retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

دلکش خواب ، دنیا گر ، انشے سیریل ، آٹھواں انشا Marxism, DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 8

Narration by: Shariq Ali
July 18, 2019
retina

Story of a social philosopher and a dreamer who was the sheer critic of the current industrial and economic system

 

 

دلکش خواب ، دنیا گر ، انشے سیریل ، آٹھواں انشا ، شارق علی، ویلیوورسٹی

بات کمیونزم کی چل نکلی تھی.  پروف بولے . اگر ہم سرمایہ داری نظام کے نقاد ہیں تو اس اعتبار سے مارکسسٹ ہیں .  ایک ایسے سماجی نظام کا خواب کتنا دلکش ہے جس میں پیداواری اضافے کی تقسیم مساوی ہو اور تمام خوش حال انسان مل جل کر ہنسی خوشی زندگی بسر کر سکیں.  دولت کمانے کی فکر سے آزاد اور انفرادی تخلیقی صلاحیتوں کے مطابق مصروف . مارکسزم اس خواب کو حقیقت بنا کر پیش کرتا ہے . نوجوان زینوں کا مسحور ہو جانا سمجھ میں آتا ہے . سوفی بولی . کچھ ذکر کارل مارکس کا بھی. بولے . فلسفی اورسماجی دانشور جو سرمایہ داری نظام کو انسانی خوشیوں کا قاتل قرار دیتا ہے . وہ اٹھارہ سو اٹھارہ میں جرمنی میں پیدا ہوا اور نوجوان صحافی کی حیثیت سے کام کرنے لگا . طبقاتی نظام کے خلاف آزاد سوچ رکھنے کہ جرم میں جرمنی سے بھاگ کر لندن آیا اور بقیہ زندگی وہیں علمی کام میں بسر کی . مالی مدد قریبی دوست فریڈرک اینگلز  نے کی جو خود وراثتی طور پر مالدار آدمی تھا. دونوں کی دوستی بہت گہری تھی. مارکس نے بہت سی کتابیں اور علمی مقالے لکھے  . کچھ اینگلز کے اشتراک سے بھی . لیکن وہ اپنے دور کے دانشوروں میں کوئی با عزت مقام  حاصل نہ کر سکا بلکہ نئی دنیا بسانے کے خواب کا مضحکہ اڑایا گیا.  اس کا نظریہ ہے کیا ؟ رمز نے پوچھا . بولے . مارکسزم معاشی نظریہ بھی ہے اور انسانی امنگوں کا ترجمان بھی . سرمایہ داری نظام پر اعتراض یہ ہے کہ وہ عوام کی سوچ پر اثر انداز ہوتا ہے وہ دولت ہی کو زندگی کا مرکزی نکتہ سمجھنے لگتے ہیں. انسانی محبت اور خلوص جو اصل خوشی ہیں نظر انداز کر دیے جاتے ہیں . زیادہ ملکیت ہی خوشی  ہے جیسے غلط مفروضے جڑ پکڑتے ہیں . محدود سوچ  اور مطمئن غلامانہ سیاسی طرز زندگی تخلیقی صلاحیتوں سے عاری کر دیتی ہے. اسمبلی لائن کام شخصی بیگانگی کی سمت لے جاتا ہے.  تسکین مہیا نہیں ہوتی . خیال اور عمل کے اس ڈسکنیکٹ کو اس نے ایلیینیشن کا نام دیا. کارکن عدم تحفظ کا شکار اور سرمایہ دار کے لئے منافع کارکنوں کے مفاد سے زیادہ اہم ہوتا ہے .  ٹیکنالوجی کا فائدہ سرمایادار اٹھاتا ہے. مارکس منافع کو چوری کہتا ہے . کم اجرت پر حاصل صلاحیت کو مہنگے داموں بیچنے کی چوری . اور اس کا حل ؟ میں نے پوچھا . بولے . وہ اپنی کتاب کمیونسٹ مینی فیسٹو میں ظلم و ستم کے خاتمے کا راستہ انقلاب کو بتاتا ہے . ایسا سماج جس میں ذاتی ملکیت اور وراثت نہ ہو.  انکم ٹیکس ختم ہوتا چلا جائے . ذرائع آمدورفت، ابلاغ ، تعلیم ، صحت اور تمام پیداواری فیکٹریاں مرکزی حکومت کے پاس ہوں . عوام کو مفت تعلیم ، ضروریات زندگی ، علاج  اور تخلیقی صلاحیتوں کے اعتبار سے آگے بڑھنے کا موقع مل سکے . وہ مذہب ، جمہوریت،  اور آزادی اظہار جیسے تصورات سے پیچھا چھڑانے کی حمایت کرتا ہے . ظاہر ہے بہت سے لوگ ایسا کرنا نہیں چاہیں گے اس لئے جبری سزائیں کمیونسٹ حکومت کی ضرورت بن جاتی ہیں . سوفی بولی. کوئی عملی مثال ؟ بولے . انیس سو سترہ میں لینن کا سرخ انقلاب . لینن اور اسٹالن نے جو طرز حکومت انقلاب کے بعد سوویت یونین میں قائم کی وہ کمیونزم کہلایا.   سوویت یونین کے علاوہ  چین ، شمالی کوریا ، مشرقی یورپ اور جنوبی امریکا کے کچھ ممالک کی ڈکٹیٹر حکومتوں نے بھی ان نظریات کی تقلید کا دعوہ کرتے ہوے  اپنے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور ایک تباہ کن معیشتی نظام کے زیر سایہ بھوک ، غربت اور خانہ جنگی کی صورتحال سےدوچار رہے . مارکسی نظریہ ناکام دانش نہیں. سرمایہ داری نظام کی خرابیوں کی نشاندہی میں یہ بہت کامیاب ہے،  لیکن درستگی کے حل عملی صورت میں ناکام ہوے. .جیسے مارکسزم  وسائل کو اہلیت اور ضرورت کی بنیاد پر آپس میں منصفانہ تقسیم کر لینے کا حامی ہے . عملی سوال یہ ہے کہ اہلیت اور ضرورت کا تعین کرے گا کون ؟ جواب ہے اقتدار پر قابض طبقہ ۔ گویا مارکسزم حکومت کے لامحدود اختیارات کی حمایت کرتا ہے.  یہ ایک تباہ کن خیال ہے.  اسی سے کمونسٹ ممالک میں ڈکٹیٹرشپ کی راہ ہموار ہوئی . ممکن ہے مستقبل میں سرمایہ داری نظام کو بہتر بنانے کی کوششوں میں مارکسی سوچ ہماری رہبر ہو………… جاری ہے

تاریخ ساز ، دنیا گر ، انشے سیریل ، ساتواں انشا Apartheid & Mandela,DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 7

Posted by: Shariq Ali
retina

Enjoy the fascinating story of an anti-apartheid revolutionary who became the first black head of state in a fully representative democratic election

 

تاریخ ساز ،  دنیا گر ، انشے سیریل ، ساتواں انشا ، شارق علی، ویلیوورسٹی

وہ دن یادگار ہی نہیں تاریخ ساز بھی تھا . پروف نے چاے کا کپ اٹھاتے ہوے کہا . کونسا دن ؟ میں نے پوچھا . بولے . ستائیس اپریل انیس سو چورانوے کا روشن دن . بے حد دلکش مسکراہٹ والے ایک سیاہ فام شخص نے دنیا بھر کے ٹی وی سکرین پر پرجوش عوام کی تالیوں اور نعروں میں جنوبی افریقہ کے پہلے نسلی برابری والے الیکشن میں ووٹ ڈالا اور نفرت کی دیوار گرا دی .  اس نسل پرستی کا پس منظر ؟ سوفی گفتگو میں شامل ہوئی. پروف بولے . سولہ سو پچاس میں پہلی بار جب ڈچ مہم جو اور مقامی افریقی کسانوں کا آپس میں رابطہ ہوا تو ان گنت مقامی لوگ ڈچ لوگوں کی لائی ہوئی بیماریوں کا شکار ہو کر وفات پا گئے تھے . بہت سے بے گناہوں کو ان ظالم  حملہ آوروں نے قتل کرڈالا اور اپنا پہلا شہرکیپ ٹاؤن بسایا. مالی لحاظ سے یہ سارا علاقہ بے حد فائدہ مند تھا. اٹھارویں صدی میں بالاخر انگریزوں نے اس خطّے پر قبضہ کرلیا.  اس قبضے کے باوجود بہت سے ڈچ کیپ ٹاؤن ہی میں رہ گئے اور انہوں نے مل کر  یونین آف ساؤتھ افریکا نامی سفید فام نسل پرست حکومت قائم کر لی . اکثریتی مقامی سیاہ فام آبادی  کے مقابلے میں اقلیتی اقتدار برقرار رکھنے کے لیے نسل پرستی پر مبنی نظام حکومت ان کی ضرورت تھا . انیس سو تیرہ میں پہلا نسلی قانون پاس کیا گیا  جس کے تحت مقامی لوگوں کو بعض ملازمتوں کا ملنا نا ممکن قرار دیا گیا . انیس سو اڑتالیس میں سفید فام افریکآنر نیشنل پارٹی نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور اپارتھایڈ کو قانونی اور سیاسی نظام  کے طور پر اپنا لیا. اپارتھایڈ یعنی نسلی بنیاد پر تقسیم . مقصد سیاسی طاقت، مراعات اور وسائل سفید فام اقلیت کے ہاتھ میں رکھنا تھا . مقامی لوگ بھی قبیلوں کی بنیاد پر تقسیم کیے گئے کیونکے سیاسی لحاظ سے مقامی آبادی کو جو واضح  اکثریت میں تھی خود اپنے ہی ملک میں بنیادی حقوق اور وسائل کے استعمال سے زبردستی روکنے کے لئے انھیں متحد نہ ہونے دینا ضروری تھا . نسلی بنیاد پر شناختی کارڈ بنائے گئے. مقامی لوگوں کو بعض جگہوں پر جانے  ، اہم ملازمتوں اور سہولیات پر پابندی ، مختلف نسلوں کی آپس میں شادی کو جرم اور ووٹ کے حق  سے محروم کر دیا گیا.  اس نظام کے خلاف مزاحمتی تحریکیں شروع ہوئیں . نیلسن منڈیلا سب سے توانا آواز بن کر ابھرا . کچھ اور تفصیل منڈیلا کی ؟ رمز نے کہا . بولے . انیس سو اٹھارہ میں جنوبی افریقہ کے ایک اعلی نسب قبیلے میں پیدا ہونے اور بہترین تربیت پانے والے کو یونیورسٹی سے قانون کی اعلی تعلیم حاصل کرنے کی خوش قسمتی ملی .  طالب علمی کے دور میں اس نے مزاحمتی کارکن کی حیثیت سے جدو جہد کا آغاز کیا. انیس سو چوالیس میں افریکن نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی . یہ ایک منظم سیاسی پارٹی تھی .  جلد ہی اس نے اے این سی کے یوتھ ونگ میں ممتاز مقام حاصل کر لیا .  اس  نے ساتھیوں کو قائل کر لیا کہ انہیں گاندھی اور مارٹن لوتھر کنگ کے نظریےکو اپنا کر جدوجہد جاری رکھنا چاہئے . یعنی تشدد کے بغیر پر امن سیاسی جدوجہد . انیس سو ساٹھ کے عشرے میں اسے گرفتار کر لیا گیا.  ستائیس سالہ جیل کے دوران سفید فام حکومت نے اسے لالچ بھی دیے اور دھمکایا بھی لیکن وہ اپنے اصولوں پر قائم رہا . آزادی اور اپنی قوم سے سچی محبت اس کی طاقت تھی. جیل میں رہتے ہوے بھی وہ سیاسی جدوجہد اور جنوبی افریقہ کے مسئلہ کو عالمی منظر نامے پر زندہ رکھنے میں کامیاب رہا اور ایک عظیم قائد بن کر ابھرا . انیس سو نوے میں عالمی دباؤ کی وجہ سے وہ آزاد ہوا . تمام نسلوں کے مساوی حقوق کے حامی کو انیس سو ترانوے میں امن کا نوبل انعام دیا گیا . آزاد ہونے کے بعد اس کی سیاسی جدوجہد میں بےحد تیزی آگئ.  اس ساری جدوجہد کے دوران کئی بار ایسے مواقع آے جب خانہ جنگی شروع ہوسکتی تھی.  نیلسن منڈیلا کی امن پسند اور ذہین سوچ نے تشدد کو اُبھرنے نہ دیا اور ہونے والی خانہ جنگی ٹل گئی.  بلآخر ظلم کی سیاہ رات  ڈھل گئی اور وہ انیس سو چورانوے میں پر امن ووٹ کی طاقت سےآزاد جنوبی افریقہ کا پہلا صدر بنا .  چھے بچوں اور بیس پوتے پوتیوں کے ساتھ ہنستی مسکراتی خاندانی زندگی گزارنے والا تاریخ ساز قائد ………. جاری ہے

بازیلڈن کا جیتھرو ٹل ، دنیا گر ، چھٹا انشا Agriculture Revolution, DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 6

Posted by: Shariq Ali
retina

Enjoy the story of an agricultural pioneer Jethro Tull and the first agriculture revolution 12000 years ago that shaped the human civilization

 

 

بازیلڈن کا جیتھرو ٹل ، دنیا گر ، چھٹا انشا ، شارق علی، ویلیوورسٹی

 نیلے رنگ کی ہائبرڈکارپر سکون خاموشی سمیٹے ایم ٹوینٹی فائیو موٹروے پر بازیلڈن کی سمت دوڑ رہی تھی . پروف بولے . دوسری جنگ عظیم  نے لندن کی بہت سی عمارتیں تباہ کر دی تھیں .  جنگ کے بعد وزیراعظم ایٹلی نے لندن کے نزدیک  چھوٹے قصبوں میں نئی تعمیرات کر کے انھیں وسعت دی ، یہ کمیوٹر ٹاؤن کہلاتے ہیں کیونکہ بیشتر رہائشی ٹرین سے سفر کر کے مرکزی لندن میں نوکری کے لئے جاتے ہیں . ساوتھ اینڈ  کے حسین ساحل سے صرف دس میل دور  ایسیکس کاؤنٹی میں کوئی ایک لاکھ آبادی والا بازیلڈن ایک ایسا ہی قصبہ ہے. رش معمول سے بہت کم تھا . بارش تھم چکی تھی اور چھٹتے بادلوں کے کناروں سے نکلتا سورج ارد گرد حد نظر تک  پھیلے ہرے بھرے کھیتوں  اور ان کی حد بندی کرتے سر سبز لمبے درختوں کے حسن میں اضافہ کر رہا تھا . پروف نے بات جاری رکھی . ان ہری بھری فصلوں کو دیکھ کر  جیتھرو ٹل کی یاد آتی ہے . وہ کون ؟ میں نے پوچھا . بولے .اٹھارویں صدی کے آغاز میں بازیلڈن کے رہنے والے ایک نوجوان کسان جیتھرو ٹل  نے یورپ میں پھیلنے والی روشن خیالی اور سائنسی سوچ کو اپنی ذاتی تخلیقتی صلاحیتوں  سے ہم آہنگ کر کے جدید عالمی زراعتی انقلاب کا  راستہ ہموار کیا تھا . ہزاروں برس سے سے کسان زرخیز مٹی پر تھوڑے تھوڑے فاصلے سے بیج پھینک کر نسبتاً کم پیداوار حاصل کرتے آے تھے.  جیتھرو  نے گھوڑے کی مدد سے چلنے والی ایک ایسی ڈرل ایجاد کی جو یکساں فاصلے  اور مناسب گہرائی میں بیچ بوتے چلے جانے کی صلاحیت رکھتی تھی.  اس طرح فصلوں کو سیدھی قطار میں کئی گنا اضافی پیداوار کا موقع ملا . انگلینڈ اور ہالینڈ کے کسانوں نے اٹھارویں صدی میں سائنسی طریقوں کو اپناکر دنیا بھر میں جدید زراعتی انقلاب برپا کیا تھا . پیداوار میں اتنا اضافہ جس کی انسانی تاریخ میں  مثال نہیں ملتی . جیتھرو ٹل بازیلڈن کے ایک چرچ میں ابدی نیند سو رہا ہے.  سوفی بولی . اور قدیم زراعتی انقلاب؟ پروف بولے. آثار قدیمہ سے صاف ظاہر ہے کے ایسا ہوا ضرور لیکن کوئی نہیں جانتا کیوں .  دس سے بارہ ہزار سال پہلے دنیا کے دور دراز حصوں میں بسنے والے انسانی شعور میں تقریباً ایک ساتھ یہ حیرت انگیز تبدیلی دیکھنے میں آئ .  شکار اور غذا جمع کرنے والے خانہ بدوش قدیم انسان نے زراعت اور جانوروں کی افزائش کے گر سیکھ کر گاؤں بساے اور مستقل رہائش اختیار کر لی . ممکن ہے یہ مشاہدہ کام آیا ہو کہ کسی خاص پھل کے بیچ ایک مخصوص علاقے میں پھینک دیئے جائیں تو وہاں ویسے ہی پھلوں کے پودے نکلنے لگتے ہیں. یا جانوروں کے شکار کے بجانے انھیں نگہداشت اور غذا پہنچا کر پالنا اور ان سے کام لینا زیادہ فائدہ مند ہے . اس علم اور مہارت سے غذا میں اضافہ ہوا تو انسانی تہذیب کے ابتدائی خد و خال ابھرے.  انسان نے ماحول پر قابو پانا شروع کیا.  من پسند فصلوں اور جانوروں کی افزائش  آسان ہو گئی . اب سخت موسم میں بھی آسانی سے  زندہ رہا جا سکتا تھا . شکار اور خانہ بدوشی کے عادی لوگوں کو آپ مل جل کر اجتماعی حیثیت میں زندگی کی جدوجہد کرنا تھی . تعاون کے لئے بولی کی ضرورت پیدا ہوئی ملکیت کا تصور جاگا تو تحریر وجود میں آئ . علم کی منتقلی آیندہ نسلوں کی خوش حالی کے لئے اہم ہو گئی .  پہلے یہ سلسلہ کہانیاں سنا کرہی ممکن تھا . تحریر وجود میں آئ تو علم کا محفوظ اور منتقل ہونا آسان ہو گیا .  پیشہ ورانہ مہارت کی تقسیم کا آغاز ہوا. کچھ لوگ کسان ، کچھ سپاہی اور کچھ کاریگر بن گئے. آپس کی تجارت سے گاؤں  شہری ریاستوں میں تبدیل ہونے لگے . امن اور فرصت ملی تو کھیل ، تماشے رقص و موسیقی ، ادب اور تعمیراتی مہارت ، ملکیتی جھگڑوں ، تجارت ، حکومتی اور سیاسی نظام کا آغاز ہوا .میسوپوٹیمیا کے علاقے میں انسانی تہذیب پتھر کے زمانے سے کانسی کے دور میں داخل ہوگئی . قوموں نے ہتھیار بنانا شروع کیے اور زرخیز زمین  پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے جنگوں کا آغاز ہوا .گویا تہذیبی ارتقاء کی بنیاد  اضافی غذا اور خوش حالی تھی ……. جاری ہے

ایچ آئی وی سے بچاؤ کیسے؟ صحت افزا انشے HIV Prevention, Health awareness public message

Posted by: Shariq Ali
retina

A public awareness message about HIV prevention in Urdu. Valueversity and Dowdocs 85 health awareness collaborative initiative

 

ایچ آئی وی سے بچاؤ کیسے؟ صحت افزا انشے ، ویلیوورسٹی

ایچ آئی وی ایک وائرس ہے جو جسم میں داخل ہو جائے تو روز مرہ اور کینسر جیسی بیماریوں کے خلاف مدافعت ختم کر دیتا ہے اور ہم ایڈز کا شکار ہو کر مر سکتے ہیں .  یہ وائرس مریض کے جسم کی رطوبتوں مثلاً خون اور جنسی نمی میں موجود ہوتا ہے . یہ مرض احتیاطی تدابیر کے بغیر غیر شادی شدہ جنسی ملاپ ، استمعال شدہ سوئیوں کے دوبارہ استعمال ، بچے کی پیدائش اور دانت کے علاج میں بد احتیاطی سے پھیلتا ہے.   مدافعت کم ہو جاتی ہے اور  اور دست،  نمونیا ،  یا کوئی اور انفیکشن یا کینسر موت سے ہمکنار کر سکتا ہے.  غیر شادی شدہ جنسی ملاپ کے دوران احتیاطی تدابیر لازمی ہیں .  بچے کی پیدائش یا ڈاکٹر اور ڈینٹسٹ کے علاج کے دوران اس بات کو یقینی بنائیں کہ نیڈل یا انجیکشن پہلے سے استعمال شدہ نہ ہو.  جسم میں ایچ آئی وی موجود ہو تو بچے کو دودھ پلانا منع  ہے .  علاج کے دوران خون یا خون سے بنے اجزاء کے عطیے کی ضرورت ہو تو یہ بات یقینی بنائیں کہ یہ ایچ آئی وی وائرس سے پاک ہے .  مستند ڈاکٹروں اور ہسپتالوں سے علاج  بہترین بچاؤ ہے . ایڈز کا مکمل علاج دستیاب نہیں لیکن ایسی دوائیاں ضرور موجود ہیں جو مرض کی شدت کو قابو میں رکھ سکیں

ڈاکٹر شارق علی

جاں نثاری ، دنیا گر ، انشے سیریل ، پانچواں انشا Ottoman Empire Janissaries, DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 5

Posted by: Shariq Ali
retina

Janissaries were an elite corps of slaves, loyal to Ottoman Sultans, made up of kidnapped young Christian boys hardened by strict military training

 

 

جاں نثاری ، دنیا گر ، انشے سیریل ، پانچواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

نیلی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کی اورپیدل ہی توپ کاپی میوزیم کی سمت چلے.  کوئی بیس منٹ کی مسافت ہو گی . سنہری دھوپ میں  سرخ اینٹوں سے بنے پیدل راستوں پر چلتے ہوے ہاگیا صوفیاء کے عظیم گرجا گھر  کے پاس سے گزرے . راستے بھر کنارے کے ریستورانوں میں دنیا بھر سے آے ہوے سیاحوں کا رش دیکھا . پروف استنبول کا ذکر کر رہے تھے . بولے . باسفورس کے گہرے نیلے پانیوں کے ساحل پر سرسبز و شاداب پہاڑی ہے جس پر جابجا خوبصورت درخت اور پھولوں کے قطعات میں بکھری بہت سی تاریخی عمارتوں میں محفوظ نوادرات پر مشتمل ہے توپ کاپی میوزیم.  سلطنت عثمانیہ کے دور  میں یہ محل ہوا کرتا تھا.  ان گزرگاہوں پر چلتے جانے کتنی ہی کہانیوں اور رازوں کی سرگوشیاں سنائی دیں . سلطانوں کی شوکت ، درباریوں کی سازشیں،  جانثاروں کے کارنامے . پھر سلیمان اور ابراہیم کی کی رفاقت یاد آئ . دو بچپن کے دوست ، ایک سلطان دوسرا جاں نثاری غلام ..جاں نثاری غلام ؟ سوفی نے پوچھا. بولے  . اس زمانے میں عثمانی سلطنت مفتوح یورپی عیسائی بچوں کو  اپنی سرپرستی میں لے کر جاں نثاری بنا لیتی تھی . یعنی ایسے اعلی  تربیت یافتہ فوجی غلام  جو سلطان کے لئے جان ہتھیلی پر لئے پھرتے تھے . انہیں عزت و احترام ، ماہانہ تنخواہ ، پنشن، تجارت کی آزادی اور ان کے خاندان کو تحفظ حاصل ہوتا تھا .  سلطنت عثمانیہ کی یورپی وسعت اور استحکام میں دو صدیوں تک ان جاں نثاروں نے اہم کردار ادا کیا ہے . پراگلی ابراہیم وینس سے گرفتار شدہ جاں نثاری غلام تھا جسے توپ کاپی محل میں عثمانی سلطنت کے سب سے ممتاز بادشاہ سلیمان دی مگنفیسنٹ کی دوستی کا موقع ملا . ترکی کے شہر ترابزون میں پیدا ہونے والے سلیمان کا باپ سلیم اول عثمانی حکمران تھا. علمی اور جنگی تربیت اسی  محل میں ہم عمر جاں نثاری دوست پارگلی ابراھیم کے ساتھ مکمل کی . وقت کے بہترین عالموں نے تاریخ ، ریاضی ، ادب،  فلسفہ اور جنگی مہارت سکھائی.  کم عمری میں ایک صوبے کا گورنر بنا.  سیاسی داؤ پیچ اور قانونی نکات کے بارے میں عملی علم حاصل کیا .  دور تک پھیلی عثمانی سلطنت میں مختلف ثقافتوں ، زبانوں اور رسم و رواج کو سمجھنے کا موقع ملا.  والد کا انتقال ھوا تو صرف چھبیس سال کی عمر میں سلطان بنا . اس نے والد کے وزیر کو برطرف کر کے  جاں نثاری دوست پارگلی ابراھیم کو اپنا وزیر بنا لیا.  کچھ تفصیل عثمانی سلطنت کی ؟ رمز نے کہا . بولے . بارہ سو ننانوے میں  اناطولیہ کے قبائلی سردار عثمان اول کی قائم کردہ یہ سلطنت انیس سو تیئیس تک قائم رہی. مرکز ترکی تھا اور میڈیٹرینین کے ساتھ مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بسے بہت سے ممالک  . سن چودہ سو سے سولہ سو تک انہیں عروج حاصل رہا اور  مشرق وسطہ ، مغربی ایشیا ، شمالی افریقہ کے بہت سے ممالک کے علاوہ یورپ میں یونان، ہنگری ،رومانیہ پر تسلط اور ویانا پر حملے کارناموں  میں شامل تھے. سلطنت عثمانیہ کا سب سے طاقت ور حکمران سلیمان دی مگنی فسینٹ تھا.  . سلطنت کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ مذہبی رواداری تھی. حکمران خود مسلمان تھےلیکن  قبضہ کرتے کے بعد مفتوح قوموں کو مکمل آزادی حاصل ہوتی تھی کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق عبادات اور معمولات جاری رکھیں.  ایک دور عہد ٹیولپ کہلاتا ہے جس میں جنگی فتوحات نہیں بلکے طویل حالت امن میں ادب اور ثقافت کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوئی تھی . ٹیولپ کا پھول ترکی ثقافت میں حسن مکمل کی علامت سمجھا جاتا ہے.  سولہویں صدی کے اختتام پر قیادت کی نااہلی کی وجہ سے یہ سلطنت کمزور پڑنا شروع ہوی  اور ایک بیمار سلطنت بن کر انیس سو تیئیس میں پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر اس کا  مکمل خاتمہ ہوگیا.  جدید ترکی کا بانی تو انقلابی کمال اتاترک ہے . اور سلیمان ؟ میں نے پوچھا . بولے .  سلیمان کے چھیالیس سالہ اقتدار میں سلطنت کو بہت وسعت ملی .  اس نے اپنے بحری بیڑ ے اس قدر مضبوط بناے کے پورے میڈیٹرینین پر بالادستی قائم ہوگئی . وہ  نہ صرف عظیم سپہ سالار تھا بلکہ بہترین قائدانہ صلاحیتوں کا مالک بھی.  اس نے سلطنت کو معاشی اور قانونی لحاظ سے اپنے عروج پر پہنچایا. ٹیکس کا بہترین نظام قائم کیا.  اعلی تعلیمی ادارے عوام کو مہیا کیے . وہ خود ایک شاعر اور لکھاری تھا  . ماں کی طرف سے سلسلہ نسب چنگیز خان سے ملتا تھا  جو اس کی بھرپور جنگی صلاحیتوں کو  جواز فراہم کرتا ہے. یورپ کی حکمرانی کے دوران وہ عوام میں بے حد مقبول رہا . یورپی اسے میگنی فسنٹ اور ترک قانونی کے نام سے یاد کرتے ہیں کیونکے اس  نے سلطنت کو مفید قانونی فریم ورک فراہم کیا تھا ………. جاری ہے

معیشت کا غیبی ہاتھ ، دنیا گر ، انشے سیریل ، چوتھا انشا Adam Smith, the invisible, DUNYAGAR, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 4

Posted by: Shariq Ali
retina

Ideas of Adam Smith is the invisible hand that sculpted the unmatched global prosperity in the history of mankind

دنیاگر واقعات ، نظریات ، شخصیات اور ایجادات پر مبنی انشے
A serial of short stories about ideas, events, personalities, and discoveries that shaped our world

 

 

معیشت کا غیبی ہاتھ ، دنیا گر ، انشے سیریل ، چوتھا انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

کلاس ختم ہو چکی تھی لیکن ٹیٹوریل روم میں غیر رسمی گفتگو جاری تھی . پروف بولے .  پچھلے دو سو پچاس برسوں میں عالمی معاشی ترقی کی رفتار حیرت انگیز رہی ہے.  پوری دنیا تجارتی طور پر ایک دوسرے سے جڑ کر ایک اکائی بن گئی ہے . سمندروں میں تیرتے کنٹینر شپ ، فضا من اڑتے کارگو جہاز ، سڑکوں پر رواں ہیوی ڈیوٹی ٹرک، ایمیزون پر آن لائن شاپنگ  .  پچھلے دور میں یہ سب ناممکن تھا .  تب کچھ لوگ بے حد امیر تھے لیکن عوام کی اکثریت سطح غربت سے بہت نیچے تھی .  آج کی یہ  خوشحالی فری مارکیٹ اکانومی اور عالمی تجارت کی وجہ سے  ہے .  یہ سب ایک شخص کی سوچ اور خیال سے شروع ہوا تھا . ہم سب کی اٹھی سوالیہ نگاہوں کو مخاطب کر کے بولے . معاشیات کے بانی اور اخلاقی فلسفی ایڈم سمتھ کے تصورات نے جس قدر خوشحالی، اچھی صحت اور طویل زندگی عام لوگوں کو دی  ہے ،  پچھلی ڈھائی ہزار سالہ انسانی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی .  وہ سترہ سو تیئیس میں اسکاٹ لینڈ کے قصبے کرک کالڈی میں پیدا  ہوا .  بہت کم عمری میں والد کا انتقال ہوگیا،  تربیت اس کی ماں مارگریٹ نے کی . کبھی کبھار گم سم رہنے اور خود کلامی کرنے والا فلسفے ، لاطینی زبان اور ریاضی کا ذہین طالب علم جو بچپن ہی سے بھرپور مطالعے کا عادی تھا  چودہ سال کی عمر میں گلاسکو یونیورسٹی میں داخل ہوا .  گریجویشن کے بعد اوکسفورڈ یونیورسٹی میں اعلی تعلیم حاصل کی اور پھر  ایڈنبرا یونیورسٹی میں پروفیسر مقرر ہوا.  وہیں اس کی ملاقات اس دور کے مشہور فلسفی ڈیوڈ ہیوم سے ہوئی .  اگلے چند برسوں میں اس نے معاشیات اور فلسفیانہ موضوعات پر ڈیوڈ ہیوم  کے ساتھ طویل مباحثوں سے بہت سیکھا ۔ پھر وہ عالمی معیشت پر اثر انداز کیونکر ہوا ؟ سوفی نے پوچھا . بولے . اپنی دو کتابوں کے ذریعے سے .  پہلی کتاب اخلاقی فلسفے سے متعلق تھی.  نام تھا تھیوری آف مورل سنٹی منٹس.  اس کتاب سے شہرت ملی تو اسے ڈیوک آف ایڈنبرا کا اتالیق مقرر کردیا گیا . یوں پورے یورپ میں سفر کرنے اور اس دور کے عظیم دانشوروں جن میں بینجامن فرینکلن بھی شامل تھا سے ملنے اور سیکھنے کا موقع ملا . پھر اس نے معاشیات  اور فلسفے سے متعلق اپنے  افکار اور حاصل شدہ دانش کو بنیاد بنا کر  سترہ سو چھہتر میں اپنی عالمی شہرت یافتہ کتاب ویلتھ آف نیشن لکھی جو دنیا کی مؤثر ترین کتابوں میں سے ایک ہے . یہ کتاب موجودہ دور کی معاشی ترقی کی بنیاد ہے . اس میں بیان کردہ تصورات ، اصول اور وضاحتیں موجودہ معاشی نظام کو بنیادی  ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں .  کیا تھے اس کے انقلابی تصورات ؟ رمز نے پوچھا . بولے . معاشیات کا باوا آدم فری مارکیٹ اکانومی کے تصور کا بانی ہے . یعنی ایک ایسی آزاد عالمی معیشت جس میں حکومتوں کا کوئی عمل دخل نہ ہو بلکہ معاشی اصولوں کی بنیاد پر عالمی معیشت میں شامل تمام اقوام اور افراد کو آزادانہ مواقعے میسر ہوں اور وہ تجارتی اصول و ضوابط خود طے کریں.   آج کل زیادہ تر ممالک میں ملا جلا معیشتی نظام نافذ ہے یعنی کچھ حکومتی کنٹرول اور کچھ فری مارکیٹ اکونومی .  دیگر تصورات میں سے ایک ہے  پیداواری کوششوں کے حوالے سے محنت کی تقسیم کار کا اصول . یعنی اگر کسی بھی پیچیدہ پیداواری عمل کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر لیا جائے اور مختلف افراد صرف ان چھوٹے حصوں میں اپنی محنت اور صلاحیت کو مرکوز رکھیں تو یہ بات پیداواری صلاحیت اور مضبوط معیشت کے لئے فائدہ مند ہوگی،  اس طرح زیادہ پیداوار اور منافع حاصل ہو سکے گا . دوسرا تصور جو آج بھی رائج ہے وہ ہے گروس ڈومیسٹک پروڈکٹ کا اصول جسے عام طور پر صرف جی ڈی پی کہا جاتا ہے. یعنی اقوام کی دولت اس کے پاس موجود سونے اور چاندی کی مقدار نہیں وہ پیداواری اور ماہرانہ صلاحیت ہے جو وہ دنیا کو معاوضے کے عوض بہم پہنچا سکتی ہیں . وہ کہتا ہے کہ ہر فرد اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں اخلاقی اصولوں کے مطابق استعمال کرتے ہوے  خود اپنے ، خاندان اور معاشرے کے کے مفاد میں منافع بخش پیداواری مصروفیت کے ذریعے بہتر قومی معیشت میں حصے دار بن سکتا ہے . وہ معیشت کی سمت طے کرنے والے غیبی ہاتھ کا ذکر کرتا ہے.   یعنی ایسے اصول جو نظر نہیں آتے لیکن معاشی نظام پر اثر ڈالتے ہیں یعنی طلب اور رسد کا اصول . اس کے خیال میں معاشیات کا کنٹرول انہی اصولوں کے زیر اثر ہونا چاہیے حکومتوں کے نہیں . وہ سترہ سو نوے میں ایڈنبرا میں دنیا سے رخصت ہوا۔   تو پھر آج کے نوجوان معیشت دانوں کو کس چلینج کا سامنا ہے ؟ میں نے پوچھا . بولے .  یہ بنیادی سوال کہ آج کل کی اندھی منافع بخش دوڑ میں کیا  کامیابی اور ترقی اہم ہے یا اخلاقی معیارات اور منصفانہ رویہ ؟ کیا فری مارکیٹ اکانومی اب ایک عذاب بن چکی ہے کیونکہ امیر امیر تر ہو رہا ہے اور مڈل کلاس اور لوئر کلاس اپنی اپنی زندگیوں کی جدوجہد میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں؟ …… جاری ہے

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,448 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina