اصولوں کے ماتحت تھے؟  کیا  عمر بڑھنے کے ساتھ آپ کی ترجیحات میں ،  آپ کے فیصلے کرنے کے انداز میں تبدیلی آئی ہے؟  جب آپ اپنی زندگی پر اور اپنے اردگرد بسنے والوں کی زندگی پر نظر ڈالیں گے تو آہستہ آہستہ آپ انفرادی اور اجتماعی قدروں سے آگاہ ہوں گے.  ہم میں سے بیشتر لوگ جو اخلاقی اصول زبانی طور پر بیان کرتے ہیں اپنی عملی زندگی میں انہیں لاگو نہیں کرتے. ان اخلاقی تضادات کی جڑیں ہمارے بچپن، ہمارے معاشرے اور مذہبی تعلیم کے حوالے سے سکھائی گئی قدروں تک پوھنچتی ہیں . خود سے اور اپنے دوستوں سے سوال کیجیے کہ کیا آپ اور آپ کے دوست سماجی انصاف پر یقین رکھتے ہیں؟    کیا یہ بات آپ کے روزمرہ عمل اور آپ کی ترجیحات سے جھلکتی ہے؟  یہ دیکھیے کہ زندگی کا کونسا ایسا پہلو ہے جس پر آپ اخراجات کرنے سے نہیں جھجھکتے .  کیا سیروتفریح آپ کی بنیادی ترجیح ہے یا سماجی فلاح کے کاموں میں حصہ لینا ؟  اگر آپ ادیب ہیں تو کیا داد و ستائش کے طلبگار ہیں یا قاری کے مفاد کے ؟ آپ جن قدروں  پر یقین رکھتے ہیں ان کی ایک فہرست بنالیں.  پھر ایک ایک کر کے ان پر غور کریں ، دوستوں سے اظہار خیال کریں.  چلئے کچھ اجتماعی اخلاقی قدروں کی نشاندہی میں کئے دیتا ہوں مثلا دیانتداری،  توازن ، ہمدردی،  احترام ،  سخاوت،  صحت کا خیال، مسلسل سیکھنا ، دانش مندی اور محبت . ان میں سے ایک ایک موضوع پر ذرا غور کیجیے .  دوستوں سے اور اپنے خاندان والوں سے ان موضوعات پر گفتگو کا وقت نکالیے . دریافت کیجئے کہ خود انحصاری پر،  باہمی تعاون یا مالی استحکام پر اور انکساری اور صبر و استقامت پر ان کے اور آپ کے خیالات کیا ہیں؟  اپنے اندر موجود اخلاقی اصولوں تک اسی غور و فکر کے ذریعہ ہی سے پوھنچا جا سکتا ہے .  اپنے روزگار اور اپنی زیر مطالعہ کتابوں پر ایک نظر ڈالیے .  یہ بات آپ پر واضح ہوتی چلی جا ے گی کہ آپ کے لئے زندگی میں کیا چیز زیادہ اہم ہے.  کون سے اخلاقی اصول ایسے ہیں جن کے تحت آپ زندگی بسر کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں.  ہم انسانوں کے پاس ایک ہی راستہ ہے.  سوچ وبچارکا راستہ.  اپنی عقل کے استعمال کا راستہ.  اور صرف یہ راستہ ہی دانش مندانہ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتا ہے.  اب آپ سے اجازت —-  ویڈیو سٹی،  شارق علی

|     |

خوشی ، فیصلہ تیرا ، ویلیورسٹی ، شارق علی Happiness, Decision is yours, a dialogue

Narration by: Shariq Ali
December 29, 2018
retina

A brief dialogue in search of human happiness

 

 

خوشی ، فیصلہ تیرا ، ویلیورسٹی ، شارق علی 

کیا ڈھونڈھ رہے ہو بھائی ؟

خوشی

رکھی کہاں تھی؟

اب کچھ یاد نہیں

ہزار بار کہا ہے چیزیں سنبھال کر رکھا کرو . اب پوچھو کسی سے

پوچھا ہے مگر کسی کو معلوم نہیں

کس سے پوچھا ؟

روز کی دیہاڑی کمانے والیے مزدور سے بھی اور اربوں کھربوں کی کرپشن کرنے والوں سے بھی . سب پلٹ کر یوں دیکھتے ہیں جیسے خود گم شدہ ہوں

سماجی رویوں میں دیکھو شاید مل جاے

کیا مطلب؟

رزق حلال کی عزت یا ٹھٹھا ، شرافت کی دال روٹی پر فخر یا اوپر کی کمائی کے اللے تللے ، باد تمیز پیلا اسکول یا انگلش بول چال ، مکیش امبانی سٹائل شادی یا چلتی چلی جاتیں جھونپڑ پٹیاں

اتنے بڑے ڈھیر میں کون ڈھونڈے گا چھوٹی سی خوشی کو

کاٹھ کباڑ تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہے

وہ کیا ؟

عالمی انسانی حقوق کے نعرے اور اسلحے کا کاروبار ، آئ ایم ایف کی مدد یا غلامی ، عالمی منافقت بنام سیاست وغیرہ

چلو چھوڑو مٹی پاؤ خوشی کو

یعنی

کسی ملتی جلتی چیز سے کام چلا لیتے ہیں ، جیسے قلم نہ ملا تو کوئلہ ہی صحیح

کیسے ؟

دکھاوے کا بھرم ، کھوکھلی شہرت ، آخرت میں جنّت کے مزے ، ہزار روپے کا پان وغیرہ

فیصلہ تیرا بھائی

 شارق علی ، ویلیوورسٹی

|     |

پڑھا لکھا بنیئے ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Well read, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
December 24, 2018
retina

“Parha Likha” is someone who engages in critical thinking and reflection about life in general. Here are a few qualities

 

 

پڑھا لکھا بنیئے ، فکر انگیز انشے ،  شارق علی

پڑھے لکھے سے یہاں مراد ہے ایک ایسا شخص جو علم حاصل کرنے ، سیکھتے رہنے اور بہتر سے بہتر ہونے کو زندگی بھر کی جدوجہد سمجھتا ہے.  جو اپنی ذہنی کشادگی کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے.  وہ نہ صرف علم رکھتا ہے بلکہ مہذہب بھی ہوتا ہے.  اپنے اندر اور باہر  کی دنیا سے واقف ۔ وہ حالات حاضرہ کی خبر رکھتا ہے .  فنون لطیفہ سے لطف اندوز ہو سکتا ہے .  اگر آپ بھی ایسا ہی شخص بننا چاہیں تو سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ زندگی سے واقفیت بڑھائیے ۔ معلوماتی انقلاب کے موجودہ دور میں یہ بات انتہائی آسان ہے.  اپنی پسند اور رجحان کے مطابق اخبارات یا الیکٹرانک میڈیا سے چند ایسے انتخاب کیجیے کہ جو آپ کو دنیا سے با خبر رکھ سکیں اور  بغیر وقت ضائع کیے متعلقہ معلومات فراہم کر سکیں.  کو شش کیجیے کہ آپ عالمی تناظر میں مسائل کو سمجھ سکیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے ارد گرد سے بھی واقف رہ سکیں ۔ جو حقائق آپ کے سامنے پیش کیے جائیں اُن پر ہمیشہ تنقیدی نظر ڈالیں.  اُنہیں من وعن تسلیم نہ کریں.  بلکہ ذاتی قوت استدلال کو استعمال کریں.  ہو سکتا ہے اخبارات اور نیوز چینل کا اپنا ایجنڈا ہو لیکن درست رائے قائم کرنا آپ کی ذاتی ذمہ داری ہے.  اپنی ذاتی دلچسپی اور رجحان کے اعتبار سے کتابیں اور رسائل  پڑھنا ایک اچھا مشغلہ ہے لیکن اگر آپ متعلقہ معلومات انٹرنیٹ اور  سوشل میڈیا کے دانشمندانہ استعمال سے حاصل کر سکتے ہیں تو  آپ کی رسائی کم وقت میں زیادہ معلومات تک ہو سکتی ہے.  پڑھے لکھے ہونے کی ایک نشانی ثقافتی طور پر متحرک ہونا بھی ہے.  مثلاََ وہ لوگ جو میوزیم ، لائیبریری یا آرٹ گیلری سے استفادہ کرتے ہیں ممکنہ طور پر زیادہ ذہنی کشادگی رکھتے ہیں ۔ ایک پڑھا لکھا شخص نہ صرف سائنسی معلومات میں  دلچسپی رکھتا ہے بلکہ فنون لطیفہ کے بارے میں بھی جوش رکھتا ہے.  کیونکہ زندگی کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے تصویر کے دونوں رُخ دیکھنا ضروری ہے۔ ادب اور شاعری نہ صرف آپ کی حساسیت بلکہ ذہنی فکر میں بھی وسعت پیدا کرتی ہے.  فلسفہ بظاہر تو عملی علم معلوم نہیں ہوتا لیکن  فلسفیانہ انداز فکر بہتر فیصلہ سازی میںبے حد کار آمد ہے . فلسفہ سوچنے کا انداز ہے ، دُنیا کو دیکھنے اور برتنے کی انفرادیت ہے اور فکری تہذیب بھی.  یہ ذہنی تربیت عملی زندگی میں بیحد کار آمد ہے.  جو بات افکار کو منظم کرتی ہے وہ ہے لکھنا .  چاہے وہ ہمارے ذاتی نوٹس ہو ں یا کو ئی تخلیقی تحریر.  لکھنے سے ہماری سوچ منظم ہوتی ہے.  کسی موضوع کے بھرپور سیکھنے کے لیے اُس موضوع پر لکھنے سے بہتر کوئی اور طریقہ نہیں۔  ہو سکتا . ہو سکتا ہے  یہ بات آپ کو بہت عجیب لگے کہ اگر آپ پڑھا لکھا ہونا چاہتے ہیں تو فلمیں دیکھیے.  اچھی فلمیں سیکھنے کا بھرپور ذریعہ ہوتی ہیں.  بعض اوقات اچھوتے موضوعات پر کسی فلم سے اتنا کچھ سیکھا جا سکتا ہے جو کسی کتاب یا درسگاہ میں میسر نہ ہو گا.  ظاہر ہے کہ انتخاب دانشمندانہ ہونا چاہیے یہ بات اصول تو نہیں لیکن عموماً پڑھے لکھے لوگ اچھی موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ کوشش کیجیے کہ  اردگرد کے ماحول میں جو دیگر پڑھے لکھے لوگ موجود ہیں آپ ان سے سیکھ سکیں .  اب آپ سے اجازت —– ویلیوورسٹی ، شارق علی

|     |

ڈوڈن آبشار ، سیج یونیورسٹی ، انشے سیریل ، اننچاسواں انشا Duden Waterfalls, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 49

Narration by: Shariq Ali
December 21, 2018
retina

The Upper Duden Waterfalls in Antalya is a series of small cascades in a tranquil park. The most exciting experience is to go down the spiral staircase that leads into a cave behind the waterfalls. Fabulous views through a curtain of falling water

 

ڈوڈن آبشار ، سیج یونیورسٹی ، انشے سیریل ،  اننچاسواں انشا ، شارق علی

سیمینار کی تھکن مٹانے کے لئے ہم پروفیسر گل کے لان میں بیٹھے چاے پی رہے تھے. ترکی کے شہر انطالیہ کا ذکر چل نکلا.  سوفی بولی .  آخر ایسی کونسی خاص بات ہے اس شہر میں ؟ پروف نے کہا  . سر سبز پہاڑیوں سے پھوٹتے جھرنے ہوں یا پرسکون میلوں تک پھیلے بلیو فلیگ محفوظ ساحل سمندر.  کونیاٹی کے ساحل سے طورس پہاڑیوں کا حسین نظارہ ہو یا چائمیرا کی ساحلی چٹانوں میں مسلسل جلتے اللاؤ کا جادو، جو رات ہونے پر قدیم زمانوں سے بحری جہازوں کو  قدرتی لائٹ ہاؤسز جیسی رہنمائی فراہم کرتے ہیں.  بارونق بازاروں کی ہنستی مسکراتی چہل پہل ہو یا پھولوں سے سجے ریستورانوں میں خوش رنگ اور مزے دار کھانوں کی بہار.  یا پھر تاریخی عمارتوں کے جھروکوں سے جھانکتا شاندار ماضی ، ترکی کا شہر آنطالیہ تمہیں مسحورکر دے گا . ہر رنگ خوبصورت ، ہر ادا دلنشیں . فوجی اور تجارتی اعتبار سے اہم قدرتی بندرگاہ جو رومن عروج سے مہم جوؤں کی آرزو رہا ہے. اس کا ماضی جنگوں سے بھرپور اور حال بے حد پرسکون ہے . سال بھر چمکتی دھوپ میں میلوں پھیلے ساحلوں پر سیاحوں کے لئے ہر آسائش موجود.. روک کلائمبنگ یا محض بازاروں اور تاریخی عمارتوں کی سیر،  یہ شہر کسی کو مایوس نہیں کرتا . ڈودڈن آبشار بھی دیکھا آپ نے؟ رمز نے پوچھا . بولے . ٹیکسی لے کر شہر کے مرکز سے کوئی دس میل دور ڈوڈن نامی علاقے میں بھی جانا ہوا . آہنی جنگلے کی چاردیواری سے گھرا پہلے تو یہ ایک عام سا پارک لگا.  مرکزی دروازے سے جڑا ٹکٹ گھر، آئسکریم اور بھٹے بیچنے والوں کے کھوکھے اوراندر جاتے سیاح  اور مقامی خاندان جن میں اکثریت بچوں کی تھی .داخلہ ٹکٹ توقع سے بہت کم تھا. بھٹوں اور آئیسکریم سے لیس اندر داخل ہوئے تو سب سے پہلے نگاہ سیاحوں کی دلچسپی سے بھری دکانوں پر پڑی . کھانے پینے کے اسٹال بھی پاس ہی. پہلے ایک بہتا ہوا جھرنا نظر آیا.  کچھ ہی فاصلے پر ایک اور . پھر یہ جھرنے مل کر ایک ندی کی صورت بہتے اور آگے بڑھتے ہوے .  ان بہتی ندیوں میں سے ایک کے ساتھ ساتھ نیچے جاتی سیڑھیاں دکھائی دیں جو ایک تاریک دروازے سے گزر کر سطح زمین سے مزید نیچے جا رہی تھیں.  سیڑھیاں اترے تو نیچے ایک بڑے سے گنبد نما غار میں جا پوھنچے.  ایک  بڑا سا کمرہ نما غار جس کی دیواریں قدرتی چٹانوں سے بنی ہوئی تھیں.  ایک جانب ٹوٹی چٹانوں میں قدرتی طور پر بنی کھڑکی تھی جس میں جنگلا لگا تھا . باہر نظر آتا منظر شاید ہزاروں سال پرانا تھا . بالکل ویسا ہی جیسا کہ اس غار میں بسنے والے قدیم انسان دیکھتے ہوں گے . فضا میں ٹھنڈک اور نمی کا احساس تھا . اور مسلسل گرتی آبشار کا شور .  مزید سیڑدھیاں اتر کر غار سے باہر نکلے تو ہم ایک تیز بہتے دریا کے کنارے کھڑے تھے جو خاصی بلندی سے گرتے جھرنوں سے بنی  حیران کر دینے والی آبشار کے بہاؤ کے مسلسل تلاطم سے بےچین تھا . فضا میں اڑتی بوندیں نظارہ کرنے والوں کو شرابور کر رہی تھیں.  بات سمجھ میں آنے لگی کہ قدیم لوگ پہلے پہل غاروں میں کیوں آباد ہوئے ہوں گے . گرمیوں میں ٹھنڈا اور سردیوں میں نسبتا آرام دہ قدرتی رہائش کا انتظام . بیشتر وقت تو شکار اور پھلوں کی تلاش میں باہر گزرتا ہو گا لیکن ایسے رہائشی غار سامان کو محفوظ اور ذخیرہ رکھنے  اور بارشوں اور حملوں سے محفوظ  رکھتے ہوں گے . جھرنوں کی صورت پینے کے پانی کی موجودگی اور پھل دار درختوں اور زرخیز زمین کی آسانی علحدہ . گویا رہائش بھی اور محفوظ جنگی قلع  بھی . نجانے قدیم انسان کے شب و روز کیسے ہوں گے؟ میں نے سوچ میں گم پوچھا . پروف بولے.   سائنسدانوں کی دریافتوں سے ہم ایک اندازہ سا لگا سکتے ہیں کہ لاکھوں سال پہلے ہمارے  آباؤ و اجداد یعنی قدیم انسان اپنی زندگی کیسے گذارتے ہوں گے . اولین قدیم انسان نے تقریباً دس لاکھ سال پہلے افریقہ سے ایشیا اور یورپ کی جانب ہجرت کرنا شروع کی تھی . یہ وہ دور تھا جب بہت کم خوبیاں ہمیں جانوروں سے مختلف بناتی تھیں.  دو پیروں پر چلنا، پتھر تراش کر اوزاربنانا اور قدرتی عناصر جیسے آگ کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنا .تقریباً  اسی ہزار سال پہلے یہ ہجرت ایک حد تک اپنے اختتام کو پوھنچی تھی .  وہ باقاعدہ آباد ہونے لگے تھے .  پہلے پہل کے ملبوسات جانوروں کی کھالوں سے بنے.  مختلف غذائیں کھانے کی وجہ سے انسانی ارتقاء میں انقلابی تبدیلیاں ممکن ہوئیں. پہلے پہل جو زبان بولی گئی وہ الفاظ پر مشتمل نہ تھی.  بلکہ جانوروں کے سے انداز میں  مختلف آوازیں جو طرح طرح کے جذبات مثلا خوف، غصہ. محبت وغیرہ کی ترجمانی کرتی تھیں، پر مشتمل تھی. الفاظ پر مشتمل زبان جس نے ثقافتی انقلاب برپا کیا  چند ہزار سال سے زیادہ پرانی بات نہیں —– جاری ہے ، ویلیوورسٹی ، شارق علی

|     |

نوکری کی تلاش ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Finding job, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
December 17, 2018
retina

Finding a job that matches your personal preferences, skills, interests, and values is not easy. Here are a few suggestions

 

 

نوکری کی تلاش ، فکر انگیز انشے ،  شارق علی

کسی ایسے نوجوان کے لیے کہ  جو اپنی تعلیم مکمل کر چکا ہو  سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ وہ نوکری کیسے تلاش کرے ۔ آئیے اس اہم موضوع پر کچھ غورو فکر کریں ۔ اگر آپ ایک ایسا نوجوان ہیں جو کسی بڑے ادارے میں ملازمت کے خوائش مند ہیں تو سب سے پہلے آپ کے لئے اُس ادارے کی نوکری کی شرائط کو سمجھنا بے حد ضروری ہے.  کیا وہ ادارہ چاہتا ہے کہ آپ اُس کا طلب کیا ہوا پورٹ فولیو مکلمل کریں ؟  اپنا رزیومے اور کورنگ لیٹر اُن تک پہنچائیں؟  اور ان تمام کاغذات کا معیار کیا ہونا چاہیے؟  کیا آپ اس ادارے یا اس سے ملتے جلتے کسی ادارے میں کام کرنے والے کسی ماہر سے واقف ہیں؟ ہو سکتا ہے وہ ان کاغذات کی تیاری میں آپ کے لیے مدد گار ثابت ہو ۔ آپ جب اپنے کاغذات اور درخواست تیار کر رہے ہیں تو اُس میں درستگی اور حسن کا بے حد خیال رکھیے ۔ متن میںکسی قسم کی غلطی نہ ہو .  اور ان کاغذات کی پیشکش میں سلیقہ ، توازن اور حسن بہت ضروری ہے ۔  جب آپ نوکری کی تلاش میں نکلیں تو لوگوں سے اُس کا ذکر کریں ۔ اپنے تعلقات کو استعمال کرنے کی کو شش کریں. ناجائز طور پر نہیں بلکہ جائز اور اخلاقی طور پر مدد خاصل کرنے کے لیے اپنے قابل اعتماد استادوں سے ریفرینسزحاصل کیجیے ۔ اُن کی رائے ،  اُن کی جان پہچان آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے . اگر آپ کسی پروفیشنل آرگنائیزیشن کے ممبر ہیں جو متعلقہ شعبہ میں اپنے اثرات رکھتی ہے  تو وہاں پر ہونے والے مختلف سیمینارز اور میٹنگز میں آپ کو اُس شعبہ سے متعلق اور نوکری کے امکانات سے متعلق ضروری معلومات مل سکتی ہیں ۔  نوکری کی تلاش میں مایوسی کفر ہے.  ہو سکتا ہے آپ کو وقت لگے اور ہر نئے نوجوان کو وقت لگتا ہے ۔ اُسے جدوجہد سے گذرنا پڑتا ہے.  لیکن خود کو یقین دلا دیجیے کہ آپ کسی صورت مایوس نہیں ہوں گے.  اگر آپ کو انٹر ویو کے یے بلایا جائے تو اُس کی خوب تیاری کیجیے.  اُس وقت تک جب تک کہ آپ اُس شعبہ کے پروفیشنل دکھائی دینے لگیں.  جس شعبے میں انٹرویو کے لیے جا رہے ہیں اُس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کیجیے .  شرمانا اور جھجکنا چھوڑیے ۔ بھرپور محنت اور تیاری سے خود کو پُر اعتماد بنائیے.  اور یہ مسلسل پریکٹس ہی سے ممکن ہے.  نوکری حاصل کرنے کے لیے کمیونیکیشن سکلز انتہائی اہم ہیں . اور یہ مسلسل پریکٹس ہی سے حاصل ہو سکتی ہیں ۔ اپنی گفتگو ، اپنے طرز عمل کو ادارے کی توقعات کے مطابق ڈھالیے.  تہذیب ،شائستگی ، ذہانت اور خود اعتمادی آپ کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہیں . اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پہلا تاثر انتہائی اہم ہوتا ہے.  آپ کا مہذب اور پُر اعتماد انداز ، بدن کی بولی اور کمیونیکیشنز سکلز آپ کی قابلیت کا اظہار ہیں  درخواست دینے کے عمل میں اور پھر انٹرویو کے دوران آپ کو چاہیے کہ جو کچھ ممکن ہو سکے اپنی بساط کے مطابق آپ ضرور کیجیے . لیکن ان مرحلوں سے گذرنے کے بعد خود کو ذہنی طور پر مثبت رکھیے.  یا تو آپ یہ نوکری حاصل کر لیں گے یا اس سے بھی بہتر نوکری آئندہ آپ کی تلاش میں ہے.  ان چند گذارشات کے بعد اب آپ سے اجازت .  اپنا خیال رکھیے گا۔—– ویلیوورسٹی ، شارق علی

|     |
retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,728 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.

Powered by Wordpress site by Panda's Eyes

retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina