retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

تبدیلی کی قبولیت ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Coping with change, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
December 10, 2018
retina

Change can be uncomfortable, stressful or even scary. We are scared of the unknown. Thinking through different possible outcomes and deciding what would be the best in a worst-case scenario is one solution. There are many others

تبدیلی کی قبولیت ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

تبدیلی قبول کرنا کسی کے لئے بھی آسان نہیں .  لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ زندگی مستقل تبدیلی کا سفر ہے. کون جانے کب ہمیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے . وہ جو ہمیں بہت عزیز ہیں نجانے ہم سے کب جدا ہو جائیں.  ہو سکتا ہے ہمیں اپنا وطن یا شہر چھوڑ کر کسی نئے مقام پر آباد ہونا پڑے، یا محض معاشرے میں ہونے والی تبدیلیاں ہمارے لیے بے چینی کا سبب بن جایں . بہتر بات یہ ہو گی کہ ہم ایسی تمام تبدیلیوں سے مثبت انداز سے نمٹ سکیں . تبدیلی قبول کرنے کا پہلا قدم  ہے ’’ ذہنی قبولیت ‘‘. یعنی ہم ذہنی طور پر تبدیلی کے لیے خود کو تیار کریں.  یہ تبھی ممکن ہے جب ہم تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ذاتی محسوسات کو تسلیم کریں. ان کا مہذب انداز میں اظہار کریں۔ اگر ہمارا کوئی عزیز ہم سے جدا ہو گیا ہے تو بلا جھجک اس بات کا غم منائیں.  اگر نوکری کے دوران جائز حق سے محروم کر دیا گیا ہے تو غصے اور مایوسی کا اظہا ر با لکل مناسب ہے. لیکن اس اظہار میں تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ اگر ہم معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں سے مطمئن نہیں تو اپنے دوستوں سے اور وہ لوگ جن پر ہم اعتماد کرتے ہیں، اپنے خیالات کا برملا اظہار کریں . لیکن ساتھ ہی ساتھ خود کو ذہنی طور پر اس بات پر تیار کریں کہ زندگی تبدیلیوں ہی کا تو نام ہے  ۔پرانا دور اور قدریں کبھی بھی برقرار نہیں رہتیں . ارتقائی عمل زندگی کا لازمی جزو ہے. ہمارا وجود کسی صورت تبدیلیوں سے آزاد نہیں رہ سکتا.  تبدیلیاں ہی نئے امکانات کو جنم دیتی ہیں.  پھر ہر تبدیلی کے تناظر کو سمجھنے کی کوشش کریں  ۔ جذباتی انداز میں نہیں بلکہ مثبت طرز فکر کے ساتھ. ایسا کرنے کے لیے ہم خود سے کچھ سوالات کر سکتے ہیں۔  مثلاً یہ کہ مجھے یہ تبدیلی کیوں پسند نہیں اور یہ بھی کہ اس تبدیلی کہ نتیجے میں وہ کون سی صورت حال ہے جس نے مجھے خوف زدہ کر رکھا ہے ؟  اور کیا یہ خوف حقیقت پسندانہ ہے ؟  پھر اپنی زندگی میں موجود خوشگوار پہلوئوں پر نظر ڈالیے.  کیا اس تبدیلی کے باجود آپ کی زندگی میں اس قدر مثبت پہلو موجود ہیں کہ آپ کو پریشان ہونے کے بجائے زندگی کا شکر گزار ہونا چاہیے ۔ اپنی زندگی میں موجود ہر اچھی بات کوذہن میں رکھیے مثلاً یہ کہ آپ کے پاس سونے کے لیے بسترموجود ہے ، کھانے کے لیے غذا اور دل لبھانے کے لیے سورج ڈوبنے کا حسین منظر ، گرم چائے کا کپ ، کچھ فرصت اور دوستوں سے گفتگو کی آسائش میسر ہے . کسی بھی نعمت کو اپنا حق مت سمجھئے بلکہ شکر گزاری کا رویہ اختیار کیجیے ۔ اس انداز فکر کے ساتھ آپ تبدیلی کے روشن پہلو کی طرف متوجہ ہو سکیں گے . اگر ایک نوکری چھوٹ گئی ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس کا مثبت نتیجہ ایک اور بہتر نوکری کی صورت میں نکلے.  اگر کوئی دوست آپ سے جدا ہوا ہے تو ہو سکتا ہے کہ یہ صورت حال آپ دونوں کے لیے بہتر ہو . تبدیلی کے نتیجے میں خود میں پیدا ہونے والی بے چینی کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ ہر تبدیلی ہمیں اپنے اندر دیکھنے کا مواقع فراہم کرتی ہے.  ہو سکتا ہے کہ کسی عزیز کی موت سے پہلے ہم  نے یہ سچ قبول نہ کیا ہو کہ زندگی عارضی ہے.  اور ہمیں دوسروں کے سہارے نہیں خود اپنے سہارے زندگی گزارنا ہوتی ہے. ہو سکتا ہے ہماری جذباتی ناہمواری زندگی کو پوری طرح سمجھنے میں ناکام رہی ہو اور یہ وقت ہے زندگی کے سچ سے آنکھیں چار کرنے کا ۔ ہو سکتا ہے تبدیلی خود آپ سے آپ کا بھر پور تعارف ثابت ہو.  آپ اپنی ذات میں سمجھوتہ کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت سے پہلی بار پوری طرح واقف ہوں۔ آپ یہ دریافت کریں کہ آپ میں صبر اور برداشت کی کس قدر حیرت انگیز صلاحیت موجود ہے.  ہو سکتا ہے تبدیلی آپ کے لیے ایک نئے سفر، ایک نئی کامیابی کا آغاز ہو.  جب آپ ذہنی طور تبدیلی کو قبول کر لیتے ہیں تو پھر مستقبل کی منصوبہ بندی اور نئے امکانات کی طرف پیش رفت آسان ہو جاتی ہے . اپنی انفرادی زندگی اور اجتماعی دنیا کو بہتر بنانا آپ کی ذمہ داری ہے. یقین رکھیے کہ تبدیلیوں کا مقصد آپ کو اور آپ کی دنیا کو بہتر بنانے کے علاوہ کچھ اور نہیں ۔ اب آپ سے اجازت چاہوں گا —— ویلیو ورسٹی ۔۔ شارق علی

شخصی اختلاف سے گذارا ، فکر انگیز انشے Ego clashes, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Ego clashes can be nasty and destructive for relationships and workplace environment. Here are few suggestions to prevent such conflicts

 

 

شخصی اختلاف سے گذارا ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

کسی ایسے شخص کے ساتھ کام کرنا یا رشتہ بحال رکھنا بعض اوقات بہت مشکل ہوتا ہے جس کی شخصیت ہماری شخصیت سے مختلف یا متنازع ہو. اس  پرسنیلٹی کلیش یا شخصی اختلاف کی وجہ سوچنے کا انداز ، روز مرہ کا رویہ یا زندگی گذارنے کے بنیادی فلسفہ میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ زندگی اور انسانی حالات کی مجبوری یہ ہے کہ بعض اوقات ہمیں ایسی مشکل صورت حال میں بھی کسی نہ کسی طور آپس میں گذارا کرنا ہوتا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ ایسی صورت حال میں دانش مندانہ طرز عمل کیا ہو گا . ہو سکتا ہے آپ کو یہ بات بہت عجیب لگے لیکن یہ بات اہم ہے کہ آپ ایسے شخص میں دلچسپی لینا شروع کردیں.  اُس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے اور اس پر غور کرنے سے آپ کو یہ آگاہی حاصل ہو گی کہ اُس شخص کے حوالے سے آپ کے اور اس کے درمیان بنیادی پرابلم کیا ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اُس شخص سے آپ کی حد سے بڑھی ہوئی توقعات بنیادی مسئلہ ہیں؟  ہو سکتا ہے کہ آپ بنیادی وجہ تک پہنچ کر جب  اُس کا تجزیہ کریں تو آپ کو یہ اختلاف بہت بچکانہ یا احمقانہ محسوس ہو یا اس کا حل بالکل سامنے دکھائی دے . لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اختلاف حقائق پر مبنی ہو. جب آپ یہ تجزیہ مکمل کرچکے ہوں تو پھر بغور اپنے طرز عمل پر نگاہ ڈالیے. کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی ماضی کے تلخ تجربہ کو یا سُنی ہوئی کسی افواہ کو بنیاد بنا کر آپ نے اُس شخص کو ناپسندیدہ قرار دے دیا ہو.  اور منفی رائے نے آپ کے طرز عمل کو منفی بنا دیا ہو . آپ ایسے شخص کو مثبت رویے کے لئے گنجائش فراہم ہی نہ کرتے ہوں ؟ ہو سکتا ہے کہ آپ کسی محفل میں بیٹھ کر اُس کی رائے کو یکسر رد کر دیتے ہوں.  کو شش کر کے اُس کی بات ذرا غور سے سنیے اور اُس میں مثبت پہلوئوں کو تلاش کیجیے.  اُس کے نکتہ ء نظر کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ در گزر سے کا م لے کر ایک انسان کی حیثیت سے اُسے ایک اور مواقع دیجیے۔ صرف اپنے سچ کو سچ نہ سمجھیے بلکہ اُس کے سچ پر بھی غور کیجیے۔  بعض اوقات غیر حقیقی اور منفی توقعات مایوسی سے دوچار کر دیتی ہیں.  ہم میں سے کوئی بھی شخص مکمل نہیں.  اگر ہم مثبت پہلوئوں پر نظر رکھیں اور ایسے منفی پہلو وٗں کو نظر انداز کردیں جو تنازعہ کا باعث ہیں تو صورت حال بہتر ہو سکتی ہے.  لوگوں کو جیسے کہ وہ ہیں ویسا ہی قبول کرنا دانشمندی ہے.  ایسا کر کے نہ صرف آپ دوسروں کو موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ خود اپنے اندر بھی منفی تنائو کو کم کرتے ہیں.  اختلاف کی صورت میں بحث و مباحثہ سے پرہیز اور اُس کی جگہ عزت و احترام میں اضافہ ایسی انقلابی تبدیلی کا باعث بنے گا کہ آپ حیران رہ جائیں گے.  اگر ہم مہذب ، خوش اخلاق اور پروفیشنل رویے کو مستحکم رکھیں اور ٹھنڈے دل ودماغ سے معاملات کو طے کریں اور یہ قبول کر لیں کہ ہم ہر قسم کے معاملات اور لوگوں کو اپنے قابو میں نہیں رکھ سکتے اور منفی صورت حال میں فوری طور پر ری ایکٹ کرنے سے پرہیز کریں تو شخصی اختلاف کی حیثیت ثانوی رہ جاتی ہے۔ ان چند تجاویز کے ساتھ اب آپ سے اجازت——- ویلیو ورسٹی، شارق علی

تعمیری تنقید ، فکر انگیز انشے Constructive criticism, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Parents and teachers are entitled to use valid and well-reasoned opinion in a friendly manner in order to raise the performance of the younger generation. Careless use of this tool can be disastrous

 

 

تعمیری تنقید ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

تنقیدی عمل زندگی کو بہتر بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے.  شرط یہ ہے کہ وہ تعمیری ہو اور اُس کا مقصد تنقید کی زد میں آئے ہوئے شخص کو بہتر بنا نا ہو۔  اگر ہم کسی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہوں تو یہ ضروری ہے کہ توجہ مسلے پر مرکوز رہے اور ایک شخص کی حیثیت سے مخاطب کو مسترد نہ کیا جاے.  یعنی تنقید کسی خاص واقعے کے حوالے سے ہو . ماضی کے بجائے آج کے حوالے سے ہو۔  ایسی باتیں کہنے سے گریز کیا جاے کہ تم ہمیشہ یہ غلطی کرتے ہو یا پچھلی بار بھی تو تم نے ایسا ہی کیا تھا.  بلکہ سیدھے سادھے الفاظ میں صرف آج کی بات کی جایے۔  وہ خامی جس کی ہم  نشان دہی کرنا چاہتے ہیں اور اُس کا حل بھی بیان کیا جاے ۔ اگر غیر واضح جھنجھلاہٹ کا بیان طویل جملوں میں کیا جاے گا تو اُس کے نتائج مثبت نہیں منفی ہوں گے۔ تنقید کے دوران الفاظ،، لہجہ اور بدن کی بولی انتہائی اہم ہے۔  اگر ہم صرف حقائق کی بات کریں اور اپنے ذاتی تاثرات کو رہنے دیں اور مخاطب کی پوری شخصیت کے بارے میں منفی رائے زنی سے پرہیز کریں تو ہماری تنقید میں زیادہ وزن ہو گا۔   تنقید کرتے ہوے خود اپنی باتوں کو سنیے ، اُن پر نظر رکھیے.  کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کسی کا دل دکھا رہے ہوں۔ کیا آپ ایسی صورت میں بہتری کی توقع رکھ سکتے ہیں؟ اگر آپ تنقید کا نشانہ ہیں تو اُس کے مثبت اور تعمیری پہلو پر نظر رکھیے۔ ہو سکتا ہے یہ بظاہر تکلیف دہ بات ہماری  زندگی میں بہتری کا امکان پیدا کرے.  لیکن اگر سامنے والے کی کہی ہوئی بات مبہم یا تعصب میں رنگی ہوئی ہے تو پھر زیادہ پرواہ مت کیجیے۔ یعنی اگر آپ تنقید کو ٹھنڈے دل سے بغور سننے کے باوجود کوئی تعمیری پہلو سمجھنے سے قاصر ہیں تو پھر اُسے کوئی اہمیت نہ دیجیے. لیکن دوسروں کی بات سننا ، اُس پر غور کرنا ، اُس میں سے اپنی بہتری کے امکان کو تلاش کرنا اوراپنے رویے میں مثبت تبدیلی لانا بہت صحت مند عمل ہے۔ کہتے ہیں لوگ کامیاب یا ناکام نہیں ہوتے بلکہ بہتر سیکھنے والے یا کم تر سیکھنے والے ہوتے ہیں۔ اس حساب سے سننا اور سیکھنا انتہائی اہم ہے . اگر تنقید تعمیری ہے تو بلا جھجک اُسے قبول کیجیے اور صاف اور واضع الفاظ میں یقین دہانی کروائیے کہ آئندہ آپ اپنے طرز عمل کو بہتر بنائیں گے اور ایسا کرنے کے لیے عملی اقدامات کیجیے۔  اگر آپ کو منفی تنقید کا سامنا ہو تو فوری اشتعال کے بجائے کچھ توقف کیجیے.  اپنے جوابی رویے کو تحمل سے مہذب بنائیے اور مناسب دلیل کے ساتھ اُس کا جواب دیجیے.  تنقیدی گفتگو کی ابتداء مثبت کلمات سے کرنا ، پھر دلائل کے ساتھ تنقید کرنا  اور گفتگو کے آخر میں دوبارہ کچھ مثبت کلمات کہنا ماحول کو خوشگوار اور تعمیری رکھتا ہے اور قبولیت کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔  تعمیری تنقید کے لیے مناسب وقت اور مقام بے حد ضروری ہے۔ دوسرے لوگوں کے سامنے تنقید سے گریزکیجیے  ۔تعمیری تنقید اکیلے میں اور ایسے وقت میں کیجیے جب فرصت مُہیا ہو اور تفصیلی گفتگو ہو سکے. جلد بازی میں مثبت بات کرنا ممکن نہیں ہوتا . تنقید کے نتیجے میں دل میں پیدا ہونے والے محسوسات اہم ہیں.  اُنہیں نظر انداز مت کیجیے مناسب اور مہذب انداز میں اُن کا اظہار کیجیے.  یہ آپ کا بنیادی حق ہے۔  اب آپ سے اجازت—— ویلو ورسٹی۔۔ شارق علی

مذہبی بحث ، فکر انگیز انشے Religious discourse, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Inappropriate indulgence in religious discourse not only waste time but can end up in violence. Avoid it

 

 

 

مذہبی بحث ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

ہر چیز کا ایک وقت اور مقام ہوتا ہے ۔ اگر آپ کسی ایسی صورت حال میں ہیں جہاں مذہبی بحث میں اُلجھنا مناسب نہیں تو شاید میری یہ پیش کر دہ چند تجاویز آپ کے لیے مفید ہوں گی ۔ آپ کو ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ مل جائیں گے جو متنازع موضوعات پر جذبات کو بھڑ کا کر اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کرتے ہیں . اگر آپ اُن کے جال میں پھنس جائیں تونہ صرف قیمتی وقت ضائع ہو گا بلکہ بات تشدد تک بھی پہنچ سکتی ہے ۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ شعوری طور پر بحث میں الجھنے سے گریز کیجیے۔ دوسرے کا نقطہ نظر چاہے وہ کتنا ہی متنازعہ کیوں نہ ہو سن کر خاموشی اور مسکراہٹ سے کام لیجیے.  آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر بہت دلچسپ ہے لیکن میں اس موضوع پر گفتگو کرنا پسند نہیں کرتا ۔ ہو سکتا ہے اس قِسم کی بحث کے شوقین آپ کے اس سادہ سے جواب کے باوجود یہ کہیں کہ کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں ؟ کیا آپ مجھے سمجھا سکتے ہیں ؟ توآپ کہیے کہ میں کوئی عالم نہیں.  نہ ہی اس موضوع پر مکمل گرفت رکھتا ہوں.  ہو سکتا ہے وہ گھما پھرا کر دوبارہ اسی موضوع پر پلٹیں مگر آپ ذہنی طور پر خود کو تیار رکھیں کہ مجھے اس موضوع پر بحث نہیں کرنا. آپ کسی اور موضوع پر اپنے مخاطب سے سوال کر سکتے ہیں ۔ مثلاً اُس کی صحت کے بارے میں ، اُس کی نوکری  یا اُس کی دیگر دلچسپیوں کے بارے میں.  یعنی گفتگو کے ماحول کو خوشگوار رکھتے ہوئے مذہب کے موضوع پر گفتگو کرنے سے پرہیز کیجیے.  اگر وہ کسی خبر ، کتاب یا فلم کا تذکرہ کر کے مذہب کے موضوع پر دوبارہ گفتگو کرنا چاہیں تو آپ اپنی یہ بات کہ میں مذہب اور سیاست پر گفتگو پسند نہیں کرتا دُہراسکتے ہیں ۔ اگر آپ چہرے پر مسکراہٹ ، لہجے میں استقامت،  ماحول میں خوشگواری اور تہذیب برقرار کھتے ہوئے اپنی بات پر مُصر رہیں گے تو اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ مخاطب کا اصرار جاری رہے ۔ اگر وہ پھر بھی مُصر ہو تو آپ انہیں کسی مستند عالم کے بارے میں بتا دیجیے کہ جو اُن کے سوالوں کی وضاحت کر سکتے ہیں.  گفتگو کو ختم کرنے کے لیے آپ محفل میں موجود کسی اور شخص کی طرف ہاتھ ہلا کر اور خوش آمدیدگی کے کچھ الفاظ کہہ کر متوجہ ہو سکتے ہیں یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ میرا فون سائلنٹ پر ہے لیکن یہ کال اٹینڈ کرنا ضروری ہے ۔ آپ مخاطب کو یہ احساس دلا سکتے ہیں کہ کام کرنے کی جگہ پر یا کسی سماجی تقریب میں یا جہاں کہیں بھی آپ ہیں اس قِسم کے بحث و مباحثہ کے لیے نہ یہ مناسب مقام ہے اور نہ وقت ۔ دیانت داری سے کہی ہوئی آپ کی یہ بات بالآخر مخاطب کو قائل کر دے گی ۔  اب آپ سے اجازت—– ویلیوورسٹی ، شارق علی

جذبات پر قابو ، فکر انگیز انشے Emotional Control, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Controlling emotions is the key skill to maintain our relationships and happiness. Question is how?

 

 

جذبات پر قابو ، فکر انگیز انشے ،  شارق علی

جذبات ہماری زندگی میں انتہائی اہم ہیں لیکن بعض اوقات جذبات کی رو میں بہہ جانا ہمارے لیے تکلیف دہ نتائج پیدا کر سکتا ہے ۔ یہ بھی سچ  ہے کہ جذبات  ہماری سوچ ، ارادے اور عمل یعنی ذہن کے سمجھدار حصوں پراثر انداز ہونے کی بھرپور طاقت رکھتے ہیں ۔  یہ فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اور ضروری نہیں کہ یہ اثر ہمیشہ مثبت ہی ہو.  ظاہر ہے کہ غصے اور خوش فہمی میں کیے گئے فیصلے دانشمندانہ نہیں ہوں گے ۔ بہتر زندگی گزارنے کے لئے جذبات پر قابو پانا انتہائی اہم ہے.  قابو پانے سے میری مراد یہ نہیں کہ ہم خوش ہونے ، ہنسنے ، مسکرانے اور غصے کے جائز اظہار یا محبت کرنے سے گریز کریں.  بلکہ اس سے میری مراد ہے کہ جذبات کو موقع محل کے حساب سے اہمیت دینا اور ایسے منفی جذبات پر قابو پانا جو ہمیں غلط فیصلے کی جانب لے جا سکتے ہیں. سوال یہ ہے کہ منفی جذبات پر یا غیر مناسب اوقات میں جذبات کے اظہار پر کس طرح قابو پایا جاے ؟ ہر ایکشن کا ایک ری ایکشن ہوتا ہے. کائنات کی دوسری تمام چیزوں کے لئے یہ میکانیکی اصول درست ہے.  لیکن ایک انسان ہونے کی حیثیت سے ہمیں فوری ری ایکشن سے پرہیز کرنا چاہیے.  کسی تکلیف دہ بات کا فوری جواب ظاہر ہے کہ منفی جذبات لیے ہوئے ہو گا.  کیوں نہ ایک دانشمندانہ وقفہ استعمال کیا جا ے ۔ ایک گہرا سانس لے کراپنے اندر اٹھنے والے منفی جذبات پر ایک نظر ڈالی جاے اور دل کی دھڑکن کو نارمل ہونے دیا جاے. اور پھر اپنی ذہنی کیفیت کو پُرسکون بنا کر اُس عمل کا ردعمل دیا جاے . اگر ہم اس عمل اور رد عمل کے درمیانی وقفہ کو دانشمندی سے استعمال کرنا سیکھ جائیں تو یہ ایک بڑی کامیابی ہو گی ۔ دوسری تجویز ذراذاتی نوعیت کی ہے لیکن ممکن ہے وہ آپ کے لیے بھی کار آمد ہو.  کسی تکلیف دہ یا مشکل صورتحال میں صرف اپنے ذہن پر زور دینے کے بجائے اپنے دل میں اپنے عقیدے کے مطابق مالک حقیقی سے ذاتی تعلق کے حوالے سے مددگاری طلب کیجیے ۔  تیسری تجویز یہ کہ اپنے دل میں اٹھنے والے تمام جذبات خاص طور پر منفی جذبات کے صحت مند اظہار کا کوئی نہ کوئی طریقہ ضرور ڈھونڈیئے۔ منفی جذبات دل میں رکھنا بالکل مناسب نہیں ۔ کسی پُر اعتماد دوست کو فون کر لیجیے . اگر یہ مناسب نہیں تو آپ اپنی ڈائری میں اپنے جذبات کو درج کر سکتے ہیں.  بہت سے لوگ جسمانی مشقت کو منفی جذبات کے اظہار کا ذریعہ بناتے ہیں بعض لوگ پُرسکون دعا اور عبادت میں سکون ڈھونڈلیتے ہیں ۔ کوئی نہ کوئی طریقہ آپ کے پاس بھی ہونا چاہیے ۔ چاہے وہ لمبی ٹہل ہی کیوں نہ ہو. بہتر ہو گا کہ زندگی کے اُسی مخصوص منفی حصے پر توجہ مرکوز نہ رکھیے بلکہ مکمل تصویر کو اور پوری صورت حال کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کیجیے۔  زندگی کے بڑے مقصد کو ذہن میں رکھیے ۔  اگر آپ ایسا کریں گے تو بہت سارے منفی جذبات آپ کو غیر اہم محسوس ہوں گے ۔  اپنے منفی جذبات کے محرک کو پہچاننا اور اُسے معاف کرنا سیکھیے ۔ محرک سے میری مراد ہے کوئی دوست ، خاندان کا کوئی فرد یا آپ کا ساتھی کارکن جو اپنی باتوں سے یا اپنے عمل سے آپ میں شدید منفی جذبات جیسے غصہ یا مایوسی پیدا کرتے ہیں ۔  ایک بار اُس محرک کو نظر بھر کم دیکھ لینے اور اُسے دل سے معاف کردینے کے بعد غصہ ، بغض، جلن ، یا  حسد اُن کے ساتھ ہی آپ کی ذہنی توجہ سے رُخصت ہو جائے گا ۔ اب آپ سے اجازت——– ویلو ورسٹی ، شارق علی

انطالیہ کا سلطان ، سیج یونیورسٹی، انشے سیریل ، اڑتالیسواں انشا Antalya, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 48

Posted by: Shariq Ali
retina

Antalya is the pearl city of the Mediterranean and Turkish Riviera.  A combination of history and natural beauty makes it a favorite destination for many tourists. Meet the Sultan in this story

https://www.youtube.com/watch?v=bXekGUDdVco&feature=youtu.be

انطالیہ کا سلطان ،  سیج یونیورسٹی،  انشے سیریل ، اڑتالیسواں انشا ،  شارق علی

ہم انطالیہ میں تھے . پروفیسر گل سفرنامے کے موڈ میں تھے . بولے . آبادی کے لحاظ سے ترکی کا پانچواں بڑا شہر ہے یہ  . طورس پہاڑیوں کے پس منظر میں میڈی ٹرینیان کے حسین کناروں پر دو سو قبل مسیح سے آباد ایک پر وقار قدیم  شہر،  جس نے رومن اور سلجوقی دور میں اپنا عروج دیکھا ہے  . یہ آج بھی سیاحوں کی محبوب ترین منزلوں میں سے ایک ہے . ہمارا قیام ایحان ہوٹل میں تھا جو شہر کے قدیم حصّے کلیسی سے صرف چند سو گز کی دوری پر تھا ۔ سامان کمرے میں رکھ کر پیٹ پوجا کے لیے نکلے تو مغرب ڈھل چکی تھی.  مشہور ٹرکش بیکری ریستوران سیمت سرائے میں نرم بیگل کے ساتھ پنیر اور موزیک کیک کا ایک ٹکڑا کھایا،  لطف آگیا ۔ پھر سیاحوں سے بھرے با رونق جمہوریت میدان میں دیر تک ٹہلتے رہے.  وہیں ایک پہاڑی پر بنی گیلری سے کوئی دو سو فُٹ نیچے قدیم انطالیہ کی بندرگاہ پر نظر ڈالی تو منظر کی دلکشی دیکھ کر دنگ رہ گئے ۔ انگریزی حرف سی کی شکل کی قدرتی بندرگاہ  کے دونوں کونوں پر بنے روشن لائیٹ ہائوسز کی روشنی اور اُن کے درمیان سے گذرتی آبی گزر گاہ  جو میڈیٹر ینین کے کھلے سمندر تک کشتیوں کو رسائی فراہم کرتی ہے۔ کنارے پر ترتیب سے لنگر انداز بادبانی کشتی نما موٹر بوٹس اور ساتھ بنے با رونق ریستورانوں میں سیاحوں کی چہل پہل. رات کے اندھیرے میں یہ  جھلملاتی بندرگاہ اور وہاں سے پہاڑی پر بنے قلعہ اور قدیم شہر تک اوپر جاتی اور باغ سے گزرتی سیڑھیاں ، سلجوقی طرز کے تراشیدہ پتھروں سے بنے زرد روشنیوں میں نہاے مکانات اور پر رونق بازار.   جیسے کوئی سحر انگیز پریوں کا دیس۔ منظر اتنا دلکش تھا کہ یہ سب قریب سے اور چھو کر دیکھنے کی خواہش نے بے تاب کر دیا ۔  اگلی صبح ناشتے کے بعد ٹیکسی پکڑی اور کلیسی کی تفصیلی سیر کے لئے ہیڈرین گیٹ پہنچ گئے ۔ رومن بادشاہ ہیڈرین کی انطالیہ آمد کے موقع پر ایک سو تیس صدی عیسوی میں تعمیر کیا جانے والا یہ فتح مندی کا یادگاری دروازہ آج بھی قابلِ دید ہے ۔ یہ اُس زمانے کے شہر اور اُس کی فصیلوں کی واحد یادگار ہے جو اب تک باقی ہے۔ اسے ۱۸۱۷ء میں ایک آئرش  نے دریافت کیا تھا ۔ سنگلاخ پتھروں سے بنے چار ستونوں پر تین محرابی دروازے جو تقریباً آٹھ میٹر اونچے ہیں اور ویسے ہی سنگلاخ پتھروں سے بنا فرش اور چڑھتی اُترتی سیڑھیاں . تیرھویں صدی میں سلجوق بادشاہ کیکا باد کے زمانے میں اس کی تعمیر نو ہوئی تھی.  شاید یہی باقیات اب تک موجود ہیں کیونکہ دیواروں پر کنداں عربی عبارت اب تک صاف پڑھی جاسکتی ہے ۔ کلیسی قدرتی بندرگاہ کے ساتھ واقع  ہلکی سر سبز پہاڑیوں پر بسی مسحُورکن قدیم بستی ہے . اُونچے نیچے راستوں پر چہل قدمی کرتے اور قدیم محلات نما گھروں کے پاس سے گذرتے اس کے حسن سے تعارف گہری انسیت میں بدل جاتا ہے ۔ دونوں جانب صدیوں پرانی محلات نما حویلیاں ہیں جن میں سے اکثر پانچ ستارہ ہوٹلوں میں تبدیل ہو چکی  ہیں. اب وہاں کیکباد یا عثمانی دور کے امرا نہیں ، دور دراز سے آے سیاح چند روز قیام کرتے ہیں. رات ہوتی ہے تو سنگلاخ طرز تعمیر پر چھپپے ہوے قمقموں سے گرتی روشنیاں کچھ ایسا تاثر دیتی ہیں  جیسے ہر سمت مشعلیں اور چراغ روشن ہوں.  دور دراز مسافتوں سے آے اجنبی ملاحوں کو خوش آمدید کہتا صدیوں پرانا ماحول دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے  ۔ فصیلوں سے گھرا کلیسی تاریخی اعتبار سے تو رومن زمانے میں  آباد ہوا لیکن تیرھویں صدی میں تعمیر شدہ بیشتر عمارتیں مجموعی ماحول کی نمائندگی کرتی ہیں.  ساتھ جُڑے بازار جدید انطالیہ کے بازاروں تک چلتے چلے گئے ہیں۔ دوسرے دن بندرگاہ پوھنچے اور دو سو لیرا کا ٹکٹ لے کر  جب ہم بادبانی شکل کی دو منزلہ موٹر بوٹ میں سوار ہونے لگے تو سفید جرسی اور نیلا نیکر پہنے، کچھ رومن کچھ ترکتش خد و خال والا، ادھیڑ عمر ، ہنستا مسکراتا میزبان ملاح، سلطان، خوش آمدید کہنے والوں میں سب سے ممتاز تھا.  سیر کا آغاز ہو ا اور کشتی آبی گذرگاہ کے دائیں بائیں لائیٹ ہائو سز کے درمیان سے ہو کر گذری اور کھلے سمندر میں پہنچی تو ہم سب کی تواضع ترکش قہوہ سے کرنے والوں میں وہ سب سے پیش پیش تھا ۔  پھر اُس نے کیمرہ نکالا اور ہم سب کی فرداً فرداً تصویریں کھینچیں . پندرہ منٹ کے وقفہ کے بعد وہ یہ تصویریں لیے ہم سب کے پاس باری باری گھومنے اور راضی ہونے پر بیس لیرا فی تصویر بیچنے میں کامیاب ہو ا  ۔ گٹھی ہوئی جسامت اُسے کسی قدیم رومن ملاح سے مشابہت دے رہی تھی.  ایک ایسا مہم جُو  جو رومن عروج میں بادبانی کشتی میں بیٹھ کر قسمت آزمانے انطالیہ آیا ہو اور پھر یہیں کسی مقامی عورت اور اس شہر کے حسن سے مسحور ہو کر آباد ہو گیا ہو . ہو سکتا ہے اُس کے دائیں رُخسار پر دکھتا زخم کسی پُرانی جنگ میں دشمن کی تلوار کا وار ہو . ہو سکتا ہے وہ اُس فتح مند گروہ کا حصّہ ہوجو ہیڈرین کے ساتھ فتح مندی کے دروازوں سے ہو کر جب شہر میں پہنچا ہو  تو شہریوں نے اُس کا والہانہ استقبال کیا ہو.  وقت کتنا ظالم  ہے کہ اب اسے سیاحوں کو قہوہ پیش کر کے ہونے والی آمدنی سے گزارا کرنا پڑتا ہے ۔ بادبانی کشتی سیر سے واپسی پر قدرتی بندرگا ہ کی طرف بڑھی تو دائیں طرف کنارے کی اونچی سنگلاخ چٹانوں سے پھوٹتی میٹھے پانی کی دودھن آبشار تھی جو  جھرنے کی صورت سمندر کی لا متناہی وسعت میں شامل ہو رہی تھی.  جیسے کسی فرد کی انفرادی زندگی تاریخ کی لا متناہی وسعت میں گم ہوتی ہوئی—– جاری ہے، شارق علی

 

 

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

16,995 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina