retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

جائز انکار ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Saying No, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
September 23, 2018
retina

Be kind to yourself and learn how to stop saying yes when you want to say no in this podcast

http://https://www.youtube.com/watch?v=IxR3-wsKVw8&feature=youtu.be

 

جائز انکار ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

اگر آپ کسی غیر مناسب یا بے وقت مطالبے پر انکار میں مشکل محسوس کرتے ہیں تو اس انشے سے ضرور فائدہ اٹھائیے ۔ کسی بھی ایسی صورت حال میں کہ جس میں ہم خود اپنی ذات پر بوجھ اُٹھائے بغیر دوسروں کے لیے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں ہمارا جواب ہاں میں ہونا چاہیے.  لیکن عملی زندگی کے دوران ہر بار ایسا ممکن نہیں ہوتا اور بعض صورتوں میں انکار ہی مناسب جواب ہوتا ہے۔ ایسی کسی بھی صورتحال میں اضطراری طور پر فیصلہ کرنے کے بجائے کچھ وقت مانگ لینا زیادہ بہتر ہے تاکہ ضروری سوچ و بچار کی جا سکے ۔ سب سے پہلے تو یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ایک انسان ہونے کے ناطے سے ہرکام کرلینا ہم میں سے کسی کے لئے بھی ممکن نہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری روز مرہ مصروفیات پہلے ہی سے اس قدر زیادہ ہیں کہ مزید کسی وعدے کی گنجائش موجود نہیں۔  جب یہ بات واضح ہے تو خود کو سمجھائیے کہ ایسی صورت حال میں انکار کردینے سے آپ خود غرض نہیں ہوجاتے اور اگر دوسرے لوگ ایسا تاثر لیں گے تو وہ غلط ہوں گے۔ پھر یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہم ایک ساتھ تمام لوگوں کو خوش نہیں کرسکتے اور اگر کچھ لوگ ہم  سے وقتی طور پر مایوس ہوں بھی جایں تو یہ بالکل نارمل بات ہوگی۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم  اپنی جسمانی اور ذہنی صحت برقرار رکھ سکیں ۔ اپنے خاندان اور اپنے دوستوں کو جائز وقت دے سکیں ۔ تو گویا انکار کرنا بجائے خود کوئی منفی بات نہیں۔ بلکہ بعض صورتوں میں یہ زیادہ مثبت راستہ  ہے۔ زندگی میں حاصل شدہ وقت کو اہم کاموں میں صرف کرنا بے حد ضروری ہے۔  ذرا سوچیے کہ جب ہم  اضطراری طور پر کسی کام کے لیے رضا مند ہوجاتے ہیں اور وہ کام ہماری اہم مصروفیات سے متصادم ہوتا ہے تو ہم کس قدر ذہنی وجسمانی اذیت سے گذرتے ہیں۔  یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ہمارے لئے ذاتی طور پر کسی بھی صورت حال میں انکار کرنا کیوں مشکل محسوس ہوتا ہے ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم دوسروں کو ہمیشہ خوش رکھنا چاہتے ہیں۔ خود کو خود غرض کہلوانا نہیں چاہتے ، انکار کی صورت میں رشتوں کے ٹوٹ جانے کے خوف میں مبتلا ہیں۔ اس نوعیت کا غور و فکر آپ کو درست فیصلہ کرنے میں مدد دے گا ۔  یہ بات سمجھنا بھی اہم ہے کہ لوگ کس طرح آپ کو حامی بھرنے پر مجبور کرلیتے ہیں ۔ بعض لوگ دھونس، دھمکا کر، بعض گلے شکوے کرکے، مظلوم بن کے یا آپ میں احساسِ جرم بیدار کرکے یا آپ کی خوشامد کرکے آپ کو حامی بھرنے پر مجبور کرلیتے ہیں۔ ضروری ہے کہ آپ ان تمام طریقوں سے آگاہ ہوں اور غیر ضروری طور پر حامی بھرنے پر مجبور نہ کیے جائیں۔ اس اُمید کے ساتھ کہ میری یہ بتائی ہوئی چند باتیں آپ کے لیے مددگار ہوں گی۔ میں آپ سے اجازت چاہوں گا—— ویلیوورسٹی، شارق علی

 

غصّے پر قابو ، فکر انگیز انشے Anger management, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Anger is a positive emotion if used in a controlled manner in the right direction at the right time. Uncontrolled anger can become a serious health and social issue

 

 

غصّے پر قابو ، فکر انگیز انشے، شارق علی

ہم سب جانتے ہیں کہ غصہ حرام ہوتا ہے لیکن اس پر قابو رکھنا ہم میں سے کسی کے لئے بھی آسان نہیں.  روز مرہ کی زندگی میں اکثر ایسے مقام آتے ہیں جہاں غصّہ ایک فطری رد عمل کے طور پر ابھرتا ہے .  مثلاً سڑک پرکسی دوسرے ڈرائیور کی بد عملی یا کسی بچے کا بات ماننے سے مسلسل انکار . ایسی صورت میں غصہ آنا قدرتی بات ہے لیکن اس کا اظہار مناسب موقع  پر اورصحیح انداز میں کرنا بے حد ضروری ہے ۔  غصّہ منفی نتائج کا سبب بنتا ہے جب ہم خود  پر قابو نہ رکھ سکیں اور کسی غلط موقع پر یا مشتعل انداز میں غصّے کا اظہار  کچھ یوں کر بیٹھیں کہ اہم انسانی رشتوں کے حوالے سے ہمیں بھاری قیمت چکانی پڑے . مسلسل غصّہ ہماری صحت کی خرابی کا سبب بھی بن سکتا ہے .   جیسا کہ بزرگ کہتے ہیں پہلے سوچو پھر بولو۔  کوئی بات خاص طور پر غصے میں کوئی بھی بات کہنے سے ذرا پہلے اگرہم توقف سے کام لیں تو ہمیں سوچنے کا موقع ملے گا اور ممکن ہے ہم اس بات کو غیر مناسب سمجھ کر رد کردیں.  غصے کی کیفیت میں توقف نہ صرف ہمیں سوچنے کا موقع دیتا ہے بلکہ سامنے والے کو بھی مناسب طرز عمل اختیار کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ جب ہم خود پر قابو پاچکے ہوں تو اپنے غصے کا اظہار ضرورکرنا چاہیے لیکن مہذب انداز میں. مخاطب کو بتانا چاہیے کے ہمارے تحفظات کیا ہیں، ہماری  توقعات کیا ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ دوسرے کے جذبات اور انا پر کوئی سنگین حملہ نہ ہو۔ غصے کا مہذب اظہارتو ضروری ہے لیکن اپنے دل میں کسی قسم کا بغض رکھنا مناسب نہیں ۔ ایسا کرنا خود کو سزا دینا ہے ۔ کڑواہٹ کو اپنے اندر جگہ دینا خود پرکیا جانیوالا ظلم ہے . یہ بات عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ صحتمند غذا  کا استعمال اور باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں۔ وہ اپنے تناو اور غصے کو بہتر طور پر قابو میں رکھ سکتے ہیں۔  کوئی ہلکا پھلکا کھیل یا محض تیز قدموں کی چہل قدمی اس سلسلے میں کارآمد ہو سکتی ہے .  اس بات کی نشاندہی تو آسان ہے کے ہمیں کونسی بات غصّہ دلاتی ہے . اگر بچہ اپنا کمرہ صاف نہیں رکھتا یا دروازہ زور سے بند کرتاہے یا رات کے کھانے میں ہمیشہ تاخیر ہوجاتی ہے. لیکن ذرا گہرائی میں جا کر بات کی تہہ تک پوھونچنا اور بنیادی مسلہ حل کرنا ضروری ہے نہ کہ بار بار غصّہ کیے چلے جانا . غصے کے اظہار کا ایک بہتر طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہم استعمال کیے ہوئے جملوں میں ’’میں‘‘ اور ’’مجھے ‘‘ کے الفاظ زیادہ استعمال کریں اور ان الفاظ کے ساتھ مخاطب کے احترام اور اس کے جذبات کا خیال رکھیں۔ مثلاً یہ کہ مجھے یہ بات غصہ دلاتی ہے کہ کھانا کھانے کے بعد ہم ٹیبل کو صاف کرنے اور پلیٹیں دھونے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے۔  بجائے اس کے کہ تم میرے ساتھ کبھی کام میں ہاتھ نہیں بٹاتے اور مجھے ہر کام تنہا کرنا پڑتا ہے.  گویا  مسئلے کی جانب نشان دہی کرتے ہوے دوسرے شخص کی انا اور اس کے جذبات کو اس بیان سے الگ رکھنا بہتر نتائج پیدا کرتا ہے۔   غصہ پیدا کرنے والی صورت حال ہمیں سیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے اور ہمیں اس کا بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ ظرافت اور حسِ مزاح کا استعمال طنز سے کہیں بہتر ہے۔ طنزیہ گفتگو سے بہتر نتائج حاصل نہیں ہوتے ۔ بہت سے لوگ یکدم اشتعال میں آجانے کی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں ۔ ایسی صورتحال کو قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ایسے میں بالکل خاموشی اختیار کر لینی چاہیے . اندرونی تنائو کو ختم کرنے کے لیے گہری سانس لینا یا اندر ہی اندر خود کو پرسکون رہنے کی تلقین کرنا کارآمد ہو سکتا ہے۔  ایسی صورت حال سے علحدہ ہو کر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچ و بچار کرنا بہت مفید ہوتا ہے تاکہ وقتی اشتعال سے باہر  نکلا جا سکے .  ہم میں سے بیشتر لوگ تو ان تجاویز کی مدد سے اپنے غصے پر قابو پاسکتے ہیں ۔ لیکن اگر غصّہ آپ کے لئے ایک  سنگین مسلہ ہے اس تو اس بات میں بھی  کوئی حرج نہیں کہ کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کر لیا جاے . اپنی صحت اور اپنی خوشیوں کا خیال رکھیے ۔ آپ سے اجازت—– ویلیوورسٹی ، شارق علی

اچھی زندگی ، فکرانگیز انشے Good life, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Socrates was the first one who pointed out the importance and gave us a philosophical description of the good life. It is a journey of personal reflection and values clarification

 

 

اچھی زندگی ، فکرانگیز انشے ، شارق علی

انسانی تاریخ میں بہت سے فلسفیوں اور مصلحین نے اپنے طور پر اچھی زندگی کی وضاحت کی ہے اور یہ کسی حد تک ہمارے لئے فائدہ مند بھی ہے. لیکن کیونکہ زندگی ہر انسان کا انفرادی سفر ہے اس لئے میرے خیال میں اچھی زندگی کی وضاحت ذاتی اقدار کی دریافت سے شروع ہوتی ہے . یہ  محض والدین کی ہدایات پر بلا سوچے سمجھے عمل پیرا ہونے سے حاصل نہیں ہوتی . نہ ہی معاشرے میں قبولیت اور احترام کی شدید آرزو کے تعاقب میں اندھی سماجی فرمانبرداری سے . بلکہ یہ کٹھن راستہ ذاتی سوچ و بچار سے ہو کر گزرتا ہے. ایسی زندگی صرف دکھتی نہیں بلکہ محسوس ہوتی ہے . ہمارے دل و ذہن کو وہ ہی اچھا محسوس ہو گا جو ہماری اقدار سے ہم آہنگ ہو . ممکن ہے جن قدروں پر ہم یقین رکھتے ہوں وہ معاشرے میں رائج تصورات سے مختلف ہوں بلکہ بعض اوقات متصادم بھی ۔  ہوسکتا ہے کہ معاشرہ اور دوسرے لوگ ہمارے ذاتی تصور کو یکسر غلط کہیں، اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کریں۔ اس صورت میں یہ بات تو ٹھیک ہے کہ ہمیں اپنی اقدارپر دوبارہ غور و فکر کرنا چاہیے۔ اس پرایک بار پھر  تنقیدی نگاہ ڈالنی چاہیے۔ لیکن اگر اچھی زندگی کے بارے میں ہماراذاتی عقیدہ پھر بھی درست محسوس ہوتا ہو تو پھر ہمیں دوسروں کی زیادہ پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ کسی بھی عمل کے اچھے یا بُرے ہونے کا رشتہ اس کے انجام سے جُڑا ہوتا ہے۔ ہم کسی ایسے عمل کو اچھا نہیں کہہ سکتے کہ جو خود ہمارے لیے یا دوسروں کے لیے بُرے نتائج حاصل کرے۔   اچھا راستہ وہ ہے جس کی منزل اجتماعی فلاح ہو۔  اگر ہم کسی ٹیم کا حصہ ہیں اور ہماری  توجہ انفرادی کامیابی پر مرکوز ہے اور  یہ بات ٹیم کی کامیابی سے ہم آہنگ نہیں تو اجتماعی فلاح کے حوالے سے یہ بات  اچھی نہیں ہو گی . توازن اور اچھائی میں گہرا تعلق ہے۔  شدت پسندی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو محدود کردیتی ہے ۔  توازن کا راستہ سب سے بہتر راستہ ہے.  مثال کے طور پر انکساری بہت اچھی چیز ہے لیکن اگر آپ اس قدر منکسر المزاج ہیں کہ ہر آدمی آپ کو پیروں تلے روند کر گزر سکتا ہے تو یقینا یہ کوئی اچھی بات نہیں ، اس کے اثرات آپ کی جسمانی اور جذباتی صحت پر پڑیں گے۔  ذمے دار ہونا اچھی بات ہے لیکن اگر آپ کی تمام زندگی اپنی ذمے داریاں نبھاتے گزر گئی  اور آپ خود اپنا خیال نہ  رکھ سکے اور نہ ہی اُن غریب ضرورتمندوں کا کہ جو آپ کا خاندان تو نہیں تھے مگر آپ کی مدد کے طلب گار اور حقدار ضرورتھے ۔ تو پھر ایسا ذمے دار رویہ کوئی اچھی بات نہیں ۔  مثبت طرزِ فکر اچھی بات ہے۔ لیکن بار بار مثبت طرزِ فکر کا ذکر کرکے وہی غلطیاں دوہرانا اچھی بات نہیں۔   اچھا انسان دوسروں کے رویوں سے جلدی بد گمان نہیں ہوتا۔ وہ انھیں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے عدم تشدد اور بات چیت کے ذریعے سے، کھلے دل و دماغ سے اور صورتِ حال کو پوری طرح سمجھ لینے کے بعد وہ کوئی فیصلہ کرتا ہے۔  اچھی زندگی گزار نا اہم ہے اس لئے کہ یہی فطرت سے ہم آہنگ اوردرست راستہ ہے.  ہماری روح اور ہمارا جسم اچھی زندگی ہی سے پھلتا پھولتا ہے۔  مہربانی، محبت ، مثبت طرزِ فکر، ایک دوسرے کا احترام اور اجتماعی فلاح کو اہمیت دینا ایسی زندگی کی علامتیں ہیں.  اچھی زندگی یہ ہے کہ ہم مسلسل سیکھتے رہیں.  ایسی صورت حال سے بھی جو یا تو بہت مبہم تھی یا بہت پیچیدہ ،  اپنی غلطیوں سے ،  اردگرد کے لوگوں سے،  اپنی تاریخ سے، حالاتِ حاضرہ سے، بدلتی ہوئی صورتِ حال سے . اچھی زندگی یہ ہے کہ دوسروں کی مدد کی جاے اور اگر وہ راضی ہوں تو اُن کا ہاتھ پکڑ کر درست سمت کی طرف اُنہیں متوجہ کیا جاے —– ویلیوورسٹی، شارق علی

گُل خان موچی، سیج ، انشے سیریل، سینتالیسواں انشا Gul Khan shoemaker, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 47

Posted by: Shariq Ali
retina

One billion human beings in our present day world are suffering from the lack of basic necessities such as food, water, shelter, education, medical care, and security. Do we care?

 

 

گُل خان موچی، سیج ، انشے سیریل، سینتالیسواں انشا ، شارق علی

پیرس کے قیام کا تیسرا دن تھا۔ زیرِ زمین میٹرو کے اسٹیشن سے باہر آئے تو ۱۸۹۴ء سے قائم بے حد مہنگا اور عالمی شہرت یافتہ ڈپارنمنٹل اسٹور گلیریا لفایا تے ہمارے  بالکل سامنے تھا۔ یہ فرانس کی امیر ترین اور فیشن ایبل شاپنگ کی علامت اور نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ پروفیسر گِل فرانس سے کل ہی لوٹے تھے۔ ٹی ہائوس میں محفل گرم  تھی۔ بولے، شیشے کا بڑا سا دروازہ کھول کر داخل ہوے تو سوٹڈ بوٹڈ سیکورٹی اسٹاف نے مہذب تلاشی لی۔ فانوسوں سے آراستہ کوریڈور کے دونوں جانب شوکیسوں میں سجی بے حد مہنگی مصنوعات اور ان میں دلچسپی لیتے مقامی اور دُنیا بھر سے آے خریداروں کا رش  ۔ آرٹ ڈیکو انداز میں سجے اس ڈپارٹمنٹل اسٹور کا سب سے حسین اور شاندار حصہ رنگین شیشوں سے بنا وہ دلکش گنبد ہے جو اس کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ پیرس کا لفایاتے تین مختلف وسیع و عریض عمارتوں پر مشتمل ہے اور فرانس کے دیگر شہروں اور دُنیا کے دیگر ممالک میں موجود اسٹورز علیحدہ۔ کونسی شے ہے جو یہاں دستیاب نہیں۔ ڈھائی ہزار سے زیادہ برانڈز، گھرداری، آرائش، فیشن اور کھانے پینے کی اس قدر معیاری چیزیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جائے۔ صرف ونڈو شاپنگ کرنا ہو تو بھی گھنٹے نہیں پورا دن درکار۔ شاید دُنیا کی مہنگی ترین مصنوعات۔ چالیس پچاس ہزار یورو کی گھڑیاں تو شو کیس میں عام سجی دیکھیں۔ ایک طرف سجے ایک اٹالین جوتے کی قیمت ڈھائی ہزار یورو دیکھی تو خیال آیا کہ بس چند ہفتے پہلے ہی کی تو بات ہے جب میں کراچی میں موزے پہنے کسی ٹوٹی ہوئی دیوار سے اُٹھاے ہموار پتھر پر بیٹھا ہوا تھا اور گُل خان موچی پالش کے بعد چمکتے دمکتے جوتے میری طرف بڑھائے ہوے مسکرایا تھا۔ اُجرت پوچھی تو بولا بیس روپے۔ میں نے پچاس کا نوٹ ہاتھ پر رکھا تو شرما کر بولا ’’بنتے تو بیس ہی ہیں آگے تمہاری مرضی۔ دو گلیوں کے ملاپ کے کونے پر چار ٹیڑھی میڑھی لکڑیوں پر ٹکا پانچ بائی پانچ فٹ کے رفو شُدہ ترپال کے نیچے بالکل بیچ میں رکھا ایک فولادی فریم تھا جس پر ہر سائز کا جوتا چڑھایا اور مرمت کیا جا سکتا تھا . اس کے پیچھے بیٹھا ادھیڑ عمر گورا چٹا پشاوری ٹوپی لگائے نسوار کھاتا گُل خان موچی۔ ایک جانب ٹین کے ٹرنک میں رکھے ہر سائز اور رنگ کے برش، پالشیں، دھاگے اور چھوٹی بڑی کیلیں اور سامنے پتھر پہ بیٹھا گاہک۔ یہ تھی گُل خان موچی کی دُنیا جہاں وہ دن کے آٹھ گھنٹے اور سال کے دس مہینے رزقِ حلال کی جدوجہد میں گزارتا۔ باقی دو مہینے ملک میں بیوی بچوں کے ساتھ۔. میں گل خان موچی کی یاد ساتھ  لیے گیلریا لفایا تے سے واپسی پر سارے راستے یہ سوچتا رہا کے ممکن ہے گل خان اپنی دنیا کی سادگی میں خوش ہو . لیکن شعور مندی کیسے سکھی رہ سکتی ہے ۔ ایک ایسی دُنیا میں جس میں چھ بلین میں سے ایک بلین انسان غربت کی نچلی ترین سطح پر سو روپے روز سے کم میں گزارا کر رہے ہیں۔ جس کی بیس فیصد امیر آبادی کے قبضے میں دُنیا کے اسی فیصد قدرتی وسائل اور دولت ہے.  جس میں ہرسال ڈیڑھ کروڑ افراد بھوک اور افلاس کا شکار ہوکر مر جاتے ہیں اور اسی کروڑ کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی اور مشرقی افریقہ جہاں دُنیا کی آدھی آبادی بستی ہے،  آبادی کے بلا روک ٹوک اضافے اور سماج میں موجود افراد کی صلاحیتوں کو استعمال نہ کر سکنے کے نتیجے میں کمزور معیشت اور غربت کے بوجھ سے بے حال ہیں۔ ہماری اس دُنیا میں گیلیریا لفایاتے جیسے آراستہ امارت کدے اور لگژری شاپنگ سینٹر دلکش ہیں یا بد صورت؟ کیا یہ ہم انسانوں کی لاتعلقی اور سنگدلی کا مظہر نہیں؟— جاری ہے

انسان دوستی ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Humane, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

We, humans, are an interconnected reality. Those who understand this fact shows kindness, care, and sympathy towards others especially the sufferers

 

 

انسان دوستی ، فکر انگیز انشے ، شارق علی
ایسی دُنیا جس میں بیشتر لوگ خوف اور غصے کو بیدار کرنے میں مصروف رہتے ہوں ۔ انسان دوستی کسی تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں ۔ یہ خود ہمارے لیے بھی صحت مندی اور خوش کا باعث  بنتی ہے۔ اس سے میری مراد ہے، دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھنا ، خود اپنے آپ کو اُن کی جگہ پررکھ کر محسوس کرنا اور اُن کی مدد کرنا۔  انسان دوست ہونے کی پہلی شرط یہ ہے کہ ہم دوسروں کو سُننا جانتے ہوں۔ ان میں سچی دلچسپی رکھتے ہوں.  اگر کوئی ہم سے مخاطب ہو اور ہم اس دوران کچھ اضطراری حرکتوں میں مصروف رہیں یا دل ہی دل میں کوئی اور بات سوچ رہے ہوں تو یہ بات گفتگو کرنے والے پر بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ ہماری آنکھیں اور ہماری  جسمانی بولی صاف کہے دیتی ہے کہ ہم  متوجہ نہیں۔ سُننے سے مراد ہے دوسروں کے انداز فکر کو سمجھنا،  اس پر دیانتداری اور ٹھنڈے دل سے غور کرنا ۔ ان کے جذبات کا احترام کرنا اور اپنے رویے میں خوش دلی سے اس کا اظہار کرنا. انسان دوستی دو طرفہ عمل ہے۔  جب ہم انسان ایک دوسرے کی بات سُنتے ہیں اور پرخلوص انداز میں اپنے اندرونی جذبات کا اظہار کرتے ہیں تو یہ عمل ایک درمیانی پُل کا کام کرنا ہے۔ خیال رہے کہ ایسا اُن ہی لوگوں کے ساتھ ممکن ہے جن پر ہمیں اعتماد ہو اور جو جذباتی طور پر ہمارے لئے اہم ہوں یا جن سے ہم دوستی یا تعلق قائم کرنا چاہیں۔ انسان دوست ہونے کے لیے اپنی  اندرونی کیفیات سے واقف ہونے کے علاوہ بیرونی ماحول سے آگاہی بھی بہت ضروری ہے ۔ ماحول میں موجود آوازیں، خوشبوئیں، مناظر اور دیگر موجود لوگوں کے جذبات انتہائی اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ زندگی کی درست تصویر ہمارے ذہنی ماحول اور ہمارے رویے کو انسان دوست بناتی ہے ۔ ایک انسان دوست دوسروں کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے گریز کرتا ہے کیونکہ ہم سب تبدیل ہوتی ہوئی حقیقت ہیں اور ہم سب میں بہتری کی گنجائش ضرور موجود رہتی ہے۔ اسی لئے تعصبات سے دور رہنا ضروری ہے . رنگ، نسل، مذہب، عقیدہ اور زبان، انسان دوستی میں رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے ورنہ ہم خوشی سے دور ہو جاتے ہیں. اگر ہمارے سوچنے کا انداز مثبت ہے، ہمارا رویہ مددگاراوراندازِ گفتگو تعمیری ہے تو بہت سے لوگ خود بخود ہم سے قریب ہونے لگتے ہیں ۔ اگر ہم نئے لوگوں میں، نئی صورت حال میں، نئی دُنیائوں میں دلچسپی رکھتے ہیں ، اُنہیں سمجھنا چاہتے ہیں، اُن سے سیکھنا چاہتے ہیں۔  تو گویا ہم انسان دوستی کے سفر پر رواں دواں ہیں۔ اس کے مقابلے میں اگر ہم ایک مخصوص طرزِ فکر اور عقیدے پر اصرار کرتے ہیں تو گویا ہم نے خود اپنی ذہنی ترقی کے راستے محدود کرلیے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے سماج اور معاشرے میں دلچسپی لیتے ہیں ، اس کی فلاح و بہبود میں حصہ بٹاتے ہیں۔ ایک شہری کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہیں اور حال میں کیے گئے اپنے عمل کو مستقبل سے جوڑ سکتے ہیں اور خود اپنے ذہنی تعصبات کے خلاف سوالات اُٹھا سکتے ہیں وہ انسان دوستی کا مفہوم سمجھتے ہیں۔ ہماری پروازِ خیال اگر صرف ہماری ذاتی آرزوئوں اور خواہشوں تک محدود ہے تو یہ بات انتہائی افسوسناک ہے ۔ لیکن اگر ہم ارد گرد بسنے والوں اور موجودہ دُنیا سے اپنے تعلق کو جوڑ سکتے ہیں اور اس کی بہتری میں حصہ بٹا سکتے ہیں تو یہ بات خود ہمیں بھی مسرت بہم پہنچائے گی اورصحت مند رکھے گی۔ اپنے خاندان کے افراد ، اپنے دوستوں، اپنے ارد گرد بسنے والوں بلکہ دُنیا کے تمام لوگوں کو اہم سمجھئے، اُنہیں توجہ اور محبت دیجیے .  یقین مانیے ایسا کرنے سے آپ کو محبت اور احترام حاصل ہوگا.  اب آپ سے اجازت — ویلیوورسٹی، شارق علی

 

انکساری، فکر انگیز انشے، شارق علی Humility, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

It is the confidence in your own identity and ability that makes you respectful toward others. Humility is choosing not to draw attention to yourself but to highlight the abilities of others

 

 

انکساری، فکر انگیز انشے، شارق علی
انکساری کا مطلب خود کو کم اہمیت دینا نہیں بلکہ اس سے مراد ہے خلوص دل سے دوسروں لوگوں اور زندگی میں دلچسپی لینا اور ہردم اپنے بارے میں سوچنے اور گفتگو کرنے سے پرہیز کرنا . اگر ہم اپنے بارے میں مطمئن اور پر سکون ہوں تو یہ ایک قدرتی انسانی رویہ ہے . لیکن ان لوگوں کے لیے انکساری بے حد مشکل ہے جو اندرونی نا آسودگی کے سبب اپنی ذات کے ہر پہلو کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے عادی ہوتے ہیں ۔  انکساری ہمیں بہتر زندگی اور انسانی تعلقات کی حقیقی خوشی سے متعارف کرواتی ہے ۔ عزت و احترام اور زندگی میں ترقی کے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے . اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ہماری ذات زندگی کے ہر پہلو میں بہترین نہیں۔ اُن لوگوں کی طرف دیکھنے اور ان سے سیکھئے میں کوئی حرج نہیں جو کسی مخصوص پہلو میں ہم سے بہتر ہیں۔ خاص طور پر زندگی کے ان شعبوں میں جن میں ابھی ہمارے سیکھنے  کے لئے گنجائش باقی ہے. بعض اوقات ہم دوسروں پر فیصلہ صادر کرنے میں تو عجلت سے کام لیتے ہیں لیکن خود اپنے عمل پر نظر ڈالنے سے گریز کرتے ہیں۔ انکساری حاصل کرنے کے لئے  کچھ دیر ہی کے لیے سہی  لیکن کبھی کبھار اپنی کمزوریوں پر نظر ڈالنا بے حد ضروری ہے.  ممکن ہے آپ نے کسی بڑے ادارے سےکوئی  ڈگری حاصل کر رکھی ہو۔ ذرا اس شخص کا تصور کیجئے جو آپ جتنا ہی ذہین، محنتی اور سمجھ دار تھا مگر صرف اپنے حالات اور قسمت کی وجہ سے کسی بڑے ادارے میں تعلیم پانے سے محروم رہا۔ کیا آپ اپنی ڈگری کو محض اپنی ذاتی قابلیت کا نتیجہ قرار دے سکتے ہیں؟ کیا حالات اور ارد گرد کے لوگوں نے آپ کی  مدد نہ کی ہوتی تو آپ یہ کامیابی حاصل کرسکتے تھے؟  تو گویا شکر گزاری بھی ہمیں انکساری کی سمت لے جاتی ہے. منکسر ہونے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ ہم غلطی  کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ غلطی کرنا کوئی بری بات نہیں ، لیکن غلطی پر اصرار کرنا،  بلکہ بعض اوقات اس پر فخر کرناانتہائی احمقانہ بات ہے۔  غلطیوں سے سیکھنا اُور اُنہیں تسلیم کرکے آگے بڑھ جانا انکساری ہی کی ایک صورت ہے جس سے ہمیں دوسروں کا احترام بھی حاصل ہوتا ہے.  خود اپنی تعریف کرنا یا اپنے بارے میں گفتگو کرتے چلے جانا انتہائی بورمشغلہ ہے۔  اچھی کارکردگی  کے باوجود اگر ہم  سادہ اور پرخلوص گفتگو کرنے کے عادی ہوں تو نہ صرف  لوگ ہماری بات غور سے سنیں گے بلکہ ہماری قدر و منزلت ان کی نگاہوں میں کہیں زیادہ ہوگی۔  کوئی اچھا کام کرنے کے بعد ساری کامیابی کا تاج خود اپنے سر پر پہن لینا درست نہیں ۔  ایسے موقعوں پر اپنے مددگاروں کے بارے میں تشکر کا رویہ رکھنا بہت ضروری ہے . دوسروں کی صلاحیت کا برملا اعتراف اور اظہار کرنا سچی انکساری ہے. دوسروں سے موازنے کی عادت چھوڑ کر اگر ہم  اپنے آپ کو بہتر بنانے پر توجہ دیں  اور یہ یقین رکھیں کہ ہم میں سے ہر شخص انفرادی صلاحیت کے اعتبار سے  منفرد ہے تو یہ بات ہمیں مثبت ذہنی اطمینان مہیا کرے گی۔ اس بات پر مسلسل پریشان ہونا چھوڑ دیجیے کہ دوسرے آپ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، بلکہ یہ سوچئے کہ آپ کا رویہ مناسب اور درست ہے یا نہیں ؟ یعنی وہ اچھا عمل اور سوچ جو ہم نے اپنی تربیت اور پڑھی ہوئی کتابوں سے سیکھی ہے۔ کیا ہم اس کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں یا نہیں؟ اگر ہم مسلسل سیکھنے اور دوسروں کی مدد لیے  تیاررہتے ہیں. ان  کا احترام  کرتے ہیں اور کسی کے لیے کوئی اچھی بات کہنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے اور دوسروں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں تو یقینا ہماری طبیعت میں انکسار موجود ہے۔ اب آپ سے اجازت۔ اپنا خیال رکھیے گا —- ویلیوورسٹی، شارق علی

 

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

16,809 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina