retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

Kaizen بہتر سے بہتر ،فکر انگیز انشے Kaizen, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Narration by: Shariq Ali
July 15, 2018
retina

Kaizen is the Japanese term for continuous improvement in work and personal life. In this Urdu podcast, learn how it works to improve efficiency and quality

 

 

بہتر سے بہتر ،فکر انگیز انشے ، شارق علی

یہ جو زندگی میں مسلسل سیکھنے اور بہتر ہونے کا عمل ہے اس کے لیے جاپانی زبان میں ایک متبادل لفظ ہے’’کیزن‘‘۔ ۱۹۸۶ء میں مساکی ایمائی نامی جاپانی مصنف نے ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام تھا ’’کیزن… جاپانی صنعتی ترقی کا راز‘‘۔ اس کتاب میں ایسے کامیاب ثقافتی ماحول کی نشاندہی کی گئی تھی جو کسی بھی شخص کے لیے انفرادی طور پر یا کسی گروہ اور قوم کے لیے اجتماعی طور پر بہتر سے بہتر ہونے اور کامیاب ہونے کا سبب بن سکتا ہے ۔ آئیے آج اس کتاب میں بتائے گئے چند نکات سے فائدہ حاصل کریں۔ انفرادی طور پر یا کسی گروہ یا معاشرے کے لیے بہتر سے بہتر ہونا تین مرحلوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ سب سے پہلا مرحلہ ہے منصوبہ سازی، پھر اپنے ارد گرد کے لوگوں اور ساتھیوں کو اس منصوبہ سازی میں شریک کرنا.  یعنی شیرنگ آف ویژن اور تیسرا مرحلہ ہے بہتر سے بہتر ہونے کی ثقافت تشکیل دینا۔  آئیے پہلے منصوبہ سازی کے مرحلے پرذرا غور کریں . اس کے لیے ہمیں دیانت دارانہ سوچ کی ضرورت ہوتی ہے.  یعنی خود سے اور دوسروں سے بلا جھجھک سچ بولنا.  ہم آج کس مقام پر کھڑے ہیں اور ہم مستقبل میں کہاں پہنچنا چاہتے ہیں؟  وہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں کن مشکلات اور کن قربانیوں سے گزرنا پڑے گا؟  کیا ہم اپنی سوچ اور اپنے رویوں میں تبدیلی لانے پر رضا مند ہیں؟ پھر ہمیں اپنے ماضی پر بھی تنقیدی نظر ڈالنا ہو گی ۔ کیا ہم نے اپنی غلطیوں سے سیکھا ہے ؟ یا ہم وہی غلطیاں بار بار دہرانے کی عادت میں تو مبتلا نہیں ؟  اس بھرپور غور و  فکر  کے بعد ہمیں اپنی منصوبہ بندی کو قلم بند کرنا پڑے گا جسے ہم ٹرو نارتھ سٹیٹمنٹ کہتے ہیں. یا سادہ الفاظ میں بیان مقصد ۔  اگلا مرحلہ ہے اپنے ساتھیوں یا  اپنے خاندان کے دوسرے افراد کو اس منصوبہ بندی میں شامل کرنا .  ایسا کرنے کے لیے ہمیں اُن سے گفتگو کرنا ہوگی۔ ہماری گفتگو سادہ اور حقیقت پسندانہ ہونی چاہیے۔ ان کے تعاون کے لئے درخواست اور ہدایات واضح اور براہ راست ہونی چاہیئں، اُن کے اُٹھائے گئے سوالات کو توجہ سے سُن کر اُنہیں ایسا جواب مہیا کیا جانا چاہیے کہ جس سے وہ مطمئن ہوسکیں۔ گفتگو اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک وہ نہ صرف مشن اسٹیٹمنٹ پر متفق ہو جایں بلکہ اس کے حصول کی  جدوجہد اور قربانی پر بھی راضی ہوں۔  منصوبہ بندی کرلینے اور ساتھیوں کے اس ویژن میں شرکت کے بعد ہم آئندہ کا سفر شروع کرتے ہیں.  انقلابی بہتری کی توقع کے بجائے چھوٹے چھوٹے بہتر اقدامات پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھتے ہیں ۔ ہر بہتر قدم اُٹھانے پر خود اپنا  اور اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ ان چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو نظر میں رکھنے سے ہمیں طویل جدوجہد کا حوصلہ ملتا ہے۔ اگر ہم بہتری کی طرف ہم وار رویہ اختیار کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر ہمیں منزل تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔  یہ بات بہت ضروری ہے کہ اس مشن اسٹیٹمنٹ کی سمت جدوجہد میں آپ کی اپنی کوششیں دیگر ساتھیوں کو واضح طور پر نظر آئیں۔ یعنی نہ صرف آپ ہدایات دیں بلکہ اُن ہدایات پر عمل پیرا ہونے میں  سب سے آگے آگے ہوں.  آپ اپنے ارد گرد کے لوگوں کے لیے ایک دیانت دارانہ مثال بن جائیں۔  اس جدوجہد کے دوران اپنے ساتھیوں کو تجربات کرنے اور نئی سوچ اختیار کرنے کی آزادی دیجئے۔ تخلیقی سوچ کا ہونا  بہتر سے بہتر ہونے کی سب سے بنیادی شرط ہے۔ گروہ میں موجود ہر شخص کو یہ موقع دیجئے کہ وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا اظہار کرسکے۔ ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی پہلو سے دوسروں سے بہتر ہوتا ہے اور اس بات کا اظہار ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ اپنے ساتھیوں کی سب کے سامنے تعریف سے کبھی گریز نہ کیجئے لیکن سرزنش کرنا اکیلے ہی میں سب سے بہتر ہے۔  انفرادی اور اجتمائی کامیابی کی نیک تمناؤں کے ساتھ اب آپ سے اجازت

ویلیوورسٹی، شارق علی

 

کامیابی ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Success, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Success is an abstract word. We all have different meanings. What is a success for you?  Discover in this podcast

 

 

کامیابی ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

کامیابی ایک تجریدی لفظ ہے یعنی مختلف ذہنوں میں اس کا مفہوم مختلف ہوگا۔ اگر ہم  طے کرنا چاہیں کہ خود ہمارے لیے کامیابی کیا ہے تو ایسا کرنے کے لئے  ہمیں اپنی دلچسپیوں، اخلاقی اقدار اورزندگی گزارنے کے اغراض و مقاصد کی طرف نظر کرنا ہو گی  ۔ اپنے کام یا شعبے کے پس منظر میں کامیابی کا تعین کرنے کے لئے ہمیں اپنی انفرادی سوچ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ مثلاً ممکن ہے دُنیا کا اصرار یہ ہو کہ کسی شعبے میں کامیابی کا معیار ناپی جاسکنے والی قدریں مثلاً آمدنی، عہدہ یاسماجی حیثیت ہے ۔ لیکن ہو سکتا ہے ہم اپنی انفرادی سوچ کے لحاظ سے اس بات پر قائل ہوں کے پیشہ ورانہ کامیابی ہر فرد کے ذاتی اغراض و مقاصد کے حصول سے جڑی ہوتی ہے .  یعنی وہ ذاتی مقاصد جو وہ اپنے کام یا نوکری سے حاصل کرنا چاہتا ہے . تو گویا کامیابی کے روایتی تصور اور انفرادی تصور میں فرق موجود ہے۔  ہمیں اپنی انفرادی سوچ کو روایتی کامیابی کے تصور پر ہر گز قربان نہیں کرنا چاہیے۔ ہوسکتا ہے ہمارے لئے ماہرانہ ساکھ، ساتھی کارکنوں سے ذاتی تعلق اور سماج کے لیے کار آمد ہونے کا احساس آمدنی اور عہدے سے زیادہ اہم اور تسکین کا باعث ہو۔ گویا کامیابی کے تعین کے لیے سب پر لاگو کسی فارمولے کے بجائے انفرادی  تصور کو تلاش کرنا زیادہ درست راستہ ہے .  انفرادی کامیابی کے تصور کی وضاحت میں سب سے پہلے تو اس بات کا  جاننا ضروری ہے  کہ ہماری صلاحیت، ہنر مندی اور اہلیت کیا ہے؟زندگی میں ہماری ترجیحات کیا ہیں ؟  ہمارا جذب اور عشق جسسے انگریزی میں پیشن کہا جاتا ہے، کیا ہے .  پھر اس  جذب کی سمت بڑھنے کے لئے ہماری منصوبہ بندی کیا ہے؟. ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کے جو کام ہم کرتے ہیں کیا وہ ہمیں تسکین فراہم کرتا ہے؟  کہیں ایسا تو نہیں کے ہم  کسی ایسے شعبے میں کامیاب ہونے کی کوشش میں ہیں جس سے ہمیں  کوئی دلچسپی نہیں ؟  اگر ایسا ہے تو ہم اس صورتِ حال میں کیوں ہیں؟ کیا ہم خوفزدہ ہیں؟ کیا جو کچھ ہم کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ہمیں مزید تعلیم یا تربیت درکار ہے اور ہم  اس جدوجہد سے ہچکچا رہے ہیں؟  خوف سے باہر آنا اور جدوجہد کا راستہ اپنانا ہی اس مسلے کا حل ہے ۔ وہ سمت اختیارکرنا جو ہمیں اپنی منزل تک پوھنچا سکے ۔ یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ دُنیا میں سب سے زیادہ خوش وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اغراض و مقاصد، اپنی آرزوئوں اور اپنے جذب کا تعین ذاتی سوچ بچار سے کیا ہے۔  اور جو اس طے شدہ منزل کی جانب بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ پیش رفت کرتے ہیں ۔ کاپی پنسل لے کر بیٹھ جائیے اور اپنی منزل اور اپنے جذب کی نشاندہی کیجئے۔ اس کی سمت آگے بڑھنے کے لیے حکمتِ عملی تیار کیجئے۔ اہداف متعین کیجئے۔ کامیابی کے روایتی تصور کو جھٹک دیجئے۔ اپنی کامیابی کا خاکہ خود اپنے ذہن سے تشکیل دیجئے۔ زندگی ایک مسلسل سفر ہے اور اس سفر کی سمت اگر ہم نے خود متعین کی ہے اور ہم اپنی صلاحیتوں کو ، اپنے وقت کو  بھرپور طور پر کام میں لاتے ہیں اور قدم بہ قدم آگے بڑھتے ہیں تو پھر ہم کامیاب ہیں۔ اگر ہماری سوچ اور طرز عمل میں روز بروز بہتری ہے۔ تو ہم کامیاب ہیں۔  اگر ہم کسی ایسے خاندان کا حصہ ہیں کہ جس میں محبت ہے، احترام ہے تو ہم کامیاب ہیں۔ میری نظر میں رشتوں کی آبیاری اور محبت سے بڑھ کر کوئی اور انسانی کامیابی ممکن نہیں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم بہتر روزگار اور خوشحالی حاصل کرسکیں۔ تو گویا جو کام بھی ہم کررہے ہیں ہم اس سے اس بنیاد پر محبت کرسکتے ہیں کہ وہ ہمیں رشتوں کی آبیاری اور محبت کے قابل بنا رہا ہے۔ اگر کامیابی ایک انفرادی تصور ہے۔ تو پھر ہمیں دوسروں سے موازنہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اپنے ذاتی اطمینان اور خوشی کو معیار بنا کر خود کو کامیاب محسوس کرنا ہے۔ ان چند گذارشات کے بعد آپ سے اجازت چاہوں گا۔ اپنا خیال رکھیے گا

شارق علی ، ویلیو ورسٹی

جھگڑے کا حل ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Conflict resolution, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

In many conflict situations, it is not the issue but relationship that is more important for a happy outcome. Here are few suggestions

 

 

جھگڑے کا حل ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

اگر آپ کسی ایسی صورت حال سے دوچار ہیں جسے اختلافِ رائے، تنازعہ یا عام الفاظ میں جھگڑا کہا جا سکتا ہے تو اس کا انجام دو صورتوں میں ممکن ہے۔ مثبت نتیجہ   تو یہ ہو گا کہ مناسب اور منصفانہ حل کے بعد مقابل سے آپ کا تعلق مزید مستحکم ہوجائے۔ منفی نتیجے کی صورت میں یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اس تعلق سے ہاتھ دھو بیٹھیں یا کسی نہ کسی صورت فریقین کو نقصان پہنچے۔ اگر مقابل آپ کے لیے جذباتی یا سماجی طور پر اہم ہے تو یقینا آپ چاہیں گے کہ نتیجہ مثبت نکلے۔ ایسا ہونے میں جو چیز سب سے زیادہ اہم ہے وہ ہے آپ کا رویہ.  اس موضوع کے حوالے سے میری چند تجاویز کچھ یوں ہیں ۔ پہلی بات تو یہ کہ ایسے کسی لمحے میں اگر آپ اشتعال میں آ کر کچھ کرنے والے ہیں تو فوری طور پر رک جائیے. اسے انگریزی میں کہیں گے گٹ گراونڈڈ  ۔ مراد یہ ہے کہ ایک سیکنڈ کو رُک کر تحمل سے سوچئے اور اضطراری اور فوری ردعمل سے گریز کیجئے۔ ایسے میں گہری سانسیں لینا مدرگار ثابت ہو سکتا ہے . تحمل کے اس لمحے میں ممکن ہے آپ یہ جان سکیں کہ آپ کا یہ غصہ شاید تھکاوٹ، بھوک یا نیند کی کمی کی وجہ سے ہے جو  بڑھ کر جذباتی تناو کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ اضطراری حرکت سے رکنے کے بعد ذہنی طور پر ذرا فاصلے سے  اسی صورت حال کا دوبارہ سے مشاہدہ کریں.  یعنی ذہنی ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر فضا میں بلند ہوجائیں۔ اور فضا سے اس زمینی صورت حال کا دوبارہ جائزہ لیں  ۔ سب سے پہلے تو مقابل کی سمت دیکھ کر یہ سوچیں کہ وہ شخص جذباتی یا سماجی طور پر آپ کے لیے کتنا اہم ہے.  پھر جھگڑے کو غیر جانبدار ذہنی کیفیت سے سمجھنے کی کوشش کریں۔ یعنی فریق بن کر نہیں بلکہ ایمپائر بن کر مسئلے کی تہ تک پوھنچھیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کے غصے کا مخاطب غلط شخص ہے۔  ہوسکتا ہے وہ صرف پیغام رسانی کررہا ہو اور آپ کے غصے کا صحیح حق دار نہ ہو۔ کشیدہ  صورت حال میں زبان اور بدن دونوں بولیاں اہم ہوتی ہیں . منہ سے نکلے الفاظ کے ساتھ  آپ کے چہرے کے تاثرات، ہاتھوں کی جنبش۔ غرض یہ کہ بدن کے ذریعے سے جتنے بھی پیغامات مخاطب تک پہنچتے ہیں ، وہ اپنا منفی یا مثبت اثر رکھتے ہیں . آپ کا  رویہ یعنی جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں  اور کررہے ہیں اس تنازعے کا آخری نتیجہ مرتب کرے گا۔  یاد رکھیے کسی بھی قسم کی گالم گلوچ ، یا ہاتھا پائی نہ صرف یہ کے ناقابل قبول ہے  بلکہ کرنے والے کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہے ۔ سامنے والے کی کردار کشی ، سخت الفاظ میں تنقید یا حقارت آمیز رویہ  بالکل اختیار نہ کریں۔  اس کے بجائے اگر آپ مخالف کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوجائیں کہ آپ اس کا نقطۂ نظر سمجھتے ہیں اور اس کا احترام بھی کرتے ہیں تو وہ بھی آپ کا نقطہ نظر سمجھنے کے لیے آمادہ ہوگا اور یہ سمجھنا سمجھانا ہی تنازعے کے حل کی طرف جاتا ہوا کامیاب راستہ ہے۔ اگر آپ طیش میں کی گئی باتوں کی ذمہ داری کھلے دل سے قبول کرلیں تو اس بات کا امکان ہے کہ سامنے والا بھی ایسا ہی کرے۔  پھر آپ ایک بہتر فضامیں اپنا نقطہ نظر پیش کرسکتے ہیں۔  منفی جذبات کا اظہار بھی اگر مہذب اور سیدھے سادھے  انداز میں کیا جائے تو وہ طنز یا غصے کے اظہار مثلاً دروازے کو زور سے بند کرنے سے کہیں بہتر ہے۔  یاد رکھیے آپ دوسروں پر قابو نہیں پاسکتے۔ آپ کے لیے واحد اور بہتر راستہ یہ ہے کہ آپ خود پر قابو پائیں اور پھر اپنے نقطۂ نظر پر سامنے والے کو قائل کرنے  کے لیے دلیل دیں اور مقابل کا نقطۂ نظر سُن کر گنجائش فراہم کرنے کے لیے تیار رہیں ۔کسی جھگڑے کا حل یقینا اہم ہوتا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات  یہ ہے کہ مقابل ایک دوسرے کو سچے دل سے معاف کرسکیں۔ نیلسن منڈیلا نے ایک دفعہ کہا تھا ۔’’ اپنے دل میں بغض رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم زہر کھائیں اور یہ اُمید رکھیں کہ ہمارا دشمن موت سے ہمکنار ہوگا۔‘‘ اکثر صورت حال میں مسئلہ اہم نہیں ہوتا۔ بلکہ دو مقابل افراد کے درمیان رشتہ اہم ہوتا ہے اور اس کے برقرار رہنے پر دونوں کی خوشیوں کا دارومدار ہوتا ہے۔ اسی لیے صرف مسئلے پر مرکوز رہنے کے بجائے دور رس نتائج پر اپنی نظریں جماے رکھنی چاہییں۔ شاید یہ آپ کا تجربہ بھی ہو۔ کہ بعض اوقات کمپیوٹر درست کام نہ کرے تو اسے ری سٹارٹ کرنے سے چھوٹے چھوٹے مسائل خود بخود حل ہوجاتے ہیں۔  بالکل اسی طرح گھریلو تنازعے کی صورت میں کچھ دیر کے لیے الگ الگ ہوجانا اور مناسب ذہنی کیفیت بحال ہونے تک کسی مسئلے کے حل پر گفتگو کو ملتوی کر دینا بہت سے مسائل سے بچا سکتا ہے۔  طیش کی کیفیت سے باہر آجانے کے بعد  رابطے کی کوشش میں پہل کرنا انتہائی سمجھ داری کی بات ہے۔ ممکن ہے یہ چند تجاویز آپ کے لیے کارآمد ثابت ہوں ۔ اب آپ سے اجازت۔ اپنی خوشیوں سے جڑے رشتوں کا خیال رکھیے!

شارق علی ، ویلیو ورسٹی

Ahteram احترام ، فکر انگیز انشے ، شارق علی Respect, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

How to achieve self and mutual respect? Here are few suggestions

 

 

احترام ، فکر انگیز انشے ، شارق علی

 خود اپنا احترام اور اس دُنیا میں بسنے والے دیگر تمام انسانوں کا احترام ایک اہم موضو ع ہے ۔ آئیے اس پر ذرا غور کریں . سادہ لفظوں میں احترام سے مراد ہے وہ قدر و قیمت اور اہمیت جو خود ہم اپنے آپ کو یا دوسروں کو دیتے ہیں۔ اس کا تعلق بہت سی باتوں سے  ہے۔ مثلاً ہم اُن لوگوں کا احترام کرتے ہیں جو ہمارے خیال میں زندگی میں کامیاب ہیں، اپنی زندگی بہتر انداز میں گزار رہے ہیں یا وہ ہمارے ساتھ خوش سلوکی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ دیانت دار ہیں اور خوش مزاجی کو مسلسل قائم رکھتے ہیں ۔ گویا احترام ایک مثبت جذبہ ہے جس کی بنیاد اچھے روئیے اور  بہتر اقدامات پر ہے ۔ یہ بات سمجھنا اہم ہے کے باہمی احترام کا سفر خود احترامی سے شروع ہوتا ہے. اور اس جانب پہلا قدم ہے خود شناسی.  اگر ہماری زندگی اچھے اصولوں پر کاربند ہے تو خود احترامی کا موجود ہونا قدرتی بات ہے ۔ آئیے ایسے چند اُصولوں پر نگاہ ڈالیں.  سب سے پہلا اُصول ہے دیانت داری۔ اگر ہم خود کے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ دیانت دار ہیں۔ تو یقینا ہم احترام کے حق دار ہیں۔  پھر ہم سمیت وہ تمام لوگ جو صاحبِ علم ہیں قابل احترام ہیں۔  دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ صاف ستھرے ہوں، صحت مند ہوں، اپنی غذا کا خیال رکھیں، باقاعدگی سے ورزش کرتے ہوں وہ نہ صرف اپنا بلکہ دوسروں کا بھی احترام کرتے ہیں ۔ اگر ہم مالی اعتبار سے کسی کے محتاج نہیں تو ہمیں سماج میں  احترام حاصل ہوگا۔ اگر ہم دوسروں کا نقطۂ نظر سُن سکتے ہیں، اُسے برداشت کرسکتے ہیں، ان کے مذہبی عقائد کو ان کا حق سمجھتے ہیں تو یقینا وہ بھی ہمارا احترام کریں گے۔ ہماری طرز نشست و برخاست ، ہمارا رویہ، ہمارے لین دین کا طریقہ اور روز مرہ زندگی گزارنے کا انداز اس بات کا فیصلہ کرتاہے کہ لوگ ہمارا احترام کریں یا نہ کریں۔  اگر ہم اندر سے اچھا محسوس کرتے ہیں تو یہ بات خود بخود ہمارے رویے میں جھلکے گی  اور ہم دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے ۔ اس سے ہمارے احترام میں اضافہ ہوگا۔ وہ لوگ جو اپنے رویے کی ذمہ داری کو قبول کرتے ہیں اور الزام تراشی اختیار نہیں کرتے نہ ہی اپنی کمزوریوں کے لیے تاویلیں پیش کرتے ہیں۔ کسی غلطی کی صورت میں  معذرت کرنے سے جھجکتے نہیں بلکہ کھلے دل سے اپنی ذمہ داری کو قبول کرتے ہیں۔ تو یہ بات بھی انھیں محترم بناتی ہے۔  اگر ہم مثبت رویہ رکھنے والوں کے درمیان زندگی گزاریں اور منفی رویہ رکھنے والوں سے دور رہیں تو ہم اپنے احترام میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ وہ لوگ جو زندگی گزارنے کے لئے واضح مقصد اور منصوبہ بندی رکھتے ہیں۔ اور جن کے عملی اقدامات کسی ایک خاص سمت میںآگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ اُن کے ارد گردکے لوگ خود بخود اُن کا احترام کرنے لگتے ہیں اور وہ ترقی بھی زیادہ کرتے ہیں ۔  آئیے دیکھیں کہ دوسروں کا احترام کیسے کیا جاسکتا ہے ۔ پہلے تو یہ کہ ہم  دوسروںکی بات سُننا سیکھیں ، اُن کے نقطہ نظر کو کھلے دل سے قبول کرنا سیکھیں ۔ اختلافِ رائے کی صورت میں چراغ پا ہونے کے بجائے تحمل اور برداشت کا رویہ اختیار کریں تو گویا ہم دوسروںکا احترام کرتے ہیں۔  یہ قدرتی بات ہے کہ ہم اپنے ارد گرد کے  لوگوں میں سے بعض کا احترام زیادہ کریں گے اور بعض کا کم۔  لیکن ہمیں مہذب رویے میں برابری اختیار کرنا چاہیے.  یعنی ہر شخص محض ایک فردہونے کے ناطے اہمیت اور عزت رکھتا ہے۔  آخری بات یہ کہ  احترام انسانی جذبوں میں ایک مقدس جذبہ ہے لیکن یہ ہمیں خود بخود حاصل نہیں ہوتا بلکہ ہمیں اپنی دیانت داری اور اپنے طرزِ عمل سے اسے حاصل کرنا ہوتا ہے۔  اب آپ سے اجازت .  اپنی صحت، خاندان اور خوشیوں کا خیال رکھیے

شارق علی ، ویلیوورسٹی

دلچسپ گفتگو ، فکر انگیز انشے Oration, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Getting involved in an interesting and effective conversation is an art.  Whatever is the purpose i.e. to inform, to persuade or to entertain, the following suggestions might be useful

 

 

فیصلہ سازی ، فکر انگیز انشے Decision making, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

Our decisions shape our lives.  A belief or a course of action among several alternative possibilities is not easy. This podcast gives you few suggestions for effective decision making

 

 

فیصلہ سازی ، فکر انگیز انشے ، ویلیوورسٹی، شارق علی

 ہماری زندگی چھوٹے بڑے فیصلوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ چاہے وہ شعوری طور پر کیے گئے ہوں یا لاشعوری طور پر۔ ان فیصلوں کے نتائج ہماری  زندگی کے خدوخال تشکیل دیتے ہیں ۔ آئیے فیصلہ سازی کے اہم موضوع پر ذرا غور کریں .  پہلی بات تو یہ کہ اگر کسی فیصلہ سے پہلے آپ تذبذب کا شکار ہیں تو اس خوف کو سمجھنے کی کوشش کیجئے جس نے لاشعوری طور پر آپ کو بے چین کر رکھا ہے۔ ایسے تمام خوف ایک کاغذ پر لکھ لیجئے۔ پھر اس فیصلے کے نتیجے میں خطرناک ترین نتائج کو شعوری طور پر اپنے سامنے لے آئیے اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیے اور یہ بھی کہ ایسے نتائج کے کتنے فیصد امکانات ہیں. خود سے  سوال کیجیے  کہ اگر  آپ نے یہ  فیصلہ کرلیا تو کیا یہ مستقل ہوگا یا اس میں تبدیلی کی گنجائش موجود ہے؟  کسی بھی فیصلے سے پہلے متعلقہ معلومات حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔ اسی لیے اگر گنجائش موجود ہو تو فوری فیصلے سے پر ہیز کرنا چاہیے تاکہ آ پ اس فیصلے سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرسکیں اور اچھے اور برے دونوں پہلوئوں پر غور کرچکے ہوں۔ آپ کے علم میں یہ بات بھی ہو کہ کون کونسے دیگر متبادل موجود ہیں۔ کچھ  لوگ  اپنے تمام متبادل کاغذ پر لکھ کر  ہر متبادل کے سامنے فائدے اور نقصانات کے کالم میں امکانی طور پر حاصل شدہ نمبروں کو درج کرلیتے ہیں تاکہ  سب سے بہتر متبادل کا انتخاب کیا جا سکے ۔ کسی بھی فیصلےسے پہلے توقف اور سوچ و بچار اضطراری طور پر فیصلہ کرنے سے بہت بہتر ہے . ایک مخلص دوست کی طرح خود اپنے آپ کو مشورہ دینا اور اس پر عمل درآمد کرنا بے حد کار آمد ہوتا ہے۔ یاد رکھیے  فیصلہ تو حال میں کیا جاتا ہے لیکن اس کے نتائج کے حوالے سے مستقبل پر نظر رکھنا ضروری ہے . ہر اہم فیصلے کا بیک اپ پلان ہونا بھی بہت  اہم ہے۔ یعنی اگر یہ فیصلہ ہمارے لیے مثبت ثابت نہیں ہوا تو اس صورت حال میں ہم کیا عملی اقدام اُٹھائیں گے۔ ضروری ہے کہ آپ فکری طور پر واضح ہوں کہ آپ یہ فیصلہ کیوں کررہے ہیں  اور اس کے مثبت پہلو کیا ہوں گے؟  بعض اوقات فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات ہمارے خاندان، ہمارے دوستوں اور ہوسکتا ہے معاشرے پر بھی پڑیں۔ ایسے فیصلے سے پہلے یہ جاننا اہم ہے۔ کہ ہماری ذاتی اقدار کیا ہیں اور کیا وہ دوسرے شخص یا گروہ کی  اقدار سے متصادم تو نہیں؟ کیا آپ کے کیے گئے اس فیصلے سے دوسرے لوگوں پر منفی یا مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟ درست بات یہ ہوگی کہ آپ اپنے ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی مفاد کو زیادہ اہمیت دیں ۔ ذاتی سوچ بچار کے بعد  اس فیصلے سے متعلق اپنے پرخلوص دوستوں یا اپنے خاندان کے افراد سے اظہارِ خیال کیجئے اور ان کی رائے لیجئے۔ کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ  آپ کو جذباتی طور پر معتدل مشورہ دے سکیں۔ ہوسکتا ہے کہ ایسی ہی صورت حال میں ان کا  تجربہ آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔  جب آپ یہ ساری  سوچ و بچار کرچکے ہیں تو اب فیصلہ کرنے کا وقت ہے۔ اس مرحلے پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ ذہنی طور پر اور جذباتی طور پر پرسکون رہیں، مثبت طرزِ فکر اختیار کریں اور منفی خدشات سے پرہیز کریں۔ ایک پرسکون اور غیر جذباتی ذہنی کیفیت آپ کو درست فیصلے کی طرف لے جائے گی۔ آپ کے لئے بہتر فیصلہ سازی کی نیک تمناؤں کے ساتھ اب آپ سے اجازت۔—- ویلیوورسٹی ،  شارق علی

 

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

16,677 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina