retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

واٹس اپ اور گلی محلے ، فکر انگیز انشے Whatsapp and community service, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
August 15, 2018
retina

Whatsapp can be a very useful tool to collaborate and serve your community. Listen to this and think about it

 

 

واٹس اپ اور گلی محلے ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

ہم جہاں بھی رہتے ہیں اس جگہ سے پیار ہونا قدرتی بات ہے . ہم میں سے ہر ایک فطری طور پر یہ چاہے گا کہ ساتھ رہنے والے ہمارے دوست، خاندان والے اور اردگرد کے لوگ مسائل سے آزاد ہوں اور بہتر زندگی گزار سکیں ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اپنے گلی محلے سے محبت کا اظہار کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ پہلی بات تو یہ کہ ہم  جہاں کہیں بھی رہتے ہوں اس کے بارے میں لاتعلقی اختیار نہ کریں۔ اگر ہمارے سامنے کوئی مسئلہ ، کوئی ایسی صورت حال آتی ہے جس میں مددگار ہونا ممکن ہے تو ایسے موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے ۔  اگر کوئی بوڑھا شخص وزنی سامان اُٹھائے چلا جارہاہے۔ یا بیبی چیئر سمیت کسی ماں کو سیڑھی اُترنے چڑھنے میں مدد کی ضرورت ہے، کوئی فقیر یا کوئی بیمار ہماری توجہ کا طالب ہے تو اُسے ہر گز نظر انداز نہ کیجئے، جو کچھ مدد فراہم کی جا سکتی ہے ضرور کیجئے۔ اپنے گلی محلے میں چکر لگاتے ٹھیلے والوں کو ، مقامی دکانوں کو، چھوٹے چھوٹے کام کرنے والے کارکنوں کو اپنا تعاون اور عزت دیجئے۔ مقامی دکانوں پر خریداری کو ترجیح دیجئے۔  اگر کوئی محلہ کمیٹی موجود ہے جو صفائی ستھرائی اور حفاظت کا اہتمام کرتی ہے تو اس میں ضرور شرکت کیجئے اور اگر نہیں تو آپ ایسی کمیٹی کے قیام کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ اپنے قریبی دوستوں سے رائے اور مشورہ لے سکتے ہیں۔  پھر مل بیٹھ کر یہ بھی سوچا جاسکتا ہے کہ بجلی اور پانی کے ناجائز اور غیر ضروری استعمال کو کس طرح کم کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ اپنے گلی محلے میں دوسرے لوگوں، خاص طور پر اپنے پڑوسیوں کی ضروریات سے آگاہ ہیں تو یہ بات کار اور موٹر سائکل کے استعمال کو زیادہ کار آمد بنا سکتی ہے۔ مثلاً کسی ایک اسکول میں جانے والے کئی بچے، باری باری ایک ساتھ ایک ہی گاڑی میں آ جا  سکتے ہیں۔  اپنے ارد گرد کے لوگوں سے واقف ہونا اُن سے ملنا، اُن کے ساتھ خوشگوار وقت گزارنا ، اُن کے مسائل اور اُن کی خوشیوں میں دیانت داری سے شریک ہونا بہت سے مسائل کا حل ثابت ہوسکتا ہے۔  تھوڑا سا مشاہدہ اور تحقیق آپ کو اپنے محلے کی ضروریات سے آگاہ کرسکتی ہے۔  ہوسکتا ہے کہ محلے کے کسی شخص یا خاندان کو خریداری کے لیے آپ کی مدد درکار ہو.  اگر آپ اس کی مدد کرسکتے ہیں تو ضرور کیجئے۔  محلے کی بہتری کے لیے کوئی سماجی تنظیم بنا نے میں بھی کوئی حرج نہیں.  آپ با آسانی محلے کا واٹس ایپ گروپ بنا کر  اظہارِ خیال اور مسائل کے حل کی تدابیر کرسکتے ہیں، ممکن  ہے کوئی ریٹائرڈ استاد محلے کے بچوں کو امتحان کی تیاری کروا سکے، کوئی ڈاکٹر طبی مشورے دے سکے، کوئی سرکاری افسر محلے کے مسائل کو حل کرنے میں مددگار ہوسکے۔  اگر آپ اپنی سوچ کو باہمی مدداور مسائل کے حل پر مرکوز کریں گے تو ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آئے گا۔  مل جل کر محلے کی بہتری کے اہداف متعین کیے جا سکتے ہیں۔  پھر آپ کوئی منصوبہ بندی تشکیل دے سکتے ہیں۔  جس میں تمام لوگوں کے تعاون سے محلے کے مسائل کو حل کیا جاسکے۔ آپ یہ حکمتِ عملی بھی اختیار کرسکتے ہیں کہ ان مسائل کے حل کے لیے بارسوخ لوگوں اور مشہور شخصیات سے کیسے رابطہ قائم کیا جائے، اُن کی مدد کیسے حاصل کی جائے۔  واٹس ایپ گروپ پر منظم ہونے کے بعد ایسی ٹیمیں بنائیں جاسکتی ہیں جو یا تو صفائی ستھرائی پر یا آوارہ گھومتے جانوروں پر یا ضعیف اور معذور افراد کی مدد پر یا کسی بھی مسئلے کے اچانک سامنے آجانے پر اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا سکیں۔ پھر اسی واٹس ایپ گروپ کے حوالے سے گلی محلے کے لوگوں کے مل بیٹھنے کا بہانہ بھی ڈھونڈا جاسکتا ہے۔ مثلاً حلیم کی کوئی دعوت، موسیقی یا تعلیمی نوعیت کا کوئی پروگرام، یا کوئی کھیل کود یا مینا بازار۔ جس میں نا صرف ایک دوسرے سے ملا جاسکتا ہے  بلکہ کسی خاص مسئلے کے حوالے سے چندہ بھی کیا جاسکتا ہے۔  ایک دوسرے کے ساتھ ملنا جلنا اور یگانگت مسائل کے حل کی جانب پہلا اور اہم قدم ہے ۔ ہوسکتا ہے ایسی ہی کسی خوشگوار تقریب کے بعد  یہ فیصلہ ہو کہ ہم اپنے گلی محلے کی صفائی کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔ اگر کوئی پبلک پارک یا بچوں کا میدان موجود ہے تو اس کی آرائش کا کیا بہتر انتظام کرسکتے ہیں۔ ان چند تجاویز کے ساتھ اب آپ سے اجازت۔  اپنا خیال رکھیے گا— شارق علی ، ویلیو ورسٹی

علمی سخاوت ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Knowledge Philanthropy, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Knowledge philanthropists are those who wish to share their knowledge, skills, and experience for the benefit of humanity without any expectations for the reward. These are the ones who are making this world a better place to live

 

 

علمی سخاوت ، فکر انگیز انشے ، شارق عل

علم اور دانشمندی حاصل کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہم اپنے اردگرد کی دُنیا کو سمجھ لینے کے بعد اپنے دل میں موجود خوف اور تعصب سے چھٹکارا پا لیتے ہیں . اگلا قدم  ہے اپنی دانشمندی ، علم اور مہارت سے انسانیت کو فائدہ پوھنچانا . تحریر ، تقریر یا عملی مہارت دوسروں کو سکھانے کے ذریعے سے انسانیت کی خدمت علمی سخاوت یا نالج فلانتھروپی کہلا تی ہے .  اس سے مراد اپنی رائے یا نظریات کو دوسروں پر تھوپنا نہیں ہے  بلکہ اس کا مطلب ہے دوسروں کو اپنے علم میں اس طرح شریک کر لینا کہ یہ دُنیا ایک بہتر دُنیا بن سکے.  یہ گویا ایک طرح کا تحفہ دینا ہے تاکہ وصول کرنے والے عام لوگ خود اپنے آپ کو اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے بارے میں سوچ سکیں اور  درکار مہارت حاصل کرسکیں۔ زندگی کے تجربات سے بھرپو لطف اٹھا سکیں اور اپنے  مسائل سے بہترطور پر نبرد آزما ہوسکیں.  ثقافتی، مذہبی اور سیاسی اختلافات اور زندگی کی بدلتی ہوئی صورت حال کو کشادہ دلی کے ساتھ قبول کرسکیں۔ علمی سخاوت کے لیے خلوصِ نیت انتہائی اہم ہے۔  اگر ہم شہرت، سماجی اہمیت یا دولت کے حصول  کے لیے ایسا کرتے ہیں تو بہت جلد یہ بات کھل کرسب کے سامنے آ جاتی ہے . ایسا کرنا علمی خود غرضی کہلاے گی ۔ علمی سخاوت تو  محبت کرنے کا عمل ہے۔  صلے اور ستائش سے بلند ہوکر محبت کرنے کا عمل. اس کا واحد مقصد دوسروں کی زندگی کو بہتر بنانا ہے.  اُن کے لیے آسانی پیدا کرنا۔ لیکن یہ قدرت کا انعام ہے کہ  ایسا کرنے والے کو  اس عمل سے  طمانیت اور تسکین حاصل ہوتی ہے . مزے کی بات یہ ہے کہ صرف عالم یا دانشور ہی نہیں بلکہ ہم میں سے ہر انسان علمی سخاوت کے ذریعے انسانیت کی خدمت کر سکتا ہے.  پچھلے دنوں میرے گھر کا نلکا لیک ہونے لگا ۔ میں نے یو ٹیوب پر کسی پلمبر کی بنائی ہوئی ویڈیو دیکھ کر  چند منٹوں میں ہی اس مسلے کو حل کر لیا . یوں تو دُنیا کی تاریخ میں ایسے سخی لوگ ہمیشہ موجود رہے ہیں اور یہی لوگ انسانی ترقی کا بنیادی سبب بھی تھے ۔ لیکن آج کے اس معلوماتی انقلاب کے دور میں علمی سخاوت اپنا عروج دیکھ رہی ہے . ہمیں اپنے تجربے اور مہارت کے ذریعے سے دوسروں کا ہاتھ ضرور تھامنا چاہیے . ہم سوشل میڈیا جیسے فیس بک یا یوٹیوب کی مدد سے یہ کام بہت آسانی سے کر سکتے ہیں . یاد رہے کے کی جانے والی بات کارآمد ہو اور پیشکش کا انداز دلچسپ تاکے لوگ متوجہ ہو سکیں.  کسی خاص موضوع پراظہار خیال سے پہلے اپنی علمی قابلیت یا تجربے کے مناسب ذکر میں کوئی حرج نہیں . لیکن یاد رکھیے علم سے میری مراد ہے کار آمد معلومات اور حقائق کا بیان.  ذاتی رائے یا نظریے کا بیان علم کے زمرے میں نہیں آتا ۔ علم روز مرہ زندگی کے مسائل سے متعلق بھی ہوسکتا ہے اور فلسفہ ، سائنس ، شاعری، ادب اورموسیقی کے حوالے سے بھی.  لیکن اسکی بنیادی شرط ہے دوسروں کے لئے اس میں فائدہ مندی کے پہلو کا موجود ہونا . دوسروں تک معلومات پہنچانے سے پہلے یہ  ضروری ہے کہ ہم اس کے معیار پر گہری نظر ڈال لیں ۔ بات کتنی کار آمد ہے؟  جو پیرایۂ اظہار اختیار کیا گیا ہے۔ کیا وہ دلچسپ، عام فہم  اور مہذب ہے یا نہیں ؟ جس ذریعے سے ہم یہ بات پہنچا رہے ہیں کیا وہ  متعلقہ لوگوں تک رسائی حاصل کر سکے گا ؟ کیا کہی گئی بات مستند ہے؟ کہیں  یہ بات منفی اثرات تو پیدا نہیں کرے گی ؟ علمی سخاوت کا بنیادی مقصد ہے دانشمندی کا فروغ .  اس لئے کہی گئی یا لکھی گئی بات کے ہر پہلو کوٹھوک بجا کر اس پر غور و فکر کرلینا ، اس کے اثرات کی پیش بندی کرلینا بے حد ضروری ہے ۔  کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے خوف، اپنے تعصبات اور منفی نظریات کو علم سمجھ کر دوسروں تک پوھنچانے لگیں. لیکن دوسری جانب  مکمل خلوص اور دیانت داری سے کوئی کوشش کرنے کے بعد آپ اس بات سے نیاز ہوجائیں کہ دوسرے لوگ آپ کی اس سخاوت کے بارے میں کیا رائے رکھیں گے۔  اپنی مہارت ، علم، تجربے اور مشاہدے میں دوسرے لوگوں کو شریک کرنے اور انھیں فائدہ پوھنچانے سے بالکل نہ جھجھکیے ،  علمی سخاوت اختیار کیجیے اور اپنا خیال رکھیے —– ویلیوورسٹی

اچھوتا خیال، فکر انگیز انشے Creative idea, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Creativity is the ability to perceive the world in new ways, to discover hidden patterns and to find connections between seemingly unrelated phenomena in order to generate solutions. Here are a few suggestions to get creative ideas

 اچھوتا خیال، فکر انگیز انشے، شارق علی

کسی اچھوتے خیال تک پہنچنے کے لیے ہمیں منفرد طرزِ فکر اور بھرپور تخلیقی جوش کی ضرورت ہوتی ہے.  اگر ہم اظہار رائے، مثبت بحث و مباحثہ، بھرپور غور و فکر اور اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو تحریر کرلینے کے عادی ہوں تو اچھوتے خیال تک پوھنچنے کا امکان نسبتاً زیادہ ہے. تخلیقی جوش سے میری مراد ہے نئے خیالات کے لیے خوش آمدیدگی ۔ ایسے لوگ اپنے شعبے میں معتبر اور قابل لوگوں کے لیکچر سننے، خود اپنے ذاتی مشاہدات پر غور و فکر کرنے، حتیٰ کے اپنے آرام، صحت اور غذا کا خیال رکھنے میں بھی پر جوش ہوتے ہیں .  بعض لوگ کسی اچھوتے خیال کے تعاقب میں ہوں تو قلم اُٹھا کر صفحے پر مسلسل لکھنا شروع کردیتے ہیں ۔ نفسیات دانوں کے خیال میں اگر آپ کا ذہن قلم کے ذریعے سے براہِ راست صفحے پر اپنی سوچ درج کرنے لگے تو اس بات کا امکان ہوتا  ہے کہ کوئی اچھوتا حل یا خیال آپ کے لاشعور سے نکل کر آپ کے بالکل سامنے آجائے۔ تو گویا بنا سوچی سمجھی تحریر ایک طرح کی تکنیک ہے اپنے لاشعور تک پوھنچنے کی۔  ایک دوسرا طریقہ جو بعض ماہرین کی رائے میں کارآمد ہے وہ یہ کہ ایک صفحے کے بیچ میں آپ جو مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اُسے درج کرلیجیے اور اس کے ارد گرد اپنے ذہن میں آنے والی ہر قسم کی سوچیں چھوٹے چھوٹے دائروں میں نکتہ وار درج کرتے  چلے جائیے.  پھر یہ الگ الگ شاخیں آپس میں جڑنا شروع ہوجائیں گی اور ممکن ہے کے مرکزی مسلے کے حل کے  لیے آپ کو وہ اچھوتا خیال میسر آجائے جس کی آپ کو تلاش ہے۔  بعض ماہرین ایک اور راستہ اختیار کرتے ہیں. اُسے کردار کی تبدیلی یا رول سٹورمنگ کہا جاتا ہے . آپ جس مقصد، موضوع یا مسلے پر غور و فکر کر رہے ہیں اسے سامنے رکھتے ہوئے خود کو اپنے ذہن میں کسی مختلف کردار میں تبدیل کرلیں.  یعنی اپنے کسی دوست، ساتھی یا اپنے والد یا والدہ وغیرہ کے کردار میں . پھر اس نئے کردار میں ڈھل کر نے سرے سے غور و فکر کا آغاز کیجئے.  آپ کو سوچنے کا ایک نیا انداز میسر  آے گا جو ہو سکتا ہے کہ آپ کو کسی حل تک پوھنچا دے ۔ آپ کوئی ایسا کردار بھی بن سکتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے بہت ذہین تھا۔ مثلاً آئن اسٹائن.  پھر اس کے ذہن سے اس مسلے کے حل کو تلا ش کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے کامیاب ثابت ہو . گویا اچھوتے خیال تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی ذہنی حد بندیوں کو توڑ سکیں . مسئلے کو سامنے رکھ  ک ذرا دیر کے لیے تصور کر سکیں کے ہم سب کچھ کرسکتے ہیں۔ صرف ایسا تصور کر لینے سے کچھ ایسے نئے امکانات نظر آنا شروع ہوںگے کہ جو کارآمد حل کی جانب مثبت پیش رفت ثابت ہوں گے ۔  تخلیقی سوچ کے لیے ہم خیال لوگوں کے ساتھ اظہارِ رائے کرنا، اُن کی رائے کو سُننا اور اُن کے مشاہدات اور تجربوں سے سیکھنا بہت ضروری ہے، ایسے لوگوں سے سیکھنے کی کوشش کرنا چاہیے جو عام ڈگر سے ہٹ کر زندگی گزارتے ہیں.  اور خود اپنی زندگی میں بھی اکثر و بیشتر خود کو روز مرہ کی قید سے آزاد کر لینا چاہیے . ایک جیسی مصروفیات کے بجائے نئی جگہوں پر جانا، نئے لوگوں سے ملنا، نئی کتابیں پڑھنا، نئے موضوعات پر غور و فکر کرنا چاہیے. ایسا کرنا ہماری تخلیقی صلاحیتوں کو  نیا جوش فراہم کرے گا. ہم خوش قسمت ہیں کے معلوماتی انقلاب کے اس ولولہ انگیز دور میں جی رہے ہیں جس میں انٹرنیٹ اوریو ٹیوب پردُنیا کے ماہر ترین لوگوں سے سیکھنا ممکن ہے . ہم ان کی سوچ اور کام سے واقف ہو سکتے ہیں. ٹیڈ ٹاکس پر  دُنیا کی  بڑی بڑی یونیورسٹیز میں ہونے والی تحقیق سے آگاہی حاصل کر سکتے ہیں . عالمی شہرت یافتہ پروفیسرز کے لیکچرز سُن سکتے ہیں۔ مسلسل سیکھنا ہماری تخلیقی صلاحیتوں میں اضافے اور اچھوتے خیال تک پوھنچنے کی بنیادی شرط  ہے . ان چند گزارشات کے بعد آپ سے اجازت. اپنا خیال رکھیے گا۔
ویلیوورسٹی،، شارق علی

Kaizen بہتر سے بہتر ،فکر انگیز انشے Kaizen, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Kaizen is the Japanese term for continuous improvement in work and personal life. In this Urdu podcast, learn how it works to improve efficiency and quality

 

 

بہتر سے بہتر ،فکر انگیز انشے ، شارق علی

یہ جو زندگی میں مسلسل سیکھنے اور بہتر ہونے کا عمل ہے اس کے لیے جاپانی زبان میں ایک متبادل لفظ ہے’’کیزن‘‘۔ ۱۹۸۶ء میں مساکی ایمائی نامی جاپانی مصنف نے ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام تھا ’’کیزن… جاپانی صنعتی ترقی کا راز‘‘۔ اس کتاب میں ایسے کامیاب ثقافتی ماحول کی نشاندہی کی گئی تھی جو کسی بھی شخص کے لیے انفرادی طور پر یا کسی گروہ اور قوم کے لیے اجتماعی طور پر بہتر سے بہتر ہونے اور کامیاب ہونے کا سبب بن سکتا ہے ۔ آئیے آج اس کتاب میں بتائے گئے چند نکات سے فائدہ حاصل کریں۔ انفرادی طور پر یا کسی گروہ یا معاشرے کے لیے بہتر سے بہتر ہونا تین مرحلوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ سب سے پہلا مرحلہ ہے منصوبہ سازی، پھر اپنے ارد گرد کے لوگوں اور ساتھیوں کو اس منصوبہ سازی میں شریک کرنا.  یعنی شیرنگ آف ویژن اور تیسرا مرحلہ ہے بہتر سے بہتر ہونے کی ثقافت تشکیل دینا۔  آئیے پہلے منصوبہ سازی کے مرحلے پرذرا غور کریں . اس کے لیے ہمیں دیانت دارانہ سوچ کی ضرورت ہوتی ہے.  یعنی خود سے اور دوسروں سے بلا جھجھک سچ بولنا.  ہم آج کس مقام پر کھڑے ہیں اور ہم مستقبل میں کہاں پہنچنا چاہتے ہیں؟  وہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں کن مشکلات اور کن قربانیوں سے گزرنا پڑے گا؟  کیا ہم اپنی سوچ اور اپنے رویوں میں تبدیلی لانے پر رضا مند ہیں؟ پھر ہمیں اپنے ماضی پر بھی تنقیدی نظر ڈالنا ہو گی ۔ کیا ہم نے اپنی غلطیوں سے سیکھا ہے ؟ یا ہم وہی غلطیاں بار بار دہرانے کی عادت میں تو مبتلا نہیں ؟  اس بھرپور غور و  فکر  کے بعد ہمیں اپنی منصوبہ بندی کو قلم بند کرنا پڑے گا جسے ہم ٹرو نارتھ سٹیٹمنٹ کہتے ہیں. یا سادہ الفاظ میں بیان مقصد ۔  اگلا مرحلہ ہے اپنے ساتھیوں یا  اپنے خاندان کے دوسرے افراد کو اس منصوبہ بندی میں شامل کرنا .  ایسا کرنے کے لیے ہمیں اُن سے گفتگو کرنا ہوگی۔ ہماری گفتگو سادہ اور حقیقت پسندانہ ہونی چاہیے۔ ان کے تعاون کے لئے درخواست اور ہدایات واضح اور براہ راست ہونی چاہیئں، اُن کے اُٹھائے گئے سوالات کو توجہ سے سُن کر اُنہیں ایسا جواب مہیا کیا جانا چاہیے کہ جس سے وہ مطمئن ہوسکیں۔ گفتگو اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک وہ نہ صرف مشن اسٹیٹمنٹ پر متفق ہو جایں بلکہ اس کے حصول کی  جدوجہد اور قربانی پر بھی راضی ہوں۔  منصوبہ بندی کرلینے اور ساتھیوں کے اس ویژن میں شرکت کے بعد ہم آئندہ کا سفر شروع کرتے ہیں.  انقلابی بہتری کی توقع کے بجائے چھوٹے چھوٹے بہتر اقدامات پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھتے ہیں ۔ ہر بہتر قدم اُٹھانے پر خود اپنا  اور اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ ان چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو نظر میں رکھنے سے ہمیں طویل جدوجہد کا حوصلہ ملتا ہے۔ اگر ہم بہتری کی طرف ہم وار رویہ اختیار کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر ہمیں منزل تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔  یہ بات بہت ضروری ہے کہ اس مشن اسٹیٹمنٹ کی سمت جدوجہد میں آپ کی اپنی کوششیں دیگر ساتھیوں کو واضح طور پر نظر آئیں۔ یعنی نہ صرف آپ ہدایات دیں بلکہ اُن ہدایات پر عمل پیرا ہونے میں  سب سے آگے آگے ہوں.  آپ اپنے ارد گرد کے لوگوں کے لیے ایک دیانت دارانہ مثال بن جائیں۔  اس جدوجہد کے دوران اپنے ساتھیوں کو تجربات کرنے اور نئی سوچ اختیار کرنے کی آزادی دیجئے۔ تخلیقی سوچ کا ہونا  بہتر سے بہتر ہونے کی سب سے بنیادی شرط ہے۔ گروہ میں موجود ہر شخص کو یہ موقع دیجئے کہ وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا اظہار کرسکے۔ ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی پہلو سے دوسروں سے بہتر ہوتا ہے اور اس بات کا اظہار ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ اپنے ساتھیوں کی سب کے سامنے تعریف سے کبھی گریز نہ کیجئے لیکن سرزنش کرنا اکیلے ہی میں سب سے بہتر ہے۔  انفرادی اور اجتمائی کامیابی کی نیک تمناؤں کے ساتھ اب آپ سے اجازت

ویلیوورسٹی، شارق علی

 

کامیابی ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Success, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Success is an abstract word. We all have different meanings. What is a success for you?  Discover in this podcast

 

 

کامیابی ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

کامیابی ایک تجریدی لفظ ہے یعنی مختلف ذہنوں میں اس کا مفہوم مختلف ہوگا۔ اگر ہم  طے کرنا چاہیں کہ خود ہمارے لیے کامیابی کیا ہے تو ایسا کرنے کے لئے  ہمیں اپنی دلچسپیوں، اخلاقی اقدار اورزندگی گزارنے کے اغراض و مقاصد کی طرف نظر کرنا ہو گی  ۔ اپنے کام یا شعبے کے پس منظر میں کامیابی کا تعین کرنے کے لئے ہمیں اپنی انفرادی سوچ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ مثلاً ممکن ہے دُنیا کا اصرار یہ ہو کہ کسی شعبے میں کامیابی کا معیار ناپی جاسکنے والی قدریں مثلاً آمدنی، عہدہ یاسماجی حیثیت ہے ۔ لیکن ہو سکتا ہے ہم اپنی انفرادی سوچ کے لحاظ سے اس بات پر قائل ہوں کے پیشہ ورانہ کامیابی ہر فرد کے ذاتی اغراض و مقاصد کے حصول سے جڑی ہوتی ہے .  یعنی وہ ذاتی مقاصد جو وہ اپنے کام یا نوکری سے حاصل کرنا چاہتا ہے . تو گویا کامیابی کے روایتی تصور اور انفرادی تصور میں فرق موجود ہے۔  ہمیں اپنی انفرادی سوچ کو روایتی کامیابی کے تصور پر ہر گز قربان نہیں کرنا چاہیے۔ ہوسکتا ہے ہمارے لئے ماہرانہ ساکھ، ساتھی کارکنوں سے ذاتی تعلق اور سماج کے لیے کار آمد ہونے کا احساس آمدنی اور عہدے سے زیادہ اہم اور تسکین کا باعث ہو۔ گویا کامیابی کے تعین کے لیے سب پر لاگو کسی فارمولے کے بجائے انفرادی  تصور کو تلاش کرنا زیادہ درست راستہ ہے .  انفرادی کامیابی کے تصور کی وضاحت میں سب سے پہلے تو اس بات کا  جاننا ضروری ہے  کہ ہماری صلاحیت، ہنر مندی اور اہلیت کیا ہے؟زندگی میں ہماری ترجیحات کیا ہیں ؟  ہمارا جذب اور عشق جسسے انگریزی میں پیشن کہا جاتا ہے، کیا ہے .  پھر اس  جذب کی سمت بڑھنے کے لئے ہماری منصوبہ بندی کیا ہے؟. ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کے جو کام ہم کرتے ہیں کیا وہ ہمیں تسکین فراہم کرتا ہے؟  کہیں ایسا تو نہیں کے ہم  کسی ایسے شعبے میں کامیاب ہونے کی کوشش میں ہیں جس سے ہمیں  کوئی دلچسپی نہیں ؟  اگر ایسا ہے تو ہم اس صورتِ حال میں کیوں ہیں؟ کیا ہم خوفزدہ ہیں؟ کیا جو کچھ ہم کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ہمیں مزید تعلیم یا تربیت درکار ہے اور ہم  اس جدوجہد سے ہچکچا رہے ہیں؟  خوف سے باہر آنا اور جدوجہد کا راستہ اپنانا ہی اس مسلے کا حل ہے ۔ وہ سمت اختیارکرنا جو ہمیں اپنی منزل تک پوھنچا سکے ۔ یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ دُنیا میں سب سے زیادہ خوش وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اغراض و مقاصد، اپنی آرزوئوں اور اپنے جذب کا تعین ذاتی سوچ بچار سے کیا ہے۔  اور جو اس طے شدہ منزل کی جانب بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ پیش رفت کرتے ہیں ۔ کاپی پنسل لے کر بیٹھ جائیے اور اپنی منزل اور اپنے جذب کی نشاندہی کیجئے۔ اس کی سمت آگے بڑھنے کے لیے حکمتِ عملی تیار کیجئے۔ اہداف متعین کیجئے۔ کامیابی کے روایتی تصور کو جھٹک دیجئے۔ اپنی کامیابی کا خاکہ خود اپنے ذہن سے تشکیل دیجئے۔ زندگی ایک مسلسل سفر ہے اور اس سفر کی سمت اگر ہم نے خود متعین کی ہے اور ہم اپنی صلاحیتوں کو ، اپنے وقت کو  بھرپور طور پر کام میں لاتے ہیں اور قدم بہ قدم آگے بڑھتے ہیں تو پھر ہم کامیاب ہیں۔ اگر ہماری سوچ اور طرز عمل میں روز بروز بہتری ہے۔ تو ہم کامیاب ہیں۔  اگر ہم کسی ایسے خاندان کا حصہ ہیں کہ جس میں محبت ہے، احترام ہے تو ہم کامیاب ہیں۔ میری نظر میں رشتوں کی آبیاری اور محبت سے بڑھ کر کوئی اور انسانی کامیابی ممکن نہیں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم بہتر روزگار اور خوشحالی حاصل کرسکیں۔ تو گویا جو کام بھی ہم کررہے ہیں ہم اس سے اس بنیاد پر محبت کرسکتے ہیں کہ وہ ہمیں رشتوں کی آبیاری اور محبت کے قابل بنا رہا ہے۔ اگر کامیابی ایک انفرادی تصور ہے۔ تو پھر ہمیں دوسروں سے موازنہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اپنے ذاتی اطمینان اور خوشی کو معیار بنا کر خود کو کامیاب محسوس کرنا ہے۔ ان چند گذارشات کے بعد آپ سے اجازت چاہوں گا۔ اپنا خیال رکھیے گا

شارق علی ، ویلیو ورسٹی

جھگڑے کا حل ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Conflict resolution, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

In many conflict situations, it is not the issue but relationship that is more important for a happy outcome. Here are few suggestions

 

 

جھگڑے کا حل ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

اگر آپ کسی ایسی صورت حال سے دوچار ہیں جسے اختلافِ رائے، تنازعہ یا عام الفاظ میں جھگڑا کہا جا سکتا ہے تو اس کا انجام دو صورتوں میں ممکن ہے۔ مثبت نتیجہ   تو یہ ہو گا کہ مناسب اور منصفانہ حل کے بعد مقابل سے آپ کا تعلق مزید مستحکم ہوجائے۔ منفی نتیجے کی صورت میں یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اس تعلق سے ہاتھ دھو بیٹھیں یا کسی نہ کسی صورت فریقین کو نقصان پہنچے۔ اگر مقابل آپ کے لیے جذباتی یا سماجی طور پر اہم ہے تو یقینا آپ چاہیں گے کہ نتیجہ مثبت نکلے۔ ایسا ہونے میں جو چیز سب سے زیادہ اہم ہے وہ ہے آپ کا رویہ.  اس موضوع کے حوالے سے میری چند تجاویز کچھ یوں ہیں ۔ پہلی بات تو یہ کہ ایسے کسی لمحے میں اگر آپ اشتعال میں آ کر کچھ کرنے والے ہیں تو فوری طور پر رک جائیے. اسے انگریزی میں کہیں گے گٹ گراونڈڈ  ۔ مراد یہ ہے کہ ایک سیکنڈ کو رُک کر تحمل سے سوچئے اور اضطراری اور فوری ردعمل سے گریز کیجئے۔ ایسے میں گہری سانسیں لینا مدرگار ثابت ہو سکتا ہے . تحمل کے اس لمحے میں ممکن ہے آپ یہ جان سکیں کہ آپ کا یہ غصہ شاید تھکاوٹ، بھوک یا نیند کی کمی کی وجہ سے ہے جو  بڑھ کر جذباتی تناو کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ اضطراری حرکت سے رکنے کے بعد ذہنی طور پر ذرا فاصلے سے  اسی صورت حال کا دوبارہ سے مشاہدہ کریں.  یعنی ذہنی ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر فضا میں بلند ہوجائیں۔ اور فضا سے اس زمینی صورت حال کا دوبارہ جائزہ لیں  ۔ سب سے پہلے تو مقابل کی سمت دیکھ کر یہ سوچیں کہ وہ شخص جذباتی یا سماجی طور پر آپ کے لیے کتنا اہم ہے.  پھر جھگڑے کو غیر جانبدار ذہنی کیفیت سے سمجھنے کی کوشش کریں۔ یعنی فریق بن کر نہیں بلکہ ایمپائر بن کر مسئلے کی تہ تک پوھنچھیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کے غصے کا مخاطب غلط شخص ہے۔  ہوسکتا ہے وہ صرف پیغام رسانی کررہا ہو اور آپ کے غصے کا صحیح حق دار نہ ہو۔ کشیدہ  صورت حال میں زبان اور بدن دونوں بولیاں اہم ہوتی ہیں . منہ سے نکلے الفاظ کے ساتھ  آپ کے چہرے کے تاثرات، ہاتھوں کی جنبش۔ غرض یہ کہ بدن کے ذریعے سے جتنے بھی پیغامات مخاطب تک پہنچتے ہیں ، وہ اپنا منفی یا مثبت اثر رکھتے ہیں . آپ کا  رویہ یعنی جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں  اور کررہے ہیں اس تنازعے کا آخری نتیجہ مرتب کرے گا۔  یاد رکھیے کسی بھی قسم کی گالم گلوچ ، یا ہاتھا پائی نہ صرف یہ کے ناقابل قبول ہے  بلکہ کرنے والے کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہے ۔ سامنے والے کی کردار کشی ، سخت الفاظ میں تنقید یا حقارت آمیز رویہ  بالکل اختیار نہ کریں۔  اس کے بجائے اگر آپ مخالف کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوجائیں کہ آپ اس کا نقطۂ نظر سمجھتے ہیں اور اس کا احترام بھی کرتے ہیں تو وہ بھی آپ کا نقطہ نظر سمجھنے کے لیے آمادہ ہوگا اور یہ سمجھنا سمجھانا ہی تنازعے کے حل کی طرف جاتا ہوا کامیاب راستہ ہے۔ اگر آپ طیش میں کی گئی باتوں کی ذمہ داری کھلے دل سے قبول کرلیں تو اس بات کا امکان ہے کہ سامنے والا بھی ایسا ہی کرے۔  پھر آپ ایک بہتر فضامیں اپنا نقطہ نظر پیش کرسکتے ہیں۔  منفی جذبات کا اظہار بھی اگر مہذب اور سیدھے سادھے  انداز میں کیا جائے تو وہ طنز یا غصے کے اظہار مثلاً دروازے کو زور سے بند کرنے سے کہیں بہتر ہے۔  یاد رکھیے آپ دوسروں پر قابو نہیں پاسکتے۔ آپ کے لیے واحد اور بہتر راستہ یہ ہے کہ آپ خود پر قابو پائیں اور پھر اپنے نقطۂ نظر پر سامنے والے کو قائل کرنے  کے لیے دلیل دیں اور مقابل کا نقطۂ نظر سُن کر گنجائش فراہم کرنے کے لیے تیار رہیں ۔کسی جھگڑے کا حل یقینا اہم ہوتا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات  یہ ہے کہ مقابل ایک دوسرے کو سچے دل سے معاف کرسکیں۔ نیلسن منڈیلا نے ایک دفعہ کہا تھا ۔’’ اپنے دل میں بغض رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم زہر کھائیں اور یہ اُمید رکھیں کہ ہمارا دشمن موت سے ہمکنار ہوگا۔‘‘ اکثر صورت حال میں مسئلہ اہم نہیں ہوتا۔ بلکہ دو مقابل افراد کے درمیان رشتہ اہم ہوتا ہے اور اس کے برقرار رہنے پر دونوں کی خوشیوں کا دارومدار ہوتا ہے۔ اسی لیے صرف مسئلے پر مرکوز رہنے کے بجائے دور رس نتائج پر اپنی نظریں جماے رکھنی چاہییں۔ شاید یہ آپ کا تجربہ بھی ہو۔ کہ بعض اوقات کمپیوٹر درست کام نہ کرے تو اسے ری سٹارٹ کرنے سے چھوٹے چھوٹے مسائل خود بخود حل ہوجاتے ہیں۔  بالکل اسی طرح گھریلو تنازعے کی صورت میں کچھ دیر کے لیے الگ الگ ہوجانا اور مناسب ذہنی کیفیت بحال ہونے تک کسی مسئلے کے حل پر گفتگو کو ملتوی کر دینا بہت سے مسائل سے بچا سکتا ہے۔  طیش کی کیفیت سے باہر آجانے کے بعد  رابطے کی کوشش میں پہل کرنا انتہائی سمجھ داری کی بات ہے۔ ممکن ہے یہ چند تجاویز آپ کے لیے کارآمد ثابت ہوں ۔ اب آپ سے اجازت۔ اپنی خوشیوں سے جڑے رشتوں کا خیال رکھیے!

شارق علی ، ویلیو ورسٹی

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

16,719 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina