retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Magain Shalome Karachi مگین شلوم کراچی، سیج، انشے سیریل، چھتیسواں انشاء Magain Shalome Karachi, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 36

Narration by: Shariq Ali
December 3, 2017
retina

How we Muslims treat our minorities is deplorable.  Jews of Karachi now live in Ramla, Israel have built a synagogue called Magain Shalome Karachi in memory of a lost social harmony

I am Azm, a student at Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

 

مگین شلوم کراچی، سیج، انشے سیریل، چھتیسواں انشاء شارق علی

تقسیم کے وقت تقریباً ڈھائی ہزاربنی اسرائیلی یہودی کراچی میں آباد تھے۔ بیشتر کی رہائش لارنس روڈ، رامسوامی اور رنچھوڑ لائن کے کوارٹروں میں تھی۔ دست کار، دفتری بابو، چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والے۔ کچھ تعلیم یافتہ خوشحال بلکہ مالدار بھی۔ ذکر تھا کراچی کا اور دل گداز بیان پروفیسر گل کا۔ کہنے لگے۔ کوشر گوشت کھانے اور عبرانی ملی مراٹھی بولنے والے یہ لوگ ایک ہم آہنگ ماحول کا حصہ تھے جس میں پارسی، ہندو، گووانیز اور مسلمان اکثریت مل جل کر رہتی تھی۔ حاجی کیمپ کے قریب ان کا الگ قبرستان بھی تھا۔ جانے کیوں آزادی ملی تو شہر کی اکثریت اپنے ماضی سے خوف محسوس کرنے لگی اور اس کا اظہار۔ عمارتوں، گلیوں اور شاہراہوں کے ہندو، پارسی اور یہودی ناموں کی تبدیلی سے ہونے لگا۔ جانے جوبلی مارکیٹ کے پاس سولومن ڈیوڈ اسٹریٹ کا کتبہ آج بھی موجود ہے یا نہیں۔ یہودی کمیونٹی کے سربراہ اور میونسپلٹی کے سرویئر سولومن  نے مگین شلوم نامی مسجد اور اپنی بیوی شیگل بائی کی یاد میں ساتھ لگا کمیونٹی ہال اٹھارہ سو ترانوے میں تعمیر کروایا تھا۔ وہ اور اسکی بیوی کراچی ہی میں دفن ہیں۔ رنچھوڑ لین کے مرکزی چوک کے قریب ستر کی دہائی تک یہودی مسجد ایک جانی پہچانی عمارت تھی۔ گلی کا نام ہی یہودی مسجد گلی تھا۔ تقسیم کے بعد اکثریتی مسلمانوں نے اسرائیل کے قیام اور عرب اسرائیل جنگ کے ایمان افروز موقعوں پر یہودی مسجد پر باقاعدگی سے حملہ اور اسے آتش زان کرنا شروع کیا۔ بیشتر یہودی یا تو اسرائیل ہجرت کر گئے یا خود کو پارسی اور عیسائی کہنے لگے۔ ضیاء الحق کے  زمانے میں مسجد مسمار کر کے یہاں مدیحہ اسکوائر نامی شاپنگ پلازہ قائم کر دیا گیا. اس عبادت گاہ کی آخری رکھوالی راچیل جوزف دھمکیوں سے خوفزدہ ہو کر لندن ہجرت کر گئی۔ کوئی یہودی عاشق کراچی کا؟ میں نے پوچھا۔ بولے۔ لمبی فہرست ہے کراچی کے عاشقوں کی۔ بیشتر تو میری طرح زبانی کلامی اور بے عملے۔ اسی میں انیسویں اور بیسویں صدی کے خدوخال دینے والے چارلس نیپیئر اور جیمز اسٹریچن بھی شامل ہیں۔ انہی میں موسز سومیکی بھی ہے جسے شہر کا گمنام محسن سمجھ لو۔ عراقی نسل کا یہودی آرکیٹکٹ سومیکی  اٹھارہ سو پچھتر میں لاہور میں پیدا ہوا لیکن بیشتر عمر کراچی میں گزاری، غالباً سولہویں صدی میں اس کے بزرگ ایرانیوں کے ظلم سے بھاگ کر ہندوستان اور پھر کراچی میں آ کر آباد ہوئے تھے۔ اعلیٰ تعلیم کے بعد وہ شاید واحد دیسی تھا جو بیسویں صدی کے آغاز میں عالمی آرکیٹکٹ سوسائٹی کا ممبر بنا۔ کراچی کی بہت سی عمارتیں اسی کا ڈیزائن ہیں۔ بی وی ایس  پارسی اسکول، صدر میں گوان ایسوسی ایشن کی عمارت، بندر روڈ کا خالق دینا ہال، کھارادر کی جعفر فیدو ڈسپنسری اور قائد اعظم کافلیگ اسٹاف ہائوس اسی کے کارنامے ہیں۔ آخر کار وہ بھی اکثریتی تنگ نظری کا شکار ہوا اور تقسیم سے چند مہینے پہلے انگلینڈ ہجرت کر کے وہیں وفات پائی۔ کراچی کی کیا بات دکھ دیتی ہے آپ کو؟ سوفی نے پوچھا۔ آہ بھرکر بولے۔ ماضی کے معتدل، پر امن، ثقافتوں اور عقیدوں کے لئے کشادہ دل شہر کی موجودہ نوے فیصد اکثریت کی تنگ نظری۔ اس تاریخی سچ کو جھٹلانے کی کوشش کے اس شہر کی تعمیر اور آرائش میں انگریز، پارسی، ہندو، گووانیز اور یہودی سب برابر کے شریک تھے۔ جہاں قبروں پر لگے سنگ مرمر کے کتبے چوری سے محفوظ نہ ہوں وہاں جھاڑیوںسے ڈھکی زمین پر بکھری چند سو یہودی قبروں کی حفاظت کا ذمہ کون لے سکتا ہے بھلا۔ ممکن ہے کوئی شاپنگ پلازہ اس زمین کو جلد ہی ہتھیا لے۔ سنی سنائی بات ہے کہ کراچی کے بچے کھچے یہودی مہاجر اب اسرائیلی علاقے رمالا میں آباد ہیں اور انہوں نے اپنی مقامی عبادت گاہ کا نام مگین شالوم کراچی رکھا ہے۔۔۔۔۔جاری ہے

 

Fighter Pilot فائیٹر پائیلٹ ، سیج، انشے سیریل، پینتیسواں انشا Fighter Pilot, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 35

Posted by: Shariq Ali
retina

Mauripur in Karachi was home for Harvey, a fighter pilot from Saffron Walden in England. His first love was his single-engine hawker tempest. He used to flew it under the Lansdowne bridge between Rohri and Sukker

I am Azm, a student at Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

 

فائیٹر پائیلٹ ، سیج، انشے سیریل، پینتیسواں انشا، شارق علی

اسکواڈرن فائیو کا میں واحد فائیٹر پائیلٹ تھا جو اپنے ایک انجن والے ہاکر ٹیمپسٹ جہاز کو روہڑی اور سکھر کو ملانے والے پرانے لینز ڈاؤن پل کے نیچے سے گزار کر سب کو حیران کر دیتا تھا۔ اٹھارہ سو اناسی میں تعمیر ہونے والا یہ پل برطانوی انجینیئرنگ کا معجزہ ہے اور میری مہارت بیسویں صدی کی برطانوی فضائیہ کا کمال۔ ہاروی یہ قصہ سناتے ہوئے یوں جوش میں آتا جیسے وہ پل کے نیچے سے جہاز لئے بس ابھی گزرا ہو۔ سوفی کی خالہ ڈاکٹر مینا سے تعارف ہوا تو کچھ دیر بعد ہی برسوں کی شناسائی محسوس ہونے لگی ۔ سیج میں بوڑھوں کی بہبود پر ہونے والے مذاکرے میں ان کی شراکت کی وجہ تو انگلینڈ کے قصبہ سیفرون والڈن کے ہسپتال میں کی گئی ان کی تحقیق تھی لیکن بات بوڑھے مریضوں کے سنائے دلچسپ قصوں تک جا پہنچی تھی۔ بات جاری رکھتے ہوئے بولیں۔ میں جب بھی وارڈ راؤنڈ کرتے ہوئے چھیانوے سالہ ہاروی کے بستر پر پہنچتی تو کمزور یاد داشت کا یہ مریض مجھ سے ہر روز یہی سوال کرتا۔ کس شہر سے ہو تم؟ جواب میں کراچی سنتے ہی وہ دراز میں سے بلیک اینڈ وائٹ تصویر نکال لیتا جس میں دراز قد سنہری بالوں والا نوجوان پائیلٹ ایک انجن کے ہاکر ٹیمپسٹ طیارے پر ہاتھ دھرے مسکرا رہا تھا ۔ پھر کہتا۔ یہ انیس سو چھیالیس کا کراچی ہے یہ ۔ ان دنوں ماڑی پورمیرا گھر تھا۔ کچھ دن میں جہاز کی مرمت کے سلسلے میں ڈرگ روڈ کی مینٹیننس ورکشاپ میں بھی رہ چکا ہوں۔ فوجی لحاظ سے ماڑی پور  بہت مصروف ائیرپورٹ تھا ان دنوں ۔ پھر اپنا جہاز یاد کر کے وہ کچھ یوں اداس ہوتا جیسے عاشق پہلی محبت کو یاد کر کے۔ اسی سے پتہ چلا کے ماڑی پور  انیس سو چھپن تک رویل ایئرفورس کے زیرِ استعمال رہا تھا ۔ آپ کے ہسپتال کے قصبے سیفرون والڈن کی بھی کچھ تفصیل؟ رمز نے کہا ۔بولیں. گھنے درختوں، کھیتوں اور سبزہ زاروں میں گھرا یہ قصبہ بارہویں صدی سے آج تک منگل اور سنیچر کے دن مارکیٹ لگنے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ پھل، سبزیاں اور روز مرہ ضرورت کی ہر چیز موجود۔ آبادی کے آثار تو پتھر کے زمانے سے ملتے ہیں لیکن رومن زمانے کے قلعے کی باقیات اب تک موجود ہیں۔ یوں تو کاسل  اور برج اسٹریٹ کی پرانی تاریخی عمارتیں بھی خوب ہیں لیکن سینٹ میری چرچ کی صدیوں پرانی عمارت اور خوبصورت برج اینڈ باغ تو ثقافتی ورثہ شمار ہوتے ہیں۔ پہلے اون پھر مکئی اور دوائیوں میں استعمال ہوتے پھولوں کی کاشت بھی وجہ شہرت رہی ہے اور موجودہ نام ذعفران کی کامیاب کاشت کی وجہ سے پڑا۔ یورپی بوڑھوں کی لمبی عمر آپ کا کام آسان بنا دیتی ہوگی۔ میں نے کہا۔ بولیں ۔ صرف طویل عمر  نہیں بلکہ جسمانی اور ذہنی صحت اور مالی اعتبار سے خوش حال لمبی زندگی بلا شبہ ایک نعمت ہے۔ میں اور میری ٹیم بزرگ مریضوں کے طبی مسائل کے ساتھ ان کی زندگی کے ہر پہلو کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ صر ف سائنسی علم نہیں بلکہ درد مندی ہمیں انفرادی صورتِ حال سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ بڑھاپا کمزوری اور بیماری کا سبب بنتا ہے اور شناسا ماحول میں ان کا مقابلہ نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اپنے خاندان، محبتوں اور پسندیدہ مشاغل کے درمیان۔ ہو سکتا ہے بڑھاپے کا ساتھی بچھڑ چکا ہو لیکن ماحول میں بسی یادوں میں اس کا ساتھ سانس لیتا رہتا ہے۔ سوچو جس گھر کی بنیاد ساتھ رکھی، آنگن میں ساتھ پیڑ لگاے، بچوں کو بڑا کیا، سجاوٹ اور خوشیوں میں حصہ دار بنے، اسے چھوڑنا کتنا مشکل ہوتا ہو گا، ہم مریضوں کے جلد گھر جانے کی خواہش کا احترام کرتے ہیں۔ گھر کی زندگی آسان بنانے کی ہر ممکن سہولت مہیا کرتے ہیں۔ مثلاً نہلانے، گھر کی صفائی اور غذا کی تیاری میں کل یا جز وقتی مدد اور پکے پکائے کھانے کا مسلسل انتظام جو میلز آن وہیلز کہلاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

Ba Salahiyat با صلاحیت ، سیج، انشے سیریل، چونتیسواں انشاء Ability, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 34

Posted by: Shariq Ali
retina

” The human spirit is one of ability, perseverance, and courage that no disability can steal away “

I am Azm, a student of Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

 

با صلاحیت ،  سیج، انشے سیریل، چونتیسواں انشاء، شارق علی

آج تین دسمبر تھا اور سیج کانفرنس ہال کو معذوروں  کے عالمی دن کی مناسبت سے سجایا گیا تھا۔ تقریب آگے بڑھی تو ابن بھائی کو تقریر کی دعوت دی گئی ۔ کہنے لگے۔ میں تیسری کلاس میں تھا جب میری دونوں ٹانگیں پولیو سے مفلوج ہوئیں۔ چھ بہن بھائی اور بھی تھے۔ باپ سرکاری محکمے میں کلرک۔ پہلے پہل ماں باپ کو لگا اور شاید مجھے بھی کہ میری زندگی بالکل بے کار ہے۔ ہوش سنبھالا تو بہتر زندگی گزارنے کی امنگ پیدا ہوئی۔ اسکول اور کام میں دل لگایا۔ شام میں آلو چھولے کا ٹھیلہ لگاتا اور دن میں تعلیم۔ تمام عمر ٹیوشن بھی پڑھائی۔ اب تو کالج کے اسٹوڈنٹ پڑھنے آتے ہیں۔ رسالوں میں مضامین اور اخباری کالم لکھتا ہوں۔ حال ہی میں معذوروں کے اسکول میں ہیڈ ٹیچر مقرر ہوا ہوں۔ وہ جو معذور ہیں ان سے کہنا ہے کہ یقین رکھئے ہر زندگی کے پیچھے کوئی منصوبہ اور مقصد ہوتا ہے۔ مقام، عمر، جنس اور معذوری سے بے نیاز.  اپنے مقصد کو ڈھونڈ نکالئے۔ جو کر سکتے ہیں اس میں کمال حاصل کیجئے۔ نہ کر سکنے کی مایوسی کو بھلا دیجئے۔ پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو معذور بچوں کے والدین سے بولے۔ اپنے بچوں کو کم تر نہ سمجھیے۔ والدین ، بڑے اداروں اور حکومت کو ہم پر سرمایہ کاری کرنی چاہیئے۔ یقین رکھئے ہم بہت منافع بخش ثابت ہوں گے۔ جلسہ ختم ہوا تو ٹی ہاؤس میں بیٹھک ہوئی. سوفی نے پوچھا۔  ہمارے معاشرے میں معذوروں کی بد حالی کا سبب؟ پروفیسر بولے۔ بنیادی بات یہ کہ ہم نام نہاد جمہوریہ ہیں۔ سب سے اہم ذمہ د اری کسی جمہوریہ کی یہ ہوتی ہے کہ وہ عوام کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرے۔ تاکہ وہ صلاحیت کے مطابق روزگار حاصل کر سکیں۔ جب عام لوگ ہی اس حق سے محروم ہوں تو معذوروں پر توجہ تو دور کی بات ہے پر جوش تقریریں اور حالیہ سرکاری اعلان کے معذوروں کی ملازمت کا کوٹہ دو سے بڑھا کر پانچ فیصد کر دیا گی ہے  کوئی عملی صورت اختیار کرے تو بات بنے۔ ابن بھائی نے کہا۔ ایک اندازے کے مطابق ہماری تین سے سات فیصد آبادی معذوری کے زمرے میں آتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں روزگار، تعلیم کے حصول اور روز مرہ زندگی میں معذوروں کو کسی تعصب اور امتیازی سلوک کا سامنا نہیں ہوتا۔ بڑے ادارے خصوصی روزگار اور ضروری سہولیات مہیا کرتے ہیں۔ جیسے لینے چھوڑنے کی سہولت اور ایسے کمپیوٹر سافٹ ویئر کا استعمال جو ان کی زندگی کو آسان بنائے۔ پروفیسربولے۔ یورپ کے تاریک دور میں معذوروں خصوصاً ذہنی معذوروں کو آسمانی اور شیطانی طاقتوں کے زیرِاثر سمجھا جاتا اور انھیں تعلیم سے محروم رکھا جاتا تھا۔ پھر سولہویں صدی میں اشاروں کی زبان میں بات چیت کے کچھ ثبوت ملتے ہیں۔سولہ سو اکہتر میں پیرس میں بہروں کی مدد کے لئے قومی ادارہ قائم ہوا جو شاید دنیا میں معذوروں کا پہلا فلاحی ادارہ تھا۔  انیسویں صدی میں فرانسیسی ماہرِتعلیم ایڈورڈ سیکوین نے معذور بچوں کی تعلیم کے اصول وضع کئے۔ ماریا مونٹیسوری اور دیگر تعلیمی ماہرین نے ان اصولوں کی پیروی کی۔ پھر امریکہ میں نابینائوں کے لئے پہلا اسکول قائم ہوا۔ لوئیس برائل نے چھو کر پڑھ سکنے کا نظام ایجاد کیا۔ ہم عام لوگ معذوروں کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟ میں نے دکھی دل سے پوچھا۔ ابن بھائی بولے۔ تم ہمیں اپنے رویوں، گفتگو اور طرزِ عمل میں برابری کا احساس دے سکتے ہو۔ ترس کھانے کے بجائے مدد، تعاون، حوصلے اور صلاحیت میں اضافے کی جدو جہد میں شریک بن سکتے ہو۔ ترقی اور خوش حالی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں مددگار ہو سکتے ہو۔ تم ہمیں سیکھنے کے جوش میں حیران کن حد تک آگے پائو گے۔ کبھی معذوری کو کم صلاحیت سمجھنے کی غلطی نہ کرنا۔ کیا اسٹیفن ہاکنگ کی صلاحیت کسی صحت مند آدمی سے کم ہے؟۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

 

Hero Chowk ہیرو چوک سیج، انشے سیریل، تینتیسواں انشاء Heroes` Square, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 33

Posted by: Shariq Ali
retina

Mark of the thousandth anniversary of Hungary, Heroes’ Square is the largest and most impressive square of Budapest. Enjoy the glimpse of one of the most beautiful cities in Europe

I am Azm, a student of Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

ہیرو چوک سیج، انشے سیریل، تینتیسواں انشاء، شارق علی۔

تیز بارش میں سبز دھاریوں والی ہوپ آن اور آف بس میں سوار ہونا مناسب سمجھا۔ گائیڈ کی کمینٹری میں ذرا وقفہ ہوا تو ساتھ کی سیٹ پر بیٹھے بوڑھے نے پوچھا۔ گجراتی آتی ہے؟ نہیں میں سر ہلایا تو وہ اداس ہو گیا۔ ساتھ بیٹھی یورپی خاتون بولیں۔ چھیالیس سال ہو گئے ہندوستان چھوڑے اور بیالیس ہماری شادی کو۔ ہم دنیا گھومنے نکلے ہیں . دونوں کو غور سے دیکھا تو وہ محنت کش ترک وطن پر لکھے کسی ناول کے مرکزی کردار لگے۔ رمز پھر بوداپسٹ کا قصہ لے بیٹھا تھا۔ بولا ہیرو سکوائر پر بس رکی تو بارش تھم چکی تھی۔ یہ ایک وسیع میدان ہے جس کے مرکزی ملینیئم ستون پر حضرت جبرائیل کا اور پیچھے نصف دائرہ بناتے محرابی ستونوں پر قومی ہیروز کے متحرک دکھتے شاندار مجسمے تعمیر کئے گئے ہیں۔ چوک کے ایک جانب کلاسیکی یورپی طرز کی عمارت کا فائن آرٹ میوزیم ہے جس میں قدیم مصری اور یورپی تاریخ کے نوادرات، رفائل، گویا اور ریمبران جیسے مصوروں کے شاہکار ہیں۔ بالکل سامنے یونانی مندر کی شکل کا پیلیس آف آرٹ ہے جو ایک عظیم نمائش گاہ ہے۔ فنون لطیفہ سے متعلق سرگرمیاں ہردم جاری رہتی ہیں۔ سٹی پارک بھی ساتھ ہی لگا ہوا۔ ہنگری کی ایک ہزار سالہ تاریخ کی علامت ہے ہیرو چوک۔ کچھ مختصر احوال تاریخ کا بھی ؟ سوفی نے کہا ۔ پروفیسر بولے۔ جنگیں، بادشاہت، حملہ آور اور سیاست سب ہی موجود ہیں اس کہانی میں۔ یہ لوگ پہلے خانہ بدوش تھے۔ یورال پہاڑیوں سے اتر کر سردار ارپد کی قیادت میں نویں صدی میں یہ علاقہ فتح کیا۔ ہیرو اسکوائر اسی فتح کی یادگار ہے۔ سن ایک ہزار میں بادشاہ اسٹیفن نے اسے کیتھولک ریاست بنایا۔ پوپ نے تاج پوشی کی۔ تیرہویں صدی میں منگولوں نے حملہ کیا۔ آدھی آبادی موت کے گھاٹ اتری۔ بہت سے غلام بنے۔ بچی کچھی آبادی نے پتھریلے قلعے تعمیر کئے۔ منگولوں کا دوسرا حملہ ان قلعوں کی وجہ سے ناکام ہوا۔ سولوہیں صدی میں ترک حملہ آور ہوئے تو ملک تین ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا۔ ہنگاریئن ،ہیبسبرگ اور ترک راج۔ مشترکہ زبان وادب نے تین سو سال بعد پھر سے ملکی وحدت کو بحال کیا۔ آسٹرو ہنگریئن بادشاہت میں امن اور استحکام ملا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کا ساتھ دیا اور روس سے شکست کھائی۔ چوالیس سال تک کمیونسٹ روسی تسلط قائم رہا۔ آج ہنگری ایک آزاد جمہوریہ ہے۔ مجموعی تاثر کیسا ہے شہر کا؟ میں نے پوچھا۔ بولا۔ یورپ کے خوبصورت شہروں میں سے ایک۔ ڈینیوب کے کنارے بے مثل عمارتوں کو جس جدت اور فنکارانہ مہارت سے روشن کیا گیا ہے۔ پورے یورپ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہاں کی پارلیمینٹ بلڈنگ سے زیادہ حسین عمارت میں نے زندگی میں نہیں دیکھی۔ ہر سمت سے پریوں کا محل۔ چھ سو اکیانوے کمرے.  سامنے کا رخ نوے مجسموں سے آراستہ ۔چالیس کلو سونے سے کی گئی اندرونی سجاوٹ اور اس قدر سیڑھیاں کہ اجتماعی مسافت بیس کلو میٹر۔ گوتھک طرز کی یہ عمارت انیس سو دو میں مکمل ہوئی تھی۔ اوپرا ہائوسز ،آرٹ گیلریاں، تھیٹر اور سو کے قریب میوزیم ۔ کوئی بہت انوکھی بات اس شہر کی؟ سوفی نے پوچھا۔ بولا. غاروں کے ایسے سلسلے جن میں گرم پانی کے قدرتی چشمے پائے جاتے ہیں۔ یہ دنیا کے کسی اور مرکزی شہر میں موجود نہیں۔ ستر کروڑ لیٹر پانی روزانہ سطح زمین پر آتا ہے ان چشموں سے جڑے حوض رومن زمانے سے اب تک بہت سے امراض کے لئے شفا سمجھے جاتے ہیں ۔۔۔۔جاری ہے

Budapest Kay Gul Baba بوڈاپسٹ کے گل بابا، سیج, انشے سیریل, بتیسواں انشاء Gul Baba of Budapest, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 32

Posted by: Shariq Ali
retina

 

Hungary’s capital Budapest bisects the River Danube and Chain Bridge connects the hilly Buda with flat Pest. On Mecset (mosque) Street, a short but steep walk from the Margaret bridge is the tomb of Sufi poet Gul Baba. Enjoy the trip!

I am Azm, a student of Sage University. Enjoy stories by me, my friends and teachers from every corner of the globe in this Urdu / Hindi Podcast serial

Listen, read, reflect and enjoy!

 

بوڈاپسٹ کے گل بابا، سیج انشے سیریل بتیسواں انشاء، شارق علی۔

اتنی بلندی تک پہنچنے کی دو ہی صورتیں تھیں۔ یا تو طویل پیدل چڑہای کی

مشقت سے گزرتے۔ یا پھر ٹکٹ خرید کر کیبل کار میں سوار ایک منٹ کی عمودی

چڑھائی کے بعد بوڈا کاسل کے اس مقام تک پہنچتے جہاں سے بوڈاپسٹ پریوں کا

دیس دکھائی دیتا ہے۔ رمز ہنگری میں گزاری چھٹیوں کا ذکر کر رہا تھا۔ بولا

کیبل کار بلند ہونا شروع ہوئی تو بل کھاتے ڈ ینیوب میں تیرتی کشتیاں، اسے

عبور کرتے دلکش پل، اور کناروں کے ساتھ بنی بے مثل عمارتیں لمحہ با لمحہ

دور اور چھوٹی ہوتی دکھائی دیں۔ شہر کے خوبصورت کوچہ و بازار اور مجسموں

سے آراستہ چوک نگاہوں میں وسعت پانے لگے۔ کیسا ہے بوڈا کاسل؟ میں نے

پوچھا۔ بولا۔ فنِ تعمیر کا حسن اور جاہ و جلال لئے ایک بے مثال عمارت۔

دریا ئے ڈینیوب کے کنارے پچاس میٹر بلند پہاڑی پر اس محل نما قلعے میں اب

کئی ثقافتی مراکز آباد ہیں۔ اس کی بنیاد چودھویں صدی میں کنگ لاجوس نے رکھی تھی

اور یہ پہلے رومن طرز میں تعمیر ہوا۔ یہ اب تک اکتیس بار مختلف حملہ

آوروں کے حصار میں رہ چکا ہے۔ بعد میں یہاں گوتھک طرز کے تعمیراتی اضافے

کئے گئے۔ بہت عرصے تک یہ پورے یورپ کا سب سے حسین محل شمار ہوتا رہا۔ اس

میں موجود مجسموں سے عیاں فنکارانہ مہارت کا بیان لفظوں میں زرا مشکل ہے۔

اور شہر کا نظارہ اس اونچائی سے؟ پروفیسر نے پوچھا۔ رمز بولا۔ قلعے کی

فصیل کے ساتھ بنی بیلکونی ڈینیوب سے پچاس میٹر اونچای پر ہے۔ ہم وہاں کھڑے

ہوئے تو مغرب کا جھٹپٹا تھا۔ رات گہری ہو چلی تو ڈینیوب عبور کرتے پلوں ،

کنارے کی عمارتوں اور تیرتی کشتیوں میں روشنیاں ایک ایک کر کے یوں

جگمگائیں جیسے کسی جشن کا اعلان اور والہانہ رقص کا آغاز ہوا ہو۔ دریائے

ڈینیوب کے کنارے صدیوں سے آباد بوڈا اور پیسٹ پہلے دو الگ شہر تھے۔

اٹھارہ سو تیہتر میں آسٹرو ہنگیرین بادشاہات میں دونوں کا ملاپ ہوا تو

یہ بوڈاپسٹ کہلایا۔ دریا پر بے حد شاندار پل تعمیر کئے گئے۔ پیسٹ میدانی

وادی میں بسا صنعتی شہر ہے اور بوڈا ہلکی پہاڑیوں پر آباد رومان انگیز

رہائشی بستی۔ اور ڈینیوب ؟ سوفی نے پوچھا۔ بولا۔ بل کھاتا ڈینیوب ان دو

شہروں بلکہ دو کیفتوں کے ہجر و وصال کی بہتی داستان ہے۔ یہ ایک رقص کرتا

دریا ہے۔ اس کے بہاؤ میں شوخی اور بھرپور ہونے کا احساس ہے۔ دریا

کے بالکل بیچ میں آنکھ کی شکل کا کوئی دیڑھ میل لمبا اور آدھا میل چوڑا

جزیرہ مارگرٹ آئلینڈ کہلاتا ہے۔ سر سبز و شاداب درختوں سے پر یہ شہر کے

ہنگاموں سے دور ایک پر فضا مقام ہے۔ یہاں یوں تو جاپانی گارڈن خوبصورت

آبشار،رنگین مچھلیوں سے بھرا حوض اور موسیقی بجاتا فوارہ بھی ہے لیکن اس

میں موجود گلابوں کا باغ گل بابا کی یاد دلاتا ہے۔ مشرقی یورپ کے ملک

ہنگری میں گل بابا؟ یہ کون تھے بھلا؟ سوفی نے پوچھا۔ رمز بولا۔سولہویں

صدی میں جب ترکوں نے اس شہر پر حملہ کیا تو لشکر میں اناطولیا کے صوفی

شاعر گل بابا بھی شامل تھے۔ پھر وہ یہیں آباد ہو گئے ۔ ان کے حسن عمل کا

کمال کے مقامی لوگوں میں ان کی شہرت ایک ایسے درویش کی حیثیت سے ابھری جو

گلابوں کا تحفہ لئے ان کے دیس میں آ ئے تھے۔ سولہویں صدی کے صوفی شاعر کا یہ مقبرہ آج تک عقیدتمندوں کے

لئے قابل احترام ہے.  یہ آج بھی ہر دم گلابوں سے مہکتا ہے۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

 

Sufi musical Ishq in Sadlers Wells theatre, London سیڈلرز ویلز میں صوفی میوزیکل عشق، انشاء، ویلیوورسٹی

Posted by: Shariq Ali
retina

Enjoy a brief review in Urdu/Hindi on Sufi musical Ishq in Sadlers Wells Theatre, London staged on 7th September 2017

 

 

سیڈلرز ویلز میں صوفی میوزیکل عشق، انشاء، ویلیوورسٹی، شارق علی

چکن حلال نہ تھی اسی لئے ویجیٹیرین کھانے کے نام پر بے نمک نامعلوم ساگ، گوبھی، چک پیز، خشک چاولوں اور گاجر دھنیے کے سوپ کو اپنا نصیب مان کر قبول کرنا پڑا۔ سات ستمبر دو ہزار سترہ کی خوش گوار شام میں میں اور مونا مشرقی لندن میں واقع سیڈلرز ویلز تھیٹر کے سٹیج ڈور سے متصل آرٹ گیلری نما کیفے میں ہسپتال سے فارغ ہو کر بس ابھی پہنچے تھے۔  مقررہ وقت پر تھیٹر کے لاونج میں داخل ہوئے تو شو شروع ہونے میں کچھ دیرباقی  تھی۔ پاکستان ہائی کمیشن کے پر وقار خیر مقدمی انتظامات دیکھ کر جی خوش ہوا۔ لندن میں آباد پڑھے لکھے،خوش لباس اور خوش ذوق پاکستانیوں اور دیگر شائقین کی کثیر تعداد صوفی میوزیکل عشق دیکھنے کے لئے موجود تھی۔ گہما گہمی میں بھی مہذب خوش گواری تھی۔ ویٹنگ لائونج میں ساتھ بیٹھے اسی سالہ بوڑھے انگریز سے گفتگو شروع ہوئی تو وہ سیڈلرز ویلز تھیٹر کا پرانا شناسا نکلا۔ بولا۔ میرے بچپن میں یہاں کا سب سے سستا ٹکٹ چھ پینس کا تھا۔ سولہ سو تیراسی میں یہ ایک میوزک ہاؤس کے طور پر قائم ہوا تھا۔ پھر اٹھارویں صدی میں مداری کے تماشے، کتوں کے کرتب اور کشتی کے مقابلے بھی ہونے لگے۔ آہستہ آہستہ اس نے اوپیرا تھیٹر کی صورت اختیار کر لی ۔ انیسویں صدی میں مزاحیہ اداکار گریمالڈی نے اس کی شہرت کو چار چاند لگائے۔ بیسویں صدی کے شروع کی زبوں حالی کے باعث اخباروں نے اسے زخمی پلے ہاؤ س لکھا۔ پھر شمالی لندن کے عام لوگوں تک آرٹ خصوصاً رقص کی سستی رسائی کے لئے اس نے شہرت پائی ۔ حالیہ دور میں یہ دو ہزار چار میں نئی طرز اور آرائش کے ساتھ دوبارہ نمودار ہوا ہے۔ آج یہ میوزیکل پیش کرنے کی تمام جدید سہولیات سے آراستہ ہے۔ دروازے کھلے تو سرخ قالین سے گزر کر ہم اپنے اسٹال تک پہنچے جو مرکزی مقام پر اسٹیج سے بہت مناسب فاصلے پر تھا۔ ہیر رانجھا آٹھارویں صدی کے مرد حکمران معاشرے میں عورت کی پسند و نا پسند کی آزادی کے لئے بھرپور جدو جہد اور مزاحمت کی کہانی ہے۔ سرینڈپ کی پروڈیوسر ہما بیگ نے وارث شاہ کی چھ سو برس پہلے لکھی اس داستان کو لندن کے اسٹیج پر دوبارہ زندہ کیا ہے۔ دو معصوم دلوں کی محبت اور خاندانی عزت سر بلند رکھنے کی منافقانہ کوششوں کے ڈرامائی ٹکراؤ کی یہ کہانی شیکسپیئر کے رومیو جیولیٹ سے بہت ملتی جلتی ہے۔ ہم ٹی وی کے احسن خان اور چینل فور کی رشیدہ علی ہیر رانجھا اور منٹو سے شہرت پانے والے عدنان جعفر ویلین کیدو کے کردار میں اسٹیج پر آئے۔ ایان برینڈن اور ایمو نے موسیقی ترتیب دی ہے اور اوون ا سمیتھ نے رقص ۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس کھیل میں پیش کئے گئے رقص اور موسیقی کے مظاہروں میں روایت اور جدت کا امتزاج ہے ۔ تیزی سے تبدیل ہوتے دل کش سیٹ ڈیزائنز، انگریزی مکالموں میں اردو اور پنجابی کی خوشگوار ملاوٹ، گایکی اور اداکاری کے بیشتر متاثر کن اور بعض کمزور مظاہرے دیکھنے کو ملے۔ قوس قزح کے رنگوں جیسے کوسٹیومس، حسین زیورات اور اسکرین پر رنگین اور دلکش ڈیجیٹل عکاسی نے خوب رنگ جمایا۔ مجموعی طور پر پاکستان اور برطانیہ سے منتخب نوجوانوں فنکاروں کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔ پاکستان ہائی کمیشن لندن نے سترویں جشنِ آزادی ک موقع پر اس پروڈکشن کو بھر پور سرپرستی دی۔ خاص طور پر ہائی کمشنر ابنِ عباس صاحب، منیر احمد صاحب اور مس نغمہ بٹ کی کوششیں قابلِ تعریف ہیں

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

16,330 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina