retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

معیشت کا غیبی ہاتھ ، دنیا گر ، انشے سیریل ، چوتھا انشا Adam Smith, the invisible, DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 4

Narration by: Shariq Ali
May 20, 2019
retina

Ideas of Adam Smith is the invisible hand that sculpted the unmatched global prosperity in the history of mankind

دنیاگر واقعات ، نظریات ، شخصیات اور ایجادات پر مبنی انشے
A serial of short stories about ideas, events, personalities, and discoveries that shaped our world

 

 

معیشت کا غیبی ہاتھ ، دنیا گر ، انشے سیریل ، چوتھا انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

کلاس ختم ہو چکی تھی لیکن ٹیٹوریل روم میں غیر رسمی گفتگو جاری تھی . پروف بولے .  پچھلے دو سو پچاس برسوں میں عالمی معاشی ترقی کی رفتار حیرت انگیز رہی ہے.  پوری دنیا تجارتی طور پر ایک دوسرے سے جڑ کر ایک اکائی بن گئی ہے . سمندروں میں تیرتے کنٹینر شپ ، فضا من اڑتے کارگو جہاز ، سڑکوں پر رواں ہیوی ڈیوٹی ٹرک، ایمیزون پر آن لائن شاپنگ  .  پچھلے دور میں یہ سب ناممکن تھا .  تب کچھ لوگ بے حد امیر تھے لیکن عوام کی اکثریت سطح غربت سے بہت نیچے تھی .  آج کی یہ  خوشحالی فری مارکیٹ اکانومی اور عالمی تجارت کی وجہ سے  ہے .  یہ سب ایک شخص کی سوچ اور خیال سے شروع ہوا تھا . ہم سب کی اٹھی سوالیہ نگاہوں کو مخاطب کر کے بولے . معاشیات کے بانی اور اخلاقی فلسفی ایڈم سمتھ کے تصورات نے جس قدر خوشحالی، اچھی صحت اور طویل زندگی عام لوگوں کو دی  ہے ،  پچھلی ڈھائی ہزار سالہ انسانی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی .  وہ سترہ سو تیئیس میں اسکاٹ لینڈ کے قصبے کرک کالڈی میں پیدا  ہوا .  بہت کم عمری میں والد کا انتقال ہوگیا،  تربیت اس کی ماں مارگریٹ نے کی . کبھی کبھار گم سم رہنے اور خود کلامی کرنے والا فلسفے ، لاطینی زبان اور ریاضی کا ذہین طالب علم جو بچپن ہی سے بھرپور مطالعے کا عادی تھا  چودہ سال کی عمر میں گلاسکو یونیورسٹی میں داخل ہوا .  گریجویشن کے بعد اوکسفورڈ یونیورسٹی میں اعلی تعلیم حاصل کی اور پھر  ایڈنبرا یونیورسٹی میں پروفیسر مقرر ہوا.  وہیں اس کی ملاقات اس دور کے مشہور فلسفی ڈیوڈ ہیوم سے ہوئی .  اگلے چند برسوں میں اس نے معاشیات اور فلسفیانہ موضوعات پر ڈیوڈ ہیوم  کے ساتھ طویل مباحثوں سے بہت سیکھا ۔ پھر وہ عالمی معیشت پر اثر انداز کیونکر ہوا ؟ سوفی نے پوچھا . بولے . اپنی دو کتابوں کے ذریعے سے .  پہلی کتاب اخلاقی فلسفے سے متعلق تھی.  نام تھا تھیوری آف مورل سنٹی منٹس.  اس کتاب سے شہرت ملی تو اسے ڈیوک آف ایڈنبرا کا اتالیق مقرر کردیا گیا . یوں پورے یورپ میں سفر کرنے اور اس دور کے عظیم دانشوروں جن میں بینجامن فرینکلن بھی شامل تھا سے ملنے اور سیکھنے کا موقع ملا . پھر اس نے معاشیات  اور فلسفے سے متعلق اپنے  افکار اور حاصل شدہ دانش کو بنیاد بنا کر  سترہ سو چھہتر میں اپنی عالمی شہرت یافتہ کتاب ویلتھ آف نیشن لکھی جو دنیا کی مؤثر ترین کتابوں میں سے ایک ہے . یہ کتاب موجودہ دور کی معاشی ترقی کی بنیاد ہے . اس میں بیان کردہ تصورات ، اصول اور وضاحتیں موجودہ معاشی نظام کو بنیادی  ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں .  کیا تھے اس کے انقلابی تصورات ؟ رمز نے پوچھا . بولے . معاشیات کا باوا آدم فری مارکیٹ اکانومی کے تصور کا بانی ہے . یعنی ایک ایسی آزاد عالمی معیشت جس میں حکومتوں کا کوئی عمل دخل نہ ہو بلکہ معاشی اصولوں کی بنیاد پر عالمی معیشت میں شامل تمام اقوام اور افراد کو آزادانہ مواقعے میسر ہوں اور وہ تجارتی اصول و ضوابط خود طے کریں.   آج کل زیادہ تر ممالک میں ملا جلا معیشتی نظام نافذ ہے یعنی کچھ حکومتی کنٹرول اور کچھ فری مارکیٹ اکونومی .  دیگر تصورات میں سے ایک ہے  پیداواری کوششوں کے حوالے سے محنت کی تقسیم کار کا اصول . یعنی اگر کسی بھی پیچیدہ پیداواری عمل کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر لیا جائے اور مختلف افراد صرف ان چھوٹے حصوں میں اپنی محنت اور صلاحیت کو مرکوز رکھیں تو یہ بات پیداواری صلاحیت اور مضبوط معیشت کے لئے فائدہ مند ہوگی،  اس طرح زیادہ پیداوار اور منافع حاصل ہو سکے گا . دوسرا تصور جو آج بھی رائج ہے وہ ہے گروس ڈومیسٹک پروڈکٹ کا اصول جسے عام طور پر صرف جی ڈی پی کہا جاتا ہے. یعنی اقوام کی دولت اس کے پاس موجود سونے اور چاندی کی مقدار نہیں وہ پیداواری اور ماہرانہ صلاحیت ہے جو وہ دنیا کو معاوضے کے عوض بہم پہنچا سکتی ہیں . وہ کہتا ہے کہ ہر فرد اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں اخلاقی اصولوں کے مطابق استعمال کرتے ہوے  خود اپنے ، خاندان اور معاشرے کے کے مفاد میں منافع بخش پیداواری مصروفیت کے ذریعے بہتر قومی معیشت میں حصے دار بن سکتا ہے . وہ معیشت کی سمت طے کرنے والے غیبی ہاتھ کا ذکر کرتا ہے.   یعنی ایسے اصول جو نظر نہیں آتے لیکن معاشی نظام پر اثر ڈالتے ہیں یعنی طلب اور رسد کا اصول . اس کے خیال میں معاشیات کا کنٹرول انہی اصولوں کے زیر اثر ہونا چاہیے حکومتوں کے نہیں . وہ سترہ سو نوے میں ایڈنبرا میں دنیا سے رخصت ہوا۔   تو پھر آج کے نوجوان معیشت دانوں کو کس چلینج کا سامنا ہے ؟ میں نے پوچھا . بولے .  یہ بنیادی سوال کہ آج کل کی اندھی منافع بخش دوڑ میں کیا  کامیابی اور ترقی اہم ہے یا اخلاقی معیارات اور منصفانہ رویہ ؟ کیا فری مارکیٹ اکانومی اب ایک عذاب بن چکی ہے کیونکہ امیر امیر تر ہو رہا ہے اور مڈل کلاس اور لوئر کلاس اپنی اپنی زندگیوں کی جدوجہد میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں؟ …… جاری ہے

سائرس دی گریٹ ، دنیا گر ، انشے سیریل ، تیسرا انشا Cyrus the great, DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 3

Posted by: Shariq Ali
retina

He conquered the city of Babylon and freed the slaves.  Declared racial equality and religious freedom. Written on baked-clay cylinder in the cuneiform script is the great story of human rights

 

 

سائرس دی گریٹ ، دنیا گر ، انشے سیریل ، تیسرا انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

اولین تہذیبوں کی بات ہو تو یونان اور روم کا ذکر آتا ہے. کیا مشرق میں کوئی عظیم تہذیب نہ تھی؟  سوفی نے پوچھا . ہم رات کے کھانے کے بعد لان کی کرسیوں پر نیم دراز گفتگو میں مصروف تھے .  پروف بولے . اولین تاریخ یونانیوں نے لکھی جو ایرانیوں کو کم تہذیب یافتہ ثابت کرنے پر مصر تھے .  پانچ سو قبل مسیح میں یونانی اور ایرانی فوجوں کے درمیان جنگوں کا پچاس سالہ سلسلہ ہے جو ایتھینز اور سپارٹا جیسی شہری ریاستوں کی مشترکہ فتح  پر ختم ہوئی تھیں. ہیروڈوٹس ان جنگوں میں  یونانیوں کو ہیرو اور ایرانیوں کو ولن بنا کرپیش کرتا ہے جو درست نہیں . یونانی تہذیب کا اثر دنیا میں پھیلا تو سائرس جو انسانی حقوق کا اولین ہیرو ہے کو غیر تہذیب یافتہ کہہ کر بھلا دیا گیا .  یہ قبائلی سردار ماہرانہ جنگی صلاحیتوں اور اس سے بھی بڑھ کر اخلاقی رویوں اور معیارات کی وجہ سے اپنی سلطنت کو دور تک پھیلانے میں کامیاب ہوا تھا .  دنیا کی پہلی تہذیب یافتہ عالمی طاقت جس کا پھیلاؤ مغربی ہندوستان سے لے کر میسو پوٹیمیا، ایتھوپیا اور موجودہ روس کی سرحدوں تک پوھونچتا تھا.  تیس سے زیادہ زبانوں اور ثقافتوں کے علاقے اس سلطنت میں شامل تھے. مرکز ایران کا شہر پسارگارڈی تھا . کیسا تھا وہ شہر ؟ میں  نے پوچھا . بولے . پسارگارڈی اس عظیم تہذیب کی نشانیاں چھپائے دو ہزار سال تک صحرا کی ریت میں مدفون رہا . آثار قدیمہ کے ماہرین نے اسے انیس سو تیس میں موجودہ ایران کے شہر شیراز کے نزدیک بازیافت کیا تو  آشکار ہونے والے  شواھد نے تاریخی نکتہ نظر کو تبدیل کر دیا . عظیم الشان ستون ، سیڑھیاں ، محرابی درودیوار اور ان پرکنداں نقش و نگار اور نوادرات.  سب سے بڑھ کر مٹی کی وہ تختیاں جن پر قدیم کیونیفارم تحریریں لکھی ہوئی ہیں . اس دور کی فکر . امور سلطنت اور قوانین جو قدیم فارس کے لوگوں  نے خود تحریر کیے تھے.  قدیم لکھاری مٹی کی بنی ان تختیوں کو اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں سمیٹ لیتا اور دائیں ہاتھ سے ان کے اوپر گیلی مٹی کی صورت ہدایات لکھتا جاتا . یہ تحریریں ڈھائی ہزار سال پرانی کہانی سناتی ہیں . بہت سی تختیوں پر ادائیگیوں کا حساب ہے جو سونے اور چاندی کی صورت میں کی جاتی تھی.  اس لحاظ سے اس شہر کی تعمیر پر بے اندازہ دولت خرچ ہوئی. بادشاہ کے محل میں کھڑکیوں کی تعمیر ایسے زاویوں سے تھی کہ سورج کی روشنی ہر طرف سے کمرے کو روشن رکھے . رات ہونے پر انہی زاویوں سے شاندار چراغاں ممکن تھا . پندرہ میٹر سے بھی اونچے چبوترے پر قائم یہ محل نما ذاتی کمرے اور اس سے ملحقہ عمارتیں ڈھائی ہزار سال پرانی تعمیراتی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں . ترتیب،  تناسب اور تفصیل کے لحاظ سے ایک شاہکار . اونچائی تک جاتی سیڑھیوں کے اردگرد دیواروں پر بنی مجسمی تصویروں سے پتہ چلتا ہے کہ دور دراز سے آئے معززین بادشاہ کے لیے قسم قسم کے تحفے دربار میں پیش کرتے تھے.  زروجواہرات،  اعلی نسل کے گھوڑے اور عمدہ نسل کی بھیڑیں.  کیوں منفرد تھی سائرس کی بادشاہت ؟ رمز نے پوچھا . بولے .  جنگ کے دوران تو اس کی فوج کا رویہ ویسا ہی ہوتا تھا جیسا کسی دوسری فوج کا.  یعنی وہ دشمن کو تباہ و برباد کردیتے تھے. لیکن فتح کے بعد سائرس کا رویہ مفتوح عوام کے ساتھ بے حد منفرد تھا.  وہ تقریر کر کے عوام کو یقین دلاتا کہ وہ انہیں دکھ اور پریشانی سے محفوظ ایک پر امن زندگی دینے کے لیے آیا ہے.  وہ کہتا اگر عوام اپنے روزگار جاری رکھیں اور وقت پر اپنا ٹیکس ادا کرتے رہیں تو پھر انہیں آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے. پھر عملی طور پر اس کی فوجیں قتل و غارت گری ، تشدد یا غلام بنا لینے سے مکمل گریز کرتی تھیں . مفتوح عوام کو اپنی زبان ، ثقافت اور مذہب برقرار رکھنے کی پوری آزادی ہوتی تھی . اس طرح وہ بہت جلد دلوں پر حکمرانی کرنے لگتا تھا.  ایک جنگ کے دوران اس نے چالیس ہزار یہودی پکڑے .  قیدیوں کو غلام بنا لینا اس دور کی عام رسم تھی.  لیکن اس نے ان یہودیوں کو نہ صرف آزاد رہنے دیا بلکہ واپس فلسطین جانے میں ان کی بھرپور مدد کی۔ یہ تفصیل معلوم کیسے ہوئی ؟ میں نے پوچھا . بولے.  بابیلون کی فتح کی تفصیلات اور انسانی حقوق کے بارے میں اس کی فکر اس زمانے کے بنے مٹی کے سلنڈر جو اب سائرس سلنڈر کہلاتے ہیں پر کیونیفارم تحریر میں درج ہیں. آثار قدیمہ کے ماہرین نے انھیں پڑھ کر اس کے طرز حکومت اور خیالات کی تفصیل معلوم کر لی ہے . مٹی پر لکھی یہ تحریریں انسانی حقوق کی پہلی دستاویز ہیں . وہ نسل، مذہب، رنگ یا زبان کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی برتری کو مسترد کرتا ہے.  سب کو مساوی حقوق دینے کا حامی ہے. وہ جلاوطن غلاموں کو وطن لوٹ جانے اور آزاد انسان کی حیثیت سے زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے . تباہ شدہ عبادت گاہوں کی دوبارہ تعمیر کرکے انہیں عقیدت مندوں کو لوٹانے کے حق میں ہے. اس نے ایرانی شہروں کے  نئے طرز تعمیر کی بنیاد رکھی.  دور تک پھیلے ہوے باغوں میں جا بجا شاندار محلاتی عمارتیں اور ان کو ملا تی ہوئی  خوبصورت گزرگاہوں کے کنارے بہتی نہریں اور حوض . سائرس پانچ سو تیس قبل مسیح میں غالباً جنگ کے دوران اس دنیا سے رخصت ہوا …….. جاری ہے

سرخ انقلاب ، دنیا گر ، انشے سیریل ، دوسرا انشا Red revolution, DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 2

Posted by: Shariq Ali
retina

The story of the rise of Marxism under Lenin and his Bolsheviks

دنیاگر واقعات ، نظریات ، شخصیات اور ایجادات پر مبنی انشے

A serial of short stories about ideas, events, personalities, and discoveries that shaped our world

سرخ انقلاب ، دنیا گر ، انشے سیریل ، دوسرا انشا ، شارق علی

ممکن ہے سولہ سال کی عمر میں اس کے والد کی وفات نہ ہوتی تو وہ خدا کے وجود سے انکار اور روایتی چرچ کے خلاف اعلان بغاوت نہ کرتا .  یا اس کا بڑا بھائی ساچا اگر زار کے خلاف باغیانہ سیاسی گروپ میں شمولیت اختیار کر کے پکڑا نہ جاتا اور حکومتی اہلکار اسے موت کے گھاٹ نہ اتار دیتے تو شاید وہ کازان یونیورسٹی سے ڈگری یافتہ پر امن وکیل ہوتا ، مارکسسٹ باغی نہیں . پروف سوفی کے پوچھے اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ سرخ انقلاب کا ہیرو کون تھا ؟  بولے.  ان ہی صدموں نے اٹھارہ سو ستر میں پیدا ہونے والے ولادیمیر لینن کو روسی انقلاب کا مرکزی کردار اور سوویت یونین کا بانی بنایا . ماں باپ تعلیم یافتہ تھے . وہ بے حدذہین طالبعلم اور شطرنج کا بہترین کھلاڑی تھا .  مشکل حالات میں بھی تعلیم جاری رکھنے والا اور سیاسی طور پر بے حد متحرک.  کارل مارکس کی تعلیمات اس کی بصیرت تھی اور یہ یقین کے کمیونزم سب سے بہتر طرز حکومت ہے  .  زمانہ طالب علمی میں ایک بار گرفتار کر کے یونیورسٹی سے نکال دیا گیا.  قید کاٹنے کے بعدرہا ہوا اور تعلیم مکمل کر کے وکیل بنا . انقلابی کوششوں کی وجہ سے پولیس مستقل اس کے پیچھے لگی رہتی تھی . وہ سینٹ پیٹرزبرگ بھاگ گیا لیکن جدوجہد جاری رکھی. آخر کار اپنا مارکسسٹ گروپ بالشویک کے نام سے منظم کر لیا . اٹھارہ سو ستانوے میں سزا کے طور پر تین سال کیلئے سائبیریا بھیج دیا گیا. سزا کاٹ کر رہائی کے بعد وہ فوری طور پر دوبارہ مارکسسٹ انقلاب کی جدوجہد میں مصروف ہو گیا . پھر خفیہ ایجنسی کی نظروں سے دور اس نے کئی برس مغربی یورپ کے ممالک میں سیاسی موضوعات پر مضامین لکھنے اور غوروفکر میں گزارے.  برسوں کی یہ فکری کوشش انقلاب کی سیاسی صورت تشکیل دینے میں کامیاب ہو گئی .  پھر عملی کامیابی کیسے ممکن ہوئی ؟ رمز نے پوچھا . بولے . انیس سو سترہ کا سرخ روسی انقلاب کسانوں اور محنت کشوں کی قربانیوں سے کامیاب ہوا . وہ زار نکولس دویم جیسے ظالم حکمران کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہوۓ . زار جسے بے پناہ اختیارات حاصل تھے . جس کے قبضے میں  فوج ، چرچ اور ملک کی زیادہ تر زرخیز زمین تھی. جب کے محنت کشوں کے لیے زندگی بے حد مشکل تھی. آمدنی قلیل ، کام کے اوقات بہت زیادہ .  بھوک، بے روزگاری اور بیماری عام تھی. امرا کا سلوک ذلت آمیز تھا .  وہ غلاموں کی سی زندگی بسر کرتے تھے . کسی قانونی تحفظ کے بغیر . پھر بالشویک انقلابییوں نے ولادیمیر لینن کی قیادت میں اس ظلم کا خاتمہ کیا اور دنیا کی پہلی کمیونسٹ حکومت قائم کی. خونی اتوار اور پہلی جنگ عظیم کا کیا کردار تھا ؟ میں نے پوچھا . بولے .  انیس سو پانچ  کی ایک اتوار کو زار کے محل کے باہر کسان اور محنت کش جمع تھے  . وہ اپنے حقوق کی پٹیشن تھامے پر امن احتجاج کر رہے تھے. زار کے حکم پر حکومتی فوجوں نے فائرنگ کرکے بہت سے بے گناہوں کو شہید کردیا اور کئی زخمی ہوے . یہ بات پورے روس میں غیض و غضب کا باعث بنی. اس دن کو خونی اتوار کا واقعہ قرار دیا گیا.  اس دن سے پہلے بہت سے عام لوگ زار  کو اپنا ہمدردسمجھتے تھے اور حکومتی اہلکاروں کو ظلم کا ذمے دار . اس دن ظالم کا چہرہ سامنے آ گیا . انقلاب کو سمت مل گئی . انیس سو چودہ میں پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہوا تو بڑی تعداد میں زبردستی محنت کشوں کو روسی فوج میں شامل کر لیا گیا . وہ غیر تربیت یافتہ تھے اور ہتھیار بھی کم .  جوتوں ، لباس اور غذا کی فراہمی ناکافی . جنگ کے دوران اگلے تین سالوں میں بیس لاکھ روسی سپاہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے.  تقریبا پچاس لاکھ زخمی یا بیمار ہو گئے۔ پورے روس میں یہ رائے زور پکڑ گئی کہ جنگ میں شامل ہونے کے غلط فیصلے کا اصل ذمہ دار زار ہے.  بہت سے سیاہی فوج سے بغاوت کرکے انقلاب میں شامل ہوگئے. پھر روسی فوج زار کے خلاف ہو گئی اور اسے اقتدار چھوڑنے پر قائل کر لیا.  زار کے بعد روس کی صورت حال ؟ رمز  نے پوچھا . بولے . زار اور اس کے تمام خاندان والوں کو تو سرخ انقلابیوں نے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتار دیا تھا . پھر باغیوں اور فوجیوں کی حمایت یافتہ مخلوط حکومت تشکیل دی گئی  جو چند مہینے ہی قائم رہ سکی . پھر بالشویک لینن کی قیادت میں کمیونسٹ نظام حکومت پر اصرار کرنے لگے . سرخ انقلابی اور ان کے مخالف سفید فوج میں تین سال خانہ جنگی جاری رہی . آخر کار  سرخ انقلابی پورے روس پر قبضے، سوویٹ یونین کے قیام اور دنیا کی پہلی کمیونسٹ حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے. زار کے سیکڑوں سالہ ظالمانہ اقتدار کو ختم کرنے والا لینن انیس سو چوبیس میں گورکی کے مقام پر دنیا سے رخصت ہوا…….جاری ہے ، ویلیوورسٹی

کتاب کا سفر ، دنیا گر ، انشے سیریل ، پہلا انشا Printing revolution, Dunyagar, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 1

Posted by: Shariq Ali
retina

A serial of short stories about ideas, events, personalities, and discoveries that shaped our world

دنیاگر واقعات ، نظریات ، شخصیات اور ایجادات پر مشتمل انشے

The story of a milestone in human history that unleashed the power of renaissance and scientific revolution

 

 

کتاب کا سفر ، دنیا گر ، انشے سیریل ، پہلا انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

ہم لائبریری کے جس گوشے میں بیٹھے تھے وہاں گفتگو ممکن تھی . سوفی ہاتھ میں تھامی کتاب لہرا کر بولی. کون جانے یہ کب پریس سے نکل کر دکان اور پھر اس لائبریری تک پوھنچی ہو .  فروخت یا تحفعتاً عام لوگوں کے ساتھ اس کی زندگی کا منفرد ، عجیب و غریب اور مہم جویانہ سفر  نجانے کن مراحل سے گزرا ہو  . کس نے اسے تھاما، کس نے چوما ، کون سرسری تعارف سے آگے نہ بڑھ سکا ہو .  کس نے مکمل پڑھا اور سمجھا اور نشان زد کیا اور سوکھے پھولوں اور نجی خطوط کا ہمراز رکھا ہو  . بک شیلف کی تنہائی یا کوفی ٹیبل پر آتے جاتے لوگوں سے مختصر شناسائ . ساری تفصیل اس کتاب کے وجود میں چھپی ہوئی ہے .  پروف بولے.  بلا شبہ کتاب ایک تاریخی دستاویز ہوتی ہے.  نہ صرف اس میں لکھی ہوئی عبارت بلکہ اس کا اپنا وجود ایک مخصوص واقعاتی تسلسل اور تاریخی دور کی نمائندگی کرتا ہے.  کیمبرج کے بعض محققین نے تو قدیم کتابوں کی ڈیجیٹل ٹریکنگ سے بے حد دلچسپ روداد مرتب کی ہے . قدیم کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں. وقت بھی بہت  لگتا اور قیمت بھی بہت زیادہ ہوجاتی تھی. صرف امیروں اور بادشاہوں کی ان تک رسائی تھی.  مزے کی بات یہ کہ اس زمانے کے لکھنے والے کتاب کے کناروں پر اکثر چھوٹی چھوٹی تصویریں بھی بناتے تھے.  ان تصویروں کی مدد سے اس دور کی زندگی کو سمجھنا آج ہمارے لئے آسان ہے. تو گویا بعض قدیم کتابیں آرٹ کا نمونہ بھی ہیں. کتابوں کا چھپنا کسی انقلاب سے کم تو نہ ہو گا ؟ رمز نے کہا . بولے . ایجاد خود انقلاب نہیں ہوتی لیکن لوگوں میں مقبول ہو جاے تو رہن سہن کو تبدیل کرکے ضرور ایسا کر سکتی ہے .  یوں تو لکڑی کے بلاک سے چھپائی کا کام چین میں نویں صدی عیسوی میں شروع ہوا .  چار سو سال بعد حرکی چھاپہ خانہ  بھی پہلے کوریا میں استعمال ہوا . لیکن اس انقلاب کا سہرا یورپ کے سر ہے .  چودہ سو پچپن میں یوہان گوٹنبرگ نے اپنے ایجاد کردہ حرکی چھاپے خانے میں پہلی بائبل چھاپی تو معلوماتی انقلاب کا آغاز ہو گیا  .  پھر کتابوں کا لکھنا،  ان کا تقسیم ہونا اور کتابوں کی مدد سے خیالات کی ترویج کا کام بے حد آسان ہو کر عام لوگوں کی دسترس میں آ گیا.  یوں یہ ایجاد یورپ میں انقلابی ترقی اور پوری دنیا میں ان کی علمی اور سیاسی برتری کا سبب بنی.  اگر ہم کسی  ایک فرد کو معلوماتی انقلاب کا ہیرو ٹہرائیں تو وہ ہو گا گوٹنبرگ . کچھ اور تفصیل؟ میں نے کہا. بولے. کتابیں روشن خیالی کا آغاز  ثابت ہویں تھیں  .  جدید سائنسی اور دیگر علوم ایک بار پھر زندہ ہوئے اور بہت تیزی سے آگے بڑھے. کیونکہ اب کتابیں عام لوگوں کی دسترس میں آ گئی تھیں . عام اور خاص خیالات پھیلنے لگے.  انسانی عقل اور علم  کے فروغ کو بڑھاوا ملا . یہ اعتماد پیدا ہوا کے انسانی عقل کائنات کو تبدیل کر سکتی ہے . صرف پچاس برس میں پورے یورپ میں پندرہ سو چھاپہ خانے کام کرنے لگے .  چالیس ہزار سے زیادہ کتابیں مختلف موضوعات پر چھاپی گئیں .  ان کی تقسیم اس قدر تیزی سے ہوئی کے یورپ میں معلوماتی انقلاب روشنی کی طرح پھیل گیا. ان پچاس برسوں میں تقریبا اسی لاکھ کتابیں عام لوگوں میں تقسیم ہوئیں . یہ انسانی عقل و خیال کے تیزی سے پھیلنے کی بہترین مثال ہے . کتابوں کی سستی اور کثرت سے موجودگی نے تعلیم کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کیا.  زیادہ سے زیادہ لوگ تعلیم حاصل کرنے لگے. یورپ کی ترقی دنیا بھر کے سامنے ایک حقیقت بن گئی اور آج بھی ہے…… جاری ہے

خواجہ سرا ، سیج ، انشے سیریل ، پچاسواں انشا Transgender, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 50

Posted by: Shariq Ali
retina

Despite the Supreme Court decision, members of sexual minority e.g. transgenders in Pakistan are still deprived of their basic human rights. Mindsets are different than decisions in court

 

 

خواجہ سرا ، سیج ، انشے سیریل ، پچاسواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

میں چوتھے سال کا طالب علم تھا اور غریب مریضوں کو مفت علاج پہنچانے کی انجمن کا پرجوش شریک. عارف سے میری ملاقات ایک ایسے سماجی کارکن کی حیثیت سے ہوئی جو اکثر غریب خواجہ سرا مریضوں کو لے کر ہمارے ہسپتال آتا اور ان کی بھرپور مدد کرتا تھا . ٹی ہاؤس میں اس وقت چہل پہل واجبی سی تھی. پروف نے گفتگو جاری رکھی .  دوستی بڑھی تو معلوم ہوا کہ جوڑیا بازار میں عارف کی دوکان ہے اور تین غیر شادی شدہ بہنوں کی ذمہ داری بھی اسی کے کندھوں پر .  اسی کے ساتھ مجھے کئی  خواجہ سراوں سے ملنے اور ان کی باتیں سننے کا موقع ملا. کوئی کہتا. لوگ ہمیں یوں دیکھتے ہیں جیسے ہم آسمان سے گرے ہوں.  ہمیں بھی تو خدا ہی نے بنایا ہے.  گھر والوں نے گھر سے نکال دیا.  بس محلے کے بچوں کے ساتھ کھیل کود کر خوش ہو جاتی ہوں. یہ احساس گلیوں بازاروں میں ساتھ چلتا ہے کہ لوگ ہمیں اچھا نہیں سمجھتے. میرا بھائی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش ہے اور میں گلیوں میں دربدر.  ہم دونوں ایک ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے. کاش میرے بھی بچے ہوسکتے. میں کام کرنا چاہتی ہوں لیکن شاید میری زندگی میں عزت کی نوکری نہیں لکھی. عارف کبھی ترنگ میں ہوتا تو کنٹین کی ٹیبل پر طبلہ بجاتے ہوئے یہ گیت گاتا ” تم نغمہ ماہ و انجم ہو تم دل کا سلگنا کیا جانو ” .  پھر ایک دن اس نے مجھے اپنی میڈیکل رپورٹ دکھائی اور میں دنگ رہ گیا،  وہ پیدائشی غیر مبہم جنسی اعضاء کی وجہ سے نہ تو مرد تھا اور نہ عورت . لیکن سماجی ذمے داریوں کے تحت اس نے مرد کا روپ دھارا ہوا تھا.  خواجہ سرا ہونے کی سائنسی بنیاد کیا ہے؟ سوفی نے پوچھا .  پروف بولے . جب ماں کے پیٹ میں بچے کی افزائش کا آغاز ہوتا ہے تو پہلے چھ ہفتے تک وہ محض فرد ہوتا ہے . مرد یا عورت کی تخصیص کے بغیر محض ایک انسان . سچ پوچھو تو یہ ہی ہماری بنیادی شناخت ہے. انسان ہونا اور اسی حیثیت میں تمام انسانی حقوق کا حقدار ہونا .  چھ یا  سات ہفتے کے بعد پیچیدہ جینیاتی اور ہارمونل اثرات کی وجہ سے جنسی اعضا مرد یا عورت کی شناخت کے لحاظ سے واضح ہونا شروع ہوتے ہیں . انسانی دماغ کی نشو و نما بھی آگے بڑھتی ہے . یوں تو دماغ کی بنیادی ساخت ایک جیسی ہی ہے لیکن عورت اور مرد کے دماغ میں مخصوص انفرادیت کی وضاحت اب ممکن ہو گئی ہے . افزائش کے اس پیچیدہ عمل کے دوران ایسا ممکن ہے کہ کسی شخص کے دماغ کی افزائش عورت کی انفرادیت لئے ہوے ہو لیکن جنسی اعضاء مرد کے ہوں .  جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ڈاکٹر سامنے نظر آنے والی شہادتوں یعنی جنسی اعضاء کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ لڑکا ہے یا لڑکی کیونکے وہ بچے کے ذہن کی ساخت کو براہ راست دیکھ نہیں سکتے. ماں باپ اسی شناخت کے تحت بچے کی پرورش کرنا شروع کر دیتے ہیں .  مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب وہ بظاہر لڑکا شعور مند ہو کر اپنی  جنسی شنا خت سے متعارف ہو تا ہے.  اسے پتا چلتا ہے کہ وہ ذہنی لحاظ سے مرد نہیں عورت ہے. پھر وہ مسلسل نفسیاتی تنازع کی ازیت سے گزرتا ہے. سماجی دباؤ کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو ایسا شخص اپنے ذہن کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے کیونکے ہماری اصل اور بنیادی شناخت تو ہمارا ذہن ہے.  کسی دوسرے شخص یا سماج کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کی بنیادی  شناخت چھین سکے. خواجہ سرا یا ٹرانسجینڈر ہمارے معاشرے میں لعن طعن اور گھٹیا رویوں کا شکار کیوں ہوتے ہیں ؟ رمز نے اداس ہو کر پوچھا . بولے .  حیاتیاتی سانحہ کو سمجھے بغیر  اپنے جیسے انسانوں پر اخلاقی بدکرداری یا بے راہ روی کا لیبل چپکا کر بنیادی انسانی حقوق کو  پامال کرنا نہ صرف جہالت ہے بلکے بے حد سنگدلانہ رویہ بھی. مرد اور عورت کی طرح تیسری جنس جس میں ٹرانسجینڈر اور انٹر سیکس دونوں شامل ہیں بالکل ہم اور آپ جیسے انسان ہیں. ان کی پرورش ، تعلیم، روزگار اور سماجی مقام مساوی ہونا چاہیے .  انھیں معاشرے میں عزت و احترام اور  وہی حقوق حاصل ہونا چاہییں جو کسی بھی مرد یا عورت کو حاصل ہوتے ہیں. کسی بھی شخص کے ذہنی اور جنسی رویوں کے حوالے سے اس کی شناخت کا احترام بے حد ضروری ہے .  جس حد تک ممکن ہو سکے ایسے افراد کو مدد اور تعاون فراہم کرنا چاہیے.  اگر آپ ایسے کسی فرد کے ماں باپ بہین یا بھائی ہیں تو خدا کے واسطے اس حقیقت اور خدا کی اس رضا کو تسلیم کیجیے . تیسری جنس ایک زندہ حقیقت ہے اور اسے تسلیم کرنا ہر فرد اور سماج کے لئے ضروری ہے . کسی کو یہ حق حاصل نہیں کے وہ خواجہ سرا افراد کو ذہنی طور پر غیر متوازن ، نفسیاتی مریض یا اخلاق باختہ قرار دے سکے—— جاری ہے

انٹرنیٹ ایک درسگاہ ، فکرانگیز انشے Internet, a colossal university, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

The Internet is the largest university available to everyone and free of charge. Lucky we are!

 

 

انٹرنیٹ ایک درسگاہ ، فکرانگیز انشے ،  شارق علی

 یہ سچ ہے کہ انٹرنیٹ دنیا کی سب سے بڑی درسگاہ ہے .  بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بہت سے بزرگوں کا خیال ہے کہ یہ نوجوانوں کے وقت کا زیاں ہے.  حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے.  یہ بات بھی غلط نہیں کہ اگر کوئی  اپنا وقت ضائع کرنے پر تُل جاے تو سوشل میڈیا پر  اس کا وافر انتظام موجود ہے . لیکن اگر آپ سنجیدہ ہیں تو یہ حصول علم کا  سب سے آسان،  سستا اور موثر ذریعہ ہے.  اردو میں ایک محاورہ ہے کم خرچ بالا نشین.  انٹرنیٹ پر حصول علم کے حوالے سے یہ بات بالکل سچ ہے.  حصول علم کے لئے انٹرنیٹ کو استعمال کرنے کے حوالے سے ہر شخص کو  بنیادی معلومات اور مہارت درکار ہوتی ہے . آج کل کے نوجوانوں کی اکثریت کھیل ہی کھیل میں پہلے ہی یہ مہارت حاصل کر چکی ہوتی ہے. کسی خاص موضوع پر اپنے مہیا وقت میں آپ مخصوص معلومات یا مہارت حاصل کرنا چاہیں تو اس کا آسان ذریعہ گوگل یا یوٹیوب ہے.  یہ بھی ممکن ہے کہ آپ باقاعدہ کوئی آن لائن کورس کرنا چاہیں . اپنے کام کی نوعیت یا اپنی دلچسپی سے جڑا ہوا کوئی کورس .  مثلا میں پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہوں لیکن میں ہارورڈ یونیورسٹی کے بنیادی فلسفے کے کورس میں دلچسپی رکھتا ہوں تو انٹرنیٹ مجھے یہ سہولت بہم پہنچا سکتا ہے.  سب سے پہلے تو مجھے رجسٹر ہونا پڑے گا اور اپنے نصاب سے آگاہی حاصل کرنا ہو گی.  وہ تمام ہدایات،  قوانین اور نظم وضبط مجھ پر لاگو ہو گا  جو اس کورس کی تکمیل کیلئے درکار ہے.   میں چاہوں تو اپنے انسٹرکٹر سے اس سلسلے میں مزید وضاحتیں اور معلومات طلب کرسکتا ہوں.  تو گویا مجھے ان کی توقعات اور اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں مکمل آگاہی ہونی چاہیے.  پھر مجھے اپنی ذاتی مصروفیت پر نگاہ کرنی ہوگی کہ وہ کونسا وقت ہے جو میں اس کورس کے لئے نکال سکتا ہوں. وہ مکمل شیڈول  اور ساری تاریخیں جو اس کورس کے حوالے سے اہم ہیں مجھے اپنی ذاتی مصروفیت میں سے ان کی گنجائش نکالنی ہوگی. اپنا کام وقت پر جمع کرانا ہوگا اور آن لائن کورس میں شریک دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ایک مہذب اور کارآمد تعلق برقرار رکھنا ہو گا.  بیشتر لوگوں کے لیے شاید اتنا وقت نکالنا ممکن نہ ہو تو وہ اس صورت میں یوٹیوب اور گوگل کو اپنے علم میں اضافہ کرنے کے لئے جب چاہیں استعمال کر سکتے ہیں. اگر آپ کسی آن لائن فورم پر مباحثے کے ذریعے سے علم حاصل کر رہے ہیں تو اس صورت میں بھی دوسروں کا احترام اور اختلافی نقطہ نظر کی صورت میں مہذب رویہ رکھنا بہت ضروری ہے . کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ اپنی رائے اور نقطہ نظر کو پیش کرنے میں بہت سا ضائع کر رہے ہیں.  صرف اس وقت شرکت کیجیے جب اس کی ضرورت ہو . غیر ضروری شرکت آپ کی اہمیت کو کم کرتی ہے.  جو کچھ بھی علم اور مہارت آپ انٹرنیٹ سے حاصل کر رہے ہیں اپنی عملی زندگی میں اس کا استعمال ضرور کیجئے.  اس سے فائدہ اٹھائے.  یقین جانیے زندگی کو بہتر بنانے میں علم حاصل کرنے سے بڑھ کر کوئی اور مؤثر طریقہ موجود نہیں.  اگر آپ اپنی ضروریات سے واقف ہیں کہ کونسا مضمون اور کون سا موضوع آپ کو عملی طور پر فائدہ پہنچا سکتا ہے اور آپ میں مستقل مزاجی موجود ہے تو پھر کامیابی آپ کا مقدر ہوگی. انٹرنیٹ پر موجود گوگل اور یو ٹیوب معلومات کا خزانہ ہیں . ایک ایسی دنیا جس تک ہمارے بزرگوں کی رسائی نہیں تھی. یاد رکھیے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے متعلق بنیادی معلومات اور مہارت حاصل کئے بغیر ہم تعلیم یافتہ کہلوانے کے حقدار نہیں.  اب آپ سے اجازت—– ویلیوورسٹی ، شارق علی

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,287 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina