retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

فیصلہ سازی ، فکر انگیز انشے Decision making, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
June 18, 2018
retina

Our decisions shape our lives.  A belief or a course of action among several alternative possibilities is not easy. This podcast gives you few suggestions for effective decision making

 

 

فیصلہ سازی ، فکر انگیز انشے ، ویلیوورسٹی، شارق علی

 ہماری زندگی چھوٹے بڑے فیصلوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ چاہے وہ شعوری طور پر کیے گئے ہوں یا لاشعوری طور پر۔ ان فیصلوں کے نتائج ہماری  زندگی کے خدوخال تشکیل دیتے ہیں ۔ آئیے فیصلہ سازی کے اہم موضوع پر ذرا غور کریں .  پہلی بات تو یہ کہ اگر کسی فیصلہ سے پہلے آپ تذبذب کا شکار ہیں تو اس خوف کو سمجھنے کی کوشش کیجئے جس نے لاشعوری طور پر آپ کو بے چین کر رکھا ہے۔ ایسے تمام خوف ایک کاغذ پر لکھ لیجئے۔ پھر اس فیصلے کے نتیجے میں خطرناک ترین نتائج کو شعوری طور پر اپنے سامنے لے آئیے اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیے اور یہ بھی کہ ایسے نتائج کے کتنے فیصد امکانات ہیں. خود سے  سوال کیجیے  کہ اگر  آپ نے یہ  فیصلہ کرلیا تو کیا یہ مستقل ہوگا یا اس میں تبدیلی کی گنجائش موجود ہے؟  کسی بھی فیصلے سے پہلے متعلقہ معلومات حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔ اسی لیے اگر گنجائش موجود ہو تو فوری فیصلے سے پر ہیز کرنا چاہیے تاکہ آ پ اس فیصلے سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرسکیں اور اچھے اور برے دونوں پہلوئوں پر غور کرچکے ہوں۔ آپ کے علم میں یہ بات بھی ہو کہ کون کونسے دیگر متبادل موجود ہیں۔ کچھ  لوگ  اپنے تمام متبادل کاغذ پر لکھ کر  ہر متبادل کے سامنے فائدے اور نقصانات کے کالم میں امکانی طور پر حاصل شدہ نمبروں کو درج کرلیتے ہیں تاکہ  سب سے بہتر متبادل کا انتخاب کیا جا سکے ۔ کسی بھی فیصلےسے پہلے توقف اور سوچ و بچار اضطراری طور پر فیصلہ کرنے سے بہت بہتر ہے . ایک مخلص دوست کی طرح خود اپنے آپ کو مشورہ دینا اور اس پر عمل درآمد کرنا بے حد کار آمد ہوتا ہے۔ یاد رکھیے  فیصلہ تو حال میں کیا جاتا ہے لیکن اس کے نتائج کے حوالے سے مستقبل پر نظر رکھنا ضروری ہے . ہر اہم فیصلے کا بیک اپ پلان ہونا بھی بہت  اہم ہے۔ یعنی اگر یہ فیصلہ ہمارے لیے مثبت ثابت نہیں ہوا تو اس صورت حال میں ہم کیا عملی اقدام اُٹھائیں گے۔ ضروری ہے کہ آپ فکری طور پر واضح ہوں کہ آپ یہ فیصلہ کیوں کررہے ہیں  اور اس کے مثبت پہلو کیا ہوں گے؟  بعض اوقات فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات ہمارے خاندان، ہمارے دوستوں اور ہوسکتا ہے معاشرے پر بھی پڑیں۔ ایسے فیصلے سے پہلے یہ جاننا اہم ہے۔ کہ ہماری ذاتی اقدار کیا ہیں اور کیا وہ دوسرے شخص یا گروہ کی  اقدار سے متصادم تو نہیں؟ کیا آپ کے کیے گئے اس فیصلے سے دوسرے لوگوں پر منفی یا مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟ درست بات یہ ہوگی کہ آپ اپنے ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی مفاد کو زیادہ اہمیت دیں ۔ ذاتی سوچ بچار کے بعد  اس فیصلے سے متعلق اپنے پرخلوص دوستوں یا اپنے خاندان کے افراد سے اظہارِ خیال کیجئے اور ان کی رائے لیجئے۔ کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ  آپ کو جذباتی طور پر معتدل مشورہ دے سکیں۔ ہوسکتا ہے کہ ایسی ہی صورت حال میں ان کا  تجربہ آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔  جب آپ یہ ساری  سوچ و بچار کرچکے ہیں تو اب فیصلہ کرنے کا وقت ہے۔ اس مرحلے پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ ذہنی طور پر اور جذباتی طور پر پرسکون رہیں، مثبت طرزِ فکر اختیار کریں اور منفی خدشات سے پرہیز کریں۔ ایک پرسکون اور غیر جذباتی ذہنی کیفیت آپ کو درست فیصلے کی طرف لے جائے گی۔ آپ کے لئے بہتر فیصلہ سازی کی نیک تمناؤں کے ساتھ اب آپ سے اجازت۔—- ویلیوورسٹی ،  شارق علی

 

تنقیدی سوچ ، فکر انگیز انشے Critical thinking, Thought-provoking Inshay

Posted by: Shariq Ali
retina

Critical thinking is an essential prerequisite for intellectual freedom. How can we teach this important topic to our kids and students? Here are few suggestions

 

 

تنقیدی سوچ ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

 تنقیدی سوچ زندگی کے مسائل کو حل کرنے میں بے حد مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس سے مراد ہے معلومات کا بغور معائنہ اور تجزیہ کرنا۔ زندگی میں معلومات چاہے ہمیں اپنے مشاہدے، تجربے یا کسی رابطے کی صورت میں حاصل ہوئی ہوں،  اہم بات یہ ہے کہ ہم معلومات کو من و عن تسلیم کرنے کے بجائے اس پر تنقیدی نظر ڈال سکیں۔ اس معلومات کے حوالے سے جائز اور مناسب سوالات اُٹھا سکیں۔  سائنس، ریاضی، تاریخ، معیشت اور فلسفہ تنقیدی سوچ کے بغیر اپنا وجود حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ کسی بھی سماج کی ترقی کے لیے اس کے شہریوں میں ایسی سوچ کاہونا بے حد ضروری ہے۔  چاہے آپ والدین ہوں یا اُستاد،  اپنے بچوں کو اور اپنے طالب علموں کو تنقیدی سوچ دینا آپ کی ذمہ داری ہے۔ بچے اپنے مشاہدے کے حوالے سے اکثر اپنے سوالات کا آغاز ’’کیوں‘‘ سے کرتے ہیں۔  ایسے ہر سوال کا جواب تمہارا کیا خیال ہے؟ سے شروع کرنے سے ہم اُن کے ذہن میں تنقیدی سوچ کا بیج بو سکتے ہیں۔ ہر مشاہدے کے بارے میں انھیں اپنی ذاتی رائے قائم کرنے سے عملی زندگی میں بے حد مدد ملے گی۔ مشاہدات کا موازنہ کرنا یا ضدین (متضاد) تلاش کرنا نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ فکر انگیز بھی۔ مثلا کسی بچے کو اگر ایک سیب اور ایک سنگترہ دیا جاے اور اس  سے کہا جاے کہ دونوں میں کیا بات مشترک ہے اور کیا مختلف ؟ تو یہ بات اس کی ذہنی کشادگی میں بہت مددگار ہوگی۔ بچے جب کہانی سُنتے ہیں تو وہ کرداروں، ماحول، کہانی کے بنیادی پلاٹ اور چھو ٹی چھوٹی جزئیات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اور دیگر سنی ہوئی کہانیوں سے اُس کا موازنہ اُن کے مشاہدے کو اور وسیع کرتا ہے۔ اگر بچے سے کہا جائے کہ وہ سُنی ہوئی کہانی اپنے الفاظ میں دوبارہ سنائیں اور اُن سے کچھ ایسے سوال کیے جائیں جن کا جواب اس کہانی میں موجود نہیں تو اس طرح اُن کا ذہن سوچنے پر مجبور ہوگا.  پھر اگر کہانی اور اس کے کرداروں کے بارے میں خود اُن کی رائے معلوم کی جائے تو وہ اپنے انفرادی خیال کے اظہار سے تنقیدی سوچ حاصل کریں گے۔  ہوسکتا ہے وہ اس کہانی کا موازنہ اپنی زندگی سے کریں، ہوسکتا ہے وہ پرانی معلومات کو نئے انداز سے عملی طور پر استعمال کرنے کی کوشش کریں ۔ اپنے بچوں اور اپنے طلبا کے ساتھ مل جل کر کسی مسئلے کا حل تلاش کرنا یا مختلف صورتحال کا موازنہ کرنا،  بہتر سے بہتر نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرنا، نہ صرف ان میں بلکہ آپ میں بھی تنقیدی سوچ بیدار کرے گی ۔ ایسی کہانیاں جن کا کوئی انجام نہ ہو یا بہت سے انجام ممکن ہوں۔ پڑھنے والے بچے کی تخلیقی صلاحیت پر  مثبت طور پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔ انسانی تاریخ میں تنقیدی سوچ کی اہمیت کی سمت متوجہ کرنے والا سب سے پہلا شخص سقراط تھا۔ اس کا راستہ دانشمندانہ سوالات کا راستہ تھا۔  اس کے سوالات سوچنے والے ذہن کو دو مختلف سمتوں بلکہ بعض اوقات کئی مختلف سمتوں میں لے جاتے اور پھر اسے ان راستوں پر چل کر خود اپنے لیے جواب تلاش کرنا پڑتا تھا۔ ہم بھی اپنے طالب علموں اور بچوں کو تنقیدی سوچ سکھانے کے لیے یہ طریقہ کار استعمال کرسکتے ہیں۔ کسی تنازعے کا فکری تجزیہ تنقیدی سوچ کو بیدار کرتا ہے۔ سب سے پہلا مرحلہ ہے اس تنازعے کو پہچاننا، اس کی صاف ستھری وضاحت کرنا، جسے ہم فلسفے کی زبان میں ’’پریمس‘‘ کہتے ہیں یا وہ بیانیہ جس پر ہمیں بحث کرنی ہے.  پھر ہم اس تنازعے کے دونوں پہلوئوں پر دیانت دارانہ غور و فکر کرتے ہیں ۔ دونوں نکتہ نظر پر دلائل کا بغور مطالعہ کرتے ہیں۔ بیانیے اور متبادل بیانیے پراپنی توجہ کو بغیر کسی تعصب اور بغیر کسی بیرونی دبائو کے منصفانہ انداز سے جانچتے ہیں۔ مباحثے کے دوران جو معلومات ہمیں فراہم کی گئی ہیں اس کے معتبر ہونے کو یقینی بناتے ہیں۔ خود سے سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم معلومات کے منبع یا سورس کی نشاندہی کرسکتے ہیں ؟ کیا وہ منبع قابلِ احترام ہے؟ کیا اُسے اس رائے زنی کے حوالے سے اس موضوع پر مہارت حاصل ہے؟ کیا اس موضوع پر تمام ماہرین کو ئی مشترکہ رائے رکھتے ہیں یا نہیں؟ ایک بات جو تنقیدی سوچ کے لیے بے حد ضروری ہے کہ ہم میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ ہم رائے، فیصلے اور حقائق میں تمیز کرسکیں. کیونکہ یہ بات بہت عام ہے کہ زندگی میں بہت سے لوگ رائے زنی اور ذاتی فیصلے صادر کرنے کو حقائق بنا کر ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں.  اور یہ ہماری تنقیدی سوچ ہی سے ممکن ہے کہ ہم اس بیرونی دبائو کا مقابلہ کرسکیں اور اپنی زندگی میں درست فیصلوں کی طرف بڑھ سکیں۔ اب آپ سے اجازت چاہوں گا۔ اپنا خیال رکھیے گا

ویلیو ورسٹی ، شارق علی

 

حسن آہن ، سیج یونیورسٹی ، انشے سیریل، چھیالیسواں انشا Iron Lady, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 46

Posted by: Shariq Ali
retina

Enjoy the glimpse of Paris in this story. Its 19th-century streets crisscrossed by River Seine. And the most beautiful landmark Eiffel Tower

I am Azm, a student at Sage University. Enjoy stories from me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

 

حسن آہن ،  سیج یونیورسٹی ، انشے سیریل، چھیالیسواں انشا، شارق علی

قطار کیا تھی ایک طویل لہریے دار سانپ تھا جو دھیرے دھیرے آگے سرک رہا تھا۔ پاس ہی غالباً غیر قانونی پناہ گزینوں کے زمین پر چادر بچھا کر آیفل کے چھوٹے بڑے ریپلیکا بیچتے عارضی اسٹال تھے۔ گشتی پولیس آتی دکھائی دی تو بھگدڑ مچ گئی ۔ سارے اسٹال غائب، سامان چادر میں لپیٹ کر یہ جا وہ جا۔  پولیس اوجھل ہوئی تو دوبارہ رونق بحال ۔ رمز پیرس کی چھٹیوں کا ذکر کررہا تھا، بولا.  بالآخر سیکورٹی سے گذر کر آیفل کے چار دیو ہیکل اور محرابی جنگلے دار فولادی ستونوں سے گھرے بڑے سے کشادہ میدان میں پہنچے۔ میدان کے مرکز میں کھڑے ہوکر اوپر دیکھو تو آیفل کی عظیم الشان تعمیراتی بلندی اور خوبصورتی کو تسلیم کرنا پڑتا ہے ۔ چار دیو نما آہنی  جنگلے دار ستون بے حد حسین جمالیاتی تناسب سے ایک دوسرے اور اپنے نقطۂ عروج کی سمت اوپر اُٹھتے ہوئے، دیکھنے والے کو فنکارانہ تخیل اور تعمیراتی کمال پر قائل کرلیتے ہیں ۔  پروفیسر گِل بولے،  پیرس بھی خوب شہر ہے،تاریخی، تعمیراتی اور ثقافتی حسن سے آراستہ۔  تھومس جیفرسن نے کہا تھا ، اگر آپ کو تاریخ، حسن اور زندگی کے بارے میں نکتہ نظر درکار ہے تو پیرس کی سیر کیجیے۔ تیسری صدی قبل مسیح میں یہ ایک رومن شہر تھا اور نام تھا لیوٹیشیا.  یہاں کے رہنے والے اس وقت بھی پیرسی کہلاتے تھے۔  پھر اسی نسبت سے یہ بعد میں پیرس کہلایا۔ اب تو امریکہ،  سویڈن،  پانامہ سمیت پوری دُنیا میںاس نام کے چھتیس (۳۶) شہر ہیں ۔ دریائے سین کی سیر کی تم نے؟  سوفی نے پوچھا۔ رمز بولا. کیوں نہیں۔ دھوپ سے نکھری مگر ڈھلتی شام میں کروز پر سوار ہونے سے ذرا پہلے، اسٹالوں پر بکتے کریبس اور آئسکریم کے مزے اُڑائے۔ پھر بڑی سی بوٹ میں بیٹھ کر دریا کے کنارے واقع بیشتر تاریخی عمارتوں کا نظارہ کیا۔ نوٹریڈم بے حد منفرد گرجا گھر ہے۔ کہتے ہیں اس کی گھنٹی کا وزن تیرہ (۱۳) ٹن سے زیادہ ہے۔  دریائے سین کے چھوٹے سے جزیرے پر تعمیر ہوئ امریکی مجسمۂ آزادی کی نقل بھی دیکھی۔  ڈھلتی شام اور بڑھتی رات میں جھلملاتے آیفل کا نظارہ سب سے زیادہ  یادگار تھا۔  یقین ہی نہیں آتا کہ سوا سو سال پہلے دو سال کی مدت میں تعمیر کی جانے والی، انقلابِ فرانس کے شہداء کی یہ حسین یادگار عالمی میلے کے لیے صرف بیس سال کی عارضی مدت کے لیے تیار کی گئی تھی۔ لیکن وائر لیس مینار ہونے کی افادیت اور عام لوگوں کی ہردلعزیزی نے اِسے آج تک قائم رکھا ہوا ہے۔ یہ چالیس سال تک دُنیا کی بلند ترین عمارت بھی رہا ہے۔ آیفل کے اوپر تک گئے تم؟ میں نے پوچھا۔ بولا، سولہ سو پینسٹھ سیڑھیاں چڑھنے کی ہمت مجھ میں تو نہیں تھی۔ اور لفٹ میں سوار ہونے کی قطار بے حد لمبی۔ بس دوسری منزل تک چڑھ سکا۔ شہر کا نظارہ وہاں سے بھی لاجواب ہے۔ سردی زیادہ ہوتو آیفل چھ انچ سُکڑنا  اور تیز ہوا میں تین انچ لہرانا  بھی جانتا ہے۔  فرانسیسی ماہرِ تعمیر گستاف آیفل باوجود خواہش کے پانامہ کینال تو تعمیر نہ کرسکا تھا۔ لیکن پھر اس نے آیفل کی تعمیر جیسا معجزہ دکھایا۔ گستاف نے تیسری منزل پر دوستوں کے ساتھ شغل میلے کے لیے ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ بھی بنایا تھا۔  اب یہ عام لوگوں کے لیے کھلا ہے۔ آیفل کے ایک گوشے میں اُن بہتر انجینئر ، سائنسدانوں اور ریاضی دانوں کے نام لکھے ہیں جنہوں نے اس کی تعمیر ممکن بنائی۔اور ایک جانب گستاف کا مجسمہ نصب ہے۔ کہتے ہیں گستاف بیتھووِن کی پانچویں سمفنی سُنتے ہوئے اس دُنیا سے رخصت ہوا تھا۔—-جاری ہے

وینس کے دکھ ، سیج ، انشے سیریل، پینتالیسواں انشا Venice, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 45

Posted by: Shariq Ali
retina

In the midst of Venice, a city of small islands where there are no roads just canals including Grand Canal lined with Renaissance and Gothic palaces, Professor Gill comes across a tragic story of a Europe immigrant

I am Azm, a student at Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

وینس کے دکھ ، سیج ،  انشے سیریل، پینتالیسواں انشا، شارق علی

ٹریویسو ایئر پورٹ سے نکلے تو ایئر پورٹ کوچ وینس جانے کے لیے تیار تھی۔ بیگ پیکس نچلی منزل کی لگیج سپیس میں رکھ کر اوپری منزل پر ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ پروفیسرگل اٹلی کا ذکر کررہے تھے، بولے،’’ ٹریویسو سر سبز و شاداب شہر ہے۔ جدید اور قدیم عمارتیں اور مضافات میں کھیت اور فارم ہائوسز کے سلسلے ،  پھر سمندر پر بنے کوئی میل بھر طویل پُل کو عبور کرکے وینس کے مرکزی بس اڈے پر اُترے۔ بیگ پیک کندھوں پر ڈالا اور گرینڈ کینال کو شیشے اور فولاد سے بنے جدید پُل کے ذریعے پیدل عبور کرکے سینٹ لوشیا ریلوے اسٹیشن کے ساتھ بنے شاپنگ مال میں پہنچے.  ضرورت کی چیزیں خرید کر گوگل میپ کی مدد سے گرینڈ کینال کے دوسرے کنارے پر واقع اپنے ہوٹل پہنچے۔ سامان کمرے  میں رکھا اور وینس سے شناسائی کے لئے نکلے ، کیسا ہے وینس؟ سوفی نے پوچھا۔ بولے، بہت منفرد حسن ہے اس شہر کا۔ ایک سو سترہ قدرتی اور تعمیر شدہ چھوٹے جزیرے جو پینتالیس سے ستر فُٹ گہرے سمندری پانی کے گھیرے میں ہیں۔ کوئی ڈیڑھ سو نہروں کو پھلانگتے چار سو سے زائد خوبصورت پُل، گویا ایک بہتی ہوئی جنت۔ سب سے بڑی نہر گرینڈ کینال کہلاتی ہے۔ جو اس شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ کناروں پر بنی دلکش سینکڑوں برس پرانی تاریخی عمارتیں ایک پراسرار تاثر رکھتی ہیں۔ اُن کے بیچ سے گزرتی تنگ گلیاں جیسے بھول بھلیاں۔ جہاں بھی ٹھہرو واپس لوٹنے کے لیے کسی قریبی تاریخی یاگار، دکان یا پُل کو نشانی کے طور پر یاد رکھنا ضروری ہے  ورنہ اجنبی شہر میں کھو جانے کا مزہ لو ۔ وہاں کا موسم اور لوگ؟ رمز نے پوچھا۔ بولے، نکھری ہوئی دھوپ، نیلے آسمان تلے گنگناتی نہروں میں تیرتی کشتیاں ، ہر طرف جدید دکانیں اور ریستوران اور خوش لباس، خوش رُو سیاحوں کی پُر مسرت بھیڑ۔ پھر عدنان اچانک یوں ملا جیسے خوشیوں بھری زندگی میں کوئی غیر متوقع حادثاتی دکھ۔ سینٹ لوشیا اسٹیشن کے سامنے گرینڈ کینال کو عبور کرتے پُل پر وہ آتے جاتے سیاحوں کو سیلفی اسٹک بیچ رہا تھا۔ کچھ بولے بغیرمحض عملی مظاہرے سے فون کو اسٹک پر لگا کر سیلفی کھینچنے کی آسانی۔ بعض فرانسیسی، امریکی، اطالوی ، کورین اور دیگر سیاحوں کو قائل کر لیتی اور یوں کچھ آمدنی ہوجاتی۔ پانچ یورو کی سیلفی اسٹک خریدی تو چند مسکراہٹوں کے تبادلے کے بعد گورے چٹے، درمیانے قد کے چھبیس سالہ شامی پناہ گزین نے مجھے اپنی کہانی سنائی۔ اور وہ کیا تھی؟ میں بے صبرایا۔ بولے، جنگ سے بے حال شام کی سرحد عبور کرکے مہینوں کی پرمشقت مسافت طے کرنے کے بعد وہ ترکی میں اسمگلروں سے ملا تھا جو پندرہ سو یورو  لے کر مضبوط بوٹ میں یورپ پہنچانے کا انتظام کرتے تھے۔ ساحل پر پہنچے تو بوٹ تو نہیں ربڑ کی کشتی،  جو ڈِنگی کہلاتی ہے، کا انتظام تھا جس میں چالیس کے بجائے نوے مسافر ٹھونسے گئے تھے۔ ساحل سے لوٹ جانا بے حد مشکل فیصلہ تھا۔ سامنے ایجین سمندر کی بے رحم لہریں اور اُن کے پار یورپ میں آسودہ زندگی کی اُمید تھی۔ وہ ڈنگی میں سوار ہوگیا۔ کشتی گہرے سمندر میں ڈوبنے اُبھرنے لگی تو انٹرنیشنل ریسکیو ٹیم کی مدد سے وہ یونانی جزیرے لیسبوس پہنچے۔ کیمپ میں قیام اور پھر یورپ میں مزدوری کی جدوجہد کے ذکر سے اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ میں سوچنے لگا شام، عراق، لیبیا اور افغانستان میں جنگ کی تباہی اور افریقہ، پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش میں بھوک اور بے روزگاری کی اذیت نجانے کتنے معصوموں کو ایجین سمندر میں ڈوبنے، فرانس اور انگلینڈ کی سرحدی ٹنل میں آنسو گیس سے دم گھٹنے، لاریوں میں بھوکے پیاسے کئی دنوں چھپ کر سفر کرنے یا ہنگری سربیا سرحد پر جیل جانے کی اذیت پر مجبور کردیتی ہوگی۔ پھر خیال آیا کہ یہ حسین شہر بھی تو ٹریویسو سے جنگ کے ڈر سے بھاگے ہوئے لوگوں نے پندرہ سو سال پہلے بسایا تھا۔ اور اب جزیروں کی یہ جنت موسمی تبدیلی کے سبب سطحِ سمندر کی بلندی سے ہار کر ملی میٹرز کے حساب سے آہستہ آہستہ ڈوب رہی ہے۔ پچھلے پچاس برسوں میں آبادی ایک لاکھ بیس ہزار سے گھٹ کر ساٹھ ہزار رہ گئی ہے۔ بعض ماہرین کہتے ہیں کہ دو ہزار تیس تک یہ ایک ویران شہر ہوگا۔ صرف سیاحوں کی قیام گاہ۔ میں اُداس قدموں سے اپنی قیام گاہ کی سمت چلنے لگا۔– جاری ہے

 

ہم آہنگ ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ ، بارہواں اور آخری انشا Harmony, POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 12 & the end

Posted by: Shariq Ali
retina

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life

کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں

 

 

 

ہم آہنگ ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ ، بارہواں اور آخری انشا ، شارق علی

اگر ہم بامقصد زندگی کے مقابلے میں دوسری صورتِ حال پر غور کریں تو یہ ہو گی ایک بے مقصد زندگی.  ایک ایسی زندگی کہ جس میں کوئی معنویت نہیں۔ جہاں روزانہ کی جدوجہد کا صرف ایک مقصد ہے اور وہ ہے زندہ رہنا۔ یہ وہ زندگی ہے کہ جو اندر سے بالکل خالی ہے لیکن جسے بھرپور دکھانے کے لیے بیرونی طور پر ہر دم  آراستگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس نوعیت کی زندگی گزارنے والے لوگ جوش سے خالی ہوتے ہیں۔ سستی اور کاہلی سے دل بستگی رکھتے ہیں اور غیر صحت مندانہ زندگی کی وجہ سے  بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ بیشتر ایسے لوگ رایگانی کا احساس دل میں لئے اپنی زندگی کے دن جیسے تیسے پورے کرتے ہیں. لیکن ان ہی میں سے کچھ  سگریٹ نوشی اور منشیات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ اور خودکشی جیسے انتہائی قدم کو اختیار کرسکتے ہیں۔ مقصدیت سے جڑنا ہی وہ راستہ ہے کے جس کی مدد سے ان انسانی المیوں سے بچا جا سکتا ہے.  مجھے یقین ہے کے اس ورکشاپ میں اب تک کہی گئی باتوں اور آپ کی نوٹ بک میں درج عملی مشقوں نے اتنی خود آگاہی ضرور بہم پوھنچا دی ہے کہ اب آپ  اپنا ذاتی اور انفرادی بیان مقصد تحریر کرنا شروع کر سکتے ہیں ۔ اس خاص مشن کی تحریری نشان دہی کہ جو آُپ کے زندہ  ہونے کا جواز ہے۔  وہ بے مثال تحفہ جو صرف اور صرف آپ اس دُنیا کو دے سکتے ہیں۔ اور یہ بھی کے اس مقصد کی جانب آگے بڑھنے کے لئے جو منصوبہ بندی آپ کے ذہن میں ہے وہ کیا ہے؟ اب  وقت ہے  اس مقصد اور اس منصوبہ بندی کو اپنی نوٹ بک میں لکھنے کا . آپ ایسا کرنے کے لیے جتنا چاہیں وقت لے سکتے ہیں۔  یقین مانیے  آپ کا لکھا ہوا بیان مقصد آپ کی زندگی میں ایک نئے سفر کا آغاز ثابت ہو گا . آئیے اب اس ورکشاپ کو ایک سوال اور اس کے ممکنہ جواب کی صورت میں اختتام پذیر کرتے ہیں . اور وہ سوال یہ ہے . کیا ہم اپنی تخلیق کا مقصد صرف ذہنی کوششوں سے حاصل کر سکتے ہیں ؟ اس سے پہلے کہ آپ تیزی کے ساتھ اس سوال کا جواب دیں میں چاہوں گا کہ آپ اپنے اندر پہلے سے موجود جبلی جواب کو سُننے کی کوشش کریں۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ذہن سے آگے بڑھ کر اپنے دل اور اپنی روح کو ٹٹولیں ۔ زندگی میں خوشی کی تلاش ایک اہم سفر ہے ۔ بعض لوگ اس سفرمیں عمیق مطالعے کو اختیار کرتے ہیں ۔ سچ پوچھئیے تو یہ وہ منزل ہے کہ جس کا راستہ صرف ذہن سے ہوکر نہیں گزرتا۔ میں نے اس موضوع پر وسیع تر مطالعے کے بعد اس ورکشاپ میں بہت سے مفکروں کی تمثیلوں اور فکر سے آپ کو اگاہ کیا ہے . لیکن اپنے دل اور روح کی ہم آہنگی سے جس نتیجے کو حاصل کیا ہے اور جس نے مجھے تسکین فراہم کی اور ذہنی سکھ سے روشناس کیا، وہ بات یہ ہے. زندگی ایک دانشمندانہ سفر ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک انسان ہونے کی حیثیت سے نشوونما پائیں، عملِ خیر میں اور زندگی کے سفر میں ایک دوسرے کے حصہ دار بنیں ۔ ایک دوسرے کی مدد کریں۔ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کام کریں۔ آپس کی خوشیوں میں شریک ہوں۔ اور شرفِ انسانیت کے درجے تک پہنچنے میں ایک دوسرے کے مدد گار ثابت ہوں۔ کیا ہم ایسے روحانی مقامات پر جانا پسند نہیں کرتے جہاں بہت سے ہم عقیدہ لوگ ہمیں اجتماعی ساتھ کا خوشگوار احساس دیتے ہیں ؟ اور جہاں محبت ، امن اور سلامتی کا دیا جانے والا درس ہماری روح کو سیراب کرتا ہے ؟  کیا ہم ایسے دوستوں کی رفاقت پسند نہیں کرتے کہ جن کے ساتھ ہماری ذہنی ہم آہنگی ہو ؟  اور جہاں دانشمندانہ رفاقت سے لطف اندوز ہونا ممکن ہو؟  کیا ہم ایسی دوکانوں سے خریداری کرنا پسند نہیں کرتے کہ جہاں ہمیں خوش آمدید کہا جائے؟  جہاں ہمیں اہمیت دی جائے؟  کیا ہم ایسی موسیقی سے لطف اندوز نہیں ہوتے کہ جسے سُن کر ہمیں اپنے ذہن اور اپنی روح میں تر و تازگی کا احساس ہو ؟  اور جس سے ہم روحانی سطح پر لطف اندوز ہوسکیں ؟ یہ بات بالکل واضح ہے کہ جو چیز کامیاب لوگوں کو کامیاب بناتی ہے وہ ہے زندگی میں اُن کی حصہ داری، ایسے لوگ زندگی سے سچی محبت کرتے ہیں اور انسان ہونے کے سارے امکانات کے بارے میں سرخوشی اور جوش رکھتے ہیں۔ اُن کی ساری کامیابی ، اُن کے سارے کارناموں کی جڑیں اسی بات میں پوشیدہ ہوتی ہیں کہ وہ خدمتِ انسانیت کے درجے پر فائز ہوتے ہیں ۔ شاید یہ میرے ذہنی سفر کا سب سے سمجھ دار نتیجہ ہے، جس پر میرا دل اور میری روح ہم آواز ہیں۔ اب  میں آپ کی صحت خوشی اور کامیابی کی نیک تمناؤں کے ساتھ اس ورکشاپ کے اختتام کی اجازت چاہوں گا —- اختتام

ہم اور انسانیت ، مقصدیت سے جڑیے ، انشے ورکشاپ ، گیارہواں انشا Humanity, POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 11

Posted by: Shariq Ali
retina

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life

کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں

 

ہم اور انسانیت ، مقصدیت سے جڑیے ، انشے ورکشاپ ، گیارہواں انشا ، شارق علی

ہم انسان جب انسانیت سے اپنے تعلق کو  پوری طرح سمجھ لیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے احساسات اور ہماری بسر ہونے والی زندگی کے تجربات ایک خاص صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ ہماری انفرادی زندگی اجتماعی انسانی وجود سے جڑنے لگتی ہے۔  ہمیں بھرپور ہونے، طاقتور ہونے اور اجتماعی انسانی روح سے منسلک ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اور یہ کیفیتِ دل و ذہن اس کیفیت سے بالکل مختلف ہے۔ جو صرف اور صرف اپنی ذاتی خواہشات کے تحت زندگی گزار نے میں ہمیں میسر تھی۔ ہم سب کی زندگی میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں کہ کہی ہوئی بات کی درستگی کے بارے میں  ہمیں جبلی طور پر پتا ہوتا ہے کہ یہ بات درست ہے۔  ہوسکتا ہے کہ ٹیری فوکس کی زندگی کی یہ کہانی ہماری آگاہی کے اس لمحے سے ہم آہنگ ہوجائے۔ ذرا سوچئے! اس سے زیادہ اہم بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم اپنے زندہ رہنے کے عمل کو دوسرے انسانوں کو آسانی پہنچانے کے لیے وقف کردیں۔ کیا یہی وہ بنیادی مقصد نہیں تھا کہ جس کے تحت تہذیبیں تشکیل پائیں؟ جب ہم اجتماعی سطح پر سوچنے کے قابل ہوجاتے ہیں تو ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہماری انفرادی زندگی بہت اہم ہے۔ ہم میں سے ہر ایک انسان کی زندگی بہت اہم ہے۔ کیا یہ بات کسی معجزے سے کم ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی دو انسان ایک جیسے نہیں ۔ شاید اس لیے کہ ہم سب اپنے اپنے انفرادی انداز میں زندگی میں حصہ دار بن سکیں. خدمت فراہم کرسکیں۔ مجھے یقین ہے کہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوں گے کہ  جو کہی گئی ان باتوں کو اور اس طرزِ احساس کو معصومانہ اور آئیڈیلسٹک سمجھیں گے . انھیں یہ سارا خیال  محض ایک شاعرانہ اور رومانوی تصور معلوم ہو گا ۔ اور وہ اجتماعی انسانی نفس کے اس بڑے سے کینوس میں اپنی ذات کے انفرادی رنگ کو بے معنی اور حقیر سمجھنے پر اصرار کریں گے .  اپنی کم مائیگی کو حقیقت خیال کریں گے .  لیکن شاید چند لوگ ایسے بھی ہوں کہ جن کے لیے یہ بات سمجھنا بہت واضح اور سامنے کی بات ہو .  ان کا دل اس بات کی درستگی کا اقرار کرے اور اُن کا ذہن اُن کے دل کا ساتھ دے۔  میں صرف اتنا کہوں گا کہ اگر دل اور ذہن ہم آہنگ ہوجایں تو پھر اپنے آپ کو اس دھن میں گم کردینے سے بڑھ کر کوئی سرخوشی نہیں۔ میں جب سے ٹیری فوکس جیسے باہمت اور باعزم لوگوں سے ملا ہوں اور اُن کے احترام کے بعد خود اپنے آپ سے ملا ہوں۔اور اپنی زندگی گزارنے کے عمل میں ان گنت لوگوں سے ملا ہوں تو یہ بات میرے لیے بالکل واضح ہے کہ ہم سب کو خوشی تک پہنچنے کے لئے کسی مقصد کی ضرورت ہوتی ہے، ہم سب کو تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے، خوشحالی کی، ذاتی تسکین کی، محبت کی، امن کی اور ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے کی۔ لیکن یہ بات ہمیں اچھی طرح سمجھنی چاہیے کہ یہ ساری خواہشیں بجائے خود منزل نہیں ہیں۔ بلکہ زندگی گزارنے کے عمل میں کیے گئے چھوٹے چھوٹے فیصلوں کا نتیجہ ہوتی ہیں . کہ جو ہم  اپنی پسند اور ناپسند کے تحت کرتے ہیں ۔ ان سب کا تعلق ہمارے زندگی گزارنے کے طریقے اور سلیقے سے ہے۔ یہ سب کچھ ہمیں حاصل ہوجاتا ہے۔ اور میسر ہوتا ہے اگر ہم زندگی سے اور انسانیت سے ایک دیانتدارانہ تعلق رکھنے میں کامیاب ہوجائیں.  اس سمت میں جو قدم سب سے اہم ہے وہ ہے اپنے مقصدِ زندگی کی وضاحت.  اور یہی بات میری اس ورکشاپ کی بنیاد بھی ہے اور اس کے فلسفے کا بیان بھی —-جاری ہے

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

16,626 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina