retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

انطالیہ کا سلطان ، سیج یونیورسٹی، انشے سیریل ، اڑتالیسواں انشا Antalya, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 48

Narration by: Shariq Ali
November 18, 2018
retina

Antalya is the pearl city of the Mediterranean and Turkish Riviera.  A combination of history and natural beauty makes it a favorite destination for many tourists. Meet the Sultan in this story

https://www.youtube.com/watch?v=bXekGUDdVco&feature=youtu.be

انطالیہ کا سلطان ،  سیج یونیورسٹی،  انشے سیریل ، اڑتالیسواں انشا ،  شارق علی

ہم انطالیہ میں تھے . پروفیسر گل سفرنامے کے موڈ میں تھے . بولے . آبادی کے لحاظ سے ترکی کا پانچواں بڑا شہر ہے یہ  . طورس پہاڑیوں کے پس منظر میں میڈی ٹرینیان کے حسین کناروں پر دو سو قبل مسیح سے آباد ایک پر وقار قدیم  شہر،  جس نے رومن اور سلجوقی دور میں اپنا عروج دیکھا ہے  . یہ آج بھی سیاحوں کی محبوب ترین منزلوں میں سے ایک ہے . ہمارا قیام ایحان ہوٹل میں تھا جو شہر کے قدیم حصّے کلیسی سے صرف چند سو گز کی دوری پر تھا ۔ سامان کمرے میں رکھ کر پیٹ پوجا کے لیے نکلے تو مغرب ڈھل چکی تھی.  مشہور ٹرکش بیکری ریستوران سیمت سرائے میں نرم بیگل کے ساتھ پنیر اور موزیک کیک کا ایک ٹکڑا کھایا،  لطف آگیا ۔ پھر سیاحوں سے بھرے با رونق جمہوریت میدان میں دیر تک ٹہلتے رہے.  وہیں ایک پہاڑی پر بنی گیلری سے کوئی دو سو فُٹ نیچے قدیم انطالیہ کی بندرگاہ پر نظر ڈالی تو منظر کی دلکشی دیکھ کر دنگ رہ گئے ۔ انگریزی حرف سی کی شکل کی قدرتی بندرگاہ  کے دونوں کونوں پر بنے روشن لائیٹ ہائوسز کی روشنی اور اُن کے درمیان سے گذرتی آبی گزر گاہ  جو میڈیٹر ینین کے کھلے سمندر تک کشتیوں کو رسائی فراہم کرتی ہے۔ کنارے پر ترتیب سے لنگر انداز بادبانی کشتی نما موٹر بوٹس اور ساتھ بنے با رونق ریستورانوں میں سیاحوں کی چہل پہل. رات کے اندھیرے میں یہ  جھلملاتی بندرگاہ اور وہاں سے پہاڑی پر بنے قلعہ اور قدیم شہر تک اوپر جاتی اور باغ سے گزرتی سیڑھیاں ، سلجوقی طرز کے تراشیدہ پتھروں سے بنے زرد روشنیوں میں نہاے مکانات اور پر رونق بازار.   جیسے کوئی سحر انگیز پریوں کا دیس۔ منظر اتنا دلکش تھا کہ یہ سب قریب سے اور چھو کر دیکھنے کی خواہش نے بے تاب کر دیا ۔  اگلی صبح ناشتے کے بعد ٹیکسی پکڑی اور کلیسی کی تفصیلی سیر کے لئے ہیڈرین گیٹ پہنچ گئے ۔ رومن بادشاہ ہیڈرین کی انطالیہ آمد کے موقع پر ایک سو تیس صدی عیسوی میں تعمیر کیا جانے والا یہ فتح مندی کا یادگاری دروازہ آج بھی قابلِ دید ہے ۔ یہ اُس زمانے کے شہر اور اُس کی فصیلوں کی واحد یادگار ہے جو اب تک باقی ہے۔ اسے ۱۸۱۷ء میں ایک آئرش  نے دریافت کیا تھا ۔ سنگلاخ پتھروں سے بنے چار ستونوں پر تین محرابی دروازے جو تقریباً آٹھ میٹر اونچے ہیں اور ویسے ہی سنگلاخ پتھروں سے بنا فرش اور چڑھتی اُترتی سیڑھیاں . تیرھویں صدی میں سلجوق بادشاہ کیکا باد کے زمانے میں اس کی تعمیر نو ہوئی تھی.  شاید یہی باقیات اب تک موجود ہیں کیونکہ دیواروں پر کنداں عربی عبارت اب تک صاف پڑھی جاسکتی ہے ۔ کلیسی قدرتی بندرگاہ کے ساتھ واقع  ہلکی سر سبز پہاڑیوں پر بسی مسحُورکن قدیم بستی ہے . اُونچے نیچے راستوں پر چہل قدمی کرتے اور قدیم محلات نما گھروں کے پاس سے گذرتے اس کے حسن سے تعارف گہری انسیت میں بدل جاتا ہے ۔ دونوں جانب صدیوں پرانی محلات نما حویلیاں ہیں جن میں سے اکثر پانچ ستارہ ہوٹلوں میں تبدیل ہو چکی  ہیں. اب وہاں کیکباد یا عثمانی دور کے امرا نہیں ، دور دراز سے آے سیاح چند روز قیام کرتے ہیں. رات ہوتی ہے تو سنگلاخ طرز تعمیر پر چھپپے ہوے قمقموں سے گرتی روشنیاں کچھ ایسا تاثر دیتی ہیں  جیسے ہر سمت مشعلیں اور چراغ روشن ہوں.  دور دراز مسافتوں سے آے اجنبی ملاحوں کو خوش آمدید کہتا صدیوں پرانا ماحول دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے  ۔ فصیلوں سے گھرا کلیسی تاریخی اعتبار سے تو رومن زمانے میں  آباد ہوا لیکن تیرھویں صدی میں تعمیر شدہ بیشتر عمارتیں مجموعی ماحول کی نمائندگی کرتی ہیں.  ساتھ جُڑے بازار جدید انطالیہ کے بازاروں تک چلتے چلے گئے ہیں۔ دوسرے دن بندرگاہ پوھنچے اور دو سو لیرا کا ٹکٹ لے کر  جب ہم بادبانی شکل کی دو منزلہ موٹر بوٹ میں سوار ہونے لگے تو سفید جرسی اور نیلا نیکر پہنے، کچھ رومن کچھ ترکتش خد و خال والا، ادھیڑ عمر ، ہنستا مسکراتا میزبان ملاح، سلطان، خوش آمدید کہنے والوں میں سب سے ممتاز تھا.  سیر کا آغاز ہو ا اور کشتی آبی گذرگاہ کے دائیں بائیں لائیٹ ہائو سز کے درمیان سے ہو کر گذری اور کھلے سمندر میں پہنچی تو ہم سب کی تواضع ترکش قہوہ سے کرنے والوں میں وہ سب سے پیش پیش تھا ۔  پھر اُس نے کیمرہ نکالا اور ہم سب کی فرداً فرداً تصویریں کھینچیں . پندرہ منٹ کے وقفہ کے بعد وہ یہ تصویریں لیے ہم سب کے پاس باری باری گھومنے اور راضی ہونے پر بیس لیرا فی تصویر بیچنے میں کامیاب ہو ا  ۔ گٹھی ہوئی جسامت اُسے کسی قدیم رومن ملاح سے مشابہت دے رہی تھی.  ایک ایسا مہم جُو  جو رومن عروج میں بادبانی کشتی میں بیٹھ کر قسمت آزمانے انطالیہ آیا ہو اور پھر یہیں کسی مقامی عورت اور اس شہر کے حسن سے مسحور ہو کر آباد ہو گیا ہو . ہو سکتا ہے اُس کے دائیں رُخسار پر دکھتا زخم کسی پُرانی جنگ میں دشمن کی تلوار کا وار ہو . ہو سکتا ہے وہ اُس فتح مند گروہ کا حصّہ ہوجو ہیڈرین کے ساتھ فتح مندی کے دروازوں سے ہو کر جب شہر میں پہنچا ہو  تو شہریوں نے اُس کا والہانہ استقبال کیا ہو.  وقت کتنا ظالم  ہے کہ اب اسے سیاحوں کو قہوہ پیش کر کے ہونے والی آمدنی سے گزارا کرنا پڑتا ہے ۔ بادبانی کشتی سیر سے واپسی پر قدرتی بندرگا ہ کی طرف بڑھی تو دائیں طرف کنارے کی اونچی سنگلاخ چٹانوں سے پھوٹتی میٹھے پانی کی دودھن آبشار تھی جو  جھرنے کی صورت سمندر کی لا متناہی وسعت میں شامل ہو رہی تھی.  جیسے کسی فرد کی انفرادی زندگی تاریخ کی لا متناہی وسعت میں گم ہوتی ہوئی—– جاری ہے، شارق علی

 

 

جاب انٹرویو ، فکر انگیز انشے job interview, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Getting a job is more than sheer luck.  Performing well at interview is absolutely vital. Here are few tips

http://https://www.youtube.com/watch?v=nU0rwwblStk&feature=youtu.be

جاب انٹرویو ، فکر انگیز انشے ،  شارق علی

اگر آپ نوکری کے سلسلے میں کسی انٹرویو کی تیاری میں مصروف ہیں تو یہ چند باتیں آپ کے لیے مفید ہوں گی ۔ پہلی بات تو یہ کہ جس بھی کمپنی یا ادارے کے لیے آپ انٹرویو دینے والے ہیں ۔ اس کے بارے میں خوب معلومات اکٹھی کیجیے۔  اُس ادارے کے مقاصد کیا ہیں ؟ اُس کا انتظامی ڈھانچہ کیسا ہے ؟ اور وہ آج کل کن منصوبوں پر کام کر رہی ہے ؟ یہ تحقیق آپ کو انٹرویو کے دوران پینل کو یہ تاثر دینے میں کامیابی دے گی کہ آپ نہ صرف اس کمپنی کے اغراض و مقاصد سے واقف ہیں ۔ بلکہ ایک ٹیم ممبر کی حیثیت سے آپ کمپنی کے لیے بے حد کا رآمد ثابت ہوں گے ۔ یاد رکھیے کسی بھی انٹر ویو میں کچھ مخصوص سوالات ہوتے ہیں ۔ آپ کو ان سوالات کے حوالے سے منظم تیاری درکار ہو گی ۔ مثال کے طور پر ایک عمومی ابتدائی سوال ہے  آپ ہمیں اپنے بارے میں بتایئے ؟ یہ سوال ایک موقع فراہم کرتا ہے جس میں آپ اپنے اعتماد ، گفتگو کے فن، اپنی قابلیت اور صلاحیت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں. کچھ اور اہم سوالات مثلاً یہ کہ آپ اپنے آپ کو پانچ سال بعد کس مقام پر پاتے ہیں ؟ یا یہ کہ کیا آپ ایک بہتر ٹیم ممبر ہیں یا مشکل صورتِ حال میں آپ کا طرز عمل کیسا ہوتا ہے ؟ یہ ایسے کھلے ہوئے سوالات ہیں کہ آپ کا تیار کردہ جواب سلیکشن پینل کی نظروں میں آپ کی اہمیت میں اضافہ کر سکتا ہے . آپ کو  انٹرویو کے لیے مناسب لباس اور مہذب طرز عمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا ۔ انٹرویو کے مقام پر بروقت پہنچئے۔ آپ کے بدن کی بولی یعنی آپ کی جسمانی حرکات اور آپ کی گفتگو کا انداز اس بات کا مظہر ہونا چاہیے کہ آپ پُر اعتماد ہیں اور پُر سکون بھی اور آپ نے اس انٹرویو سے پہلے مکمل تیاری کر رکھی ہے ۔ انٹرویو کے آغاز میں ابتدائی تاثر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کمرے میں داخل ہوتے وقت نشست و برخاست کے دوران اور سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اگر آپ یہ ثابت کر سکیں کہ آپ قابل اعتماد ہیں، مثبت طرز فکر رکھتے ہیں.  جس موضوع پر گفتگو ہو اسی پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھتے ہیں اور مختصر اور کار آمد گفتگو کرنے کے عادی ہیں تو خوشخبری کے لیے تیار رہیے۔

تیاری کے دوران بدن کی بولی میں اعتماد کا مظاہر ہ کرنا سیکھیے ۔ اگر آپ سے کہا جائے کہ آپ کوئی سوال کیجیے تو کوئی اہم اور ضروری بات پہلے سے ذہن میں تیار رکھیے لیکن غیر ضروری گفتگو سے پرہیز کیجیے۔ جس طرح ابتدا بہت اہم ہے با لکل اسی طرح انٹر ویو کا اختتام بھی انتہائی اہم ہے اپنے اعتماد ، خوش اخلاقی اور سنجیدگی کو برقرار رکھتے ہوئے تمام موجود لوگوں کا شکریہ ادا کیجیے اور رابطہ کے طریقۂ  کارکو بہتر طور پر سمجھ لیجیے اور پُر اعتماد قدموں سے انٹرویو کے کمرے سے باہر چلے جائیے —– ویلوورسٹی، شارق علی

فبنگ سے چھٹکارہ ، فکر انگیز انشے Phubbing, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

The habit of snubbing someone in favor of a mobile phone is common, very annoying and can harm your relationships. Let’s get rid of it

 

 

فبنگ سے چھٹکارہ ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

کمپیوٹر اور موبائل فون جیسی سہولتوں نے ہماری زندگی کو بہت آسان بنا دیا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ ایسے نئے مسائل کو  بھی جنم دیا ہے جو ہماری خاندانی اور سماجی زندگی پر منفی انداز سے اثر انداز ہو رہے ہیں . انہی میں سے ایک مسئلہ فبنگ کہلاتا ہے ۔ فبنگ سے مراد ہے  ایسی سماجی صورتِ حال جس میں کوئی شخص دوران گفتگو مخاطب کے بجائے اپنی توجہ موبائل فون کی سکرین پر مرکوز رکھتا ہے ۔ظاہر ہے کہ ایسی صوتِ حال انسانی رشتوں کے درمیان دیوار کھڑی کر سکتی ہے ۔ انسانی مسرتوں میں سب سے اہم وہ خوشیاں ہیں جو ہم اپنے خاندانی رشتوں، اپنے دوستوں اور دیگر سماجی رشتوں کے حوالے سے حاصل کرتے ہیں. ان رشتوں کو برقرار  رکھنے میں ایک دوسرے سے مخاطب ہونا ایک دوسرے  پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھنا انتہائی اہم ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق جب عام لوگوں سے اس بارے میں رائے لی گئی تو اُن میں سے چھیتر فیصد لوگوں نے فبنگ کو ایک منفی عادت قرار دیا اور وہ سب اس مسئلہ کے حل پر زور دیتے ہیں. ہو سکتا ہے کہ ہمارے پاس یہ بہانہ ہو کہ ہم  اپنی توجہ کو اسمارٹ فون پر مرکوز رکھ کر مسلسل سیکھتے رہتے ہیں . لیکن کیا ہم  یہ بھاری قیمت ادا کرنے پر راضی ہیں کہ ہمارے خاندان کے افراد ، ہمارے دوست اور وہ سماجی رشتے جو ہمارے لیے اہم ہیں اس عادت کا شکار ہو جائیں؟   اگر نہیں تو آئیے فبنگ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کچھ تجاویز پر نظر ڈالیں ۔ پہلا کام تو یہ کیجیے کہ وہ تمام سوشل پلیٹ فارمز جو آپ استعما ل کرتے ہیں مثلاََ فیس بُک ، ٹویٹر، انسٹاگرام یا ای میل وغیرہ ، اُس کی سیٹنگز میں جا کر اپنے نوٹیفیکیشنز کو محدود کرتے چلے جائیے اور صرف اہم نوعیت کے نوٹیفیکیشنز کے لیے اجازت دیجیے ۔ بہت سے غیر ضروری نوٹیفیکیشنز نہ صرف آپ کے موبائل کی بیٹری خرچ کر دیتے ہیں بلکہ آپ کی توجہ کو بھی منفی انداز سے استعمال کرتے ہیں . پھر میسجز کے لیے تمام پِری ویوز کو بند کر دیجیے.  ایسے تما م میسجز آپ نہ صرف ایک مخصوص وقت میں پڑھ سکتے ہیں بلکہ اُن کا مناسب جواب بھی لکھ سکتے ہیں۔ تیسری تجویز اور وہ یہ کہ جب بھی آپ کسی اہم خاندانی مصروفیت خاص طور پر ساتھ کھانا کھانے میں مصروف ہوں تو آپس میں طے شدہ اصول کے تحت موبائل فون کے استعمال کو قطعی طور پر ممنوع قرار دیجیے ۔ عادت ڈالیے کہ جب آپ صبح اُٹھتے ہیں تو فوراََ ہی اپنے موبائل فون کی طرف  نہ لپکیں ۔ اس کے بجائے آپ بستر میں لیٹے لیٹے کچھ دیر کے لیے اپنے آنے والے دن کے متعلق سوچ سکتے ہیں.  مثلاََ یہ کہ اُسے بہتر اور منظم طور پر کیسے گذارا جائے ۔ اس طرح آپ کے دن کا آغاز پُرسکون انداز میں ہو گا ۔ میری ذاتی رائے میں آپ اپنے موبائل فون کے لیے پورٹ ایبل چارجر خریدنے سے پرہیز کیجیے ۔یقین جانیے اگر آپ کے فون کی بیٹری ختم ہو گئی تو دنیا جُوں کی تُوں چلتی رہے گی.  اگر آپ کو نوٹیفیکیشنز میسجز یا اپ ڈیٹس پڑھنے میں کچھ تاخیر ہو جائے تو کوئی قیامت نہ ٹوٹ پڑے گی ۔ اطمینان سے اُس وقت کا انتظار کیجیے کہ جب آپ کو چارج کرنے کے لیے مناسب پلگ دستیاب ہو.  ایک لمحے کے لئے اپنے چشمِ تصور میں وہ منظر لائیے کہ جب کوئی شخص کسی سماجی صورتِ حال میں اپنی توجہ مخاطب کے بجائے اپنے اسمارٹ فون کے سکرین پر ڈالے رکھتا ہے تو وہ کتنا سطحی اور احمق دکھائی دیتا ہے ۔ ایک ایسا شخص جو انسانی رشتوں کی اہمیت کو سمجھتا ہی نہیں.  حقیقت یہ ہے کہ موبائل فون اور کمپیوٹر کے حوالے سے ہمارا سوشل نیٹ ورک ہماری اصل زندگی نہیں۔ بلکہ زندگی کا صرف ایک مختصر سا حصہ ہے.  ہمارے ارد گِرد موجود زندہ انسانی رشتے ہماری اصل خوشیوں کا باعث ہیں ۔ اب آپ سے اجازت—– ویلوورسٹی، شارق علی

 

 

 

پروفیشنل کی دس خوبیاں ، فکر انگیز انشے Ten habits of professionals, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Professionalism is a set of values such as competence, trustworthiness, respect, and accountability. It should not be confined to a few kinds of professions

 

 

 

پروفیشنل کی دس خوبیاں ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

 ہم چاہے کوئی بھی کام کرتے ہوں اگر لوگ اس کام کے حوالے سے ہمیں با ہنر اور اہل سمجھتے ہیں ،  ہم پر بھروسہ کرتے ہیں اور ہمیں اس کام کی وجہ سے ان کا احترام حاصل ہے تو ہم پروفیشنل ہیں۔ کام کی نوعیت کیسی بھی کیوں نہ ہو، کارکن کا رویہ اُس کے کام کو پروفیشنل بناتا ہے. آئیے دس ایسی خوبیوں پر نظرڈالیں  جن کی موجودگی یا غیرموجودگی اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ کوئی کارکن پروفیشنل ہے یا نہیں؟ . ۔سب سے پہلی بات تو ہے قابلیت. یعنی جو کچھ بھی ہم کر رہے ہیں ہم اُس کے بارے میں ضروری معلومات اور مہارت رکھتے ہیں یا نہیں.  اور اس بات کا اظہار ہمارے کام کے انداز سے ہوجاتا ہے ۔  قابلیت مسلسل محنت، اچھی عادات اور خلوص نیت سے حاصل ہوتی ہے . دوسری خوبی ہے اعتماد . یعنی کیا کام کے سلسلے میں دوسرے لوگ ہم پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنا کام وقت پر مکمل کر سکیں گے یعنی ہم کس قدر قابل بھروسہ ہیں ؟ تیسری خوبی ہے دیانت داری.  کیاہم کام کے حوالے سے سچ بات کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ، حقائق کا سامنا کر سکتے ہیں اور اُس بارے میں جسے بھی اطلاع فراہم کرنا ہو جھجکتے تو نہیں؟ چوتھی خوبی ہے اخلاقی استقامت.  یعنی کیا ہم کچھ اخلاقی اصول رکھتے ہیں اور اُن کی پابندی کو اہم سمجھتے ہیں؟ یا تبدیل ہوتی ہوئی صورت حال کے ساتھ مفاد پرستانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں؟ تو گویا اخلاقی استحکام رکھنا پروفیشنل ہونے کے لیے بہت ضروری ہے ۔پانچویں خوبی  ہے دوسروں کا احترام کرنا.  ایک پروفیشنل ہمیشہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بہتر سلوک کرتا ہے اور اپنے ساتھی پروفیشنل کے بارے میں کوئی منفی بات کہنے سے اجتناب کرتا ہے ۔ چھٹی خوبی ہے مسلسل سیکھنا.  آج کل ہر کام سے متعلق علم اور مہارت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے.  ایک پروفیشنل مسلسل سیکھنے اور اس پر عملدرآمد پر یقین رکھتا ہے . ساتویں خوبی ہے مثبت طرز فکر. وہ لوگ جو کسی بھی صورت حال کے روشن پہلو کو نظر میں رکھتے ہیں اور اپنے رویے اور گفتگو میں اُس کا اظہار کرتے ہیں ایک پروفیشنل کی حیثیت سے اُن کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے . آٹھویں خوبی ہے دوسروں کی مدد . ایک پروفیشنل ہمیشہ اپنے ساتھیوں کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے. وہ اپنے کام کے آغاز کے لیے وقت پر پہنچتا ہے اور اپنے حصہ کے کام کو مناسب طور پر سرانجام دینے کی مسلسل کوشش کرتا ہے.  باہمی مدد کے بغیر ظاہر ہے کہ کوئی بھی بڑا کا م ممکن نہیں۔ نویں خوبی ہے کام پر مرکوز توجہ.  ایک پروفیشنل آدمی اپنی ذاتی زندگی کو اپنے کام کی زندگی سے علیحدہ رکھنے کے قابل ہوتا ہے . یعنی اُس کی ذاتی پسند اور نا پسند اور خیالات اُس کے کام میں کسی صورت حائل نہیں ہوتے . اُس کی مکمل توجہ کام پر مرکوز رہتی ہے . ۔دسویں اور آخری خوبی ہے سننے کی صلاحیت.  وہ پوری  توجہ اور خلوص کے ساتھ دوسروں کے نکتۂ نظر کو سن سکتا ہے ، اُن کی ضروریات سے آگاہ ہوتا ہے. اُنہیں پورا موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے نکتۂ نظر کی وضاحت کر سکیں. دوستو ان خصوصیات کو اپنایے اور اپنے عزت و وقار میں اضافہ کیجیے ۔ ا ب آپ سے اجازت ….. ویلیوورسٹی، شارق علی

مطالعے کی عادت، فکر انگیز انشے Reading habit, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

“To acquire the habit of reading is to construct for yourself a refuge from almost all the miseries of life.” — W. Somerset Maugham

 

مطالعے کی عادت، فکر انگیز انشے، شارق علی

اکثر لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ ان کا کام ، تعلیمی یا گھر یلو مصروفیات اس قدر زیادہ ہیں کہ مطالعے کے لیے وقت ہی نہیں ملتا ۔ آج میں کچھ سادہ سے اقدامات کی نشاندہی کروں گا جن کی مددسے آپ زندگی کی ایک خوشگوار نعمت یعنی مطالعے کی عادت سے لُطف اندوز ہوسکتے ہیں. کسی بھی اور کام کی طرح مطالعے کے لیے بھی اندرونی جوش کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ تبھی میسر ہوگا جب ہم ایسے موضوعات پر کتابیں پڑھیں کہ جو ہمارے دل سے بہت قریب ہیں.  اگر یہ موضوعات آپ کے ذہن میں واضع نہیں تو کسی کتاب کی دوکان میں چلے جائیے اور کتابوں پر لکھے ٹائٹل اور اس کی پُشت پر درج مختصر تعارف کو بغور پڑھیے. یوں کتابوں کو اُلٹ پُلٹ کر دیکھنے کی عادت آپ کو اپنے پسندیدہ موضوعات سے روشناس کر دے گی.  آپ آہستہ آہستہ جان جائیں گے کہ آپ کو تاریخ، سیاسیات، سائنس، معاشیات یا ادب، کس نوعیت کی کتابیں زیادہ پسند ہیں اور آپ کس شعبے کے راستے سے اپنی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ انسانی اور سماجی صورتِ حال میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں تو شاید ادب پڑھنا آپ کے لیے مناسب ہو گا ۔ انسانی المیے، فتوحات خوشی اور غم کو سمجھنے کے لیے اور سچ کی صورتِ حال سے قریب تر ہونے کے لیے ادب کا مطالعہ بے حد مدد گار ثابت ہو سکتا ہے ۔ لیکن حالات ِحاضرہ سے واقف ہونا بھی بے حد ضروری ہے اس لیے اخبار یا اخباری سُرخیوں کا مطالعہ یا  تازہ خبریں ضرور سنیں . اس سے آپ کو وہ بنیادی معلومات بھی حاصل ہوں گی جن کی مدد سے آپ کسی سنجیدہ گفتگو میں شریک ہوسکتے ہیں. اپنے مزاج یا رجحان کے مطابق شعبے اور موضوع کا تعین کیجیے لیکن جو بات اہم ہے وہ ہے مطالعہ کی عادت. اور اس موضوع پر اپنے خاندان والوں یا اپنے دوستوں سے اظہار خیال کرنا ۔ان کی رائے لینا، ان سے پوچھنا کہ ان کے مطالعہ میں کونسی کتابیں ہیں. یہ بات آپ کے جوش میں اضافہ کرے گی۔ گفتگو کے دوران اگر کسی دلچسپ کتاب کا ذکر آئے تو اُسے عاریتاََ مانگ لینے میں بھی کو ئی حرج نہیں ۔ اگر آپ کسی لائبریری سے واقف ہیں تو وہاں کی سہولیات سے بھرپور فائدہ اُٹھائیے ۔ اگر آپ کسی شاپنگ سینٹر میں گھوم رہے ہیں اور آپ کو کچھ فُرصت میسر ہے تو کتابوں کی دُکان کا ضرور چکر لگائیے.  نئی کتابوں سے نہ صرف آپ کی شناسائی میں اضافہ ہو گا بلکہ مطالعہ کے سلسلے میں آپ کے جوش میں بھی ۔ اگر آپ کمپیوٹر ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں تو ایسی ویب سائیٹس آج کل بہت عام ہیں  جہاں سے آپ اپنی پسند کی کتابیں ڈائون لوڈ کر سکتے ہیں اور بغیر کوئی رقم خرچ کیے ۔ ایک اور تجویز جو بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بہت زیادہ عام نہیں لیکن اُس کی ابتداء کی جا سکتی ہے اور وہ ہے ’’ بُک کلب کا قیام‘‘ ۔ یعنی کچھ ہم خیال دوست ، محلے دار یا ایک ہی ادارے میں کام کرنے والے یا تعلیم حاصل کرنے والے لوگ ۔ ہفتہ واری نشست کا اہتمام کر سکتے ہیں جس میں وہ باری باری اپنی پڑھی ہوئی کتابوں کا مختصر تعارف پیش کریں ۔ جس طرح ہم اپنی زندگی میں آرزوئوں کی فہرست بناسکتے ہیں بالکل اُسی طرح ہمیں اپنی زندگی میں اُن کتابوں کی فہرست بنانا چاہیے کہ جو ہم پڑھنا چاہتے ہیں ۔ اپنے دن بھر کی مصروفیت کے کسی مخصوص وقت کو مطالعہ کے لیے وقف کیجیے . مثلاً میں سونے سے ذرا پہلے کم از کم پینتالیس منٹ مطالعہ میں ضرور گذارتا ہوں ۔ ہو سکتا ہے آپ کو اپنے کام کے مطابق کسی اور وقت مطالعہ کی فرصت مہیا ہوتی ہو لیکن وہ وقت ایسا ہونا چاہیے کہ جس میں بغیر توجہ ہٹائے آپ کا ذہن مطالعہ پر مرکوز ہو سکے۔ جب آپ پڑھیں تو پھر ڈوب کر پڑھیں. اپنی تمام ذمہ داریوں کو پڑھنا شروع کرنے سے پہلے نبھا لیجیے تاکہ جب آپ مطالعہ کر رہے ہیں تو توجہ کو مرکوز کر سکیں . آپ چاہیں تو اپنے فون یا کنڈل ڈیوائیس پر الیکٹرانک کتابیں بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ اس کے بہت سے فائدے ہیں.  ایک تو ہر جگہ بھاری کتابیں اُٹھا کر لے جانے کی ضرورت نہیں.  پوری لائبریری آپ کی جیب میں موجود ہے.  اور پھر یہ بے حد کم قیمت بھی ہیں۔ بلکہ اکثر اوقا ت مفت مہیا ہیں ۔ ای بُک کے حوالے سے ایسے کئی ایپس مہیا ہیں جو آپ کے پڑھنے کی رفتار کو بے حد تیز رفتار بنا سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ صرف انگریزی میں مہیا ہیں ۔ میں ذاتی طور پر تیز پڑھنے سے زیادہ غوروفکر کے ساتھ پڑھنا پسند کرتا ہوں لیکن یہ میرا ذاتی انداز ہے بعض لوگ تیزی سے پڑھ کر بھی مفہوم سمجھنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ان چند تجاویز کے بعداب آپ سے اجازت ——- ویلیوورسٹی ، شارق علی

انسانی حقوق ، فکر انگیز انشے Human rights, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Everyone has the right to life, education, choice of religion, equal justice, freedom of opinion and expression and so on. What shall we do if see otherwise?

 

 

انسانی حقوق ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

ہم سمیت ہروہ شخص جو اس دنیا میں سانس لے رہا ہے چاہے وہ کسی بھی صنف ، نسل، قومیت ، مذہب، فرقے ، یا عقیدے سے تعلق رکھتا ہو اور اُس کی سماجی حیثیت یا پہچان کچھ بھی ہو وہ بنیادی انسانی حقوق کا حقدار ہے ۔ کسی فرد یا اکثر یتی گروہ یا حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یہ بنیادی حقوق سلب کر سکے ۔ ویسے تو اس سلسلے میں بین الاقوامی قوانین بھی موجود ہیں لیکن ہر فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان حقوق سے آگاہ ہو اور ان کا تحفظ اور دفاع کر سکے ۔ ۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ نے بنیادی عالمی حقوق کی فہرست جاری کی تھی مثلاَ زندگی، مساوات اور آذادی کا حق ، تعصب ، غلامی اور تشدد سے تحفظ ، قانون کے سامنے برابری، منصفانہ عدالتی سہولت ، اپنے ملک کے ہر گوشہ میں گھومنے کی آزادی ، شادی کرنے، خاندان کی تشکیل اور جائیداد بنانے کا حق ، اپنی سوچ کے مطابق مذہب اختیار کرنے کا حق ، سیاسی رائے رکھنے اور اُس کے اظہار کا حق، فہرست بہت طویل ہے لیکن آپ کے ذہن میں بنیادی خاکہ بن چُکا ہو گا اس لیے میں مزید تفصیل سے پرہیز کروں گا. گویا ہر شخص سیاسی، معاشی اور مذہبی ترجیحات کا حق رکھتا ہے اور اُسے اپنی پسند اور ثقافت کے مطابق زندگی گذارنے کا حق حاصل ہے ۔ ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذات اور دیگر انسانوں کے لیے ان حقوق کا تحفظ ممکن بناے.  سب سے پہلی بات تو  ہے آگاہی اور یہ عزم کہ خود اپنے لیے اور دوسروں کے لیے ان حقوق کا دفاع کیا جاے ۔ میری اس مختصر سی تحریر کا مقصد یہ ہے کہ نوجوانوں میں اس موضوع پر تفصیلی مطالعہ کے جوش کو بیدار کیا جاے. انھیں بتایا جاے کہ اگر وہ چاہیں تو کسی قابلِ اعتماد انسانی حقوق کی تنظیم میں حصہ دار بن سکتے ہیں یا ایسی تنظیموں کے تحت ہونے والے کسی خاص موضوع پر جلسے میں شرکت کر سکتے ہیں.  یا پھر گھر بیٹھے ایسی قومی اور بین الاقوامی تنظیموں کی ویب سائیٹ کو وزٹ کر سکتے ہیں ۔ اگر آپ کسی خاص موضوع کے متعلق زیادہ حساس ہیں تو آن لائن پٹیشن میں حصہ دار بن سکتے ہیں . آپ ایسے سیاسی رہنمائوں کو زیادہ اہمیت دے سکتے ہیں جو انسانی حقوق کے حوالے سے واضع ایجنڈا رکھتے ہیں . اگر آپ اپنے ارد گرد انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتا دیکھیں تو اُسے تحریری طور پر انسانی حقوق کی تنظیموں تک پہنچا سکتے ہیں  لیکن اُس واقعہ کا وقت، مقام ، اور تاریخ اور اُس واقعہ میں شامل تمام افراد کا نام لکھنا انتہائی اہم ہے تا کہ کوئی عملی قدام اُٹھانا ممکن ہو سکے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایسی بہت سی تنظیمیں موجود ہیں مثلاَ ایمنسٹی انٹرنیشنل ،  ہیومن رائیٹس ایکشن سینٹر ، چلڈرنز ڈفینس فنڈ  اور بہت ساری اور.  یہ ادارے اگر مسلہ بہت سنجیدہ ہو تو اسے اقوامِ متحدہ تک لے جا سکتے ہیں ۔ اگر آپ اس بارے میں بہت پُرجوش ہوں تو انسانی حقوق کے حوالے سے سماجی کارکن بن سکتے ہیں یا قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسی شعبے میں اعلی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں ۔ کاش ایسا ہو سکے کہ ہمارے اعلی تعلیم یافتہ نوجوان جو انسانی حقوق کے تحفظ کا شعور رکھتے ہیں سیاسی کارکن بن کر قانون ساز اسمبلیوں تک پہنچ سکیں تا کہ وہ صیح معنوں میں انسانی حقوق سے آراستہ معاشرہ تشکیل دے سکیں. موجودہ صورت حال میں اس خواب کی تعبیر میں ابھی بہت سال باقی ہیں……………ویلیوورسٹی ، شارق علی

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

16,934 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina