retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

اردو کا محبتی ، سامراج ، انشے سیریل ، نواں انشا John Gilchrist, the linguist IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 9TH EPISODE

Narration by: Shariq Ali
February 20, 2019
retina

John Gilchrist and Fort William College will always be remembered in the history of Urdu language for making Urdu the lingua franca of most widely distributed regions of India and Pakistan

 

اردو کا محبتی ، سامراج ، انشے سیریل ، نواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

ہال بھر چکا تھا . اردو زبان پر پروفیسر آغا کا لیکچر شروع ہوا. کہنے لگے .  سترہ سو انسٹھ میں سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا میں پیدا ہونے والا اور وہیں تعلیم پانے والا جان گلکرایسٹ بچپن ہی سے زبان و ثقافت میں دلچسپی رکھتا تھا.  سولہ سال کی عمر میں اس نے ویسٹ انڈیز کا سفر کیا تو اس دلچسپی کو مشاہدے کی گہرائی ملی . وہ نائب سرجن کی حیثیت سے ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازم ہو کر بمبئی پوھنچا . نوکری کے سلسلے میں جب اسے پیدل سفرکر کے فتح گڑھ جانا پڑا تو راستے میں وہ مشرقی ہندوستان کے مختلف شہروں سے ہو کرگزرا. اسے خاص طور پر اتر پردیش کے دیہی علاقوں کی زبان  اور  ثقافت کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا تفصیلی موقع ملا . ایسٹ انڈیا کمپنی میں نوکری سے پہلے اسے بتایا گیا تھا کہ ہندوستان کی زبان فارسی ہے.  مشاہدے نے اس بات کی تردید کی. اس نے دیکھا کہ زیادہ تر عام لوگ نہ تو فارسی جانتے ہیں نہ ہی عربی یا سنسکرت. بلکہ وہ مقامی  زبان یعنی کھڑی بولی اور برج بھاشا کے بنیادی الفاظ اور صرف و نحو کے اصولوں کی مستحکم بنیاد میں کہیں فارسی ، عربی ، ترکی یا سنسکرت کے الفاظ شامل کر کے رابطے کی صورت نکال لیتے ہیں.  کھڑی بولی دہلی کے مضافات اور یو پی کے بہت بڑے علاقےمیں بولی جاتی تھی جیسے گڑگاؤں،  فریدآباد،  بلندشہر،  پانی پت ، میرٹھ وغیرہ.  جو دوسری زبان بہت مقبول تھی وہ تھی برج پھاشا.  یہ دونوں ہی موجودہ ہندوستانی یعنی اردو اور ہندی کو بنیاد فراہم کرتی ہیں . جان نے عام بول چال کو ہندوستانی زبان کے طور پر شناخت کیا .  گویا صرف و نحو اوربنیادی الفاظ  کھڑی بولی کے اور اگر فارسی ، عربی ، ترکی الفاظ کی آمیزش تو اردو اور سنسکرت کی آمیزش تو ہندی .  اس نے ہندوستانی زبان کے ان دو مختلف دھاروں کی شناخت کی . زبان و ثقافت پر مزید تحقیق کے لئے اس نے پہلے تو ایک سال کی چھٹی لی . پھر یہ ایک سالہ تحقیق کھنچ کر چودہ سال تک پھیل گئی . برسوں کے مشاہدے کے نتیجے میں اس نے پہلی ہندوستانی انگریزی ڈکشنری مرتب کر لی اور پہلی بار ہندوستانی زبان کی گرامر کو کتاب کی صورت میں مرتب کیا.  اس زمانے کے وائسرائے  نے گل کرائسٹ کی ان کوششوں کو بے حد سراہا اور سرکاری طور پر اس کی ڈکشنری چالیس روپے فی کاپی جیسی بڑی رقم کے حساب سے خرید لی تاکہ  نۓ انگریز افسروں کو مقامی زبان سکھائی جا سکے  . چاے کا وقفہ ہوا تو سوفی اور رمز بھی  مرے ساتھ آ بیٹھے . پھر مہمان مقرر پروفیسر دانی نے اپنا مقالہ شروع کیا . بولے . سن اٹھارہ سو میں کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج کا قیام ایک ایسی درسگاہ کے طور پر ہوا جس میں انگلستان سے آے ہوے برطانوی افسران کو ہندوستان میں مختلف علاقوں میں پوسٹنگ سے پہلے مقامی زبان و ثقافت سے متعلق تعلیم دی جاتی تھی .جان گلکرایسٹ ہندوستانی زبان کے شعبے کا سربراہ مقرر ہوا اور اسے پندرہ سو روپے ماہوار کی خطیر رقم ملنے لگی . اس نے اس رقم کو ذاتی طور پر استعمال کرنے  کے بجاے دہلی اور یو پی کے دیگر علاقوں سے میر امّن اور دیگر ہندوستانی مصنفین کو نوکریاں دے کر کلکتہ بلوا لیا . جلد ہی تقریبا دو درجن کے قریب ہندوستانی مصنفین نے جو منشی کہلاتے تھے جان کی سربراہی میں فورٹ ولیم کالج میں ہندوستانی زبان کے دو دھاروں یعنی اردو اور ہندی نثر  کے فروغ کے لیے بھرپور کام شروع کر دیا.  پہلے اردو نثر کے لکھنے والوں میں مقفح و مسجع یعنی سجاوٹ کے نام پر مشکل الفاظ کا محض قابلیت جھاڑنے کے لئے بے جا استعمال کا طریقہ مقبول تھا . لیکن جان کی سربراہی میں فورٹ ولیم  کے مصنفین نے سادہ اور آسانی سے سمجھ میں آ جانے والی زبان میں ترجمے اور طبع زاد کتابیں لکھیں . یہیں بیٹھ کر میر امّن دہلوی نے فارسی کے قصّہ چہار درویش کا باغ و بہار جیسا سلیس اردو ترجمہ کیا.  اس سے پہلے یہ ترجمہ ایک اور مصنف نے اودھ کے نواب کے لئے مقفع و مسجع زبان میں تصنیف کیا تھا جس کا نام تھا نوطرزمرصع.  گویا جان گلکرایسٹ اور فورٹ ولیم کالج اردو نثر میں سہل نگاری کے حوالے سے یاد رکھے جاینگے .  پھر اردو نے سادہ اور دلنشیں انداز کی وجہ سے بیشتر ہندوستان میں مقبولیت حاصل کی اور رابطے کی سب سے بڑی زبان بن گئی .  مزے کی بات یہ کہ اس دور کے چالیس پچاس سال بعد غالب جن کا فورٹ ولیم کالج سے دور کا بھی تعلق  نہ تھا اپنے خطوط میں ایسی سادہ نثر استعمال کرتے ہیں کہ جس کی نظیر نہیں ملتی . گویا اردو زبان کا  سہل نگاری کی طرف آنا اس کا مقدر تھا . بلا شبہ غالب کے خطوط اردو کی سادہ اسلوب نگاری کے نیۓ دور کا آغاز ہیں  —– جاری ہے

سرنگا پٹم کا شیر ، سامراج ، انشے سیریل ، آٹھواں انشا Tipu Sultan, IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 8TH EPISODE

Posted by: Shariq Ali
retina

The Tiger of Mysore, Tipu resisted the East India Company’s conquest of southern India. He will be remembered as the freedom fighter against British imperialism

 

 

سرنگا پٹم کا شیر ، سامراج ، انشے سیریل ، آٹھواں انشا، شارق علی ، ویلیوورسٹی

اپنے جرنیل کی شہادت کی جھوٹی خبر سن کر ٹیپو مٹھی بھر محافظوں سمیت قلعے سے باہر نکل آیا اور انگریزوں پرخود فائرنگ شروع کر دی.  پھر دست بدست جنگ میں تلوار کے وار سے کئی دشمن سپاہیوں کو جہنم رسید کیا . غداروں  نے منصوبے کے مطابق قلعے کا دروازہ بند کر دیا تاکے وہ  دوبارہ قلعے میں داخل نہ ہو سکے میر صادق پہلے ہی شہر کی فصیل میں شگاف ڈلوا کر اور تنخواہ کی تقسیم کے بہانے حفاظتی دستوں کو شگاف سے ہٹا کر انگریزوں کو  شہر میں داخل کروا چکا تھا . نیند مجھ سے بہت دور تھی اور ٹیپو کی زندگی کی ویڈیو کے مناظر آنکھوں کے سامنے تھے.   شکست قریب دیکھ کر ٹیپو کے ایک محافظ نے کہا . سلطان دشمنوں کو بتا دیجیے کے آپ کون ہیں وہ آپ کو با عزت قید کر لیں گے . ٹیپو کا جواب آج بھی ایک تاریخی للکار ہے ، شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے .  اس کا جسم پے در پے گولیوں سے زخمی ہوا تو وہ گر پڑا . ایک لالچی انگریز ہیروں جڑی کمر کی پیٹی اتارنے آگے بڑھا تو ٹیپو نے تلوار کے کاری وار سے اس کی ٹانگ جسم سے علحدہ کر دی . پھر اسے بے حد قریب سے سر میں گولی ماری گئی اور وہ شہید ہو گیا . سترہ سو ستاون میں پلاسی کی جنگ جیتنے کے بعد برطانوی سامراج کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ سرنگا پٹم  کے شیر ٹیپو کی لاش کو  دیکھ کر  سترہ سو ننانوے میں انگریز اہلکار نے کہا تھا  اب ہمیں ہندوستان پر قبضے سے کوئی نہیں روک سکتا .  میں نے کروٹ بدلی لیکن پھر وہی خیالوں کا تسلسل  . میسور کے باغی سپاہ سالار حیدر علی کا بہادر بیٹا ٹیپو جس نے دس سال کی عمر میں اونچے میناری قید خانے کی سلاخیں کاٹ کر چھوٹے بھائی کو کاندھے پر لادے رسیوں سے نیچے اتر کر اور حمایتیوں کے دیوالی کے رنگوں میں دونوں بچوں کو رنگ دینے  اور شیر کا ماسک پہنے فرار ہو کر باپ سے جا ملنے کا کارنامہ انجام دیا تھا .  اس فرار کے ایک سال بعد حیدر علی میسور کا حکمران بن گیا تھا. رات بھر بے چین رہا اور مشکل سے نیند آئ . صبح یونیورسٹی کے کوریڈور میں پروف کو بے خوابی کا احوال سنایا تو بولے . میسور ان دنوں ایک بڑی ریاست تھی جسے مصالحہ جات کی پیداوار اور کپڑے کی صنعت نے بے حد دولت مند بنا دیا تھا.  یہاں شہریوں کی آمدنی ہندوستان کے دوسرے علاقوں سے پانچ گناہ زیادہ تھی. تین طرف دشمن تھے یعنی انگریز ، نظام دکن اور مرہٹے  اور چوتھی سمت سمندر . انگریز سے میسور کی مسلسل جنگوں کا سلسلہ تیس سال تک جاری رہا . حیدر علی ایسی ہی ایک جنگ میں شہید ہوا تو سترہ سو بیاسی میں ٹیپو تخت پر بیٹھا.  اس کی زندگی بھی مسلسل جنگ میں گزری . صلح کے معا ہدے بھی ہوے لیکن دشمنوں کی نظر ریاست کی دولت پر تھی. ایسے میں ٹیپو نے ایک بڑی جنگی غلطی کی . ایک جنگ میں انگریزوں پر فیصلہ کن جیت کے بعد ٹیپو  نے ان کا مدراس تک پیچھا کر کے مکمل صفایا نہ کیا بلکے انھیں فرار ہونے دیا . اگر وہ مدراس فتح کر لیتا تو  آج ہندوستان کی تاریخ کچھ اور ہوتی. انگریز ٹیپو سے خوفزدہ تھے . انہوں  نے نظام دکن ، مرہٹوں اور اندرونی غداروں کو اپنے ساتھ ملایا.  ان دنوں ہندوستان کسی نظریاتی وحدت سے عاری تھا. غداروں کے لئے وفاداریاں تبدیل کر لینا اور نئی ریاستوں کا قیام عام سی بات تھی . ٹیپو ایک بہادر جرنیل تھا لیکن وہ درباریوں کو خوش کرنا نہ جانتا تھا. اس کی اولاد میں کوئی قابل جانشین بھی نہیں تھا.  ریاست کے مستقبل کی بے یقینی نے میر صادق جیسے کئی غدّار پیدا کیے . کامن روم میں سوفی بھی گفتگو میں شریک ہو کر بولی . کچھ جنگیں تو انگریز بھی جیتے ہوں گے ؟ بولے . بالکل . ایک ہار تو ٹیپو کو انگریز اور اتحادیوں سے جنگ ہار کر کر آدھی سلطنت سے ہاتھ دھونا پڑا تھا .  ان دنوں اس پر بدلے کا جنون طاری ہو گیا تھا . اس نےقسم کھائی تھی کہ وہ جب تک انگریزوں کو ہرا نہیں لیتا بستر پر نہیں سوئے گا اور وہ مستقل فرش پر سوتا رہا.  اس نے ایک گھڑی بنوائی جس میں ایک شیر ایک برطانوی فوجی کا گلا دبوچ رہا ہے.  یہ گھڑی آج بھی لندن میوزیم میں ٹیپو کی یادگاروں میں محفوظ ہے.  وہ اس گھڑی کو دیکھ کر انگریز سے بدلے کے منصوبے بناتا رہتا تھا.  اور  آخری معرکہ ؟ میں  نے پوچھا . بولے . ٹیپو کی آخری جنگ میں شکست کی وجہ مقامی غدّار تھے .  کئی موقعوں پر انگریز فوج ٹیپو کے فوجی دستوں کی زد میں ائی لیکن غدّار سپہ سالار جو انگریزوں سے مل چکے تھے حملے کا حکم دینے سے گریز کرتے رہے اور سپاہیوں کے پوچھنے پر کہتے کے یہ ٹیپو  ہی کی حکمت عملی ہے . وہ جان بوجھ کر اپنے دستوں کو انگریز توپوں کی زد میں لا کر بھاری جانی نقصان کرواتے . بلآخر یہ غداری سپاہیوں پر ظاہر ہو گئی اور  انہوں نے میر صادق اور دیگر غداروں کو قتل کر دیا مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی.  انگریز  شہر پر قبضہ کر چکے تھے اور ٹیپو شہید ہو چکا تھا . عوامی حمایت دیکھتے ہوے  ٹیپو کو انگریزوں نے پورے اعزاز کے ساتھ توپوں کی سلامی سمیت سرنگا پٹم میں دفن کیا . آج بھی کیا ہندو کیا مسلمان سب اپنے ہیرو کو حاضری دینے آتے ہیں —- جاری ہے

بنگال کا لٹیرا ، سامراج ، ساتواں انشا Robert Clive, IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 7TH EPISODE

Posted by: Shariq Ali
retina

Robert Clive who established the military supremacy of British Raj in India gave a new word to English dictionary “loot” by practically demonstrating it in Bengal.  He died painfully in London at the age of 49

 

 

بنگال کا لٹیرا ، سامراج ،  ساتواں انشا ، ویلیوورسٹی ، شارق علی

پروف بولے . اٹھارویں صدی کے وسط میں بنگال کا نواب علی وردی خان مغلوں کے اثر سے آزاد ایک خود مختار نواب بن چکا تھا ، اس کے انتقال کے بعد اس کا پوتا سراج الدولہ جو صرف تیئیس  برس کا تھا تخت پر بیٹھا.  وہ بھی انگریزوں کو وہ مراعات دینے کے خلاف تھا جو مغل انھیں پہلے ہی دے چکے تھے .  اس زمانے میں کلکتہ تجارتی لحاظ سے بہت اہم بلکہ مرکزی حیثیت رکھتا تھا اور مال و دولت کے لحاظ سے بنگال ایک مضبوط ریاست تھی .  انگریز اور نواب بنگال کا اختلاف بڑھتے بڑھتے باقاعدہ جنگ تک پوھنچا اور اس ساری صورتحال کا ولن تھا رابرٹ کلایو . میں اسے بنگال کا لٹیرا کہوں گا. کون تھا وہ ؟ میں نے پوچھا . بولے .  سترہ سو پچیس میں انگلینڈ کی کاؤنٹی  شروپ شائر میں پیدا ہونے والا رابرٹ کلائیو نفسیاتی اعتبار سے غیر متوازن لیکن بے حد زہین انسان تھا .  بچپن میں سکول کی تعلیمی سرگرمیوں میں ناکام رہا۔ صرف اٹھارہ سال کی عمر میں وہ ایسٹ انڈیا کمپنی میں ایک کلرک کی حیثیت سے بھرتی ہو کر موجودہ مدراس کے علاقے میں نوکری کے لئے پوھنچا . طبیعت بے حد جھگڑالو تھی اور جذباتی طور پر اس قدر نا ہموار کے ایک بار خودکشی کی کوشش کی اور ایک دفعہ ڈوئل لڑنے میں شریک رہا۔ اس کی طبیعت میں لالچ ، سازش اور ظلم کوٹ کوٹ کربھرا تھا. وہ بیشتر وقت گورنر لائبریری میں خود کو تعلیم دینے میں مصروف رہتا اور  عملی جنگی تربیت کے ذریعے ایک فوجی اور سیاستدان کی حیثیت سے ممتاز مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوا .  پہلے تو ایسٹ انڈیا کمپنی اور فرانسیسی فوجوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے معرکوں میں اپنی قابلیت کا سکہ جمایا اور جنگی چالوں خاص طور پر گوریلا جنگ میں مہارت حاصل کر لی . کچھ عرصے کے لئے واپس لندن پہنچا . وہاں اس نے پارلیمنٹ میں الیکشن لڑنے کی کوشش کی مگر ہار گیا. سوفی بولی . تو پھر وہ بنگال کا لٹیرا کیسے بنا ؟ پروف بولے . فوجی صلاحیتوں کے اعتراف میں سترہ سو پچپن میں اسے دوبارہ مدراس بھیجا گیا جہاں وہ سینٹ ڈیوڈ کے قلعے کا گورنر مقرر ہوا. اس کا مشن فرانسیسیوں کو انڈیا سے باہر نکالنا تھا ۔ وہ مدراس  میں گورنر کی حیثیت سے متحرک تھا  لیکن  جب بنگال کے نواب سراج الدولہ نے ایسٹ انڈیا کے خلاف فوجی کاروائی کی تو وہ  آہستہ آہستہ بنگال کے سیاسی معاملات میں زیادہ سے زیادہ دخل انداز ہونا شروع ہوا . آخری معرکہ ہگلی ندی کے کنارے واقع مقام پلاشی پر ہوا  جو مرشد آباد جو نواب سراج الدولہ کا دارالحکومت تھا سے زیادہ فاصلے پر نہیں. یہاں سراج الدولہ اور رابرٹ کلائیو کی فوجوں میں دوبدو معرکہ ہوا.  اس جنگ میں سراج الدولہ کی مدد کچھ فرانسیسی فوجوں نے بھی کی لیکن اسے اس جنگ پلاسی میں واضح شکست ہوئی . اس شکست کی ایک بڑی وجہ میر جعفر کی غدّاری اور کلائیو سے در پردہ سازباز تھی . یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی سب سے بڑی فوجی کامیابی تھی. پھر ان کی طاقت بڑھتی چلی گئیں اور انہوں نے پورے ہندوستان پر بغیر کسی بڑی مزاحمت کے قبضہ کر لیا.  بنگال کی فتح اور پھر جی بھر کی لوٹ مار کے سامان کو بحری جہازوں میں بھر کے کلایو لندن واپس پوھنچا مگر صرف اننچاس برس کی عمر میں کسی موزی مرض سے بے حال ہو کرزیادہ مقدار میں افیون کھانے سے ازیت کی موت مرا ….. جاری ہے

فتح پور سیکری ، سامراج ، چھٹا انشا ، انشے سیریل ، ویلیوورسٹی ، شارق علی Fatehpur Sikri,IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 6TH EPISODE

Posted by: Shariq Ali
retina

In this episode discover how Mughal Empire became weaker and East India company became politically and militarily stronger in India while progressing towards British Raj.

 

 

فتح پور سیکری ، سامراج ، چھٹا انشا ، انشے سیریل ، ویلیوورسٹی ، شارق علی

فتح پور سیکری کی سیر ہمارے بچپن کی حسین یادوں میں سے ایک ہے . اب جو جھلکیاں یاد رہ گئیں ہیں ان میں سے ایک منظر تو بلند دروازے کی سیڑھیاں  چڑھتے ہوے سرخ اینٹوں سے بنی تاریخی عمارتوں کے سلسلے کو دیکھ کر حیران ہوتے چلے جانا ہے. ہم سب بانو امی کو گھیرے ان کے بچپن کی یادیں سن رہے تھے . بولیں . اکبر بادشاہ نے فتح پور سیکری کو اپنا دوسرا دارالحکومت بنایا تھا. ہمارے والد کے لئے تو سلیم الدین چشتی کے مزار  پر حاضری دینا اور فاتحہ پڑھنا وہاں جانے کا سب سے بڑا جواز تھا. لیکن ہم بچے خاص طور پر میں اور انوری جودا بائی کے محل میں جا کر بے حد خوش ہوتے تھے . اکبر اور جودا سے منسوب کہانیاں ان در دیوار میں ہمارے لئے گویا زندہ ہو جاتی تھیں  . ایک سحر سا تھا پورے علاقے میں. ہم سوچتے کیسا لگتا ہو گا جب اس بڑے سے حوض کے بیچ اس سنگ مرمر کے چبوترے پر تان سین دیپک راگ سناتے ہوں گے . دیوان خاص میں اکبر نورتنوں کے بیچ بیٹھا حکو متی معاملات کی دیکھ بھال نجانے کیسے کرتا ہو گا . پھر وہاں کے باغوں اور قدیم درختوں کے ساے میں بیٹھنا بڑا انوکھا تجربہ تھا .  گویا فتح پور سیکری مغل حکمرانی کی ایک ایسی مثال تھی جس میں ہندو ، عیسائی مسلمان سب مل جل کر ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے تھے.  یہ بات ہمیں بہت اچھی لگتی تھی . کئی دنوں تک خواب آتے کے پنچ محل کی پانچ منزلہ عمارت کی خواب گاہ میں جودا بائی نے سبزیوں سے بنے کھانوں سے ہماری دعوت کی ہے . یا خزانہ محل میں مغل شہزادیاں اپنے ہیرے جواہرات جڑے زیورات مجھے اور انوری کو دکھا رہی ہیں . مغل اتنے طاقتور تھے تو انگریز ان پر کیونکر حاوی ہوے ؟ رمز نے پوچھا . پروف بولے . یہ سچ ہے کہ اٹھارویں صدی کے وسط تک مغل سلطنت بالکل کھوکھلی ہو چکی تھی. ایک وجہ تو نادر شاہ اور احمد شاہ کا دلی پر حملہ اور اس کی تباہی تھی اور دوسری چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بغاوت کو کچلنے میں بے دریغ دولت خرچ کر کے بے حال ہو جانا تھا . یوں مغل حکومت سکڑتی چلی گئی اور اس کی طاقت راجہ مہاراجاؤں کے مقابلے میں کمزور ہوتی چلی گئی . اکتیس دسمبر سن سولہ سو میں ملکہ الزبتھ اول کے دستخطوں سے چند مہم جو سیاحوں کو ایسٹ انڈیا کمپنی قائم کر کے ہندوستان جانے کی سرکاری اجازت دی گئی تھی .  یہ برطانیہ کا ہندوستان پر قبضہ کی سمت پہلا قدم تھا۔ سولہ سو چالیس میں پہلی بار ایسٹ انڈیا کمپنی جنوبی ہندوستان میں تجارتی معاہدے کے تحت زمینی قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوی اور یہاں تجارت کی آڑ میں اپنا فوجی قلع قائم کیا اور مقامی لوگوں کو روزگار دے کر ان کی فوجی تربیت شروع کی. یہ وہی علاقہ ہے جہاں اب مدراس شہر آباد ہے . پھر یہی ترکیب استعمال کر کے انگریز  نے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں قلعے قائم کیے اور مقامی فوج تیارکی . ایک طرف مغل کمزور ہو رہے تھے اور دوسری طرف ایسٹ انڈیا کمپنی جگہ جگہ مقامی فوج تیار کرکے مضبوط ہو رہی تھی . یوں انگریز جو یہاں تجارت کے لئے آیا تھا  اس خطّے کے سیاسی معاملات میں زیادہ سے زیادہ شامل ہوتا چلا گیا. کیا دوسرے یورپی ممالک ہندوستان میں دلچسپی نہ رکھتے تھے ؟ میں نے پوچھا . بولے . پہلے تو دیگر یورپی ممالک مثلا پرتگال اور فرانس بھی ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھے ہوئے تھے لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی کی سیاسی سوجھ بوجھ اور پھر پیرس ٹریٹی کی وجہ سے دیگر یورپی ممالک آہستہ آہستہ ہندوستان پر اپنا اثر کھو بیٹھے سوائے فرانس کے جو جنوب میں کچھ حصوں پر بہت عرصے تک مؤثر رہا . پھر لارڈ کلایو جیسا ظالم شخص اس سارے منظر نامے میں داخل ہوتا ہے اور اپنی فوجوں کی مدد سے بنگال میں فرانسیسی اور بنگال کی فوجوں کو  جنگ پلاسی میں فیصلہ کن شکست دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے.  پھر یہ فوجی فتوحات ہندوستان کے دوسرے علاقوں پر بھی بغیر کسی بڑی  مزاحمت کے  پیش رفت کرتی چلی جاتی ہیں……… جاری ہے

کٹھ پتلی کا کھیل ، سامراج ، انشے سیریل ، پانچواں انشا Puppet show, IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 5TH EPISODE

Posted by: Shariq Ali
retina

Imperialism in pre-partition India at times seems merely a puppet show. British were using local army, maharajas and local bureaucracy as puppets to rule the common people

 

 

کٹھ پتلی کا کھیل ، سامراج ، انشے سیریل ، پانچواں انشا ، شارق علی

پہلی بار اچھن میاں کی شادی پر یہ تماشا دیکھا تھا .  قناتیں یوں تانی گئیں تھیں کہ مردانہ زنانہ الگ الگ لیکن لکڑی کی چوکی کا قالین ڈھکا  چھوٹا سا سٹیج سب کی نظروں کے سامنے . بانو امی رمز کو کٹھ پتلی کے تماشے کا احوال سنا رہی تھیں. بولیں . پیچھے گہرے رنگ کا بڑا سا پردہ. اور سامنے لال پیلے سبز رنگوں کے بھڑکیلے کپڑے پہنے روئی بھرے جسم اور بڑی بڑی آنکھوں والی کٹھ پتلیاں، جن کے چھوٹے چھوٹے لکڑی کے ہاتھ پیر جو رسیوں سے بندھے پردے کے پیچھے نظر نہ آنے والے مداری کے اشاروں پر ناچ رہے تھے . تماشادکھانے والا مسلسل بولتا اور کہانی آگے بڑھاتا رہتا.  اس کا ساتھ ڈھولک اور ڈگڈگی سے دیا جاتا . کچھ مکالمے بہت پتلی آواز میں کٹھ پتلیاں بھی بولتیں جو بولی کہلاتی تھی. لیکن ان کی وضاحت بھی مداری ہی کرتا . بروقت موسیقی، بیچ بیچ میں بچوں کے ہنسنے کی آواز، تالیاں ، داد اور تحسین کا شور. ہم سامنے بیٹھے لوگ کسی اور ہی دنیا اور زمانے میں چلے جاتے .  کٹھ پتلیوں میں مختلف کردار ہوتے تھے .  کچھ حسین اور معصوم،  کچھ چالاک اور زہریلے. کچھ شجاع کچھ سازشی،  ظفر بھای نے بتایا کہ تماشا دکھانے والے جاجمنی کہلاتے ہیں اور راجھستان سے آئے ہیں ، یہ خانہ بدوش مغل بادشاہوں کے دور سے یہی کام کرتے ہیں.  اس رات یوں تو بہت سی کہانیاں سنیں لیکن شاہجہان کے زمانے کے امر سنگھ راٹھور کا قصہ سب سے زیادہ دلچسپ لگا. کہیں کہیں سنجیدہ باتیں بھی تھی مگر اکثر کھلکھلا کر ہنسنے والی صورت حال.  صبح کو جاگے تو جاجمنی اپنا سامان لپیٹے سمیٹے جانے کہاں جا چکے تھے .  پروف بولے . ہندوستان کی سیاست ان دنوں کٹھ پتلی کا تماشہ ہی تو تھی . ہندوستان کے راجہ مہاراجہ انگریز سرکار سے کیے معاہدوں سے خوش نہیں تھے. بھرم قائم تھا اور محلات بھی لیکن انھیں مقامی سیاست میں کوئی طاقت حاصل نہ تھی. سارے فیصلے انگریز سرکار کے تھے . کوشش کر کے انہوں نے کچھ ایسی گنجائشیں ضرور نکال لیں جن کی بنیاد پر وہ اپنے عوام سے جڑے رہے۔ اور یوں ہندوستان کی مقامی سیاست پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی چلی گئی۔ گویا امپیریلزم  ایک ڈرامہ تھا . ایک بظاھر خود اعتمادی جس کے تحت حاکمیت قائم تھی حالانکہ اصل طاقت مقامی طور پر قائم کی گئی فوج ، مقامی با اثر لوگوں اور دیسی بیوروکرسی کا نظام تھا . جسے انگریز شطرنج کے مہروں کی طرح استعمال کر رہا تھا . انگریز نے خود اعتمادی سے بھرپور  یہ کٹھ پتلی کا  تماشا نہ صرف ہندوستان بلکے دنیا بھر کی کم ترقی یافتہ اقوام کی عوام کے سامنے دکھایا.  اس شعبدہ گری میں عظیم الشان عمارتوں اور لندن کے تھیٹروں کی طرز کے جاہ و جلال سے بھرپور لباس اور تقریباتی شان و شوکت کا بھی بھرپور عمل دخل رہا . انگریز ماہرین تعمیرات نے پورے ہندوستان کے تمام بڑے شہروں میں مقامی وسائل استیعمال کر کے  ایسی عظیم الشان عمارتیں تعمیر کیں جنہیں دیکھ کر سادہ لوح عوام پر ہیبت طاری ہو جائے. ایسی عمارتوں میں سے ایک عمارت کلکتہ کے گورنمنٹ ہاؤس کی بلڈنگ ہے جو انگریز کے ابتدائی اقتدار کے زمانے میں مرکزی اہمیت کی حامل رہی۔ یہ آج بھی وہاں کی مقامی حکومت کی مرکزی عمارت ہے۔ جب یہ عظیم الشان عمارت اٹھارہ سو تین میں تعمیر کی گئی تو اس مرکزی عمارت میں اور اس کے علاوہ تقریبا ساڑھے چھ ہزار انگریز پورے ہندوستان کی تقریبن بیس کروڑ آبادی پر حکمرانی کرتے تھے.  ذرا سوچو صرف ساڑھے چھ ہزار انگریز اور دور تک پھیلے ہوئے وسیع علاقے میں بسے بیس کروڑ سے زیادہ آبادی والے ہندوستان پر قابض رہے . کیا یہ بات کسی جادوئی شعبدے سے کم ہے۔ اسی صورتحال کو بیان کرنے کے لئے ایک انگریز اہلکار نے کہا تھا کہ یہ وہ وقت تھا کہ جب اگر ہر ہندوستانی صرف ایک مٹھی ریت اٹھا کر ہم انگریزوں پر پھینک دیتا تو ہم ساڑھے چھ ہزار انگریز اس ریت کے تلے زندہ  دفن ہو جاتے—– جاری ہے

راجہ مہاراجہ ، سامراج ، انشے سیریل ، چوتھا انشا Maharajas, IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 4th EPISODE

Posted by: Shariq Ali
retina

Maharajas were the puppet rulers of India, whose strings were in the hands of British Raj. The story continues in the developing world by local rulers and superpowers

 

 

راجہ مہاراجہ ، سامراج ، انشے سیریل ،  چوتھا انشا ، ویلیوورسٹی ،  شارق علی

میں اور انوری بہت خوش تھے کیونکہ اگلے دن ایک شادی میں شرکت کرنا تھی اور خبر گرم تھی کہ راجہ صاحب ہاتھی پر بیٹھ کر آیں گے . بانو امی اور سوفی میں گفتگو جاری تھی ، بولیں.  ہاتھی  تو ہم دونوں کا دیکھا ہوا تھا کہ ان دنوں آگرے کی سڑکوں پر کبھی کبھار ہاتھی کی سواری نکلتی دکھائی دے جانا بہت غیر معمولی نہ تھا.  زیادہ اشتیاق خود راجہ صاحب اور ان کے مہاوت کو دیکھنے کا تھا .  اگلے دن زردوزی کے کام والے کرتے  اور چوڑی دارپاجامے پہن کر شادی میں شریک ہوئے تو لطف آ گیا. قسم قسم کے کھانے اور مٹھائیاں . ہاتھی بھی شاندار اور ہماری توقع سے کہیں زیادہ توانا . پھولوں کے ہاروں سے سجا اور ماتھے پر چاندی کا جھومر بھی . کسی نے بتایا کہ ہفتے بھر میں منوں گننے اور پیپل  کے پتے کھا جاتا ہے . انوری کو ہاتھی اور مجھے زرق برق لباس پہنے مہاوت بہت اچھا لگا . راجہ صاحب نے دونوں کو  بہت مایوس کیا. بہت بھاری بھرکم لباس فاخرہ کے باوجود کمر جھکی ہوئی اور  اتنے دبلے کے بسنت کی ہوا چلے تو پھر سے اڑ جایں . اس پر رنگ بھی سانولا . سب لان میں پڑی کرسیوں پر بیٹھ چکے تو پروف بولے .  مقامی فوج کی تشکیل کے علاوہ انگریز  نے مقامی حکمرانوں یعنی راجہ مہاراجاؤں کو بھی اپنے ساتھ ملایا۔ ان سے ایسے معاہدے کرکے کہ وہ اپنی حکمرانی جاری رکھ سکتے ہیں لیکن انگریز کے ماتحت مقامی فوج ان کی حفاظت پر مامور رہے گی.  یوں تھوڑے سے ٹیکس یا لگان کے بدلے میں وہ اپنا  راج محفوظ رکھ سکتے ہیں.  یہ ایک سامراجی چال تھی. اس محفوظ حکمرانی کا جال انگریز نے آہستہ آہستہ پورے ہندوستان میں پھیلا دیا.  بظاھر تو سارے راجے مہاراجے انگریز کے زیرتسلط اپنا بھرم قائم رکھے ہوے تھے لیکن اصل حکمران ٹیکس لگانے والا انگریز تھا. وہ یہ حکمرانی مقامی فوج کے زور پر کرتا تھا.  وقت گزرنے کے ساتھ حکمران طبقہ جس میں انگریز،  راجہ مہاراجہ اور اعلی مقامی فوجی افسران شامل تھے ایک دوسرے سے ثقافتی طور پر بھی قریب آتے چلے گئے. انگریزی زبان ،  برطانوی رسم و رواج مثلا لباس اور طور طریقے مقامی حکمرانوں اور اعلیٰ فوجی افسروں کی زندگی کا حصّہ بننے لگے . رمز نے کہا . آج بھی کسی فوجی میس کی تقریب میں چلے جائیے تو  برطانوی انداز واضح طور پر دکھائی دیں گے . یہی صورتحال خان بہادر قسم کے حکمران طبقہ کی تقریبات کی بھی ہے .  ایسا کیوں ہے ؟ پروف بولے . انگریز  نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت حکمران طبقے کے نو عمر بچوں کو برطانیہ بھیج کر مقامی کٹھ پتلی حکمران تیار کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا ۔  مہاراجاؤں کے آٹھ دس سالہ بچوں کو برطانیہ  بھیجا جاتا. وہیں ان کی سکولنگ ہوتی.  وہ آکسفورڈ میں پڑھتے اور پوری طرح برٹش بن کر واپس آتے تاکہ وہ یہ ڈرامہ جاری رکھ سکیں اور اصل اقتدار انگریز کے پاس ہی رہے. انگریز ماہرین تعمیرات نے ان راجہ مہاراجاؤں کے محل ڈیزائن کئے اور  برطانوی طرز کی اندرونی آرائش ترتیب دی . یوں انہوں نے مقامی حکمرانوں کو اپنے ثقافتی رنگ میں رنگا .  جب پورے ہندوستان میں یہ نظام پھیل گیا تو انگریز نے اس وعدے کی پاسداری سے بےوفائ کرنا شروع کردی.  اب وہ چھپ کر نہیں بلکہ کھل کر اور سامنے آکر حکمرانی کرنا چاہتا تھا۔  انگریز نے یہ کام بھی بہت چالاکی سے کیا.  پہلے قدم میں اس نے مہاراجہ سے ساری سیاسی طاقت کھینچ کر اپنے ہاتھ میں کرلی لیکن انھیں محلات اور اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے علامتی طور پر اپنا خطاب قائم رکھنے کا اختیار دیا.  مہاراجاؤں کی ظاہری شان و شوکت ویسی ہی .  آباء و اجداد کی شاندار تصویریں دیواروں پر آویزاں اور محلات کی آرائش میں وہ ہی بادشاہ بنے نظر آتے تھے لیکن درحقیقت ان کی کوئی حیثیت نہ  تھی.  سارا اختیار اور طاقت انگریز بہادر کے ہاتھ میں تھی ——- جاری ہے

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,133 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina