retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

مقابلے کی دوڑ ، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، چھٹا انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی SELECTION, GENESIS, PODCAST SERIAL EPISODE 6

Narration by: Shariq Ali
July 3, 2020
retina
Life and survival are a race of fierce competition. Why our cousins, Neanderthals, disappeared from the face of the earth? Whether it was violence or extinction by interbreeding with early modern human populations or failure to adapt to climate change. Mystery remains

 

 

جی آپ بھی یہیں آ جائیے سامنے صوفے پر . آج زن کوفی پر ریسٹ روم میں ہمارے ساتھ موجود نہیں . جیک نے بتایا ہے کہ وہ کسی ضروری کام میں مصروف ہے . سائکلو سے انسانی ارتقا کی کہانی کا اگلا ذکر بھی اور اس گرما گرم کوفی کا لطف بھی . سائکلو بولا . قدیم انسان غذا کی کمی کی وجہ سے مختلف ٹولیوں میں بٹ کرمشرقی افریقہ سے مختلف سمتوں میں ہجرت کر گیا تھا ۔ مشرق وسطی ، ایشیا اور یورپ کی جانب. روس کی سمت جانے والے الاسکا کے راستے امریکہ تک بھی پہنچے۔ آج کی دنیا میں جینیاتی اعتبار سے بہت سی مختلف قسموں کے لوگ افریقہ میں ملتے ہیں.  جیسے جیسے افریقہ سے دور ہوتے چلے جائیں ایک سی جنیاتی نسل کے لوگ زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں . ایسا محض اتفاقی طور پر نہیں بلکہ یہ بات قدیم انسان کی افریقہ سے مختلف سمتوں میں ھجرت کی نشاندھی کرتی ھے۔  لاکھوں سال پہلے دور دراز علاقوں میں ہجرت کی پر اسرارداستان کی یاد دلاتی ہے . آثار قدیمہ سے پتہ چلتا ہے کہ واحد باقی رہ جانے والی انسانی قسم ہومو سپینز سے قریب ترین نسل نیانڈراتھل آہستہ آہستہ مغربی یورپ تک محدود ہو کر رہ گئی تھی ۔ وہ تقریبا تیس ہزار سال پہلے پوری طرح اس دنیا سے معدوم ہوگئے. وہ آج کے موجودہ ملک جرمنی کی نیانڈرا وادی میں بسنے کی وجہ سے نیانڈراتھل کہلاے. کیا کہا آپ نے یہ میرے بائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ . اوہ یہ . یہ جو ہلکے اور گہرے نیلے بلکہ فیروزی رنگوں کے پھولوں کا گلدستہ اپ میرے ہاتھ میں دیکھ رہے ہیں یہ میں نے میڈنگلےکی پارکنگ میں لگی جھاڑیوں سے چنے ھیں۔ ان کا نام بہت  خوبصورت ہے۔ فورگٹ می ناٹ۔ یہاں ریسٹ روم میں تو نہیں ذرا تنہائی ہو تو آپ کو تفصیل بتاتا ہوں. سائکلو نے اپنی بات جاری رکھی . ماہرین نیانڈراتھل کے معدوم ہونے کی وجہ کے بارے میں اختلافی رائے رکھتے ہیں.  کچھ کا خیال ہے کہ اس کی وجہ ہومو سیپینز تھے اور کچھ موسمی تبدیلی کو زمہ دار ٹہراتے ہیں. ڈی این اے تحقیق سے یہ بات تو ثابت ہے کہ قدیم انسانی تاریخ کے کسی مقام پر افریقہ سے ھجرت کرنے والے ہومو سیپینز اور یورپ میں بسنے والے نیانڈراتھل کا آپس میں دوستی یا دشمنی کی صورت سامنا ضرور ھوا تھا ۔ کیوں کہ آج کے بہت  سے موجودہ انسانوں  کے ڈی این اے میں ایک سے چار فیصد نیانڈراتھل جینز پائی جاتی ہیں. یہ سچ ہے کہ زندگی ایک سنگدل مقابلے کی دوڑ ہے.  ہومو سیپینز نیانڈراتھل کے مقابلے میں زندگی کے بہت سے معاملات میں بہتر کارکردگی رکھتے تھے جن کے آثار قدیمہ ثبوت موجود ہیں۔ مثلا وہ دور دراز علاقوں سے غذا کے تجارتی تبادلے کر سکتے تھے جو انھیں قحط یا شدید موسمی حالات میں زندہ رکھنے کا سبب تھے ۔  اگرچہ نیانڈراتھل جسمانی لحاظ سے زیادہ طاقتور  تھے اور شدید سردی سے بہتر مقابلہ کر سکتے تھے . زیادہ تیز دوڑ سکتے تھے اور ان کا مغز اتنا ہی بڑا تھا جتنا کہ ہومو سپینز کا ۔ لیکن ان کے ہم عصر ہومو سپینز بہتر ٹیکنولوجی کا استعمال کرتے تھے۔ مثلا ان کے پاس ہڈیوں سے تراشی ہوئی ایسی سویاں تھیں جس سے جانوروں کی کھال سے لباس سی کر سردی سے بچاؤ گی بہتر صورت اختیار کی جا سکتی تھی۔ سیپیئنز کے ہتھیار اور اوزار بہتر نوعیت کے تھے. انکے پاس تیر اور کمان موجود تھے ۔ ان کی غذا  مختلف اجزا پر مشتمل تھی جب کے نیانڈراتھل ایک سی غذا کثرت سے استعمال کرنے کے عادی تھے۔ کیا ان کی آپس میں کبھی جنگ بھی ہوئی ؟ جیک نے پوچھا . سائیکلو بولا . سیپینز اور نیانڈرا تھل میں براہ راست جنگوں کے شواہد تو نہیں ملتے ۔ لیکن دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں ان کے صفحہ ہستی سے مٹ جانےکی۔ یا تو وہ دھیرے دھیرے ہومو سپینز کے ساتھ جنسی ملاپ کے زریعے مل جل کر آہستہ آہستہ مٹ گئے یا پھر کسی خوفناک جنگ اور دشمنی کی ایسی صورت بنی کے وہ اس دنیا سے مکمل طور پر غائب ہو گئے. پھر سائکلو بولا . آج کی گفتگو میں اس سوال پر ختم کرتا ہوں . بن مانس، چمپینزیز اور دیگر قدیم انسانوں جیسے ہومو ایریکٹس اور نیانڈراتھل وغیرہ اور ھم ہوموسیئپنس میں آخر کیا بنیادی فرق تھا کہ جس نے بلآخر ہمیں اس کرہ ارض کا حکمران بنا دیا؟ . کوفی کا دور تو ختم ہوا . آئیے میں آپ کو آپ کے کمرے تک چھوڑ آؤں . جی اب ٹھیک ہے . صرف میں اور آپ ہیں یہاں . میرے ہاتھ میں فورگیٹ می ناٹ کے اس گلدستے کی وجہ آج زینیا کے کمرے میں گجراتی تھالی کی دعوت ہے .  مجھے یوں خالی ھاتھ جانا اچھا نہ لگے لگا۔ اب آپ سے کیا چھپانا۔ میری سکالرشپ اتنی نہیں کہ میں کوئی مہنگا تحفہ خریدنے کی ہمت کر سکوں۔ ممکن ہے یہ نیلے پھول اسے تا دیر یادرہیں اور وہ یہاں کیمبرج میں ہمارا ساتھ اور دوستی کبھی نہ بھلا سکے۔… جاری ہے 

 

Train whistle. Grandpa and me. Podcast serial Episode 29

Posted by: Shariq Ali
retina

 

The train came out of the small tunnel. Curved around and crossed the bridge over the river. And then finally stopped at the Phoolbun station. We were sitting on a grassy patch under an apple tree. The location was so high that we could see most of the valley. We left the home early morning to take this hike on the slopes of Koh Ramz. When uncle saw Grandpa is getting short of breath, he decided that we all should take some rest for a while. Yani Apa said. The whistle of a train is a mixed emotion melody. Meeting and greeting, saying goodbye, the beginning and the end. It’s a symphony of human emotions. Uncle said. My childhood memory about the train journey is very colourful. White uniform of the guard. The red jacket of the porter. Multicoloured passengers’ flurry on the platform. This also includes the sound of a train whistle and accelerating wheels. And the unforgettable appetizing smell of the packed meals we used to carry with us. Grandpa smiled and looked at the train tracks and said. The train started on public transport in 1821. The preparation to launch the project continued for four years. The first train journey was between Stockton and Darlington in 1825. It was a revolution for the world. This miracle also arrived in the subcontinent. The British wanted to strengthen the economic, political and military grip. And Kolkata and Bombay businessman, promotion of their trade. Dwarka Nath, who was the grandfather of Tagore, invested in train service from Kolkata. The first regular train service began between Bombay and Thane in 1853. Yani Apa picked an unripe apple from the tree and said. Alas, I could leave the exam worry and ride the train from Siliguri to Darjeeling. How wonderful would it be to see the beautiful views of the plains? Passing through the tea gardens. Teak forests, lush green valleys and beautiful peaks of the Kanchan Jenga. I powered off the iPod and said. How nice would it be that once you have been to Darjeeling, then we both go to Norway together? Catch the Bergen Line train from Oslo to enjoy the snowy mountains of Northern Europe. What a joy for the eyes when our train passes through the majestic tunnels. And the beauty of the icy glaciers scattered along the way. Then I turned around and asked Grandpa. Do you have any dreams of a train trip? He replied in a sad tone. Now my dream is difficult to fulfil. Sit in the Khyber Pass and pass through time and history. Starting from Peshawar and ending at the Landi Kotal. There are three carriages behind a powerful steam engine. Travel distance is only thirty-two miles. The journey includes passing through rugged mountains. And witness the region’s thousands of years of history. The train crosses thirty-four tunnels and ninety-two bridges in such a small journey. It finally reaches its destination Landi Kotal at a height of three and a half thousand feet. It is so sad that because of the repeated flooding and short-sightedness of the policymakers, this amazing historical train journey is no longer possible since 2006… To be continued

بے کسی ، ابتدا سے آج کل، انشے سیریل ، پانچواں انشا ، ویلیوورسٹی، شارق علی Powerless, Genesis, PODCAST SERIAL EPISODE 5

Posted by: Shariq Ali
retina

See how helpless ancient humans were in comparison to the wild animals on this planet two million years ago 

 

 

یہاں مشرقی افریقہ کے اس گھنے جنگل کی جھاڑیوں میں چھپے کچھ سیکنڈ ہی گزرے ہوں گے کے زن نے ہاتھ کے اشارے سے خاموش رہنے کی ہدایت دی ۔ پھر سرگوشی میں بولی . وہ دیکھو غار میں چھپے چند لوگوں پر مشتمل قدیم انسانی گروہ جو ادھر ادھر دیکھتے ہوے باہر نکل رہے ہیں ۔ ان کے چہروں پر کس قدر خوف و ہراس ہے ۔ یہ تھوڑا سا بھی آگے بڑھتے ھیں تو پہلے ارد گرد کسی ممکنہ شکاری جانور کے اس پاس نہ ہونے کا یقین کر لیتے ہیں۔ چھپتے چھپاتے یہ کچھ دن پہلے شیروں کے ٹولے کے کیے  ظراف کے اس شکار کی لاش کی جانب بڑھ رہے جس کا گوشت تو شیر اور دیگر جانور پہلے ھی کھا چکے ھیں۔ اب تو صرف ڈھانچہ بچا ہے . وہ دیکھو اب وہ جراف کے ڈھانچے کی ہڈیوں کو اپنے نوکیلے پتھر کے اوزاروں سے چٹخ رہے ہیں. اور اب برآمد ھونے والے گودے کو چوس کر اپنی غذا حاصل کر رہے ھیں۔ کس قدر مجبور ،ذلت آمیز اور بے بس زندگی ہے ان کی. کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ ایک دن وہ اسی زمین پر راج کریں گے ؟  دانی نے ٹائم سپکس کی پاور آف کی اور میں اور زن بیس لاکھ سال قدیم ورچول ریلیٹی سے باہر آے . ہمارے چہروں پر ابھی تک خوف تھا . کچھ دیر ریسٹ روم میں خاموشی چھای رہی . پھر سائکلو بولا . کوئی بیس لاکھ سال پہلے ابتدائی انسان یعنی ھومینڈ نے مشرقی افریقہ سے مشرق وسطہ ، یورپ اور ایشیا کی سمت سفر کرنا شروع کیا تھا ۔ اور یوں مختلف حالات کا سامنا کرنے کی وجہ سے مختلف خصوصیات رکھنے والی نسلوں کی نشاندھی ممکن ھونے لگی۔ مثلآ نیانڈرا وادی میں رہنے والے مضبوط جسم والے نیانڈراتھل۔ ہماری آج کی باقی رہ جانے والی واحد موجودہ نسل ہومو سپینز  کے آباواجداد. ہومو سیپینز یعنی عقلمند انسان ۔ یا مشرقی ایشیا میں بسنے والے ہومو ایریکٹس جو  نسبتا زیادہ سیدھے کھڑے ہو سکتے تھے وغیرہ  ۔ انڈونیشیا کے قدیم جزیروں مثلا جاوا اور دیگر جزیروں پر جا بسنے والے ھومینڈز  مخصوص حالات کے زیر اثر دلچسپ انداز میں تبدیل ہوے. قدیم انسان جب انڈونیشیا پہونچے تو اتش فشانی دھماکوں اور سمندری سیلاب کے باعث بڑا زمینی خطہ چھوٹے جزیروں میں بٹ گیا۔ ان ہی میں ایک جزیرہ فلوریس بھی تھا۔ غذا کی کمی کی وجہ سے پہلے تو طویل قامت قدیم انسان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے کیونکے جزیرے پر غذا محدود تھی اور انھیں باقی رہنے کے لئے زیادہ غذا درکار تھی ۔ جبکہ چھوٹے قدکے لوگ کم غذا کے باوجود زندہ رہ سکے اور نسل در نسل تقسیم ہوکر بونے بن گئے۔ جن کا قد تین فٹ اور وزن محض سو پاؤنڈ کے قریب ہوتا تھا۔ فلوریس کے جزیرے پر سن دو ہزار چار میں ایسے قدیم انسانوں کے نو ڈھانچے ملے  جو اس واقعے کی سائنسی تصدیق کرتے ہیں. یہ ڈھانچے چوہتر ہزار سال پرانے ہیں . لیکن قدیم انسان دوسرے جانوروں سے اس قدر ڈرا سہما کیوں رہتا تھا ؟ میں نے .پوچھا. سائکلو بولا . دیگر جانوروں کے مقابلے میں قدیم انسان کے بھیجے کا سائز زیادہ بڑا تھا . لیکن اسے اس خصوصیت کی خاصی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی تھی۔ بڑے بھیجے کا مطلب تھا بڑا سر اور دو پیروں پر چلنے کی وجہ سے گردن اور پشت میں آرتھرائٹس کا کم عمری ہی میں ھو جانا۔ قدیم عورتوں کے پیلوس کا تنگ ہونا اور بڑے سر والے بچوں کی پیدائش کے دوران عورتوں کی زیادہ ہلاکتیں. پھر بڑا دماغ غذا سے حاصل شدہ زیادہ تر توانای خرچ کر دیتا تھا. اور اسی لیے ہاتھوں اور پیروں کے عضلات یعنی گوشت پوست اس قدر مضبوط نہ ہوتے تھے جیسا کہ دیگر شکاری جانوروں کے. شکار کرنے یا خطرے کی صورت میں فرار ہونے میں دیگر جانور قدیم انسان سے بھتر کارکردگی رکھتے تھے ۔ اسی لئے اسے جنگلوں اور غاروں میں چھپ چھپا کر اور پھل ، بیج ، سبزیاں اور دوسرے جانوروں کے بچے کھچے شکار کا گوشت کھا کر اپنی زندگی گزارنی پڑتی تھی. گویا بڑے  دماغ رکھنے والے قدیم انسان کو  آگ جلانا سیکھنے اور پتھر کے کچھ اوزار بنا لینے کے باوجود خوف اور بے کسی کی زندگی بسر کرنا پڑتی تھی …… جاری ہے

 

Inuka – Polar Bear. Grandpa & Me. Podcast Serial Episode 28

Posted by: Shariq Ali
retina

Inuka is the star of the Frozen Tundra of Singapore Zoo. In this story, enjoy the adventures of Polar bears in the arctic.

 

 

We both looked into each other’s eyes in the nose to nose proximity. Yani Apa was talking about her holiday in Singapore last year. On one side of the transparent glass wall were the spectators including me. On the other side was Inuka, busy swimming in an icy water-filled pool. He then stopped and stood in front of me for a second. Mine and his nose were touching the separating glass wall, and we exchanged an intimate gaze. Tundra is the name given to a section of Singapore zoo. The natural environment for the polar bears. A small artificial Arctic. Inuka was born there. He is the first polar bear born in a temperate country. When born, his weight was equal to two oranges. And now, twenty-three years later weighs about five hundred kilos. The world’s largest carnivore. Besides 20 kg of fish daily, he eats plenty of vegetables and fruits. He has a four-inch fat layer underneath thick white fur. This keeps the body warm in icy deserts and frozen oceans. In his lunchtime show, keeper throws five kilo live fishes into the water. Inuka’s masterful pursuit and the hunt of these fishes was a sight to behold. Before I watched this show, I had read the Polar Bear booklet. By the time we reached the hotel, I felt exhausted and sleepy. That night I had a strange dream. Somehow Inuka has escaped a clown-like life in the zoo. He is now a free soul in his home country of the Arctic. Our friendship continues. I wear skates, and he barefooted wanders miles in the snowy desert. Enjoy the exciting snowy wilderness, extremes of chilly weather and unique arctic landscapes. Inuka can smell the seal fish from a mile’s distance. Then we sit and wait on the ice rocks floating in the cool waters of the Arctic Ocean. When the seal fish, as big as Inuka, rises above the water level to breathe. He jumps and grabs the prey with forty-two dagger-shaped teeth in his jaw. Then Inuka and his companion polar bears enjoy their favourite food. Then wandering alone for hundreds of miles in the snowy desert in search of the next prey. Then on a cold moonlit night, I empathize with the sad reality of their lives. Climate change is melting the Arctic’s icy deserts and oceans. Hunting and procreation grounds are becoming tight for these Polar Bears. There are only two hundred thousand of them remaining in this world now. Countless perished because of the lack of hunt in icy deserts … To be continued

لوسی ، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، چوتھا انشا LUCY, GENESIS, PODCAST SERIAL EPISODE 4

Posted by: Shariq Ali
retina

Story of one of the most important fossils ever discovered. 

 

 

 

جی ہاں یہ ہے ہماری ہائی ٹیک لیب . بائیں جانب کے کمرے ہائی فیڈیلیٹی سیمیولٹرز کے لئے مخصوص ہیں. یہاں مختلف زیر تربیت ماہروں مثلا سرجن اور پائلٹ حضرات کو ورچویل ریلیٹی ٹریننگ ماحول مہیا کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب انفوٹیک اور بائیوٹیک ریسرچ کی سہولیات ہیں.  سامنے ریسٹ روم میں کوفی میکر کے ساتھ پڑے صوفےہماری محبوب بیٹھک ہیں۔ سائکلو کا پاور روم بھی پاس ہی ہے. وہ دیکھیے چاے کا کپ ہاتھ میں تھامے جیک اور اس کی تقریر . بھئی سائنس کے ہاتھوں ہم مظلوم طالب علموں کی زندگی کا بیڑہ غرق  ہونے کی تاریخ بہت پرانی ہے. فزکس سب سے پرانا مضمون ہے۔  چودہ اعشاریہ آٹھ بلین سال پہلے بگ بینگ کے آغاز سے لے کر آج تک تمام کائنات فزکس کے اصولوں کے زیر اثر رہی ہے۔ پھر جب ایٹم اور مالیکیول تشکیل پانے لگے تو کیمسٹری پیدا ھوی۔ ساڑھے چار بلین سال پہلے ہماری زمین ابتدائی شکل میں نمودار ہوئی تو جیولوجی اور تین اعشاریہ آٹھ بلین سال پہلے زندگی کی ابتدای شکل ڈی این اے اور پروکیریوٹس نمودار ہوے تو بائیولوجی۔ زن نے کہا . مجھے تو قدیم انسانوں سے شروع ہوتی کہانی بہت دلچسپ لگتی ہے.  سائکلو مشینی آواز میں بولا . سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق قدیم انسان اور چمپینزیز کی مشترکہ ماں تقریباً ساٹھ لاکھ سال پہلے اس دنیا سے رخصت ہوئی تھی ۔ قدیم انسان کی موجودگی کی سب سے اہم شہادت مشرقی افریقہ سے ملتی ہے۔ اس قدیم انسانی سپر سٹار کا نام ھے لوسی۔ یہ بتیس لاکھ سال پرانا وہ انسانی ڈھانچہ ہے جو اس زمین پر ھم جیسے انسانوں کی موجودگی کی سب سے قدیم شہادت تسلیم کی جاتی ھے۔ سائنسدانوں نے اس دریافت سے بیش بہا معلومات حاصل کیں. انیس سو چوہتر میں ایتھیوپیا میں ڈون جوہانسن نامی ماہر آثار قدیمہ نے جب یہ ڈھانچہ دریافت کیا تو اس نے اس وقت کے مشہور ریڈیو گانے ” لوسی آسمان پر ہیروں سمیت موجود ہے ” کی شہرت کو دیکھتے ہوئے اپنی دریافت کا نام لوسی رکھا. اور یوں اس دریافت کو پوری دنیا میں سپر سٹار جیسی پذیرائی ملی . اس ڈھانچے کی چالیس  فیصد ہڈیاں ایک ساتھ دریافت ہوئیں جو کسی  ایسے آثار قدیمہ کے لیے بے حد غیر معمولی بات ہے. میں نے بات آگے بڑھای۔  لوسی سے ملتے جلتے لوگ چالیس لاکھ سال پہلے افریقہ میں زندگی بسر کرتے تھے۔  بن مانسوں سے ملتے جلتے ھونے کے باوجود وہ دو پیروں پر سیدھا چل سکتے تھے. لیکن ان کی دماغی ساخت ہم سے مختلف تھی . اب یہ بات ثابت شدہ ہے کہ تقریباً پچیس لاکھ سال سے ہم انسان اپنی ابتدائی صورت یعنی ھومینڈ کی صورت میں زمین پر موجود ہیں . جی کیا کہا آپ نے . آپ ڈائنو سار کا ذکر بھی اس گفتگو میں شامل کرنا چاہتے ہیں . بات یہ ہے جناب۔ آپ نے چاہے کیسی ہی انگریزی فلمیں کیوں نہ دیکھ رکھی ہوں.  سچ یہ ہے کہ ڈائناسور چونسٹھ ملین سال پہلے اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ ہمارے آنے سے بہت پہلے۔ یعنی ھم انسانوں اور ڈایناسور کی انٹری اس دنیا کے سٹیج پر ایک ساتھ کبھی بھی نہیں ھوی۔…. جاری ہے

Part 3 اے حمید ، کچھ یادیں کچھ باتیں A HAMEED, A REMARKABLE URDU WRITER

Posted by: Shariq Ali
retina

retina

FOLLOW

retina   retina     retina
  retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

14,866 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina