retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

سامراج ، ابتدا ، انشے سیریل ، پہلا انشا Imperialism, Introduction, Inshay Serial, 1st episode

Narration by: Shariq Ali
January 16, 2019
retina

Let’s look at the British Raj on the subcontinent from the eyes of Bano Ammi, a common citizen born in undivided India. Prof takes you through a historical journey simultaneously.  Lots of insight about Colonial and postcolonial era

 

 

سامراج ، ابتدا ، انشے سیریل ، پہلا انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

پروفیسر گل کی والدہ بانو امی فہم آبادکیا آئیں ہمارے معمولات زندگی میں انقلاب آگیا.  اب شام کی محفلیں ٹی ہاؤس کے بجائے پروفیسر گل کے بنگلے پر ہونے لگیں . جلد ہی وہ پورے کیمپس کی ہردلعزیز بزرگ بن گئیں.  عمر پچاسی کے قریب لیکن ذہنی طور پر بالکل تروتازہ. کھچڑی بال ، مہربان مسکراہٹ، درمیانہ قد اور دبلی پتلی،  بچپن تقسیم سے پہلے کے ہندوستان میں گزرا تھا.  اس حوالے سے بہت سی حسین یادیں وہ اکثر سنایا کرتیں. اس شام سوفی کے استفسار پر بولیں . میری پیدائش تقسیم سے پہلے کے آگرہ میں ہوئی. والد جنھیں ہم میاں کہتے تھے جوتوں کے دو کارخانوں اور کئی دکانوں اور مکانوں کے مالک تھے.  گھر میں خوشحالی تھی لیکن آنکھ کھولتے ہی پہلی محرومی والدہ کی کم عمری ہی میں وفات تھی . ابا اور بڑے بھای بہنوں کی محبت اور عم زادوں کے ساتھ دھما چوکڑی  نے کبھی اس کمی کو شدت سے محسوس تو نہ ہونے دیا لیکن پھر بھی محرومی کا یہ  احساس اندر ہی اندر کہیں دور تک بس گیا اور ساری عمر ساتھ رہا . میں تھی بھی بہت چٹاخ پٹاخ اور گڑیا سی لڑکی.  والد کو بہت پیاری تھی.  اس دور کے مسلم گھرانوں کے روایتی مذہبی ماحول کی بندشوں کے باوجودمیرا بچپن گھر کے وسیع دالان میں بارشیں نہاتے، آم کے درختوں پر جھولا جھولتے اور چھت پر آے بندروں کی ٹولیوں سے اٹھکیلیاں کرتے گزرا .   آج بھی دریا  کے کنارے تاج محل اور فتح پور سیکری کی تاریخی عمارتوں کے درمیان کسی آزاد پرندے کی طرح گزرا ہنستا کھیلتا بچپن خوب یاد ہے . پہلی بار کسی کمی کا احساس ہوا تو وہ اسکول جانے کی اجازت سے انکار تھا.  میری تعلیم کا بندوبست گھر ہی پر کیا گیا. عربی کی روائتی تعلیم اور اردو میں ہر قسم کی لکھنے پڑھنے کی مہارت کے بعد یہ سفر ذاتی طور پر بھائیوں کی اسکول کالج کی کتابوں کو پڑھتے رہنے اور پھر تمام عمر ہر موضوع پر کتابیں پڑھنے سے جاری رہا . شاید اسکول جانا میری زندگی کی سب سے بڑی آرزو تھی جو والد کی محبت ملنے کے باوجود پوری نہ ہوسکی ۔لیکن میں نے اپنے بھائیوں کی سکول اور کالج کی کتابیں جس شوق سے پڑھیں شاید انھوں نے خود بھی نہ پڑھی ہوں گی.  اس محرومی کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے اپنی اولاد کو علم حاصل کرنے کی محبت ورثے میں دی.  تمھارے پروفیسر گل سامنے کی مثال ہیں۔ رمز نے کہا . بانو امی کی کہانی انگریز سامراج کے زیر نگیں ہندوستان میں بسنے والی ایک عام زندگی کی بھر پور نمائندہ ہے. ہم اسے تفصیل سے سننا چاہیں گے . لیکن پروف کیا ہی اچھا ہو اگر آپ انگریز سامراج کے تاریخی پس منظر کی کہانی بھی ساتھ ساتھ سناتے چلے جایں . آخر وہ کون سے اسباب اور وجوہات تھیں جن کی بنا پر برطانیہ جیسے چھوٹے سے ملک نے پورے ہندوستان بلکہ دنیا کے ایک بڑے حصّے پر حکمرانی کی؟  اتنے وسیع و عریض علاقے پر حکمرانی کے لئے تو ان کے پاس افرادی قوت بھی مہیا نہیں تھی. پھر کیسے وہ ہم سب کو غلام رکھ سکے ؟ سوفی بولی . سامراجیت نے اس خطے کے عام لوگوں کی زندگی ، ان کی  ثقافت،  زبان اور معاشرت پر کیا اثرات مرتب کیے ؟. پروفیسر گل نے کہا.  بہت اچھا خیال ہے.  یہ گفتگو ہندوستان اور پاکستان میں بسنے والے بہت سے لوگوں کے لئے اپنے ماضی کو سمجھنے اور اس سے  سیکھنے کا بھرپور موقع فراہم کرے گی . پھر چاے کا بڑا سا گھونٹ لے کر بولے . انگریز سامراجی سلطنت جس پر کبھی سورج غروب نہ ہوتا تھا ہندوستان ہی سے شروع ہوئی۔ یہیں انگریز نے دُنیا پر حکمرانی کے طریقے سیکھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ معاہدہ جس نے اس خطے کی دو سو سالہ قسمت کا فیصلہ کیا وہ یہاں سے ہزاروں میل دور پیرس میں طے  پایا . کئی  برس طویل آپس کی یورپی جنگوں کے بعد برطانیہ ، فرانس ، اسپین اور پرتگال کے نمائندے  فروری سن سترہ سو تریسٹھ میں پیرس ٹریٹی میں اس بات پر متفق ہوے کہ برسوں سے جاری آپس کی جنگ کا خاتمہ کیا جاۓ  اور بقیہ غیر ترقی یافتہ دنیا کی بندر بانٹ کر لی جاے ۔ کینیڈا سے افریقہ تک پھیلی ایک وسیع دنیا کو آپس میں تقسیم کر لیا جاۓ . ان مذاکرات میں برطانیہ کی نمائندگی ڈیوک آف بیڈفورڈ نے کی ، ایک مغرور اور مفاد پرست انگریز جس  نے کبھی ہندوستان کا سفر نہ کیا تھا.  اس کی عیار سیاسی سوجھ بوجھ نے ان امن مذاکرات سے برطانیہ کے لئے بے حد دوررس مفادات حاصل کر لئے.  برطانیہ کو  ہندوستان پر تسلط کا حق مل گیا . اسی فیصلے نے بالآخر برطانیہ کو عالمی سامراجی طاقت بنایا—— جاری ہے

پرسکون نیند ، فکر انگیز انشے Sound sleep, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Sound sleep is essential for health and wellbeing. It ensures physical and mental health and quality of life

 

 

پرسکون نیند ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

پرسکون نیند اچھی صحت کے لئے بے حد اہم ہے.  چند سادہ سے اصول اپنا کر ہم اسے حاصل کرسکتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ جاگنے اور سونے کے اوقات منظم ہونے چاہییں۔ اور کچھ رعایت کے ساتھ یہ اصول چھٹی کے دنوں پر بھی لاگو ہوتا ہے .  وجہ یہ ہے کہ ہمارا جسمانی اورذہنی نظام جس میں ہمارا سونا اور جاگنا شامل ہے ایک اندرونی گھڑی کے ماتحت ہوتا ہے۔ اگر ہمارے سونے اور جاگنے میں باقاعدگی ہو گی تو ہمارا جسم اور ذہن قدرتی طور پر ہم آہنگ رہے گا ۔ بہتر ہوگا کہ ہم سونے سے ذرا پہلے سونے کی تیاری میں کچھ وقت صرف کریں۔ جیسے دھیمی روشنی کا استعمال اور دانت صاف کرنے کے بعد کسی دلچسپ اور پرلطف کتاب کا مطالعہ۔ ایسے ٹی وی پروگرام یا فلم دیکھنے سے پرہیز کیجیے کہ جو آپ کے جذبات اور احساسات کو بھڑکا سکتی ہیں کیوں کہ اس سے  پرسکون نیند میں خلل پڑنے کا امکان ہے۔ رات میں ایک لمبی نیند لینا ان لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہے جو دن میں کئی بار چھوٹی چھوٹی نیند لینے کے عادی ہوں۔ دوپہر کو یا چھوٹے چھوٹے وقفوں میں سونے کی عادت سے چھٹکارا حاصل کیجیے۔ ہلکی ورزش نہ صرف صحت کے لئے اچھی عادت ہے بلکہ پرسکون نیند کے لئے بھی بہت مددگار ہوتی ہے۔ اگر لمبی نیند آپ کے لئے ایک مشکل مرحلہ ہے تو اپنے کمرے کے ماحول پر ذرا نظر کیجیے.  کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کا کمرہ سونے کے اوقات میں بہت گرم یا بہت ٹھنڈا ہوتا ہے؟  اس میں روشنی کا انتظام مناسب نہیں.  مثلا بہت تیز روشنی موجود ہے. یا کھڑکیاں کھلی ہونے کی وجہ سے شور بہت زیادہ ہے.  یا کسی اور کے خراٹے آپ کو جاگنے پر مجبور کرتے ہیں.  آپ ان میں سے کسی بھی مسئلے پر مناسب کارروائی کرکے پر سکون نیند کے لئے کمرے کا ماحول بہتر بناسکتے ہیں. جس بستر اور تکیے کا استعمال آپ سونے کے دوران کرتے ہیں کیا وہ جسمانی طور پر آپ کے لئے آرام دہ ہے ؟ اگر نہیں تو اس سلسلے میں مناسب تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں . اب آپ سے اجازت —- وییلوورسٹی، شارق علی

سوچ ، فیصلہ تیرا ، ویلیوورسٹی Think, DECISION IS YOURS, A DIALOGUE

Posted by: Shariq Ali
retina

To think is good or bad, the decision is yours

 

 

 

سوچ ، فیصلہ تیرا ، ویلیوورسٹی

سوچتے ہو ؟

نہیں

 کیوں؟

 ایک تو فرصت نہیں پھر فرق بھی کیا پڑے گا

تو پھر کس بات سے فرق پڑے گا؟

رقم کمانے سے

کیا مطلب؟

 کپڑے ، جوتے ، عزت، حج ، عمرہ سب رقم ہی سے تو ہوتا ہے

وہ سنی ہے تم نے  . نوجوان  نے بینک مینجر سے اپنے اکاونٹ میں ہر ہفتے ایک لاکھ روپے جما کروانے کا وعدہ کیا اور باقاعدگی سے ایسا کرتا بھی رہا تو مینیجر کو شک ہوا.  اس نے پوچھا  تم تو بیروزگار ہو یہ ہر ہفتے ایک لاکھ کہاں سے . نوجوان نے کہا شرط  جیت کر.  مینجر نے کہا شرط تو کبھی جیت ہے کبھی ہار.  یہ ہر بار کی جیت کیسی. نوجوان بولا   سوچی سمجھی شرط سے . چلو ایک لاکھ کی شرط کے اگلے ھفتہ  تمھارے کان لکڑی کے ہو جایں گے.   منجر نے شرط قبول کر لی .  ہفتے بعد نوجوان ایک اور آدمی کے ساتھ مینجر کے پاس  آیا منیجر نے بخوشی اپنا کان نوجوان کے سامنے کر دیا اور اس نے یہ کان اچھی طرح مروڑا ہی تھا کے ساتھ آیا اجنبی زمین پر گر کر بے ہوش ہو گیا. مینجر ے پوچھا اسے کیا ہوا . نوجوان بولا میں نے اس سے دولاکھ کی شرط لگائی تھی کہ تمہارے دفتر میں گھس کر تمہارا کان مروڑوں گا

کہانی تو اچھی ہے لیکن  اسکول کی فیس،  بجلی ، گیس،  پٹرول کا خرچہ سوچنے نہیں دیتے

 گھر ، دفتر  شہر کے مسائل کا حل، نئی دریافت اور بہتری سوچ و بچار  کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے

 جو ہے اسے ویسا شکر و صبر کے ساتھ قبول کر لینا تو اچھی بات ہے، جو سب کرتے ہیں  وہی کرتا ہوں میں بھی ، جب عادتوں اور خواہشوں کے پیچھے چلنا آسان ہے تو سوچنے کی کھکھیڑ کا فائدہ .  جب لوح ازل پر سب کچھ لکھا ہے،  کتاب بھی ہے اور پیروی کا حکم بھی تو سوچنے میں کیا ثواب ۔  پھر سوچنا مشکل ہے اور مان لینا آسان، سوچ سر درد ہے اور  پریشانی بھی

سوچ تو سکھ ہے . اسی کی انگلی تھام کر انسان غاروں،  جنگلوں سے نکلا ،  بستیاں آباد کیں ، تہذیبی ارتقا ممکن ہوا . معاشرے خود پر سوال اٹھانے ہی  سے بہتر ہوئے۔ دریافتیں اور انقلابی ترقی سوچنے سے ممکن ہوئی. رینسساں ، دور دلائل وغیرہ

بے دین معاشروں کی بات کر رہے ہو ؟

نہیں انسانی تہذیبی ارتقا کی . فیصلہ تیرا بھائی

شارق علی ، ویلیوورسٹی

اخلاقی قدریں ، فکر انگیز انشے Moral values, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Defining values is the most fundamental step in the life of an individual or for building the nation.  It affects decisions, goals, and destiny

 

 

اخلاقی قدریں ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

قدروں سے میری مراد ہے وہ اخلاقی اصول جن کو بنیاد بنا کر ہم اپنی زندگی کے چھوٹے بڑے فیصلے کرتے ہیں. سوال یہ ہے کہ اجتماعی قدروں سے آگاہی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے ؟  اگر ہم ایک قوم کی حیثیت سے پرامن طور پر اور  مل جل کر رہنا چاہیں تو اجتماعی قدروں پر اتفاق رائے پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے.  ایسی قدروں سے ہمارا پہلا تعارف اپنے بچپن میں ہوتا ہے اور ہم انھیں بلا سوچے سمجھے قبول کر لیتے ہیں.  یہ بات بہت اہم ہے کہ ہم ذہنی بلوغت حاصل کرنے کے بعد دوبارہ ان پر نظر ڈالیں. خود سے سوال کریں کہ  معاشرے میں رائج  رسموں ، تعلیم اور مذہب کے نام پر جو اخلاقی اصول ہمیں دیے گئے ہیں کیا وہ عقلی اور انسانی معیارات پر پورا اترتے ہیں یا نہیں؟  مثلاً یہ کہ کیا دولت کمانا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ہمارے معاشرے میں سمجھا جاتا ہے؟  قدروں کی آگاہی آسان ہوجاتی ہے جب ہمیں سوال کرنے کی آزادی میسّر ہو.  اپنے والدین سے، اپنے بزرگوں سے،  دوستوں سے اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے. لیکن یہ اظہار خیال عقلی بنیاد پر ہو.  دلیلوں کا استعمال کیا جا ے ، الزام تراشی کا نہیں.  آپ جن لوگوں پر اعتماد رکھتے ہیں ان سے سوال کیجیے.  ان سے اظہار خیال کیجیے.  وہ کن اجتماعی اخلاقی اصولوں پر یقین رکھتے ہیں؟ پھر ان کے بیان کردہ زبانی نقطہ نظر کے علاوہ ان کی عملی ترجیحات پر بھی ذرا غور کیجئے. پھر خود اپنے قول اور فعل کے بارے میں سوچیے . کیا آپ کی ترجیحات ، پسند اور نا پسند زندگی کے مختلف ادوار میں مستحکم رہی ہے؟    جب زندگی میں اہم فیصلوں کا وقت آیا تو آپ نے کس قسم کے فیصلے کیے؟  اور ان سے پیدا ہونے والے نتائج آپ کی توقعات کے مطابق تھے یا نہیں؟ کیا وہ فیصلے سکھائے گئے خاندانی یا معاشرتی اخلاقی اصولوں کے ماتحت تھے؟  کیا  عمر بڑھنے کے ساتھ آپ کی ترجیحات میں ،  آپ کے فیصلے کرنے کے انداز میں تبدیلی آئی ہے؟  جب آپ اپنی زندگی پر اور اپنے اردگرد بسنے والوں کی زندگی پر نظر ڈالیں گے تو آہستہ آہستہ آپ انفرادی اور اجتماعی قدروں سے آگاہ ہوں گے.  ہم میں سے بیشتر لوگ جو اخلاقی اصول زبانی طور پر بیان کرتے ہیں اپنی عملی زندگی میں انہیں لاگو نہیں کرتے. ان اخلاقی تضادات کی جڑیں ہمارے بچپن، ہمارے معاشرے اور مذہبی تعلیم کے حوالے سے سکھائی گئی قدروں تک پوھنچتی ہیں . خود سے اور اپنے دوستوں سے سوال کیجیے کہ کیا آپ اور آپ کے دوست سماجی انصاف پر یقین رکھتے ہیں؟    کیا یہ بات آپ کے روزمرہ عمل اور آپ کی ترجیحات سے جھلکتی ہے؟  یہ دیکھیے کہ زندگی کا کونسا ایسا پہلو ہے جس پر آپ اخراجات کرنے سے نہیں جھجھکتے .  کیا سیروتفریح آپ کی بنیادی ترجیح ہے یا سماجی فلاح کے کاموں میں حصہ لینا ؟  اگر آپ ادیب ہیں تو کیا داد و ستائش کے طلبگار ہیں یا قاری کے مفاد کے ؟ آپ جن قدروں  پر یقین رکھتے ہیں ان کی ایک فہرست بنالیں.  پھر ایک ایک کر کے ان پر غور کریں ، دوستوں سے اظہار خیال کریں.  چلئے کچھ اجتماعی اخلاقی قدروں کی نشاندہی میں کئے دیتا ہوں مثلا دیانتداری،  توازن ، ہمدردی،  احترام ،  سخاوت،  صحت کا خیال، مسلسل سیکھنا ، دانش مندی اور محبت . ان میں سے ایک ایک موضوع پر ذرا غور کیجیے .  دوستوں سے اور اپنے خاندان والوں سے ان موضوعات پر گفتگو کا وقت نکالیے . دریافت کیجئے کہ خود انحصاری پر،  باہمی تعاون یا مالی استحکام پر اور انکساری اور صبر و استقامت پر ان کے اور آپ کے خیالات کیا ہیں؟  اپنے اندر موجود اخلاقی اصولوں تک اسی غور و فکر کے ذریعہ ہی سے پوھنچا جا سکتا ہے .  اپنے روزگار اور اپنی زیر مطالعہ کتابوں پر ایک نظر ڈالیے .  یہ بات آپ پر واضح ہوتی چلی جا ے گی کہ آپ کے لئے زندگی میں کیا چیز زیادہ اہم ہے.  کون سے اخلاقی اصول ایسے ہیں جن کے تحت آپ زندگی بسر کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں.  ہم انسانوں کے پاس ایک ہی راستہ ہے.  سوچ وبچارکا راستہ.  اپنی عقل کے استعمال کا راستہ.  اور صرف یہ راستہ ہی دانش مندانہ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتا ہے.  اب آپ سے اجازت —-  ویڈیو سٹی،  شارق علی

خوشی ، فیصلہ تیرا ، ویلیورسٹی ، شارق علی Happiness, Decision is yours, a dialogue

Posted by: Shariq Ali
retina

A brief dialogue in search of human happiness

 

 

خوشی ، فیصلہ تیرا ، ویلیورسٹی ، شارق علی 

کیا ڈھونڈھ رہے ہو بھائی ؟

خوشی

رکھی کہاں تھی؟

اب کچھ یاد نہیں

ہزار بار کہا ہے چیزیں سنبھال کر رکھا کرو . اب پوچھو کسی سے

پوچھا ہے مگر کسی کو معلوم نہیں

کس سے پوچھا ؟

روز کی دیہاڑی کمانے والیے مزدور سے بھی اور اربوں کھربوں کی کرپشن کرنے والوں سے بھی . سب پلٹ کر یوں دیکھتے ہیں جیسے خود گم شدہ ہوں

سماجی رویوں میں دیکھو شاید مل جاے

کیا مطلب؟

رزق حلال کی عزت یا ٹھٹھا ، شرافت کی دال روٹی پر فخر یا اوپر کی کمائی کے اللے تللے ، باد تمیز پیلا اسکول یا انگلش بول چال ، مکیش امبانی سٹائل شادی یا چلتی چلی جاتیں جھونپڑ پٹیاں

اتنے بڑے ڈھیر میں کون ڈھونڈے گا چھوٹی سی خوشی کو

کاٹھ کباڑ تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہے

وہ کیا ؟

عالمی انسانی حقوق کے نعرے اور اسلحے کا کاروبار ، آئ ایم ایف کی مدد یا غلامی ، عالمی منافقت بنام سیاست وغیرہ

چلو چھوڑو مٹی پاؤ خوشی کو

یعنی

کسی ملتی جلتی چیز سے کام چلا لیتے ہیں ، جیسے قلم نہ ملا تو کوئلہ ہی صحیح

کیسے ؟

دکھاوے کا بھرم ، کھوکھلی شہرت ، آخرت میں جنّت کے مزے ، ہزار روپے کا پان وغیرہ

فیصلہ تیرا بھائی

 شارق علی ، ویلیوورسٹی

پڑھا لکھا بنیئے ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Well read, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

“Parha Likha” is someone who engages in critical thinking and reflection about life in general. Here are a few qualities

 

 

پڑھا لکھا بنیئے ، فکر انگیز انشے ،  شارق علی

پڑھے لکھے سے یہاں مراد ہے ایک ایسا شخص جو علم حاصل کرنے ، سیکھتے رہنے اور بہتر سے بہتر ہونے کو زندگی بھر کی جدوجہد سمجھتا ہے.  جو اپنی ذہنی کشادگی کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے.  وہ نہ صرف علم رکھتا ہے بلکہ مہذہب بھی ہوتا ہے.  اپنے اندر اور باہر  کی دنیا سے واقف ۔ وہ حالات حاضرہ کی خبر رکھتا ہے .  فنون لطیفہ سے لطف اندوز ہو سکتا ہے .  اگر آپ بھی ایسا ہی شخص بننا چاہیں تو سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ زندگی سے واقفیت بڑھائیے ۔ معلوماتی انقلاب کے موجودہ دور میں یہ بات انتہائی آسان ہے.  اپنی پسند اور رجحان کے مطابق اخبارات یا الیکٹرانک میڈیا سے چند ایسے انتخاب کیجیے کہ جو آپ کو دنیا سے با خبر رکھ سکیں اور  بغیر وقت ضائع کیے متعلقہ معلومات فراہم کر سکیں.  کو شش کیجیے کہ آپ عالمی تناظر میں مسائل کو سمجھ سکیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے ارد گرد سے بھی واقف رہ سکیں ۔ جو حقائق آپ کے سامنے پیش کیے جائیں اُن پر ہمیشہ تنقیدی نظر ڈالیں.  اُنہیں من وعن تسلیم نہ کریں.  بلکہ ذاتی قوت استدلال کو استعمال کریں.  ہو سکتا ہے اخبارات اور نیوز چینل کا اپنا ایجنڈا ہو لیکن درست رائے قائم کرنا آپ کی ذاتی ذمہ داری ہے.  اپنی ذاتی دلچسپی اور رجحان کے اعتبار سے کتابیں اور رسائل  پڑھنا ایک اچھا مشغلہ ہے لیکن اگر آپ متعلقہ معلومات انٹرنیٹ اور  سوشل میڈیا کے دانشمندانہ استعمال سے حاصل کر سکتے ہیں تو  آپ کی رسائی کم وقت میں زیادہ معلومات تک ہو سکتی ہے.  پڑھے لکھے ہونے کی ایک نشانی ثقافتی طور پر متحرک ہونا بھی ہے.  مثلاََ وہ لوگ جو میوزیم ، لائیبریری یا آرٹ گیلری سے استفادہ کرتے ہیں ممکنہ طور پر زیادہ ذہنی کشادگی رکھتے ہیں ۔ ایک پڑھا لکھا شخص نہ صرف سائنسی معلومات میں  دلچسپی رکھتا ہے بلکہ فنون لطیفہ کے بارے میں بھی جوش رکھتا ہے.  کیونکہ زندگی کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے تصویر کے دونوں رُخ دیکھنا ضروری ہے۔ ادب اور شاعری نہ صرف آپ کی حساسیت بلکہ ذہنی فکر میں بھی وسعت پیدا کرتی ہے.  فلسفہ بظاہر تو عملی علم معلوم نہیں ہوتا لیکن  فلسفیانہ انداز فکر بہتر فیصلہ سازی میںبے حد کار آمد ہے . فلسفہ سوچنے کا انداز ہے ، دُنیا کو دیکھنے اور برتنے کی انفرادیت ہے اور فکری تہذیب بھی.  یہ ذہنی تربیت عملی زندگی میں بیحد کار آمد ہے.  جو بات افکار کو منظم کرتی ہے وہ ہے لکھنا .  چاہے وہ ہمارے ذاتی نوٹس ہو ں یا کو ئی تخلیقی تحریر.  لکھنے سے ہماری سوچ منظم ہوتی ہے.  کسی موضوع کے بھرپور سیکھنے کے لیے اُس موضوع پر لکھنے سے بہتر کوئی اور طریقہ نہیں۔  ہو سکتا . ہو سکتا ہے  یہ بات آپ کو بہت عجیب لگے کہ اگر آپ پڑھا لکھا ہونا چاہتے ہیں تو فلمیں دیکھیے.  اچھی فلمیں سیکھنے کا بھرپور ذریعہ ہوتی ہیں.  بعض اوقات اچھوتے موضوعات پر کسی فلم سے اتنا کچھ سیکھا جا سکتا ہے جو کسی کتاب یا درسگاہ میں میسر نہ ہو گا.  ظاہر ہے کہ انتخاب دانشمندانہ ہونا چاہیے یہ بات اصول تو نہیں لیکن عموماً پڑھے لکھے لوگ اچھی موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ کوشش کیجیے کہ  اردگرد کے ماحول میں جو دیگر پڑھے لکھے لوگ موجود ہیں آپ ان سے سیکھ سکیں .  اب آپ سے اجازت —– ویلیوورسٹی ، شارق علی

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,058 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina