retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

ایچ آئی وی سے بچاؤ کیسے؟ صحت افزا انشے HIV Prevention, Health awareness public message

Narration by: Shariq Ali
May 27, 2019
retina

A public awareness message about HIV prevention in Urdu. Valueversity and Dowdocs 85 health awareness collaborative initiative

 

ایچ آئی وی سے بچاؤ کیسے؟ صحت افزا انشے ، ویلیوورسٹی

ایچ آئی وی ایک وائرس ہے جو جسم میں داخل ہو جائے تو روز مرہ اور کینسر جیسی بیماریوں کے خلاف مدافعت ختم کر دیتا ہے اور ہم ایڈز کا شکار ہو کر مر سکتے ہیں .  یہ وائرس مریض کے جسم کی رطوبتوں مثلاً خون اور جنسی نمی میں موجود ہوتا ہے . یہ مرض احتیاطی تدابیر کے بغیر غیر شادی شدہ جنسی ملاپ ، استمعال شدہ سوئیوں کے دوبارہ استعمال ، بچے کی پیدائش اور دانت کے علاج میں بد احتیاطی سے پھیلتا ہے.   مدافعت کم ہو جاتی ہے اور  اور دست،  نمونیا ،  یا کوئی اور انفیکشن یا کینسر موت سے ہمکنار کر سکتا ہے.  غیر شادی شدہ جنسی ملاپ کے دوران احتیاطی تدابیر لازمی ہیں .  بچے کی پیدائش یا ڈاکٹر اور ڈینٹسٹ کے علاج کے دوران اس بات کو یقینی بنائیں کہ نیڈل یا انجیکشن پہلے سے استعمال شدہ نہ ہو.  جسم میں ایچ آئی وی موجود ہو تو بچے کو دودھ پلانا منع  ہے .  علاج کے دوران خون یا خون سے بنے اجزاء کے عطیے کی ضرورت ہو تو یہ بات یقینی بنائیں کہ یہ ایچ آئی وی وائرس سے پاک ہے .  مستند ڈاکٹروں اور ہسپتالوں سے علاج  بہترین بچاؤ ہے . ایڈز کا مکمل علاج دستیاب نہیں لیکن ایسی دوائیاں ضرور موجود ہیں جو مرض کی شدت کو قابو میں رکھ سکیں

ڈاکٹر شارق علی

جاں نثاری ، دنیا گر ، انشے سیریل ، پانچواں انشا Ottoman Empire Janissaries, DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 5

Posted by: Shariq Ali
retina

Janissaries were an elite corps of slaves, loyal to Ottoman Sultans, made up of kidnapped young Christian boys hardened by strict military training

 

 

جاں نثاری ، دنیا گر ، انشے سیریل ، پانچواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

نیلی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کی اورپیدل ہی توپ کاپی میوزیم کی سمت چلے.  کوئی بیس منٹ کی مسافت ہو گی . سنہری دھوپ میں  سرخ اینٹوں سے بنے پیدل راستوں پر چلتے ہوے ہاگیا صوفیاء کے عظیم گرجا گھر  کے پاس سے گزرے . راستے بھر کنارے کے ریستورانوں میں دنیا بھر سے آے ہوے سیاحوں کا رش دیکھا . پروف استنبول کا ذکر کر رہے تھے . بولے . باسفورس کے گہرے نیلے پانیوں کے ساحل پر سرسبز و شاداب پہاڑی ہے جس پر جابجا خوبصورت درخت اور پھولوں کے قطعات میں بکھری بہت سی تاریخی عمارتوں میں محفوظ نوادرات پر مشتمل ہے توپ کاپی میوزیم.  سلطنت عثمانیہ کے دور  میں یہ محل ہوا کرتا تھا.  ان گزرگاہوں پر چلتے جانے کتنی ہی کہانیوں اور رازوں کی سرگوشیاں سنائی دیں . سلطانوں کی شوکت ، درباریوں کی سازشیں،  جانثاروں کے کارنامے . پھر سلیمان اور ابراہیم کی کی رفاقت یاد آئ . دو بچپن کے دوست ، ایک سلطان دوسرا جاں نثاری غلام ..جاں نثاری غلام ؟ سوفی نے پوچھا. بولے  . اس زمانے میں عثمانی سلطنت مفتوح یورپی عیسائی بچوں کو  اپنی سرپرستی میں لے کر جاں نثاری بنا لیتی تھی . یعنی ایسے اعلی  تربیت یافتہ فوجی غلام  جو سلطان کے لئے جان ہتھیلی پر لئے پھرتے تھے . انہیں عزت و احترام ، ماہانہ تنخواہ ، پنشن، تجارت کی آزادی اور ان کے خاندان کو تحفظ حاصل ہوتا تھا .  سلطنت عثمانیہ کی یورپی وسعت اور استحکام میں دو صدیوں تک ان جاں نثاروں نے اہم کردار ادا کیا ہے . پراگلی ابراہیم وینس سے گرفتار شدہ جاں نثاری غلام تھا جسے توپ کاپی محل میں عثمانی سلطنت کے سب سے ممتاز بادشاہ سلیمان دی مگنفیسنٹ کی دوستی کا موقع ملا . ترکی کے شہر ترابزون میں پیدا ہونے والے سلیمان کا باپ سلیم اول عثمانی حکمران تھا. علمی اور جنگی تربیت اسی  محل میں ہم عمر جاں نثاری دوست پارگلی ابراھیم کے ساتھ مکمل کی . وقت کے بہترین عالموں نے تاریخ ، ریاضی ، ادب،  فلسفہ اور جنگی مہارت سکھائی.  کم عمری میں ایک صوبے کا گورنر بنا.  سیاسی داؤ پیچ اور قانونی نکات کے بارے میں عملی علم حاصل کیا .  دور تک پھیلی عثمانی سلطنت میں مختلف ثقافتوں ، زبانوں اور رسم و رواج کو سمجھنے کا موقع ملا.  والد کا انتقال ھوا تو صرف چھبیس سال کی عمر میں سلطان بنا . اس نے والد کے وزیر کو برطرف کر کے  جاں نثاری دوست پارگلی ابراھیم کو اپنا وزیر بنا لیا.  کچھ تفصیل عثمانی سلطنت کی ؟ رمز نے کہا . بولے . بارہ سو ننانوے میں  اناطولیہ کے قبائلی سردار عثمان اول کی قائم کردہ یہ سلطنت انیس سو تیئیس تک قائم رہی. مرکز ترکی تھا اور میڈیٹرینین کے ساتھ مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بسے بہت سے ممالک  . سن چودہ سو سے سولہ سو تک انہیں عروج حاصل رہا اور  مشرق وسطہ ، مغربی ایشیا ، شمالی افریقہ کے بہت سے ممالک کے علاوہ یورپ میں یونان، ہنگری ،رومانیہ پر تسلط اور ویانا پر حملے کارناموں  میں شامل تھے. سلطنت عثمانیہ کا سب سے طاقت ور حکمران سلیمان دی مگنی فسینٹ تھا.  . سلطنت کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ مذہبی رواداری تھی. حکمران خود مسلمان تھےلیکن  قبضہ کرتے کے بعد مفتوح قوموں کو مکمل آزادی حاصل ہوتی تھی کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق عبادات اور معمولات جاری رکھیں.  ایک دور عہد ٹیولپ کہلاتا ہے جس میں جنگی فتوحات نہیں بلکے طویل حالت امن میں ادب اور ثقافت کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوئی تھی . ٹیولپ کا پھول ترکی ثقافت میں حسن مکمل کی علامت سمجھا جاتا ہے.  سولہویں صدی کے اختتام پر قیادت کی نااہلی کی وجہ سے یہ سلطنت کمزور پڑنا شروع ہوی  اور ایک بیمار سلطنت بن کر انیس سو تیئیس میں پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر اس کا  مکمل خاتمہ ہوگیا.  جدید ترکی کا بانی تو انقلابی کمال اتاترک ہے . اور سلیمان ؟ میں نے پوچھا . بولے .  سلیمان کے چھیالیس سالہ اقتدار میں سلطنت کو بہت وسعت ملی .  اس نے اپنے بحری بیڑ ے اس قدر مضبوط بناے کے پورے میڈیٹرینین پر بالادستی قائم ہوگئی . وہ  نہ صرف عظیم سپہ سالار تھا بلکہ بہترین قائدانہ صلاحیتوں کا مالک بھی.  اس نے سلطنت کو معاشی اور قانونی لحاظ سے اپنے عروج پر پہنچایا. ٹیکس کا بہترین نظام قائم کیا.  اعلی تعلیمی ادارے عوام کو مہیا کیے . وہ خود ایک شاعر اور لکھاری تھا  . ماں کی طرف سے سلسلہ نسب چنگیز خان سے ملتا تھا  جو اس کی بھرپور جنگی صلاحیتوں کو  جواز فراہم کرتا ہے. یورپ کی حکمرانی کے دوران وہ عوام میں بے حد مقبول رہا . یورپی اسے میگنی فسنٹ اور ترک قانونی کے نام سے یاد کرتے ہیں کیونکے اس  نے سلطنت کو مفید قانونی فریم ورک فراہم کیا تھا ………. جاری ہے

معیشت کا غیبی ہاتھ ، دنیا گر ، انشے سیریل ، چوتھا انشا Adam Smith, the invisible, DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 4

Posted by: Shariq Ali
retina

Ideas of Adam Smith is the invisible hand that sculpted the unmatched global prosperity in the history of mankind

دنیاگر واقعات ، نظریات ، شخصیات اور ایجادات پر مبنی انشے
A serial of short stories about ideas, events, personalities, and discoveries that shaped our world

 

 

معیشت کا غیبی ہاتھ ، دنیا گر ، انشے سیریل ، چوتھا انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

کلاس ختم ہو چکی تھی لیکن ٹیٹوریل روم میں غیر رسمی گفتگو جاری تھی . پروف بولے .  پچھلے دو سو پچاس برسوں میں عالمی معاشی ترقی کی رفتار حیرت انگیز رہی ہے.  پوری دنیا تجارتی طور پر ایک دوسرے سے جڑ کر ایک اکائی بن گئی ہے . سمندروں میں تیرتے کنٹینر شپ ، فضا من اڑتے کارگو جہاز ، سڑکوں پر رواں ہیوی ڈیوٹی ٹرک، ایمیزون پر آن لائن شاپنگ  .  پچھلے دور میں یہ سب ناممکن تھا .  تب کچھ لوگ بے حد امیر تھے لیکن عوام کی اکثریت سطح غربت سے بہت نیچے تھی .  آج کی یہ  خوشحالی فری مارکیٹ اکانومی اور عالمی تجارت کی وجہ سے  ہے .  یہ سب ایک شخص کی سوچ اور خیال سے شروع ہوا تھا . ہم سب کی اٹھی سوالیہ نگاہوں کو مخاطب کر کے بولے . معاشیات کے بانی اور اخلاقی فلسفی ایڈم سمتھ کے تصورات نے جس قدر خوشحالی، اچھی صحت اور طویل زندگی عام لوگوں کو دی  ہے ،  پچھلی ڈھائی ہزار سالہ انسانی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی .  وہ سترہ سو تیئیس میں اسکاٹ لینڈ کے قصبے کرک کالڈی میں پیدا  ہوا .  بہت کم عمری میں والد کا انتقال ہوگیا،  تربیت اس کی ماں مارگریٹ نے کی . کبھی کبھار گم سم رہنے اور خود کلامی کرنے والا فلسفے ، لاطینی زبان اور ریاضی کا ذہین طالب علم جو بچپن ہی سے بھرپور مطالعے کا عادی تھا  چودہ سال کی عمر میں گلاسکو یونیورسٹی میں داخل ہوا .  گریجویشن کے بعد اوکسفورڈ یونیورسٹی میں اعلی تعلیم حاصل کی اور پھر  ایڈنبرا یونیورسٹی میں پروفیسر مقرر ہوا.  وہیں اس کی ملاقات اس دور کے مشہور فلسفی ڈیوڈ ہیوم سے ہوئی .  اگلے چند برسوں میں اس نے معاشیات اور فلسفیانہ موضوعات پر ڈیوڈ ہیوم  کے ساتھ طویل مباحثوں سے بہت سیکھا ۔ پھر وہ عالمی معیشت پر اثر انداز کیونکر ہوا ؟ سوفی نے پوچھا . بولے . اپنی دو کتابوں کے ذریعے سے .  پہلی کتاب اخلاقی فلسفے سے متعلق تھی.  نام تھا تھیوری آف مورل سنٹی منٹس.  اس کتاب سے شہرت ملی تو اسے ڈیوک آف ایڈنبرا کا اتالیق مقرر کردیا گیا . یوں پورے یورپ میں سفر کرنے اور اس دور کے عظیم دانشوروں جن میں بینجامن فرینکلن بھی شامل تھا سے ملنے اور سیکھنے کا موقع ملا . پھر اس نے معاشیات  اور فلسفے سے متعلق اپنے  افکار اور حاصل شدہ دانش کو بنیاد بنا کر  سترہ سو چھہتر میں اپنی عالمی شہرت یافتہ کتاب ویلتھ آف نیشن لکھی جو دنیا کی مؤثر ترین کتابوں میں سے ایک ہے . یہ کتاب موجودہ دور کی معاشی ترقی کی بنیاد ہے . اس میں بیان کردہ تصورات ، اصول اور وضاحتیں موجودہ معاشی نظام کو بنیادی  ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں .  کیا تھے اس کے انقلابی تصورات ؟ رمز نے پوچھا . بولے . معاشیات کا باوا آدم فری مارکیٹ اکانومی کے تصور کا بانی ہے . یعنی ایک ایسی آزاد عالمی معیشت جس میں حکومتوں کا کوئی عمل دخل نہ ہو بلکہ معاشی اصولوں کی بنیاد پر عالمی معیشت میں شامل تمام اقوام اور افراد کو آزادانہ مواقعے میسر ہوں اور وہ تجارتی اصول و ضوابط خود طے کریں.   آج کل زیادہ تر ممالک میں ملا جلا معیشتی نظام نافذ ہے یعنی کچھ حکومتی کنٹرول اور کچھ فری مارکیٹ اکونومی .  دیگر تصورات میں سے ایک ہے  پیداواری کوششوں کے حوالے سے محنت کی تقسیم کار کا اصول . یعنی اگر کسی بھی پیچیدہ پیداواری عمل کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر لیا جائے اور مختلف افراد صرف ان چھوٹے حصوں میں اپنی محنت اور صلاحیت کو مرکوز رکھیں تو یہ بات پیداواری صلاحیت اور مضبوط معیشت کے لئے فائدہ مند ہوگی،  اس طرح زیادہ پیداوار اور منافع حاصل ہو سکے گا . دوسرا تصور جو آج بھی رائج ہے وہ ہے گروس ڈومیسٹک پروڈکٹ کا اصول جسے عام طور پر صرف جی ڈی پی کہا جاتا ہے. یعنی اقوام کی دولت اس کے پاس موجود سونے اور چاندی کی مقدار نہیں وہ پیداواری اور ماہرانہ صلاحیت ہے جو وہ دنیا کو معاوضے کے عوض بہم پہنچا سکتی ہیں . وہ کہتا ہے کہ ہر فرد اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں اخلاقی اصولوں کے مطابق استعمال کرتے ہوے  خود اپنے ، خاندان اور معاشرے کے کے مفاد میں منافع بخش پیداواری مصروفیت کے ذریعے بہتر قومی معیشت میں حصے دار بن سکتا ہے . وہ معیشت کی سمت طے کرنے والے غیبی ہاتھ کا ذکر کرتا ہے.   یعنی ایسے اصول جو نظر نہیں آتے لیکن معاشی نظام پر اثر ڈالتے ہیں یعنی طلب اور رسد کا اصول . اس کے خیال میں معاشیات کا کنٹرول انہی اصولوں کے زیر اثر ہونا چاہیے حکومتوں کے نہیں . وہ سترہ سو نوے میں ایڈنبرا میں دنیا سے رخصت ہوا۔   تو پھر آج کے نوجوان معیشت دانوں کو کس چلینج کا سامنا ہے ؟ میں نے پوچھا . بولے .  یہ بنیادی سوال کہ آج کل کی اندھی منافع بخش دوڑ میں کیا  کامیابی اور ترقی اہم ہے یا اخلاقی معیارات اور منصفانہ رویہ ؟ کیا فری مارکیٹ اکانومی اب ایک عذاب بن چکی ہے کیونکہ امیر امیر تر ہو رہا ہے اور مڈل کلاس اور لوئر کلاس اپنی اپنی زندگیوں کی جدوجہد میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں؟ …… جاری ہے

سائرس دی گریٹ ، دنیا گر ، انشے سیریل ، تیسرا انشا Cyrus the great, DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 3

Posted by: Shariq Ali
retina

He conquered the city of Babylon and freed the slaves.  Declared racial equality and religious freedom. Written on baked-clay cylinder in the cuneiform script is the great story of human rights

 

 

سائرس دی گریٹ ، دنیا گر ، انشے سیریل ، تیسرا انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

اولین تہذیبوں کی بات ہو تو یونان اور روم کا ذکر آتا ہے. کیا مشرق میں کوئی عظیم تہذیب نہ تھی؟  سوفی نے پوچھا . ہم رات کے کھانے کے بعد لان کی کرسیوں پر نیم دراز گفتگو میں مصروف تھے .  پروف بولے . اولین تاریخ یونانیوں نے لکھی جو ایرانیوں کو کم تہذیب یافتہ ثابت کرنے پر مصر تھے .  پانچ سو قبل مسیح میں یونانی اور ایرانی فوجوں کے درمیان جنگوں کا پچاس سالہ سلسلہ ہے جو ایتھینز اور سپارٹا جیسی شہری ریاستوں کی مشترکہ فتح  پر ختم ہوئی تھیں. ہیروڈوٹس ان جنگوں میں  یونانیوں کو ہیرو اور ایرانیوں کو ولن بنا کرپیش کرتا ہے جو درست نہیں . یونانی تہذیب کا اثر دنیا میں پھیلا تو سائرس جو انسانی حقوق کا اولین ہیرو ہے کو غیر تہذیب یافتہ کہہ کر بھلا دیا گیا .  یہ قبائلی سردار ماہرانہ جنگی صلاحیتوں اور اس سے بھی بڑھ کر اخلاقی رویوں اور معیارات کی وجہ سے اپنی سلطنت کو دور تک پھیلانے میں کامیاب ہوا تھا .  دنیا کی پہلی تہذیب یافتہ عالمی طاقت جس کا پھیلاؤ مغربی ہندوستان سے لے کر میسو پوٹیمیا، ایتھوپیا اور موجودہ روس کی سرحدوں تک پوھونچتا تھا.  تیس سے زیادہ زبانوں اور ثقافتوں کے علاقے اس سلطنت میں شامل تھے. مرکز ایران کا شہر پسارگارڈی تھا . کیسا تھا وہ شہر ؟ میں  نے پوچھا . بولے . پسارگارڈی اس عظیم تہذیب کی نشانیاں چھپائے دو ہزار سال تک صحرا کی ریت میں مدفون رہا . آثار قدیمہ کے ماہرین نے اسے انیس سو تیس میں موجودہ ایران کے شہر شیراز کے نزدیک بازیافت کیا تو  آشکار ہونے والے  شواھد نے تاریخی نکتہ نظر کو تبدیل کر دیا . عظیم الشان ستون ، سیڑھیاں ، محرابی درودیوار اور ان پرکنداں نقش و نگار اور نوادرات.  سب سے بڑھ کر مٹی کی وہ تختیاں جن پر قدیم کیونیفارم تحریریں لکھی ہوئی ہیں . اس دور کی فکر . امور سلطنت اور قوانین جو قدیم فارس کے لوگوں  نے خود تحریر کیے تھے.  قدیم لکھاری مٹی کی بنی ان تختیوں کو اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں سمیٹ لیتا اور دائیں ہاتھ سے ان کے اوپر گیلی مٹی کی صورت ہدایات لکھتا جاتا . یہ تحریریں ڈھائی ہزار سال پرانی کہانی سناتی ہیں . بہت سی تختیوں پر ادائیگیوں کا حساب ہے جو سونے اور چاندی کی صورت میں کی جاتی تھی.  اس لحاظ سے اس شہر کی تعمیر پر بے اندازہ دولت خرچ ہوئی. بادشاہ کے محل میں کھڑکیوں کی تعمیر ایسے زاویوں سے تھی کہ سورج کی روشنی ہر طرف سے کمرے کو روشن رکھے . رات ہونے پر انہی زاویوں سے شاندار چراغاں ممکن تھا . پندرہ میٹر سے بھی اونچے چبوترے پر قائم یہ محل نما ذاتی کمرے اور اس سے ملحقہ عمارتیں ڈھائی ہزار سال پرانی تعمیراتی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں . ترتیب،  تناسب اور تفصیل کے لحاظ سے ایک شاہکار . اونچائی تک جاتی سیڑھیوں کے اردگرد دیواروں پر بنی مجسمی تصویروں سے پتہ چلتا ہے کہ دور دراز سے آئے معززین بادشاہ کے لیے قسم قسم کے تحفے دربار میں پیش کرتے تھے.  زروجواہرات،  اعلی نسل کے گھوڑے اور عمدہ نسل کی بھیڑیں.  کیوں منفرد تھی سائرس کی بادشاہت ؟ رمز نے پوچھا . بولے .  جنگ کے دوران تو اس کی فوج کا رویہ ویسا ہی ہوتا تھا جیسا کسی دوسری فوج کا.  یعنی وہ دشمن کو تباہ و برباد کردیتے تھے. لیکن فتح کے بعد سائرس کا رویہ مفتوح عوام کے ساتھ بے حد منفرد تھا.  وہ تقریر کر کے عوام کو یقین دلاتا کہ وہ انہیں دکھ اور پریشانی سے محفوظ ایک پر امن زندگی دینے کے لیے آیا ہے.  وہ کہتا اگر عوام اپنے روزگار جاری رکھیں اور وقت پر اپنا ٹیکس ادا کرتے رہیں تو پھر انہیں آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے. پھر عملی طور پر اس کی فوجیں قتل و غارت گری ، تشدد یا غلام بنا لینے سے مکمل گریز کرتی تھیں . مفتوح عوام کو اپنی زبان ، ثقافت اور مذہب برقرار رکھنے کی پوری آزادی ہوتی تھی . اس طرح وہ بہت جلد دلوں پر حکمرانی کرنے لگتا تھا.  ایک جنگ کے دوران اس نے چالیس ہزار یہودی پکڑے .  قیدیوں کو غلام بنا لینا اس دور کی عام رسم تھی.  لیکن اس نے ان یہودیوں کو نہ صرف آزاد رہنے دیا بلکہ واپس فلسطین جانے میں ان کی بھرپور مدد کی۔ یہ تفصیل معلوم کیسے ہوئی ؟ میں نے پوچھا . بولے.  بابیلون کی فتح کی تفصیلات اور انسانی حقوق کے بارے میں اس کی فکر اس زمانے کے بنے مٹی کے سلنڈر جو اب سائرس سلنڈر کہلاتے ہیں پر کیونیفارم تحریر میں درج ہیں. آثار قدیمہ کے ماہرین نے انھیں پڑھ کر اس کے طرز حکومت اور خیالات کی تفصیل معلوم کر لی ہے . مٹی پر لکھی یہ تحریریں انسانی حقوق کی پہلی دستاویز ہیں . وہ نسل، مذہب، رنگ یا زبان کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی برتری کو مسترد کرتا ہے.  سب کو مساوی حقوق دینے کا حامی ہے. وہ جلاوطن غلاموں کو وطن لوٹ جانے اور آزاد انسان کی حیثیت سے زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے . تباہ شدہ عبادت گاہوں کی دوبارہ تعمیر کرکے انہیں عقیدت مندوں کو لوٹانے کے حق میں ہے. اس نے ایرانی شہروں کے  نئے طرز تعمیر کی بنیاد رکھی.  دور تک پھیلے ہوے باغوں میں جا بجا شاندار محلاتی عمارتیں اور ان کو ملا تی ہوئی  خوبصورت گزرگاہوں کے کنارے بہتی نہریں اور حوض . سائرس پانچ سو تیس قبل مسیح میں غالباً جنگ کے دوران اس دنیا سے رخصت ہوا …….. جاری ہے

سرخ انقلاب ، دنیا گر ، انشے سیریل ، دوسرا انشا Red revolution, DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 2

Posted by: Shariq Ali
retina

The story of the rise of Marxism under Lenin and his Bolsheviks

دنیاگر واقعات ، نظریات ، شخصیات اور ایجادات پر مبنی انشے

A serial of short stories about ideas, events, personalities, and discoveries that shaped our world

سرخ انقلاب ، دنیا گر ، انشے سیریل ، دوسرا انشا ، شارق علی

ممکن ہے سولہ سال کی عمر میں اس کے والد کی وفات نہ ہوتی تو وہ خدا کے وجود سے انکار اور روایتی چرچ کے خلاف اعلان بغاوت نہ کرتا .  یا اس کا بڑا بھائی ساچا اگر زار کے خلاف باغیانہ سیاسی گروپ میں شمولیت اختیار کر کے پکڑا نہ جاتا اور حکومتی اہلکار اسے موت کے گھاٹ نہ اتار دیتے تو شاید وہ کازان یونیورسٹی سے ڈگری یافتہ پر امن وکیل ہوتا ، مارکسسٹ باغی نہیں . پروف سوفی کے پوچھے اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ سرخ انقلاب کا ہیرو کون تھا ؟  بولے.  ان ہی صدموں نے اٹھارہ سو ستر میں پیدا ہونے والے ولادیمیر لینن کو روسی انقلاب کا مرکزی کردار اور سوویت یونین کا بانی بنایا . ماں باپ تعلیم یافتہ تھے . وہ بے حدذہین طالبعلم اور شطرنج کا بہترین کھلاڑی تھا .  مشکل حالات میں بھی تعلیم جاری رکھنے والا اور سیاسی طور پر بے حد متحرک.  کارل مارکس کی تعلیمات اس کی بصیرت تھی اور یہ یقین کے کمیونزم سب سے بہتر طرز حکومت ہے  .  زمانہ طالب علمی میں ایک بار گرفتار کر کے یونیورسٹی سے نکال دیا گیا.  قید کاٹنے کے بعدرہا ہوا اور تعلیم مکمل کر کے وکیل بنا . انقلابی کوششوں کی وجہ سے پولیس مستقل اس کے پیچھے لگی رہتی تھی . وہ سینٹ پیٹرزبرگ بھاگ گیا لیکن جدوجہد جاری رکھی. آخر کار اپنا مارکسسٹ گروپ بالشویک کے نام سے منظم کر لیا . اٹھارہ سو ستانوے میں سزا کے طور پر تین سال کیلئے سائبیریا بھیج دیا گیا. سزا کاٹ کر رہائی کے بعد وہ فوری طور پر دوبارہ مارکسسٹ انقلاب کی جدوجہد میں مصروف ہو گیا . پھر خفیہ ایجنسی کی نظروں سے دور اس نے کئی برس مغربی یورپ کے ممالک میں سیاسی موضوعات پر مضامین لکھنے اور غوروفکر میں گزارے.  برسوں کی یہ فکری کوشش انقلاب کی سیاسی صورت تشکیل دینے میں کامیاب ہو گئی .  پھر عملی کامیابی کیسے ممکن ہوئی ؟ رمز نے پوچھا . بولے . انیس سو سترہ کا سرخ روسی انقلاب کسانوں اور محنت کشوں کی قربانیوں سے کامیاب ہوا . وہ زار نکولس دویم جیسے ظالم حکمران کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہوۓ . زار جسے بے پناہ اختیارات حاصل تھے . جس کے قبضے میں  فوج ، چرچ اور ملک کی زیادہ تر زرخیز زمین تھی. جب کے محنت کشوں کے لیے زندگی بے حد مشکل تھی. آمدنی قلیل ، کام کے اوقات بہت زیادہ .  بھوک، بے روزگاری اور بیماری عام تھی. امرا کا سلوک ذلت آمیز تھا .  وہ غلاموں کی سی زندگی بسر کرتے تھے . کسی قانونی تحفظ کے بغیر . پھر بالشویک انقلابییوں نے ولادیمیر لینن کی قیادت میں اس ظلم کا خاتمہ کیا اور دنیا کی پہلی کمیونسٹ حکومت قائم کی. خونی اتوار اور پہلی جنگ عظیم کا کیا کردار تھا ؟ میں نے پوچھا . بولے .  انیس سو پانچ  کی ایک اتوار کو زار کے محل کے باہر کسان اور محنت کش جمع تھے  . وہ اپنے حقوق کی پٹیشن تھامے پر امن احتجاج کر رہے تھے. زار کے حکم پر حکومتی فوجوں نے فائرنگ کرکے بہت سے بے گناہوں کو شہید کردیا اور کئی زخمی ہوے . یہ بات پورے روس میں غیض و غضب کا باعث بنی. اس دن کو خونی اتوار کا واقعہ قرار دیا گیا.  اس دن سے پہلے بہت سے عام لوگ زار  کو اپنا ہمدردسمجھتے تھے اور حکومتی اہلکاروں کو ظلم کا ذمے دار . اس دن ظالم کا چہرہ سامنے آ گیا . انقلاب کو سمت مل گئی . انیس سو چودہ میں پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہوا تو بڑی تعداد میں زبردستی محنت کشوں کو روسی فوج میں شامل کر لیا گیا . وہ غیر تربیت یافتہ تھے اور ہتھیار بھی کم .  جوتوں ، لباس اور غذا کی فراہمی ناکافی . جنگ کے دوران اگلے تین سالوں میں بیس لاکھ روسی سپاہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے.  تقریبا پچاس لاکھ زخمی یا بیمار ہو گئے۔ پورے روس میں یہ رائے زور پکڑ گئی کہ جنگ میں شامل ہونے کے غلط فیصلے کا اصل ذمہ دار زار ہے.  بہت سے سیاہی فوج سے بغاوت کرکے انقلاب میں شامل ہوگئے. پھر روسی فوج زار کے خلاف ہو گئی اور اسے اقتدار چھوڑنے پر قائل کر لیا.  زار کے بعد روس کی صورت حال ؟ رمز  نے پوچھا . بولے . زار اور اس کے تمام خاندان والوں کو تو سرخ انقلابیوں نے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتار دیا تھا . پھر باغیوں اور فوجیوں کی حمایت یافتہ مخلوط حکومت تشکیل دی گئی  جو چند مہینے ہی قائم رہ سکی . پھر بالشویک لینن کی قیادت میں کمیونسٹ نظام حکومت پر اصرار کرنے لگے . سرخ انقلابی اور ان کے مخالف سفید فوج میں تین سال خانہ جنگی جاری رہی . آخر کار  سرخ انقلابی پورے روس پر قبضے، سوویٹ یونین کے قیام اور دنیا کی پہلی کمیونسٹ حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے. زار کے سیکڑوں سالہ ظالمانہ اقتدار کو ختم کرنے والا لینن انیس سو چوبیس میں گورکی کے مقام پر دنیا سے رخصت ہوا…….جاری ہے ، ویلیوورسٹی

کتاب کا سفر ، دنیا گر ، انشے سیریل ، پہلا انشا Printing revolution, Dunyagar, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 1

Posted by: Shariq Ali
retina

A serial of short stories about ideas, events, personalities, and discoveries that shaped our world

دنیاگر واقعات ، نظریات ، شخصیات اور ایجادات پر مشتمل انشے

The story of a milestone in human history that unleashed the power of renaissance and scientific revolution

 

 

کتاب کا سفر ، دنیا گر ، انشے سیریل ، پہلا انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

ہم لائبریری کے جس گوشے میں بیٹھے تھے وہاں گفتگو ممکن تھی . سوفی ہاتھ میں تھامی کتاب لہرا کر بولی. کون جانے یہ کب پریس سے نکل کر دکان اور پھر اس لائبریری تک پوھنچی ہو .  فروخت یا تحفعتاً عام لوگوں کے ساتھ اس کی زندگی کا منفرد ، عجیب و غریب اور مہم جویانہ سفر  نجانے کن مراحل سے گزرا ہو  . کس نے اسے تھاما، کس نے چوما ، کون سرسری تعارف سے آگے نہ بڑھ سکا ہو .  کس نے مکمل پڑھا اور سمجھا اور نشان زد کیا اور سوکھے پھولوں اور نجی خطوط کا ہمراز رکھا ہو  . بک شیلف کی تنہائی یا کوفی ٹیبل پر آتے جاتے لوگوں سے مختصر شناسائ . ساری تفصیل اس کتاب کے وجود میں چھپی ہوئی ہے .  پروف بولے.  بلا شبہ کتاب ایک تاریخی دستاویز ہوتی ہے.  نہ صرف اس میں لکھی ہوئی عبارت بلکہ اس کا اپنا وجود ایک مخصوص واقعاتی تسلسل اور تاریخی دور کی نمائندگی کرتا ہے.  کیمبرج کے بعض محققین نے تو قدیم کتابوں کی ڈیجیٹل ٹریکنگ سے بے حد دلچسپ روداد مرتب کی ہے . قدیم کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں. وقت بھی بہت  لگتا اور قیمت بھی بہت زیادہ ہوجاتی تھی. صرف امیروں اور بادشاہوں کی ان تک رسائی تھی.  مزے کی بات یہ کہ اس زمانے کے لکھنے والے کتاب کے کناروں پر اکثر چھوٹی چھوٹی تصویریں بھی بناتے تھے.  ان تصویروں کی مدد سے اس دور کی زندگی کو سمجھنا آج ہمارے لئے آسان ہے. تو گویا بعض قدیم کتابیں آرٹ کا نمونہ بھی ہیں. کتابوں کا چھپنا کسی انقلاب سے کم تو نہ ہو گا ؟ رمز نے کہا . بولے . ایجاد خود انقلاب نہیں ہوتی لیکن لوگوں میں مقبول ہو جاے تو رہن سہن کو تبدیل کرکے ضرور ایسا کر سکتی ہے .  یوں تو لکڑی کے بلاک سے چھپائی کا کام چین میں نویں صدی عیسوی میں شروع ہوا .  چار سو سال بعد حرکی چھاپہ خانہ  بھی پہلے کوریا میں استعمال ہوا . لیکن اس انقلاب کا سہرا یورپ کے سر ہے .  چودہ سو پچپن میں یوہان گوٹنبرگ نے اپنے ایجاد کردہ حرکی چھاپے خانے میں پہلی بائبل چھاپی تو معلوماتی انقلاب کا آغاز ہو گیا  .  پھر کتابوں کا لکھنا،  ان کا تقسیم ہونا اور کتابوں کی مدد سے خیالات کی ترویج کا کام بے حد آسان ہو کر عام لوگوں کی دسترس میں آ گیا.  یوں یہ ایجاد یورپ میں انقلابی ترقی اور پوری دنیا میں ان کی علمی اور سیاسی برتری کا سبب بنی.  اگر ہم کسی  ایک فرد کو معلوماتی انقلاب کا ہیرو ٹہرائیں تو وہ ہو گا گوٹنبرگ . کچھ اور تفصیل؟ میں نے کہا. بولے. کتابیں روشن خیالی کا آغاز  ثابت ہویں تھیں  .  جدید سائنسی اور دیگر علوم ایک بار پھر زندہ ہوئے اور بہت تیزی سے آگے بڑھے. کیونکہ اب کتابیں عام لوگوں کی دسترس میں آ گئی تھیں . عام اور خاص خیالات پھیلنے لگے.  انسانی عقل اور علم  کے فروغ کو بڑھاوا ملا . یہ اعتماد پیدا ہوا کے انسانی عقل کائنات کو تبدیل کر سکتی ہے . صرف پچاس برس میں پورے یورپ میں پندرہ سو چھاپہ خانے کام کرنے لگے .  چالیس ہزار سے زیادہ کتابیں مختلف موضوعات پر چھاپی گئیں .  ان کی تقسیم اس قدر تیزی سے ہوئی کے یورپ میں معلوماتی انقلاب روشنی کی طرح پھیل گیا. ان پچاس برسوں میں تقریبا اسی لاکھ کتابیں عام لوگوں میں تقسیم ہوئیں . یہ انسانی عقل و خیال کے تیزی سے پھیلنے کی بہترین مثال ہے . کتابوں کی سستی اور کثرت سے موجودگی نے تعلیم کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کیا.  زیادہ سے زیادہ لوگ تعلیم حاصل کرنے لگے. یورپ کی ترقی دنیا بھر کے سامنے ایک حقیقت بن گئی اور آج بھی ہے…… جاری ہے

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,384 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina