retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

بنگال کا لٹیرا ، سامراج ، ساتواں انشا Robert Clive, IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 7TH EPISODE

Narration by: Shariq Ali
February 16, 2019
retina

Robert Clive who established the military supremacy of British Raj in India gave a new word to English dictionary “loot” by practically demonstrating it in Bengal.  He died painfully in London at the age of 49

 

 

بنگال کا لٹیرا ، سامراج ،  ساتواں انشا ، ویلیوورسٹی ، شارق علی

پروف بولے . اٹھارویں صدی کے وسط میں بنگال کا نواب علی وردی خان مغلوں کے اثر سے آزاد ایک خود مختار نواب بن چکا تھا ، اس کے انتقال کے بعد اس کا پوتا سراج الدولہ جو صرف تیئیس  برس کا تھا تخت پر بیٹھا.  وہ بھی انگریزوں کو وہ مراعات دینے کے خلاف تھا جو مغل انھیں پہلے ہی دے چکے تھے .  اس زمانے میں کلکتہ تجارتی لحاظ سے بہت اہم بلکہ مرکزی حیثیت رکھتا تھا اور مال و دولت کے لحاظ سے بنگال ایک مضبوط ریاست تھی .  انگریز اور نواب بنگال کا اختلاف بڑھتے بڑھتے باقاعدہ جنگ تک پوھنچا اور اس ساری صورتحال کا ولن تھا رابرٹ کلایو . میں اسے بنگال کا لٹیرا کہوں گا. کون تھا وہ ؟ میں نے پوچھا . بولے .  سترہ سو پچیس میں انگلینڈ کی کاؤنٹی  شروپ شائر میں پیدا ہونے والا رابرٹ کلائیو نفسیاتی اعتبار سے غیر متوازن لیکن بے حد زہین انسان تھا .  بچپن میں سکول کی تعلیمی سرگرمیوں میں ناکام رہا۔ صرف اٹھارہ سال کی عمر میں وہ ایسٹ انڈیا کمپنی میں ایک کلرک کی حیثیت سے بھرتی ہو کر موجودہ مدراس کے علاقے میں نوکری کے لئے پوھنچا . طبیعت بے حد جھگڑالو تھی اور جذباتی طور پر اس قدر نا ہموار کے ایک بار خودکشی کی کوشش کی اور ایک دفعہ ڈوئل لڑنے میں شریک رہا۔ اس کی طبیعت میں لالچ ، سازش اور ظلم کوٹ کوٹ کربھرا تھا. وہ بیشتر وقت گورنر لائبریری میں خود کو تعلیم دینے میں مصروف رہتا اور  عملی جنگی تربیت کے ذریعے ایک فوجی اور سیاستدان کی حیثیت سے ممتاز مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوا .  پہلے تو ایسٹ انڈیا کمپنی اور فرانسیسی فوجوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے معرکوں میں اپنی قابلیت کا سکہ جمایا اور جنگی چالوں خاص طور پر گوریلا جنگ میں مہارت حاصل کر لی . کچھ عرصے کے لئے واپس لندن پہنچا . وہاں اس نے پارلیمنٹ میں الیکشن لڑنے کی کوشش کی مگر ہار گیا. سوفی بولی . تو پھر وہ بنگال کا لٹیرا کیسے بنا ؟ پروف بولے . فوجی صلاحیتوں کے اعتراف میں سترہ سو پچپن میں اسے دوبارہ مدراس بھیجا گیا جہاں وہ سینٹ ڈیوڈ کے قلعے کا گورنر مقرر ہوا. اس کا مشن فرانسیسیوں کو انڈیا سے باہر نکالنا تھا ۔ وہ مدراس  میں گورنر کی حیثیت سے متحرک تھا  لیکن  جب بنگال کے نواب سراج الدولہ نے ایسٹ انڈیا کے خلاف فوجی کاروائی کی تو وہ  آہستہ آہستہ بنگال کے سیاسی معاملات میں زیادہ سے زیادہ دخل انداز ہونا شروع ہوا . آخری معرکہ ہگلی ندی کے کنارے واقع مقام پلاشی پر ہوا  جو مرشد آباد جو نواب سراج الدولہ کا دارالحکومت تھا سے زیادہ فاصلے پر نہیں. یہاں سراج الدولہ اور رابرٹ کلائیو کی فوجوں میں دوبدو معرکہ ہوا.  اس جنگ میں سراج الدولہ کی مدد کچھ فرانسیسی فوجوں نے بھی کی لیکن اسے اس جنگ پلاسی میں واضح شکست ہوئی . اس شکست کی ایک بڑی وجہ میر جعفر کی غدّاری اور کلائیو سے در پردہ سازباز تھی . یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی سب سے بڑی فوجی کامیابی تھی. پھر ان کی طاقت بڑھتی چلی گئیں اور انہوں نے پورے ہندوستان پر بغیر کسی بڑی مزاحمت کے قبضہ کر لیا.  بنگال کی فتح اور پھر جی بھر کی لوٹ مار کے سامان کو بحری جہازوں میں بھر کے کلایو لندن واپس پوھنچا مگر صرف اننچاس برس کی عمر میں کسی موزی مرض سے بے حال ہو کرزیادہ مقدار میں افیون کھانے سے ازیت کی موت مرا ….. جاری ہے

فتح پور سیکری ، سامراج ، چھٹا انشا ، انشے سیریل ، ویلیوورسٹی ، شارق علی Fatehpur Sikri,IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 6TH EPISODE

Posted by: Shariq Ali
retina

In this episode discover how Mughal Empire became weaker and East India company became politically and militarily stronger in India while progressing towards British Raj.

 

 

فتح پور سیکری ، سامراج ، چھٹا انشا ، انشے سیریل ، ویلیوورسٹی ، شارق علی

فتح پور سیکری کی سیر ہمارے بچپن کی حسین یادوں میں سے ایک ہے . اب جو جھلکیاں یاد رہ گئیں ہیں ان میں سے ایک منظر تو بلند دروازے کی سیڑھیاں  چڑھتے ہوے سرخ اینٹوں سے بنی تاریخی عمارتوں کے سلسلے کو دیکھ کر حیران ہوتے چلے جانا ہے. ہم سب بانو امی کو گھیرے ان کے بچپن کی یادیں سن رہے تھے . بولیں . اکبر بادشاہ نے فتح پور سیکری کو اپنا دوسرا دارالحکومت بنایا تھا. ہمارے والد کے لئے تو سلیم الدین چشتی کے مزار  پر حاضری دینا اور فاتحہ پڑھنا وہاں جانے کا سب سے بڑا جواز تھا. لیکن ہم بچے خاص طور پر میں اور انوری جودا بائی کے محل میں جا کر بے حد خوش ہوتے تھے . اکبر اور جودا سے منسوب کہانیاں ان در دیوار میں ہمارے لئے گویا زندہ ہو جاتی تھیں  . ایک سحر سا تھا پورے علاقے میں. ہم سوچتے کیسا لگتا ہو گا جب اس بڑے سے حوض کے بیچ اس سنگ مرمر کے چبوترے پر تان سین دیپک راگ سناتے ہوں گے . دیوان خاص میں اکبر نورتنوں کے بیچ بیٹھا حکو متی معاملات کی دیکھ بھال نجانے کیسے کرتا ہو گا . پھر وہاں کے باغوں اور قدیم درختوں کے ساے میں بیٹھنا بڑا انوکھا تجربہ تھا .  گویا فتح پور سیکری مغل حکمرانی کی ایک ایسی مثال تھی جس میں ہندو ، عیسائی مسلمان سب مل جل کر ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے تھے.  یہ بات ہمیں بہت اچھی لگتی تھی . کئی دنوں تک خواب آتے کے پنچ محل کی پانچ منزلہ عمارت کی خواب گاہ میں جودا بائی نے سبزیوں سے بنے کھانوں سے ہماری دعوت کی ہے . یا خزانہ محل میں مغل شہزادیاں اپنے ہیرے جواہرات جڑے زیورات مجھے اور انوری کو دکھا رہی ہیں . مغل اتنے طاقتور تھے تو انگریز ان پر کیونکر حاوی ہوے ؟ رمز نے پوچھا . پروف بولے . یہ سچ ہے کہ اٹھارویں صدی کے وسط تک مغل سلطنت بالکل کھوکھلی ہو چکی تھی. ایک وجہ تو نادر شاہ اور احمد شاہ کا دلی پر حملہ اور اس کی تباہی تھی اور دوسری چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بغاوت کو کچلنے میں بے دریغ دولت خرچ کر کے بے حال ہو جانا تھا . یوں مغل حکومت سکڑتی چلی گئی اور اس کی طاقت راجہ مہاراجاؤں کے مقابلے میں کمزور ہوتی چلی گئی . اکتیس دسمبر سن سولہ سو میں ملکہ الزبتھ اول کے دستخطوں سے چند مہم جو سیاحوں کو ایسٹ انڈیا کمپنی قائم کر کے ہندوستان جانے کی سرکاری اجازت دی گئی تھی .  یہ برطانیہ کا ہندوستان پر قبضہ کی سمت پہلا قدم تھا۔ سولہ سو چالیس میں پہلی بار ایسٹ انڈیا کمپنی جنوبی ہندوستان میں تجارتی معاہدے کے تحت زمینی قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوی اور یہاں تجارت کی آڑ میں اپنا فوجی قلع قائم کیا اور مقامی لوگوں کو روزگار دے کر ان کی فوجی تربیت شروع کی. یہ وہی علاقہ ہے جہاں اب مدراس شہر آباد ہے . پھر یہی ترکیب استعمال کر کے انگریز  نے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں قلعے قائم کیے اور مقامی فوج تیارکی . ایک طرف مغل کمزور ہو رہے تھے اور دوسری طرف ایسٹ انڈیا کمپنی جگہ جگہ مقامی فوج تیار کرکے مضبوط ہو رہی تھی . یوں انگریز جو یہاں تجارت کے لئے آیا تھا  اس خطّے کے سیاسی معاملات میں زیادہ سے زیادہ شامل ہوتا چلا گیا. کیا دوسرے یورپی ممالک ہندوستان میں دلچسپی نہ رکھتے تھے ؟ میں نے پوچھا . بولے . پہلے تو دیگر یورپی ممالک مثلا پرتگال اور فرانس بھی ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھے ہوئے تھے لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی کی سیاسی سوجھ بوجھ اور پھر پیرس ٹریٹی کی وجہ سے دیگر یورپی ممالک آہستہ آہستہ ہندوستان پر اپنا اثر کھو بیٹھے سوائے فرانس کے جو جنوب میں کچھ حصوں پر بہت عرصے تک مؤثر رہا . پھر لارڈ کلایو جیسا ظالم شخص اس سارے منظر نامے میں داخل ہوتا ہے اور اپنی فوجوں کی مدد سے بنگال میں فرانسیسی اور بنگال کی فوجوں کو  جنگ پلاسی میں فیصلہ کن شکست دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے.  پھر یہ فوجی فتوحات ہندوستان کے دوسرے علاقوں پر بھی بغیر کسی بڑی  مزاحمت کے  پیش رفت کرتی چلی جاتی ہیں……… جاری ہے

کٹھ پتلی کا کھیل ، سامراج ، انشے سیریل ، پانچواں انشا Puppet show, IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 5TH EPISODE

Posted by: Shariq Ali
retina

Imperialism in pre-partition India at times seems merely a puppet show. British were using local army, maharajas and local bureaucracy as puppets to rule the common people

 

 

کٹھ پتلی کا کھیل ، سامراج ، انشے سیریل ، پانچواں انشا ، شارق علی

پہلی بار اچھن میاں کی شادی پر یہ تماشا دیکھا تھا .  قناتیں یوں تانی گئیں تھیں کہ مردانہ زنانہ الگ الگ لیکن لکڑی کی چوکی کا قالین ڈھکا  چھوٹا سا سٹیج سب کی نظروں کے سامنے . بانو امی رمز کو کٹھ پتلی کے تماشے کا احوال سنا رہی تھیں. بولیں . پیچھے گہرے رنگ کا بڑا سا پردہ. اور سامنے لال پیلے سبز رنگوں کے بھڑکیلے کپڑے پہنے روئی بھرے جسم اور بڑی بڑی آنکھوں والی کٹھ پتلیاں، جن کے چھوٹے چھوٹے لکڑی کے ہاتھ پیر جو رسیوں سے بندھے پردے کے پیچھے نظر نہ آنے والے مداری کے اشاروں پر ناچ رہے تھے . تماشادکھانے والا مسلسل بولتا اور کہانی آگے بڑھاتا رہتا.  اس کا ساتھ ڈھولک اور ڈگڈگی سے دیا جاتا . کچھ مکالمے بہت پتلی آواز میں کٹھ پتلیاں بھی بولتیں جو بولی کہلاتی تھی. لیکن ان کی وضاحت بھی مداری ہی کرتا . بروقت موسیقی، بیچ بیچ میں بچوں کے ہنسنے کی آواز، تالیاں ، داد اور تحسین کا شور. ہم سامنے بیٹھے لوگ کسی اور ہی دنیا اور زمانے میں چلے جاتے .  کٹھ پتلیوں میں مختلف کردار ہوتے تھے .  کچھ حسین اور معصوم،  کچھ چالاک اور زہریلے. کچھ شجاع کچھ سازشی،  ظفر بھای نے بتایا کہ تماشا دکھانے والے جاجمنی کہلاتے ہیں اور راجھستان سے آئے ہیں ، یہ خانہ بدوش مغل بادشاہوں کے دور سے یہی کام کرتے ہیں.  اس رات یوں تو بہت سی کہانیاں سنیں لیکن شاہجہان کے زمانے کے امر سنگھ راٹھور کا قصہ سب سے زیادہ دلچسپ لگا. کہیں کہیں سنجیدہ باتیں بھی تھی مگر اکثر کھلکھلا کر ہنسنے والی صورت حال.  صبح کو جاگے تو جاجمنی اپنا سامان لپیٹے سمیٹے جانے کہاں جا چکے تھے .  پروف بولے . ہندوستان کی سیاست ان دنوں کٹھ پتلی کا تماشہ ہی تو تھی . ہندوستان کے راجہ مہاراجہ انگریز سرکار سے کیے معاہدوں سے خوش نہیں تھے. بھرم قائم تھا اور محلات بھی لیکن انھیں مقامی سیاست میں کوئی طاقت حاصل نہ تھی. سارے فیصلے انگریز سرکار کے تھے . کوشش کر کے انہوں نے کچھ ایسی گنجائشیں ضرور نکال لیں جن کی بنیاد پر وہ اپنے عوام سے جڑے رہے۔ اور یوں ہندوستان کی مقامی سیاست پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی چلی گئی۔ گویا امپیریلزم  ایک ڈرامہ تھا . ایک بظاھر خود اعتمادی جس کے تحت حاکمیت قائم تھی حالانکہ اصل طاقت مقامی طور پر قائم کی گئی فوج ، مقامی با اثر لوگوں اور دیسی بیوروکرسی کا نظام تھا . جسے انگریز شطرنج کے مہروں کی طرح استعمال کر رہا تھا . انگریز نے خود اعتمادی سے بھرپور  یہ کٹھ پتلی کا  تماشا نہ صرف ہندوستان بلکے دنیا بھر کی کم ترقی یافتہ اقوام کی عوام کے سامنے دکھایا.  اس شعبدہ گری میں عظیم الشان عمارتوں اور لندن کے تھیٹروں کی طرز کے جاہ و جلال سے بھرپور لباس اور تقریباتی شان و شوکت کا بھی بھرپور عمل دخل رہا . انگریز ماہرین تعمیرات نے پورے ہندوستان کے تمام بڑے شہروں میں مقامی وسائل استیعمال کر کے  ایسی عظیم الشان عمارتیں تعمیر کیں جنہیں دیکھ کر سادہ لوح عوام پر ہیبت طاری ہو جائے. ایسی عمارتوں میں سے ایک عمارت کلکتہ کے گورنمنٹ ہاؤس کی بلڈنگ ہے جو انگریز کے ابتدائی اقتدار کے زمانے میں مرکزی اہمیت کی حامل رہی۔ یہ آج بھی وہاں کی مقامی حکومت کی مرکزی عمارت ہے۔ جب یہ عظیم الشان عمارت اٹھارہ سو تین میں تعمیر کی گئی تو اس مرکزی عمارت میں اور اس کے علاوہ تقریبا ساڑھے چھ ہزار انگریز پورے ہندوستان کی تقریبن بیس کروڑ آبادی پر حکمرانی کرتے تھے.  ذرا سوچو صرف ساڑھے چھ ہزار انگریز اور دور تک پھیلے ہوئے وسیع علاقے میں بسے بیس کروڑ سے زیادہ آبادی والے ہندوستان پر قابض رہے . کیا یہ بات کسی جادوئی شعبدے سے کم ہے۔ اسی صورتحال کو بیان کرنے کے لئے ایک انگریز اہلکار نے کہا تھا کہ یہ وہ وقت تھا کہ جب اگر ہر ہندوستانی صرف ایک مٹھی ریت اٹھا کر ہم انگریزوں پر پھینک دیتا تو ہم ساڑھے چھ ہزار انگریز اس ریت کے تلے زندہ  دفن ہو جاتے—– جاری ہے

راجہ مہاراجہ ، سامراج ، انشے سیریل ، چوتھا انشا Maharajas, IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 4th EPISODE

Posted by: Shariq Ali
retina

Maharajas were the puppet rulers of India, whose strings were in the hands of British Raj. The story continues in the developing world by local rulers and superpowers

 

 

راجہ مہاراجہ ، سامراج ، انشے سیریل ،  چوتھا انشا ، ویلیوورسٹی ،  شارق علی

میں اور انوری بہت خوش تھے کیونکہ اگلے دن ایک شادی میں شرکت کرنا تھی اور خبر گرم تھی کہ راجہ صاحب ہاتھی پر بیٹھ کر آیں گے . بانو امی اور سوفی میں گفتگو جاری تھی ، بولیں.  ہاتھی  تو ہم دونوں کا دیکھا ہوا تھا کہ ان دنوں آگرے کی سڑکوں پر کبھی کبھار ہاتھی کی سواری نکلتی دکھائی دے جانا بہت غیر معمولی نہ تھا.  زیادہ اشتیاق خود راجہ صاحب اور ان کے مہاوت کو دیکھنے کا تھا .  اگلے دن زردوزی کے کام والے کرتے  اور چوڑی دارپاجامے پہن کر شادی میں شریک ہوئے تو لطف آ گیا. قسم قسم کے کھانے اور مٹھائیاں . ہاتھی بھی شاندار اور ہماری توقع سے کہیں زیادہ توانا . پھولوں کے ہاروں سے سجا اور ماتھے پر چاندی کا جھومر بھی . کسی نے بتایا کہ ہفتے بھر میں منوں گننے اور پیپل  کے پتے کھا جاتا ہے . انوری کو ہاتھی اور مجھے زرق برق لباس پہنے مہاوت بہت اچھا لگا . راجہ صاحب نے دونوں کو  بہت مایوس کیا. بہت بھاری بھرکم لباس فاخرہ کے باوجود کمر جھکی ہوئی اور  اتنے دبلے کے بسنت کی ہوا چلے تو پھر سے اڑ جایں . اس پر رنگ بھی سانولا . سب لان میں پڑی کرسیوں پر بیٹھ چکے تو پروف بولے .  مقامی فوج کی تشکیل کے علاوہ انگریز  نے مقامی حکمرانوں یعنی راجہ مہاراجاؤں کو بھی اپنے ساتھ ملایا۔ ان سے ایسے معاہدے کرکے کہ وہ اپنی حکمرانی جاری رکھ سکتے ہیں لیکن انگریز کے ماتحت مقامی فوج ان کی حفاظت پر مامور رہے گی.  یوں تھوڑے سے ٹیکس یا لگان کے بدلے میں وہ اپنا  راج محفوظ رکھ سکتے ہیں.  یہ ایک سامراجی چال تھی. اس محفوظ حکمرانی کا جال انگریز نے آہستہ آہستہ پورے ہندوستان میں پھیلا دیا.  بظاھر تو سارے راجے مہاراجے انگریز کے زیرتسلط اپنا بھرم قائم رکھے ہوے تھے لیکن اصل حکمران ٹیکس لگانے والا انگریز تھا. وہ یہ حکمرانی مقامی فوج کے زور پر کرتا تھا.  وقت گزرنے کے ساتھ حکمران طبقہ جس میں انگریز،  راجہ مہاراجہ اور اعلی مقامی فوجی افسران شامل تھے ایک دوسرے سے ثقافتی طور پر بھی قریب آتے چلے گئے. انگریزی زبان ،  برطانوی رسم و رواج مثلا لباس اور طور طریقے مقامی حکمرانوں اور اعلیٰ فوجی افسروں کی زندگی کا حصّہ بننے لگے . رمز نے کہا . آج بھی کسی فوجی میس کی تقریب میں چلے جائیے تو  برطانوی انداز واضح طور پر دکھائی دیں گے . یہی صورتحال خان بہادر قسم کے حکمران طبقہ کی تقریبات کی بھی ہے .  ایسا کیوں ہے ؟ پروف بولے . انگریز  نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت حکمران طبقے کے نو عمر بچوں کو برطانیہ بھیج کر مقامی کٹھ پتلی حکمران تیار کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا ۔  مہاراجاؤں کے آٹھ دس سالہ بچوں کو برطانیہ  بھیجا جاتا. وہیں ان کی سکولنگ ہوتی.  وہ آکسفورڈ میں پڑھتے اور پوری طرح برٹش بن کر واپس آتے تاکہ وہ یہ ڈرامہ جاری رکھ سکیں اور اصل اقتدار انگریز کے پاس ہی رہے. انگریز ماہرین تعمیرات نے ان راجہ مہاراجاؤں کے محل ڈیزائن کئے اور  برطانوی طرز کی اندرونی آرائش ترتیب دی . یوں انہوں نے مقامی حکمرانوں کو اپنے ثقافتی رنگ میں رنگا .  جب پورے ہندوستان میں یہ نظام پھیل گیا تو انگریز نے اس وعدے کی پاسداری سے بےوفائ کرنا شروع کردی.  اب وہ چھپ کر نہیں بلکہ کھل کر اور سامنے آکر حکمرانی کرنا چاہتا تھا۔  انگریز نے یہ کام بھی بہت چالاکی سے کیا.  پہلے قدم میں اس نے مہاراجہ سے ساری سیاسی طاقت کھینچ کر اپنے ہاتھ میں کرلی لیکن انھیں محلات اور اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے علامتی طور پر اپنا خطاب قائم رکھنے کا اختیار دیا.  مہاراجاؤں کی ظاہری شان و شوکت ویسی ہی .  آباء و اجداد کی شاندار تصویریں دیواروں پر آویزاں اور محلات کی آرائش میں وہ ہی بادشاہ بنے نظر آتے تھے لیکن درحقیقت ان کی کوئی حیثیت نہ  تھی.  سارا اختیار اور طاقت انگریز بہادر کے ہاتھ میں تھی ——- جاری ہے

فوجی راج ، سامراج ، تیسرا انشا Military rule, IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 3RD EPISODE

Posted by: Shariq Ali
retina

The local army was the right hand of British imperialists before independence and ruled in South Asia as the domestic imperialist power thereafter

 

 

فوجی راج ، سامراج ، تیسرا انشا ، ویلیوورسٹی ، شارق علی

تاج محل کیسا تھا ان دنوں ؟  میں نے بانو امی کے ہاتھ کا بنا لذیز سوجی کا حلوہ نگلتے ہوے اٹھلا کر پوچھا. بولیں . تاج محل ہمارے لئے کوئی عجوبہ نہیں بلکہ مستقل ساتھ کا احساس تھا . میرے لئے تو آگرے کا تاج محل کے بغیر تصور بھی ممکن نہیں . جب لوگ کہتے ہیں کہ اس کی عمارت کو خطرہ ہے تو مجھے لگتا ہے جیسے پورے ہندوستان کو خطرہ ہے . عمارت تو دلکش ہے ہی لیکن ہمارے  بچپن کی ساری حیرانی عمارت تک پوھنچنے سے پہلے ہی مغلیہ طرز کے حسین باغوں کو دیکھ کر شروع ہو جاتی تھی.  مزہ بھی بہت آتا کیونکہ ان باغوں میں ہمیں گھومنے بلکہ دوڑنے کی بھی خوب آزادی تھی. انہی باغوں میں بیٹھ کر گھر سے لا ے لذیز کھانے کھاے جاتے.  ساتھ ہی بہتے  دریا میں ہمارے بھای بلا خوف و خطر میل ڈیڑھ میل کی تیراکی کرتے اور ہم اونچے چبوترے پہ کھڑے انھیں دیکھا کرتے. میں تو کہتی ہوں زندگی کی طرح تاج محل کا حسن بھی توازن ہی ہے . سفید سنگ مرمر کی  حسین عمارت کے ارد گرد چار قابل دید مینار. بیان کیا کروں . وہاں جا کر دیکھو گے تو سمجھو گے . رمز نے پروف سے پوچھا . انیس سو سینتالیس کی آزادی کے بعدکیا سامراجیت کا خاتمہ ہو گیا تھا ؟ بولے . جب ہم انگریز سے آزاد ہوے تو یہ ایک قدم آگے کی پیش رفت ضرور تھی لیکن بدقسمتی سے کہیں کم کہیں زیادہ اس خطّے کے ملکوں میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار کو ہر صورت اپنے ہاتھ میں رکھنے کی سامراجی عادت اپنا لی کیونکہ برطانوی نظام کی جڑیں بہت گہری تھیں . آج بھی ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں میں رائج حکم ، ہدایات اور عملداری کی زبان اور طریقہ کار برطانوی نظام کے ما تحت ہے . انھوں نے انگریزی اور مقامی زبان کو ملا کر ایک ایسی فوجی زبان اور ذہنیت تشکیل دی تھی جس کی حکمرانی آج تک قائم ہے۔ سترہ سو اٹھاون میں قائم ہوئی مدراس رجمنٹ اس نظام کا سب سے پہلا قدم تھا.  مدراس رجمنٹ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لو بیشتر جنگیں جو اب تک لڑی گئیں ان میں سے اکثریت برطانوی مفادات کی حفاظت  کے لئے تھیں. آج بھی سرحد کے دونوں جانب نوجوان فوجی افسران ان رائج برطانوی روایات کے بارے میں نا پسندیدگی یا منفی جذبات نہیں رکھتے کیونکہ وہ انہیں خالص فوجی روایات سمجھتے ہیں.   تو گویا آج بھی وہ تاریخ کا شعور نہ ہونے کی وجہ سے برطانوی طرز کی مقامی سامراجی ذہنیت کے آلہ کار بنے ہوے ہیں اور اپنے ہی معصوم عوام پر ظلم سے بھرپور حاکمانہ اختیار کو درست سمجھتے ہیں . سوفی کیک کا ٹکڑا اٹھاتے ہوے بولی.  اخلاقی جواز کے بغیر حکمرانی کیسی؟ پروف بولے . پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے زیر تسلط علاقوں میں بسنے والے فوجیوں نے دنیا بھر میں برطانوی مفادات کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں دی تھیں. آخر کیوں ؟ کیا ان کے پاس برٹش راج کے مفادات کی حفاظت کا کوئی اخلاقی جواز موجود تھا ؟ یہ کڑوا سچ ہے  کے انہوں نے کرائے کے سپاہی کی حیثیت سے یہ خدمات سرانجام دیں . دولت ، جاگیر اور خطابات کے لئے یہ جنگ لڑی . سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا آج بھی اس خطے کی فوجیں برٹش راج کی تلخ یادوں کو زندہ کیے ہوئے ہیں؟ کیا وہ سامراجی طاقت بن کر اپنے ہی عوام پر اپنی مرضی اور اپنے مفادات کا تحفظ تھوپنا چاہتے ہیں؟ حالاں کہ آزادی کے بعد ان کی سوچ اور طرز عمل میں عوام کے مفادات کا خیال  اولین ہونا چاہیے تھا . یہ ایک المیہ ہے کہ آزادی سے پہلے فوج برٹش امپیریلزم  کی دست راست تھی اور آزادی کے بعد انہوں نے ایک مقامی امپیریلزم تخلیق کر لیا اور خود انگریز کی جگہ مفاد پرست اشرافیہ کے ساتھ مل کر حکمرانی کے منصب پر بیٹھ گئے ۔ آج کے نوجوان فوجی افسر اپنے سینئر افسران کی دیکھا دیکھی اختیار اور مفادات کو  جو انگریز سامراج نے انہیں ظلم کرنے پر  بطور انعام عطا کئے تھے ، اپنا جائز حق تسلیم کرتے ہیں —– جاری ہے ،  ویلیوورسٹی ، شارق علی

کالے صاحب ، سامراج ، انشے سیریل ، دوسرا انشا Kalay Saheb, IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 2nd EPISODE

Posted by: Shariq Ali
retina

British had insufficient manpower to rule India. A ruling system was devised headed and paid by British called Kalay Sahebs. Comprised of local landlords, mercenaries and native bureaucracy

 

 

کالے صاحب ، سامراج ، انشے سیریل ، دوسرا انشا ، ویلیوورسٹی، شارق علی

پروف  انگریز سامراج کے آغاز کی بات کر رہے تھے. بولے.  پندرھویں صدی کی سفاکانہ غلام تجارت اور یورپ کے ساحلوں پر قزاقی کے تجربے اور روشن خیالی کے پھیلاؤ  نے یورپی اقوام کو سائنسی اور فوجی خاص طور پر بحری قوت کے لحاظ سے طاقتور بنا دیا تھا. جب غلام تجارت پر پابندیاں لگنی شروع ہوئیں تو انہوں نے کم ترقی یافتہ دنیا کے وسائل کی بندر پانٹ کو اخلاقی جواز دینا شروع کیا کہ وہ ان ملکوں پر تسلط سے پسماندہ اقوام کی ثقافتی ترقی اور عیسایت کی ترویج کا سبب بنیں گے. حالانکہ اصل محرک لالچ تھا تاکے دولت اور وسائل پر قبضہ کیا جاسکے.  وقت نے ثابت کیا کہ ہندوستان سے برطانیہ نے جو دولت،  افرادی قوت اور پیداواری صلاحیت حاصل کی یہ اسی لوٹ مار کا نتیجہ تھا کہ وہ  پوری دنیا پر حکمرانی کے قابل ہو سکا.  اس میں شک نہیں کہ برطانوی ذہنی صلاحیت اور تنظیم نے اور ساتھ ہی ساتھ سیاسی سوجھ بوجھ، ظلم اور عیاری نے آنے والے طویل عرصے تک اس حکمرانی کو قائم  رکھا لیکن بنیادی طاقت ہندوستان کے وسائل تھے جو غصب کیۓ گئے ۔ سب سے پہلے تو برطانیہ نے میڈیٹرینین کے اردگرد کے علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کی۔ پھر افریقہ کے کئی علاقوں پرجھنڈا گاڑا اور پھر وہ بحر ہند میں موریشس پر قابض ہوئے۔۔ پھر موجودہ سری لنکا پر اور آخرکار سنگاپور پر. دیکھتے ہی دیکھتے  پوری دنیا یہ جان گئی کہ برطانیہ جو بذات خود ایک چھوٹا سا ملک ہے ایک عالمی طاقت بن کر ابھر رہا ہے جس کو چیلنج کرنا ممکن نہیں ۔ سوفی نے بات بدلتے ہوے بانو امی سے پوچھا. اس زمانے کا فیشن اور شاپنگ ؟ مسکرا کر بولیں. فیشن اور شاپنگ تو دور کی بات ہے  خواتین کا اکیلا بازاروں میں نکلنا معیوب بلکہ نا ممکن تھا.  صرف مینا بازاروں میں سخت پردے میں آزادی سے خریداری کی جا سکتی تھی.  ایک بار میں اور انوری جو میری چھوٹی بہن ہے  نے والد سے ضد کی بازار گھمانے  لے چلیں . ہم دونوں کیوں کہ کم عمر تھے اس لئے یہ پابندیاں ابھی ہم پر عائد نہ ہوئیں تھیں . کریم اللہ جو ہمارا گھریلو ملازم بلکہ اب تو خاندان کا فرد  تھا اور برسات میں  موڈ میں انے پر غضب کی کچوریاں بناتا تھا، ہمیں بازار لے جانے کے لئے بگھی گھر کی دہلیز تک لے آیا.   بازار کی چہل پہل دیکھنا اور اپنی مرضی سے ایک ہی تھان سے بنا دونوں بہنوں کا ایک سا پھولدار جوڑا خریدنا اور ملکہ وکٹوریہ کا مجسمہ دیکھنا ہم دونوں کے لئے  ایک انوکھا تجربہ تھا. گھر واپسی کے راستے میں تھے تو ہٹو بچو انگریز سرکار کی سواری کا شور مچا. بگھی ایک طرف کھڑی ہوئی تو میں نے بند چلمن کو نیوڑھا کے دیکھا.   آگے پیچھے  بھاگتے نیکر پہنے سپاہی اور تین گھڑ سوار . آگے تو گورا چٹا انگریز تھا  اور ذرا پیچھے ہم تم جیسے افسر . حیرت ہوئی کہ یہ انگریز سرکار ہے یا ڈپٹی کلکٹر کی سواری. رمز بولا حیرت کی بات تو ہے اتنا چھوٹا ملک اور اتنا بڑا قبضہ ؟ پروف بولے . اصل میں یہ تمام فتوحات انتہائی نازک توازن پر قائم تھیں. وجہ یہ تھی کہ برطانیہ کی افرادی قوت بہت محدود تھی اور  وہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے خطوں پر براہ راست حکمرانی کے قابل نہ تھا . برطانوی ذہن  نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک مربوط نظام تشکیل دیا،  کالے صاحب کا نظام ۔  انہوں نے مقامی لوگوں کو اپنے حق میں جنگ کرنے اور حکمرانی کرنے کے لیے خطابات ، انعامات اور جاگیروں سے نواز کر ایک ایسی مقامی فوج اور بیوروکریسی تشکیل دی جس کی مدد سے وہ  اتنے بڑے وسیع علاقے پر حکمرانی کو عملی طور پر ممکن بنا سکے. یعنی بیشتر فوج مقامی ہندوستانی سپاہیوں اور افسروں پر مشتمل اور انتظامی مشینری مقامی مگر ان کی سربراہی برطانوی افسران کی۔  مقامی وسائل کی لوٹ مار اور مقامی مفاد پرست افراد کو ذہانت کے ساتھ استعمال کرنے کی وجہ سے آنے والے دو سو برس برطانیہ نے نہ صرف ہندوستان بلکہ بیشتر دنیا  پر کامیاب حکمرانی کی……جاری ہے

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,120 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina