retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

لارمبلاس کی سیر ، پانچواں انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ La Rambla, A GLIMPSE OF BARCELONA, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 5

Narration by: Shariq Ali
November 15, 2019
retina

The Arabic word ‘Ramla’ means sandy riverbed.  This magnificent promenade began as a dried-out stream outside the walls of the Gothic Quarter

 

 

 

لارمبلاس کی سیر ، پانچواں انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

نیلے آسمان تلے سنہری دھوپ میں بے حد کشادہ فٹ پاتھ کے دونوں کناروں پر لگے سر سبز درختوں کی قطاریں اور کنارے پر ٹریفک کے لئے نسبتاً پتلی سڑک جس کے ساتھ فیشن ایبل دکانوں اور  پانچ ستارہ ہوٹلوں کے سلسلے ہیں . درمیان کی چوڑی پیدل گزرگاہ پر ادھر سے ادھر جاتے بھانت بھانت کے خوش لباس سیاح اور مقامی لوگ . خوش باشی ، آسودگی بلکہ فراوانی اور مسرت کی تصویر بنے.  پھولوں کی دکانیں  اور سیاحتی دلچسپی اور نوادرات سے بھرے اسٹال اور کھیل تماشے دکھاتے فنکار اور انھیں گھیرے مداح .   رونق کا یہ سلسلہ کوئی سوا کلو میٹر طویل ہے  .  ایک سرے پر کاتالونیا چوک اور دوسرا سرا  پورٹ ویل پر لگے کرسٹوفر کولمبس کی یادگار پر ختم ہوتا ہوا . تو یہ ہے بارسلونا کا مشہور زمانہ لا رمبلا . یا  ارد گرد کی دلکش گلیاں بھی شامل کر لیں تو لا رامبلاس. اس اندلسی نام میں موجود مشرقی گنگناہٹ کا سبب عرب ثقافت کی جھلک ہے . عربی میں رملہ دریا کے نرم ریتیلے ساحل کو کہتے ہیں.  تاریخی بارسلونا کی گوتھک آبادیوں سے ذرا باہر بالکل وہیں جہاں آج یہ گزرگاہ ہے پہلے ایک ندی بہا کرتی تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ سوکھ گئی.  پھر لوگ اس نرم ریتیلے ساحل پر چہل قدمی کے لیے آنے لگے .  ہم مرکزی پرومناڈ کے بازو سے نکلتی پیلے پتھروں کے فرش والی خوشنما اور پرپیچ گلی میں داخل ہوے جس کے دونوں جانب بنی تین منزلہ عمارتوں کے دریچوں میں پھولوں سے لدے گملے لٹک رہے تھے.  نچلی منزل پر ساتھ ساتھ چلتی دیدہ زیب دکانیں تھیں . کچھ دکانیں تو کسی مصورکا کشادہ سٹوڈیو بلکہ آرٹ گیلری  زیادہ معلوم ہوتی تھیں . ہم محض تانک جھانک کے لئے داخل ہوۓ تو دیوار پر لگی تصویر کے نیچے لکھا تھا انٹونی ٹیپیز سے متاثرہو کر . انیس سو ستائیس میں بارسلونا میں پیدا ہونے والے اس مصور کا شمار اسپین کے بہترین مصوروں میں ہوتا ہے.  وہ دو ہزار بارہ تک زندہ رہا.  تعلیم تو اس نے قانون کی حاصل کی لیکن تمام عمر انفرادی انداز میں پینٹ کرتے گزاری . شروع کے کام میں وین گوگ اور پابلو پکاسو کی جھلک نظر آتی ہے لیکن جیسے وہ آگے بڑھا اس کی انفرادی شناخت کام پر حاوی ہوتی چلی گئی ۔ بالکل غیرروایتی مصوری بلکہ بعض تصویروں پر سریلسٹک ہونے کا شبہ ہوتا ہے. وہ ایک جراتمند آدمی تھا .  انیس سو ستر میں ہسپانیہ کے ڈکٹیٹر فرانچسکو فرانکو  کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والا . ہم  اسی تنگ گلی میں کچھ اور آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک بیکری میں اس قدر خوش نما کیک شو کیس میں سجاے گئے ہیں کہ کوئی بد ذوق ہی انھیں کاٹ کر کھانے کا سوچ سکتا ہے .  یہ گلی بالآخر ہمیں گرینڈ تھیٹر کے مرکزی دروازے تک لے گئی جس کے سامنے ٹکٹ لینے والوں کی قطار تھی اور پیچھے بارونق چوک میں مقامی موسیقار اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے. کوئی ڈیڑھ گھنٹے کی پر رونق چہل قدمی بھوک  بیدار کرنے بلکہ خاصے اشتعال کا باعث بنی تھی . یوں تو مقامی ریستورانوں کے باھر لگے مینو میں پایلا کی رنگین تصویریں ہمیں للچانے کی ناکام کوشش کر رہی تھیں  جو یہاں کی قومی ڈش کا درجہ رکھتی ہے.   چاولوں ، ہری سبزیوں ، مختلف قسم کے سی فوڈ یا مرغی اور خرگوش کے گوشت جس میں  بعض اوقات لوبیا بھی شامل کر لیا جاتا ہے کا ملغوبہ یہ ڈش دیکھنے میں خاصی متاثر کن ہے لیکن انگریزی محاورے کے مطابق یہ ہماری چاے کی پیالی نہیں تھی .  قدم خود بخود گوگل میپ کی انگلی تھامے رمبلا ڈل روال پر واقع ہمالیہ پاکستانی ریستوران کی سمت بڑھتے رہے . پھر پردیس میں آلو چاٹ اور پاپڑ کے سٹارٹر اور گرم نان ، مٹر قیمہ ، تڑکا دال اور لاجواب لسی پر ختم ہونے والے جادو  نے کچھ دیر کے لئے لاہور کی گلیوں میں پوھنچا دیا  . واپسی میں میٹرو سٹیشن کی سمت بڑھتے ہوے ہم سوچ رہے تھے کہ بلا شبہ لارامبلاس کی سیر اس شہر کے ثقافتی مزاج سے تعارف کی حیثیت رکھتی ہے….. جاری ہے

انوکھی عبادتگاہ ، چوتھا انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ Sagrada Familia, A GLIMPSE OF BARCELONA, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 4

Posted by: Shariq Ali
retina

Antoni Gaudi was convinced that one day his architectural masterpiece would be the symbol of Barcelona, and he was right

 

 

انوکھی عبادتگاہ ، چوتھا انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

سگراڈا کے میٹرو اسٹیشن سے باہر آتے ہی دونوں جانب مشہور زمانہ کیتھیڈرل کو دیکھنے کی کوشش کی اور  ناکام ہوئے۔  پھر جیسے ہی مڑ کر بالکل  پیچھے دیکھا تو  پیلے  پتھروں سے  بنی کسی چھپے ہوے ڈائنوسار جیسی اونچی اور  بے حد منفرد عمارت کی اچانک موجودگی  نے حیرت زدہ کر دیا. وہ کسی عجوبے سے کم نہ تھی . دیدہ زیب اور باوقار .  کیتھیڈرل کا تقریباً  آدھا حصہ تو پیلے قدیم پتھروں سے بنا تھا.  بقیہ حصّے کا ڈیزائن بھی ویسا ہی لیکن نسبتاً نئے پتھروں سے جدید طرز میں تعمیر  شدہ اور کچھ حصّہ ابھی تک زیر تعمیر تھا .  عمارت بلا شبہ جدید اور قدیم تعمیراتی کمال کا حسین امتزاج تھی . ذہن پر زور ڈالنے کے باوجود مجھے اس طرز کی کوئی دوسری عمارت یاد نہ آ سکی .  پوری عبادتگاہ ایک بلند اور تکونے احرام کی مانند تھی جس میں سامنے کے رخ ایک سنگلاخ منقش اونچے سے محرابی دروازے کے ساتھ چاربلند مینار اور ارد گرد گول گھومتے مختصر راہداریوں جیسے عمارتی سلسلے جو آپس میں جڑے ہوئے تھے . تعمیر میں جابجا مذہبی نوعیت کی علامتیں اور مجسمے شامل کیے گئے تھے جس سے پورا تعمیراتی ماحول عیسائیت سے عقیدتمندی کا بھرپور اظہار بن گیا تھا . اس کتھیڈرل کے خالق انٹونیو گاوڈی کی عقیدت کا اندازہ تو اس بات سے لگا لیجیے کے وہ اپنے اسی شاہکار میں مدفون ہے . سو برس سے زیادہ عرصے سے زیر تعمیر نوکیلے میناروں والی اس عمارت کے تین واضح رخ دکھائی دے رہے تھے ۔ ایک قدیم  دوسرا جدید اور تیسرا زیر تعمیر . گرجا گھر  کے چاروں طرف دنیا بھر سے آے  اور مقامی عقیدتمندوں کا جمگھٹا تھا جو بڑی  عقیدت اور تعریفی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے . عمارت کو چاروں طرف سے گھوم کر دیکھ چکے اور تھکن محسوس ہوئی تو دروازے کے عین  سامنے چھوٹے سے باغ میں پڑی ایک بینچ پر بیٹھ گئے.  میں سوچنے لگا .  آٹھویں صدی عیسوی کے شروع سے لے کر پندرہویں صدی کے آخر تک کیٹلونیا پر تو نہیں لیکن موجودہ سپین اور پرتگال کے خاصے بڑے علاقے پر جو آئبیرین پینینسلا یا اندلس کہلاتا تھا مسلمانوں کی حکومت رہی ہے  ۔ وہ مسلمان روشن خیالی اور عروج کا زمانہ تھا اور اس قبضے سے بلا شبہ اس دور کے تاریک یورپ میں ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوئیں تھیں ۔ پہلی فتح تو بنو امیہ کے زمانے میں سات سو گیارہ صدی عیسوی میں طارق بن زیاد نے حاصل کی تھی جب وہ شمالی افریقہ کہ  کے ساحل سے سمندر عبور کرکے موجودہ جبرالٹر کے مقام پر اترا تھا .  یہ فتوحات عباسیوں کے دور میں بھی جاری رہیں اور مسلمان فرانس کی سرحدوں تک جا پہنچے تھے  لیکن وہاں فوجی مزاحمت کی وجہ سے وہ مزید پیش قدمی نہ کرسکے. ان کی عملداری اندلس تک محدود رہی جس کا مرکز قرطبہ تھا . تقریباً سات سو برس اس خطّے میں قیام کے باوجود موجودہ اسپین کی ثقافت پر مسلمان کوئی واضح مثبت اثر چھوڑنے میں ناکام رہے ہیں . ایک بڑی وجہ تو قرطبہ پر عیسائی فتح کے بعد تمام مسلمانوں کو زبردستی عیسای بنا لینا تھی . جو چند باقی بچے وہ حکومتی جبر کی تاب نہ لا سکے .  آج بارسلونا میں مذہبی عقیدے کے لحاظ  سے تیسری بڑی آبادی مسلمانوں کی ہے لیکن یہاں کوئی بھی قابل ذکر بڑی مسجد موجود نہیں. جس باغ میں ہم بیٹھے تھے اس کے بلکل سامنے ساکت پانی سے لبریز ایک حوض تھا جسے خوشنما درختوں اور جھاڑیوں نے گھیرا ہوا تھا اور ان میں رنگارنگ پھول کھلے تھے . ہم کچھ دیر وہاں بیٹھے سیاحوں کو دیکھتے رہے جو اندر جانے والوں کی لمبی قطار سے ہماری ہی طرح مایوس دکھائی دیتے تھے . پھر فیصلہ کیا گیا کہ ہم میں نہ اتنا صبر ہے  اور نہ وقت کہ ٹکٹ خرید کر اندر جانے والوں کی اس لائن کا حصّہ بنیں  ،  یہی سوچ کر کہ اب یہاں مزید وقت گزارے بغیر لا رمبلا کی جانب روانہ ہوا جاے . ہم نے قدم قریبی میٹرو سٹشن کی جانب بڑھا دیے ……….. جاری ہے

کیٹلونیا چوک ، تیسرا انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ Catalunya Square, A GLIMPSE OF BARCELONA, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 3

Posted by: Shariq Ali
retina

Though it is not a real tourist attraction and is merely the transport hub , many tourists start exploring Barcelona from this beautiful square

 

 

کیٹلونیا چوک ، تیسرا انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

جدید طرز کے ٹرین سٹیشن کی مصروف چہل پہل سے گزر کر سیڑھیاں چڑھیں اور باہر نکلے تو صبح کی روشن دھوپ اور خنک ہوا میں  ملبوس کیٹلونیا چوک ہماری نظروں کے سامنے تھا .  بےحد کشادہ میدان نما بڑا سا چوک جسے اٹھارہ سو انسٹھ میں الڈیفون سرڈا نے شہر کے سب سے اہم اور مرکزی مقام کی حیثیت  سے ڈیزائن کیا تھا. اس پچاس ہزار اسکوائر میٹر چوڑ ے چوک کے مرکز میں دائرہ نما گرینائٹ فرش کا میدان ہے جس کے ارد گرد لگے درختوں ، گھاس اور پھولوں کی کیاریوں کے ساتھ بنچیں رکھی ہیں.  جابجا نیو کلاسک طرز کے مجسمے اور فوارے لگے دکھائی دیتے ہیں .  چاروں جانب بے حد کشادہ سڑکوں پر ہر دم رواں ٹریفک اور کنارے پر  شہر کی بلندو بالا مرکزی تجارتی عمارتیں .  یہ کوئی سیاحتی مقام تو نہیں لیکن انڈر گراؤنڈ ٹرین اور بسوں کا مرکز ہونے کی وجہ سے بیشتر سیاح یہیں سے مختلف سمتوں میں بارسلونا کی سیر کا آغاز کرتے ہیں۔ یہاں کی مشہور زمانہ پیدل سیر لارمبلا کا آغاز بھی یہیں سے ہوتا ہے ۔ چھوٹی سی دکان کی خوش اخلاق ویٹرس سے آئس کریم لی اور قریبی بینچ پر بیٹھ گئے .  خیال آیا کہ انیس سو چھبیس میں اسی شہر کی ایسی ہی مصروف سڑک پر ایک حادثہ پیش آیا تھا ۔  ایک چوہتر سالہ بوڑھا ٹرام کی ٹکر لگنے سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا ۔ نام تھا اینٹونیو گاوڈی ۔ مشہور زمانہ ماہر تعمیرات جو کیٹالونیا کے شہر رئوس میں پیدا ہوا لیکن اس نے اپنا بچپن ، جوانی بلکہ تمام عمر بارسلونا ہی میں گزاری . ایک ایسا فنکار جس نے اس شہر کو اپنا کینوس بنا لیا اور اپنے تعمیراتی فن پاروں کے حوالے سے اس شہر سے اپنی دوستی کو دوام بخشا ۔ آج یونیسکو اسکی بنائی ہوئی سات عمارتوں کو عالمی ورثے کا درجہ دیتی ہے۔  سب سے زیادہ مشہور  سگراڈا فیملیا ہے.  یوں تو اس نے شروع میں آرٹ ڈیکو ، نیو گوتھک اور اورینٹل طرز تعمیر سے اثر قبول کیا لیکن پھر اس نے اپنی انفرادی شناخت انیسویں اور بیسویں صدی کے ماڈرنسٹ ماہر تعمیر کی حیثیت سے حاصل کر لی .  اس کے کارناموں میں پارک گوئل اور سگراڈا فمیلیا کا نیٹویٹی فساڈ عالمی شہرت رکھتے ہیں. کہتے ہیں وہ شروع میں مذہبی نہیں تھا لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ رومن کیتھولک عقیدے پر اس کا یقین مضبوط ھوتا چلا گیا اور اس کے فن تعمیر میں مذہبی علامتیں اور حضرت عیسی کی زندگی کے حوالے سے مجسمے اور تمثیلیں کثرت سے نظر آنے لگے . اس کا طرز تعمیر قدرت سے متاثر ہے اور وہ قدرتی مظاہر اور اُن میں عیاں اصولوں کو اپنے فن میں کچھ یوں شامل کرتا ہے کہ بعض لوگ اسے خدا کا منتخب کردہ ماہر تعمیر کہتے ہیں . بینچ  سے کچھ دور سنگ مر مر سے ڈھکے مرکزی فرش پر موسیقی اور بازی گری کا کمال دکھاتے فنکاروں کے گرد چھوٹے چھوٹے مجمعے تھے. ہم سیلفی لینے میں مصروف تھے کہ جوکر کا ماسک اور چوغہ پہنے میک اپ کیے ایک فنکار خاتون بلا اجازت ہمارے قریب آکر سیلفی میں شامل ہو گئیں۔ دو یورو ٹپ وصول کر کے وہ جیسے ہی رخصت ہوئیں تو سیلفی سٹک بیچتے گجرات سے تعلق رکھنے والے دو پاکستانی نوجوانوں نے قریب آ کر اردو میں بارسلونا کے جیب کتروں سے ہوشیار رہنے کی نصیحت کی . انہوں نے ہی ٹی ٹین ٹکٹ سے شہر بھر میں با کفایت سیر کا مشورہ دیا اور قریبی موجود ہمالیہ پاکستانی ریسٹورنٹ کے مزیدار کھانوں کا ذکر بھی کیا .  لنچ ابھی دور تھا اس لئے یہ طے پایا کے پہلے سگراڈا دیکھ لیا جاے.  پھر لا رمبلا کی سیر سے بھوک بیدار کر کے ہمالیہ ریسٹورنٹ میں دو پہر کے کھانے کا امتحان لیا جاے . یہ پروگرام ذہن میں لئے ہم میٹرو سٹیشن کی سیڑھیوں کی جانب بڑھے …….. جاری ہے

 

آزادی ، دوسرا انشاء بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ Freedom, A GLIMPSE OF BARCELONA, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 2

Posted by: Shariq Ali
retina

The majority of Catalaunian voted for independence from Spain. Demonstrations  are still on for freedom

 

آزادی ، دوسرا انشاء بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

ہائی وے پر دوڑتی ہوئی ٹیکسی کی کھڑکی سے بارسلونا کے مضافات کا دور تک پھیلا منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔ مغرب کے جھٹپٹے میں کہیں کہیں اسٹریٹ لائٹس آن ہو چکی تھیں۔ چارلین کی کشادہ موٹر وے پر گاڑیاں ادھر سے ادھر دوڑ رہی تھیں۔ تین طرف پہاڑیوں سے گھری وادی میں زندہ شہر کی ہما ہمی سانس لے رہی تھی۔ درمیانی بلندی کی  کئی منزلہ صنعتی عمارتیں اور مضافاتی رہائشی بستیاں۔ بارسلونا فرانس کے قریب سپین کے صوبے کاتالونیا کا مرکزی شہر ہے۔  یہاں کے لوگ خود کو کیٹلونین کہتے ہیں کیونکہ ان کی تاریخ ، زبان اور ثقافت بقیہ سپین سے مختلف ہے ۔ وہ ایک آزاد ملک کا مطالبہ کرتے ہیں.  بیس منٹ کی تیز رفتار ڈرائیونگ کے بعد ہماری ٹیکسی ہالیڈے ان  کے گیٹ کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ ڈرائیور نے گوگل سرچ سے کیے اندازے سے بھی کم اجرت طلب کی تو اسے بھرپور ٹپ سے نوازا گیا اور وہ کھل اٹھا ۔  سامان اٹھاے رسپشن پر پہنچے تو استقبالیہ لڑکی نے مسکرا کر کارروائی مکمل کی ۔ دوسری منزل پر واقع کشادہ کمرہ تمام ضروری سہولیات سے آراستہ تھا۔  ایئرپورٹ سے لائی کھانے پینے کی چیزیں ٹیبل پر رکھ کر کھڑکی کا پردہ سرکایا تو ہوٹل کے ساتھ لگا روشنیوں سے جگمگاتا اور گاہکوں سے پر ریستوران نظر آیا.  جی مچل اٹھا۔  ایئرپورٹ سے خریدے سینڈوچیز پر جان بہت شرمندہ نظریں ڈالیں اور لفٹ سے نیچے اترکر برابر والے ریستوران کے مینیو کو بھوکی نظروں سے تکنے لگے۔  صرف ویجیٹیرین پیزا ہی ایمان خطرے میں ڈالے بغیر کھایا جا سکتا تھا۔ ٹیک اوے کمرے میں لایا گیا اور ڈنر سے فارغ ہو کر کتاب پڑھتے پڑھتے گہری نیند سو گئے.  صبح نہا دھو کر تازہ دم ہوئے اور ناشتے کیلئے ڈائننگ ہال میں پہنچے۔  جاپانی سیاحتی گروپ پہلے سے موجود تھا اور ہال چن من کن آوازوں کے جلترنگ سے گونج رہا تھا۔ مختلف قسموں کی چائے ، کافی ، جوسز ، ناشتے کے کثیر لوازمات اور پھلوں میں سے پسند کی چیزیں منتخب کی گئیں ۔ سب سے زیادہ مزیدار سپینش آملیٹ لگا جس کا ذائقہ آلو کے بھرتے سے ملتا جلتا تھا۔  صحت مند ناشتے سے فارغ ہو کر ہوٹل کے مین گیٹ سے نکلتے ہی دائیں ہاتھ پر پارک کے ساتھ ٹرین سٹیشن کی سمت چلے . گلیوں ، گھروں ، ٹریفک اور راہگیروں کے رویے میں کشادگی کا احساس تھا ۔ دس مِنٹ بعد مولینز ڈی رائے کے سٹیشن پوھنچے ۔ واجبی سا مصروف سٹیشن۔  دو تین اہلکار اور آٹھ دس مسافر۔ ہم بھی ٹکٹ لے کر مرکزی شہر جانے والی ٹرین کا انتظار کرنے لگے۔ چھوٹا سا پلیٹ فارم اور دو سمتوں میں لہرا کر جاتی ٹرین کی پٹڑی کے  ایک جانب سٹیشن کی عمارت اور دوسری جانب کسی کیک کی طرح کاٹے ہوئے  پہاڑ کی کوئی پانچ منزلہ عمودی چٹانی دیوار جو اونچائی پر بنے گھر کے سامنے بنے  لان کے جنگلے تک پہنچ رہی تھی ۔ کچھ دیر بعد ایک خوش نما اور جدید ٹرین پلیٹ فارم پر آکر رکی ۔ ہم کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ ٹرین مضافات سے گزر کر سٹی سنٹر کے مصروف سٹیشن کیٹیلونیا کی جانب بڑھنے لگی۔  درمیانی بلندی کی کاروباری اور رہائشی عمارتیں اور چھوٹے بڑے گھر۔ صاف ستھرے بازار اور سڑکیں۔ خوش حالی کا احساس لیکن دیگر یورپی شهروں جیسی امارت اور دبدبہ نہیں۔ آبادی کچھ کم کم ۔ کچھ سال پہلے مقامی حکومت نے اسپین سے آزادی کے ریفرنڈم کا اعلا ن کیا تھا جسے اسپین کی مرکزی حکومت نے غیر قانونی قرار دے کر روکنے کی کوشش کی تھی۔ ہزاروں گرفتاریوں کے باوجود نوے فیصد لوگوں نے آزادی کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔ اب دیکھیے یہ تنازعہ کیا رخ اختیار کرتا ہے۔ ایک اسٹیشن پر گاڑی رکی تو ایک بوڑھا آدمی کچھ سامان ہاتھ میں لیے ٹرین میں داخل ہوا۔  ٹرین چلتے ہی وہ ہر خالی سیٹ پر پیپرمنٹ کی ڈبیا اور مقامی زبان میں لکھے کارڈ رکھتا چلا گیا ۔  یہ بات بالکل واضح تھی کہ یہ بوڑھاضرورت مند ہے۔  ہم نے واپسی پر مدد کی تو اس نے شکر گزار نظروں سے دیکھا اور کہا گراسیاس۔ ٹرین کوئی آدھ گھنٹے کے بعد کاتالونیا کے مرکزی سٹیشن پر پہنچ کر کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ ، خوش آمدید ، پہلا انشا Welcome, A glimpse of Barcelona, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 1

Posted by: Shariq Ali
retina

A city by the sea yet encircled by wooded mountains.  and praised for its gorgeous architecture

 

 

بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ ، خوش آمدید ، پہلا انشا، شارق علی ، ویلیوورسٹی

ڈیپارچر لاؤنج میں حسب معمول فلائٹ روانگی کے انتظار کا موسم ہے . میں اور آپ ایک نا آشنا شہر کے کوچہ و بازار، بسنے والوں ، معاشرت اور تاریخ سے متعارف ہونے کا اشتیاق دل میں لئے خاموش ہیں . کسی اجنبی سے ملاقات ٹہرے تو پہلے سے اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ یہ محبت کا آغاز ہو گا یا پچھتاوے کا.  ارد گرد بھانت بھانت کے سیاحوں کا ہجوم ہے . ادھر سے ادھر جاتے ، کرسیوں پر بیٹھے انتظار کرتے ، نیم دراز، کچھ فرش پر سوتے، دکانوں میں خریداری کرتے، ریستورانوں میں کھاتے پیتے یا محض فون کو  تکنے میں مصروف . ہر چہرہ ایک کہانی. ہر منظر زندگی کے  ڈرامے کی جھلک .  وہ سامنے دو نوجوان لڑکیوں کا آپس میں گلے مل کر دوستی کی تجدید .  ادھر کونے میں عمر رسیدہ رفاقت کا مسکرا کر محبوب شانہ تھپتھپانا  . شاید بدن کی بولی ہی ہم انسانوں کے جذبوں کی بنیادی ترجمان  ہے . ممکن ہے جب وسائل تسخیر ہو چکے ہوں، جنگیں ممکن نہ رہیں تو بدن بولی  مجسم محبت بن جاے .  خدشہ یہ ہے کہ انسانی تنگ نظری پہلے ہی کوئی کاری وار نہ کر جاے .  آفاقی محبت اور انصاف کی دریافت سے پہلے یہ دنیا ماحولیاتی یا ایٹمی تباہی کا شکار نہ ہو جاۓ . چلیے اٹھیے بارسلونا جانے والی ایزی جیٹ کی فلائٹ کی روانگی کا اعلان ہو چکا.   بوئنگ سیون تھری سیون کے طیارے میں یہ برابر کی سیٹیں خاصی آرامدہ ہیں . تو جناب آپ کو میرے ساتھ خوبصورت ساحل اور حیران کر دینے والے تعمیراتی حسن سے سجے شہر بارسلونا کو روانگی مبارک ہو . سپین کے صوبےکیٹلونیا کا دارالحکومت بارسلونا جو میڈیٹرینین کے حسین ساحل پر پیرونیز پہاڑیوں کے دامن میں آباد ہے .  انیس سو بانوے کے اولمپکس نے اس شہر کی آرائش میں بے حد اضافہ کیا تھا  . یہاں کے باغات اور ساحل سمندر کی از سرنو تعمیر اور آرائش نے اسے دنیا بھر کے سیاحوں کا محبوب شہر بنا دیا ہے  . آبادی کے لحاظ سے سپین کا دوسرا بڑا شہر ہے یہ . اس  کے کوچہ و بازار انیسویں صدی کے موڈرنسٹ ماہر تعمیرات انٹونیو گاوڈی کے کمال فن کی یاد دلاتے ہیں .  انہیں عمارتوں میں سے ایک مشہور زمانہ چرچ سگراڈا فمیلیا ہے جسے بارسلونا کی علامت کہا جائے تو غلط نہ ہو گا . لندن سے چلی یہ فلائٹ دو گھنٹے طویل ہے . آپ کچھ دیر آرام کر لیں . کیا کہا آئس ٹی پیئں گے آپ . یہ بجٹ ایئر لائن ہے جناب . نکالیے تین یورو .  دیکھیے پتہ بھی نہیں چلا اور اب طیارہ لینڈ کرنے کے لیے فضا میں چکر لگا رہا ہے .  نیچے دور تک پھیلا نیلا سمندر ہے اور کہیں کہیں  نظر آتے بحری جہاز . وہ دیکھیے ساحل سمندر کے کنارے ہلکی اونچی پہاڑیوں میں بکھری چھوٹی آبادیوں کے آثار . جہاز اور نیچے آیا تو پہاڑیوں کے دامن میں دور تک پھیلے کھیت اور سبزہ زار نظر آ نے لگے  . طیارہ موڑ مڑ کر لینڈنگ کے لئے مزید اترائی کرنے لگا تو سمندر کے کنارے آباد بار سلونا کی جدید بندرگاہ  کا منظر کھلا . اپنی اپنی برتھ پر لنگرانداز رنگ برنگے چھوٹے بڑے بحری جہازوں کی قطاریں اور اتارے ہوۓ کنٹینرز سے سجے وسیع میدان . پھر کچھ اورکھیت اور مکانات اور پھر رن وے سے پہلے گھاس کا میدان . پہیوں نے گڑگڑاہٹ کے ساتھ زمین کو چھوا اور اب ہم بارسلونا  ائیرپورٹ پر اتر چکے ہیں .  جہاز سے باہر ایک بس ہمارا انتظار کر رہی ہے . مسافر سامان سمیت بیٹھ چکے تو کوئی آدھا میل دور امیگریشن لاؤنج میں پہنچے . لائن زیادہ لمبی نہیں . تقریبا بیس منٹ بعد باری آئی . امیگریشن کے مرحلے کے بعد کسٹمز کے گرین  چینل سے گزر کر رخصتی ہال میں داخل ہوے . ہوٹل پوھنچنے سے پہلے رات کے کھانے کا انتظام بھی کر لیا جاے تو مناسب ہو گا کیونکہ بکنگ میں صرف ناشتے کا وعدہ ہے دیگر کھانوں کا نہیں .  اچھا کیا آپ نے ہال کے کونے میں بنے کیفے سے ٹونا سینڈوچ ، سلاد ، ڈينش پیسٹری اور پانی کی بوتلیں خرید کر . یہ ٹیکسی تو بہت آرام دہ ہے .  ائیرپورٹ کی حدود سے باہر نکلتے ہی ہائی وے پر فراٹے بھرنے لگی . کھڑکی سے باہر تو ذرا دیکھیے .  تین طرف ہلکی پہاڑیوں اور ایک جانب ساحل سمندر سے گھرا اسپین کا جدید شہر بارسلونا کہ رہا ہے خوش آمدید ………… جاری ہے

سائکل سوار ، گیارہواں اور آخری انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Cyclist , INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 10, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

Posted by: Shariq Ali
retina

Every Dutch person averagely owns two bikes and there is 32,000 km of cycle paths in Holland

 

 

سائکل سوار ، گیارہواں اور آخری انشاء ،  ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

پردہ سرکایا اور کھڑکی ذرا سی کھولی تو دھوپ کے ساتھ تازہ ہوا کے جھونکے نے کمرے کی خوابناکی رخصت کر دی . آج  ہالینڈ میں ہمارے قیام کا آخری روز ہے . فلائٹ شام چھ بجے کی ہے لیکن ہوٹل سے چیک آوٹ دوپہر بارہ بجے سے پہلے ضروری . پہلے تو اطمینان سے کمرے میں ہوف ڈورپ سے لاے کروزوں ، تازہ پھلوں اور کمرے میں موجود چاے اور کوفی سے ناشتے کا مرحلہ طے کیا گیا . پھر طویل رخصتی شاور کے بعد پیکنگ اور صحیح وقت پر چیک آوٹ اور سٹی ٹیکس کی ادائیگی سے فراغت پائی. سامان لگیج روم میں رکھوا کر ٹوکن لئے . ساڑھے تین بجے والی ائیرپورٹ شٹل بک کروائی اور ہوٹل سے کراۓ پر سائیکلیں لیں . ہدایات ملیں کہ صرف سائیکل ٹریک پر رہیں . ہیڈ فونز کا استعمال نہ کریں اور ہیلمٹ ضرور پہنیں . سائکلیں تو خوب لگتی ہیں یہ . تو پھر نکالیے اسٹینڈ سے اپنی نیلی اور میری سبز سائکل .  ہوٹل کے پیچھے وسیع مرغزار  کی سیر کو چلیں . جی نہیں آپ کا ان دو ڈچ لڑکیوں سے مسلسل قریب سائکل چلانا ٹھیک نہیں . بھائی وہ دونوں سہیلیاں ذاتی پکنک پر نکلی ہیں تیز دھوپ میں کیژول لباس پہنے . آپ بس میرے ساتھ سیر پر اکتفا کیجیے . وہ دیکھیے دائیں جانب کی جھیل میں کھلے کنول کے دل نشیں پھول .  دنیا بھر میں سائیکل سواری میں سر فہرست شہر تو کوپن ہیگن ہے لیکن ایمسٹرڈیم کا نمبر دوسرا ہے . یوں لگتا ہے سائکل سواری اس ملک میں رہنے والوں کی نفسیات کا حصّہ ہے . اس قدر مقبولیت کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کے پورا ملک اس مشغلے کے لئے ایک بڑا سا سر سبز اور سازگار میدان ہے . پہاڑی نشیب و فراز نہ ہونے کے برابر ہیں  . اب تو یہاں الیکٹرک سائکلیں یا  ای بائیکس بھی بہت مقبول ہو رہی ہیں .  خاص طور پر بوڑھے لوگوں میں . کیونکہ یہ آسان اور کم خرچ سفر ممکن بناتی ہیں.  ہے تو حیرت کی بات مگر سچ ہے کہ صرف ایمسٹرڈیم میں روزانہ دو سو سائیکلیں چوری ہوتی ہیں. اسی لئے بہت سے لوگ کام پر آنے جانے کے لیے پرانی سائیکلیں استعمال کرتے ہیں .  لیکن آپ کی ان سہیلیوں کی طرح چھٹیوں میں سیر کے لئے نئی نویلی سائکلوں پر نکلتے ہیں . دونوں جانب گھنے درختوں اور گھاس سے ڈھکے میدانوں میں جا بہ جا بکھری چھوٹی جھیلوں کے بیچ سے گذرتے اور  بل کھاتے سائکل ٹریکس بالاخر ہمیں ایک بڑی سی  جھیل کے ریتیلے ساحل پر لے آے ہیں. یوں لگتا ہے جیسے ہم سمندر کے کنارے آ پوھنچے ہوں .  غور و فکر کے لئے کس قدر حسین جگہ ہے یہ . ہو سکتا ہے اسپائی نوزا  نے ایسے ہی خوبصورت گوشوں میں بیٹھ کر انسانی مسرت اور اخلاقیات کے فلسفے  پر غور و فکر کیا ہو . کیا کہا . آپ متوجہ نہ تھے ؟ یورپی ساحل کی بلخصوص زنانہ چہل پہل سے آپ کی توجہ فلسفے کی طرف موڑنا کوئی آسان کام تو نہیں . اسپائی نوزا  کے پرتگالی یہودی بزرگ مذہبی منافرت سے بھاگ کر ہالینڈ میں آباد ہوے تھے .  وہ سولہ سو بتیس میں ایمسٹرڈیم  میں پیدا ہوا اور صرف سینتالیس سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گیا . پھر بھی اس کا شمار سترھویں صدی کے عظیم فلسفیوں میں ہوتا ہے . فکری انداز بے حد آزاد خیال تھا . جب اس نے کہا کہ کائناتی نظام خدا کے وجود سے جڑا ہوا ہے اور بائبل اور تورات صرف تمثیلی وضاحتیں ہیں تو یہودی عالموں بلکہ خاندان والوں نے بھی اسے صرف تیئیس سال کی عمر میں مذہب اور گھر سے بے دخل کر دیا . وہ شیشے کے عدسے گھس کر روزی کماتا رہا . اس کے خیال میں قدرت اور کائنات ہی وجود الہی ہیں. . گویا وہ وحدت الوجود کا حمایتی ہے. وہ کہتا ہے کائنات میں نہ خیر ہے نہ شر بلکہ محض وجود ہے.  یہ انسانی ذہن کی کارستانی ہے جس نے الفاظ کی مدد سے صحیح اور غلط کا تعین کر رکھا ہے . اس کی راے میں انسان اپنی فطرت کے تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہو تو وہ آزادی اور خوشی سے قریب تر ہو جاتا ہے اور جب وہ دوسرے لوگوں یا سماج  کے زیر اثر زندگی گزارتا ہے تو وہ حقیقی مسرت سے دور ہو جاتا ہے . مسرت اپنے بنائے ہوئے خیر کے تصور یا خدا سے قریب تر ہونے کے سوا کچھ اور نہیں . چلیے اٹھیے اب سائکلیں اٹھا کر واپسی کی فکر کریں . کیا کہا بھوک سے بے حال ہیں آپ . فکر نشتہ .  میں نے ہوٹل سے متصل بولنگ ارینا میں ایک گھنٹے کا بولنگ مقابلہ اور ساتھ ہی لنچ کا بہترین انتظام کر رکھا ہے آپ کے لئے . پھر ہوٹل پوھنچ کر سائکلیں واپس اور سامان اٹھا کر شٹل سروس میں ائیرپورٹ روانگی…….. اختتام

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,728 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina