retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

کار آمد ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، ساتواں انشا Be useful, POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 7

Narration by: Shariq Ali
May 20, 2018
retina

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life

کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں

 

 

کار آمد ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، ساتواں انشا ، شارق علی

اگر آپ خوش ہونا چاہیں، پُر مسرت ہونا چاہیں تو اس بات پر ایمان رکھیے کہ آپ کے زندہ ہونے میں، آپ کی اہلیت میں، آپ کی صلاحیت میں، ایک ایسا انفرادی اور خصوصی ہنر ، ایک ایسی خوبی چھپی ہوئی ہے کہ جو انسانیت کے لیے ، اجتماعی زندگی کے لیے اور اس کرہ ارض کے لیے آپ ہی کے حوالے سے میسر اور کارآمد ہوسکتی ہے۔ یہ تحفہ صرف اور صرف آپ دے سکتے ہیں۔ اور اس خوبی میں اس پوری کائنات میں کوئی بھی آپ کا متبادل نہیں۔ کوئی بھی آپ کا مدمقابل نہیں۔ اگر کوئی سب سے اہم خیال آپ کے ذہن میں آسکتا ہے تو وہ یہ ہے ، ’’میری زندگی اہم ہے‘‘۔  یہ ایمان آپ کی زندگی کو دوسروں کے لئے کارآمد بنا دے گا ۔ اگر یہ احساس ختم ہوجائے کہ ہم اہم ہیں تو یہ زندگی محض ایک خلا ہے۔ جب ہم کارآمد نہیں ہوتے تو ہم بنیادی طور پر اپنی زندگی کا، اپنے ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ ہم اپنی صلاحیتوں، اپنی ہنر مندی اور اپنے تخلیقی عمل کا انکار کرتے ہیں۔  ہم خوشی ، تسکین، شُکر اور اطمینان سے دور ہوجاتے ہیں۔  میرا یقین ہے کہ ہمارے زندہ ہونے کا مقصدیہ ہے کہ ہم کارآمد ہوں۔ اپنی ہر صلاحیت کو کام میں لائیں اپنے خیال کو اپنے عمل کو۔ لیکن یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ کارآمد ہونے سے میری مراد یہ نہیں کہ ہم اپنی زندگی کو بے انتہا مصروف بنالیں۔ بہت سے فضول اور بے مقصد کاموں کی وجہ سے خود اپنی ذات اور گھر والوں کے لیے بے رحم اور پُرتشدد بنالیں۔ بلکہ اس سے میری مراد یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کے مقصد کے مطابق پرمعنی اندازمیں اپنی صلاحیتوں اور ہنر کو کارآمد بنائیں تاکہ ہم  اپنی طے کردہ منزل تک پہنچ سکیں ۔ اگر ہم موجودہ دور کے چند مشہور لوگوں پر اور ان کی زندگی کی جدوجہد پر نظر ڈالیں،  جیسے کہ قائدِ اعظم ، مدر ٹریسا، نیلسن منڈیلا، عبدالستار ایدھی اور ایسے ہی بہت سے اور لوگ بھی ۔ تو ہم دیکھیں گے کہ  ایک دوسرے کے مقابلے میں ان لوگوں کے عقائد بہت مختلف تھے۔ ان کے کام کرنے کا پس منظر اور پیشہ ورانہ زندگی کی نوعیت ایک دوسرے سے بالکل جداگانہ تھی۔ لیکن جو چیز ان سب میں مشترک ہے۔ وہ ہے مقصدیت کی طاقت۔ اس طاقت نے ان کی زندگی کو رواں دواں رکھا۔ ان مشہور لوگوں کے ساتھ اس دنیا میں ان گنت عام لوگ بھی موجود ہیں کہ جنہوں نے اپنی زندگی میں مقصدیت کی طاقت کو استعمال کیا ہے ۔اور زندگی کے سفر کو کامیابی سے عبور کیا ہے ۔ ان میں بہت سے دکاندار ہیں، بہت سے مصور، دستکار، گھر تعمیر کرنے والے، اسکول میں بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ ہیں اور سماجی کارکن بھی ۔ آپ انہیں زندگی کے ہر شعبے میں سرگرمِ عمل اور رواں دواں پائیں گے۔ ان سب کی مشترکہ وراثت، ان سب کا مشترکہ تحفہ یہ ہے کہ آج جس زندگی میں ہم سانس لیتے ہیں۔ وہ ایک بہتر زندگی، ایک بہتر دُنیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ تاریخ کا دھارا موڑ دینے والے لوگ چند ہی ہوتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے ہر ایک اپنی زندگی کے حالات کا رُخ ضرور موڑ سکتا ہے۔ اور یہ اسی طرح کے چھوٹے چھوٹے انقلاب اور کامیابیوں ہی کا تو نتیجہ ہے کہ انسانی سماج اور تاریخ اپنی مجموعی حیثیت میں تشکیل پاتی ہے۔  اب آئیے بیان مقصد کی جانب تیسرا قدم بڑھائیں. اس دنیا میں اپنی حصے داری، اپنے کارآمد ہونے کی شناخت کیجئے . فرض کیجیے کہ  آپ مکمل طور بر با اختیار ہوں . سارے مادی وسائل آپ کی دسترس میں ہوں تو اس صورت میں آپ زندگی میں کس طرح بھرپور انداز سے  حصے دار بنیں گے ؟ سماج کے کس پہلو پر آپ کی صلاحیتیں سب سے زیادہ موثر اور مثبت اثرات ڈال سکتی ہیں؟ ایسے تمام پہلوئوں کی نشان دہی کیجئے۔ اور ایک فہرست مرتب کیجئے۔ یعنی آپ کی حصہ داری دُنیا کے لیے، آپ کے خاندان کے لیے، آپ کے ادارے کے لیے جہاں سے آپ کا روزگار وابستہ ہے، اپنے دوستوں کے لئے اور اپنے سماج کے لیے۔….. جاری ہے

خودشناسی ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، چھٹا انشا Self awareness, POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 6

Posted by: Shariq Ali
retina

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life

کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں

 

 

خودشناسی ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، چھٹا انشا ، شارق علی

اور ہوتا یوں ہے کہ خود آگاہی ہی ہمیں وہ ہمت فراہم کرتی ہے کہ جس کو بنیاد بنا کر ہم اپنی زندگی کی ذمہ داریوں کو کامیابی سے ادا کرسکنے کے قابل ہوتے ہیں۔ میں جب اس انشے ورکشاپ کے حوالے سے آپ سے مخاطب ہوں تو میرا مقصد آپ کو خود شناسی سے متعارف کرنا ہے۔ یہ صرف جھنجھوڑنے کی کوشش ہے۔ جاگنا تو خود آپ کو ہے۔ جھنجھوڑنے کا عمل وقتی طور پرناگوار بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن ایک خوشگوار دن گزارنے کا بھرپور آغاز بھی۔ سبھی لوگوں کی طرح میں اپنی زندگی میں مایوسیوں اور ناکامیوں سے دوچار بھی ہوا ہوں اور حقائق نے مجھے جھنجھوڑا بھی ہے۔ اور اس جھنجھوڑنے کے عمل نے مجھے اپنی منفی طرز فکر کی جانب متوجہ کیا. پھر اسی منفی طرزِ فکر کا دیانت دارانہ تجزیہ میری مدد کو آگے بڑھا ہے۔اور ایک بھرپور اور پرمسرت زندگی بسر کرنے کے امکان کاتعارف ثابت ہوا ہے، عین اُس لمحے جب اس بات کا امکان پیدا ہوتا ہے کہ منفی طرزِ فکر سے جنم لینے والی ایک مشکل ایک اور بڑی مشکل کو جنم دے۔ قدرت ہم سے اس جھنجھوڑنے کے عمل کے ذریعے سے مخاطب ہوتی ہے۔ اور نہ جانے کیوں یہ فیاضی اس موقع پر ہوتی ہے کہ جب ہم مسائل اور مصائب میں گھرے ہوے ہوں۔ اور مایوسی کی دلدل کے قریب پہنچ چکے ہوں۔ میں آج اس بات پر مکمل یقین رکھتا ہوں۔ کہ انسان کی ترقی اور تنزلی، کامیابی اور ناکامی، مسرت اور مایوسی اس کی سوچ کا نتیجہ ہوتی ہے اس کے طرزِ فکر سے جنم لیتی ہے۔ ہم فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم کون ہیں۔ہم کس بات پر یقین رکھتے ہیں اور ہم کیا کچھ کرسکنے کے قابل ہیں۔اور یہ سوچیں اور یہ طرزِ فکر ہمارے عمل کی سمت کو متعین کرتاہے، ہمارے رویے کو تشکیل دیتا ہے اور ہم اس رویے کے نتیجے میں اپنی زندگی میں ایسی صورتِ حال پیدا کر لیتے ہیں ایسے حالات کو تشکیل دیتے ہیں کہ جو ہماری کامیابی اور ناکامی کا باعث بنتے ہیں۔ میں یہ بات اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ ہم میں سے بیشتر لوگ اس کڑوے سچ کو نگلنے میں مشکل محسوس کریں گے کہ ہم آج جو کچھ بھی ہیں اس کی ساری ذمہ داری ہم ہی پر عائد ہوتی ہے۔ میں اپنے طالبِ علموں سے گفتگو کے دوران اس بات کو ذہن نشین کرانے میں خاصی مخالفت کا سامنا کرتاہوں اور لوگوں کے لیے اس سچ کو قابلِ قبول بنانا خاصا مشکل ثابت ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم انسانوں کے لیے اس سے بڑا کوئی چیلنج نہیں کہ ہم اپنی زندگی کی ذمہ داری کو بلا حجت و تاویل مکمل طور پر اپنا سکیں۔ ذمہ داری صرف اس بات کی نہیں کہ ہم کیا ہیں؟ بلکہ اس بات کی بھی کہ ہم کیا کچھ ہوسکتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے کسی بھی شخص کے لیے اگر وہ مکمل طور پر آزاد ہونا چاہے اور آج کی اس تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی دُنیا میں محوِ پرواز ہونا چاہے کامیابی اور سرخوشی کے ساتھ،  تو سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کی ذمہ داری کو مکمل طور پر قبول کریں۔ہم تیزی سے حقائق کے انکار اور پھر مخالفت کے تکلیف دہ عمل سے آگے بڑھیں اور سچ کے لیے قبولیت اختیار کریں۔ اور یہ وہ نقطۂ آغاز ہے کہ جہاں سے ایک ترو تازہ سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ آپ زندگی کے کس موڑ پر ہیں۔ آپ طالبِ علم ہیں یا آپ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا ہے یا آپ اپنی عملی زندگی کے درمیان میں ہیں، اپنی خاندانی اور گھریلو ذمہ داریوں کے بیچوں بیچ ہیں یا ان ذمہ داریوں اور عملی جدوجہد سے فراغت پاکر فرصت آمیز لمحے گزار رہے ہیں۔ آپ اس ترو تازہ سفر کا آغاز آج کے اس لمحے سے کر سکتے ہیں۔ اگر آپ زندہ ہیں تو نادانستہ طور پر آپ کا جسم حیاتیاتی نشوونما کے مستقل عمل کے ذریعے سے اس ترو تازہ سفر کو اختیار کیے ہوئے ہے۔بالکل اسی طرح آپ اپنے ذہن کو، اپنے طرزِ فکر کو اس تر و تازہ سفر میں شریک کرسکتے ہیں۔ منفی اور ساکت سوچوں کے بجائے مثبت، پُراُمید اور نئے طرزِ فکر کے ساتھ آرزومندی کے ایک نئے سفر پر روانہ ہوسکتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ سفر کیسا ہی کیوں نہ ہو اس کے لیے قوتِ ارادی اور محنت درکار ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کے ہم مزید آگے بڑھیں آئیے ہم عملی مشق کا دوسرا قدم اٹھائیں . اس کا عنوان ہے اپنی اقدار کو پہچانئے.  اپنی نوٹ بُک میں اپنے لئے اہم اقدار یا ویلیوز کا اندارج ترتیب وار کیجئے ۔ مثلاً آپ کی صحت، آپ کا خاندان، آپ کا سرمایہ ، آپ کے خواب، گھر، گاڑی غرض یہ کہ آپ جتنی لمبی فہرست بنانا چاہیں بنا لیں۔ پھر اُن سب پر غور و فکر کے بعد صرف پانچ اقدار کی فہرست بنائیں جو آپ کے لئے بے حد اہم ہیں . آخر میں مزید سوچ بچار کے بعد صرف ایک ایسی قدر کی نشان دہی کیجیے جو آپ کے لئے زندگی میں سب سے زیادہ اہم ہے ۔ اس ساری سوچ و بچار کے دوران آپ خود آگاہی کے خاموش سفر سے گزریں گے —- جاری ہے

اضافی سامان سے چھٹکارا ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، پانچواں انشا Excess baggage, POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 5

Posted by: Shariq Ali
retina

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life

کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں

 

 

 

اضافی سامان سے چھٹکارا ، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، پانچواں انشا 

 اس سے پہلے کہ میں اور آپ عملی طور پر اس ورکشاپ میں مزید آگے بڑھیں اور اپنے ذہنی سفر کو جاری رکھیں ۔ ہمیں اپنے زادِ سفر میں موجود  اضافی سامان سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔  اور یہ اضافی سامان ہے ہماری نااُمیدی، ہمارا منفی طرزِ فکر اور غیر ضروری شک اور شبہات۔ اس اضافی بوجھ کو اپنے کاندھے سے اُتار کر ہی ہم ایک آزاد فضا میں محوِ پرواز ہوسکیں گے۔ ہم اُسی قدر آگے جاسکیں گے کہ جتنی ہماری ہمت اور قوت ارادی ہمیں دھکیل سکے گی۔ ہمیں اپنی محدود سوچوں کو بلند تر  رکھنا پڑے گا۔ ہمیں اپنے وسوسوں اور شک و شبہات سے آگے نکلنا پڑے گا۔ وگرنہ یہ سارے منفی جذبے ہمیں اسی مقام پر مقید رکھیں گے کہ جہاں آج کے اس لمحے میں ہم کھڑے ہیں خوف زدہ اور ہراساں۔ اور خودشناسی کے راستے سے ہوکر کامیابی تک پہنچنے سے گریزاں .  منفی طرزِ فکر کئی صورتیں اختیار کرسکتا ہے۔ بسا اوقات یہ وہ آوازیں ہوتی ہیں وہ باتیں اور جملے کہ جو ہم اپنے ذہن میں خود اپنے آپ سے کرتے ہیں۔ یا بعض اوقات ایک دوسرے کی ظاہری ہمدردی میں ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ان میں سے چند جملے مثال کے طور پر میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا۔ مثلاً یہ کہ’’یہ باتیں سُننے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا‘‘،’’بھلا لکھی ہوئی تقدیر سے بھی کوئی لڑ سکتا ہے‘‘، ’’ میاں زندگی اب جیسی بھی ہے گزار لو‘‘،’’بھئی میں تو ایک درمیانہ درجے کا کم صلاحیت آدمی ہوں‘‘،’’ایسی باتیں سُن کر فضول دباو اور ذہنی پریشانی میں مبتلا ہونے کا فائدہ؟‘‘، ’’اگر میں اس دفعہ بھی کامیاب نہ ہوسکا تو پھر؟‘‘، ’’اگر یہ سب ممکن ہوتا تو کوئی اور نہ کرچکا ہوتا‘‘۔ ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنے اندر اُٹھنے والی آوازوں میں سے اسی نوعیت کے کچھ منفی جملوں کو سُنا ہو۔ تھوڑی دیر کے لیے رُک جائیے۔اور اپنی نوٹ بُک میں اسی نوعیت کے منفی اور محدود کردینے والے جملوںکو کہ جو اکثر آپ کے ذہن میںاُبھرتے ہیں، لکھئے۔ ذرا سوچیے کہ یہ منفی جملے کہاں سے اُبھرتے ہیں اور کس طرح آہستہ آہستہ یہ اظہارِ رائے اندر ہی اندر اپنا منفی اثر دکھاتا ہے اور بظاہر ہمدردی میں کہے گئے یہ جملے آہستہ آہستہ ہمارا یقین بن جاتے ہیں۔ اور کس طرح ہمیں وہ کچھ کرنے سے روکتے ہیں کہ جو حقیقتاً ہم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں وہ کچھ ہونے سے روکتے ہیں کہ جو ہم ہونا چاہتے ہیں۔ شاید سب سے بڑی دانشمندی جو ہمارے اختیار میں ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہم یہ بات سمجھ جائیں کہ زندگی میں آزادی وہ آزادی ہے کہ جو ہم روز مرہ کے دوران خود اپنی منفی سوچوں سے بلند ہوکر حاصل کرتے ہیں. مگر سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ان منفی جملوں کو جو ہمارے ذہن میں گونجتے ہیں، ایک دفعہ دریافت کرلینے کے بعد اور اُنہیں شعوری سطح پر لانے کے بعد فوری طور پر ہم ان کے منفی اثرات سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ چاہے یہ منفی سوچیں کسی بھی سمت سے ، کسی بھی مقام سے ہماری زندگی کا حصہ بنی ہوں۔ جب ہم اِنہیں شعوری سطح پر چیلنج کرتے ہیں اور مستقبل میں اپنی کامیابی کی سمت بڑھنے میں اِنہیں اپنی رکاوٹ تسلیم کرلیتے ہیں تو پھر ان رکاوٹوں کو عبور کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ لیکن یہی وہ مقام بھی ہے کہ جہاں ہم میں سے بیشتر لوگ لڑکھڑا جاتے ہیں اور مشکل محسوس کرتے ہیں—- جاری ہے

تقدیر، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، چوتھا انشا Fate, POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 4

Posted by: Shariq Ali
retina

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life

کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں

 

 

 

تقدیر، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، چوتھا انشا ، شارق علی

آئیے اب ایک اور مفروضے کی جانب اپنی توجہ کو مرکوز کرتے ہیں۔ ہم میں سے بیشتر انسان نامساعد حالات کوتقدیر سمجھتے ہیں جس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ اور وہ خود اپنی ذات کو تقدیر کے ہاتھوں مجبور اور بے کس گردانتے ہیں اور اسی لیے زیادہ تر یا تو وہ دوسروں کو الزام دیتے ہیں، یا حالات کو قصور وار ٹھہراتے ہیں یا اپنی ناکامیوں کے لیے جواز تلاش کرتے ہیں۔ یہ کھیل ہر مجبور اور بے کس انسان کا پسندیدہ کھیل ہے۔ اس منفی طرزِ عمل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری صلاحیت اور ولولہ انگیزی میں شدید کمی واقع ہوجاتی ہے، اور شخصی زوال پذیری کا آغاز ہوجاتا ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس مایوسی کے عالم میں بھی قدرت ہمارا ساتھ نہیں چھوڑتی اور معجزاتی طور پر اچانک سے زندگی کا کوئی تجربہ کوئی حادثہ ہمارے ذہن کے دریچوں کو حقیقت اور سچائی کے لیے کھول دیتا ہے۔ زندگی میں مسائل اور مصائب سے کسے انکار ہوسکتا ہے۔ بدقسمتی بجائے خود ایک حقیقت ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ مسائل اور مصائب اور یہ بدقسمتی صرف ہمارے لیے ہے؟ کیا ہم ہی جیسے ان گنت لوگ انہی مسائل اور مصائب اور ایسی ہی بدقسمتی سے دوچار نہیں؟ کیا اس دُنیا میں ایسے لوگ نہیں کہ جو ہم سے بھی زیادہ مصائب اور مسائل کا شکار ہوں اور قدرت نے اُن کے ساتھ ہم سے بھی زیادہ بُرا سلوک کیا ہو اور پھر بھی اُنہوں نے ہمت ہارنے اور زندگی میں شکست تسلیم کرنے کے بجائے جدوجہد کو اختیار کیا ہو۔ کیا یہ بہتر راستہ نہیں ہوگا کہ ہم حقائق کو من و عن تسلیم کریں۔ لیکن اپنے آپ کو مجبور اور بے کس سمجھنا چھوڑ دیں۔ اور زندگی میں اپنے اچھے اور بُرے دونوں حالات کے لیے خود اپنے آپ کو ذمہ دار محسوس کریں۔میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ اتنا آسان نہیں لیکن یہ بلاشبہ آنے والے دنوں میں ہماری کامیابی اور مسرت کا نقطۂ آغاز ضرور ثابت ہوسکتا ہے۔ زیادہ تر انسان جب اپنی زندگی میں بحران کا شکار ہوتے ہیں تو وہ تین ادوار سے گزرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو ان کا ذہن اس بحران سے یکسر انکاری ہوجاتا ہے اور پھر اس بحران سے پیدا ہونے والی صورتحال کے نتیجے میں تبدیلی سے مخالفت کا مرحلہ آتا ہے اور آخر میں حقائق کو بالآخر تسلیم کرلینا پڑتا ہے اور قبولیت کو اختیار کرنا ہوتا ہے۔ حقائق سے انکاریا اس کی مخالفت سوائے اس کے کہ ہماری تکلیف اور آزار کو مزید طویل کرکے زیادہ مشکل بنادے اور کچھ نہیں کرتے۔ جبکہ حقائق کو قبول کرلینا ہمارے ذہن کے دریچوں کو کھول دیتا ہے۔ اور ہم اس مشکل یا بدقسمتی کے حل اور اس سے نبرد آزما ہونے کے مثبت پہلو ئوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اپنے مسائل اور مصائب کے حل کے لیے حقائق کو تسلیم کرنا اور اپنی ذات پر اور اپنے حالات پر بغور نظر کرنا اور خود شناسی سے ہوکر معاملہ فہمی تک پہنچنا اور ان مسائل اور مصائب سے اپنے آپ کو نکالنا ہی وہ راستہ ہے جو بالآخر ہمیں سکون اور کامیابی تک پہنچا سکتا ہے۔ قبولیت اختیار کرلینے کے بعد ہم اپنی توجہ کو مرکوز کرتے ہیں درپیش مسئلے کی جانب۔ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کی تفصیل کیا ہے؟ اور کس سطح پر کچھ کیا جانا ممکن ہے؟ اور یہ کچھ کرسکنے کی حکمت عملی تبھی ممکن ہے کہ جب ہم اپنی صلاحیتوں، خوبیوں اور اپنی دسترس میں موجود وسائل سے پوری طرح آگاہ ہوں۔  آئیے اب بیان مقصد لکھنے کی جانب پہلا قدم بڑھایں. اس مشق کا عنوان ہے  ماضی کی کامیابیوں سے سیکھنا. اپنے مخصوص پر سکوں گوشے میں بیٹھ کر اپنے ماضی کی کامیابیوں پر نگاہ ڈالیے، کم از کم پانچ ایسی صورت حال ایک فہرست کی صورت لکھئے جن میں آپ نے کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ کامیابیاں آپ کے روزگار یا سماجی خدمت یا خاندانی زندگی، غرض یہ کہ کسی بھی حوالے سے ہو سکتی ہیں۔ پھر خود سے سوال کیجئے۔ یہ کامیابیاں کیونکر ممکن ہوئیں؟ کیا ان مسلسل کامیابیوں میں کوئی واضح ربط ہے؟  کیا یہ آپ کی شخصیت کے مثبت پہلوئوں  کے حوالے  سے ایک واضح خاکہ تشکیل دیتی ہیں؟ اپنی خوبیوں کو بلا جھجک نظر بھر کر کچھ دیر دیکھیے ۔ اُن سے آگاہی حاصل کیجئے۔ انھیں لکھیے —- جاری ہے

 

کامیابی، مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، تیسرا انشا Success, POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 3

Posted by: Shariq Ali
retina

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life

کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں

 

 

 

کامیابی،  مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے ، انشے ورکشاپ، تیسرا انشا ، شارق علی

اس سے پہلے کہ میں اور آپ اپنے اس ذہنی سفر کا آغاز کریں . میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم اپنے سماجی نظام میں رائج کچھ مفروضات کو اپنے ذہن میں حقیقت پسندانہ انداز سے صاف اور شفاف طور پر سمجھ لیں. پہلا مفروضہ جو ہمارے سفر کی سب سے بڑی رُکاوٹ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ وہ ہے ہمارے معاشرے میں کامیابی کا تصور۔  بلکہ شاید یوں کہنا درست ہوگا کہ بظاہر کامیابی کا تصور۔ ہماری معاشرتی زندگی اور اس سے جڑا میڈیا جس میں ٹی وی، رسائل، اخبارات سبھی کچھ شامل ہیں، دانستہ یا نادانستہ طور پر دولت مندی، شہرت، سماجی مرتبے یا طاقت کوکامیابی کا معیار بنا کر ان کی تشہیر کرتے ہیں۔ ہم میں سے بیشتر لوگ کامیابی کے بارے میں ایک صاف شفاف اور واضح تصور اپنے ذہن میں نہیں رکھتے تو شاید اس کی وجہ وہ جھوٹ ہے کہ جوہم سے بار بار بولا جاتا ہے اور وہ یہ کہ دولت مند، طاقتور اور شہرت یافتہ لوگ وہ لوگ ہیںجو کامیابی کی منزل تک جا پہنچے ہیں۔ اور ایک بھرپور اور پُر مسرت زندگی گزارتے ہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ اس سارے بیان میں یہ بات تو سچ ہوسکتی ہے کہ کچھ لوگ دولت مند ہوں طاقتور بھی اور شہرت یافتہ بھی۔مگر جو بات بہت بڑا جھوٹ ہے وہ یہ ہے کہ وہ ایک بھرپور اور پُرمسرت زندگی گزارتے ہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ اُنہیں یہ مسرت اور ہمیشگی کبھی بھی میسر نہیں آتی۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ یہ تکلیف دہ سچ اُن کے لیے بھی باعثِ تکلیف ہوتا ہے جو دولت مندی، طاقت اور شہرت کی منزل کی طرف اندھا دھند سفر کرکے اس سراب تک جا پہنچے ہیں، اس مفروضے کو سچ جان کرکہ مسرت اور سکون اب اُن کا نصیب ہو گا ۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کوئی ایسا مقام نہیں کہ جہاں کھڑے ہوکر آپ نیچے کی طرف دیکھ سکیں۔ بلکہ کامیابی تو ایک مسلسل سفر کا نام ہے۔ میرے خیال میں کامیابی کا آغاز اس لمحے ہوتا ہے جب ہم اس حقیقت کو جان لیتے ہیں کہ زندگی کا اصل مقصد دانش مندی کی سمت ایک مسلسل سفر ہے، ذہنی اور روحانی سفر۔ اور اس کے دوران ہم اپنے انسان ہونے کے منصب اور شرف کو حاصل کرتے ہیں.  اور اس سفر میں ہم اپنے علم میں اضافہ کرتے ہیں۔ اپنے کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں تاکہ ایک بھرپور، کارآمد اور پُرمسرت زندگی گزار سکیں۔ زندگی علم اور دانش مندی کی سمت ایک نہ ختم ہونے والا سفر ہے۔ جب ہم اس بات کو پوری طرح جان لیتے ہیں، تو زندگی کامیابی بن جاتی ہے، حیرت انگیز دریافت اور آگے بڑھنے کی ولولہ انگیزی اور ایک مسرت آمیز سفر بن جاتی ہے۔خود اپنے ہی اندر ، اپنی صلاحیتوں کو ڈھونڈنے اور اُن سے شناسا ہونے کا راستہ بن جاتی ہے۔ کامیابی کا معیار خوشی ہے نہ کہ دولت، طاقت شہرت اور سماجی مرتبہ۔ اور خوشی کا تعلق ہماری زندگی میں تبدیل ہوتی ہوئی صورت حال سے اور نئے چیلنجز سے مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے ذہنی طرزِ عمل پر ہے۔ خوشی کا تعلق ہماری ہمت سے ہے۔ اور اپنے ذہن کو حقا ئق کے لیے کھلا رکھنے کی صلاحیت سے ہے۔ اگر آپ بھی میری ہی طرح ایک عام آدمی ہیں۔ مگر اپنی زندگی گزارنے کے عمل میں خوشی اورولولہ انگیزی کو محسوس کرتے ہیں۔ زندگی میں حصہ بٹانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ * تو آپ بلاشبہ کامیاب ہیں۔ لیکن اگر آپ آج تک خوشی اور ولولہ انگیزی سے دور رہے ہیں، زندگی میں رسک لینے سے گریزاں رہے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر آپ درست موقع پر درست فیصلہ کرنے سے محروم رہے ہیں۔ تو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر آپ ناکام ہوئے ہیں تو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فرق پڑے گا تو صرف اس بات سے کہ کیا آپ سیکھنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ اپنی غلطیوں سے اپنی ہار سے اور اپنے ماضی سے۔ فرق پڑے گا تو صرف اس بات سے کہ کیا آپ آگے کی سمت میں بڑھنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟ ہوسکتا ہے غلطیوں سے بھری ہوئی زندگی زیادہ بھرپور، زیادہ دلچسپ اور زیادہ ولولہ انگیز ہو۔ اس زندگی کے مقابلے میں کہ جس میں کوئی فیصلہ کیا ہی نہ گیا ہو۔ کسی مقصد کے لیے جوش کو اختیار کیا ہی نہ گیا ہو۔  ہوسکتا ہے غلطیوں اور ناکامیوں کی سنگلاخ چٹانوں کے نیچے تجربات اور دانش مندی کے ہیرے پوشیدہ ہوں۔ بات صرف دریافت کرنے کی ہے۔ اس دانش مندی کو دریافت کرنے کی کہ جسے بنیاد بنا کر ہم اپنے مستقبل کی تعمیر کرسکتے ہیں۔ شاید خودشناسی اور دانش مندی ہی وہ سب سے بڑی جائیداد، وہ سب سے ورثہ ہے کہ جو ہمیں ہماری زندگی کے مقصد تک لے جاتا ہے۔ لیکن اب دوسری سمت دیکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر ہم اپنی کی ہوئی غلطیوں سے تجربہ حاصل کرنے اور سیکھنے میں ناکام رہے تو اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ ہم ایسی ہی غلطیاں دوبارہ کریں گے۔ میںاس بات پر یقین رکھتاہوں کہ دانش مندی ہمیں تب ہی حاصل ہوتی ہے کہ جب ہم اندر سے اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہوں ۔ اگر آپ چلتے چلتے میرے ساتھ یہاں تک آ پہنچے ہیں تو گویا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ میرے ساتھ اس پرواز کے لیے تیار ہیں….. جاری ہے

شمال کی وادی سے پرواز… ایک تمثیل بیان مقصد لکھیے، انشے ورکشاپ ، دوسرا انشا POWER OF PURPOSE, INSHAY SERIAL WORKSHOP, PART 2

Posted by: Shariq Ali
retina

Join the power of purpose. This inshay serial workshop is designed to help you write a personal mission statement containing purpose, direction, and priorities in your life

کیا ہم زندگی کی مقصدیت سے جڑنا چاہتے ہیں؟  اگر ہاں تو یہ انشے سیریل ورکشاپ بیان مقصد یا مشن سٹیٹمنٹ لکھنے میں مددگار ہو گی. یعنی ایک ایسی ذاتی تحریر جس میں ہم اپنی زندگی کے مقصد ، اپنے سفر کی سمت  اور زندگی میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں کی سادہ لفظوں میں وضاحت کر سکتے ہیں ، اسے سمجھ سکتے ہیں

 

 

شمال کی وادی سے پرواز… ایک تمثیل

مقصدیت سے جڑیے ، بیان مقصد لکھیے، انشے ورکشاپ ، دوسرا انشا، شارق علی

 اونچے اونچے برف پوش پہاڑوں سے گھری شمال میں واقع کشادہ وادی کے بیچوں بیچ یخ بستہ جھیل کے کنارے پر تیرتا ہوا راج ہنس پانی سے نکل کر ساتھ لگی گھاس کے سر سبز و شاداب میدان میں ڈگمگ ڈگمگ چلتے ہوئے اپنی مخصوص پُکار سے اپنے نو عمر اور تجربہ کار ساتھیوں کو آواز دیتا ہے۔ اس کے یہ ساتھی کہ جو جابجا جھیل کے کنارے پر تیر رہے ہیں یا سبزہ زار پر چہل قدمی کررہے ہیں۔ اُس کی پُکار اور پیش قدمی میں ایک تکونی ڈار بنا کر گھاس کے میدان میں پہلے پیدل چلنا اور پھر دوڑنا شروع کردیتے ہیں ۔قدم آہستہ آہستہ تیز ہوتے ہیں، اور پھر بازوئوں کے ساتھ لگے ہوئے پر دھیرے دھیرے کھلنے لگتے ہیں۔ قیادت کرنے والے راج ہنس کا دل اس موقع پر ملے جلے جذبات سے بھرا ہوا ہے. اُسے محسوس ہوتا ہے کہ اُس کی ڈار کے بیشتر نو عمر مگر توانا ساتھی، اس طویل پرواز کے آغاز میں ہچکچاہٹ اور خوف محسوس کررہے ہیں۔ اپنی رفتار قدم بہ قدم تیز کرتے ہوئے راج ہنس سوچتا ہے. آخر کیوں پرواز کی سرخوشی تک پہنچنے کے لیے خوف سے ہوکر گذرنا پڑتا ہے۔ آخر کیوں مکمل آزادی اور مسرت کو حاصل کرنے کے لیے شک اور شبہات کی منفی تند ہوائوں کو زیر کرنا پڑتا ہے۔ یہ تو اس کے قبیلے کانسلی اعزاز ہے کہ وہ قوانین قدرت اور اپنی جبلی فطرت کے زیرِ اثر ہر سال ہزاروں میل کا طویل اور دشوار گزار سفر طے کرکے جنوب میں واقع گرم جھیلوں کے کنارے اپنی اور اپنے آباو اجداد کی قائم کردہ اور طے شدہ قیام گاہوں تک پہنچتے آئے ہیں۔ یہ سفر تو فطرت کا تقاضہ بھی ہے اور اُن کے قبیلے کا امتیاز بھی۔ ہوائیں کیسی ہی تند اور کیسی ہی تیز کیوں نہ ہوں، جب وقت آجائے تو یہ سفر طے کرنا ہی پڑتا ہے۔ کھلے بازوئوں کے ساتھ تیزی سے بھاگتا ہوا ، ڈار کی قیادت کرنے والا  راج ہنس یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ وادی کی دلکش اور آرام دہ سطح زمین ایک دفع چھوڑ دینے کے بعد اس کی ڈار کے لیے سوائے ہوا کے، تند اور تیز ، بے رحم ہوا کے کہ جو کھلے ہوئے بازوئوں کو پرواز میں مدد دے،  اور کچھ بھی نہیں کہ جس پر قیام کیا جاسکے، بھروسہ کیا جاسکے۔ اس کے تیز قدم ابھی زمین ہی پر ہیں۔ اور یہ خیال اس کے دل میں آتا ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ ہوا اس بار کھلے ہوئے بازوئوں کی پرواز میں مددگار ثابت نہ ہو۔ اس خوف آمیز خیال کے باوجود راج ہنس یہ جانتا ہے کہ اب وقت آچکا اور اس کے نوعمر ساتھی نشودونما کے مراحل سے گزر کر کھلے آسمانوں میں پرواز کے لیے تیار ہیں۔ اب بس ایک مرحلہ باقی ہے، آخری اور فیصلہ کُن مرحلہ . قدم تیز ہیں اور بازو کھلے ہوئے اور یہ مرحلہ ہے زمین چھوڑ دینے کا مرحلہ۔ راج ہنس کے دل میں اس خوف آمیز خیال سے بڑھ کر ایک اور طاقت ہے، دانائی کی طاقت۔ اور یہ طاقت اُسے بتاتی ہے کہ جب تک اُس کے نوعمر ساتھی اپنے بازوئوں کی توانائی کو پرواز کی مدد سے پہچان نہیں لیں گے، وہ اپنی زندگی کے مقصد کو کبھی بھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اگر وہ مخالف ہوائوں پر فتح یاب نہ ہوسکے تو ہنس کی حیثیت سے اُن کا وجود بے معنی ہوکر رہ جائے گا۔ وہ خود شناسی سے محروم رہ جائیں گے اور زمین چھوڑنے کی یہ آخری جست ایک خوبصورت تحفہ ہے، ایک اہم ترین اور نادر تحفہ اور سب سے عظیم تر اظہارِ محبت.  اور اسی لیے راج ہنس ہمت کرتا ہے اور جست لگا کر ہوا میں بلند ہوجاتا ہے۔  ایک ایک کرکے اس کے نوعمر ساتھی اس کی تقلید میں وادی کی پُرآسائش زمین کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اور یہ نوعمر ہنس پرواز کے شروع میں تھرتھراتے ہیں خوف سے، جیسے ڈار سے ٹوٹ کر گرجائیں گے مگر پھر سنبھلتے ہیں اور بلند تر ہوائوں میں پرواز کر جاتے ہیں— جاری ہے

 

 

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

16,577 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina