retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Rialto Ka Marko ریالٹو کا مارکو، (مارکوپولو) ، سیج، انشے سیریل، چوالیسواں انشا Rialto Venis, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 44

Narration by: Shariq Ali
April 8, 2018
retina

This story will take you to Rialto bridge in Venice. Enjoy the travelogue wonders of Marco Polo, an Italian merchant, explorer, and travel narrator who was born near this bridge

I am Azm, a student at Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

 

ریالٹو کا مارکو، (مارکوپولو) ، سیج، انشے سیریل، چوالیسواں انشا، شارق علی

واٹر بس جیسے ہی ریالٹو کے آہنی پلیٹ فارم کے ساتھ آکر رکی تو اہلکار  نے مضبوط رسے کو لوہے کے پول کے گرد گرہ درگرہ تیزی سے لپیٹا اور ہم سمیت بہت سے مسافر بغیر لڑکھڑائے موٹر بوٹ سے باہر آئے۔ پروفیسرگل پانیوں میں بکھرے جزیروں پر بسے سحر انگیز اطالوی شہر وینس کی گرانڈ کینال اور نہری گلیوں کا ذکر کر رہے تھے۔ بولے۔ پیدل گزرگاہ کے ایک طرف گرانڈ کینال اور اس میں تیرتی کشتیاں تھیں اور دوسری جانب سیاحوں کی دلچسپی اور ضرورت کی اشیاء سے لدی دوکانیں اور ریستوران۔ ہمارے بالکل سامنے گرانڈ کینال کو عبور کرتا ریالٹو کا پل تھا۔ کہتے ہیں یہ مارکیٹ تیرھویں صدی سے قائم ہے۔ پہلے خریدار پانی پر تیرتے لکڑی کے پشتوں کو عبور کر کے یہاں پہنچتے تھے۔ پھر پہلے لکڑی اور پندرہ سو اکیانوے میں پتھروں سے پل تعمیر کیا گیا جو آج بھی قائم ہے۔ دو کمان نما ریمپ جن کے ساتھ دوکانیں ہیں ایک کشادہ مرکزی پورٹیکو سے جا کر ملتے ہیں۔ اونچا اتنا کہ کشتیاں با آسانی گزر سکیں۔ ریالٹو کا پل آج بھی وینس کی تعمیراتی علامت سمجھا جاتا ہے . وہیں ہم نے روایتی گونڈولا سواری کا لطف بھی اٹھایا۔ کیسا تھا وہ تجربہ؟ سوفی نے پوچھا۔ بولے۔ بے حد خوش نما اور سجی سجائی پتلی اور لمبی کشتیوں کو گونڈولا کہتے ہیں جن کے ایک سرے پر سوٹ پہنے اور ہیٹ لگائے ملاح چپووں کی مدد سے کشتی رانی کی مہارت دکھاتا ہے۔ بہت رومانوی، پر سکون اور آرام دہ کشتی رانی کا تجربہ ہے یہ۔ ملاح بہت مہارت سے پلوں کے نیچے سے گونڈولا گزارتے ہیں اور موڑ کے نزدیک  آتے ہی صدا بلند کر کے دیگر کشتیوں کو وارن کرتے ہیں۔ بہتی کشتی کے دونوں جانب کئی منزلہ اونچی عمارتیں ہیں اور ان میں دکھائی دیتی  زندگی کی چہل پہل۔ ایسی ہی ایک عمارت کی سمت اشارہ کر کے ملاح نے اسے مارکوپولو کا گھر بتایا تھا۔ کچھ تفصیل اور مارکو کی؟ رمز نے کہا۔ بولے۔ وہ بارہ سو چون میں وینس جو ایک امیر تجارتی شہر تھا کے تاجر گھرانے میں پیدا ہوا اور صرف سترہ سال کی عمر میں اپنے والد اور چچا کے ساتھ ریشم کی تجارت کے لئے چین کے سفر پر روانہ ہوا۔ مشرقی یورپ اور شمالی چین  کو ملانے والے قدیم راستے شاہراہ ریشم کہلاتے ہیں۔ مارکو کا قافلہ ان ہی راستوں سے کئی برس کے سفر کے بعد قبلائی خان کے دربار تک پہنچا۔ اپنے طویل سفر میں اس نے بہت سے عظیم  شہر دیکھے جس میں یروشلم کا مقدس شہر بھی شامل تھا۔ وہ ہندوکش پہاڑوں اور ایران کے میدانوں اور صحرائے گوبی کے ویرانوں سے گزرا۔ طرح طرح کے لوگ ملے۔ حیرت انگیز واقعات کا سامنا ہوا۔ پھر چین میں قیام اتنا طویل تھا کہ چینی زبان سیکھی۔ قبلائی خان کے پیغامبر اور جاسوس کی حیثیت سے وہ دور دراز علاقوں مثلاً موجودہ میانمار اور ویتنام تک پہنچا۔ چین کیسا لگا اسے؟ میں نے پوچھا۔ بولے۔ وہ چینی شہروں اور قبلائی خان کی دولتمندی اور آسائشوں سے بہت متاثر ہوا۔ ان دنوں یورپ میں ایسی شان و شوکت کا تصور بھی مشکل تھا۔ چین کا مرکزی شہر کنسے تو بے حد جدید، وسیع، منظم اور صاف ستھرا تھا۔ کھانے پینے کی اشیا، لوگ، رہن سہن اور وہاں کے جانور مثلاً بن مانس اور گینڈے اس کے لئے حیرتوں کی دنیا تھی۔ وہ یورپ کا پہلا سیاح تھا جس نے چین اور مشرق بعید کی ثقافت کو قریب سے دیکھا اور سمجھا۔ اسی کی سنائی کہانیوں سے اس وقت کے یورپ نے قدیم چینی ثقافت کی ذہنی تصویر بنائی۔ بیس سال دنیا گھومنے کے بعد مارکو کا بحری بیڑا سات سو ساتھیوں اور ایک چینی شہزادی سمیت جو ایران کے شہزاداے سے شادی کی آرزومند تھی وینس واپسی کا سفر شروع کرتا ہے۔ راستے کی مشکلات میں بیشتر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ صرف ایک سو ستر لوگ جن میں چینی شہزادی جو بالآخر کامیابی سے ایران پہنچی، واپس آنے والوں میں شامل تھی۔ مارکو بارہ سو اکھتر میں گھر سے نکلا تھا اور بارہ سو پچانوے میں واپس وینس لوٹا۔ سفر نامے کب لکھے اس نے؟ سوفی نے پوچھا۔ بولے۔ اسے بد قسمتی کہو یا حسن اتفاق کے واپس گھر پہنچنے پر وینس اور جنووا کے درمیان ہونے والی جنگ میں وہ جنووا کا جنگی قیدی بن گیا۔ قید میں اس کی ملاقات رستاچِیلو نامی لکھاری سے ہوئی جسے مارکو نے اپنے سفر کے حالات تفصیل سے سناے۔ رستا چِیلو  نے یہ سفر نامے ایک کتاب کی صورت لکھے۔ نام تھا مارکو پولو کے سفرنامے۔ یہ کتاب پورے یورپ میں بے حد مقبول ہوئی اور بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہوئی۔ کچھ ناقدین نے مارکو پر گپ لگانے کا الزام بھی لگایا لیکن بعد کی تحقیق سے اس کی سچائی ثابت ہوئی۔ مارکو کے سفر کا سب سے مشکل مرحلہ صحرائے گوبی کی مہینوں لمبی مسافت تھی۔ اس دور میں دنیا کو یقین تھا کہ یہ صحرا آسیب زدہ ہے۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے

Pur Mussarat Dunya پرمسرت دنیا، سیج، انشے سیریل، تینتالیسواں انشا Happy planet index, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 43

Posted by: Shariq Ali
retina

We need well being for all in this world. A happy and sustainable planet for all of us.  Happy planet index measures what matters most.   It tells us how well nations are doing at achieving long, happy and sustainable lives

I am Azm, a student at Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

پر مسرت دنیا، سیج، انشے سیریل، تینتالیسواں انشا، شارق علی

جیسم کے اداس رہنے کی خبر ملی تو بہت حیرت ہوئی ۔ کہنے کو تو ہماری طرح وہ بھی سیج کا طالب علم تھا اور ہوسٹل میں اس کے نام بھی ایک کمرہ موجود لیکن وہ زیادہ تر فہم آباد میں کرایہ پر لئے محل نما بنگلے میں بہت سے ملازمین کے ساتھ رہتا تھا۔ گلف کے شاہی خاندان سے متعلق ہونے کے سبب قیمتی کاریں اور فرنیچر، ڈیزائنر ملبوسات سے بھرے وارڈروب اور ہفتہ واری مہنگی دعوتیں اور دنیا بھر کی سیاحت۔ پھر ڈپریشن کا کیا سوال؟ آج لائبریری کے لائونج میں یہ بات پروفیسرگل سے پوچھی تو بولے۔ کبھی خود سے سوال کرو کہ زندہ کیوں رہا جائے اور سوال در سوال اسی کیوں کا پیچھا کرو تو آخری جواب ہو گا خوش رہنے کے لئے۔ خوشی کا جواز مختلف ذہنوں میں ایک سا نہیں ہوتا ۔ کچھ کے لئے دولت، بڑا گھر اور سماجی مرتبہ اور کچھ محض اچھی غذا، دلکش موسیقی، مہربانی کے سلوک یا ملک ملک گھومنےکو خوشی کہیں گے۔ خودمیرے لئے اچھی صحت، خوشگوار انسانی رشتے اور روحانی سکھ ہی خوشی ہے۔ جواز چاہے کچھ بھی ہو  یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پر مسرت زندگی توازن اور انصاف سے جڑی ہوئی ہے۔ گویا دولتمندی، آسائشیں، سماجی مرتبہ اور شہرت وغیرہ کافی نہیں بلکہ وہ تہذیب ذہن بھی درکار ہے جو دوسرے انسانوں کا احترام اور قدرتی وسائل کا منصفانہ استعمال سکھائے۔ اور پر مسرت سماج؟ سوفی نے پوچھا۔ بولے۔ ایسا سماج جو دنیا کے قدرتی ماحولیاتی نظام کی خوبصورتی کو قائم رکھتے ہوئے اپنی عوام کو پر سکون، صحت مند، خوشحال اور تخلیق افزا زندگی کا موقع فراہم کر سکے۔ کسی ملک کو کامیاب اور ترقی یافتہ کہنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہاں کی عوام کو میسر آسائشیں، صحت مندی اور طویل زندگی کہیں قدرتی وسائل کے بے دریغ اور خود غرض استعمال کی وجہ سے تو نہیں؟ ہم یورپ اور امریکہ میں رہنے والوں کی مادی آسائشوں سے دھوکہ کھا کر انہیں پر مسرت اور کامیاب سمجھنے کی غلطی کر سکتے ہیں۔ تو پھر ملکوں کی کامیابی کا معیار؟ رمز نے پوچھا۔ بولے۔ عالمی دانشوروں نے غالباً دو ہزار سولہ میں ملکوں کی کامیابی ماپنے کے لئے ہیپی پلانیٹ انڈیکس  ایچ پی آی یا  پر مسرت دنیا کا معیار پیش کیا تھا ۔ یہ ایک طرح کا سمت نما ہے جو ممالک اور حکومتوں کو یہ بتاتا ہے کہ ماحولیات اور قدرتی وسائل کے احترام کے ساتھ بھی شہریوں کو بہتر معیار زندگی فراہم کیا جاسکتا ہے۔ اس معیار کے مطابق دنیا کا سب سے پر مسرت ملک امریکہ، برطانیہ یا کوئی اور یورپی ملک نہیں بلکہ لاطینی امریکہ کا ملک کوسٹاریکا ہے۔ متوازن معیار زندگی کے ساتھ صحت مند اور طویل زندگی پانے والی یہاں کی آبادی قدرتی وسائل کا احترام کرنا جانتی ہے۔ حکومت اور عوام کا یہ رویہ اس ملک کو تہذیب یافتہ ملکوں میں سر فہرست بناتا ہے۔ کچھ اور تفصیل ایچ پی آی کی؟ . میں نے پوچھا . بولے . یہ معیار چار پہلوئوں سے ملکوں کا جائزہ لیتا ہے۔ پہلا پہلو ہے شہریوں میں خوشی، تحفظ اور اطمینان کا احساس۔ گیلپ عالمی سروے کے ذریعے اس کا تعین کیا جاتا ہے۔ دوسرا پہلو ہے طویل عمری جو اچھی غذا، فضائی آلودگی میں کمی اور صحت سے متعلق بہتر سہولیات کی ترجمانی کرتی ہے۔ یعنی اوسطاً اس ملک میں بسنے والے کس عمر تک زندہ رہتے ہیں۔ تیسری بات ایک ہی ملک میں بسنے والوں کے درمیان امیری غریبی کا فرق ہے۔ یعنی اچھی غذا، روزگار، صحت کی سہولتیں، طویل عمری، خوشحالی، تحفظ اور اطمینان سب کو میسر ہے یا نہیں۔ اس کا تعین بھی سروے کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ چوتھا پہلو ہے ایکولوجیکل فٹ پرنٹ۔ یعنی عوامی مسرت کا یہ معیار قائم رکھنے کے لئے کہیں حکومت اور شہری قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال تو نہیں کر رہے۔  ایچ پی آی کی ضرورت ہی کیوں؟ رمز  نے کہا ۔ بولے۔ ہماری دنیا ماحولیاتی اعتبار سے ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ ملکوں کے درمیان معاشی نا ہمواری اور ایک ہی ملک کی عوام میں امیری غریبی میں ہوتا اضافہ اور قدرتی وسائل میں تیزی سے ہوتی کمی سنجیدہ غور و فکر کا مطالبہ کرتی ہے۔ ہم انسانوں کو پر مسرت لیکن مستحکم دنیا درکار ہے۔ چار سالہ الیکشن جیتنے پر مرکوز تنگ نظر سیاسی حکومتیں غلط ترجیحات رکھتی ہیں۔ عالمی دانشور کم از کم درست سمت کی نشاندہی تو کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے

Parsi Theatre پارسی تھیٹر، سیج، انشے سیریل، بیالیسواں انشا Parsi Theatre, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 42

Posted by: Shariq Ali
retina

From 1850 to 1935,  Parsi theatre dominated the Indian culture scene.  Agha Hasahar Kashmiri was the shining star of that era

I am Azm, a student at Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

 

 

پارسی تھیٹر، سیج، انشے سیریل، بیالیسواں انشا، شارق علی

عموماً گم سم رہنے والے دانی بھائی بھی خوب ہیں۔ سیج ڈرامیٹک سوسائٹی کے کرتا دھرتا اور تھیٹر کی تاریخ پر گہری نظر۔ آج ٹی ہائوس میں ملے تو گپ شپ کے موڈ میں تھے۔ میں نے بات چھیڑی۔ بر صغیر میں تھیٹر کا آغاز کیسے ہوا دانی بھائی؟ بولے۔ انگریز راج میں گورے اٹھارہ سو پچاس ہی سے نجی محفلوں میں انگریزی تھیٹر کھیلا کرتے تھے۔ پھر بمبئی کے ایلفینسٹن کالج میں ڈرامیٹک سوسائٹی قائم کی گئی تو باقاعدگی سے شیکسپیئر کے ڈرامے ہوئے۔ بمبئی کی پارسی بزنس کمیونٹی نے جو انگریزوں سے بہت قریب تھی اٹھارہ سو تریپن میں پہلی پارسی تھیٹر کمپنی ناٹک منڈلی قائم کی اور پہلا کھیل رستم اور سہراب کھیلا گیا۔ پھر بادشاہ افراسیاب اور بادشاہ فریدون اور یوں یہ سلسلہ چل نکلا۔ پہلے تو شیکسپیئر کی ہندوستانی طرزمیں نقالی کی گئی۔ پھر مقامی زبان، لوک ثقافت اور رسم و رواج کی عکاسی کا اظہار بڑھتا چلا گیا۔ اردو کا کوئی قابل ذکر ڈرامہ نگار؟ سوفی بھی گفتگو میں شریک ہوئی ۔ بولے۔ لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں اس وقت کے تھیٹر کا بے تاج بادشاہ چین کی نیند سو رہا ہے ۔ آغا حشر کاشمیری جن کا بھرپور تذکرہ حکیم احمد شجاع نے اپنی یاد داشتوں میں کیا ہے۔ منٹو نے بھی اپنی کتاب گنجے فرشتے میں ان کا خاکہ اپنے منفرد انداز میں تحریر کیا ہے ۔ کراچی میں دو ہزار پانچ میں جب آغا حشر کا ستر سالہ یادگاری جشن منایا گیا تو ضیاء محی الدین اور ڈاکٹر انور سجاد نے کہا تھا کہ کبھی بر صغیر میں تھیٹر کی تاریخ لکھی گئی تو یہ نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ کچھ اوران کے بارے میں؟ رمز نے پوچھا۔ بولے۔ اٹھارہ سو اناسی میں پیدا ہونے والے آغا حشر اردو کے ممتاز ڈرامہ نگار تھے۔ درسی کتابیں ان کے لئے دلچسپ نہ تھیں اسی لئے وہ زیادہ تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں بمبئی آکر نیو ایلفریڈ تھیٹر کمپنی میں پندرہ روپے ماہوار پر ملازم ہوئے اور شیکسپیئر کے ڈراموں کو ہندوستانی رنگ میں ڈھالنا شروع کیا۔ وہ پارسی تھیٹر کا دور تھا۔ ان کے پہلے کھیل آفتاب محبت میں یہ رنگ صاف جھلکتا ہے۔ پھر ان کے ڈراموں میں انفرادی اسلوب نے جگہ بنائی اور گانے اور ہم قافیہ مکالماتی تک بندی شامل کی تو مقبولیت میں بے حد اضافہ ہوا۔ شہرت بڑھی تو چالیس روپے ماہوار پانے لگے۔ انیس سو تیرہ میں یہودی کی لڑکی منظر عام پر آیا تو وہ ان کا شاہکار قرار پایا۔ نہ صرف پارسی تھیٹر میں شہر شہر کھیلا گیا بلکہ پہلے اس پر خاموش اور پھر باقاعدہ فلم بنی جس میں دلیپ کمار، مینا کماری اور سہراب مودی جیسے فنکار شامل تھے۔ دوسرے کھیلوں میں آنکھ کا نشہ اور رستم و سہراب بہت مقبول ہوئے۔ پارسی تھیٹر کی بھی کچھ تفصیل؟ سوفی نے پوچھا۔ بولے۔ انیس سو پینتیس تک سفری پارسی تھیٹر کمپینیان جنہیں بزنس کمیونٹی اور پارسی فنکاروں کی سرپرستی حاصل تھی نے شمالی ہندوستان، گجرات اور مہاراشٹر میں اردو، ہندی اور دیگر زبانوں کے فروغ میں اپنا حصہ بٹایا ہے۔ موسیقی، رقص، تخیل کی پرواز، زمینی حقائق، سماجی بیانیے اور اداکاروں کی انفرادیت ان کھیلوں سے خوب ابھری۔ مزاح، مدھر دھنیں، ڈرامائی عنصر اور اسٹیج کی آرائش کی نت نئی صورتیں پیدا ہوئیں۔ مقصد تو تفریح اور کاروبار تھا لیکن پھر ان کھیلوں میں لوک کہانیاں، شاعری اور موسیقی بھی شامل ہوئی اور یہ زبان و ثقافت کے فروغ کا ذریعہ بنے۔ بائی اسکوپ شروع ہوا تو پارسی تھیٹر کے انہی پروڈیوسروں نے اولین فلمیں بنائیں۔ ان کے تخلیقی تجربے اور پارسی بزنس کمیونٹی کے سرمائے سے ہندوستانی سینما کا آغاز ہوا۔ موجودہ بولی ووڈ کی بنیاد پارسی تھیٹر ہی ہے۔ آج بھی بولی ووڈ پر خاص طور پر گانوں کی عکس بندی میں یہ اثر صاف دکھائی دیتا ہے۔ آغا حشر کی ذاتی زندگی؟ رمز نے بات بدلی۔ بولے۔ ان کی شادی مختار بیگم سے ہوئی جو پاکستانی گلوکارہ فریدہ خانم کی بڑی بہن تھیں۔ ان کی مشہو ر غزل” چوری کہیں کھلے نہ نسیم بہار کی” ان کی بیوی مختار بیگم نے گائی تھی جسے ٹینا ثانی نے دوبارہ زندہ کیا ہے۔ ایک اور غزل’’ غیر کی باتوں کا آخر اعتبار آ ہی گیا‘‘خلیل احمد کی موسیقی میں پی ٹی وی  سے نسیم بیگم نے گائی ہے۔ عمر کے آخری حصے میں خود اپنی شیکسپیئر تھیٹر کمپنی قائم کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ پھر وہ لاہور چلے آئے اور اپنی فلم بنانے کے دوران ہی انیس سو پینتیس میں انتقال ہوا—— جاری ہے

Yonani Theatre یونانی تھیٹر ، سیج ،انشے سیریل، اکتالیسواں انشا Greek Theatre, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 41

Posted by: Shariq Ali
retina

Most ancient Greek cities had an open-air theatre, usually, a bowl-shaped arena on a hillside sometime entertaining 15,000 people in the audience. Enjoy the story of magic called theatre

I am Azm, a student at Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

 

یونانی تھیٹر ، سیج ،انشے سیریل، اکتالیسواں انشا، شارق علی

بریخت کے کھیل گلیلو کو سٹیج کرنے کے سلسلے میں اسلم اظہر صاحب کی صدارت میں دستک گروپ کی اس دائرہ وار فرشی نشست میں وہ میری پہلی اور آخری شرکت تھی۔ پھر آخری سال کی تیاری نے بے بس کر دیا۔ غالباً وہاں اب سے تیس برس پہلے کے طالب علم اورآج آسٹن میں سوشل انتھروپولوجی کے پروفیسر کامران اصدر علی، انڈس ہسپتال کے ڈاکٹر ظفر زیدی ،اداکارہ ثانیہ سعید، پبلشر حوری نورانی اور دیگرایسے کئی روشن ستارے فرش نشین تھے۔ اسلم اظہر کی کڑکتی ہوئی پر جوش آواز اور دنیا بدل دینے کی نوجوان آرزویں بہت ولولہ انگیز تھیں۔ امتحان سے فارغ ہوا تو ریو آڈیٹوریم میں گیلیو کی کہانی نامی کھیل دیکھا۔ تھیٹر کس جادو کا نام ہے۔ اس دن احساس ہوا۔ پروفیسر گل کراچی کو یاد کر رہے تھے۔ سیج آڈیٹوریم کے گرین روم میں ریہرسل کا وقفہ تھا اور چائے کا دور جاری۔ دانی بولے۔ تھیٹر محض عمارت یا شورو غوغا نہیں بلکہ اس ہنگامے کے درِ پردہ وہ خیال ہے جو لکھاری کے مکالموں ،ہدایتکار کی ترتیب دی ریہرسل، سیٹ ڈیزائنر اور ٹیکنکل اسٹاف کی محنت اور اسٹیج پر اداکاری کے جوہر اور سب سے بڑھ کر تماشائیوں کے جوش و خروش سے زندہ ہو جاتا ہے۔ پہلا کھیل کب کھیلا گیا؟ میں نے پوچھا۔ پروفیسر بولے۔ ہو سکتا ہے یہ غاروں میں رہنے والے شکاریوں نے کھیلا ہو۔ یا قدیم مصریوں نے دیوتاؤں کے حضور مقدس گیت کے دوران اچانک رقص کے ڈرامائی مظاہرے سے اس کی پہل کی ہو۔ جب پہلی بار تماشائیوں کی دل بستگی کا سامان پیدا ہوا تو سمجھو ڈرامے کا آغاز ہوا۔ لیکن معلوم انسانی تاریخ میں اس کی روایت یونان سے شروع ہوتی ہے۔ وہ کیسے؟ سوفی نے پوچھا۔ بولے۔ یونانی تھیٹر کے دیوانے تھے۔ ہر قصبے، ہر شہر میں تھیٹر ضرور ہوتا۔ اس زمانے میں بھی تماشائیوں کی تعداد پندرہ ہزار تک پہنچتی۔ دیوتائوں کی خوشنودی کے لئے رقص، موسیقی اور کورس میں گائے جانے والے نغمے بتدریج کہانیاں اور پھر تمثیلی کھیل بنے۔ اداکار ماسک پہنتے اور بیک اسٹیج بجلی کڑکنے اور دھماکوں کی مصنوعی آوازیں پیدا کی جاتیں۔ لکھاریوں کا بہت احترام کیا جاتا۔ پانچ سو قبلِ مسیح کے یونانی المیہ نگار سوفوکل نے سو سے زیادہ کھیل لکھے جن میں سے سات آج بھی محفوظ ہیں۔ وہ نوے سال زندہ رہا اور کوئی پچاس برسں تک یونانی تھیٹر اور ایتھنزکے مذہبی تہواروں میں اس کا ڈنکا بجتا رہا۔ دکھنے میں کیسا تھا یونانی تھیٹر؟ رمز نے پوچھا۔ دانی بولے۔ نیم دائرہ اسٹیج پہاڑ کے دامن میں بنایا جاتا تاکہ آواز گونج سکے۔سامنے تماشائیوں کے لئے مختلف اونچائی پر بینچوں کی قطاریں کچھ یوں ہوتیں کہ سب کو دکھائی دے اور سب مکالمے سن سکیں۔ بیشتر کھیل المیہ ہوتے۔ کچھ مزاحیہ اور خوش کن اختتام والے بھی۔ کبھی حالات حاضرہ پر چبھتا ہوا طنز بھی ہوتا۔ لیکن دیوتائوں پر تنقید کی بالکل اجازت نہ تھی۔ ایسا کرنے پر موت کی سزا دی جاتی۔ اور دنیا کا پہلا اداکار؟ سوفی نے پوچھا۔ پروفیسر بولے۔ معلوم انسانی تاریخ کا پہلا اداکار تھیسپس ہے۔ کہتے ہیں یونان کے شہر ڈائینوسوس میں حمدیہ کورس کے دوران اس فنکار نے کہانی کی مناسبت سےاچانک ہی خود ساختہ مکالمے بولنا شروع کر دئیے تھے۔ یہ تاریخ میں اداکاری کا پہلا مظاہرہ تھا۔ تھیسپس کی عظمت کو یاد کرتے ہوئے آج بھی بہترین اداکار دنیا بھر میں تھیپسیئن کہلاتا ہے۔۔۔۔۔جاری ہے

Abadi Ki Tabahi آبادی کی تباہی، سیج انشے سیریل، چالیسواں انشا Population Explosion,SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 40

Posted by: Shariq Ali
retina

Population explosion is the greatest threat to Pakistan`s future. Only a small number of married Pakistani women use any form of birth control. This is a disaster in the making

I am Azm, a student at Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

 

 

آبادی کی تباہی، سیج انشے سیریل، چالیسواں انشا، شارق علی

ذہانت اور دلکشی کا امتزاج ہیں ڈاکٹرارما۔ سوچ میں گم آنکھیں. انداز اور گفتار میں اعتماد کا حسن ۔ سماجیات کے شعبے میں عالمی شہرت یافتہ اورتعلق کراچی سے۔ پروفیسر گل کی اسکول کے زمانے کی دوست ہیں ۔ لیکچر میں تو ابھی دیر تھی لیکن طلبا اتنے بے چین تھے کے غیر رسمی گفتگو کا آغاز بر آمدے ہی میں ہو گیا۔ بولیں. دھنک کے رنگوں جیسا شہر تھا کراچی۔ مختلف زبانیں، لہجے، لباس، ثقافت اور طرح طرح کے خواب لئے لوگ دور دراز سے آ کر آباد ہوئے تھے یہاں۔ دو کروڑ ستر لاکھ آبادی کے نو آزاد ملک پاکستان کا دارالحکومت۔ دیکھتے ہی دیکھتے بلاروک ٹوک بڑھتی آبادی، وسائل کی کمی اور مسائل کے انبار نے اس دل آویز رنگا رنگی کو نفرت، تعصب اور تشدد کے پاگل پن کی طرف دھکیل دیا۔ پروفیسر گل بولے۔ میرے بچپن میں شہر کی سڑکیں کہانیوں کی کتاب تھیں۔ جنہیں میں چلتے پھرتے پڑھ سکتا تھا۔ لطف اندوز حیرتوں میں گم ہو سکتا تھا۔ آج وہی سڑکیں ہجوم اور ٹریفک سے بے حال ہیں۔ شور اتنا کے کان پڑی آواز سنائی نہ دے۔ گندگی کے ڈھیر، کھلے گٹر سے ابلتی غلاظت ، صاف پانی کی قلت اور لوڈ شیڈنگ. رہائشی سہولتوں کے اعتبار سے دنیا کے ایک سو چالیس شہروں میں سے ایک سو سینتیسویں نمبر پر ہے یہ اب.  سوفی نے پوچھا ۔ کیوں ہوا ایسا؟ ڈاکٹر ارما بولیں. ذمے دار عوامل تو بہت سے ہیں . مالی بد دیانتی، نا اہل حکمرانی، سیاسی اور مذہبی شدت پسندی، تعلیمی پسماندگی وغیرہ . لیکن اس بگڑتی صورتِ حال کی سب سے بڑی وجہ ہے آبادی میں بلاروک ٹوک اضافہ۔  سچ پوچھو تو کمزور جمہوریت کا سبب غیر ملکی سازشیں نہیں وہ ہجوم ہے جو ووٹ کی اہمیت اور استعمال سے واقف نہیں ۔ ٹی وی دانشور بڑھتی آبادی کے مسئلے پر بات کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ وہ طاقتور مذہبی سوچ سے خوفزدہ ہیں۔ وہ جو کثرتِ اولاد اور رزق کی فراہمی کو خدا کی ذمہ داری بتا کر سامنے کی حقیقتوں کو جھٹلاتے ہیں۔ وہ شدت پسند دھرنا ہجوم جس نے اجتمائی عقل کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ پروفیسر گل بولے ۔ہماری معیشت اور علاقائی سالمیت کو  سب سے بڑا خطرہ بڑھتی ہوئی آبادی سے ہے۔ اسی شرح پیداوار سے پینتیس برس میں آبادی چالیس کروڑ یعنی دو گنا  ہو جائے گی۔ غذایء پیداوار، رہائش، صحت اور تعلیمی سہولتوں میں اضافہ کی رفتار سب کے سامنے ہے۔ دگنی آبادی کا مطلب ہے آدھا میسر صاف پانی۔ فضائی کثافت، سمندری آلودگی، گندگی، غربت، جھونپر پٹیوں، ٹریفک، بے روزگاری، غصے اور مایوسی میں مزید اضافہ.  خوش حالی، اسکول اور ہسپتال کم، مدرسے اور تعویز گنڈوں سے علاج زیادہ۔ پھر کیا کیا جائے؟ میں نے پوچھا۔ ڈاکٹر ارما بولیں۔ بات عجیب ہے لیکن تحقیق شدہ۔ انسانی پیدائش کے عمل کو راز رکھنے کے بجانے اگر اسے بنیادی تعلیم کا حصہ بنا دیا جائے تو آبادی میں واضح کمی ہونا شروع ہو جاتی ہے کیوں کہ پیدائش پر قابو پانے کے طریقے ایسی تعلیم کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔ جب تک اس اہم موضوع پر میڈیا، تعلیمی اداروں اور اور عوامی مکالمے کے دروازے بند رہیں گے، آبادی پر قابو پانا ممکن نہیں۔  عوام خاص طور پر عورتوں کو پیدائش کے حفاظتی طریقوں سے آگاہی دینا بے حد اہم ہے ۔ مشرقی شرم و حیاء کی خود فریبی سے معاشرے کو نکال کر ان معاملات میں عورتوں کی رائے کو اہمیت دی جائے تو ہم اس تباہی سے بچ سکتے ہیں۔ پروفیسر گل بولے۔ تکلیف دہ سچ یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی شرح پیدائش بنگلہ دیش، انڈیا، سری لنکا بلکہ اس خطے کے تمام ممالک سے زیادہ ہے۔ فیصلہ اس ملک میں رہنے والوں کے ہاتھ میں ہے۔ ہم انسانی ترقیاتی انڈیکس میں ایک سو سینتالیسواں نمبر پر ہیں۔ ہماری تیس فیصد آبادی غریبی لائن سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے۔ ہم فیصلہ کن موڑ پرہیں۔ کیا ہمیں پولیو کے قطرے پلانے والوں کو قتل کرنے والی اوراجتماعی خودکشی کی حمایتی مذہبی سوچ کا ساتھ دینا ہے یا انسانی عقل و فہم پر اعتماد کر کے تعلیم اور فیملی پلاننگ کے انقلاب کا وہ راستہ اپنانا ہے جو ترقی اور خوشحالی کی سمت جاتا ہے۔ بنگلہ دیش اور ایران بھی تو مسلم ممالک ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے فیملی پلاننگ کے کامیاب پروگرام چلائے ہیں۔۔..جاری ھے

 

Namche Bazar نامچے بازار، سیج، انشے سیریل انتالیسواں انشاء Namche Bazar, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 39

Posted by: Shariq Ali
retina

Without the help of incredibly skillful Sherpa guides, the adventure of climbing Everest is unthinkable. Enjoy the story of indispensable porters, who risk their own lives every time they tackle the world’s highest mountain

I am Azm, a student at Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

 

نامچے بازار، سیج، انشے سیریل انتالیسواں انشاء، شارق علی

سرد رات کی مدھم روشنی میں کوئلوں پر رکھے سمووار سے اٹھتی تبتی قہوہ کی مہک میں حدت کا احسا س تھا۔ ہم دالان میں لکڑی کی کرسیوں پر نیم دراز ایکسپیڈیشن میٹنگ کے لئے پرتھمبا کا انتظار کر رہے تھے۔ کٹھمنڈو کے مرکزی بازار تھامل میں واقع اس گیسٹ ہاؤس میں ہمارے قیام کا پہلا دن تھا۔ رمز سیج ایلپائن کلب کے ساتھ نیپال میں گزاری چھٹی کا احوال سنا رہا تھا۔ بولا۔ تھامل کا بازار چالیس برسوں سے سیاحوں اور کوہ پیما ٹیموں کے لئے دور دراز پہاڑوں میں مہم جوئی سے پہلے خریداری اور منصوبہ بندی کے لئے عارضی قیام گاہ ہے۔ ستر کی دہائی میں حشیش کی بہتات، سستی رہائش اورکھانوں کی وجہ سے یہ بازار ہیپیوں میں مقبول ہوا۔ سیاحوں سے پر تنگ گلیاں، دونوں جانب مہم جو دلچسپی اور روز مرہ اشیا کی دکانیں، سامنے کے رخ ریستوران اور اوپری منزل یا عقب میں رہائشی ہوٹل۔ معمولی دکھتی دکانوں میں بھی کوہ پیمائی کا ایسا نادر سامان جو دنیا میں کہیں اور دستیاب نہیں۔ سردی سے بچاؤ کا لباس، برف میں نہ پھسلتے جوتے، مضبوط  خیمے، سلیپنگ بیگس، اسپریٹ لیمپس، کوہ پیما رسیاں اور جانے کیا کیا کچھ۔ چلتے پھرتے سی ڈی بیچتی دکانوں سے ابھرتی بدھسٹ اور مغربی موسیقی کی سحر انگیز دھنیں سننے کو ملتیں ۔ پہاڑی نقشے، پرانی کتابیں اور مقامی سوغاتیں بیچتے کھوکھے۔ با رونق، مصروف لیکن پر امن اور اتنا گنجان بازار کے گوگل میپ کی ہدایات نہ ہوں تو قیام گاہ تک پہنچنا مشکل ہو ۔ اوروہ پرتھمبا ؟ سوفی نے پوچھا ۔بولا۔ ارے ہاں۔ پرتھمبا ہماری ٹیم کا شرپا گائیڈ تھا جس کے ساتھ ہم ٹریکنگ پر نامچے بازار تک گئے۔ شمالی نیپال میں ماؤنٹ ایوریسٹ سے بہت قریب کھمبو اور کولنگ کی اونچی وادیوں میں بستے ہیں۔ شرپا۔ اس کا بچپن بلندیوں سے پگھلتی برف کے شور مچاتے دریاؤں سے تراشی سر سبز تنگ وادیوں اور سنگلاخ  پہاڑوں میں اچانک آ جانے والے میلوں گہرے کٹاؤ کے جغرافیہ میں گزرا ۔ اب تو وہ پڑھ لکھ کر کٹھمنڈو میں آباد ہے اور ایکسپیڈیشن کمپنی کا مالک۔ چھوٹے قد، گٹھے ہوئے بدن، گوری رنگت اور تبتی خدو خال والے شرپا پہلے دہقان اور چرواہے تھے۔ اب کوہ پیماگائیڈ اور خدمت گزار ہیں پینتالیس ہزار کی یہ آبادی دنیا کی سب سے اونچی انسانی بستیوں میں رہتی ہے۔ سطح سمندر سے تین چار کلو میٹر اوپر۔ اسی سے پتہ چلا کے قدیم شرپا ماؤنٹ ایوریسٹ کو کومولنگاما دیوتا مان کر اس کی پوجا کرتے تھے۔ زبان شرپالی کہلاتی ہے جو تبتی زبان کی بولی ہے۔ افسانوی برفانی انسان ییٹی جو بلند برفانی غاروں میں رہتا ہے شرپا لوک کہانی کا کردار ہے۔ گھر کیسے ہوتے ہیں ان کے؟ میں نے پوچھا نامچے بازار میں پرتھمبا کا آبائی گھر دیکھا۔ پتھروں سے تعمیر دو منزلہ مکان اور لکڑی سے بنی سیدھی چھت۔ نچلی منزل میں جانور اور ان کے چارے، ایندھن کی لکڑیوں اور اضافی غلے کا ذخیرہ۔ اوپری منزل میں رہائش کا انتظام.  کمروں کا فرش اور چھت لکڑی کی۔ فرش پر یاک کی کھال کا قالین۔ فرنیچر برائے نام۔ دو ایک بینچیں، باقی فرشی بستروں کا انتظام۔ ایک کونے میں پوجا اور دیا روشن کرنے کا انتظام بھی۔ اور طرزِ زندگی؟ پروفیسر گل نے پوچھا۔ بولا۔ پورا علاقہ نومبر سے فروری تک برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ صرف بوڑھے لوگ غذا اور ایندھن کے انتظام سمیت گاؤں میں رہ جاتے ہیں۔ باقی آبادی نیچے وادیوں میں ہجرت کر جاتی ہے۔ فروری میں ساری آبادی موسمِ بہار اور نئی سال کی ولولہ انگیزی لئے گاؤں کو لوٹتی ہے۔ کھیتی باڑی کا آغاز ہوتا ہے۔ گرمیوں میں بھی خوب سردی اور بارشیں۔ جولائی میں فصلوں کے کام سے فارغ ہو کر اور تجارتی قافلوں کے لوٹنے پر اور چرواہوں کے ریوڑوں کو بلند مرغزاروں پر لے جانے سے پہلے۔ دمجی کا سات روزہ تہوار منایا جاتا ہے۔ دعوتوں، رقص و سرود اور مقامی عبادتگاہوں کی زیارت کا اہتمام ہوتا ہے رنگین لباس اور ماسک پہن کر شیطانی قوتوں کو ڈرایا جاتا ہے۔ نومبر تک فصل کٹ جاتی ہے۔ کسی شرپا شادی میں شریک ہوئے تم؟ سوفی نے پوچھا۔ بولا۔ شرکت تو نہ کر سکا لیکن تفصیل ضرورمعلوم ہوئی۔ شرپا شادی زیندی کہلاتی ہے۔ شادی سے پہلے دو ایک برس لڑکے کو اپنے سسرال میں رہنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس عرصے میں ہم آہنگی ہو تو دونوں گھرانوں کی رضامندی سے شادی طے ہوجاتی ہے۔ بہترین لباس پہنے بارات پہنچتی ہے تو پہلے انہیں رقص و موسیقی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ پھر کھانا ملتا ہے دولہا اور دلہن کے ماتھے پر مکھن مل کر شادی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ جہیز میں قالین ،یاک کی کھال کے پائیدان اور مویشی دئیے جاتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ کہ عورتیں ایک سے زیادہ شوہر رکھ سکتی ہیں۔ دو بھائیوں کی ایک بیوی کوئی انہونی بات نہیں۔ ۔۔۔۔جاری ہے

 

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

16,513 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina