retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

خواجہ سرا ، سیج ، انشے سیریل ، پچاسواں انشا Transgender, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 50

Narration by: Shariq Ali
March 14, 2019
retina

Despite the Supreme Court decision, members of sexual minority e.g. transgenders in Pakistan are still deprived of their basic human rights. Mindsets are different than decisions in court

 

 

خواجہ سرا ، سیج ، انشے سیریل ، پچاسواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

میں چوتھے سال کا طالب علم تھا اور غریب مریضوں کو مفت علاج پہنچانے کی انجمن کا پرجوش شریک. عارف سے میری ملاقات ایک ایسے سماجی کارکن کی حیثیت سے ہوئی جو اکثر غریب خواجہ سرا مریضوں کو لے کر ہمارے ہسپتال آتا اور ان کی بھرپور مدد کرتا تھا . ٹی ہاؤس میں اس وقت چہل پہل واجبی سی تھی. پروف نے گفتگو جاری رکھی .  دوستی بڑھی تو معلوم ہوا کہ جوڑیا بازار میں عارف کی دوکان ہے اور تین غیر شادی شدہ بہنوں کی ذمہ داری بھی اسی کے کندھوں پر .  اسی کے ساتھ مجھے کئی  خواجہ سراوں سے ملنے اور ان کی باتیں سننے کا موقع ملا. کوئی کہتا. لوگ ہمیں یوں دیکھتے ہیں جیسے ہم آسمان سے گرے ہوں.  ہمیں بھی تو خدا ہی نے بنایا ہے.  گھر والوں نے گھر سے نکال دیا.  بس محلے کے بچوں کے ساتھ کھیل کود کر خوش ہو جاتی ہوں. یہ احساس گلیوں بازاروں میں ساتھ چلتا ہے کہ لوگ ہمیں اچھا نہیں سمجھتے. میرا بھائی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش ہے اور میں گلیوں میں دربدر.  ہم دونوں ایک ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے. کاش میرے بھی بچے ہوسکتے. میں کام کرنا چاہتی ہوں لیکن شاید میری زندگی میں عزت کی نوکری نہیں لکھی. عارف کبھی ترنگ میں ہوتا تو کنٹین کی ٹیبل پر طبلہ بجاتے ہوئے یہ گیت گاتا ” تم نغمہ ماہ و انجم ہو تم دل کا سلگنا کیا جانو ” .  پھر ایک دن اس نے مجھے اپنی میڈیکل رپورٹ دکھائی اور میں دنگ رہ گیا،  وہ پیدائشی غیر مبہم جنسی اعضاء کی وجہ سے نہ تو مرد تھا اور نہ عورت . لیکن سماجی ذمے داریوں کے تحت اس نے مرد کا روپ دھارا ہوا تھا.  خواجہ سرا ہونے کی سائنسی بنیاد کیا ہے؟ سوفی نے پوچھا .  پروف بولے . جب ماں کے پیٹ میں بچے کی افزائش کا آغاز ہوتا ہے تو پہلے چھ ہفتے تک وہ محض فرد ہوتا ہے . مرد یا عورت کی تخصیص کے بغیر محض ایک انسان . سچ پوچھو تو یہ ہی ہماری بنیادی شناخت ہے. انسان ہونا اور اسی حیثیت میں تمام انسانی حقوق کا حقدار ہونا .  چھ یا  سات ہفتے کے بعد پیچیدہ جینیاتی اور ہارمونل اثرات کی وجہ سے جنسی اعضا مرد یا عورت کی شناخت کے لحاظ سے واضح ہونا شروع ہوتے ہیں . انسانی دماغ کی نشو و نما بھی آگے بڑھتی ہے . یوں تو دماغ کی بنیادی ساخت ایک جیسی ہی ہے لیکن عورت اور مرد کے دماغ میں مخصوص انفرادیت کی وضاحت اب ممکن ہو گئی ہے . افزائش کے اس پیچیدہ عمل کے دوران ایسا ممکن ہے کہ کسی شخص کے دماغ کی افزائش عورت کی انفرادیت لئے ہوے ہو لیکن جنسی اعضاء مرد کے ہوں .  جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ڈاکٹر سامنے نظر آنے والی شہادتوں یعنی جنسی اعضاء کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ لڑکا ہے یا لڑکی کیونکے وہ بچے کے ذہن کی ساخت کو براہ راست دیکھ نہیں سکتے. ماں باپ اسی شناخت کے تحت بچے کی پرورش کرنا شروع کر دیتے ہیں .  مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب وہ بظاہر لڑکا شعور مند ہو کر اپنی  جنسی شنا خت سے متعارف ہو تا ہے.  اسے پتا چلتا ہے کہ وہ ذہنی لحاظ سے مرد نہیں عورت ہے. پھر وہ مسلسل نفسیاتی تنازع کی ازیت سے گزرتا ہے. سماجی دباؤ کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو ایسا شخص اپنے ذہن کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے کیونکے ہماری اصل اور بنیادی شناخت تو ہمارا ذہن ہے.  کسی دوسرے شخص یا سماج کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کی بنیادی  شناخت چھین سکے. خواجہ سرا یا ٹرانسجینڈر ہمارے معاشرے میں لعن طعن اور گھٹیا رویوں کا شکار کیوں ہوتے ہیں ؟ رمز نے اداس ہو کر پوچھا . بولے .  حیاتیاتی سانحہ کو سمجھے بغیر  اپنے جیسے انسانوں پر اخلاقی بدکرداری یا بے راہ روی کا لیبل چپکا کر بنیادی انسانی حقوق کو  پامال کرنا نہ صرف جہالت ہے بلکے بے حد سنگدلانہ رویہ بھی. مرد اور عورت کی طرح تیسری جنس جس میں ٹرانسجینڈر اور انٹر سیکس دونوں شامل ہیں بالکل ہم اور آپ جیسے انسان ہیں. ان کی پرورش ، تعلیم، روزگار اور سماجی مقام مساوی ہونا چاہیے .  انھیں معاشرے میں عزت و احترام اور  وہی حقوق حاصل ہونا چاہییں جو کسی بھی مرد یا عورت کو حاصل ہوتے ہیں. کسی بھی شخص کے ذہنی اور جنسی رویوں کے حوالے سے اس کی شناخت کا احترام بے حد ضروری ہے .  جس حد تک ممکن ہو سکے ایسے افراد کو مدد اور تعاون فراہم کرنا چاہیے.  اگر آپ ایسے کسی فرد کے ماں باپ بہین یا بھائی ہیں تو خدا کے واسطے اس حقیقت اور خدا کی اس رضا کو تسلیم کیجیے . تیسری جنس ایک زندہ حقیقت ہے اور اسے تسلیم کرنا ہر فرد اور سماج کے لئے ضروری ہے . کسی کو یہ حق حاصل نہیں کے وہ خواجہ سرا افراد کو ذہنی طور پر غیر متوازن ، نفسیاتی مریض یا اخلاق باختہ قرار دے سکے—— جاری ہے

انٹرنیٹ ایک درسگاہ ، فکرانگیز انشے Internet, a colossal university, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Posted by: Shariq Ali
retina

The Internet is the largest university available to everyone and free of charge. Lucky we are!

 

 

انٹرنیٹ ایک درسگاہ ، فکرانگیز انشے ،  شارق علی

 یہ سچ ہے کہ انٹرنیٹ دنیا کی سب سے بڑی درسگاہ ہے .  بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بہت سے بزرگوں کا خیال ہے کہ یہ نوجوانوں کے وقت کا زیاں ہے.  حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے.  یہ بات بھی غلط نہیں کہ اگر کوئی  اپنا وقت ضائع کرنے پر تُل جاے تو سوشل میڈیا پر  اس کا وافر انتظام موجود ہے . لیکن اگر آپ سنجیدہ ہیں تو یہ حصول علم کا  سب سے آسان،  سستا اور موثر ذریعہ ہے.  اردو میں ایک محاورہ ہے کم خرچ بالا نشین.  انٹرنیٹ پر حصول علم کے حوالے سے یہ بات بالکل سچ ہے.  حصول علم کے لئے انٹرنیٹ کو استعمال کرنے کے حوالے سے ہر شخص کو  بنیادی معلومات اور مہارت درکار ہوتی ہے . آج کل کے نوجوانوں کی اکثریت کھیل ہی کھیل میں پہلے ہی یہ مہارت حاصل کر چکی ہوتی ہے. کسی خاص موضوع پر اپنے مہیا وقت میں آپ مخصوص معلومات یا مہارت حاصل کرنا چاہیں تو اس کا آسان ذریعہ گوگل یا یوٹیوب ہے.  یہ بھی ممکن ہے کہ آپ باقاعدہ کوئی آن لائن کورس کرنا چاہیں . اپنے کام کی نوعیت یا اپنی دلچسپی سے جڑا ہوا کوئی کورس .  مثلا میں پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہوں لیکن میں ہارورڈ یونیورسٹی کے بنیادی فلسفے کے کورس میں دلچسپی رکھتا ہوں تو انٹرنیٹ مجھے یہ سہولت بہم پہنچا سکتا ہے.  سب سے پہلے تو مجھے رجسٹر ہونا پڑے گا اور اپنے نصاب سے آگاہی حاصل کرنا ہو گی.  وہ تمام ہدایات،  قوانین اور نظم وضبط مجھ پر لاگو ہو گا  جو اس کورس کی تکمیل کیلئے درکار ہے.   میں چاہوں تو اپنے انسٹرکٹر سے اس سلسلے میں مزید وضاحتیں اور معلومات طلب کرسکتا ہوں.  تو گویا مجھے ان کی توقعات اور اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں مکمل آگاہی ہونی چاہیے.  پھر مجھے اپنی ذاتی مصروفیت پر نگاہ کرنی ہوگی کہ وہ کونسا وقت ہے جو میں اس کورس کے لئے نکال سکتا ہوں. وہ مکمل شیڈول  اور ساری تاریخیں جو اس کورس کے حوالے سے اہم ہیں مجھے اپنی ذاتی مصروفیت میں سے ان کی گنجائش نکالنی ہوگی. اپنا کام وقت پر جمع کرانا ہوگا اور آن لائن کورس میں شریک دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ایک مہذب اور کارآمد تعلق برقرار رکھنا ہو گا.  بیشتر لوگوں کے لیے شاید اتنا وقت نکالنا ممکن نہ ہو تو وہ اس صورت میں یوٹیوب اور گوگل کو اپنے علم میں اضافہ کرنے کے لئے جب چاہیں استعمال کر سکتے ہیں. اگر آپ کسی آن لائن فورم پر مباحثے کے ذریعے سے علم حاصل کر رہے ہیں تو اس صورت میں بھی دوسروں کا احترام اور اختلافی نقطہ نظر کی صورت میں مہذب رویہ رکھنا بہت ضروری ہے . کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ اپنی رائے اور نقطہ نظر کو پیش کرنے میں بہت سا ضائع کر رہے ہیں.  صرف اس وقت شرکت کیجیے جب اس کی ضرورت ہو . غیر ضروری شرکت آپ کی اہمیت کو کم کرتی ہے.  جو کچھ بھی علم اور مہارت آپ انٹرنیٹ سے حاصل کر رہے ہیں اپنی عملی زندگی میں اس کا استعمال ضرور کیجئے.  اس سے فائدہ اٹھائے.  یقین جانیے زندگی کو بہتر بنانے میں علم حاصل کرنے سے بڑھ کر کوئی اور مؤثر طریقہ موجود نہیں.  اگر آپ اپنی ضروریات سے واقف ہیں کہ کونسا مضمون اور کون سا موضوع آپ کو عملی طور پر فائدہ پہنچا سکتا ہے اور آپ میں مستقل مزاجی موجود ہے تو پھر کامیابی آپ کا مقدر ہوگی. انٹرنیٹ پر موجود گوگل اور یو ٹیوب معلومات کا خزانہ ہیں . ایک ایسی دنیا جس تک ہمارے بزرگوں کی رسائی نہیں تھی. یاد رکھیے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے متعلق بنیادی معلومات اور مہارت حاصل کئے بغیر ہم تعلیم یافتہ کہلوانے کے حقدار نہیں.  اب آپ سے اجازت—– ویلیوورسٹی ، شارق علی

سویز کنال ، سامراج ، بارہواں اور آخری انشا Suez Canal, IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 12TH & Final EPISODE

Posted by: Shariq Ali
retina

British took over Egypt in 1875 to control 120 miles long Suez canal. This was an economic and military lifeline for threatened British Raj in India after 1857 uprising

 

سویز کنال ، سامراج ، بارہواں اور آخری انشا ، ویلیوورسٹی ، شارق علی

پروف نے کھڑکی کا پردہ زرا سا کھول دیا اور بولے . ان دنوں پورے ہندوستان میں ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں مختلف شاندار عمارتیں بنائی گئیں .  اس کے مجسمے چوک پر آویزاں کئے گئے  اور اسے ایک ایسا کردار بنا کر پیش کیا گیا جیسے وہ کوئی دیوی ہو.  عوام کی ماتا ہو. اسے ایمپریس آف انڈیا کا خطاب دیا گیا. برطانیہ میں تیار کیے گئے ملکہ وکٹوریہ کے پچاس مجسمے بحری جہازوں پر لاد کر ہندوستان لائے گئے اور مختلف شہروں کے مرکزی چوک میں انھیں ایستادہ کیا گیا تا کہ عوام انہیں دیکھ کر ملکہ سے اپنے رشتے کو قائم کر سکیں . لطف کی بات یہ کہ ان میں سے بیشتر مجسموں کی قیمت بھی مقامی راجہ مہاراجاؤں نے ادا کی. راجہ آف بڑودا نے لاکھوں روپے مالیت کا سنگ مرمر کا مجسمہ اپنے شہر میں نصب کروایا. ان مجسموں کا ہفتہ وار شیمپو  کیا جاتا اور روزانہ ان کے چرنوں میں تازہ پھول رکھے جاتے .  اس زمانے میں پوری دنیا میں برطانوی سلطنت کا قلب ہندوستان تھا.  یہیں سے لوٹی دولت اور افرادی طاقت برطانوی فوجوں کو اس قابل بناتی تھی کہ وہ پوری دنیا پر اپنا تسلط قائم رکھ سکیں . میں نے کہا . اس تسلط کو برقرار رکھنا آسان تو نہ ہو گا ؟ بولے.  برطانیہ میں چند ایسے دوررس دانشور بھی موجود تھے جو اس سارے نظام کو وقتی کامیابی اور پھر ایک دیرینہ زوال کا سبب سمجھتے تھے. ان کے سامنے رومنوں کے عروج و زوال کی مثال موجود تھی . کچھ نے تو اخلاقی بنیاد پر سامراجی نظام کی مخالفت بھی کی .  لیکن بیشتر اسے مزید فروغ دینے کے لئے کوشاں رہے . اٹھارہ سو بیاسی کی ایک صبح مصر کے عوام پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ اپنے ملک میں اکیلے نہیں.  برطانوی فوج تیزی سے ان کے دارالخلافہ کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے.  مصر پر حملے کی وجہ انگریزوں کی ہندوستان پر گرفت کے بارے میں بے یقینی کی کیفیت تھی.  وہ اپنی سلطنت کو دیگر علاقوں تک پھیلا کر ہندوستان پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتے تھے . مصر پر حملے کے فورا بعد گو کہ انگریز  نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ یہاں زیادہ دیر تک قیام نہ کریں گے لیکن وہ وہاں ستر برس تک قابض رہے. رمز نے پوچھا . مصر پر اچانک حملہ آخر کیوں؟ پروف بولے .  اس کی بنیادی وجہ سویز کنال پر قابض ہو کر اپنی بحری طاقت کو مضبوط تر بنانا تھا تاکے بحری فاصلہ گھٹا کر برطانیہ کی ہندوستان پر گرفت مضبوط کی جا سکے . وہ ایک اور بغاوت کے خدشے سے پریشان تھے . مصر کے صحرا میں ایک سو بیس میل لمبی یہ نہر انگریز بحری جہازوں کے مختصر سفر کی وجہ سے ہندوستان پر قبضہ برقرار  رکھنے کی ضمانت تھی . سویز کینال کی تعمیر کے بعد اس میں سے ہو کر گزرنے والے زیادہ تر بحری جہاز برطانوی تھے جو ہندوستان سے کپاس، چائے ، پٹسن اور ایسا بہت سا خام مال  لے کر برطانیہ پہنچتے.  جہاں برطانیہ کی فیکٹریوں میں اسے تیار شدہ مال میں تبدیل کر کے برطانوی عوام کی بیروزگاری کو کم کیا جاتا اور پھر یہ تیار شدہ مال مثلا کپڑے اور چائے وغیرہ کو دوبارہ ہندوستان پہنچا کر فروخت کیا جاتا.  سویز کنال کے راستے ہی سے برطانوی فوج کو باآسانی ہندوستان میں بغاوت کچلنے کے لئے بھیجا جاسکتا تھا. سویز کینال کی اس قدر فوجی اور تجارتی اہمیت کی وجہ سے یہ ضروری ہو گیا تھا کہ اس کے کناروں کو محفوظ رکھا جائے اور وہاں پر ابھرنے والی ہر قسم کی بغاوت کو وقت پڑنے پر کچل دیا جائے. سوفی بولی . مجموعی طور پر ہندوستان پاکستان وغیرہ کو اس سامراجیت سے کیا نقصان پوھنچا ؟ کہنے لگے . انگریزوں کی آمد سے قبل سترہویں صدی میں یہ خطہ دنیا کا امیر ترین ملک تھا.  ایک ماہرانہ اندازے کے مطابق پوری دنیا کی جی ڈی پی میں اس کی شراکت چوبیس فیصد تھی.  یہ اعداد و شمار مغربی معیشت دانوں ہی کے مرتب کردہ ہیں . یہ حقیقت ہے کے بعض  ہندوستانی ریاستیں پورے برطانیہ سے زیادہ دولت رکھتی تھیں . یہاں کی  زراعت ، دستکاری ، ململ، کپڑے اور فولاد کی صنعت بے مثل تھی . پھر انگریز دو سو سال اس پورے خطے کی جی بھر کر منظم لوٹ مار کر کے جب سن سنتالیس میں پاکستان ہندوستان کو آزادی دے کر واپس جاتا ہے تو اس علاقے کا جی ڈی پی صرف چار فیصد رہ جاتا ہے . نوے فیصد عوام غربت کی سطح سے نیچے ہوتی ہے اور عام آدمی کی اوسط زندگی صرف ستائیس برس کی….. اختتام  ، ویلیوورسٹی ، شارق علی

جنگ کے بعد ، سامراج ، گیارہواں انشا After the mutiny, IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 11TH EPISODE

Posted by: Shariq Ali
retina

Once the rebellion of 1857  was over, the British used violence on an unprecedented scale in order to kill the desire for another uprising

 

 

جنگ کے بعد ، سامراج ، گیارہواں انشا ، ویلیوورسٹی ، شارق علی

 پروف بولے . لکھنؤ ہیڈکوارٹر کی بغاوت میں تقریبا دو ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ساڑھے چار مہینے کے محاصرے کے بعد برطانوی فوجوں کی کمک آ پہنچی اور انہوں نے بغاوت پر قابو پالیا.  پھر انہوں نے ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑے اس کی مثال نہیں ملتی . اس دور کے ایک برطانوی کمانڈر کا دعویٰ تھا کہ اس نے بغاوت کے بعد اکیلے چھے ہزار مقامی لوگوں کو قتل کیا. بعض جگہوں پر وہ پہلے باغیوں کو سر میں گولی مار کر قتل کرتے.  ان کے بچے ہوئے ساتھیوں کو ان کا خون چاٹنے پر مجبور کرتے اور اس کے بعد ان سے کہتے کہ بھاگو.  جب وہ فرار ہونے کے لیے بھاگتے تو گھوڑوں پر بیٹھ کر ان کا تعاقب اس طرح کرتے جیسا کہ جانوروں کا کیا جاتا ہے اور پھر انھیں مار دیتے.  بعض اوقات پہلے باغیوں کو دہکتے ہوئے فولاد سے داغا جاتا اور پھر بھاگنے پر مجبور کیا جاتا اور بھاگتے ہوئے باغیوں کو ایک ایک کر کے قتل کر دیا جاتا.  مقصد صرف بغاوت کچلنا یا سزا دینا نہیں تھا بلکہ عوام کو سبق سکھانا اور ان کے حوصلوں کو خوف سے پست کر دینا تھا.  یہ سکھانا کہ اگر انگریز کی حکومت سے آیندہ بغاوت کی تو پھر ان کا حشر کیا ہوگا. اس ذکر نے ہم سب کو گہری اداسی میں جکڑ لیا . ذرا سے وقفے کے بعد پروف گفتگو جاری رکھتے ہوے بولے .  اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے نفسیاتی اثرات بہت گہرے  تھے.  اب دونوں فریق یعنی حکمران اور عوام اس بات کو جان چکے تھے کہ ان کے درمیان اعتماد کا نہیں بلکہ شک اور سنگدلانہ ظلم پر مبنی حکمرانی اور دلوں میں بغاوت اور خوف لئے محکومیت کا رشتہ ہے.  اب وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص نہ تھے لیکن بحالت مجبوری اس تعلق کو جاری رکھے ہوئے تھے.  انہیں معلوم تھا کہ یہ نازک توازن کسی بھی حادثے یا واقعے کی بنیاد پر لاوے کی طرح پھٹ سکتا ہے۔ رمز نے کہا . یہ تو بڑی مشکل صورت حال ہو گی ؟ پروف بولے. بالکل . امن بحال ہوا تو برطانوی طرز عمل میں سختی آتی چلی گئی اور انہوں نے اپنی حکمرانی کو ثابت کرنے کے لئے نئے طریقے ڈھونڈنے  شروع کیے ۔ انہوں نے ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں مثلا دہلی، لکھنؤ ، کلکتہ کے بڑے بڑے میدانوں میں عوامی جشن منعقد کرنے شروع کیے.  ان جلسوں کو دربار کہا جاتا تھا جو مقامی لفظ ہے. دربار جہاں رعایا اور بادشاہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں. انگریزوں نے ایسے درباری جلسوں میں اپنی شان و شوکت اور طاقت کا مظاہرہ کرنا شروع کیا تاکہ عوام پر اپنی دھاک بٹھائی جا سکے . لندن کی تھیٹریکل کمپنیوں سے خریدے گئے فینسی ڈریس نما شاندار چوغے پہن کر انڈیا کا حکمران اور ملکہ کا نمائندہ یعنی وائسرائے بالکل کسی بادشاہ کی حیثیت سے ان درباروں اورجشن میں شریک ہوتا ۔ ان درباروں میں ملکہ کو غیر معمولی شخصیت اور کردار بنا کر پیش کیا جاتا.  اس کی سلور جوبلی کے موقع پر تو دنیا بھر سے بہت سے مقامی اہلکاروں اور معززین شہر کو لندن کی سیر کروائی گئی تاکے وہ اپنے علاقوں میں لوٹ کر ملکہ کا اقبال بلند کر سکیں. سوفی بولی .  سامراجیت انگریزوں پر بھی ضرور اثر انداز ہوی ہو گی ؟ پروف بولے . یہ سچ ہے کہ ظلم ظالم اور مظلوم دونوں کو بے حال کر دیتا ہے . ذرا دیر کو ان برطانوی نوجوانوں کے بارے میں سوچو کہ جو اپنے ملک اور ثقافت  سے ہزاروں میل دور اجنبی علاقوں میں جنگی بحری جہازوں  کے ذریعے پہنچتے تھے. ان کا کام  مقامی لوگوں پر غیر انسانی  ظلم کرنا یا انھیں ڈرا دھمکا کر یا لالچ دے کر ایسی تعلیم و تربیت دینا ہوتا تھا کہ وہ ان کے ساتھ مل کر ملکہ برطانیہ کے راج کو دور دور تک پہنچانے میں ان کے مددگار بن جائیں. وہ مقامی لوگوں کو قائل کر لینے میں اس قدر کامیاب تھے کہ وہ نہ صرف تاج برطانیہ کے ہر حکم کی تعمیل کرتے بلکے اکثر اوقات اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کر دیتے تھے . ایسی سلطنت اور ملکہ کے لئے جسے انہوں نے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا ……. جاری ہے

جنگ آزادی ، سامراج ، انشے سیریل ، دسواں انشا Independence war, IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 10TH EPISODE

Posted by: Shariq Ali
retina

In 1857 a large part of the native army in undivided subcontinent rebelled against British Raj.  Unfortunately, without success. The impact was political as well as psychological

 

 

جنگ آزادی ، سامراج ، انشے سیریل ، دسواں انشا ، ویلیوورسٹی ،  شارق علی

سامراجی انداز حکومت  سے آپ کی کیا مراد ہے ؟ میں نے پوچھا. پروف بولے . برطانوی طرز کی بلند و بالا عمارتیں اور ان کے سامنے وسیع و عریض میدان یا سبزہ زار ، شاندار لباس اور امیرانہ طرز زندگی اور دفتری نظام ایسا کہ مقامی لوگ انگریز کو نہ صرف حاکم بلکہ دیوتا سمجھنے لگیں . کبھی موقع ملے تو میوزیم میں جاکر ان برطانوی امپیریلسٹ لوگوں کی تصویریں دیکھو.  آرام و آسائش اور چہروں پر حکمرانی کا اطمینان اور سکون۔ ایسی تصویروں کا عنوان ہونا چاہیے بے حسی اور فراڈ . کرائے کے فوجی اور کمزور راجہ مہاراجاؤں کے ساتھ کئے ہوئے معاہدوں کا فراڈ جسے مقامی تیار کردہ بیوروکریسی نے استحکام دیا.  میوزیم میں لگی اس تصویر کو دیکھو  جس میں کم لباس دبلا پتلا مقامی ہاتھ گاڑی کھینچتے ہوے بے حال ہو رہا ہے اور تخت نشینی کے سے انداز میں شاندار لباس پہنے انگریز بیٹھا مسکرا رہا ہے. ایسے طور طریقے حکمرانی کو تقویت دیتے تھے اور سادہ لوح ہندوستانی ذہن اسے طاقت کی علامت سمجھ کر محکوم رہنے پر مجبور تھے۔  سوفی نے بانو امی سے پوچھا . بچپن میں کونسی کہانیاں سنیں آپ نے ؟ بولیں . ہم سونے سے پہلے کہانی کی ضد کرتے تو والد اکثر اکبر بادشاہ کے قصے سناتے .  جلیانوالہ باغ اور بھگت سنگھ کا قصہ بھی انہیں سے سنا.  طبیعت صوفیانہ تھی اس لئے اکثر بختیار کاکی اور نظام الدین اولیا کا ذکر بھی رہتا  . جب پاکستان بنا تو ایک بار ان کے ساتھ کراچی کے  جہانگیر پارک جانا ہوا . ہمارے لئے تو وہ ایک تفریح کی جگہ تھی لیکن میاں نے  بینچ پر بیٹھ کر فاتحہ پڑھی. پھر بتانے لگے کے اٹھارہ سو ستاون میں کراچی کی اکیسویں انفنٹری کے مقامی سپاہیوں نے گائے اور سور کی چربی کے بنے کارتوسوں کو چبا کر استعمال کرنے سے انکار کرکے بغاوت کی تھی. جب انگریز  نے بغاوت پر قابو پالیا تو باغی  سپاہیوں کو یہیں جہانگیر پارک میں توپوں کے سامنے باندھ کر ان کی گردنیں اڑا دی گئی تھی. ساتھ لگی ایمپریس مارکیٹ تو تیس برس بعد ملکہ وکٹوریہ کے جشن پر کراچی کے لوگوں کو خوش کرنے اور رعب میں رکھنے کے لئے تعمیر کی گئی.  خوف اور لالچ انگریز نے حکمرانی کے لیے دونوں ہتھیار استعمال کئے. کچھ اور تفصیل جنگ آزادی کی ؟ رمز نے کہا . پروف بولے . انیسویں صدی کے وسط میں لکھنؤ ایک سحر انگیز شہر تھا۔ انگریز سامراج نے اس شہر میں ایک پر آسائش اور آسودہ زندگی گزاری.  لیکن پھر اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کسی قیامت کی طرح نازل ہوئی . مقامی سپاہیوں کے سینوں میں  برسوں سے بھرا غصّہ اپنے انگریز افسروں کی قتل و غارتگری کا سبب بنا۔ مقامی ملازموں نے اپنے آقا انگریز خاندانوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔ یوں انگریزوں کے حساب سے بغاوت اور ہندوستانی تاریخ کے حساب سے پہلی جنگ آزادی کا آغاز ہوگیا۔ یہ جنگ جس مقام پر اپنے عروج کو پہنچی وہ تھی لکھنو کے برٹش ہیڈکوارٹر کی عمارت . یہ وہ جگہ ہے جہاں سامراجیت اپنی جڑوں تک لرز کر رہ گئی تھی۔ یہاں تین ہزار انگریز اور ان کی حمایتی مقامی فوج کو آٹھ ہزار باغیوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ ان درودیوار پر آج بھی جنگ آزادی کی جدوجہد کی تاریخ رقم ہے.  لکھنؤ کی یہ شاندار عمارت تعمیر کرنے کا مقصد تو مقامی لوگوں کو حکمرانی کے رعب  سے اپنے قابو میں رکھنا تھا لیکن یہی درودیوار خود انگریزوں کے لئے ایک قید خانہ اور اذیت خانہ ثابت ہوئے. یہ محاصرہ کئی دنوں تک جاری رہا اور تقریبا روزانہ دس انگریز جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے. آج بھی ان دیواروں پر توپوں کے گولوں اور گولیوں کے نشان صاف طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ قریبی موجود بینکوٹ ہال کو  کہ جس میں کبھی موسیقی اور رقص کی محفلیں سجا کرتی تھیں محاصرے کے دوران ہسپتال میں تبدیل کردیا گیا تھا . یہ سارا علاقہ جو کبھی حکمرانی کی علامت تھا موت کے خوف سے لرزنے لگا تھا . غلاظت اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والی وبائی بیماری بہت سے لوگوں کے لئے جان لیوا ثابت ہوئیں اور سامنے کے سر سبز باغوں میں ہر طرف لاشیں بکھر کر سڑنے لگیں ,کالرا کی وبا پھوٹ پڑی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی مریضوں کی خدمت پر مامور کر دیا گیا —— جاری ہے

اردو کا محبتی ، سامراج ، انشے سیریل ، نواں انشا John Gilchrist, the linguist IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 9TH EPISODE

Posted by: Shariq Ali
retina

John Gilchrist and Fort William College will always be remembered in the history of Urdu language for making Urdu the lingua franca of most widely distributed regions of India and Pakistan

 

اردو کا محبتی ، سامراج ، انشے سیریل ، نواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

ہال بھر چکا تھا . اردو زبان پر پروفیسر آغا کا لیکچر شروع ہوا. کہنے لگے .  سترہ سو انسٹھ میں سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا میں پیدا ہونے والا اور وہیں تعلیم پانے والا جان گلکرایسٹ بچپن ہی سے زبان و ثقافت میں دلچسپی رکھتا تھا.  سولہ سال کی عمر میں اس نے ویسٹ انڈیز کا سفر کیا تو اس دلچسپی کو مشاہدے کی گہرائی ملی . وہ نائب سرجن کی حیثیت سے ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازم ہو کر بمبئی پوھنچا . نوکری کے سلسلے میں جب اسے پیدل سفرکر کے فتح گڑھ جانا پڑا تو راستے میں وہ مشرقی ہندوستان کے مختلف شہروں سے ہو کرگزرا. اسے خاص طور پر اتر پردیش کے دیہی علاقوں کی زبان  اور  ثقافت کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا تفصیلی موقع ملا . ایسٹ انڈیا کمپنی میں نوکری سے پہلے اسے بتایا گیا تھا کہ ہندوستان کی زبان فارسی ہے.  مشاہدے نے اس بات کی تردید کی. اس نے دیکھا کہ زیادہ تر عام لوگ نہ تو فارسی جانتے ہیں نہ ہی عربی یا سنسکرت. بلکہ وہ مقامی  زبان یعنی کھڑی بولی اور برج بھاشا کے بنیادی الفاظ اور صرف و نحو کے اصولوں کی مستحکم بنیاد میں کہیں فارسی ، عربی ، ترکی یا سنسکرت کے الفاظ شامل کر کے رابطے کی صورت نکال لیتے ہیں.  کھڑی بولی دہلی کے مضافات اور یو پی کے بہت بڑے علاقےمیں بولی جاتی تھی جیسے گڑگاؤں،  فریدآباد،  بلندشہر،  پانی پت ، میرٹھ وغیرہ.  جو دوسری زبان بہت مقبول تھی وہ تھی برج پھاشا.  یہ دونوں ہی موجودہ ہندوستانی یعنی اردو اور ہندی کو بنیاد فراہم کرتی ہیں . جان نے عام بول چال کو ہندوستانی زبان کے طور پر شناخت کیا .  گویا صرف و نحو اوربنیادی الفاظ  کھڑی بولی کے اور اگر فارسی ، عربی ، ترکی الفاظ کی آمیزش تو اردو اور سنسکرت کی آمیزش تو ہندی .  اس نے ہندوستانی زبان کے ان دو مختلف دھاروں کی شناخت کی . زبان و ثقافت پر مزید تحقیق کے لئے اس نے پہلے تو ایک سال کی چھٹی لی . پھر یہ ایک سالہ تحقیق کھنچ کر چودہ سال تک پھیل گئی . برسوں کے مشاہدے کے نتیجے میں اس نے پہلی ہندوستانی انگریزی ڈکشنری مرتب کر لی اور پہلی بار ہندوستانی زبان کی گرامر کو کتاب کی صورت میں مرتب کیا.  اس زمانے کے وائسرائے  نے گل کرائسٹ کی ان کوششوں کو بے حد سراہا اور سرکاری طور پر اس کی ڈکشنری چالیس روپے فی کاپی جیسی بڑی رقم کے حساب سے خرید لی تاکہ  نۓ انگریز افسروں کو مقامی زبان سکھائی جا سکے  . چاے کا وقفہ ہوا تو سوفی اور رمز بھی  مرے ساتھ آ بیٹھے . پھر مہمان مقرر پروفیسر دانی نے اپنا مقالہ شروع کیا . بولے . سن اٹھارہ سو میں کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج کا قیام ایک ایسی درسگاہ کے طور پر ہوا جس میں انگلستان سے آے ہوے برطانوی افسران کو ہندوستان میں مختلف علاقوں میں پوسٹنگ سے پہلے مقامی زبان و ثقافت سے متعلق تعلیم دی جاتی تھی .جان گلکرایسٹ ہندوستانی زبان کے شعبے کا سربراہ مقرر ہوا اور اسے پندرہ سو روپے ماہوار کی خطیر رقم ملنے لگی . اس نے اس رقم کو ذاتی طور پر استعمال کرنے  کے بجاے دہلی اور یو پی کے دیگر علاقوں سے میر امّن اور دیگر ہندوستانی مصنفین کو نوکریاں دے کر کلکتہ بلوا لیا . جلد ہی تقریبا دو درجن کے قریب ہندوستانی مصنفین نے جو منشی کہلاتے تھے جان کی سربراہی میں فورٹ ولیم کالج میں ہندوستانی زبان کے دو دھاروں یعنی اردو اور ہندی نثر  کے فروغ کے لیے بھرپور کام شروع کر دیا.  پہلے اردو نثر کے لکھنے والوں میں مقفح و مسجع یعنی سجاوٹ کے نام پر مشکل الفاظ کا محض قابلیت جھاڑنے کے لئے بے جا استعمال کا طریقہ مقبول تھا . لیکن جان کی سربراہی میں فورٹ ولیم  کے مصنفین نے سادہ اور آسانی سے سمجھ میں آ جانے والی زبان میں ترجمے اور طبع زاد کتابیں لکھیں . یہیں بیٹھ کر میر امّن دہلوی نے فارسی کے قصّہ چہار درویش کا باغ و بہار جیسا سلیس اردو ترجمہ کیا.  اس سے پہلے یہ ترجمہ ایک اور مصنف نے اودھ کے نواب کے لئے مقفع و مسجع زبان میں تصنیف کیا تھا جس کا نام تھا نوطرزمرصع.  گویا جان گلکرایسٹ اور فورٹ ولیم کالج اردو نثر میں سہل نگاری کے حوالے سے یاد رکھے جاینگے .  پھر اردو نے سادہ اور دلنشیں انداز کی وجہ سے بیشتر ہندوستان میں مقبولیت حاصل کی اور رابطے کی سب سے بڑی زبان بن گئی .  مزے کی بات یہ کہ اس دور کے چالیس پچاس سال بعد غالب جن کا فورٹ ولیم کالج سے دور کا بھی تعلق  نہ تھا اپنے خطوط میں ایسی سادہ نثر استعمال کرتے ہیں کہ جس کی نظیر نہیں ملتی . گویا اردو زبان کا  سہل نگاری کی طرف آنا اس کا مقدر تھا . بلا شبہ غالب کے خطوط اردو کی سادہ اسلوب نگاری کے نیۓ دور کا آغاز ہیں  —– جاری ہے

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,187 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina