retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

فبنگ سے چھٹکارہ ، فکر انگیز انشے Phubbing, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
November 12, 2018
retina

The habit of snubbing someone in favor of a mobile phone is common, very annoying and can harm your relationships. Let’s get rid of it

 

 

فبنگ سے چھٹکارہ ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

کمپیوٹر اور موبائل فون جیسی سہولتوں نے ہماری زندگی کو بہت آسان بنا دیا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ ایسے نئے مسائل کو  بھی جنم دیا ہے جو ہماری خاندانی اور سماجی زندگی پر منفی انداز سے اثر انداز ہو رہے ہیں . انہی میں سے ایک مسئلہ فبنگ کہلاتا ہے ۔ فبنگ سے مراد ہے  ایسی سماجی صورتِ حال جس میں کوئی شخص دوران گفتگو مخاطب کے بجائے اپنی توجہ موبائل فون کی سکرین پر مرکوز رکھتا ہے ۔ظاہر ہے کہ ایسی صوتِ حال انسانی رشتوں کے درمیان دیوار کھڑی کر سکتی ہے ۔ انسانی مسرتوں میں سب سے اہم وہ خوشیاں ہیں جو ہم اپنے خاندانی رشتوں، اپنے دوستوں اور دیگر سماجی رشتوں کے حوالے سے حاصل کرتے ہیں. ان رشتوں کو برقرار  رکھنے میں ایک دوسرے سے مخاطب ہونا ایک دوسرے  پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھنا انتہائی اہم ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق جب عام لوگوں سے اس بارے میں رائے لی گئی تو اُن میں سے چھیتر فیصد لوگوں نے فبنگ کو ایک منفی عادت قرار دیا اور وہ سب اس مسئلہ کے حل پر زور دیتے ہیں. ہو سکتا ہے کہ ہمارے پاس یہ بہانہ ہو کہ ہم  اپنی توجہ کو اسمارٹ فون پر مرکوز رکھ کر مسلسل سیکھتے رہتے ہیں . لیکن کیا ہم  یہ بھاری قیمت ادا کرنے پر راضی ہیں کہ ہمارے خاندان کے افراد ، ہمارے دوست اور وہ سماجی رشتے جو ہمارے لیے اہم ہیں اس عادت کا شکار ہو جائیں؟   اگر نہیں تو آئیے فبنگ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کچھ تجاویز پر نظر ڈالیں ۔ پہلا کام تو یہ کیجیے کہ وہ تمام سوشل پلیٹ فارمز جو آپ استعما ل کرتے ہیں مثلاََ فیس بُک ، ٹویٹر، انسٹاگرام یا ای میل وغیرہ ، اُس کی سیٹنگز میں جا کر اپنے نوٹیفیکیشنز کو محدود کرتے چلے جائیے اور صرف اہم نوعیت کے نوٹیفیکیشنز کے لیے اجازت دیجیے ۔ بہت سے غیر ضروری نوٹیفیکیشنز نہ صرف آپ کے موبائل کی بیٹری خرچ کر دیتے ہیں بلکہ آپ کی توجہ کو بھی منفی انداز سے استعمال کرتے ہیں . پھر میسجز کے لیے تمام پِری ویوز کو بند کر دیجیے.  ایسے تما م میسجز آپ نہ صرف ایک مخصوص وقت میں پڑھ سکتے ہیں بلکہ اُن کا مناسب جواب بھی لکھ سکتے ہیں۔ تیسری تجویز اور وہ یہ کہ جب بھی آپ کسی اہم خاندانی مصروفیت خاص طور پر ساتھ کھانا کھانے میں مصروف ہوں تو آپس میں طے شدہ اصول کے تحت موبائل فون کے استعمال کو قطعی طور پر ممنوع قرار دیجیے ۔ عادت ڈالیے کہ جب آپ صبح اُٹھتے ہیں تو فوراََ ہی اپنے موبائل فون کی طرف  نہ لپکیں ۔ اس کے بجائے آپ بستر میں لیٹے لیٹے کچھ دیر کے لیے اپنے آنے والے دن کے متعلق سوچ سکتے ہیں.  مثلاََ یہ کہ اُسے بہتر اور منظم طور پر کیسے گذارا جائے ۔ اس طرح آپ کے دن کا آغاز پُرسکون انداز میں ہو گا ۔ میری ذاتی رائے میں آپ اپنے موبائل فون کے لیے پورٹ ایبل چارجر خریدنے سے پرہیز کیجیے ۔یقین جانیے اگر آپ کے فون کی بیٹری ختم ہو گئی تو دنیا جُوں کی تُوں چلتی رہے گی.  اگر آپ کو نوٹیفیکیشنز میسجز یا اپ ڈیٹس پڑھنے میں کچھ تاخیر ہو جائے تو کوئی قیامت نہ ٹوٹ پڑے گی ۔ اطمینان سے اُس وقت کا انتظار کیجیے کہ جب آپ کو چارج کرنے کے لیے مناسب پلگ دستیاب ہو.  ایک لمحے کے لئے اپنے چشمِ تصور میں وہ منظر لائیے کہ جب کوئی شخص کسی سماجی صورتِ حال میں اپنی توجہ مخاطب کے بجائے اپنے اسمارٹ فون کے سکرین پر ڈالے رکھتا ہے تو وہ کتنا سطحی اور احمق دکھائی دیتا ہے ۔ ایک ایسا شخص جو انسانی رشتوں کی اہمیت کو سمجھتا ہی نہیں.  حقیقت یہ ہے کہ موبائل فون اور کمپیوٹر کے حوالے سے ہمارا سوشل نیٹ ورک ہماری اصل زندگی نہیں۔ بلکہ زندگی کا صرف ایک مختصر سا حصہ ہے.  ہمارے ارد گِرد موجود زندہ انسانی رشتے ہماری اصل خوشیوں کا باعث ہیں ۔ اب آپ سے اجازت—– ویلوورسٹی، شارق علی

 

 

 

پروفیشنل کی دس خوبیاں ، فکر انگیز انشے Ten habits of professionals, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Professionalism is a set of values such as competence, trustworthiness, respect, and accountability. It should not be confined to a few kinds of professions

 

 

 

پروفیشنل کی دس خوبیاں ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

 ہم چاہے کوئی بھی کام کرتے ہوں اگر لوگ اس کام کے حوالے سے ہمیں با ہنر اور اہل سمجھتے ہیں ،  ہم پر بھروسہ کرتے ہیں اور ہمیں اس کام کی وجہ سے ان کا احترام حاصل ہے تو ہم پروفیشنل ہیں۔ کام کی نوعیت کیسی بھی کیوں نہ ہو، کارکن کا رویہ اُس کے کام کو پروفیشنل بناتا ہے. آئیے دس ایسی خوبیوں پر نظرڈالیں  جن کی موجودگی یا غیرموجودگی اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ کوئی کارکن پروفیشنل ہے یا نہیں؟ . ۔سب سے پہلی بات تو ہے قابلیت. یعنی جو کچھ بھی ہم کر رہے ہیں ہم اُس کے بارے میں ضروری معلومات اور مہارت رکھتے ہیں یا نہیں.  اور اس بات کا اظہار ہمارے کام کے انداز سے ہوجاتا ہے ۔  قابلیت مسلسل محنت، اچھی عادات اور خلوص نیت سے حاصل ہوتی ہے . دوسری خوبی ہے اعتماد . یعنی کیا کام کے سلسلے میں دوسرے لوگ ہم پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنا کام وقت پر مکمل کر سکیں گے یعنی ہم کس قدر قابل بھروسہ ہیں ؟ تیسری خوبی ہے دیانت داری.  کیاہم کام کے حوالے سے سچ بات کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ، حقائق کا سامنا کر سکتے ہیں اور اُس بارے میں جسے بھی اطلاع فراہم کرنا ہو جھجکتے تو نہیں؟ چوتھی خوبی ہے اخلاقی استقامت.  یعنی کیا ہم کچھ اخلاقی اصول رکھتے ہیں اور اُن کی پابندی کو اہم سمجھتے ہیں؟ یا تبدیل ہوتی ہوئی صورت حال کے ساتھ مفاد پرستانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں؟ تو گویا اخلاقی استحکام رکھنا پروفیشنل ہونے کے لیے بہت ضروری ہے ۔پانچویں خوبی  ہے دوسروں کا احترام کرنا.  ایک پروفیشنل ہمیشہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بہتر سلوک کرتا ہے اور اپنے ساتھی پروفیشنل کے بارے میں کوئی منفی بات کہنے سے اجتناب کرتا ہے ۔ چھٹی خوبی ہے مسلسل سیکھنا.  آج کل ہر کام سے متعلق علم اور مہارت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے.  ایک پروفیشنل مسلسل سیکھنے اور اس پر عملدرآمد پر یقین رکھتا ہے . ساتویں خوبی ہے مثبت طرز فکر. وہ لوگ جو کسی بھی صورت حال کے روشن پہلو کو نظر میں رکھتے ہیں اور اپنے رویے اور گفتگو میں اُس کا اظہار کرتے ہیں ایک پروفیشنل کی حیثیت سے اُن کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے . آٹھویں خوبی ہے دوسروں کی مدد . ایک پروفیشنل ہمیشہ اپنے ساتھیوں کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے. وہ اپنے کام کے آغاز کے لیے وقت پر پہنچتا ہے اور اپنے حصہ کے کام کو مناسب طور پر سرانجام دینے کی مسلسل کوشش کرتا ہے.  باہمی مدد کے بغیر ظاہر ہے کہ کوئی بھی بڑا کا م ممکن نہیں۔ نویں خوبی ہے کام پر مرکوز توجہ.  ایک پروفیشنل آدمی اپنی ذاتی زندگی کو اپنے کام کی زندگی سے علیحدہ رکھنے کے قابل ہوتا ہے . یعنی اُس کی ذاتی پسند اور نا پسند اور خیالات اُس کے کام میں کسی صورت حائل نہیں ہوتے . اُس کی مکمل توجہ کام پر مرکوز رہتی ہے . ۔دسویں اور آخری خوبی ہے سننے کی صلاحیت.  وہ پوری  توجہ اور خلوص کے ساتھ دوسروں کے نکتۂ نظر کو سن سکتا ہے ، اُن کی ضروریات سے آگاہ ہوتا ہے. اُنہیں پورا موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے نکتۂ نظر کی وضاحت کر سکیں. دوستو ان خصوصیات کو اپنایے اور اپنے عزت و وقار میں اضافہ کیجیے ۔ ا ب آپ سے اجازت ….. ویلیوورسٹی، شارق علی

مطالعے کی عادت، فکر انگیز انشے Reading habit, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

“To acquire the habit of reading is to construct for yourself a refuge from almost all the miseries of life.” — W. Somerset Maugham

 

مطالعے کی عادت، فکر انگیز انشے، شارق علی

اکثر لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ ان کا کام ، تعلیمی یا گھر یلو مصروفیات اس قدر زیادہ ہیں کہ مطالعے کے لیے وقت ہی نہیں ملتا ۔ آج میں کچھ سادہ سے اقدامات کی نشاندہی کروں گا جن کی مددسے آپ زندگی کی ایک خوشگوار نعمت یعنی مطالعے کی عادت سے لُطف اندوز ہوسکتے ہیں. کسی بھی اور کام کی طرح مطالعے کے لیے بھی اندرونی جوش کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ تبھی میسر ہوگا جب ہم ایسے موضوعات پر کتابیں پڑھیں کہ جو ہمارے دل سے بہت قریب ہیں.  اگر یہ موضوعات آپ کے ذہن میں واضع نہیں تو کسی کتاب کی دوکان میں چلے جائیے اور کتابوں پر لکھے ٹائٹل اور اس کی پُشت پر درج مختصر تعارف کو بغور پڑھیے. یوں کتابوں کو اُلٹ پُلٹ کر دیکھنے کی عادت آپ کو اپنے پسندیدہ موضوعات سے روشناس کر دے گی.  آپ آہستہ آہستہ جان جائیں گے کہ آپ کو تاریخ، سیاسیات، سائنس، معاشیات یا ادب، کس نوعیت کی کتابیں زیادہ پسند ہیں اور آپ کس شعبے کے راستے سے اپنی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ انسانی اور سماجی صورتِ حال میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں تو شاید ادب پڑھنا آپ کے لیے مناسب ہو گا ۔ انسانی المیے، فتوحات خوشی اور غم کو سمجھنے کے لیے اور سچ کی صورتِ حال سے قریب تر ہونے کے لیے ادب کا مطالعہ بے حد مدد گار ثابت ہو سکتا ہے ۔ لیکن حالات ِحاضرہ سے واقف ہونا بھی بے حد ضروری ہے اس لیے اخبار یا اخباری سُرخیوں کا مطالعہ یا  تازہ خبریں ضرور سنیں . اس سے آپ کو وہ بنیادی معلومات بھی حاصل ہوں گی جن کی مدد سے آپ کسی سنجیدہ گفتگو میں شریک ہوسکتے ہیں. اپنے مزاج یا رجحان کے مطابق شعبے اور موضوع کا تعین کیجیے لیکن جو بات اہم ہے وہ ہے مطالعہ کی عادت. اور اس موضوع پر اپنے خاندان والوں یا اپنے دوستوں سے اظہار خیال کرنا ۔ان کی رائے لینا، ان سے پوچھنا کہ ان کے مطالعہ میں کونسی کتابیں ہیں. یہ بات آپ کے جوش میں اضافہ کرے گی۔ گفتگو کے دوران اگر کسی دلچسپ کتاب کا ذکر آئے تو اُسے عاریتاََ مانگ لینے میں بھی کو ئی حرج نہیں ۔ اگر آپ کسی لائبریری سے واقف ہیں تو وہاں کی سہولیات سے بھرپور فائدہ اُٹھائیے ۔ اگر آپ کسی شاپنگ سینٹر میں گھوم رہے ہیں اور آپ کو کچھ فُرصت میسر ہے تو کتابوں کی دُکان کا ضرور چکر لگائیے.  نئی کتابوں سے نہ صرف آپ کی شناسائی میں اضافہ ہو گا بلکہ مطالعہ کے سلسلے میں آپ کے جوش میں بھی ۔ اگر آپ کمپیوٹر ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں تو ایسی ویب سائیٹس آج کل بہت عام ہیں  جہاں سے آپ اپنی پسند کی کتابیں ڈائون لوڈ کر سکتے ہیں اور بغیر کوئی رقم خرچ کیے ۔ ایک اور تجویز جو بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بہت زیادہ عام نہیں لیکن اُس کی ابتداء کی جا سکتی ہے اور وہ ہے ’’ بُک کلب کا قیام‘‘ ۔ یعنی کچھ ہم خیال دوست ، محلے دار یا ایک ہی ادارے میں کام کرنے والے یا تعلیم حاصل کرنے والے لوگ ۔ ہفتہ واری نشست کا اہتمام کر سکتے ہیں جس میں وہ باری باری اپنی پڑھی ہوئی کتابوں کا مختصر تعارف پیش کریں ۔ جس طرح ہم اپنی زندگی میں آرزوئوں کی فہرست بناسکتے ہیں بالکل اُسی طرح ہمیں اپنی زندگی میں اُن کتابوں کی فہرست بنانا چاہیے کہ جو ہم پڑھنا چاہتے ہیں ۔ اپنے دن بھر کی مصروفیت کے کسی مخصوص وقت کو مطالعہ کے لیے وقف کیجیے . مثلاً میں سونے سے ذرا پہلے کم از کم پینتالیس منٹ مطالعہ میں ضرور گذارتا ہوں ۔ ہو سکتا ہے آپ کو اپنے کام کے مطابق کسی اور وقت مطالعہ کی فرصت مہیا ہوتی ہو لیکن وہ وقت ایسا ہونا چاہیے کہ جس میں بغیر توجہ ہٹائے آپ کا ذہن مطالعہ پر مرکوز ہو سکے۔ جب آپ پڑھیں تو پھر ڈوب کر پڑھیں. اپنی تمام ذمہ داریوں کو پڑھنا شروع کرنے سے پہلے نبھا لیجیے تاکہ جب آپ مطالعہ کر رہے ہیں تو توجہ کو مرکوز کر سکیں . آپ چاہیں تو اپنے فون یا کنڈل ڈیوائیس پر الیکٹرانک کتابیں بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ اس کے بہت سے فائدے ہیں.  ایک تو ہر جگہ بھاری کتابیں اُٹھا کر لے جانے کی ضرورت نہیں.  پوری لائبریری آپ کی جیب میں موجود ہے.  اور پھر یہ بے حد کم قیمت بھی ہیں۔ بلکہ اکثر اوقا ت مفت مہیا ہیں ۔ ای بُک کے حوالے سے ایسے کئی ایپس مہیا ہیں جو آپ کے پڑھنے کی رفتار کو بے حد تیز رفتار بنا سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ صرف انگریزی میں مہیا ہیں ۔ میں ذاتی طور پر تیز پڑھنے سے زیادہ غوروفکر کے ساتھ پڑھنا پسند کرتا ہوں لیکن یہ میرا ذاتی انداز ہے بعض لوگ تیزی سے پڑھ کر بھی مفہوم سمجھنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ان چند تجاویز کے بعداب آپ سے اجازت ——- ویلیوورسٹی ، شارق علی

انسانی حقوق ، فکر انگیز انشے Human rights, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Everyone has the right to life, education, choice of religion, equal justice, freedom of opinion and expression and so on. What shall we do if see otherwise?

 

 

انسانی حقوق ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

ہم سمیت ہروہ شخص جو اس دنیا میں سانس لے رہا ہے چاہے وہ کسی بھی صنف ، نسل، قومیت ، مذہب، فرقے ، یا عقیدے سے تعلق رکھتا ہو اور اُس کی سماجی حیثیت یا پہچان کچھ بھی ہو وہ بنیادی انسانی حقوق کا حقدار ہے ۔ کسی فرد یا اکثر یتی گروہ یا حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یہ بنیادی حقوق سلب کر سکے ۔ ویسے تو اس سلسلے میں بین الاقوامی قوانین بھی موجود ہیں لیکن ہر فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان حقوق سے آگاہ ہو اور ان کا تحفظ اور دفاع کر سکے ۔ ۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ نے بنیادی عالمی حقوق کی فہرست جاری کی تھی مثلاَ زندگی، مساوات اور آذادی کا حق ، تعصب ، غلامی اور تشدد سے تحفظ ، قانون کے سامنے برابری، منصفانہ عدالتی سہولت ، اپنے ملک کے ہر گوشہ میں گھومنے کی آزادی ، شادی کرنے، خاندان کی تشکیل اور جائیداد بنانے کا حق ، اپنی سوچ کے مطابق مذہب اختیار کرنے کا حق ، سیاسی رائے رکھنے اور اُس کے اظہار کا حق، فہرست بہت طویل ہے لیکن آپ کے ذہن میں بنیادی خاکہ بن چُکا ہو گا اس لیے میں مزید تفصیل سے پرہیز کروں گا. گویا ہر شخص سیاسی، معاشی اور مذہبی ترجیحات کا حق رکھتا ہے اور اُسے اپنی پسند اور ثقافت کے مطابق زندگی گذارنے کا حق حاصل ہے ۔ ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذات اور دیگر انسانوں کے لیے ان حقوق کا تحفظ ممکن بناے.  سب سے پہلی بات تو  ہے آگاہی اور یہ عزم کہ خود اپنے لیے اور دوسروں کے لیے ان حقوق کا دفاع کیا جاے ۔ میری اس مختصر سی تحریر کا مقصد یہ ہے کہ نوجوانوں میں اس موضوع پر تفصیلی مطالعہ کے جوش کو بیدار کیا جاے. انھیں بتایا جاے کہ اگر وہ چاہیں تو کسی قابلِ اعتماد انسانی حقوق کی تنظیم میں حصہ دار بن سکتے ہیں یا ایسی تنظیموں کے تحت ہونے والے کسی خاص موضوع پر جلسے میں شرکت کر سکتے ہیں.  یا پھر گھر بیٹھے ایسی قومی اور بین الاقوامی تنظیموں کی ویب سائیٹ کو وزٹ کر سکتے ہیں ۔ اگر آپ کسی خاص موضوع کے متعلق زیادہ حساس ہیں تو آن لائن پٹیشن میں حصہ دار بن سکتے ہیں . آپ ایسے سیاسی رہنمائوں کو زیادہ اہمیت دے سکتے ہیں جو انسانی حقوق کے حوالے سے واضع ایجنڈا رکھتے ہیں . اگر آپ اپنے ارد گرد انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتا دیکھیں تو اُسے تحریری طور پر انسانی حقوق کی تنظیموں تک پہنچا سکتے ہیں  لیکن اُس واقعہ کا وقت، مقام ، اور تاریخ اور اُس واقعہ میں شامل تمام افراد کا نام لکھنا انتہائی اہم ہے تا کہ کوئی عملی قدام اُٹھانا ممکن ہو سکے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایسی بہت سی تنظیمیں موجود ہیں مثلاَ ایمنسٹی انٹرنیشنل ،  ہیومن رائیٹس ایکشن سینٹر ، چلڈرنز ڈفینس فنڈ  اور بہت ساری اور.  یہ ادارے اگر مسلہ بہت سنجیدہ ہو تو اسے اقوامِ متحدہ تک لے جا سکتے ہیں ۔ اگر آپ اس بارے میں بہت پُرجوش ہوں تو انسانی حقوق کے حوالے سے سماجی کارکن بن سکتے ہیں یا قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسی شعبے میں اعلی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں ۔ کاش ایسا ہو سکے کہ ہمارے اعلی تعلیم یافتہ نوجوان جو انسانی حقوق کے تحفظ کا شعور رکھتے ہیں سیاسی کارکن بن کر قانون ساز اسمبلیوں تک پہنچ سکیں تا کہ وہ صیح معنوں میں انسانی حقوق سے آراستہ معاشرہ تشکیل دے سکیں. موجودہ صورت حال میں اس خواب کی تعبیر میں ابھی بہت سال باقی ہیں……………ویلیوورسٹی ، شارق علی

موازنہ ، فکر انگیز انشے Comparison, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Comparing can create negative emotions such as animosity, resentment, and jealousy. Living with this attitude can compromise our happiness and sense of peace. Can we stop it?

 

موازنہ ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

آج کل کے جدید دور میں موازنہ کرنے سے باز رہنا بہت مشکل ہے ۔ کسی حد تک تو یہ بات درست ہے کہ ہم دوسروں کے مقابلے میں بہتر ہونے کے لئے خود کو پرکھیں.  لیکن اگر ایسا کرنے میں ہم محرومیوں کی طرف زیادہ توجہ دیں اور اپنی زندگی کے مثبت پہلوئوں کو نظر انداز کر دیں تو ہمیں اپنے بارے میں ناخوشگواری کا احساس ہو گا . یہ بات آہستہ آہستہ نفسیاتی کمزوری کا سبب بنے گی. ایسے منفی موازنے سے خود کو روکنا بہت ضروری ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہم موازنہ کرتے ہی کیوں ہیں؟ کہیں اس کی وجہ اعتماد اور خود احترامی میں کمی تو نہیں ؟ ذرا دیر کو  اپنے بارے میں اپنی رائے کو جانچئے ۔ کیا آپ خود کے بارے میں اچھا محسوس کرتے ہیں ؟ یا اچھا محسوس کرنے کے لیے ہمیشہ دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں؟  کیا  آپ کا  دوسروں سے موازنہ کرنے کا رُجحان مثبت ہے ؟ یعنی آپ اُن کی خوبیوں اور صلاحیتوں کو دیکھ کر اُن جیسا بننے  کی کوشش کرتے ہیں یا اُن کی زندگی کے مثبت پہلو آپ پر منفی اثرات مُرتب کرتے ہیں مثلاََ حسد یا  جھنجھلاہٹ ؟ بات سمجھنے کے لیے اگر آپ کو اپنی کیفیات قلمبند کرنا پڑیں تو ضرور کیجیے ۔ کوشش کیجیے کہ منفی موازنہ کے جذبات کی تہہ تک پہنچ سکیں ۔ ہو سکتا ہے آپ کو اپنے بچپن میں جانا پڑے ۔کیا آپ کو ہمیشہ اپنے بہن بھائیوں ، اپنے ہمجولیوں  سے موازنہ کر کے دیکھا گیا ؟ کیا آپ دوسروں کے مقابلے میں کم توجہ کی ذہنی کیفیت کا شکار رہے ہیں ؟ پھر ماضی سے آج میں آجائیے ۔ اپنی موجودہ زندگی اور اہلیت پر نظر کیجیے. ہر مثبت پہلو پر بغو ر نظر ڈالیے اور اسے بھی قلمبند کر لیجیے. وہ اہم کام جو آپ نے کیے . وہ دوستیاں جو آپ کو مُیسر آئیں ۔ وہ نعمتیں جو آپ کے ارد گرد موجود ہیں ۔ گویا زندگی کے وہ تمام پہلو جن کے لیے آپ شکر گزار ہو سکتے ہیں. یہ مثبت تجزیہ آپ کو خود سے  مہربانی کا رویہ مہیا کرے گا  ۔ زندگی کے قابو میں ہونے کا احساس دے گا  ۔ درست سمت متعین کرے گا  ۔ سوچ اور رویے میں تبدیلی کوئی آسان بات نہیں ۔ مگر یہ اہم ضرور ہے ۔ اسکی کُنجی خود ہمارے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ اگر ہم غورو فکر کے بعد عمل داری پر اور تبدیلی میں استحکام پر یقین رکھتے ہیں ۔ تو ہم ایسا کر سکتے ہیں ۔ سمجھ لیجیے کہ دوسروں کو اپنا آئیڈیل بنانا غیر حقیقی ہے ۔ کسی شخص کی کچھ خوبیوں کو اپنانے میں حرج نہیں لیکن مکمل طور پر خوبیوں کا مجموعہ کوئی بھی نہیں ہوتا . تقلید کے بجانے بہتر یہ ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو مسلسل سنوارا جاے ۔اگر ہم اپنے حالات میں مثبت پیش رفت کر رہے ہیں تو پھر ہمیں کسی سے موازنے کی کوئی ضرورت نہیں. خود اپنے رویے اور سوچ کو اپنی اقدار کی کسوٹی پر پرکھیں ۔ ضرورت ہو تو درستگی اختیار کر یں.  یہ بہت تعمیری بات ہو گی . دوسروں کی صلاحیت کو تسلیم کرنے ان سے رہنمائی حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں . لیکن دیانت داری کے ساتھ خود اپنی اقدار کی کسوٹی پر پورا اترنا ہی اصل کامیابی ہے . سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حد سے زیادہ وقت گزارنا موازنے کے حوالے سے منفی اثرات مُرتب کر سکتا ہے۔ اپنے مخلص دوستوں،  رشتہ داروں اور ہم خیالوں سے تعلق برقرار رکھنے کے لیے سوشل میڈیا کا مناسب استعمال ضرور کیجیے مگر حد سے زیادہ نہیں  . آپ سے اجازت ، اپنا خیال رکھیے گا. ——-ویلیو ورسٹی، شارق علی

کوسمک ببل باتھ ، فکر انگیز انشے Cosmic bubble bath, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

How vast is our Universe? Is it only a universe and not a multi-verse bubbling like a bubble bath? Who knows! But even what we know about cosmos is exhilarating, exciting and seemingly unbelievable

http://https://www.youtube.com/watch?v=xAP28dXPdYI&feature=youtu.be

کوسمک ببل باتھ ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

میری عمر کو ئی بارہ برس کی ہو گی جب ٹیلیویژن پر دکھائی جانے والی ایک دستاویزی فلم نے مجھے مسحور کر دیا تھا . نام تھا کوسموس اور پیشکش تھی کارل سیگن کی . میرے لیے یہ محض فلم نہیں بلکہ نئی دنیائوں کی سمت ایک حیرت انگیز سفر کا آغاز تھا .  آج اتنی زندگی گذر جانے کے بعد اور اتنے بہت سے عملی تجربات اور مطالعہ کے باوجود میں اس سوال کے جواب کی تلاش میں کہ کائنات کتنی وسیع ہے آج بھی اپنی حیرانی اور اپنے تجسس کو بچپن ہی کی طرح تروتازہ محسوس کرتا ہوں ۔ ہم سب کو کسی نہ کسی طو ر اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری کائنات بہت وسیع ہے لیکن اس کی عظیم الشان وسعت کا مکمل اندازہ لگانا ہم میں سے کسی کے بس میں نہیں۔ آئیے ایک مختصر سا سفر کرتے ہیں اس سوال کی سمت میں کہ ہماری کائنات کس قدر وسیع ہے؟  شاید سادہ لفظوں میں ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا کائنات کی لا محدود وسعتوں میں ہم کسی ایسے مقام تک پہنچ سکتے ہیں کہ جہاں ہمارے سامنے ایک دیوار ہو اور اُس پر لکھا ہو  یہاں سے آگے داخلہ منع ہے.  پھر ایسے کسی مقام تک پہنچنے کے بعد ہم اپنے ذہن کو یہ بات سوچنے سے کیسے باز رکھ سکیں گے کہ آخر اس دیوار کے پیچھے کیا ہے؟  اور کہیں معاملہ ایسا تو نہیں جیسا منیر نیازی نے کہا تھا  ع  اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو– میں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا.  ہم اس بات کو شاید ایک مثال کی مدد سے بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں.  ذرا دیر کے لیے تصور کیجیے کہ ہم کولمبس سے پوچھیں کہ کیا ہماری یہ دنیا لامحدود ہے یا کسی مقام پر پہنچ کر اس کا اختتام بھی ہوتا ہے ؟ سمندر میں مسلسل سفر کرتے رہنے کے بعد کوئی ایسا مقام کہ جہاں ایک عظیم الشان آبشار ہو اور جہاں سے اچانک ساری چیزیں نیچے کی طرف گرتی ہوں.  ہماری دنیا کا آخری مقام ۔  اُس زمانے کی انسانی سمجھ اور سائنسی معلومات کے تحت کولمبس شاید ہماری اس بات کا کچھ یوں جواب دے گا.  بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ ہماری یہ دنیا لامحدود ہے ۔ اگر ہم کسی ایک مقام سے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں تو شاید ہم تما م عمر سفر کرتے رہیں اور کبھی بھی اس اختتامی آبشار تک نہ پہنچ سکیں گے ۔ کولمبس کا دیا ہوا یہ جواب اپنے طور پر بالکل درست ہو گا کیونکہ وہ اپنے سمندری جہاز میں بیٹھ کر صر ف دو ڈای منشن میں اس دنیا کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے.  لیکن یوری گگارین کے لیے کہ جو ہماری انسانی تاریخ کا پہلا خلانورد تھا اس سوال کا جواب آسان ہے ۔ وہ اپنے خلائی جہاز میں بیٹھ کر چکر لگاتی ہوئی فٹ بال نما دنیا کو دیکھ سکتا ہے، اُس کے محدود ہونے کی تصدیق کر سکتا ہے ۔ تو کیا کائنات کی صحیح وسعت کا اندازہ لگانے کے لیے ہمیں چوتھے ڈائی منشن میں جانے کی ضرورت ہو گی ؟ اور کیا یہ ہمارے بس میں ہے؟  اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے اس امکان کو درست سمجھیں کہ ہم جس کائنات میں بستے ہیں وہ ایک تین ڈائی منشن والا بلبلا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے اندر رہتے ہوئے وہ ہمارے لیے لا محدود ہو گی ۔لیکن اس بات کو بھی خارج از امکان نہیں سمجھا جا سکتا ہے کہ ہماری کائنات واقعتا اور حقیقتاً لامحدود ہے.  اس موجودہ لمحے میں بہترین سائنسی تحقیق بھی ہمیں اس سوال کا جواب فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ لیکن وہ باتیں جو ہمارے سائنسدان بہت اعتماد کے ساتھ ہمیں اپنی کائنات کے بارے میں بتاتے ہیں ۔ وہ بھی کچھ کم حیرت انگیز نہیں . مثلاً یہ بات آج اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ہماری کائنات تیرہ اعشاریہ سات بلین سال پرانی ہے اور اس اندازے میں صرف ایک فیصد غلطی کا امکان ہے۔ ہماری اس کائنات میں ایک سو پچیس بلین سے زیادہ گلکسیس یا کہکشائیں موجود ہیں اور ان کا چوہتر فیصد حصہ ڈارک انرجی  پر مشتمل ہے ۔ بائیس فیصد ڈارک میٹر پر مشتمل ہے اور کائنات کا صرف چار فیصد حصہ مادی وجود رکھتا ہے یعنی ایٹم سے بنا ہو ا ہے.  تقریباً چودہ بلین سال پہلے جب ہماری اس کائنات کا آغاز بیگ بینگ کے ذریعہ سے ہو ا تو پہلے پہل یہ صرف ( توانائی کی ایک صور ت تھی. ستاروں اور کہکشاؤں جیسی مادّی  صورت حال تک پہنچنے کے لیے اُسے  ایک بلین سال تک انتظار کرنا پڑا ۔ صرف ہماری کہکشاں میں جسے ہم ملکی وے کہتے ہیں دو سو بلین ستارے موجود ہیں ۔ ہمارے سورج کو قائم ہوئے تقریباً پانچ بلین سال ہو چکے ہیں اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ پانچ بلین سالوں میں اختتام پذیر ہو جائے گا ۔ہماری یہ دنیا کہ جس میں ہم رہتے ہیں اور بستے ہیں صرف ساڑھے تین بلین سال پُرانی ہے  اور ایک اندازے کے مطابق ہماری اس دنیا میں زندگی کی تمام صورتوں کا اختتام اگلےدو بلین سالوں میں ہو جائے گا ۔ بگ بینگ سے لے کر آج تک ہماری یہ کائنات مستقل وسعت اختیا ر کررہی ہے اور ہر سیکنڈ میں اس کی وسعت میں پچپن سے اسی کلومیٹرز کا اضافہ ہو جاتا ہے ۔ شاید آپ یہ سوچ رہے ہوں کہ سائنسدان اتنے وثوق سے یہ سب دعوے کیسے کر سکتے ہیں۔ یوں تو اس کی ایک وجہ ریاضی اور تھیوریٹیکل فزکس میں ہماری شاندا ر کامیابیاں ہیں کہ جو اس موجودہ صدی میں ممکن ہو سکیں۔ انسانی تاریخ میں ایسی ترقی کی کوئی مثال اس سے پیشتر نہیں ملتی.  لیکن ان اندازوں کے معتبر ہونے میں  حبل ٹیلیسکوپ کا بھی بڑا حصہ ہے ۔ حبل نامی یہ سپیس ٹیلیسکوپ  انیس سو نوے میں خلائی شٹل کی مدد سے خلائی مدار میں بھیجا گیا اور یہ اپنے اعلی ترین اور پیچیدہ نظام اور انفرا ریڈ کیمرے کے ذریع ہمیں ایسی معلومات فراہم کر تا ہے کہ جن تک پہنچنا ہمارے لیے اس سے پہلے ناممکن تھا ۔  کیونکہ یہ ٹیلیسکوپ ہماری زمینی فضا کی حدوں سے باہر واقع ہے اس لیے یہ انتہائی واضع اور بہت دور تک کی تصویریں لینے کے قابل ہے ۔ یہ عظیم سائنسدان ایڈون حبل کے نام سے منسوب ہے جس نے ۱۹۲۰ء  میں یہ دریافت کیا تھا کہ ہماری ملکی وے سے باہر بھی ان گنت کہکشائیں موجود ہیں.  بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ بیگ بینگ جو ہماری کائنات کے وجود میں آنے کا سبب بنا کوئی تنہا واقعہ نہیں بلکہ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ایسے بہت سے بگ بینگ بہت سی کائناتوں کے وجود میں آنے کا سبب بنے ہوں.  گویا مکمل حقیقت ایک کائنات نہیں بلکہ بہت سی کائناتیں ہیں . ایک ایسے ببل باتھ کا تصور کیجیے کہ جس میں بہت سے بلبلے بنتے چلے جارہے ہیں اور کہیں کہیں ان میں بھرپور اضافہ دیکھنے میں آتا ہے لیکن کسی کسی مقام پر بہت سے بلبلے آہستہ آہستہ سکڑتے اور غائب بھی ہوتے جا رہے ہیں ۔ اگر ہماری کائنات کے علاوہ بھی دوسری کائناتیں موجود ہیں تو کیا اُن کے کائناتی اصول ہماری موجودہ فزکس کے اصولوں سے مختلف ہیں ؟  اور پھر اس بات کا بھی تو امکان ہے کہ اس ملٹی ورس کائناتی نظام میں ہماری کائنات کے تین ڈای منشن کے بالکل قریب ہی شاید صرف ایک ملی میٹر کے فاصلے پر ایک دوسری کائنات بھی موجود ہو مگر اُسے دیکھنا  یا اُس تک پہنچنا ہمارے بس میں نہیں کیونکہ ہم  چوتھی ڈای منشن کا شعور نہیں رکھتے ۔ مختصراً اگر ہم اکیسویں صدی کے سائنسدانو ں کے لیے چیلنجز کو بیان کریں تو شاید وہ ان دو سوالوں پر مشتمل ہوں گے ۔  کیا بگ بینگ اور ہماری کائنات کا وجود اور قیام کوئی تنہا واقعہ تھا؟  اگر ایسے کئی بگ بینگ اور کئی کائناتوں کا قیام ہوا تھا تو کیا ان میں موجود  فزکس کے اصول ایک ہی ہیں یا ایک دوسرے سے مختلف ؟ ان فکر انگیز سوالوں کے ساتھ ہی  آپ سے اجازت ——- ویلیو ورسٹی، شارق علی

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

16,916 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina